Dark Heart By Sumyia Baloch Readelle50185 Episode 13
Rate this Novel
Episode 13
“مشی جاناں تم کیوں مجھ سے اتنا نفرت کرتی ہوں۔۔؟؟
اخسم باتھ گاؤن پہنے جب واشروم سے باہر نکلا اچانک سے اسکی نظریں سامنے کھڑکی کے سامنے وہیل چئیر کی پشت سے سر ٹھکائے اپنی آنکھیں موندے مشاطہ پر پڑی جو شاید دوائی کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔
وہ اسکی فکر میں ٹاول تیزی سے سامنے پھینکتا آگے بڑھا اور اسکے پاس پہنچ کر نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے چہرے کو چھو کر اسے بے بسی سے دیکھنے لگا۔۔
“میں مجبور نہ ہوتا تو تُمہیں سچ بتاتا لیکن میں اس وقت بہت مجبور ہو چاه کر بھی تمہیں یہ سچائی نہیں بتا سکتا۔!
اسکی زُلفیں جو اسکے پورے چہرے پر آ کر اٹکلیاں کر رہی تھی انہیں دیکھتے ہوئے وہ ہاتھ بڑھا کر پیچھے کرتے ہوئے اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھ کر اٹھا اور اُسے اپنی باہوں میں بھرتا اسے لیے بیڈ کی جانب بڑھا۔۔
“نفرت کرتی ہو اس قاتل سے جس نے میری ماں کو مارا میں کبھی بھی معاف نہیں کرو گی اسے وہ انسان کے روپ میں ایک درندہ ہے۔۔!!
اخسم نے اسے بیڈ پر جب لیٹا یا تو اچانک سے مشاطہ نے غصے سے نیند میں اسکا کالر سختی سے پکڑ کر اُسے اپنے اوپر گرا کر کہا۔۔
“مشی جاناں یہ ٹھیک نہیں ہے تم کبھی نفرت کا اظهار کرتی ہو تو کبھی بے پناه محبت نچاور کرتی ہوں۔۔!!
اخسم اس اچانک حملے پر سنبھل نا سکا اور سیدھا اس کے اوپر گرا اور اس افاد میں ان دونوں کے لب ایک دوسرے کے لبوں سے مس ہوگئے وہ اپنے دونوں ہاتھ مشاطہ کے دائیں اور بائیں رکھے اسکی لبوں پر جھکا تھا کہ اسکی کچھ دیر پہلے کی باتیں یاد آتے ہی وہ پیچھے ہٹنے کے لیے اٹھنے ہی والا تھا کہ مشاطہ نے نیند میں اسے پشت سے پکڑا تو وہ بے بسی سے اسے دیکھنے لگا جو اسکی بڑی ہوئی بیرڈ کو اپنے ایک ہاتھ سے چھو رہی تھیں۔۔
اخسم اسکی حرکت پر اپنا ہوش آہستہ آہستہ کھوتے ہوئے بھی وہ پھر بھی اپنا آپ کنٹرول کر رہا تھا اگر اسکی جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا بہک چکا ہوتا مگر وہ اخسم شیرانی تھا اور سامنے موجود ہستی اسکی زندگی تھی تو بھلا وہ کیسے اسے ہرٹ کر سکتا تھا لیکن مشاطہ اسے چھو کر بار بار کچھ کرنے کے لیے اکسا رہی تھی اور وہ چہرے پر سرخی لیے ضبط سے اپنی آنکھیں بند کیے خود کو روک رہا تھا۔۔
مشاطہ اب اسکی بیرڈ سے اپنے ہاتھ ہٹاتی ہوئی آگے بڑھی اور اسکی آنکھوں کو چھونے لگی جو آنکھیں بند کیے اسکی نرم انگلیوں کو بے بسی سے اپنی آنکھوں پر محسوس کرتیں ہوئے وہ اپنی کنٹرول کھو کر جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھول کر اسے اپنی سرخ نیلی نگاہوں سے دیکھنے لگا جو آنکھیں موندے نیند میں ایک ہاتھ اسکی چوڑی پشت پر رکھے ایک سے اسکی آنکھوں کو چھو رہی تھی۔۔
“مشی جاناں آئی ایم ریلی سوری لیکن اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا بہت دیر ہو چکی ہیں تم نے خود مجھے مجبور کیا ہے اور میں بے بس ہوگیا ہو تم نے میرے جزبات کے ساتھ کھیل کر اچھا نہیں کیا مجھے پتہ ہے صبح تم مجھے اپنے پاس دیکھ کر ضرور چلاو گی۔۔!!
اپنی قربت سے جاناں مجھے مہکا کر تم نے یہ اچھا نہیں کیا ہم نے خود کو کتنا روکا لیکن تم نے جاناں اپنی تھوڑی سی قربت دے کر ہمیں آخر کار بہکا ہی دیا۔۔💕
گھمبیر آواز میں سرگوشی کرتا وہ اپنے لب اُسکی گردن پر رکھتا استحاق سے چھو کر پیچھے ہٹا اور پھر باتھ گاؤن اتار کر نیچے پھینکتے ہوئے واپس اسکے اوپر جھکا اور اپنے لبوں سے اُسکے گال کو باری باری چھونے لگا۔۔
مشاطہ جو اپنی انگلی سے اسکے براؤن مونچھوں تلے دبے عنابی لبوں کو چھو رہی تھی اخسم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکا وہ ہاتھ اسکی کلائی سے پکڑا جو اسکے لبوں کو چھو رہا تھا
وہ اسکے ہاتھوں کو بیڈ کراؤن سے لگا کر اپنی نظریں اُسکے چہرے پر مرکوز کرتا نازک لبوں کو بے خودی سے دیکھنے لگا جو لپ اسٹک سے پاک بلکل نیچرل گلابی رنگ کے تھے ان پر اچانک سے جھکا اور شدت سے انہیں چھونے لگا۔۔
“نہیں یہ میں کیا کرنے جا رہا تھا۔۔!!
