Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ازلان فیری کو اپنے گھر لے آیا تھا
فیری بیڈ پر بے ہوش لیٹی تھی ازلان صوفے پر بیٹھا ہوا تھا اور سگریٹ پی رہا تھا۔
اس وقت اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے۔
فیری کو تھوڑا تھوڑا ہوش آنے لگا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد فیری نے اپنی آنکھیں کھولی تو اس کا سر بہت بھاری ہورہا تھا ۔
فیری اٹھ کر بیٹھی تو اسے سامنے ہی وہی شخص نظر آیا تھا جو اس کے کمرے میں تھا
فیری سہمی ہوئ نظروں سے ازلان کو دیکھ رہی تھی ۔جس کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
ازلان فیری کے پاس آیا اور کچھ فاصلے پر ہی بیٹھ گیا تھا۔
کیا نام ہے تمھارا ازلان نے پوچھا
فریال…
فیری نے جواب دیا ۔
ازلان نے اس کے بعد کچھ نہیں پوچھا تھا ۔
اور فیری کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
اسے فریال معصوم سی لگی تھی ۔
عمر کے لحاظ سے بھی اسے فیری چھوٹی ہی لگی تھی ۔
وجدان نے کہا تھا ازلان حیدر شاہ کوئ بھی ایسا کام نا کرنا جس کا بعد میں تمہیں پچھتاوا ہو۔
لیکن جب حیدر کے دماغ میں اسما کا چہرہ آتا تو اسے پھر ایک ہی بات یاد رہتی وہ بھی تو معصوم تھی اس کا کیا قصور تھا ۔
اور پھر ہمدردی کی جگہ بدلہ آجاتا جو ازلان حیدر شاہ نے شمس سے لینا تھا۔
شاہ نے بھی شمس سے اس کی قیمتی چیز چھین لی تھی ۔جیسے پانے کے لئے وہ تڑپ رہا تھا۔
اب تڑپنے کی باری شمس کی تھی۔
مجھے گھر جانا ہے آپ مجھے یہاں کیوں لاۓ ہیں آپ کون ہیں؟ فیری نے روتے ہوئے پوچھا ۔
تو ازلان ہوش میں آیا تھا۔
تم اب یہاں سے کہی نہیں جاؤ گی کچھ دیر تک مولوی صاحب آرہے ہے تمہارا نکاح ہے میرے ساتھ حیدر نے کہا۔
میرا نکاح آپ کے ساتھ کیسے ہوسکتا ہے میرا نکاح شمس کے ساتھ ہونے والا ہے فیری نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا
اور شمس کا نام ازلان حیدر شاہ کے غصے کو ہوا دے گیا تھا ۔
فیری دروازے کی طرف جانے لگی تھی جب شاہ نے اسے بازو سے کھینچا اور فیری کے نرم رخسار پر تھپڑ مارا
فیری اوندھے منہ بیڈ پر گر گئ تھی۔
شاہ نے اسے بالوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو فیری کا ہونٹ پھٹ گیا تھا ۔
اور خون بھی نکل رہا تھا ۔
شاہ کا چہرہ فیری کے چہرے کے بہت قریب تھا کہ فریال کو شاہ کی گرم سانسیں فیری کا چہرہ جھلسا رہی تھیں ۔
آج کے بعد اگر تمھارے زبان سے میں نے شمس کا نام سنا تو زبان کاٹ دوں گا شاہ نے دھاڑتے ہوۓ کہا ۔
فیری کو لگا تھا کہ اس کے کانوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے ۔
فیری اپنے بالوں کو شاہ کی گرفت سے نکالنے کی بھرپور کوشش کررہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو ابل ابل کر باہر آرہے تھے ۔
شاہ نے فیری کو چھوڑا اور وہاں سے نکلا گیا تھا
فیری بیڈ پر گری رو رہی تھی۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کس بات کی سزا مل رہی ہے۔
💖 💖 💖 💖 💖
رابی کاموں میں لگی ہوئ تھی اور کمرے میں نہیں گئ تھی اور باہر ہی سو گئ تھی لیکن جب صبح کمرے میں گئ تو فیری وہاں نہیں تھی ۔
رابی نے ہر جگہ دیکھ لیا تھا۔
لیکن اسے فیری کہی نظر نہیں آئ تھی ۔
اس کا دل گھبرا رہا تھا
گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا ۔اور تھوڑی دیر بات یہ بات ہر طرف پھیل گئ تھی۔
تہمینہ بیگم کے تو ہاتھ بات آگئ تھی جس کو نہیں بھی معلوم تھا اسے بھی تہمینہ بیگم بتا رہی تھی کہ فیری اپنی ماں کی طرح اپنی شادی کے دن بھاگ گئ ہے۔
ابھی بھی تہمینہ بیگم صحن میں بیٹھی محلے کی عورتوں کو نمک مرچ لگا کر بتا رہی تھیں جب رابیل کی ہمت جواب دے گئ۔
امی بس کر دیں اور آپ لوگوں کو اپنے گھروں میں سکون نہیں ہے جو دوسروں کے معاملے میں دخل اندازی کرنے آجاتے ہیں آپ لوگ۔بہت خوشی ہوتی ہے نا آپ لوگوں کو دوسرے لوگوں کو بےبس دیکھ کر ۔
