No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
شام میں وجدان اور رابی بھی حویلی پہنچ گئے تھے ماہین بیگم کو رابی بہت پسند آئی تھی ۔جو خدشات ان کو اپنی بہو کو لے کر تھے وہ رابی کو دیکھنے کے بعد ختم ہوگئے تھے ۔
الطاف صاحب کو جب معلوم ہوا کہ رابی حویلی پہنچ گئ ہے تو وہ پہلی فرصت میں رابی کو ملنے کے لیے حویلی آۓ تھے
رابی سے سب ملے تھے لیکن داجی اپنے کمرے سے باہر نہیں آۓ تھے ۔
……
وجدان داجی کے کمرے میں داخل ہوا داجی کسی سوچ میں گم تھے داجی آپ مجھ سے ناراض ہے وجدان نے داجی کے قدموں میں بیٹھتے ہوۓ پوچھا ۔
برخوردار یہ تم مجھ سے پوچھ رہے ہو یہ بات تو تم بہتر جانتے ہوگے داجی نے میٹھا سا طنز کرتے ہوئے کہا ۔
وجدان داجی کی بات سن کر مسکرا پڑا تھا داجی آبان نے آپ کو بتا تو دیا ہو گا کہ میں شادی کرچکا ہوں وجدان نے داجی سے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
واہ برخوردار بات تو تم ایسے کر رہے ہو جیسے پتہ نہیں کون سا کارنامہ سرانجام دے کر آئے ہو اور اب ہم سے شاباشی چاہتے ہو.
داجی شادی کرنا کوئی آسان کام ہے آپ نے بھی تو مجھے اور شاہ کو بتایا تھا کہ کتنی مشکل سے آپ نے دادی جان کو منایا تھا پھر کہی جاکر آپ کی شادی ہوئی تھی وجدان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
داجی وجدان کی بات سن کر ایک دم سیدھے ہو کر بیٹھے تھے
وجی تم بہت ہوشیار ہوگئے ہو اور وہ سب ایک کہانی تھی حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا داجی نے اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے کہا ۔
توبہ داجی دادی جان سن رہی ہونگی وہ آپ سے ناراض ہو جاۓ گی وجدان نے ہنستے ہوئے کہا ۔
کام کی بات کرو برخوردار
داجی نے بات بدلتے ہوئے کہا
داجی رابی الطاف انکل کی بیٹی ہے وجدان نے بھی سنجیدگی سے کہا ۔
کیا مطلب داجی نے حیرانگی سے پوچھا
الطاف انکل کی پہلی بیوی تہمینہ آنٹی کی بیٹی رابیل ہے وجدان نے کہا
اور تم جانتے ہو جب یہ بات سدف کو معلوم ہوگی تو وہ کتنا ہنگامہ کرے گی داجی نے کہا
میں جانتا ہوں داجی لیکن میں رابی کو پسند کرتا ہوں اور ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اس میں رابی کا تو کوئی قصور نہیں ہے
تو پھر اُسے کس بات کی سزا ملے وجدان نے تحمل سے داجی کو جواب دیا
وجدان مجھے تمھاری شادی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے
ہاں اگر میں تمھارا پہلے والا داجی ہوتا تو کبھی بھی تمھاری بیوی کو اس گھر کی بہو کے روپ میں قبول نا کرتا لیکن شکر ہے وقت رہتے مجھے عقل آگئ تھی اور دیکھو میرے سارے بچے اب خوش ہیں مجھے میری بیٹی بھی واپس مل گئ ہے
لیکن سدف کا میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا تم اپنی پھپھو کو اچھی طرح جانتے ہو داجی نے وجدان کو کہا ۔
وجدان کو داجی کی بات سن کر خوشگوار حیرت ہوئی تھی اسے زیادہ پریشانی داجی کی تھی اگر داجی کو کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تو داجی کے علاوہ اگر کسی کورابی سے مسئلہ ہے بھی تو وجدان کو اس سے فرق نہیں پڑتا ۔
داجی آپ فکر مت کرے سب ٹھیک ہوجاۓ گا وجدان نے داجی کو کہا ۔
اپنی بیوی سے نہیں ملاؤں گئے داجی نے وجدان کو کہا
کیوں نہیں داجی وجدان نے خوشی سے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا
وجدان کو خوش دیکھ کر داجی بھی خوش ہوگئے تھے۔
………….
