Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

شاہ حویلی سے ہی نکل گیا تھا۔۔
اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنی ماں اور اپنی اینجل کا سامنا کر سکے۔۔
اس دن کے بعد سے شاہ حویلی واپس نہیں آیا تھا۔۔۔ اینجل بھی تھوڑا سکون میں تھی۔۔۔ شاہ کو گھر پر نہ دیکھ کر اسے خوشی ہوئی تھی۔۔۔ اب وہ آرام سے کچھ دن یہاں رہ سکتی تھی۔۔۔
ہیرا بیگم کو ایک بات کی ٹینشن کھائے جا رہے تھی۔۔۔ جب داجی کو معلوم ہوگا کہ فریال عالیہ کی بیٹی ہے تو ان کا ردعمل کیا ہوگا۔۔؟
وہ تو کبھی بھی فیری کوحویلی میں رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔۔۔
لیکن ایک بات کا ان کو یقین تھا کہ حیدر کبھی بھی فیری کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دے گا۔۔۔ چاہے جتنا بھی ہیرا بیگم اپنے بیٹے سے ناراض ہو۔۔۔ لیکن ایک بات جانتی تھیں کہ حیدر اپنی اینجل کے ساتھ کھڑا رہے گا۔۔۔
حیدر نے جو بھی کیا جانے انجانے میں کیا۔۔۔ وہ کبھی بھی اپنی انجیل کو تکلیف نہیں پہنچا سکتا تھا۔۔۔ اور اب بھی اس کے حق کے لئے لڑے گا اور فیری کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو گا۔ہیرا بیگم کو اس بات کا یقین تھا۔۔۔
💖———-💖
آخر وہ دن بھی آگیا جب رابی اور اظہر کی منگنی ہونی تھی۔۔۔
سب لوگ بہت خوش تھے۔۔
تہمینہ بیگم تو کچھ زیادہ ہی خوش تھی کیونکہ اظہر ان کو بہت پسند تھا اور امیر بھی تھا۔۔۔ اور اس نے لندن میں اپنا کاروبار بھی شروع کر دیا تھا۔۔۔ اس لئے رابی کی طرف سے بے فکر تھیں۔۔۔
لیکن آگے کیا ہونے والا تھا وہ اس بات کو سے بلکل انجان تھی۔۔۔
💖————💖
رابی نے سی گرین کلر کا لمبا فراک پہنا ہوا تھا۔۔۔
اور ساتھ بڑے سے دوپٹے کو اپنے سر پر اچھی طرح سیٹ کیا تھا۔۔۔ زیور کے نام پر ماتھے پر چھوٹی سی ٹیکا سیٹ کیا تھا۔۔ جو بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔
ہلکے سے میک اپ میں رابی کا گندمی رنگ بہت پرکشش لگ رہا تھا۔۔۔
فاروق صاحب بھی رابی کے لئے خوش تھے۔۔۔
اظہر کے ماں باپ جب آئیں تو دونوں کی منگنی کی رسم کو شروع کیا گیا۔۔۔
رابی اور اظہر نے ایک دوسرے کو رنگ پہنائی تھی۔۔۔ مگر اظہر بہت خوش تھا۔۔۔ اس کی دلی خواہش پوری ہو رہی تھی اور رابی کو بچپن سے پسند کرتا تھا۔۔۔
اپنی زندگی کے اتنے اہم موقع پر رابی فریال کو بہت مس کر رہی تھی۔۔۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی کی شروعات فریال کے بغیر کرے گی۔۔۔
لیکن اسے اس بات کی خوشی تھی کہ فریال بالکل ٹھیک ہے۔۔۔
بڑے سب آپس میں باتیں کرنے لگے تھے۔۔۔ اظہر نے رابی کا ہاتھ پکڑا اور باہر صحن میں لے گیا کیا۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔؟
تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔؟
رابی نے اظہر سے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے پوچھا
اندر سب بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ اس وجہ سے ہم بات نہیں کر سکتے تھے تو یہاں لے آیا۔۔۔ اظہر نے رابی کے چہرے پر نظریں گاڑھے جواب دیا۔۔
اچھا کہوں کیا کہنا ہے۔۔۔؟ رابی نے اپنے بالوں کی لٹ کو اپنے کان کےپیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