ابھی کے ابھی میرے گھر سے نکل جاۓ آپ لوگ ہمیں بلکل بھی آپ کی ہمدردوں کی ضرورت نہیں ہے رابی نے غصے سے کہا۔
عورتیں خاموشی سے وہاں سے چلی گئ تھیں ۔
امی آپ کو خدا کا واسطہ ہے آپ اپنی دل کی بھڑاس پھر کبھی نکال لیجیے گا ابھی ہم بہت پریشان ہیں ۔
رابیل نے اپنی ماں کو کہا۔
اتنے میں فاروق صاحب اور اظہر آگۓ تھے ۔
ان کے چہروں سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ فیری کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوا۔
💖💖💖💖💖💖
تھوڑی دیر بعد فیری کا نکاح ازلان حیدر شاہ سے ہو گیا تھا۔
فیری ازلان سے اتنا ڈری ہوئ تھی کہ اس نے چپ چاپ نکاح کرلیا تھا ۔
شاہ نے اپنی اور فیری کی نکاح کی تصویر اور نکاح نامے کی کاپی شمس کو بھیج دی تھی۔
حیدر اپنے بدلے میں یہ بات بھول گیا تھا کہ وہ اپنے بدلے کے لیے کسی معصوم کی زندگی خراب کررہا ہے ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
شمس نے جب نکاح نامہ اور تصویر دیکھی تو اسے لگ رہا تھا ک ازلان حیدر شاہ نے اس سے اس کی سب سے قیمتی چیز لے لی ہو۔
میں اپنی فیری کو واپس لے کر رہو گا
اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم مجھ سے میری فیری کو دور کر دو گۓ تو یہ صرف تمھارا خیال ہی ہے
شمس نے غصے سے کہا اور وہاں سے باہر نکل گیا ۔
💖 💖 💖 💖 💖
نکاح کے بعد حیدر فیری کے پاس نہیں آیا تھا فیری دیوار کے ساتھ بیٹھی ہوئ تھی اور روتے روتے وہی سو گئ تھی۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
حیدر بیٹھا سگریٹ پر سگریٹ پیتا جارہا تھا اسے تو خوش ہونا چاہیے تھا اس نے اپنا بدلا پورا کر لیا تھا جس کا انتظار اس نے اتنے سالوں سے کیا تھا آج اسے وہ موقع مل گیا تھا ۔
لیکن جب اس نے فیری کو تھپڑ مارا تھا اس کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔
فیری کا رونا اسے تکلیف دے رہا تھا اسے یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔
💖💖💖💖💖💖
شمس اس وقت فاروق صاحب کے گھر موجود تھا اس نے بتا دیا تھا کہ فیری کو اس کے ایک دشمن نے اغوا کیا ہے ۔
اس نے نکاح کا نہیں بتایا تھا۔
اور شمس نے یہ بھی کہا تھا وہ بہت جلد فیری کو تلاش کر لے گا۔
رابی کو پورا یقین تھا کہ اس کی فیری کبھی بھی بھاگ نہیں سکتی لیکن اب اسے فیری کی زیادہ ٹینشن ہو رہی تھی
پتہ نہیں فیری کس حال میں ہوگی ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
حیدر روم میں آیا تو فیری زمین پر بیٹھی ہوئی تھی
حیدر فیری کے پاس گیا اور زمین پر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا ۔
فیری نے اپنا چہرہ اپنے گھٹنوں ہر رکھا ہو اتھا
حیدر کے مارے ہوۓ تھپڑ کے نشان صاف نظر آرہے تھے۔
ہونٹ سے نکلتا ہوا خون اب جم چکا تھا
فیری کو تکلیف میں دیکھ کر شاہ کو اپنے کیے پر دکھ ہورہا تھا.
وہ بے رحم تو بلکل بھی نہیں تھا
لیکن جب دماغ میں خیال آیا کہ یہ شمس کی پسند ہے تو پھر سے بے رحم بن گیا تھا ہمدردی کی جگہ اب نفرت نے لت لی تھی ۔
جلدی سے اٹھو اور میرے لیے ناشتہ بناؤ حیدر نے فیری کو جھنجھوڑتے ہوۓ کہا۔
فیری ایک دم ڈر گئ تھی اور سہمی ہوئ نظروں سے حیدر کو دیکھ رہی تھی۔
کیا دیکھ رہی ہو تمہیں آرام کرنے کے لۓ میں یہاں نہیں لایا جلدی سے ناشتہ بناؤ میرے لئے
حیدر نے حکم دیتے ہوئے کہا ۔
فریال کی آنکھوں میں ڈر صاف نظر آرہا تھا۔
فریال جب باہر جانے لگی تو حیدر کی آواز نے اسے پھر سے روک لیا تھا۔
سب سے پہلے اپنے کپڑے تبدیل کرو میں تمھیں اس فضول قسم کے جوڑے میں نہیں دیکھنا چاہتا حیدر نے غصے سے کہا۔
فیری ابھی بھی پیلے جوڑے میں تھی ۔
فیری چپ چاپ اس کمرے کی طرف چلی گئ تھی جس طرف حیدر نے اشارہ کیا تھا۔
فیری کو وہاں کچھ پرانے سوٹ مل گۓ تھے جو تقریباً اس کے سائز کے ہی تھے
فیری اپنے کپڑے تبدیل کرکے کھانا بنانے چلی گئ تھی ۔
اسے رابی کی بہت یاد آرہی تھی لیکن رونے کے سوا فیری کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