Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

آپی آج آفس کا پہلا دن کیسا گزرا؟ فیری نے کھانا لگاتے ہوۓ پوچھا۔
اچھا گزرا ہے ابھی سر موجود نہیں ہے لیلا بتا رہی تھی کل آجاۓ گۓ رابی نے کہا ۔
اسے لیلا نے بہت اچھی طرح سارا کام بنا دیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ وجدان سر کسی قسم کی غلطی معاف نہیں کرتے اس لۓ سارا کام دھیان سے کرنا ۔
لیلا کی باتوں سے اسے یہ تو معلوم ہوگیا تھا کہ وجدان سر بہت کھڑوس قسم کے انسان ہے ۔
لیکن رابی نے بھی سوچ لیا تھا
کہ وجدان سر کو کسی قسم کا موقع نہیں دے گی کہ وہ رابی کو ڈانٹ سکے اور اپنے طرف سے پوری کوشش کرے گی کہ وجدان سر کو شکایت کا موقع نا دے ۔
یہ سب رابی نے سوچا تھا لیکن جب اس نے وجدان کو دیکھنا تھا تو اس کا ردعمل کیا ہونا تھا یہ تو کل ہی معلوم ہونا تھا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
حیدر میں کل صبح جارہا ہوں تم بھی کچھ دنوں کے لئے میرے ساتھ آجاؤ وجدان نے حیدر کو کہا جو سگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا۔
نہیں تم جاؤ میں یہی رہوں گا مجھے یہاں کچھ کام ہے حیدر نے کہا۔
ٹھیک ہے وجدان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
اسے ابھی اپنی واپسی کا ماہین بیگم کو بھی بتانا تھا،
وجدان نے سوچا تھا وہ گاؤں میں کچھ دن رہے گا لیکن داجی کی باتوں کی وجہ سے وجدان یہاں سے جارہا تھا۔
💖💖💖💖💖
وجدان کمرہ نوک کر کے اندر داخل ہوا تو ماہین بیگم اور وسیم شاہ سامنے ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔
مجھے آپ دونوں سے بات کرنی ہے وجدان نے اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
ہاں بیٹا کہو کیا کہنا ہے
ماہین بیگم نے پیار سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
ماما میں کل صبح واپس جارہا ہوں وجدان نے نظریں جھکا کر کہا ۔
بیٹا کچھ دن اور تم رک جاتے اتنے دنوں بعد آۓ ہو ۔
وسیم شاہ نے کہا۔
ڈیڈ میری کچھ اہم میٹنگز ہیں تو میرا جانا ضروری ہے وجدان نے نظریں چراتے ہوۓ کہا ۔
ماہین بیگم کچھ نہیں بولی تھی
ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمھاری مرضی وسیم شاہ نے اپنے بیٹے کو گلے لگاتے ہوۓ کہا۔
وجدان نے اپنی ماں کے ماتھے پر بوسہ دیا ماما بہت جلد چکر لگاؤ گا وجدان نے کہا تو ماہین بیگم نے بھی وجدان کے سر پر پیار دیا تھا ۔
ان کو معلوم تھا کہ وجدان اتنی جلدی کیوں جارہا ہے ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
اگلے دن وجدان تین بجے ہی شہر کے کۓ نکل گیا تھا
اور تقریباً آٹھ بجے اپنے گھر پر موجود تھا
وجدان جلدی سے شاور لینے چلا گیا تھا ۔
اور اب اپنے آفس کے لیے نکل پڑا تھا
آج اس نے اس لڑکی کے بارے میں بھی معلوم کروانا تھا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
حیدر آج شفیق صاحب سے ملنے آیا تھا یا ایسا کہا جاۓ انہیں اپنے طریقے سے سمجھانے آیا تھا۔
شفیق صاحب حیدر کے پاس والے گاؤں کے چودھری تھے شفیق صاحب اور داجی کی دشمنی بہت پرانی تھی ۔
کچھ زمینوں کا معاملہ تھا
یہ تو الگ معاملہ تھا لیکن جس بات پر ان کی دشمنی ابھی تک چلتی آرہی تھی
