Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣💣
“آغا جان میں آپ کو رات کے اس پہر وہاں اکیلے نہیں جانے دو گا مجھے پتہ ہے یہ رات ہم سب کے لیے درد بھرا ہے اور آپ نے اپنے دو بچوں کو کھویا ہے اور ایک زنده ہو کر پتہ نہیں کہا جا چھپا ہے۔۔!!
آفاق خان نے اپنے باپ جانگہر خان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو سیاه کپڑوں میں کندھوں پر کریم رنگ کی چادر کو اوڑھے سنجیدگی سے کھڑا اپنے دوسرے نمبر بیٹے کی بات کو سن رہا تھا۔۔
“خان بچوں کو سیکورٹی کے ساتھ راونہ کیا تھا یا ایسے ہی انہیں بھیج دیا ہے تم لوگوں نے بغیر سیکورٹی کے اور جہاں میں نے تمہیں سیکورٹی سخت کرنے کو کہا تھا کیا وہ کام تم نے کر دیا ہے یا نہیں۔۔!!
انہوں نے سنجیدگی سے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا تو آفاق خان نے انکی بات پر ہاں میں سر ہلایا اور صبح کو جس جگہ انہوں نے سیکورٹی سخت کرنے کے لیے کہا تھا وہ انکے لیے تعجب خیز تھا کیونکہ وہ جگہ شمویل خانزادہ کا تھا جو اسکی گمشدگی کی وجہ سے تین سال سے بند پڑا ہوا تھا۔۔
“آغا جان زوارق خان اور کسوا خان کے پیچھے تو سیکورٹی
فورسز کو راونہ کر دیا ہے لیکن عرشمان خان اتنی سیکورٹی کو دیکھ کر سخت چڑتا ہے تو اسی لیے میں نے انکے پیچھے سیکورٹی راز داری سے بھیجا ہے لیکن آغا جان ایک بات کی سمجھ نہیں آتی آپ کیوں شمویل خان کے گھر اور اسکی کلینک کے باہر ہمشیہ سیکورٹی گارڈز کو بڑھاتے ہیں جب کہ وہ بچہ ہم سے روٹھ کہ پتہ نہیں کہا جا کر چھپا ہے۔۔!!
جانگہر خان نے آفاق خان کی آخری بات پر ہنکارا بھرا اور اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔۔
“خان تم پریشان مت ہو میرا بچہ بہت جلد ہمارے بیچ ہوگا اور پھر سے ہم سب اسی طرح اس سے ڈرے گے جیسے ابھی اسکی جگہ زوارق خان ہمیں ڈرا رہا ہے اپنے غصے سے وہ بلکل اپنے چچا زاد بھائی کے اوپر گیا ہے۔۔!!
شمویل خانزادہ کو سوچتے ہوئے انکی بوڑھی آنکھیں روشن ہوگئی تھی اور آفاق خان ان بوڑھی آنکھوں کی روشنی کو ہمشیہ قائم رہنے کی دعا کرنے لگے جو ہمشیہ شمویل خانزادہ کے ذکر میں روشن ہوتے تھے۔۔
“آغا جان وہ وقت ان شاء اللہ بہت جلد آئے گا۔۔!!
آفاق خان نے کہا تو وہ اپنا سر ہلاتے ہوئے قدم گھر سے باہر نکالنے لگے اور آفاق خان نے انہیں بے بسی سے دیکھا جو آج رات پھر سے وہاں جا رہے تھے جہاں انکے دو بچے موجود تھے جو ہمشیہ نہ اٹھنے کے لیے گہری نیند سو رہے تھے۔‌
🖤🖤🖤🖤🖤
“خان یہ تو حویلی کا راستہ نہیں ہے۔۔؟؟
کسوا کار سے باہر دیکھ رہی تھی تبھی اسے کچھ عیجب سا احساس ہوا تو اسنے غور سے رات کی تاریخی میں کار کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو کار کو کسی انجانے راستے پر دیکھ وہ تیزی سے پلٹ کر زوارق خان کو دیکھتی پوچھنے لگی ‌جو سنجیدگی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا۔۔
“کسوا خان نکاح کے بعد تم اتنی عقل مند ہو جاؤ گی مجھے پتہ نہیں تھا اگر پہلے پتہ ہوتا نہ تو میں تم سے کب کا نکاح کر چکا ہوتا۔۔!!
ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں کہتا دوسرے ہاتھ سے اسکی گود میں رکھا اسکا حنائی سرخ ہاتھ اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے نظریں ہنوز روڈ پر مرکوز کیے گاڑی کو اپنی منزل کی طرف دورا رہا تھا۔۔
“خان جی آپ میرا ہاتھ چھوڑے اور آگے آنکھیں کھول کر اچھے سے ڈرائیونگ کرے ورنہ ہمارا ایکسیڈینٹ ہو جائے گا اور میں ابھی بلکل بھی مرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔!!
کسوا لگتا ہے آج شیرنی بنی ہوئی تھی جو اپنے شیر کو سخت نظروں سے گھور رہی تھی یا شاید نکاح کی وجہ سے یہ ہوا تھا جو وہ اس ظالم خانزادے سے اس طرح بہادری سے بات کر رہی تھی۔۔
“اوہ تو میری جان آج اپنے ظالم خان سے لڑنا چاہتی ہے۔۔!!
زوارق خان نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے کار کو اِس سنسان جنگل والے روڈ کے بیچ میں روکا جو بہت ہی خطرناک تھا جہاں پر جنگلی جانور جنگل سے نکل کر روڈ پر بھی آتے تھے۔
“تو پھر کیا خیال ہے کسوا جان آج رات ہم جنگل کے جنگلی جانوروں کے ساتھ اپنا یہ اسپیشل نائٹ سیلبریٹ کریں میں اور تم اور بہت سارے جنگلی جانوروں کے کپلز مل کر اس رات کو اور بھی حسین بنائیں گے۔۔!!
زوارق خان نے اپنا رخ اسکی جانب کیا اور اُسے اپنی چمکتی کچھ بولتی نظروں سے دیکھنے لگا اور وہ اسکے دیکھنے پہ سخت پزل ہوتی کار سے باہر دیکھنے لگی۔۔
“خان جی یہ آپ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں۔۔!!
کسوا جنگلی جانوروں کا سن کر بری طرح سے ڈرتی ہوئی اسے کہنے لگی جو آنکھوں میں خماری کی مستی لیے اسے دیکھ رہا تھا اس کے بے حد قریب آکر وہ اسکے اوپر جھکا اور اس سے پہلے زوارق خان کچھ کرتا کسوا نے جلدی سے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپایا۔۔
مانا کے پی کے بہکنا ممکن ہے💕
لیکن ہم تو یار من کی آنکھوں سے💕
بنا پیے ہی بہک جاتے ہیں💕
کسوا کے ہاتھوں کو نرمی سے اسکے چہرے سے ہٹاتا وہ اپنے ہونٹ اسکی پیشانی پر رکھتا گھمبیر لہجے میں کہنے لگا تو کسوا اسکی پہلی محبت بھری لمس پر سخت سٹپٹاتی ہوئی پیچھے کار کے دروازے سے جا کر لگی تھی۔
“خان جی پیچھے ہٹے ورنہ میں آپ کو مار ڈالو گی۔۔!!
کسوا کی سامنے ڈیش بورڈ پہ رکھے ریوالور پر جب نظر پڑی تو تیزی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر وہ ریوالور کو اٹھاتی ہوئی اسے سخت غصے سے گھورتی ریوالور کو اسکے سامنے کرتی اسے دھمکاتے ہوئے پیچھے ہٹنے کا کہنے لگی۔۔
“کسوا خان تم اپنے شوہر پر بندوق ٹان کر اچھا نہیں کر رہی ماڑا اسے پیچھے کرو ورنہ ہم بنا بندوق کے بغیر تم پر گولی چلا دے گی‌‌۔۔!!
زوارق خان نے خالص پھٹانوں کی طرح کہتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنی جانب کھینچا تو اسکے کھینچنے پر اسکے سینے سے لگ کر جلدی سے اپنا ریوالور والا ہاتھ اسکی گردن پر رکھتی اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے لگی۔۔
“خان پیچھے ورنہ میں سچ میں گولی چلا دو گی۔۔!!
ریوالور والا ہاتھ بری طرح سے کانپ رہا تھا لیکن وہ اس پر ظاہر کیے بغیر بڑی بہادری سے اسے دھمکی آمیز نظروں سے دیکھتی وارننگ دیں رہی تھی ‌۔۔
“کسوا خان ماڑا تُم کیوں خود کی فکر نہیں کرتی اگر ہم نے کچھ کیا تو کیا ہوگا تمہارا ماڑا ہم تو پہلے سے ہی ظالم خان ہے اب قاتل بن جائے گی۔۔!!