مجھے یہ کہنا تھا کہ تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو اظہر نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔
کیا۔۔۔؟
تم مجھے یہ کہنے کے لئے یہاں لاۓ تھے۔۔ کہ میں خوبصورت لگ رہی ہوں رابی نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اظہر سے پوچھا۔۔
بلکل میں نے یہی کہنا تھا۔۔۔اظہر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
رابی اظہر کی بات سن کر مسکرا پڑی تھی۔۔
رابی کیا تم اس رشتے سے خوش ہو۔۔؟اظہر نے سنجیدہ ہوتے ہوئے رابی سے پوچھا۔۔۔
میں بہت خوش ہوں اور میرے گھر والے میرے لئے جو بھی فیصلہ کیا ہے اس میں میری ہی بہتری ہوگی۔۔۔۔رابی نے کہا۔۔
تو کیا تم مجھے پسند نہیں کرتی۔۔۔؟اظہر نے رابی سے پوچھا۔۔۔
یہ تو میں تمہیں شادی کے بعد بتاؤں گی کہ میں تمہیں پسند کرتی ہو کہ نہیں۔۔۔ رابی نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔ اور وہاں سے چلی گئی
اظہر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور ہنس پڑا تھا۔۔۔
کوئی نہیں شادی کون سی دور ہے ہماری اظہر نے کہا اور خود بھی اندر چلا گیا۔۔۔
💖———–💖
کب تک ارادہ ہے تمہارا یہاں رکنے کا۔۔؟
صوفیہ نے فیری کے پاس بیٹھے ہوئے پوچھا جو گارڈن میں بیٹھی ہوئی تھی اور کسی سوچ میں گم تھی۔۔
کیا مطلب فیری نے صوفیہ سے پوچھا۔۔۔
میرا مطلب ہے کہ واپس اپنے گھر کب تک جاؤں گی۔۔۔ صوفیہ نے سیدھا سیدھا سوال کیا۔۔۔
مجھے یہاں رہنے کی اجازت داجی نے دی ہے۔۔۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ ان کی اجازت کے علاوہ مجھے کسی اور کی اجازت کی ضرورت ہے۔۔۔ اور جب میرا دل کرے گا۔۔۔ میں یہاں سے چلی جاؤ گی۔۔۔ اور میں آپ کو جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔۔۔
فیری نے بھی صوفیہ کو کرارا سا جواب دیا۔۔۔ کیونکہ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب یہ بہادر بنے گی اور لوگوں کا سامنا کرے گی۔۔۔ کیونکہ اگر ڈرتی رہی تو لوگ اسے باتیں سنا سنا کر ہی مار ڈالے گے۔۔۔
جیسے کوئی اس کے ساتھ سلوک کرے گا یہ بھی ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرے گی اچھے لوگوں کے ساتھ اچھی رہے گی اور برے لوگوں کے ساتھ بری۔۔۔۔
صوفیہ فریال کی بات سن کر حیران ہو گئی تھی۔۔۔
صوفیہ کو نہیں لگتا تھا کہ فریال اس طرح بھی بات کرے گی۔۔۔ اسے فری شکل سے معصوم لگی تھی۔۔۔۔
تم کس لہجے میں مجھ سے بات کر رہی ہو تم۔۔۔ جانتی ہو کہ میں کون ہوں۔۔۔ اور یہ گھر میرا ہے۔۔۔۔ اور ابھی کے ابھی تمھیں یہاں سے نکال سکتی ہوں۔۔۔ صوفیہ نے فیری کو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
میں نے کب کہا کہ یہ گھر میرا ہے یہ تمہارا ہی ہے لیکن یہاں رہنے کی اجازت مجھے داجی نے دی ہے۔۔۔ اور مجھے کسی اور سے اجازت لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔ فیری نے آرام سے جواب دیا اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔
صوفیہ فیری کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی فریال جب سے حویلی میں آئی تھی۔۔۔
صوفیہ تو اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر ہی اندر سے جلنے لگی تھی۔۔۔
