No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
شاہ تم گھر کب تک آرہے ہو۔۔؟
ہیرا بیگم نے حیدر سے پوچھا۔۔۔۔
ماں جی ابھی مجھے کچھ ضروری کام ہے یہاں تو ابھی میں واپس نہیں آسکتا۔۔۔۔ شاہ نے لمبا سانس بھرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے بیٹا تم پریشان لگ رہے ہو سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔؟ ہیرا بیگم نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔
ماں ٹھیک ہوں آپ بتاۓ کوئی ضروری کام تھا۔۔۔؟
شاہ نے بات بدلتے ہوئے کہا۔۔۔ وہ اپنی ماں کو اپنی غلطی بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
تمہارے داجی نے ضروری بات کرنی تھی۔۔۔ ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
ماں میں جانتا ہوں داجی نے کون سی بات کرنی ہے۔۔۔ اور جو وہ چاہتے ہیں میں وہ نہیں کرسکتا۔۔۔
شاہ نے کہا۔۔۔
ہیرا بیگم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ بھی جانتی تھی کہ داجی نے کیا بات کرنی ہے۔۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا میں داجی کو کہہ دوں گی۔۔۔ تمہیں کچھ ضروری کام ہے اس لیے کچھ دنوں بعد آؤ گے۔۔۔۔
ہیرا بیگم نے پیار سے کہا۔۔۔
جی ماں اپنا خیال رکھیے گا شاہ نے کہا اورفون بند کردیا۔۔۔
فون بند کرکے شاہ نے آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔۔
……………
رابی گھر پہنی تو اسے اپنی ماں کہی نظر نہیں آئی تھی۔۔۔
اظہر اسے باہر سے ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔
اسے کچھ ضروری کام تھا۔۔۔
امی کہاں ہے آپ؟
رابی نے تہمینہ کو آواز دی جو چھت پر کپڑے ڈال رہی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد تہمینہ نیچے آگئ تھی۔۔۔۔
تم کب آئی؟
تہمینہ نے آتے ہی پوچھا۔۔۔
بس کچھ دیر پہلے ہی آئی ہو۔۔
رابی نے کہا۔۔۔
امی کھانا بن گیا ہے۔۔۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے
رابی نے کہا۔۔۔
ہاں بیٹھو میں کھانا لاتی ہوں تہمینہ بیگم کہہ کر کچن میں چلی گئ تھیں۔۔۔
امی بابا گھر پر نہیں ہے؟
رابی نے پوچھا۔۔۔
تہمینہ بیگم جو کھانا گرم کررہی تھی۔۔۔ رابی کی بات سن کر تھوڑی دیر کے لیے ان کے ہاتھ رکے تھے۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں ہے۔۔۔ تہمینہ بیگم نے کہا۔۔۔
میں ان کو بھی بلا کر لاتی ہوں۔۔۔۔ رابی نے کہا اور بنا اپنی ماں کا جواب سنے فاروق صاحب کو بلانے چلی گئ تھی۔۔۔۔
تہمینہ بیگم کو بس اس بات کی فکر کھائے جارہی تھی۔۔۔۔ کہی رابی کو فاروق صاحب یہ بتا نا دیں کہ فریال گھر آئی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد فاروق صاحب رابی کے ساتھ اگئے تھے۔۔۔
انہوں نے رابی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔۔۔
تہمینہ نے شکر ادا کیا تھا اور کھانا لگانے لگی تھی۔۔۔
…………….
بیٹا اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟
ہیرا بیگم نے فیری کے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
آنٹی میں ٹھیک ہوں فیری نے کہا۔۔۔
بیٹا آج میں آپ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ گی۔۔۔ آپ جب تک چاہو وہاں رہ سکتی ہو ہیرا بیگم نے پیار سے کہا۔۔۔۔
آنٹی آپ کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا نا۔۔۔ میرا مطلب ہے آپ کے گھر والوں کو۔۔۔ فیری نے ہچکچاتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔۔
تم فکر مت کرو میں گھر میں بات کر چکی ہوں۔۔۔ اور میں نے یہ کہا ہے تم میری ایک دوست کی بہن ہو۔۔۔
اور وہ لوگ باہر کے ملک چلے گئے ہیں۔۔۔ اور کچھ وقت کے بعد تمھیں بھی بلا لے گے۔۔۔۔ اورتمہیں گاؤں دیکھنے کا بھی شوق تھا اس لئے تم اپنی بہن کے ساتھ نہیں گئ۔۔۔
ہیرا بیگم نے فیری کو ساری بات بتائی۔۔۔
آپ کا بہت شکریہ آنٹی۔۔۔ فیری نے ہیرا بیگم کو کہا۔۔۔
کوئی بات نہیں اب چلو ہمیں نکلنا ہے۔۔۔ اور گاؤں کا راستہ بھی زیادہ ہے ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
……….