وہ بے خودی سے اسکی نرم ہونٹوں کو چھو رہا تھا جب نظریں مشاطہ کے چہرے پر پڑی تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹا اور سختی سے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جھکڑتا مشاطہ کے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا جو اسکی شدتوں کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا وہ خود سے بڑبڑا کر کہنے لگا۔۔
“یہ میں کیا کر رہا تھا اور میں اسطرح کیسے بہک سکتا ہو مجھے ابھی اسے نہیں چھونا چاہیئے تھا وہ جب صبح اٹھ کر اپنی یہ حالت دیکھے گی تو میں اسے کیا جواب دو گا۔۔؟
وہ بالوں کو سختی سے جھکڑے سرخ آنکھیں اس پر ڈال کر خود سے کہنے لگا اور پھر کروٹ بدل کر دائیں جانب لیٹا اور چھت کو گھورنے لگا۔۔
“مشی جاناں میں نے اگر تمہیں ہاتھ لگایا تو تُمہاری میرے لیے نفرت اور بڑھ جائے گی اور یہ میں کسی صورت نہیں چاہتا۔۔!!
جب اسے اچانک سے اپنے لبوں پر کچھ نرم سا محسوس ہوا تو وہ اپنی نظریں نیچے جھکا کر دیکھنے لگا اور مشاطہ کو اپنے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے دیکھ کر وہ مسکرایا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسے پیچھے کرتا اٹھا اور اُسے بغور دیکھتے ہوئے کہنے لگا جو نیند میں شاید کچھ بڑبڑا رہی تھی لیکن وہ اب وہ بلکل بھی اسکے پاس جانے کی غلطی دوباره نہیں کر سکتا تھا۔۔
“مشی جاناں تمہیں پتہ ہے تم ایڈیٹ اور اسٹوپٹ ساتھ میں جنگلی بلی بھی ہو اگر کل صبح تم نے مجھے اسطرح اپنے قریب دیکھا نا تو تم مجھے کچا چبا جاؤ گی۔۔!!
اسکے دماغ میں اچانک سے ایک زبردست سا پلان آیا تو اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر جھٹکے سے اسے اپنے چوڑے سینے سے لگاتا شریر لہجے میں کہنے لگا اور پھر چہرے پر پُرسرار مسکراہٹ سجا کے وہ اسکا فراک آہستگی سے نازک کندھوں سے ہٹاتا اسکی گردن پر جھکا اور شدت سے اپنے دانتوں سے شفاف گردن پر ایک سرخ نشان بنا کر پیچھے ہٹا اور شریر نظروں سے اس نشان کو دیکھنے لگا جو اسکے پلان کا حصہ تھا۔۔
وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا اس پر کہ اسنے اسکی بے خبری کا کل بہت اچھے سے فائدہ اٹھایا تھا جیسے اسنے اسکے ساتھ زبردستی کی ہوں
اخسم نے مسکرا کر کمبل کو اپنے اور اسکے اوپر اچھے سے سر تک اوڑھا اور اسکو دیکھتا اپنے ہاتھ اسکی پشت پر لیں جا کر اسکی نازک کمر پر گرفت سخت کرتا اسے شریر نظروں سے دیکھنے لگا جو نیند میں بڑبڑاتی اسکے چوڑے سینے پر سر رکھے گہری نیند میں اسکے چوڑے سینے پر اپنی نازک انگلی کی مدد سے لکیر کھینچ رہی تھی۔۔۔
اخسم شیرانی یہ صرف اسے صبح جلانے کے لیے کر رہا تھا تاکہ وہ صبح اٹھ کر اپنے آپکو اسکی مضبوط پناہوں میں دیکھے تو اس پر سخت غصہ کرے اور وہ اسکا یہ غصہ دو سال بعد دیکھنا چاہتا تھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
صبح کے چھ بجے اخسم کی آنکھیں کسی چیز کے گرنے کی آواز پہ کھلی تو اسنے سامنے دیکھا مشاطہ نیچے گری سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔۔
“مشی جاناں کیا ہوا تم نیچے کیسے گری۔۔؟؟
وہ اسے نیچے منہ کے بل گرے دیکھ جلدی سے پریشانی سے بیڈ سے اٹھا اور تیزی سے آگے بڑھا اور اسے اٹھانے کے لیے اپنے ہاتھ آگے بڑھا ہی رہا تھا۔
“خبردار اگر تم آگے بڑھے تو میں اپنی کلائی کاٹ لوں گی۔۔!!
مشاطہ غصے سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر بیڈ سائیڈ ٹیبل کے اوپر رکھے اخسم کے چاقو کو اٹھا کر اپنی کلائی پر رکھتی اسے دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“وہاٹ مشاطہ یہ تم کیا کر رہی ہو ڈیم اٹ گرل کیا تم پاگل ہوگئی ہو اور اسے نیچے رکھوں اگر تم نے خود کو نقصان پہنچایا نا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔!!
اخسم اسکی کلائی پر رکھے چاقو کو دیکھنے لگا جو اسنے کل رات شاور لینے سے پہلے مشاطہ والی بیڈ سائیڈ پر رکھا تھا یہ دیکھ کر اسے یکدم سے اپنے کل رات کے مشاطہ کو تنگ کرنے کے لیے بنائے گئے پلان کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر بھی سخت تاؤ آنے لگا تھا۔۔۔
“گھٹیا انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے کل رات چھونے کی ہاں اور یہ سب کر کے اور میری بے خبری کا فائدہ اٹھا کر تم نے آج ثابت کر دیا کہ تم کتنے گھٹیا ہوں۔۔!!