اسے فریال سے جلن محسوس ہو رہی تھی اسے بس ایک بات کا ڈر تھا کہ اگر حیدر نے فریال کو دیکھ لیا تو کہیں اسے پسند ہی نا کرنے لگے۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی وہ تو اس سے نکاح کر چکا ہے۔۔۔
💖————💖
رابی اگلے دن آفس آئی تو بہت خوش تھی آج وجدان نے بھی واپس آ جانا تھا۔۔۔
وجدان کی غیرموجودگی میں رابی نے سارا کام بہت اچھی طرح سے سنبھالا تھا۔۔۔ اور کسی کو بھی کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔۔۔
وجدان بھی فون کر کے رابی سے ساری معلومات لے لیتا تھا۔۔۔
اور اسے یہ سن کر اچھا لگا تھا کہ رابی آفس میں سب کچھ اچھے سے سنبھال رہی ہے۔۔۔
آج وجدان نے واپس آنا تھا کافی دنوں سے اس نے رابی کو دیکھا نہیں تھا۔۔۔
اسی لیے آج جلدی آفس کے لئے نکل پڑا تھا۔۔۔
لیکن رابی کو اظہر کے ساتھ دیکھ کر وجدان کی ساری خوشی غصے میں تبدیل ہوگئ تھی۔۔۔
ماتھے پر بل لیے وجدان دونوں کو کھا جانے والی نظر سے گھور رہا تھا۔۔۔
رابی کسی بات ہر ہنس رہی تھی۔۔۔ جب اچانک اظہر نے رابی کے چہرے سے بال پیچھے کیے تھے جو ہوا کی وجہ سے اس کے چہرے پر آرہے تھے۔۔۔
اس وقت وجدان کو لگ رہا تھا اگر تھوڑی دیر اور یہاں رکا تو اظہر کی جان لے لے گا۔۔۔
لیکن اسے اپنے آپ پر کنٹرول کرنا تھا کیونکہ وجدان رابی کا تماشا بنانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
ورنہ اظہر کی اچھی خاصی دھلائی کر سکتا تھا
رابی جلد سے اظہر سے پیچھے ہوئی تھی اور آفس کے اندر چلی گئی تھی۔۔۔
اظہر بھی وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
وجدان جب اپنے آفس میں داخل ہوا تو بہت غصے میں تھا اس کی ساری خوشی ختم ہو گئی تھی۔۔۔
آخر یہ ہے کون۔۔۔؟
مجھے پتہ لگانا ہوگا کہ یہ کون ہے میں رابی کے آس پاس کسی کو برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔
وجدان نے دل میں سوچا اور اپنے کیبن میں داخل ہوا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اس نے رابی کو اپنے کیبن میں بلوایا تھا۔۔۔
رابی اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی۔۔
وجدان سامنے ہی بیٹھا ہوا تھا اس کا دھیان لیپ ٹاپ کی طر تھا ایسا رابی کو لگا تھا۔۔۔
وجدان نے رابی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
رابی بیٹھ گئی تھی اور پھر دونوں کام کے متعلق باتیں کرنے لگے تھے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب رابی وہاں سے جانے لگی تو وجدان نے اسے ایک اور فائل کا پوچھا۔۔۔
جو رابی نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔۔۔
سر یہ ہے وہ فائل رابی نے کہا اور فائل وجدان کے سامنے رکھی۔۔۔
وجدان رابی کے ہاتھ میں انگوٹھی دیکھ چکا تھا جو پہلے نہیں تھی۔۔۔
انگوٹھی کو دیکھ کر وجدان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔
وجدان کے دماغ نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے رابی کی منگنی ہوگئی ہو۔۔۔ اور یہ سوچ ہی وجدان کے لیے جان لیوا تھی۔۔۔۔
مس رابیل کیا آپ کی منگنی ہو گئی ہے۔۔۔؟
وجدان نے سنجیدگی سے رابی سے پوچھا۔۔۔
رابی کو وجدان کا سوال بہت عجیب سا لگا تھا لیکن جواب دینا بھی ضروری تھا۔۔۔
جی سر کل میری منگنی تھی۔۔۔