وہ وجہ حیدر شاہ کی بہن تھی۔
حیدر شاہ کی ایک چھوٹی بہن بھی تھی اس کا نام اسما تھا وہ حیدر کی سگی بہن نہیں تھی۔
سلیمان شاہ کے دوست اور ان کی بیوی کی ایک حادثے میں موت ہوگئ تھی اسما کے آگے پیچھے کوئ نہیں تھا۔
تو سلیمان شاہ اسے اپنی بیٹی بنا کر گھر لے آۓ تھے
لیکن داجی کو اس بات سے بھی اعتراض تھا
ہیرا بیگم نے چھوٹی سی اسما کو دل سے قبول کیا تھا اور اسے اپنی بیٹی بنایا تھا۔
اس وقت حیدر اپنی اینجل کے دکھ کو بھول نہیں پارہا تھا
اس وقت اسما نے اپنی شرارتوں سے حیدر کو اینجل کے دکھ سے نکالا تھا۔
حیدر کو اسما کچھ ہی دنوں میں بہت عزیز ہوگئ تھی۔
پھر ایک دن حیدر اور اسما حویلی سے تھوڑا دور کھیل رہے تھے جب شمس بھی وہاں آیا اسے چھوٹی سی اسما بہت اچھی لگی تھی ۔
شمس اسما کو دیکھنے روز اس جگہ پر آیا کرتا تھا ۔
اس کے بعد وقت گزرتا گیا اور پھر جب شمس تھوڑا بڑا ہوا تو اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسما سے شادی کریں گا ۔
شمس نے شفیق صاحب سے بات کی تو اس میں بھی شفیق نے اپنا بھلا سوچا اور داجی کے گھر رشتہ لے کر چلا گیا تھا۔
داجی تو اسما کو اپنی پوتی نہیں مانتے تھے اس لۓ ان کو رشتے سے کوئ اعتراض نہیں تھا۔
لیکن جب سلیمان شاہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے صاف منع کردیا تھا کیونکہ وہ شفیق کو بہت اچھی طرح سے جانتے تھے اور ابھی اسما 14 سال کی تھی۔
شمس نے جب انکار سنا تو وہ غصے میں آگیا تھا اس وقت شمس بھی 19 سال کا تھا۔
شمس اسی جگہ پر گیا جہاں اسما کھیلتی تھی اس نے اسما کا نشانہ باندھ کر گولی چلائی جو اس کے دل کے قریب لگی تھی ۔
گولی کی آواز جب حیدر نے سونی تو جلدی سے اسما کے پاس آیا تو اسما زمین پر گری ہوئ تھی اور خون زمین پر پھیل رہا تھا ۔
اسما، حیدر اور سلیمان شاہ کے ساتھ آئ تھی جو کچھ فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
سلیمان صاحب جلدی سے اسما کے پا س
گۓ
حیدر نے اردگرد دیکھا تو اسے شمس نظر آیا
حیدر اس کے پیچھے جانے ہی والا تھا جب سلیمان شاہ نے اسے اپنے ساتھ آنے کا کہا ۔
سلیمان شاہ اسما کو گاؤں کے قریب جو ہوسٹل تھا وہی لے گۓ تھے
پورے گاؤں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئ تھی
💖💖💖💖💖
شمس نے غصے میں گولی تو چلا دی تھی اب اسے ڈر لگ رہا تھا کہ اب اسے پولیس لے جاۓ گی اس نے اپنے باپ کو سب بتا دیا تھا ۔
شفیق صاحب نے شمس کو راتو رات ملک سے باہر بھیج دیا تھا اور سارے ثبوت بھی مٹا دیے تھے ۔
۔
شفیق صاحب کو خبر مل گئ تھی کہ اب وہ لڑکی زندہ نہیں ہے پولیس ان کے گھر میں بھی آئ تھی حیدر نے اپنا بیان دیا تھا۔
جو شمس کے خلاف تھا۔
لیکن ثبوت نا ہونے کی صورت میں پولیس کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖
حیدر کو پھر سے ایک اور دکھ مل گیا تھا اس کی بہن اسے چھوڑ کر چلی گئ تھی ۔
وجدان اس وقت گاؤں میں نہیں تھا وہ گاؤں چھوڑ کر جاچکا تھا۔
اور کسی نے بھی اسے اسما کی موت کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔
گھر میں اگر اسما کے جانے کا کسی کو دکھ نہیں تھا تو وہ سدف اور ان کی دونوں بیٹیوں کو تھا ۔