اپنی کلائی پر رکھے چاقو پر وہ اور دباؤ بڑھاتی اپنی سرخ نگاہوں سے اسے گھورتی ہوئی غرا کر کہنے لگی۔۔
“ایسا کیا کر دیا ہے میں نے کل رات کو جو تم اس طرح ری ایکٹ کر رہی ہوں جیسے میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔۔؟؟
وہ بھی اب غصے سے آگے بڑھا اور اسے اسکے پیروں پر کھڑا کرتا شدت سے غرایا تو مشاطہ کی شرٹ جو پہلے سے اسکی کندھوں سے نیچے تک آ رہی تھی وہ اسکے جارہانہ انداز سے کھینچنے پر مزید نیچے سرک گیا تھا اور ہاتھوں میں تھمی چاقو نیچے فرش پر جا کر گرا تھا اور آج پہلی بار اسکے سرد لہجے پر اس سے سخت خوفزدہ ہوگئی تھی۔۔
“کل رات کیا کیا تھا تم نے ہاں مسٹر اخسم شیرانی تو سنو تم نے کل رات میرا اچھے سے فائدہ اٹھایا تھا میری معذوری کے ساتھ میری بے خبری کا اور تم اب کہہ رہے ہوتم نے میرے ساتھ کیا کیا تھا۔۔
تمہیں پتہ ہے یہ سب کر کے گھٹیا انسان تم نے میرے ساتھ بلکل بھی اچھا نہیں کیا اور اب میں جی کر کیا کرو گی تم نے تو مجھے برباد کر دیا تھا کل رات میرا سب کچھ چھین کر اب میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا کچھ بھی نہیں یہ زندگی جینے سے بہتر نہیں کے میں مر جاؤ۔۔!!
وہ اسکے سہارے کھڑی شدت سے روتی ہوئی اسکا کالر پکڑ کر بری طرح سے چیختی ہوئی کہنے لگی۔۔
اخسم جو اسے دیکھ رہا تھا یکدم سے اسنے اسے اپنے سینے سے لگایا تاکہ وہ اچھے سے رو کر اپنا سارا غبار نکال سکے اور وہ اسکے سینے سے لگی بری طرح سے روتی ہوئی اسکے
سینے پر غصے سے مکا مارنے لگی تھی۔
“مشی جاناں میں پہلے تو تمہیں سمجھدار سمجھتا تھا پر اب تم مجھے ایک نمبر کی پاگل اور بے وقوف جو بنا سوچے سمجھے باتوں کا مطلب نکالنے والی ایڈیٹ اسٹوپٹ لڑکی لگنے لگ گئیں ہوں۔۔
وہ پاگل اسٹوپٹ لڑکی یہ تک نا سمجھ سکی کہ میں نے اسکے ساتھ اُس رات ہاسٹل میں اسکے اکیلے پن کے باوجود بھی کچھ نہیں کیا تو اب کیسے کر سکتا ہو۔۔؟؟
اخسم سینے پر رکھے اسکے سر کو نرمی سے سہلاتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تُم پیچھے ہٹو۔۔!!
وہ سخت غصے میں آکر اسے پیچھے دھکیل کر یہ تک بھول گئی تھی کہ وہ اسی کے سہارے کھڑی ہو سکتی ہے اس سے پہلے کے وہ نیچے گرتی اخسم نے آگے بڑھ کر اسے پکڑا تو وہ اسکے چوڑے سینے سے آکر لگی۔۔
“جاناں میں پیچھے نہیں ہٹ سکتا اگر میں ہٹ گیا تو تمہیں اس حال میں کون سنبھالے گا۔۔!!
اسے آرام سے بیڈ پر بیٹھا کر وہ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اسکی گود میں رکھے اسکے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنی گرم ہاتھوں کی گرفت میں لے کر کہنے لگا۔
“تم اس طرح میری معذوری کا فائدہ اٹھا کر اپنے لیے میرے دل میں سوفٹ کارنر نہیں بنا سکتے سمجھے۔۔!!
وہ اپنے ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کراتی چٹخ کر بولی۔۔
“جاناں یہ تو وقت بتائے گا کہ تم اپنے دل میں میرے لیے سوفٹ کارنر بناؤ گی یا نہیں۔!!
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہتا مسکرایا اور وہ اسکی مسکراہٹ پر سخت جل کر رہ گئی اور پھر اسے شدت سے ہاتھ آگے بڑھا کر پیچھے کی طرف دھکا دے کر اپنا رخ دوسری جانب کر گئی تھی۔۔
“مجھے تو ابھی سے ان سبز آنکھوں میں اپنے لیے وہ کارنر صاف نظر آ رہا ہے جاناں۔۔!!
اخسم اسکے دھکا دینے کی وجہ سے پیچھے فرش پر گر کر ہاتھ پیچھے لے جا کر فرش پر لیٹا اور اسے شریر نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“مسٹر اخسم شیرانی ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا یاد رکھنا بلکہ اپنے دماغ میں بیٹھا کر رکھنا کے یہ خواب میں بھی تمہیں نصیب نہیں ہوگا کہ مشاطہ ملک تمہارے لیے سوفٹ کارنر اپنے دل میں محسوس کرے گی۔۔!!
وہ چبھتی نظروں سے اسے دیکھتی سخت لہجے میں کہنے لگی تو اسکی بات پر اخسم فرش سے اٹھا اور بیڈ پر اسکے دائیں اور بائیں جانب اپنے ہاتھ رکھتا اس پر جھکا اور اسکے غصے سے سرخ چہرے کو چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگا جو اسکی حرکت پر سرخ ہو رہا تھا اب یہ سرخی غصے کی وجہ سے تھا یا شرم کی وجہ سے یہ اخسم کو پتہ نا چلا۔
“مسسز اخسم شیرانی اور وہ وقت میں کبھی آنے نہیں دو گا اور رہی بات نصیب کی تو میں اسے نہیں مانتا اور خواب کی بات کرو تو وہ تم مجھے جلد اپنے خوابوں میں دیکھوں گی۔۔!!
وہ ایک ہاتھ اسکی شریر زلفوں کو جو اسکے چہرے پر جھول رہے تھے پکڑ کر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
“خانی تّم ابھی تک رو رہی ہوں۔۔؟؟
صبح نو بجے عرشمان خان کی آنکھیں اپنے بازو پر سخت دباؤ اور تکلیف کی وجہ سے کھلی تو وہ اپنے بازو سے لگی زرلش کو بری طرح سے آنسو بہاتے ہوئے دیکھ تیزی سے اٹھا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر کہنے لگا۔۔
“خان یہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔!!