ہیرا بیگم شہر اپنی ایک دوست کی طرف آئی تھی۔۔۔
جب ان کو راستے میں سڑک پر ایک لڑکی نظر آئی جو زخمی تھی۔۔۔
کافی لوگ کھڑے تھے لیکن کوئی بھی اسے ہوسپیٹل لے کر نہیں جارہا تھا۔۔۔
ہیرا بیگم اسے جلدی سے ہوسپیٹل لے گئ تھی
زخم زیادہ گہرا نہیں تھا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد فیری کو ہوش آگیا تھا۔۔۔
بیٹا مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتاؤ میں ان کو فون کر کے بلا لیتی ہوں۔۔۔۔ ہیرا بیگم نے فیری کو کہا جو چھت پر لگے پنکھے کو گھور رہی تھی۔۔۔۔
میرا اس دنیا میں کوئ نہیں ہے۔۔۔
فیری نے آہستہ آواز میں کہا۔۔۔
بیٹا کوئی تو ہو گا۔۔۔
ہیرا بیگم نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
نہیں آنٹی میں اکیلی ہوں۔۔۔ اس بار فریال نے ہیرا بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اگر تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے تو تم اکیلی کہاں رہو گی؟
ہیرا بیگم نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
کہی نا کہی رہ لوں گی آنٹی۔۔۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے اور اللہ تعالیٰ کوئی نا کوئی سبب بنا دے گا۔۔۔ فیری نے اداسی سے کہا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ابھی تم میرے ساتھ چلو پھر بعد میں اس بارے میں سوچ لینا۔۔۔
ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
فیری پہلے منع کرنے لگی تھی۔۔۔ لیکن پھر اسے خیال آیا کہ وہ اتنی رات کو کہا جاۓ گی۔۔۔ اس لیے ہیرا بیگم کے ساتھ ان کی دوست کے گھر چلی گئ تھی۔۔۔۔
ہیرا بیگم نے اپنی دوست کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ وہ فیری کا اچھے سے خیال رکھے۔۔۔
اور دو دن بعد وہ فیری کو لے جاۓ گی۔۔۔۔
ہیرا بیگم کی دوست کو کوئی مسئلہ نہیں تھا اور انہوں نے فیری کا بہت اچھی طرح خیال رکھا تھا۔۔۔۔
ہیرا بیگم نے گھر جاکر داجی سے بات کی تھی کہ ان کی دوست کی بہن ہے۔۔۔ کچھ وقت وہ گاؤں میں رہنا چاہتی ہے۔۔۔ گاؤں کو دیکھنا چاہتی ہے تو کیا وہ حویلی میں رہ سکتی ہے؟
داجی نے خوشی خوشی ہیرا بیگم کو اجازت دے دی تھی۔۔۔۔
اور آج ہیرا بیگم فیری کو لینے آئی تھی۔۔۔ ہیرا بیگم کا دل نہیں کررہا تھا کہ وہ فیری کو اکیلا نا چھوڑیں۔۔۔
فیری اب پہلے سے کافی بہتر تھی۔۔۔
ہیرا بیگم نے فیری کو بہت سمجھایا تھا کہ زمانہ بہت خراب ہے۔۔۔۔
ایک جوان لڑکی اکیلی نہیں رہ سکتی۔۔۔
کافی سمجھانے کے بعد فیری مان گئ تھی اسے بھی رہنے کے لیے کوئی گھر چاہیے تھا۔۔۔
………….
شاہ فیری کو ہر جگہ تلاش کر چکا تھا۔۔۔ لیکن اسے فیری کہی نہیں ملی تھی۔۔۔
وجدان بھی کوشش کررہا تھا۔۔۔ لیکن وہ بھی اب تک ناکام رہا تھا۔۔۔
…………
اگلے دن جب وجدان آفس پہنچا تو ابھی تک رابی نہیں آئی تھی۔۔۔
وجدان نے گھڑی کی طرف دیکھا جو 45: 7 بجارہی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد رابی وجدان کے پاس آئی تھی اور اسے جلدی گھر جانے کا کہا تھا۔۔۔
مس رابیل ابھی آپ کا کام مکمل نہیں ہوا تو آپ گھر کیسے جاسکتی ہیں۔۔۔ وجدان نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
سر میں اپنا سارا کام مکمل کر چکی ہوں۔۔۔ رابی نے کہا ۔۔۔۔
مس رابیل آج میری میٹنگ ہے مسٹر وہاج کے ساتھ۔۔۔ اور آپ کا میرے ساتھ ہونا ضروری ہے۔۔۔
وجدان نے رابی کے چہرے پر اپنی نظریں جماۓ ہوۓ کہا۔۔۔۔
لیکن سر مسٹر وہاج کے ساتھ جو میٹنگ تھی وہ تو کل تھی رابی نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔
جی کل تھی لیکن کل میں تھوڑا بزی ہوں۔۔۔ اس لیے آج رکھی ہے۔۔۔ وجدان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
پتہ نہیں کیوں اسے بہت خوشی ہورہی تھی۔۔۔
رابی کا موڈ خراب ہو گیا تھا۔۔۔ اس نے کال کر کے اظہر کو آنے سے منع کر دیا تھا۔۔۔۔
………….
ہیرا بیگم فیری کو لے کر گھر پہنچی تو سب نے بہت اچھے سے استقبال کیا تھا۔۔۔
سواۓ سدف اور اس کی بیٹیوں کے۔۔۔
سدف کی بیٹیوں کو یہ بلکل بھی گوارا نہیں تھا کہ اس گھر میں ان سے زیاد خوبصورت کوئی بھی لڑکی آئے ۔۔۔۔
داجی بھی فیری سے بہت اچھے سے ملے تھے۔۔۔
فیری کو دیکھ کر ان کو عالیہ کی یاد آئی تھی۔۔۔ لیکن داجی نے جلدی سے اپنے خیال کو جھٹکا تھا۔۔۔
فیری کو لگا تھا کہ وہ کچھ دن یہاں سکون سے گزار لے گی اور اس کے بعد سوچے گی آگے کیا کرنا ہے۔۔۔
………
جاری ہے۔۔۔۔۔