رابی نے وجدان کو جواب دیا۔۔۔
اور یہ سنتے ہی وجدان کی ہمت جواب دے گئی تھی وجدان غصے میں اپنی جگہ سے اٹھا اور رابی کی طرف اپنے قدم بڑھائے۔۔۔
رابی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک وجدان کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔
وجدان رابی کی طرف آ رہا تھا اور رابی پیچھے کو قدم لیتی جا رہی تھی۔۔۔
رابی پیچھے دروازے کے ساتھ جا لگی تھی۔۔۔
وجدان رابی کے بلکل ہی قریب کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔ چہرہ اس کا بلکل سپاٹ تھا اس نے رابی کا ہاتھ پکڑ جب رابی نے کہا۔۔۔
سر آپ کیا کررہے ہیں رابی نے جب وجدان کو اپنا ہاتھ پکڑتے ہوئے دیکھا تو گھبرا کر پوچھا۔۔۔۔
تم نے منگنی کیوں کی۔۔۔؟ وجدان نے رابی کی بات کو اگنور کرکے چہرے پر سخت تیور لیے پوچھا؟
رابی کو وجدان کے چہرے سے خوف آرہا تھا۔۔۔
مم۔۔۔۔می۔۔ پہ۔۔۔ پسند کرتی ہوں اُسے۔۔۔ رابی نے ڈرتے ڈرتے کہا۔۔۔
اور یہ سنتے ہی وجدان کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ چکا تھا۔۔۔
رابی نے غلط وقت پر غلط بات کی تھی۔۔۔ وجدان نے بے دردی سے رابی کی انگلی سے انگوٹھی نکالی اور اسے زمین پر پھینک دیا۔۔۔
انگوٹھی رابی کو تھوڑی تنگ تھی
وجدان نے جب انگوٹھی نکالی تو رابی کی انگلی سرخ ہوگئ تھی۔۔۔
اسی انگلی میں وجدان نے ایک گولڈن کلر کا چھلا پہنایا تھا۔۔۔
تم آج سے ابھی سے صرف میری ہو اگر تم نے کوئی ہوشیاری کرنے کا سوچا۔۔۔ تو بہت برا پیش آؤں گا وجدان نے رابی کے کان کے پاس دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
وجدان کے اتنا قریب آنے سے رابی کے جسم میں کپکپی طاری ہوگئ تھی۔۔۔ رابی کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
رابی نے جب محسوس کیا کہ وجدان کا ہاتھ اس کی کمر پر رینگ رہا ہے۔۔۔ تو رابی نے اپنا پورا زور لگا کر وجدان کو پیچھے دھکا دیا اور اس کے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔۔۔
وجدان خونخوار نظروں سے رابی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
رابی کو لگا اس نے تھپڑ مار کر سوۓ ہوۓ شیر کو جگادیا ہے۔۔۔
سر پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔ میں آپ سے شادی نہیں کرسکتی رابی نے گڑگڑاتے ہوۓ کہا۔۔۔
رونے سے اس کا ناک اور گال سرخ ہوگئے تھے ہونٹ پھڑپھڑا رہے تھے۔۔۔
وجدان رابی کے پاس آیا اور اس کے دونوں طرف دیوار پر ہاتھ رکھ کر گھیرا بنایا۔۔۔
تمھیں کس نے کہا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں وجدان نے طنزیہ ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔
وجدان کی بات سن کر رابی کو لگا آفس کی چھت اس کے سر پر گر گئی ہے۔۔۔
تم میری ہو۔۔۔تم پر صرف میرا حق ہے۔۔۔ اور میں تمہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑوں گا کہ تم کسی اور سے شادی کر سکو۔۔۔
تمہیں اس تھپڑ کی قیمت بہت بھاری پڑے گی جانِ وجدان شاہ۔۔۔
وجدان نے رابی کے پھڑپھڑاتے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوۓ ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔۔۔
اسے خود نہیں معلوم تھا کہ غصے میں کتنا فضول بول گیا ہے۔۔۔