زرلش سو سو کرتی بری طرح سے رو کر بولی تو عرشمان نے اسے افسوس سے دیکھا جو رخ دوسری جانب موڑے اسکے سینے سے پشت لگائے لیٹی ہوئی تھی وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اسکا رخ اپنی طرف کرتا اپنے ہونٹ اسکی پیشانی پر رکھتا اسے دیکھنے لگا جو اسکے رخ موڑنے پر اب شرم سے اپنے آپ کو کمبل میں چھپا رہی تھی۔۔
“خانی میں نے تمہیں بہت مرتبہ وارن کیا تھا لیکن تم نے اس وارن کو ہمیشہ کی طرح کل رات اگنور کر کے خود اپنے ساتھ اچھا نہیں کیا اب میں کیا کر سکتا ہوں اب تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہاں اب جو ہوسکتا ہے وہ ہمارا ولیمہ ہو سکتا ہے۔۔!!
اسے کمر سے پکڑ کر اپنے بے حد نزدیک کرتا وہ شریر لہجے میں کہنے لگا تو زرلش اسکی بات پر اسکی گرفت میں کسمسا کر پیچھے کھسکنے لگی لیکن عرشمان نے مزید اپنے ساتھ لگا کر اسے یہ کرنے نہیں دیا تو زرلش بے بسی سے اسکی گرفت میں پھڑپھڑانے لگی۔۔
“خان پلیز اب آپ مم۔مجھے چھوڑے ورنہ میں رو رو کر سب کو یہاں بلاؤ گی۔۔!!
وہ سرخ آنکھیں اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں قید کیے شریر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا تو وہ اسکی نظروں سے سٹپٹا کر پیچھے کھسکنے کی کوشش کرنے لگی جو عرشمان خان نے پھر سے ناکام بنا کر اسکی گردن پر جھکا اور اپنا لمس چھوڑنے لگا اور وہ اسکی لمس پر سخت کانپ اٹھی تھی۔۔
“اب تو خانی میں تمہیں چھوڑ کیسے سکتا ہو تم جو میری زندگانی بن چکی ہوں۔۔!!
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اسکے ہونٹوں پر جھکا اور انہیں نرمی سے چھونے لگا اور زرلش اسکی بیرڈ کو اپنے چہرے پر محسوس کرتی کپکپانے لگی۔۔
“خان آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں مم۔میں ابھی اس کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھی اور آپ ایک بیس سال کی لڑکی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔!!
وہ آنکھوں میں ڈھیر ساری پانی جما کر کے عرشمان خان کے چوڑے سینے پر زور سے اپنے نازک ہاتھوں سے مکا برساتی ہوئی بولی۔۔
“خانی یہ بیس سال کی لڑکی میری بیوی بھی تو ہے یہ تم کیسے بھول گئی ہوں۔!!
وہ اسکی بے وقوفوں والی باتوں کو خاطر میں لائے بغیر شرارت سے کہتا اسکے ریشمی بالوں کو پکڑ کر اسکا چہرہ مزید اپنے قریب کرتا کہنے لگا۔۔
“لالہ۔۔!!
تبھی روم کے دروازے کو کسوا زور سے پیٹتی ہوئی عرشمان خان کو پریشانی سے آوازیں دینے لگی تو زرلش اسکی آواز پر شرم سے اپنا سر اسکی گردن میں چھپانے لگی اور ہاتھ اسکے مضبوط شانے پہ رکھتی بری طرح سے کپکپانے لگی اور یہ دیکھ عرشمان خان خوبصورتی سے مسکرایا اور پھر اسے پیچھے کرتا اسی طرح شرٹ لیس وہ بیڈ سے نیچے اترا جس طرح ساری رات بنا شرٹ کے سویا تھا۔
دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے اسنے اچانک سے اپنے چہرے پر ہمشیہ کی طرح سنجیدگی سجا کر اسطرح دروازہ کھولا کے روم کا منظر باہر کھڑی کسوا کو نظر نا آ سکے اوردوسری طرف زرلش اسے دروازے کے سامنے کھڑا دیکھ جلدی سے خود کو سر سے پیر تک کمبل میں چھپانے لگی۔۔
“ہاں کسوا کیا ہوا۔۔؟
وہ سنجیدگی سے کسوا کے چہرے کو دیکھنے لگا جو پریشانی کے مارے سفید پڑ رہا تھا۔۔
“وہ لالہ زر پتہ نہیں کہاں ہے کل رات سے غائب ہے میں جب زوارق لالہ کے ساتھ ڈنر کر کے واپس گیارہ بجے حویلی پہنچی تو میں نے اسکا بہت انتظار کیا۔
لیکن وہ نہیں آئی تو پتہ نہیں میں کب سو گئی اور جب صبح میری آنکھیں کھلی تو وہ مجھے روم میں نظر نہیں آئی تو میں اسے پورے حویلی میں ڈھونڈنے نکلی مگر وہ مجھے نہیں ملی اب میں کیا کرو لالہ آپ پلیز زر کو ڈھونڈے پتہ نہیں وہ کس حال میں ہوگی پتہ نہیں کون اسے کڈنیپ کر کے لیں گیا ہوگا۔۔!!
کسوا پریشانی سے عرشمان خان کو دیکھتی ہوئی بولی تو اسکی پریشانی سے کہنے پر مسکرایا اور روم سے باہر نکل کر دروازہ بند کرتے ہوئے پیچھے مڑا اور اسے دیکھنے لگا جو کہ اب رونے کی تیاریوں میں لگ رہی تھی۔۔
“کسوا فکر مت کرو وہ اپنے شوہر کے پاس ہے اور اب سے وہ یہی رہی گی میرے پاس اور اسے کڈنیپ کسی نے نہیں کیا کل رات میں اسے یہاں لے کر آیا تھا اپنے اور اسکے روم میں اور تم روؤ مت ہم دونوں ابھی ناشتے کے لئے آتے ہیں جب تک تم جاؤ تیار ہو جاؤ۔۔!!
وہ آگے بڑھا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھتا مسکرا کر کہنے لگا تو کسوا اسکی زرلش کے رات اسکے روم میں موجودگی والی بات پر تعجب سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“کسو اتنا حیران ہو کر مجھے مت دیکھو ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا اور آج میں ناشتے کے بعد سب کو بتا دو گا اپنی اور زرلش کے ریسیپشن کے بارے میں اور تم اپنی بھابھی کے ساتھ آج شاپنگ کرنے جاؤ گی۔۔!!