رابی اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی اسے حویلی کے سارے لوگ بہت اچھے لگے تھے سب بہت پیار سے رابی سے ملے تھے رابی انہی سوچوں میں گم تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اور الطاف صاحب اندر آۓ تھے
رابی اپنے باپ کے گلے نہیں لگو گی الطاف صاحب نے اپنی باہیں پھیلاۓ کہا جیسے ان کو پوری امید تھی کہ رابیل ان کے گلے لگے گی اور رابی بھی بنا کچھ سوچے اپنے باپ کی شفقت بھری باہوں میں آ سمائی تھی ۔
بابا آپ کیوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے رابی نے روتے ہوئے تھے اور اپنے باپ سے گلے شکوے کرنے لگی
الطاف صاحب کچھ نہیں بولے تھے وہ چاہتے تھے رابی اپنا دل ہلکا کر لے
جب رابی خاموش ہوگئ تو الطاف صاحب نے رابی کو بیڈ پر بیٹھایا تھا اور خود بھی اس کے پاس بیٹھ گئے تھے۔
بابا آپ نے امی کو کیوں چھوڑا رابی نے پوچھا
رابی میں تہمینہ کو بہت پسند کرتا تھا لیکن وہ اپنے کزن فاروق کو پسند کرتی تھی ۔
میں پھر بھی خا موش رہا لیکن پھر تہمینہ نے جلن اور حسد میں آکر فاروق کی بیوی کو کسی آدمی کے ساتھ مل کر اغوا کروایا تھا ۔
میں نے خود اسے بات کرتے ہوئے سنا تھا
اور جب میں نے اس سے پوچھا تو تہمینہ نے مجھے کچھ نہیں بتایا اور مجھ سے طلاق مانگی تھی اور پھر میں نے طلاق دے دی تم اس وقت بہت چھوٹی تھی تمہیں مجھ سے زیادہ اپنی ماں کی ضرورت تھی اس وجہ سے میں نے تمہیں تہمینہ کے پاس ہی رہنے دیا
لیکن مجھے تمھاری پل پل کی خبر رہتی تھی میں کبھی تمھارے سامنے نہیں آیا لیکن میں تم سے کبھی غافل بھی نہیں ہوا ۔الخط صاحب نے پیار سے کہا
رابی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی ماں اس حد تک گر سکتی ہے ۔
فیری کی ماما کہی بھاگی نہیں تھیں بلکہ تہمینہ بیگم نے اسے اغوا کروایا تھا ۔
یہ سب باتیں رابی کے لیے سننا بہت مشکل تھیں
بابا اب فیری کی ماما کہاں ہے وہ ٹھیک ہیں رابی نے جلدی سے پوچھا ہاں بیٹا شاہ نے ان کو تلاش کر لیا تھا اور وہ شفیق کے پاس تھی
اور مجھے تو اب معلوم ہوا ہے کہ فاروق کی بیوی ہی سدف کی بہن بھی ہے اور
شفیق دوسرے گاؤں کا چودھری ہے الطاف صاحب نے رابی کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔
جو انسان فیری کا رشتہ اپنے بیٹے کے لیے لایا تھا کیا وہی شفیق ہے رابی نے دل میں سوچا
بابا کیا میں فیری اور اس کی ماما سے مل سکتی ہوں کیونکہ جب رابی حویلی آئی تھی تو ہیرا بیگم نے اسے بتایا تھا فیری سوئی ہوئی ہے
ہاں بیٹا کیوں نہیں الطاف صاحب نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔
اور اسے فیری کے کمرے میں لے گئے ۔
…….
