Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

ڈیڈ آپ کب جاۓ گۓ فیری کے گھر شمس نے شفیق صاحب سے پوچھا جو پہلے ہی غصے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔
تمہیں اپنی شادی کی پڑی ہے اور جس لڑکی کی پہلے تم جان لے چکے ہو اس کے بارے میں کیا کہنا چاہو گۓ ۔اسے بھی تو تم پسند کرتے تھے۔
شفیق صاحب نے غصے سے پوچھا
کیا مطلب ڈیڈ؟
یہاں اسما کا ذکر کہاں سے آگیا شمس نے ناسمجھی سے پوچھا ۔ اور ویسے بھی وہ میری محبت نہیں تھی
میری نادانی تھی ۔شمس نے کہا
یعنی اسے اس بات کی پرواہ ہی نہیں تھی کہ وہ کسی معصوم کہ جان لے چکا ہے ۔
حیدر نے مجھے ایک ویڈیو دکھائی ہے جس میں تم اپنے دوست کے سامنے یہ قبول کیا ہے کہ تم نے اسما کی جان لی تھی۔
شفیق صاحب نے کہا ۔
لیکن حیدر نے ویڈیو کیسے بنائ شمس نے حیرانگی سے پوچھا ۔
تم نہیں جانتے کہ حیدر شاہ کیا چیز ہے شفیق صاحب نے کہا ۔
ڈیڈ اس بارے میں بعد میں بات کریں گۓ ابھی مجھے بتاۓ کب جانا ہے فیری کے گھر شمس نے دوبارہ پوچھا ۔
ایسا کیا ہے اس لڑکی میں جو تمہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہے کہ تم جیل بھی جاسکتے ہو شفیق صاحب نے حیرانگی سے پوچھا ۔
ڈیڈ اس لڑکی نے میرا چین چھین لیا ہے مجھے لگتا ہے اگر وہ مجھے نہیں ملی تو میں مر جاؤ گا شمس نے کھوۓ ہوۓ انداز میں کہا ۔
مجھے لگتا ہے تم سچ میں پاگل ہوگۓ ہو مجھے تمھاری شادی نہیں علاج کروانا چاہیے شفیق صاحب نے کہا اور وہاں سے چلے گۓ
شمس ابھی بھی فیری کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا۔
💝💝💝💝💝💝
رابیل…. نائس نیم
وجدان نے مسکراتے ہوئے رابی کا نام دہرایا ۔
جب دروازہ نوک ہوا ۔تو وجدان ہوش میں آیا
وجدان نے اندر آنے کی اِجازت دی۔
رابی باہر کھڑی تھی اسے آج دیر ہوگئ تھی اس کی بس چھوٹ گئ تھی۔
جس کی وجہ سے وہ آج لیٹ ہوگئ تھی۔
لیلا نے اسے آتے ہی بتا دیا تھا کہ سر تمھارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔
اور غصے میں بھی تھے ۔
اب رابی کو اندر جانے پر ڈر بھی لگ رہا تھا اور غلطی بھی رابی کی ہی تھی۔
رابی اللہ کا نام لے کر روم میں داخل ہوئ تو وجدان نے سر نیچے کیا ہوا تھا ۔
لیکن رابی وجدان کو پہچان گئ تھی۔
اور آنکھیں پھاڑے وجدان کو دیکھ رہی تھی
کاش میں نے انٹرویو کی صبح فیری کے کہنے پر وجدان شاہ کو دیکھ لیا ہوتا تو آج اس لوفر کے سامنے نا کھڑی ہوتی ۔
انٹرویو کی صبح ٹی-وی پر وجدان شاہ کے بارے میں بتایا جارہا تھا اور ساتھ وجدان کی تصویر بھی تھی۔
فیری نے کہا تھا کہ آپی دیکھیے جہاں آپ انٹرویو دینے جارہی ہے اس کمپنی کے بوس کی تصویر ٹی وی پر دیکھا رہے ہیں ۔
تو رابی نے کہا تھا مجھے پورا یقین ہے مجھے یہ جاب نہیں ملے گی تو مجھے نہیں دیکھا
لیکن اب اسے افسوس ہو رہا تھا ۔
یہ مجھ سے کیا ہو گیا
اللہ جی میں کیا کرو؟
ایسا کرتی ہوں واپس چلی جاتی ہوں ہاں یہ ٹھیک ہے رابی نے دل میں کہا اور واپس جانے ہی لگی تھی جب وجدان کی آواز نے اس کے قدموں کو روکا۔
مس کیا نام ہے آپ کا وجدان نے نیچے منہ کیے ہی پوچھا۔لیلا نے اسے نام بتایا تھا لیکن وجدان نے ٹھیک سے سنا نہیں تھا۔
جب کافی دیر کوئ جواب نہیں آیا تو وجدان نے سامنے دیکھا وہاں ایک لڑکی دروازے کی طرف اپنا منہ کیے کھڑی تھی۔
مس میں آپ سے بات کررہا ہوں وجدان نے تھوڑا غصے سے کہا۔
لیکن رابی نے ابھی بھی اپنا منہ دروازے کی طرف کیا ہوا تھا۔
وجدان غصے سے اٹھا اور رابی کے پیچھے کچھ فاصلے پر جاکر کھڑا ہوگیا ۔
مس اگر آپ کا مراقبہ ختم ہوگیا ہو تو ہم کام کی بات کر لیں وجدان کی آواز اسے جب دوبارہ آئ تو رابی نے مڑنے میں ہی عافیت جانی۔
اور آہستہ آہستہ وجدان کی طرف مڑنے لگی۔
وجدان نے جب رابیل کو اپنے سامنے دیکھا تو اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔
تم……..