کسوا کو دیکھتا وہ شریر لہجے میں کہنے لگا تو زوارق خان جو پیچھے کھڑا تھا وہ آگے بڑھا اور کسوا کے دائیں جانب کھڑا ہوا اور عرشمان خان کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔۔
“عرش تم کب بڑے ہوگے۔۔؟؟
اپنے مضبوط کندھوں پر سیاہ شال ڈالے وہ سنجیدگی سے عرشمان خان کو دیکھتا اس سے پوچھنے لگا جو اسے وہاں دیکھ سخت سٹپٹا کر رہ گیا کیونکہ خان حویلی میں آغا خان کے بعد اگر کسی کا رعب تھا تو وہ زوارق خان کا تھا اور سب اسکے غصے سے ڈرتے تھے اور عرشمان خان نے تو سوچے سمجھے بغیر ایک بہت بڑا قدم آغا خان اور اسکو بتائے بغیر اٹھایا تھا اس کا ڈرنا تو بنتا تھا۔۔
“خ۔خان آپ۔۔!!
وہ گھبرا کر بولا تو زوارق خان نے ناگواری سے اسے شرٹ لیس دیکھا اور پھر سخت نظروں سے کسوا کو گھورا جو نظریں نیچے جھکا کر کھڑی تھی۔۔
“تُم یہاں کیا کر رہی ہوں۔۔؟؟
عرشمان خان کی بات کو اگنور کرتا وہ کسوا کو سخت نظروں سے دیکھتا اس سے پوچھنے لگا اور کسوا جو اسکی موجودگی پر سخت گھبرا رہی تھی اسکے پوچھنے پر لرزتی پلکیں اوپر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو اسے سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
“وہ خان جی مم۔میں زر کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔!!
وہ سٹپٹا کر جلدی سے بولی تو اسکی بات پر زوارق خان نے عرشمان خان کو دیکھا جو اسکی نظروں سے خائف ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔
“عرش تم اور زر مجھے ابھی ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے نظر آؤ اور تم میرے ساتھ چلو۔۔!!
عرشمان خان کو مخاطب کرنے کے بعد وہ اپنی سرد لہجے میں کسوا کو کہہ کر آگے بڑھا اور سختی سے اسکے ہاتھ کو پکڑ کر ڈائینگ ٹیبل کی جانب بڑھا اور عرشمان خان اسے وہاں سے جاتا ہوا دیکھ سکھ کی سانس لیتا جلدی سے روم میں داخل ہوا اور بیڈ کی جانب بڑھا جہاں زرلش کمبل میں خود کو چھپائے ہوئے تھیں۔۔
“زر جلدی اٹھو ورنہ وہ تمہارا لالہ مجھے اوپر اٹھا لیں گا۔۔!!
وہ کمبل اس پر سے ہٹاتے ہوئے جلدی سے اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں بھرتا تیزی سے اسے لیے واشروم کی جانب بڑھا اور اسے اندر چھوڑ کر خود باہر نکلا اور اپنے کپڑے الماری سے نکال کر پیچھے مڑا تو اسے منہ بسور کر واش روم کے دروازے پر کھڑا دیکھتا اپنا سر افسوس سے پیٹنے لگا۔۔
“افففف خانی میں تو بھول گیا تمہارے کپڑے تو تمہارے اور کسوا کے روم میں ہے اچھا تم ایک کام کرو واش روم میں واپس جاؤ اور تب تک میں تمہارے سارے کپڑے لے کر آتا ہوں۔۔!!
وہ آگے بڑھا اور اسے واشروم میں دھکیل کر دروازہ بند کرتے ہوئے کہنے لگا اور پھر تیزی سے روم سے باہر نکلا جبکہ زر اسکے سارے کپڑے کہنے پر وہ اسے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اسکے واشروم کے اندر کرنے پر اور جلدی سے دروازہ بند کرنے پر غصے سے منہ کے زاویے بگاڑنے لگی۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“عیشو ڈارلنگ چلوں اٹھو جلدی سے ہمیں ناشتہ کرنے باہر جانا ہے سرکار ہمارا باہر انتظار کر رہے ہوگے۔۔!!
شمش کی آنکھیں رت جگے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں کیونکہ اسنے ساری رات اپنی عیشال کو دیکھتے ہوئے گزارا تھا اور اب صبح کے ٹھیک دس بجے وہ اسے آواز دیتے ہوئے اٹھانے لگا جو ایک ٹانگ اسکے پیٹ پر اور دوسرا بیڈ پر رکھے دونوں ہاتھ اسکے چوڑے سینے پر رکھ کر گہری نیند میں تھی۔۔
“صنم سونے دے ناں۔۔!!
وہ اپنی آنکھوں کو کھولے بغیر منہ بسور کر بولی تو شمش اسکے منہ بسورنے پر مسکرایا اور پھر اپنا سر اوپر اٹھا کر اسکی ٹانگ کو دیکھنے لگا جو اپنے پیٹ پر دیکھ وہ ہنسنے لگا اور ہاتھ آگے بڑھا کر اسکی ٹانگ کو پکڑ کر بیڈ پر رکھتا خود اٹھا اور اسکے نزدیک بیٹھ گیا۔۔
“عیشو اٹھنا تو تمہیں پڑے گا چاہیے مجھے تمہیں اسطرح کیوں نہ اٹھانے پڑے میں تو تمہیں اٹھاؤ گا۔۔!!
وہ شریر لہجے میں کہتا اسے گدگدی کرنے لگا تو عیشال اپنے پیٹ پر گدگدی محسوس کرتی زور زور سے ہنسنے لگی اور شمش اسے آنکھیں بند کیے زور زور سے ہنستے ہوئے دیکھ اسے اسی طرح گدگدی کرتے ہوئے خود بھی اسکے ساتھ زور زور سے ہنسنے لگا۔۔
“ہاہاہاہا صنم ہاہاہاہا صنم پلیز اب بس کر دے میں ہاہاہاہا اٹھ رہی ہو ہاہاہاہاہاہاہا۔۔!!