رابی کی آنکھوں کے سامنے اندھیر چھانے لگا تھا۔۔ اس سے زیادہ اپنی زات کے بارے میں رابی نہیں سن سکتی تھی۔۔۔
وجدان نے رابی کو آنکھیں بند کرتے دیکھا تو اسے کمر سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگالیا تھا۔۔۔
رابی آنکھیں بند کیے وجدان کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔
وجدان نے رابی کے چہرے سے بال پیچھے کیے اور اس کے سر پر چادر درست کی۔۔۔۔
وجدان نہیں جانتا تھا کہ اس نے غصے میں کیا کچھ رابی کو کہہ دیا ہے۔۔۔
جبکہ اس کا ارادہ ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔ یہ تو رابی کو اپنی عزت بنانا چاہتا تھا۔۔۔ جو صبح اس نے منظر دیکھا تھا۔۔۔ اس کی وجہ سے اس کا غصہ مزید بڑھا ہوا تھا۔۔۔ لیکن جب رابی نے منگنی کا بتایا تو اپنے آپ پر کنٹرول نہیں کر سکا۔۔۔ اور جو منہ میں فضول باتیں آئیں وہ رابی کو کہتا رہا۔۔۔ اس لیے تو اسلام میں غصہ حرام ہے۔۔۔
وجدان نے رابی کو صوفے پر لیٹایا تھا اور اس کی چادر درست کی تھی۔۔۔
اور اپنی انگلی کے پوروں سے اس کے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔
وجدان نے ٹھنڈا پانی پیا اور تھوڑی دیر کے لیے اپنے دماغ کو ہر سوچ سے پاک کیا۔۔۔
اور پھر ٹھنڈے دماغ سے اس نے سارے معاملے کے بارے میں سوچا۔۔۔
میں رابی سے پیار کرتا ہوں لیکن میں زبردستی اسے حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ۔۔۔ مجھ سے پیار نہیں کرتی۔۔۔
اور ضروری تو نہیں ہے کہ ہر پیار کرنے والے کو اس کی چاہت ملے۔۔اس کا پیار ملے میں ایسا نہیں کر سکتا میں۔۔۔ رابی کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا میرا ضمیر مجھے اس بات کی اجازت نہیں دے رہا کہ میں رابی کے ساتھ زبردستی شادی کروں۔۔۔
میں صرف رابی کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
اگر وہ اس لڑکے کے ساتھ خوش ہے تو مجھے اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ بلکہ مجھے اس کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے۔۔۔ کیوں کہ محبوب کی خوشی زیادہ عزیز ہوتی ہے اور مجھے بھی رابی کی خوشی عزیز ہے۔۔۔
وجدان کرسی سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے ساری باتیں سوچ رہا تھا۔۔۔
کیونکہ یہ حیدر کی طرح زبردستی نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
جو حیدر نے کیا وجدان وہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا وہ کبھی بھی اپنے پیار کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
کافی دیر سوچنے کے بعد وجد اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ وہ اس لڑکے کے بارے میں ساری معلومات
نکلواۓ گا جس سے رابی کی منگنی ہوئ ہے۔۔۔۔
اگر وہ لڑکا اچھا ہوا رابی کا خیال رکھنے والا ہوا تو وجدان ان دونوں کے درمیان سے نکل جائے گا۔۔۔
یہ سوچ وجدان کے لیے بہت تکلیف دہ تھی لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ رابی کے ساتھ زبردستی نہیں کرے گا۔۔
لیکن اگر وہ لڑکا غلط نکلا اور رابی کو خوش نا رکھ سکا تو پھر رابی کو وجدان سے کوئی الگ نہیں کر سکے گا۔۔۔
وجدان نے رابی سے دور رہنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ رابی اپنے کزن کو پسند کرتی تھی۔۔۔
