No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
فیری نے ناشتہ بنایا تو آئل اس کے ہاتھ پر گر گیا تھا
فیری کبھی کبھار کھانا بنا لیتی تھی اور وہ بھی اس سے ٹھیک نہیں بنتا تھا۔
رابی ہمیشہ فیری کو کھانا بنانے سے روک دیتی تھی اب بھی ناشتہ بناتے وقت فیری کا ہاتھ جل گیا تھا ۔
شاہ باہر آیا تو فیری ناشتہ لگا چکی تھی اور اب اس کا ارادہ وہاں سے جانے کا تھا کیونکہ وہ شاہ کے آنے سے پہلے وہاں سے جانا چاہتی تھی۔
اس کو شاہ کا نام معلوم نہیں تھا نکاح کے وقت اسے جو نام سنا تھا وہ شاہ ہی تھا ۔
فیری کچن سے جانے لگی جب شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا ۔
کہاں جارہی ہو؟ ناشتہ نہیں کرنا؟
شاہ نے عام سے لہجے میں پوچھا جیسے ان دونوں کی شادی بلکل عام شادیوں کی طرح ہوئ ہو
اور فیری کو حیدر اس وقت غصے میں بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا۔
فیری نے کوئ جواب نہیں دیا وہ ابھی بھی شاہ سے بہت ڈری ہوئ تھی۔
بیٹھو اور کھانا کھاؤ شاہ نے بیٹھتے ہوۓ حکم صادر کیا۔
فیری خاموشی سے بیٹھ گئ تھی اس کے ہاتھ میں بہت جلن ہورہی تھی۔
اس نے نوالہ لیا تو اس کے ہاتھ پر شاہ کی نظر پڑی تھی ۔
جو سرخ ہورہا تھا ۔
شاہ کی نظر اسکے ہاتھ سے ہوتے ہوے اسکی انگلی کی طرف گئ تھی جس میں ایک بہت ہی خوبصورت رنگ تھی۔
یہ انگوٹھی کس نے دی تھی ۔
شاہ نے فیری کے چہرے پر نظریں گاڑھے چاۓ پیتے ہوئے پوچھا ۔
شاہ کی بات سن کر فیری کا منہ کو جاتا ہوا ہاتھ رک گیا تھا۔
ایک دم اس کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا جو شاہ سے چھپا نہیں تھا۔
وہ…….. وہ..
فیری سے بولا نہیں جارہا تھا
کیا وہ وہ لگائ ہوئ ہے جواب دو میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے ۔
شاہ نے غصے سے تھوڑا فیری کی طرف جھکتے ہوۓ کہا
فیری کو اپنی بے بسی پر رونا آرہا تھا
شمس نے پہنائی تھی فیری نے نظریں جھکا کر ڈرتے ڈرتے آہستہ آواز میں جواب دیا ۔
شاہ نے فیری کا جلا ہوا ہاتھ پکڑا اور اس میں سے رنگ نکالنے لگا ۔
فیری کا ہاتھ پہلے ہی جلا ہوا تھا اور انگوٹھی شمس خود فیری کے سائز سے تھوڑی چھوٹی لایا تھا تاکہ فیری کبھی اتار نا سکے۔
شاہ انگوٹھی کو نکال رہا تھا جو نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔
فیری کے آنسو زمین ہر گر رہے تھے اس نے اپنی سسکی روکنے کے لیے اپنے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔
فیری کو شاہ اس وقت جلاد ہی لگ رہا تھا
شاہ نے جب انگوٹھی نکالی تو فیری کے جلے ہوۓ ہاتھ سے خون نکلنے لگا تھا کیونکہ فیری کا ہاتھ کچھ زیادہ ہی جل گیا تھا ۔
اور رنگ نکالنے کے چکر میں مزید سرخ ہو گیا تھا
شاہ نے جب رنگ نکال کر فیری کی طرف دیکھا جو سرخ چہرہ لئے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آنسو اس کے ہاتھ سے ہوتے ہوۓ زمین پر گر رہے تھے ۔
شاہ ایک دم فیری کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہوگیا تھا فیری کا ہاتھ ٹیبل سے جا لگا تھا۔
شاہ پھر وہاں رکا نہیں تھا وہ گھر سے ہی باہر چلا گیا تھا ۔
فیری نے جلدی سے اپنا ہاتھ نل کے نیچے رکھا تھا ٹھنڈا پانی اسے سکون دے رہا تھا ۔
…………..