وہ ریوالور کو اس سے چھین کر اسکی پیشانی پر رکھتا نیچے ہونٹوں کی جانب لے جاتے ہوئے اسی پھٹانوں والے لہجے میں کہنے لگا۔۔
“خان ابھی اس وقت ہمیں یہاں نکل جانا چاہیے کیونکہ میں یہاں کسی جنگلی جانور کا ڈنر نہیں بننا چاہتی ہوں۔۔!!
وہ سختی سے اپنی انگلی سے ریوالور کو اپنے ہونٹوں سے ہٹا کر غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہا تو زوارق خان اسکی بات پر اپنا ریوالورڈیش بورڈ پہ رکھنے کے بعد خاموشی سے درائیونگ کرنے لگا۔۔
“خان ریوالور چھین کر تُم خوش مت ہونا میں نے تمہیں دن میں تارے دیکھانے کے لیے بندوبست اچھے سے کیا ہے۔۔!!
کسوا خان نے اسے اب سیدھے ہو کر سنجیدگی سے واپس درائیونگ کرتے ہوئے دیکھ کہا تو اسکی نظروں کو اپنے اوپر محسوس کرتا وہ مسکرانے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤
عرشمان خان اور زرلش جب رات کے تین بجے لاہور اپنے گھر پہنچے جو عرشمان خان نے رخصتی سے پہلے خریدا تھا۔۔
“خانی ایسے نہیں۔۔!!
اس سے پہلے کے وہ دونوں گھر کے اندر جاتے عرشمان خان گھر کے اندر داخل ہونے سے پہلے زرلش کو باہر روک کر کہتا اندر بڑھا تو وہ حیرت سے اسے اندر جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔
“خان یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
جب وہ واپس آیا تو ایک رومال اسکی آنکھوں میں باندھنے لگا تو زرلش اپنی آنکھوں کو چھو کر اس سے پوچھنے لگی۔
“خانی تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔۔!!
وہ اسے کلائی سے پکڑتا گھر کے اندر داخل ہوا اور اسے لیے لاؤنج سے ہوتا ہوا ایک روم میں داخل ہوا اور شریر نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے رومال اسکی آنکھوں سے ہٹا کر اسے سامنے کی جانب دیکھنے کا کہنے لگا تو زرلش سامنے ایک خوبصورت سے کچن کو دیکھتی ہکا بکا رہ گئی کیونکہ یہ سرپرائز کم اسے دھماکہ زیادہ لگا تھا کیونکہ اسے کوکنگ اچھے سے نہیں آتا‌‌۔۔
“خان آپکا سرپرائز یہ ہے۔۔؟؟
وہ اسکی جانب مڑتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جو شریر نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکی بات پر مسکرایا اور ہاتھ اسکے کندھوں پر رکھتا سر ہاں میں ہلانے لگا۔۔
“ہاں خانی میری خواہش تھیں کہ ہماری اشپیشل نائٹ پر تم میرے لیے اپنے ان خوبصورت حنائی ہاتھوں سے کھانا بنا کر مجھے کھلاؤ اسی لیے تو میں نے آج کچن کو اسی لیے اتنا ڈیکوریٹ کروایا ہے۔۔!!
عرشمان خان نے یکدم سے پیچھے سے آکر اسے پکڑا اور اپنا سر اسکی کندھوں پر رکھتا گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا۔۔
“کیا عرشمان خان میں اس وقت رات کے تین بجے تمہارے لیے کھانا بناؤ میں تمہیں ایک بات بتاتی چلو کہ مجھے کھانا تو دور کی بات اچھی سی چائے بنانا نہیں آتا ہاں کافی میں اچھی سی بنانا لیتی ہو کیونکہ یہ میں نے راتوں کو دیر دیر تک پڑھنے کی وجہ سے سیکھ لیا تھا۔!!
وہ اسکی اپنی گردن پر ہونٹوں کو محسوس کرتی آنکھیں بند کیے جلدی سے کہنے لگی۔۔
“تو خانی کافی بنا کر اپنے ہاتھوں سے پلاؤ آج رات میں ان خوبصورت حنائی ہاتھوں سے کچھ بھی کھانے کو تیار ہو۔۔!!