عیشال جو ہنسنے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی وہ ہنستے ہوئے اس سے کہنے لگی تو شمش نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا اور نیچے جھکا۔۔
“صنم یہ آپ کیا کر رہے ہیں میں نے کہا تو ہے کہ میں اٹھ رہی ہو آپ پھر بھی یہ حرکتیں کر رہے ہیں۔۔!!
عیشال کو جب اپنے ہونٹوں پر اسکا گرم لمس محسوس ہوا تو اسنے پٹ سے اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو اسکے چہرے پر جھکا اسکے ہونٹوں کو چھو رہا تھا۔۔
“عیشو جانو تم ایسے نہیں اٹھ رہی تھی تو میں نے سوچا کیوں نہ میں تمہیں اپنے طریقے سے اٹھا دو تو دیکھو میرا طریقہ کام کر گیا۔۔!!
وہ اسکے ہونٹوں کو انگھوٹے سے سہلاتا پیچھے ہٹا اور بوجھل لہجے میں کہنے لگا تو عیشال اسکی بات پر اپنی نظریں روم میں ڈورہا نے لگی۔۔
“کیا اب آپ کو ناشتہ کرنے نہیں جانا۔۔؟؟
اسے اسی طرح اپنے اوپر جھکے دیکھ وہ سخت سٹپٹا کے تیزی سے بولی تو شمش اسکی بات پر اپنے ہونٹوں پر تبسم پھیلا کر پیچھے ہٹا اور اسے دیکھنے لگا جو اسکی حرکت پر سخت سرخ ہو رہی تھی۔۔
“جانا تو چاہتا ہوں ڈارلنگ لیکن تمہیں اس حال میں دیکھ کر میرا جی نہیں چاہ رہا ناشتہ کرنے کو اور تمہارے چہرے سے بھی لگ رہا ہے کہ تمہیں نہیں جانا ناشتہ کرنے۔۔!!
وہ اسکے حلیے کو بے باک نظروں سے دیکھتا مسکرا کر کہنے لگا تو عیشال اسکی نظروں سے سخت سٹپٹاتی ہوئی اپنی فراک کو درست کرنے لگی جو سونے کی وجہ سے اب بے ترتیب ہوگیا تھا۔
“شمش۔۔!!
وہ غصے سے پہلی بار شمش کو اسکے نام سے پکارنے لگی تو شمش اسکی لبوں سے اپنا نام سنتا مسکرا کر آگے کو جھکا اور اسکے گالوں کو چھومنے لگا۔۔
“عیشو بہت اچھا لگا تمہیں شمش کہتے ہوئے سن کر اب تم صنم بلاؤ گی لیکن شمش تم اس وقت بلانا جب کبھی میں خفا ہوگا تم سے ویسے یہ تو کبھی بھی نہیں آنے والا کیونکہ زیادہ تو میں تمہیں مناتا ہو۔۔!!
وہ اسکی ستواں ناک پہ اپنے لب رکھتا شریر لہجے میں کہہ کر اسے سرخ چھوڑتا خود بیڈ سے نیچے اٹھا اور واشروم کی جانب بڑھا۔۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ دونوں تیار ہو کر ایک ساتھ باہر نکلے تو سامنے سے اخسم کو اپنے روم سے مشاطہ کو اپنے باہوں میں لیے باہر نکلتے ہوئے ڈائینگ ٹیبل کی جانب بڑھتا ہوا دیکھ وہ بھی اس کے پیچھے بڑھے۔۔
“شکر تم دونوں بھی وقت پر اٹھ گئے۔۔!!
مشاطہ کو کرسی پر بیٹھا کر وہ خود سربرائی کرسی پر بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے ان دونوں کو دیکھتا کہنے لگا۔۔
“سرکار آج ہمیں ان لوگوں کو بتانا بھی تھا اسی لئے جلدی سے اٹھنا پڑا۔۔،!!
شمش نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو اسنے سامنے دونوں لڑکیوں کو باری باری دیکھا جنکا منہ انکی سنجیدہ گفتگو پہ منہ بن گیا تھا۔۔
“شمش ابھی فلحال ہمیں ناشتہ کرنا چاہیئے یہ باتیں ہم الگ کریں گے۔۔!!
شمش کو ان دونوں کی جانب متوجہ کرتے ہوئے وہ کہنے لگا تو شمش نے پہلے عیشال کو اور پھر مشاطہ کو دیکھا جو سخت گھور کر انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔۔
“سرکار آپ سہی کہہ رہے ہیں ورنہ یہاں پر بم کی بارش بھی ہوسکتی ہے کیوں عیشو۔۔؟؟
وہ شرارت سے عیشال کو دیکھتا اخسم سے کہنے لگا تو اسکی بات پر عیشال نے سخت نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“بلکل صنم ہاں یہ ہو بھی سکتا ہے ہم اس گھر میں بم بھی پھینک سکتے ہیں اور مشاطہ آپی یہ دونوں ہر وقت کڑوے کریلے کی طرح کیوں رہتے ہیں جیسے کوئی انکا اہم چیز چرا کر بھاگ گیا ہوں۔۔!!
وہ منہ بسور کر شمش اور اخسم کے سنجیده چہرہ کو گھورتی آخر میں مشاطہ سے پوچھنے لگی۔۔
“یہ دونوں کسی اور کی چیزیں تو چرا سکتے ہے لیکن کوئی اور مر کر بھی نہیں کیونکہ یہ لوگ بہت بڑے غنڈے ہیں۔۔!!
مشاطہ سختی سے اخسم کو دیکھتی عیشال سے بولی جو اسکی بات پر ہنسنے لگی۔۔
“ٹھیک کہا مش ہم چور ہے اور واقعی ہم نے کسی کو اس سے چرایا بھی ہے۔۔!!