فیری ابھی بھی سوئی ہوئی تھی رابی فیری کو دیکھ کر مسکرا پڑی تھی آج کتنے وقت بعد اس نے اپنی فیری کو دیکھا تھا ۔
رابی فیری کے سرہانے بیٹھ کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی تھی
فیری نے نیند میں بھی رابی کے لمس کو پہچان لیا تھا اور ایک دم اپنی آنکھیں کھولی تھیں آپی آپ ؟
کیا میں خواب دیکھ رہی ہوں فیری نے خود سے سوال کرتے ہوئے کہا
رابی فیری کے سوال پر ہنس پڑی تھی ۔
نہیں میری جان تم خواب نہیں دیکھ رہی میں سچ میں تمھارے پاس ہوں ۔
رابی نے پیار سے کہا
فیری رابی کے گلے لگ گئ تھی جب اسے یقین ہو گیا کہ رابی سچ میں اس کے پاس ہے
آپی آج میں بہت خوش ہوں آپ کو معلوم ہے شاہ نے میری ماما کو بھی ڈھونڈ لیا ہے آپی اور شاہ بہت اچھے ہیں میرا بہت خیال رکھتے ہیں
فیری کی ساری باتیں شاہ کے ارد گرد ہی گھول رہی تھیں
اچھا میری جان مجھے معلوم ہے تمھارا شاہ بہت اچھا ہے میں تمھارے شاہ سے مل چکی ہوں رابی نے مسکراتے ہوۓ کہا
سچ آپی فیری نے خوشی سے کہا
ہان میری جان
تمہارے شاہ وجدان یعنی میرے شوہر کے بھائی بھی ہیں رابی نے کہا
آپی آپ کی شادی ہوگئی اور وجدان وہی آپ کے آفس والا بوس وہ؟ فیری نے حیرانگی سے کہا ۔
ہاں رابی نے بس اتنا ہی کہا
لیکن آپی اظہر بھائی فیری نے بات ادھوری چھوڑتے ہوۓ کہا ۔
فیری اظہر بلکل بھی اچھا نہیں یے وہ پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس کی ایک بیٹی بھی تھی
میں تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے مجھے ایک جھوٹے اور مکار انسا سے بچالیا رابی نے مسکراتے ہوۓ کہا
آپی آپ کو دکھ ہوا ہو گا نا فیری نے ادسی سے پوچھا
ہاں ہوا تھا بس تھوڑا سا اور دیکھو اللہ نے میرے نصیب میں وجدان جیسا شوہر لکھا تھا اور میں وجدان کے ساتھ بہت خوش ہوں
مجھے نہیں لگتا کہ وجدان سے زیادہ کوئی مجھے پیار کر سکتا ہے رابی نے مسکراتے ہوۓ کہا آپی میں آپ کے لیے بہت خوش ہوں ۔فیری نے رابی کے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا
اور میں بھی اپنی فیری کے لیے بہت خوش ہوں ۔
رابی نے بھی مسکراتے ہوئے کہا ۔
………….
وجدان رابی کو ڈھونڈ رہا تھا جب اسے الطاف صاحب نے بتایا کہ رابی فیری کے کمرے میں ہے وجدان کمرے میں داخل ہونے ہی والا تھا جب اسے فیری کی آواز آئی جو اظہر کے بارے میں بات کر رہی تھی لیکن جب وجی نے رابی کا جواب سنا تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا
وجدان نے ابھی اندر جانا مناسب نہیں سمجھا تھا اس لیے وہاں سے چلا گیا تھا ۔
……….
وجدان شاہ کو تلاش کرتا ہوا اس کے کمرے میں آیا تھا ۔
شادی مبارک ہو شاہ جی وجدان نے مسکراتے ہوۓ کہا اور شاہ کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا ۔
تمھیں بھی بہت بہت مبارک ہو چھوٹے شاہ جی
حیدر نے بھی ویسے ہی مسکراتے ہوئے جواب دیا
کیا مطلب؟ وجدان نے ناسمجھی سے پوچھا
تمہیں نہیں معلوم داجی نے کہا ہے اُن کے دونوں پوتوں کی شادی ایک ساتھ ہی ہوگی شاہ نے وجدان کو داجی کے حکم سے باخبر کیا ۔