عرشمان خان اسکی گردن سے اپنے ہونٹ ہٹا کر آہستگی سے قدم آگے اسکی جانب بڑھا کر اسے کندھوں سے پکڑ کر بغور اسکے چہرے کو دیکھتا کہنے لگا۔۔
“عرش پیچھے ہٹو تبھی تو میں کافی بنا سکتی ہوں۔۔!!
اسے اپنے سامنے دیکھ وہ چڑ کر بولتی ہوئی اسے دیکھنے لگی جو مسکرا کر اُسے دیکھ رہا تھا اچانک سے نیچے جھکا اور شدت سے اسکے ہونٹوں کو اپنی ہونٹوں کی گرفت میں لے کر چھونے لگا۔۔
“جانم اس حسین روپ میں تم آرام سے میرا سکون برباد کر گئی ہو لیکن کیا کرو کافی تو پینا ہے ان حنائی ہاتھوں سے سو یہ سکون کی بربادی ہمیں شوق سے منظور ہے۔۔!!
وہ نظروں کی گرفت میں اسکا سندر روپ میں بساتا پیچھے ہٹتے ہوئے بوجھل آواز میں سرگوشی کرتیں اسے شرم سے سرخ کرتا اور اپنی بربادی کا باعث بن گیا تھا۔۔
زرلش خان جو اِس وقت سرخ عروسی جوڑے میں دلہن بنی کچن میں کھڑی اسکی نظروں اور فرمائش پر سخت نروس ہو رہی تھی اسکی بات پر بھونچکی رہ کر اسے اپنی نیلی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔
“مت دیکھو مجھے ایسی قاتلانہ نظروں سے خانی ورنہ میں کافی کی جگہ مجبوری میں اِن جاموں کو چھک لوں گا۔۔!!
اسکی جانب قدم بڑھا کر وہ اسکے مقابل کھڑا ہوا اور اپنے انگوٹھے سے اسکی سرخ لپ اسٹک سے سجے بھرے بھرے کٹاؤ دار ہونٹوں کو چھوتا گھمبیر آواز میں سرگوشی کرنے لگا۔۔
زرلش ایک تو اسکی نزدیکی پر سخت نروس ہو رہی تھی کہ اسکی لمس کو ہونٹوں پر محسوس کرتیں شدت سے کانپتی ہوئی پیچھے جا کر شدت سے کچن کاؤنٹر سے جا کے لگی۔
“پلیز خان۔۔!!
وہ اُسکی بڑھتی گستاخیوں سے سخت سٹپٹا کےتڑپتی ہوئی اسکا نام پکار بیٹھی وہ جو ایک ہاتھ سے اسکی کمر پر ہاتھ رکھے اور دوسرے سے اسکی ہونٹوں کو چھو رہا تھا اسکی لرزتی آواز پر اسے مخمور نظروں سے دیکھنے لگا جو اسکی گستاخیوں سے بری طرح سے سرخ ہو رہی تھی۔۔
“ہاں خان کی جان کیا ہوا۔۔؟؟
عرشمان خان اسکی گردن پر اپنا چہرہ چھپا کر خمار بھری آواز میں سرگوشی کرتا اسے گھبرانے پر مجبور کرتے اسکی شے رگ کو اپنی ہونٹوں سے چھونے لگا۔۔
“آپ باہر ویٹ کرے پلیز مم۔میں آپکے لیے کافی بنا کر لاتی ہوں۔۔!!
وہ اسکی لمس پر شدت سے کانپتی ہوئی آواز میں بولی تو وہ اسکی گردن کو چھوڑتا پیچھے ہٹا اور اُسے بغور دیکھتے ہوئے قدم باہر کی جانب بڑھانے لگا لیکن واپس مڑ کر اسے ایک بار پھر سے اپنی خمار بھری نظروں دیکھنے لگا۔۔
“یہ خان بھی نا کسی دن مجھے اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے ہارٹ اٹیک دے کر ہی رہے گا۔۔!!
کافی بنانے کے لیے وہ کاؤنٹر سے کافی نکال کر کپ میں ڈالتی اچھے سے مکس کرتے ہوئے جل کر خود سے بڑبڑاتی ہوئی کہنے لگی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
کسوا جان اب ہم اس طوفانی ہواؤں کی وجہ سے آگے نہیں جا سکتے ہے۔۔!!