اخسم نے اسے دیکھتے ہوئے ذومعنی لہجے میں کہا تو مشاطہ اسکی ذومعنی بات پر سخت چڑ کر سامنے رکھے پلیٹ سے بوائل ایگ اٹھا کر کھانے لگی۔۔
“کیا سچ میں بھائی آپ نے یہ کیا ہے۔۔؟؟
عیشال اخسم شیرانی کو دیکھتی منہ کھول کر تعجب سے پوچھنے لگی تو شمش اس جھلی کی بات پر اخسم شیرانی کو دیکھنے لگا۔۔
جو اسکی بات پر صرف مسکرایا تھا اور یہ شمش کے لیے حیران کن بات تھی کہ اخسم کسی کی اتنی ہمت پر صرف مسکرایا تھا کیونکہ وہ ایسا تھا کہ کسی کو اپنے پرسنل معاملوں میں بولنے پر اپنی بندوق سے اڑانا تو جانتا تھا لیکن مسکرانا کبھی بھی نہیں۔۔
“جی ہاں عیشو بچے اور وہ آپ کے سامنے منہ سوجھا کہ بوائل ایگ کھا رہی ہیں۔۔!!
اخسم نے شریر نظروں سے مشاطہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو مشاطہ اسکی بات پر خجل ہو کر ایگ غصے سے واپس پلیٹ میں رکھتی نظریں نیچے جھکا کر اپنی مٹھیاں کھسنے لگی۔۔
“اس غنڈے کو دوسروں کی زندگی کو تباہ کرنے کے علاوه آتا بھی کیا ہے۔۔!!
وہ اسکی نظروں کو اپنے اوپر محسوس کرتی ہلکی آواز میں بڑبڑاتی ہوئی کہنے لگی جو اخسم شیرانی کے تیز کانوں نے سن لیا۔۔
“یہ زندگی جینے کا انداز ہے اخسم شیرانی کا مادام۔۔!!
وہ اس کے آگے جھک کر اسی کے انداز میں بولا تو مشاطہ سخت غصے سے اسے گھورنے لگی اور پھر چاروں نے ایک ساتھ اسی طرح ہنستے اور غصہ کرتے ہوئے ناشتہ کیا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“آغا جان میں چاہتا ہوں کہ میرے نکاح کے ساتھ آج رات کو عرشمان خان اور زرلش کی ریسیپشن بھی ہو جانے چاہیئے کل عرشمان لاہور جا رہا ہے تو زرلش بھی اسکے ساتھ جائے گی زر کی پڑھائی بھی پوری ہونے والی ہے بس اسکے پیپرز رہتے ہیں وہ وہیں پر بھی ہوسکتے ہیں۔۔
آغا جان یہ اوپشن بهتر ہے کیونکہ عرشمان خان وہاں اکیلا رہے گا تو باہر ہوٹل کے کھانے اسے مجبورأ کھانے پڑے گے اور میرے خیال سے زرلش وہاں ہوگی تو عرشمان کیلئے یہ بهتر رہے گا اسطرح وہ باہر ہوٹل کے کھانے تو کھانے سے بچے گا۔۔!!
ناشتے کی ٹیبل پر وہ سب بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کہ زوارق خان نے آغا جان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو سربرائی کرسی پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔
“خان تُم ٹھیک کہتے ہو ہمیں اس بارے میں سوچنا پڑے گا کیوں برخوردار۔۔؟؟
آغا جان نے املیٹ کو چھری اور کانٹے کی مدد سے کاٹتے ہوئے سنجیدگی سے نظریں اٹھا کر عرشمان خان سے پوچھا جو زرلش کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔
“آغا جان اس میں سوچنے والی کونسی بات ہے آپ آج کو فائنل کر لیں کیونکہ کل صبح ہمیں نکلنا بھی تو ہوگا۔۔!!
عرشمان خان نے انہیں دیکھتے ہوئے فرمانداری سے کہا۔۔
“برخوردار ہمیں کا کیا مطلب ہے۔۔؟؟
وہ اسکے ہمیں نکلنا والی بات پر تعجب سے دیکھتے پوچھنے لگے تو وہ انکی بات پر اپنے ہاتھ روکتا اپنا سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
“وہ آغا جان میرا مطلب ہے آج رات ک ریسیپشن کے ختم ہوتے ہی میں اور زر لاہور کے لیے نکلے گے۔۔!!
عرشمان اپنی نظریں نیچے کیے ان سے کہنے لگا تو وہ اسکی حرکت پر مسکرا اٹھے اور زوارق خان کی جانب دیکھنے لگے جو ہمشیہ کی طرح اپنے چہرے پر سنجیدگی سجائے ناشتہ کر رہا تھا۔۔
“خان تُمہیں نہیں لگتا تمہارا یہ چھوٹا بھائی تم سے بھی زیادہ خوش ہے اپنی ریشپشن کو لیں کر دیکھو تو کیسے بے شرموں کی طرح اپنی شادی کا کہہ رہا ہے۔۔!!
وہ زوارق خان کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگے تو زوارق خان نے اپنی نیلی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر عرشمان خان کو سنجیدگی سے دیکھا جو اسکی آنکھوں میں وہی عیجب سرد تاثرات جو ہر وقت اسکی آنکھوں میں ہوتا تھا دیکھتا جلدی سے اپنی نظریں جھکا گیا تھا۔۔
کسوا جو زوارق خان کے نکاح کا سنتی اپنا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی جو اسکے دائیں جانب بیٹھا سنجیدگی سے ناشتہ کر رہا تھا اسکے دیکھنے پر وہ اپنا ایک ہاتھ ٹیبل کے نیچے اسکی گود میں رکھے ہاتھ کو گرفت میں لے کر سختی سے دبانے لگا جیسے کہ وہ اب اسکی نظروں کو اپنے اوپر بلکل بھی برداشت کرنا نا چاہتا ہوں۔
“کسوا خان اپنی نظریں نیچے کر کے سہی سے ناشتہ کرو پھر ہمیں شاپنگ کے لیے بھی جانا ہے میں چاہتا ہوں کہ میری دلہن کا ڈریس تم پسند کرو۔۔!!