شاہ تم نے تو آج میرا دل خوش کردیا یار گلے لگنا تو بنتا ہے وجدان نے خوشی سے کہا اور شاہ کو گلے لگایا ۔لیکن اسے شاہ کچھ پریشان لگا تھا
شاہ کیا بات ہے اب کیوں تم پریشان ہو
وجدان نے شاہ سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا ۔
یار تمھیں کیسے معلوم ہو جاتا ہے کہ پریشان ہوں شاہ نے مسکراتے ہوۓ پوچھا
تم بتاؤ کیوں پریشان ہو وجدان نے سنجیدگی سے کہا ۔
میں اسما کے لیے پریشان ہوں شاہ نے لمبا سانس لیتے ہوئے کہا
اس کے لیے تم کیوں پریشان ہو میں اس سے مل چکا ہوں وہ ٹھیک ہے وجدان نے کہا
شمس کو معلوم ہو گیا ہے کہ اسما زندہ ہے شاہ نے وجدان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
تو شاہ اس سے کیا فرق نہیں پڑتا ہے اگر اسے معلوم ہو بھی گیا ہے تو ہم ہیں نا اپنی بہن کی حفاظت کے لیے وجدان نے کہا
وجی میں شمس سے مل چکا ہوں میں نے اس کی آنکھوں میں اسما کے لیے جنون دیکھا ہے یار وہ اسما کو بہت چاہتا ہے میں دیکھ چکا ہوں اس کی آنکھوں میں اسما کے لیے پیار، محبت، عزت مجھے سب نظر آیا اُس کی آنکھوں میں
مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں
اور تم جانتے ہو عالیہ پھپھو کا بھی میرے آدمی کو شمس نے ہی بتایا تھا
شاہ نے ساری بات وجدان کو بتاتے ہوئے کہا
شاہ وہ اسما کی پہلے بھی جان لینے کی کوشش کر چکا ہے یہ بات تم بہت اچھی طرح سے جانتے ہو وجدان نے سنجیدگی سے کہا
وجی میں جانتا ہوں لیکن پتا نہیں کیوں میرا دل کہہ رہا ہے شمس اپنے باپ جیسا بلکل بھی نہیں ہے وہ الگ ہے وہ دنیا کی نظر میں برا بننے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ برا نہیں ہے شاہ نے اپنے دل کی بات وجدان کو بتاتے ہوئے کہا جو اسے پریشان کررہی تھی ۔
تو اب تم نے کیا سوچا ہے وجدان نے ااری بات سننے کے بعد شاہ سے پوچھا
میں پہلے اسما سے بات کروں گا اس کا جو بھی فیصلہ ہو گا اُسے ہی مانا جاۓ گا شاہ نے کہا
ہاں یہ ٹھیک وجدان نے بھی شاہ کی بات سے متفق ہوتے ہوئے کہا ۔
…………
تم نے ابھی تک میرا کام کیوں نہیں کیا شفیق نے غصے سے صوفیہ کو فون کرکے پوچھا
گھر میں شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں اور اب تو وجدان بھی اپنی بیوی کو لے کر آگیا ہے فیری اکیلی گھر سے باہر نہیں نکلتی شاہ اس کے ساتھ ہوتا ہے ۔جب بھی فریال گھر سے اکیلی باہر نکلے گی میں تمھیں بتا دوں گی صوفیہ نے کہا
کچھ بھی کرو مجھے فریال کسی بھی حال میں چاہیے شفیق نے غصے سے کہہ کر فون بند کر دیا
شمس نے شفیق کی ساری بات سن لی تھی ۔شمس کو دکھ ہو ریا تھا کہ وہ شفیق جیسے انسان کا بیٹا ہے شمس نے شاہ کو فون کیا تھا اور اسے بتا دیا تھا کہ اس کا باپ فریال کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور حویلی میں سے کوئی ہے جو شفیق کی مدد کر رہا ہے
شاہ نے جب شمس کی بات سنی تو اس شفیق پر بہت غصہ آیا تھا۔
اس بار تم کامیاب نہیں ہوسکو گے شفیق شاہ نے کہا ۔اس نے حویلی کے باہر گارڈز کھڑے کر دیے تھے فیری کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ صرف شاہ یا وجدان کے ساتھ باہر جاۓ گی ۔
…………..