اگر وہ لڑکا اچھا نہیں ہوا تو۔۔۔
پھر وجدان رابی کی بھی نہیں سنے گا اور عزت سے رابی سے شادی کرے گا۔۔۔
یہ فیصلہ وجدان کے لیے بہت مشکل تھا اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔۔۔
وجدان نے ایک نمبر ملایا اور تھوڑی دیر بعد ہی فون اٹھا لیا گیا تھا۔۔۔
میں ایک تصویر سینڈ کر رہا ہوں۔۔۔ مجھے انسان کی
معلومات چاہیے۔۔۔ وہ کیا کرتا ہے کہا جاتا ہے اس کی سرگرمیاں کیا ہیں۔۔۔ سب کچھ اور یہ کام دو گھنٹوں کے اندر ہوجانا چاہیے۔۔۔۔ وجدان نے کہا اور موبائل بند کر دیا۔۔۔
اظہر کی تصویر اس نے رابی کے موبائل سے لی تھی۔۔۔
فون رکھ کر وجدان نے سامنے دیکھا تو رابی ابھی بھی بے ہوش پڑی ہوئی تھی۔۔۔
میں جانتا ہوں میری باتوں نے تمہیں بہت تکلیف دی ہے۔۔۔ لیکن میرا مقصد تمہیں تکلیف پہنچانا بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دینا۔۔۔ وجدان نے رابی کو دیکھ کر دل میں کہا۔۔۔
وجدان پانی کا گلاس لے کر رابی کے پاس آیا۔۔۔ اور اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔۔۔
رابی نے تھوڑی دیر بعد ہی اپنی آنکھیں کھول لیں تھیں۔۔۔ رابی اپنے سامنے وجدان کو دیکھ کر ڈر گئی تھی اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔
جاؤ یہاں سے وجدان نے سنجیدگی سے کہا اور رابی کی طرف سے رخ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
رابی نے یہی غنیمت سمجھا اور وہاں سے بھاگ گئی۔۔
رابی اپنے کیبن میں آئی اور پانی پیا تھوڑی دیر بیٹھی سوچتی رہی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔۔۔
رابی وقت ضائع کئے بنا آفس سے نکل گئی کیونکہ ابھی اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ مزید آفس میں رکتی۔۔۔
وجدان نے رابی کو آفس سے جاتے ہوئے دیکھا تھا
رابی کو روکنا اسے مناسب نہیں لگا تھا وجدان رابی کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
💖————💖
شاہ حویلی میں واپس آ گیا تھا۔۔۔ فریال کو نہیں معلوم تھا۔۔۔
رات کے کھانے پر سارے اکٹھے بیٹھے کھانا کھا رہے تھے فیری بھی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
شاہ کی کرسی خالی پڑی تھی شاہ کی کرسی خالی دیکھ کر فریال کو اندازہ ہوگیا تھا کہ شاہ ابھی تک حویلی واپس نہیں آیا۔۔۔
لیکن پھر اس نے سوچا کہ وہ شاہ کے بارے میں اتنا کیوں سوچ رہی ہے۔۔۔ شاہ حویلی میں آئے نہ آئے
اس سے فریال کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔ یہ سوچتے ہی فریال اپنے کھانے کے طرف متوجہ ہوگئی تھی۔۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ہی اسے اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ہوا۔۔۔
فریال کھانا کھانے میں اتنی مگن تھی کہ اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ شاہ اس کے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گیا ہے تھوڑی دیر بعد۔۔۔
فریال نے جب سامنے دیکھا تو شاہ بیٹھا اسے پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
فریال کا ہاتھ وہی رک گیا تھا۔۔۔ فریال ہڑبڑا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی لیکن کوئی بھی شاہ کی طرف متوجہ نہیں تھا۔۔۔