رابی پوری رات سو نہیں پائ تھی اسے نیند نہیں آئ تھی اور اب اس کے سر میں درد ہو رہا تھا۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ آج آفس جاۓ گی اور اپنا دھیان کام کی طرف لگاۓ گی۔
کیونکہ اکیلے میں اسے فیری کی یاد آرہی تھی
شمس کا فون آیا تھا اس نے کہا تھا کہ فیری ٹھیک ہے اور میں اس سے مل چکا ہوں اور بہت جلد فیری کو آپ لوگوں کے پاس لے آؤ گا۔
شمس نے یہ سب باتیں جھوٹ بولی تھی۔
رابی کو جب معلوم ہوا کہ فیری ٹھیک ہے تو اس کے دل کو ابھی بھی سکون نہیں آیا تھا اس کا دل کہہ رہا تھا کہ اس کی فیری تکلیف میں ہے لیکن جو شمس نے کہا تھا وہ سب باتیں سوچ کر رابی کو لگ رہا تھا کہ یہ سب اکیلے رہنے کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔
اسے لگ رہا تھا کہ وہ فیری کے بارے میں زیادہ سوچ رہی ہے اس لئے ایسا ہورہا ہے ۔
اس نے آفس جانے کا فیصلہ کیا تھا ۔
اور آفس کے لۓ تیار ہونے چلی گئ تھی ۔
…………….
ماما داجی کچھ کر کیوں نہیں رہے وجدان نے اگر اس لڑکی سے شادی کر لی تو میں کیا کروں گی سارہ نے اپنی ماں کو کہا۔
تم فکر مت کرو اگر وہ ایسا کر بھی لیتا ہے تو اس لڑکی کو داجی کبھی بھی قبول نہیں کریں گۓ ۔
تم نہیں جانتی داجی اپنی بات پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں انہوں نے تو اپنی سگی بیٹی کو معاف نہیں کیا تھا۔
تو ان کے ہوتے کیا چیز ہے سدف نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہمممم یہ بات تو آپ کی بلکل ٹھیک ہے صوفیہ نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی ماں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوۓ کہا ۔
لیکن ماما آپ کو داجی سے ایک بار بات تو کرنی چاہیے
سارہ نے کہا
ہاں میں آج ہی داجی سے بات کروں گی ۔
سدف نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
……………
رابی آج وقت پر آفس میں پہنچ گئ تھی لیلا کا آج آفس میں آخری دن تھا۔
رابی کافی خاموش خاموش سی تھی وجدان نے جب رابی کو دیکھا تو پوچھے بنا نا رہ سکا۔
مس رابیل آپ کی تو سسٹر کی شادی تھی تو آپ یہاں وجدان نے بات کو ادھورا چھوڑتے ہوۓ پوچھا ۔
نظریں رابی کے چہرے ہر تھیں اسے رابی کچھ تھکی ہوئ لگی تھی۔
وہ سر شادی پوسپون ہوگئ ہے رابی نے کہا
اوکے وجدان نے کہا اور
وہاں سے چلا گیا تھا اس نے مزید سوال پوچھنا بہتر نہیں سمجھا ۔
…………..
آج رابیل کو وجدان جو کام بھی کہہ رہا تھا رابی بنا کوئی سوال کۓ وہ کام کرتی جارہی تھی۔
رابی اپنے آپ کو بزی رکھنے کی بھرپور کوشش کررہی تھی لیکن پھر بھی اسے فیری کی فکر ستاۓ جارہی تھی اسے شمس کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا ۔
اس کے دل سے بس ایک ہی دعا نکل رہی تھی یا اللہ میری فیری کی حفاظت کرنا ۔
…………..
داجی مجھے آپ سے صوفیہ کے بارے میں بات کرنی تھی سدف نے داجی کو کہا۔
سدف کیا کہنا چاہتی ہو صاف صاف کہو داجی نے سدف کہا۔
داجی حیدر نے تو صاف صاف منع کردیا ہے اب میری بیٹی سے شادی کون کرے گا سدف نے چھوٹے آنسو بہاتے ہوۓ کہا ۔
تم فکر مت کرو صوفیہ ہی ازلان حیدر شاہ کی بیوی بنے گی اور میں آج ہی حیدر شاہ سے بات کرتا ہوں۔
داجی نے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا ۔اور وہاں سے چلے گۓ۔
پیچھے سدف اپنے آنسو صاف کر کے مسکرانے لگی تھی ۔
………….
شفیق صاحب کو فیری کے غائب ہونے کا زیادہ دکھ تھا ان کے ہاتھ سے فیری نکل گئ تھی ۔ ان کو بہت افسوس ہورہا تھا ۔
فیری کو دیکھتے ہی شفیق کے دماغ میں گند بھر گیا تھا۔شفیق اور تہمینہ بیگم ایک دوسرے کو پہچان گۓ تھے لیکن ظاہر نہیں کیا تھا۔
شفیق اپنی گندی نظروں سے فیری کو دیکھتا تھا لیکن یہ بات کسی نے نوٹ نہیں کی تھی سواۓ تہمینہ بیگم کے ۔
شفیق نے جب پہلی بار فیری کو دیکھا تھا تو اس کے دل میں صرف ایک ہی بات آئ تھی کہ یہ اپنی ماں سے زیادہ خوبصورت ہے۔
شفیق نے سوچ لیا تھا وہ فیری کو اپنی لۓ ڈھونڈ کر رہے گا۔