زوارق خان کی بات پر کسوا کو لگا جیسے اسکی سانسیں حلق میں اٹک گئی ہو اور باہر دیکھا جائے تو طوفانی ہواؤں اور سنو کی وجہ سے سب کچھ دھندلا سا لگ رہا تھا۔۔
“خان جی اب ہم کیسے گھر جائے گے۔۔؟؟
وہ اسکی جانب دیکھتی ڈرتے ہوئے پوچھنے لگی ایک تو تنہائی اور اوپر سے اس کا ساتھ اُسے نروس کرنے کا باعث بن رہا تھا ۔۔
“اب تو کسوا جان بہت مشکل لگ رہا ہے یہاں سے ہمارا نکلنا کیونکہ مری کے موسموں کا کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ کب سنو ہو اور کب طوفانی ہوائیں چلے اب ہمیں صرف ایک کام کرنا چاہیے۔۔!!
وہ اپنی نظریں اسکی سرخ ہوتی ناک پر ڈال کر سنجیدگی سے کہنے لگا تو کسوا اسکی بات پر پریشانی سے اپنی پیشانی کو چھو کر اسے مسکرانے پر مجبور کر گئیں تھی ۔
“خان جی مم۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہ کہی ہم اس طوفان میں پھنس کر مر نا جائے۔۔!!
وہ اپنی نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو زوارق خان اسکے ڈر سے سرخ ہو رہے چہرے کو بغور دیکھتا آگے کو جھکا اور ڈور اوپن کرتا سنجیدگی سے اسے باہر نکلنے کا اشاره کرنے لگا تو کسوا اسکی اتنی نزدیکی پر سٹپٹا کر جلدی سے باہر نکلی۔۔
“کسو جان وہاں دیکھو کتنا خوبصورت منظر ہے۔۔!!
زوارق خان کار سے باہر نکلا اور عین اسکے مقابل کھڑا ہوا اور اسکی ٹھوڑی سے پکڑ کر سامنے پہاڑ کی جانب اشاره کرتا اسے کہنے لگا تو کسوا سامنے پہاڑ پر گرتے برف کو دیکھتے اپنا ڈر بھولنے لگی۔۔
سفید ہونی ٹوپی پہنے گلے میں مفلر ڈالے اور سرخ رنگ کی لانگ کوٹ میں ملبوس کسوا آنکھوں میں چمک لیے برف کو اپنے اوپر گرتے ہوئے خوشی سے دیکھ رہی تھی۔۔
تبھی اسنے یکدم سے اپنا چہرہ آسمان کی جانب کیا تو برف نے اسکے روئی جیسے سردی کی وجہ سے سرخ ہوتے گالوں اور ہونٹوں کو چھوا تو یہ دیکھ زوارق خان مہبوت رہ گیا۔۔
کسوا جو اپنے ہی دھن میں برف کو چہرے پر چھو چھو کر محسوس کر رہی تھی اسے پتہ ہی نا چلا کہ کب وہ اسکے کافی نزدیک آیا پتہ تو اسے تب چلا۔۔
جب اسے اپنے ہونٹوں پہ کچھ گھیلا سا احساس ہوا تو وہ اپنی آنکھوں کو نیچے جھکا کر دیکھنے لگی اور اسے اپنے بے حد نزدیک اور ہونٹوں پر جھکا برف کے چھوٹے سے ٹکرے کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا ہوا نظر آیا تو شرم کے مارے سخت سٹپٹاتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“خخخان جی یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟؟
وہ اسکی گرفت سے نکل کر شرم سے سرخ ہوتی گالوں کو اپنے ہونی دستانوں سے چھو کر نظریں ادھر ادھر کرتی بری طرح سے لرزتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی۔۔
“کسوا جان ماڑا اسے خان کی محبت کہتے ہیں۔۔!!
اسکی ناک سے برف کو پھر اسی طرح اپنے ہونٹوں سے چھو کر ہٹاتا وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اسکے چہرے کو شرم سے اور زیادہ سرخ اناری بنا گیا تھا۔۔
“خان جی پلیز ایسا مت کریں نا ایک تو میں یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی ہو کہ پتہ نہیں ہم یہاں سے کب نکلے گے اور ایک آپ یہ سب کر کے مجھے اور زیادہ پریشان کر رہے ہیں۔۔!
وہ ٹوپی درست کرتی اپنی سرخ ناک کو نرمی سے چھو کر جو سردی کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا اور اسے اور حسین بنا رہا تھا وہ منہ بسور کر بولی۔۔
“کسوا جان تمہارا مطلب ہے کہ میری محبت تمہیں پریشان کرتی ہے۔۔!!