وجدان نے بس اتنا ہی کہا اور یک ٹک رابی کو دیکھنے لگا اور اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لینے لگا۔
میک اپ سے پاک چہرہ ناک میں چھوٹی سی بالی خوبصورت سی آنکھیں سر پر کالا ڈوپٹہ اور کاندھوں پر بلیو شال آج بھی رابی اُسی حلیے میں تھی بس کپڑوں کے رنگ مختلف تھا۔
رابی نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔رابی جانتی تھی کہ وجدان اسے بہت غور سے دیکھ رہا ہے اس لیے تو وجدان کو لوفر کہتی تھی۔
رابی جب باہر جانے لگی تو وجدان ہوش میں آیا۔
مس رابیل فاروق شاید آپ جانتی نہیں ہے جب آپ کا بوس آپ سے کوی سوال پوچھے تو اس کا جواب بھی دیتے ہیں۔
وجدان نے سنجیدگی سے کہا۔
ایم سوری سر لیکن میں یہ نوکری ابھی اور اسی وقت چھوڑ رہی ہوں رابیل نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا ۔
یہ تو آپ کو agreement پر سائن کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔
وجدان نے مسکراتے ہوئے اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا ۔
وجدان کو اب دلی خوشی ہورہی تھی اور اس کا دل کر رہا تھا خود کو شاباشی دیں جو اس نے نئ سیکرٹری سے ایگریمنٹ سائن کروایا تھا ۔
رابیل کو وہ ایگریمنٹ یاد آیا تو دو لفظ اس پر بھیج کر اپنا پیر پٹخ کر وہاں سے چلی گئ تھی۔
وجدان نے اسے روکا نہیں تھا
۔
رابی نے باہر آکر سوچ لیا تھا کہ وہ وجدان کو اتنا تنگ کرے گی کہ وہ اسے خود یہاں سے نکال دیں گا۔
💝💝💝💝💝
وجدان اپنی کرسی پر بیٹھا رابی کے بارے میں سوچ کر مسکرا رہا تھا۔
وجدان کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ رابیل اس کے سامنے ہے ۔اور اب اسکی سیکرٹری بھی ہے ۔
اور ایک سال تک وہ یہ جاب بھی نہیں چھوڑ سکتی ۔
آج جس سے ملنے کا وجدان سوچ رہا تھا وہ خود چل کر اس کے پاس آئ تھی۔
💝💝💝💝💝💝
آج شفیق صاحب شمس کے ساتھ فیری کے گھر آۓ تھے۔ تھوڑی دیر بعد رابی بھی آفس سے آگئ تھی ۔ ۔
تہمینہ بیگم کو لگا کہ شاید یہ لوگ رابی کے لۓ آۓ ہیں لیکن جب شفیق صاحب نے فریال کے رشتے کی بات کی تو تہمینہ بیگم کا منہ بن گیا تھا ۔
شمس شکل صورت کا اچھا خاصا تھا اور امیر بھی تھا ۔
فاروق صاحب نے سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگا تھا.