وہ ہاتھ پر گرفت سخت کرتا ہلکی آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے جیسے اسے حکم دے رہا ہو اور کسوا کو تو اسکا لہجہ حکم دیتا ہوا لگا۔۔
“خخ۔خان پلیز میرا ہاتھ چھوڑے اور آپکی دلہن وہ کہا ہے اور آپ اسکے ساتھ کیوں نہیں جاتے ڈریس پسند کرنے کے لیے میں کیوں جاؤ مجھے بھی تو یہاں بہت سے کام ہوگے۔۔!!
کسوا اپنا ہاتھ جو اسکی گرفت میں تھا نکالنے کی کوشش کرتی سامنے بیٹھی زرلش کو مسکرا کر دیکھتی ہوئی ہلکی آواز میں کہنے لگی تو زوارق خان نے سنجیدگی سے آغا جان اور پھر باقی گھر والوں کو دیکھا جو ان لوگوں کی جانب متوجہ نہیں تھے پھر اسکی جانب جو سر جھکائے اپنے ہاتھ کو اسکی مضبوط گرفت سے چھڑانے کی پوری جدوجہد کر رہی تھی۔۔
“کسوا خان زیادہ زبان مت چلاؤ میرے سامنے ورنہ یہ جو تمہاری نازک کلائی میری گرفت میں ہے ناں میں اسی ٹھور دو گا۔۔!!
وہ سپاٹ لہجے سے کہتا اسکی نازک کلائی کو سختی سے پکڑتا اسے دیکھنے لگا جسکی کلائی پکڑنے پر چہرہ درد کے مارے سرخ ہو رہا تھا۔۔
“خان آپ بہت بے رحم انسان ہے پلیز چھوڑے میری کلائی کو مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔۔!!
کسوا نے اپنی نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اسے دیکھا جو اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسکی کلائی کو چھوڑتا کرسی سے اٹھا اور اسے دیکھے بغیر اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤
“بار بار کیوں۔۔!!کیوں میں اسے تکلیف دیتا ہو وائے۔۔؟؟
روم میں پہنچ کر زوارق خان نے شدت سے اپنی شال کو بیڈ پر پھینکا اور گرنے والے انداز میں بیڈ پر لیٹا اور بری طرح سے اپنے سلکی بالوں کو جھکڑتا غصے سے کہنے لگا۔۔
“انہیں ہاتھوں سے اسکی کلائی پکڑ کر میں نے اسے ہرٹ کیا تھا نا۔۔!!
وہ اپنے سرخ ہتھیلی کو نفرت سے دیکھتا بیڈ سے اٹھا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے پہنچ کر شیشے کی جانب دیکھتا خود سے کہنے لگا۔۔
“میں ایسا کیوں ہو جب بھی اسے تکلیف نہ دینے کا سوچتا ہوں تو کیوں دوسرے لمحے میں اسکی تکلیف کا باعث بن جاتا ہو۔۔!!
وہ ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر آگے کو جھکتے ہوئے اپنی نیلی آنکھیں اوپر اٹھا کر غصے اور جنون کی زیادتی سے سرخ ہوتے اپنے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“آج بھی اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے صرف اپنا مطلب سوچ کر میں نے پھر سے اسے بہت تکلیف پہنچایا۔۔!!
سرخی لیے نیلی آنکھیں نفرت سے اپنے اس چہرے پر گھاڑتا وہ شدت سے آگے بڑھا اور ڈریسنگ کے شیشے کو مکا مار کر اپنے اس خوبصورت چہرے کو اپنی نظروں سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“اگر اس دل میں اسکے لیے جگہ موجود ہے یہ دل اسکے لیے ڈھرکنے لگا ہے تو پھر کیوں میں اسے تکلیف پہچاتا ہوں۔۔!!
وہ غصے سے آگے بڑھا اور نیچے فرش پر ایک کانچ کا بڑا سا ٹکرا اٹھاتا سپاٹ چہرے کے ساتھ سامنے رکھی کرسی کو کھینچ کر روم کے بیچ میں لا کر اس پر بیٹھا اور اس کانچ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“خان جی یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟
کسوا روم میں داخل ہوئی تو اسے سامنے روم کے بیچ میں کرسی پر سپاٹ چہرہ لیے بیٹھے کانچ کو اپنے چوڑے سینے کی جانب لے کر جاتے ہوئے دیکھتی شدت سے چیختی آگے بڑھی اور وہ کانچ اسکے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کرنے لگی جسکے نتیجے میں اسکا ہاتھ کٹ گیا۔۔
“آر یو میڈ اسٹوپڈ گرل یہ کیا کر دیا تم نے ہاں۔۔؟؟
وہ یکدم سے اپنی جنونیت اور غصے کو بھولتا اسکی کلائی کو پکڑ کر فکر مندی سے اسکے خون کو بری طرح سے نیچے فرش پر گرتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔
“خان جی یہی بات میں آپ سے پوچھو تو۔۔؟؟
وہ اب کے سنجیدگی سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
“کسوا خان میں وہ کانچ تمہیں ہی مارنے کے لیے پکڑ رہا تھا تاکہ تم جب یہاں نہیں آؤ گی تو میں تمہارے روم میں آ کر تمہیں سزا کے طور پر اس سے تُمہیں مارو۔!!
وہ سختی سے اسکی کلائی کو پکڑ کر اسکے بہتے خون کو روکنے لگا تو کسوا اسکی بات پر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“آپ سچ میں ایک ظالم خانزادہ ہے۔۔!!
وہ اپنی تکلیف پر چیخ کر بولی۔۔
“مس خان یہ بینڈچ بھی کر دیا میں نے اب تم تیار ہو جاؤ میری خوبصورت معصوم دلہن کے لیے ایک خوبصورت سرخ رنگ کا ڈریس پسند کرنے کے لیے کیونکہ میں اپنی دلہن کو آج تمہاری پسند کا ڈریس پہنے ہوئے دیکھنا چاہتا ہو۔۔!!
وہ اسکی بات کو اگنور کرتا سنجیدگی سے کہتے ہوئے اسے دوسری کلائی سے پکڑتا اوپر اٹھا کر اسکی سنے بغیر روم سے باہر نکلا اور سب کو شاپنگ کا کہتا اسے اسی طرح اپنے ساتھ کھینچتا گھر سے باہر نکل کر اپنی کار کی جانب بڑھا۔۔