اسکی بات پر اسے سخت غصہ آیا تو وہ اُسے غصے سے اپنی طرف کھینچ کر سخت لہجے میں پوچھنے لگا تو کسوا اسکی سخت گرفت سے کافی پریشان ہوگئی۔۔
“خان جی مجھے چھوڑے میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔!!
وہ اسکی سخت گرفت سے گھبراتی ہوئی تیزی سے بولی تو زوارق خان نے سنجیدگی سے اسے دیکھا جسکا چہرہ سردی کے باعث اب نیلا پڑھ رہا تھا۔۔
“کسو جان تُمہیں سردی لگ رہی ہے اب ہمیں یہاں سے جانا چاہیئے ورنہ تُم بیمار ہو جاؤ گی۔۔!!
وہ فکر مندی سے اسے کندھوں سے پکڑ کر کہتا ساتھ ہی اپنے آس پاس کسی رہائشی علاقے کو بھی اپنی نظروں سے ڈھونڈ رہا تھا جہاں وہ دونوں آج کی رات سردی سے بچنے کے لیے گزار سکے۔۔
“نہیں خان مم۔میں ٹھیک ہو۔۔!!
کسوا نے مشکل سے کہا کیونکہ سردی کی وجہ سے اب اسکا جسم بری طرح سے کانپنے لگا تھا جو زوارق خان جو اسے دیکھ رہا تھا وہ اسکی پشت کی جانب اپنی جیکٹ سے اسے خود سے لگا کر حرارت پہنچانے لگا۔۔
“تُم ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے کسو جان یہ دیکھو تمہارا جسم کیسے کانپ رہا ہے اب ہمیں جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہیے۔۔!!
زوارق خان فکر مندی سے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اسکی ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے پریشانی سے اسکے ہاتھ کی پشت کو سہلانے لگا اور کسوا جو شدید سردی سے کانپ رہی تھی وہ اپنا رخ اسکی طرف کرتیں اسکے سینے سے لگتی وہ اپنے آپکو سردی سے بچانے لگی۔۔
زوارق خان اسکے کپکپاتے ہونٹوں کو اپنے سینے پر محسوس کرتا ضبط سے اپنی آنکھیں بند کرتا خود کو کچھ کرنے سے روکنے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤
“آپ نے ٹھیک کہا تھا بھائی کے میں ایک برا انسان بننے کے بعد بہت کچھ کھو دو گا اور واقعی میں نے بہت کچھ کھو دیا ہے آپ کو بابا کو اور اسے بھی شاید میں کھو رہا ہوں۔۔!!
وہ قبر پر لکھے نام کی آخر میں خان لفظ پر ہاتھ پیھرتے ہوئے نم آنکھیں اوپر اٹھا کر اس قبر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس کے نیچے اسکا بھائی گہری نیند سو رہا تھا کبھی نا اٹھنے کے لیے پھر اسکی نیلی آنکھیں سامنے ایک اور قبر کی جانب بڑھی جو اسکے باپ کا تھا۔۔
“بابا آپ ہمشیہ مجھے صحیح راستے پر دیکھنا چاہتے تھے لیکن میں یہ نا کر سکا آئی ایم ریلی سوری۔۔!!
وہ اٹھا اور اپنے باپ کی قبر پر سر رکھتا بری طرح سے روتے ہوئے کہنے لگا اور پیچھے کھڑے شخص نے اسے روتے ہوئے دیکھ اپنی بوڑھی آنکھیں زور سے بند کی اور پھر کھول کر اسے دیکھا جو اب اپنی نیلی آنکھیں ان دونوں قبروں پر مرکوز کیے خاموش تھا شاید وہ انکی وہاں موجودگی محسوس کر چکا تھا۔۔
“خان۔۔!!
وہ آگے بڑھے اور اسکے مضبوط کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنی جانب متوجہ کرنے لگے جو اسی طرح قبروں کو نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“آپ کیوں آئے ہیں یہاں بابا خان۔۔؟؟
وہ اسی طرح قبروں پر نظریں مرکوز کیے سنجیدگی سے ان سے پوچھنے لگا۔۔
“خان بچے مجھے پتہ تھا تُم آج مجھے یہی پہ ملوں گے میں تُمہیں ایک نظر دیکھنے کے لئے یہاں آیا تاکہ میں تمہیں دیکھ کر اپنے عمر کو یاد کر سکوں۔۔!!