رابی کو شمس میں کوئ برائ نظر نہیں آئ تھی ۔
لیکن فیری ابھی کافی معصوم تھی لیکن شادی تو ایک دن کرنی تھی اور شمس فیری کو پسند کرتا تھا شمس نے بتایا تھا کہ اس نے فیری کو ایک مارکیٹ میں دیکھا تھا ۔
کافی سوچنے کے بعد فاروق صاحب نے ہاں کر دی تھی ۔
لیکن جب فیری کو معلوم ہوا تو اس نے ایک ہی ضد پکڑی ہوئ تھی کہ وہ رابی کو چھوڑ کر کہی نہیں جاۓ گی۔
رابی نے فیری کو بہت سمجھایا تھا لیکن وہ کچھ سمجھنے کے لۓ تیار ہی نہیں تھی۔
💝💝💝💝💝💝
فیری میری جان میری بات سمجھنے کی کوشش کرو
شمس بہت اچھا ہے وہ تمھارا بہت خیال رکھے گا اور میں تم سے ملنے آیا کرو گی،
اور دیکھو اگر میں تمھارے کہنے پر اس رشتے سے منع بھی کر دیتی ہوں تو
ایک دن میری بھی شادی ہو جاۓ گی پھر تم اکیلی کیا کرو گی رابی نے فیری کے آنسو صاف کرتے ہوئے پیار سے کہا ۔
فیری کو بھی رابی کی بات ٹھیک لگی تھی
اس لۓ اس نے رونا بند کر دیا تھا۔
آپ وعدہ کریں آپ مجھ سے ملنے آۓ گی
فیری نے اپنا ہاتھ رابی کے آگے کرتے ہوئے کہا ۔
رابی نے مسکرا کر فیری سے وعدہ کیا تھا۔
اچھا اب رونا چھوڑو تمھاری شادی کی شاپنگ کرنے چلتے ہیں میں نہیں چاہتی میری بہن کی شادی میں کسی قسم کی کمی ہو۔
رابی نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
میں چینج کر لوں فیری رابی کو کہہ کر چینج کرنے چلی گئ تھی ۔
💝💝💝💝💝
رابی اس دن کے بعد آفس نہیں گئ تھی آج اسے تیسرا دن تھا اور موبائل بھی اس نے بند کیا ہوا تھا ۔
اسے لگتا تھا وجدان اسے نکال دے گا لیکن یہ
رابیل کی بھول تھی کہ وجدان اسے آفس سے نکالے گا ۔
💝💝💝💝💝💝
حیدر بیٹا کہاں ہوتے ہو تم آجکل گھر نظر ہی نہیں آتے ہیرا بیگم نے حیدر سے پوچھا اور اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئ تھیں ۔
ماں کچھ کام تھا لیکن اب میں فارغ ہوں حیدر نے اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر سکون سے اپنی آنکھیں موندتے ہوئے کہا ۔
کچھ دیر کے لیے ہی سہی حیدر اپنی پریشانیوں کو بھول گیا تھا۔
حیدر میں تم سے کچھ بات کرنا چاہ رہی تھی ۔
ہیرا بیگم نے حیدر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ کہا۔
ماں آپ کیسی باتیں کررہی ہے آپ مجھ سے کبھی بھی کوئی بھی بات کرسکتی ہیں ۔
حیدر نے کہا
حیدر تمہیں یقین ہے کہ ماہی زندہ ہے ہیرا بیگم نے حیدر سے پوچھا۔
ماں مجھے پورا یقین ہے کہ میری اینجل زندہ ہے اور مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے کہ ایک دن وہ مجھے میری ماہی میری اینجل سے ضرور ملاۓ گا حیدر نے یقین سے کہا
آمین ہیرا بیگم نے دل میں کہا تھا ۔
💝💝💝💝💝💝
مس رابیل اگر آپ نہیں چاہتی کہ میں خود آپ کو آپ کے گھر سے لینے آؤ تو جلدی سے آفس پہنچ جاۓ
اور مجھے آپ کو پک کرنا بلکل بھی برا نہیں لگے گا۔
اور دوسری بات میں آپ کے والدین کو ایگریمنٹ کے بارے میں بھی بتا دوں گا۔
اور آپ مجھے ایک کروڑ تو دیں گی نہیں اس لئے آپ کو آفس ہی آنا پڑے گا۔
رابیل نے جب وجدان کا میسج پڑھا تو اسے بہت تو غصہ آیا تھا ۔
لیکن آفس جانے کے لۓ تیار ہونے چلی گئ تھی اسے پورا یقین تھا کہ وجدان جو کہہ رہا ہے وہ کر بھی گزرے گا ۔
اس نے آج ہی موبائل اون جیا تھا اور پہلا میسج وجدان کا تھا۔
💝💝💝💝💝
حیدر کو خبر مل گئ تھی کہ شمس شادی کرنے والا ہے اور اس لڑکی کو پسند بھی کرتا ہے۔
ہممممم شمس شفیق اب کھیل کھیلنے کا صحیح مزا آۓ گا ۔
حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا
اور ایک نمبر ڈائل کر کے فون کان سے لگایا۔
مجھے اس لڑکی کی ساری معلومات چاہیے جس سے شمس شادی کرنے والا ہے ۔
حیدر نے کہہ کر فون بند کر دیا ۔
……………