داجی کو بھی افسوس تھا لیکن انہوں نے ظاہر نہیں کیا تھا۔
حیدر نے سوچ لیا تھا کہ جس طرح شمس نے اس سے اسکا عزیز چھینا ہے حیدر بھی ویسے ہی چھینے گا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
شفیق صاحب جس زمین پر آپ نے اپنا قبضہ کیا ہوا ہے میں امید کرتا ہوں یہ دیکھنے کے بعد آپ میرے حوالے کر دیں گے۔
حیدر نے مسکراتے ہوۓ کہا اور ایک ویڈیو شفیق صاحب کے سامنے کی جسے دیکھ کر شفیق صاحب کے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا ایک پل کے لیے ان کا رنگ اڑ گیا تھا۔
کیا ہوا؟ شفیق صاحب ابھی تو آپ بہت بول رہے تھے ۔
حیدر نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے طنزیہ کہا۔
تمہیں میں اپنی زمین دے دوں گا شفیق صاحب ابھی اور کچھ کہتے جب حیدر نے ان کی بات کاٹ کر غصے سے کہا۔
آپ کی زمین نہیں وہ ہماری زمین ہے جس پر آپ نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔
حیدر نے دھاڑتے ہوۓ کہا ۔
شفیق صاحب بھی حیدر کو غصے میں دیکھ کر ڈر گۓ تھے۔
اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ ثبوت تم پولیس کے حوالے نہیں کرو گۓ شفیق صاحب نے سنبھلتے ہوۓ پوچھا ۔
اس بات کی فکر آپ مت کریں میں اسے پولیس کے حوالے بلکل بھی نہیں کروں گا ۔
بلکہ پولیس والوں سے زیادہ بری سزا دوں گا ۔
حیدر نے کہا اور وہاں سے چکا گیا تھا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
وجدان آفس میں داخل ہوا تو لیلا اس کے ساتھ ساتھ ہی چل رہی تھی اور اسے میٹنگز کے بارے میں بتا رہی تھی ۔
مس لیلا نئ سیکرٹری کہاں ہے اسے بھی آپ کے ساتھ ہونا چاہیے تھا وجدان نے لیلا سے پوچھا۔
سر وہ ابھی آئ نہیں ہے لیلا نے نظریں جھکا کر کہا۔
واٹ…
آج ان کا دوسرا دن ہے اور وہ لیٹ ہیں وجدان نے غصے سے کہا ۔
سر ہوسکتا ہے ٹریفک میں پھنس گئی ہو کل تو پورے ٹائم پر آگئی تھی ۔ لیلا نے جلدی سے کہا ۔
ان کو بتا دیں اگر یہاں کام کرنا ہے تو ٹائم کا خیال رکھنا ہو گا اور جب وہ آۓ تو ان کو میرے روم میں بھیجیے گا وجدان نے کہا اور اپنے کیبن میں چلا گیا تھا۔
💖💖💖💖💖💖
اس نے اپنے ایک آدمی کو رابی کے بارے میں معلوم کرنے کا کہا تھا ۔
وجدان کو اس یہ تو کنفرم تھا کہ جس مارکیٹ میں وہ روکا تھا اس لڑکی کا گھر اس مارکیٹ کے آس پاس ہی ہو گا اور پھر وجدان نے اظہر کی گاڑی کا پیچھا کیا تھا اور گھر کو دیکھ لیا تھا اور اب ساری معلومات اس کا آدمی اسے بتا رہا تھا ۔
سر وہ دو بہنیں ہیں باپ زیادہ تر بیمار رہتا ہے
خود پڑھائی کے ساتھ جاب کی بھی تلاش کررہی ہے ۔
ان کا نام رابیل فاروق ہے ۔
اس آدمی نے وجدان کو بتایا جو اس کی بات بہت غور سے سن رہا تھا۔
ٹھیک ہے تمہیں تمہارے پیسے مل جاۓ گۓ تم اب جاسکتے ہو۔
وجدان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
وہ آدمی باہر آیا تو اسے رابیل سامنے ہی نظر آگئ تھی یہ تو وہی لڑکی ہے اور یہ تو بوس کے اپنے آفس میں کام کرتی ہے پھر بوس نے مجھے کیوں اس کے بارے میں پتہ کرنے کا کہا تھا ۔
پتہ نہیں بڑے لوگ ہیں ان کی کچھ سمجھ ہی نہیں آتی اس آدمی نے منہ میں بڑبڑاتے ہوۓ کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا ۔.
………