وہ اسکا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے نم آواز میں کہنے لگے تو وہ اپنی سرخ نیلی آنکھوں کو اوپر اٹھاکر انہیں دیکھنے لگے۔۔
جن کی آنکھیں بلکل اسی کی طرح نیلی تھیں فرق صرف اتنا تھا انکی آنکھوں میں تین بچوں کی جدائی کا غم تھا ایک سے وہ زنده ہو کر اجنبیوں کی طرح ملتے تھے اور بھی تب جب وہ ان سے ملنا چاہتا ہو اور اسکی آنکھوں میں اپنا پورا خاندان کو کھونے کا درد تھا۔۔
“بابا خان آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا آپ اچھے سے جانتے ہے کہ میرے دشمن ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں اور اگر انہوں نے اس وقت یہاں آپکو میرے ساتھ دیکھ لیا ناں تو وہ آپکو نقصان پہنچائے گے جو مجھے منظور نہیں ہے۔۔!!
وہ انکی جانب مڑا اور نم آنکھوں سے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو وہ آگے بڑھے اور اسے اپنے سینے سے لگا کر اسکے وجود میں بسے اپنے بیٹے کی خوشبو کو محسوس کرنے لگے۔۔
“خان بچے آپ کیوں یہ کر رہے ہیں چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ سب کچھ دیکھیں اس میں آپ نے بہت کچھ کھو دیا ہے اور شاید بهت کچھ کھونے والے ہے۔۔!!
انہوں نے اسکی پشت کو سہلاتے ہوئے نم آواز میں کہا تو وہ ان سے الگ ہوتا اپنا رخ دوسری جانب موڑ کر کہنے لگا۔۔
“یہ ناممکن ہے بابا خان میں بہت آگے بڑھ چکا ہوں اب میں پیچھے نہیں مڑ سکتا ہوں اور اگر میں واپس اپنی اصل زندگی کی جانب پلٹا تو میں کیسے ان لوگوں کو سزا دے سکوں گا جہنوں نے میرے بابا اور بھائی کے کو مارا ہے۔۔!!
وہ اپنی نیلی سرخ آنکھیں اپنے بھائی اور باپ کے قبر پر مرکوز کرتیں نفرت کی شدت سے ان قاتلوں کے بارے میں کہنے لگا جہنوں نے ان دونوں کا قتل کیا تھا۔۔
“شمویل بچے۔۔!!
انکے منہ سے یہ نام سنتا وہ انکی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“بابا خان معاف کرنا مین آپکی بات کو بیچ میں کاٹ رہا ہوں لیکن آپ سب کو یاد کروانا زیادہ مقصود ہے کہ میں نے یہ نام اسی وقت اپنی ماضی کے ساتھ دفن کر دیا تھا جب میں نے ان قاتلوں سے بدلا لینے کا سوچا تھا اور ہمشیہ یاد رکئیے گا کہ آپکے سامنے آپکا بڑا پوتا نہیں اخسم شیرانی کھڑا ہے جو ایک مافیا کے نام سے پہنچانا جاتا ہے ایک کامیاب ڈاکٹر کے نام سے نہیں۔۔!!
وہ آج پھر انہیں ہمشیہ کی طرح توکتے ہوئے کہنے لگا تو وہ آگے بڑھے اور اسے کندھوں سے تھام کر کہنے لگے۔
“لیکن بچہ ایک نا ایک دن تو تُم نے اپنے اصل نام کو کسی ایسے کام کے لیے استعمال کرنا ہوگا جو تم اخسم شیرانی بن کر بھی اس کام کو نہیں کر پاؤ گے۔۔!!
انکی بات پر اُسے اپنا اور مشاطہ کا نکاح یاد آیا جس پر اسنے نکاح خواں کو اپنا اصل نام لینے کے لیے کہا تھا کیونکہ اخسم شیرانی وہ نکاح میں استعمال نہیں کر سکتا تھا اور آج انکی بات پر وہ مسکراتے ہوئے اپنا سر نیچے جھکا گیا تھا کیونکہ آج وہ انکی بات پر ایمان لے کر آیا تھا وہ آج جو کہہ رہے تھے سچ کہہ رہے تھے۔۔
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میں اخسم شیرانی بن کر بھی اپنی محبت کو پا نہیں سکتا تھا بلکہ کبھی بھی حاصل نہیں کر سکوں گا کیونکہ یہ شیرانی لفظ صرف نفرت کے قابل ہے۔۔!!