وجدان نے مہندی اور برات کا فنکشن کنسل کر دیا تھا اور صرف ولیمے کا فنکشن رکھا تھا
رابی اور فیری دونوں نے سیم ڈریس پہنے تھے
دونوں گلابی رنگ کے گاؤن میں بہت پیاری لگ رہی تھی شاہ نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی اور وجدان نے کالا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا ۔
دونوں کی جوڑیوں کو لوگ چاند اور سورج کی جوڑی سے تشبیہ دے رہے تھے دونوں کپل لگ ہی بہت خوبصورت رہے تھے ۔
اسما نے لونگ بلیو فراک پہنا ہوا تھا اور بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔
اسما اپنے دھیان چل رہی تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اس سے پہلے اسما چیختی شمس نے اس کے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا تھا ۔
میں نے کہا تھا نا پاکستان میں ملے گے شمس نے اسما کے کان کے پاس سرگوشی کرتے ہوۓ کہا ۔
اسما آنکھیں پھاڑے شمس کو دیکھ رہی تھی جو اسما کے چہرے کو دیکھ کر اپنی نظروں کی پیاس بجھارہا تھا
اسما کا دل پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا
تمھارے دل کی دھڑکن اتنی تیز کیوں ہو رہی ہے شمس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
شمس اسما کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ اسما کو شمس کی گرم سانسوں کی تپش اپنے چہرے ہر محسوس ہو رہی تھی
اسما نے شمس کا ہاتھ پیچھے کیا تھا اور اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو کر اپنا سانس درست کرنے کرنے لگی تھی ۔
شمس اسما کو دیکھ رہا تھا اور اسما شمس کی نظروں سے سے پزل ہو رہی تھی ۔
تم مجھے گھورنا بند کرو گئے اسما نے ارد گرد دیکھتے ہوئے کہا اس وقت یہاں پر کوئی بھی نہیں تھا
جان من اسے گھورنا نہیں پیار کی نظریں کہتے ہیں شمس نے مسکراتے ہوۓ کہا
تم یہاں کیا کر رہے ہو اسما نے شمس سے پوچھا
تمہیں دیکھنے کا دل کر رہا تھا اس لیے آگیا شمس نے عام سے لہجے میں کہا
اب میں چلتی ہوں ماما میرا انتظار کر رہی ہونگی
اسما نے کہا اور وہاں سے جانے لگی جب شمس نے اسما کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھنچا
اسما شمس کے سینے سے آٹکرائی تھی
جانِ من میں تمہیں یہ باور کروانے آیا ہوں کہ تم میری ہو اور تم بھی یہ بات اپنے دماغ میں رکھنا
شمس نے مسکراتے ہوۓ کہا لیکن اس کے لہجے میں صاف وارننگ تھی اور ہاں بہت خوبصورت لگ رہی ہو اپنی نظر ضرور اتروا لینا شمس نے آرام سے اسما کو خود سے الگ کیا اور جہاں سے آیا تھا وہاں سے چلا گیا ۔
…………
رابی کو وجدان کے کمرے میں لقکر بیٹھایا گیا تھا رابی کو بہت گھبراہٹ ہورہی تھی جب وجدان کمرے میں آیا تو رابی کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو اس نے صاف محسوس کیا تھا ۔
وجدان رابی کے پاس آکر بیٹھا تھا اور رابی کے نازک ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا تھا ۔
رابی آج میں بہت خوش ہوں اور اپنے اللہ کا جیتنا شکر ادا کروں اُتنا ہی کم ہے ۔ میں بہت خوش ہوں کہ اللہ نے تمھاری جیسی بیوی میری قسمت میں لکھی ہے ۔
میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں ہر طرح کی خوشی دے سکوں
وجدان نے کہہ کر رابی کے دونوں ہاتھوں پر باری باری اپنے ہونٹ رکھے تھے ۔
رابی نظریں جھکاۓ بیٹھی ہوئی تھی وجدان کی بات سیدھی اس کے دل میں اتر رہی تھیں وجدان نے اپنی جیب سے ایک مخملی ڈبیا نکالی تھی اور ایک خوبصورت سی رنگ رابی کو پہنائی تھی ۔
یہ میری طرف سے میری خوبصورت سی بیوی کے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ وجدان نے مسکراتے ہوۓ کہا
یہ بہت پیاری ہے وجدان رابی نے مسکراتے ہوئے کہا
لیکن تم سے زیادہ نہیں وجدان نے مسکرا کر کہا
تم چینچ کر لو کافی تھک گئ ہو گی وجدان نے اپنی ٹائی کو ڈھیلی کرتے ہوۓ کہا
جی رابی نے کہا اور چینج کرنے چلی گی ۔
وجدان نے وضو کرکے شکرانے کے نفل ادا کیے تھے ۔
………….