فریال کے لیے کھانا کھانا دو بھر ہو گیا تھا۔۔۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ شاہ حویلی آچکا ہے تو کبھی بھی یہاں نہیں آتی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔۔۔
شاہ ابھی بھی میٹھی نظروں سے فریال کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔جو فیری کو پزل کر رہی تھیں۔۔۔
شاہ فیری کو دیکھنے میں مگن تھا جب اس کے کانوں میں داجی کی آواز پڑی۔۔۔
شاہ پھر تم نے کیا سوچا ہے شادی کے بارے میں
داجی نے شاہ سے پوچھا۔۔۔
داجی میں نے کیا سوچنا ہے بہت جلد آپ کو اپنی دلہن سے ملاؤں گا۔۔۔
شاہ نے مسکراتے ہوئے فیری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
سب لوگ شاہ کی بات سن کر حیران ہوئے تھے۔۔۔ اور اپنا کھانا چھوڑ کر شاہ کی طرف دیکھنے لگے تھے۔۔۔ کیوں کہ آج سے پہلے شاہ نے کبھی ایسی بات نہیں کی تھی۔۔۔ اس کا مطلب کہ شاہ کو اینجل مل گئی ہے سب کے دماغ میں بس ایک ہی خیال آیاتھا۔۔۔
کیونکہ شاہ اپنی اینجل کے سوا کسی سے بھی شادی کرنے پر راضی نہیں تھا۔۔۔
اگر تم ماہی کی بات کر رہے ہو تو میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں ماہی کبھی بھی اس گھر کی بہو نہیں بنے گی۔۔۔ تمہاری شادی صوفیہ سے ہی ہوگی میں نے تمہارے لئے صوفیہ کو انتخاب کیا ہے۔۔۔ وہ تمھاری اینجل سے زیادہ بہتر ہے۔۔۔ میری بات کو جتنی جلدی ہو سکے سمجھ لینا۔۔۔ داجی نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔
داجی کی بات سن کر فریال کا نوالہ حلق میں اٹک گیا تھا۔۔۔ اور وہ زور زور سے کھانسنے لگی تھی۔۔۔ ہیرا بیگم اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ انہوں نے جلدی سے پانی کا گلاس فیری کے لبوں سے لگایا تھا۔۔۔
فیری نے شاہ کی طرف دیکھا جس کا چہرہ غصہ ضبط کرنے کے چکر سرخ ہو رہا تھا۔۔۔فیری وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔۔
اور شاہ بھی وہاں سے اُٹھ گیا تھا باقی سب کو تو معلوم نہیں تھا لیکن ہیرابیگم ساری بات کو سمجھ گئی تھی۔۔۔۔
💖———–💖
کیا داجی مجھ سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ وہ مجھے اپنے گھر کی بہو بھی بنانا نہیں چاہتے۔۔۔ اور اگر داجی کو معلوم ہوگیا کہ میں ہی ماہی ہو تو کیا ہوگا۔۔۔ فیری کے ٹہلتے ہوئے سوچا۔۔۔
لیکن میں یہ کیوں سوچ رہی ہوں۔۔۔ میں یہاں صرف اس لئے رکی ہوں۔۔۔ کیونکہ مجھے اپنی ماں کو تلاش کرنا ہے۔۔۔ اور جب میری ماں مجھے مل جائے تو میں یہاں سے چلے جاؤ گی۔۔۔ مجھے یہاں کسی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ کسی کی بھی نہیں۔۔۔ لیکن فیری کی آنکھوں کے سامنے ہیرا بیگم کا چہرہ آیا تھا۔۔۔
میں ممانی کو سمجھا دوں گی۔۔۔ وہ میری بات کو سمجھ جائیں گی۔۔۔ لیکن میں یہاں نہیں رہوں گی۔۔۔ میں یہاں سے بہت دور چلی جاؤں گی۔۔۔ اپنی ماما کو لے کر بہت دور چلی جاؤں گی۔۔۔
جہاں کسی کی بھی نفرت نہیں ہوگی۔۔۔ جہاں میں اور میری ماما ہو گی۔۔۔ میں بہت جلد اپنی مما کو تلاش کر لوں گی۔۔۔ مجھے پوری امید ہے اپنے اللہ پر کہ وہ مجھے بہت جلد میری ماما سے ملوا دے گا۔۔۔۔
فیری نے دل میں سوچا اور مطمئن ہو کر بیٹھ گئ۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