وہ شیرانی لفظ کو نفرت سے ادا کرتے ہوئے انہیں دیکھنے لگا جو اسکی نیلی آنکھوں میں شیرانی لفظ کہنے کی وجہ سے شھلے سے دہکنے لگے تھے۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“کون ہو تُم چھوڑو مجھے کمینے انسان۔۔؟؟
مشاطہ کی آنکھیں کسی کے چھونے پر جھٹ سے کھلی تو اسنے اپنے اوپر ایک ہڈی پہنے شخص کو جھکے دیکھا تو وہ غصے سے اپنے ہاتھوں سے اسے دور کرتی غصے سے چیختی ہوئی بولی۔۔
“خاموش ورنہ اب کی بار گولی تمہاری کمر پر نہیں سیدھا کنپٹی پر اتار دو گا میں سمجھی تم اب سیدھے سے بتاؤ کے وہ تمہارا جاسوس شوہر کہاں ہے۔۔؟؟
ریوالور اسکی کنپٹی پر رکھتا وہ سپاٹ لہجے میں اس سے اخسم شیرانی کے بارے میں پوچھنے لگا تو وہ ریوالور سے ڈرے بغیر اسے غصے سے گھورنے لگی۔۔
“نہیں بتاؤ گی تمہیں جو کرنا ہے کرو سمجھے کمینے انسان۔۔!
وہ سخت غصے سے غراتی ہوئی بولی تو اسکی بات پر اس شخص نے نفرت سے اسے گھورتے ہوئے ریوالور کا دستا اس کی پیشانی پر زور سے دے مارا جس کے نتیجے میں اسکی پیشانی سے خون بہنے لگا۔۔
“نہیں بتائی گی تو مجھے ہاں چل جلدی سے بتا کہا ہے تیرا وہ غدار شوہر ورنہ میں جان سے مار دو گا تجھے بھی اسکے ساتھ پہلے تو تیری معذوری پر رحم کھا کر تجھے چھوڑ رہا تھا پر اب نہیں چھوڑو گا چل شروع ہو جا ورنہ ساری کی ساری گولیاں تیری کھوپڑی پہ آتار دو گا۔۔!!
وہ شخص غصے سے اسکی پیشانی پر ریوالور کا دباؤ بڑھاتے ہوئے کہنے لگا تو مشاطہ اپنی آنکھوں کو بند کرتی پہلی بار اس شخص کو یاد کرنے لگی جس سے صرف نفرت کا رشتہ رکھنا چاہتی تھی۔۔
“بابا خان ہمیں جلد ریسٹ ہاؤس کے لیے نکلنا چاہیے ورنہ بہت دہر ہو جائے گا۔۔!!
دوسری جانب وہ جانگہر خان سے اپنی مشاطہ کے نکاح کے بارے میں انہیں بتا رہا تھا یکدم سے اسے کچھ عیجب سا احساس ہوا جیسے مشاطہ کسی مصیبت میں ہو اور اسے پکار رہی ہوں تو وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور انکی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“کیوں کیا ہوا بچے کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ہے جو تم اچانک سے پریشان ہو کر ریسٹ ہاؤس جانے کے لیے کہہ رہے ہو۔۔!!
انہوں نے اسکی پریشان صورت کی جانب دیکھا جو سامنے کھڑا اپنے بالوں میں پریشانی سے ہاتھ پھیرتا فون کان سے لگائے ریسٹ ہاؤس کا نمبر ملا رہا تھا کیونکہ جانے سے پہلے اسنے مشاطہ کو وہاں اپنے روم میں بیڈ پر لیٹا کر اسکے نزدیک ایک فون رکھا تھا لیکن وہ فون بند دیکھ کر اب اور زیادہ فکر مند نظر آنے لگا‌‌۔۔
“بابا خان وہ فون نہیں اٹھا رہی ہمیں ابھی وہاں کے لیے جلد نکلنا پڑے گا اگر وہ مجھ سے کھو گئی ناں تو میں مر جاؤ گا آغا جان مر جاؤ گا۔۔!!
وہ اپنی آنکھوں میں مشاطہ کو کھونے کا ڈر بسائے انہیں نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو انہوں نے اسکی بری طرح سے کانپتے وجود کو اپنی کمزور پناہوں میں لے کر اسے سہارا دیا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