Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

بہو یہ کیا بدتمیزی تھی یہ سکھایا ہے تم نے کہ بڑوں کی عزت ایسے کرتے ہیں مجھے حیدر سے اس حرکت کی امید نہیں تھی۔
حیدر کو ہماری عزت کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا گاؤں کے سارے لوگ حیدر کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور وہ وہاں سے اٹھ کر آگیا تھا۔
داجی نے غصے سے ہیرا بیگم کو کہا
جیسے ساری غلطی ان کی ہو۔
تم دونوں اپنے بیٹوں کو اچھی طرح سمجھا دو کہ دو دنوں بعد جمعے کو ان کا نکاح ہے اور میں کسی باہر والی لڑکی کو اس گھر میں نہیں لاؤ گا اگر دونوں کے دماغ میں ایسی کوئی بات ہے تو اپنے دماغ سے نکال دیں یہ ہم سب کے لیے بہتر ہو گا ۔
داجی نے اپنے دونوں بیٹوں کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔
سب لوگ خاموش کھڑے تھے کسی میں ہمت نہیں تھی کہ داجی کے سامنے کچھ کہے۔
صوفیہ اور سارہ دونوں خوش ہوگئ تھیں۔
💖 💖 💖 💖 💖
وجدان حیدر کو حویلی سے باہر لے گیا تھا ۔
حیدر تم داجی سے بات کرو وہ تمھاری بات ضرور مانے گے تم تو داجی کے لاڈلے پوتے ہو وجدان نے حیدر کو سمجھاتے ہوۓ کہا ۔
ہمممم تم ٹھیک کہہ رہے ہو مجھے داجی سے بات کرنی چاہیے حیدر کا جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو اسے وجدان کی بات درست لگی تھی ۔
لیکن شاید حیدر نہیں جانتا تھا اس معاملے میں داجی بہت ضدی ہیں ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
آپی آپ نے صبح کتنے بجے آفس جانا ہے؟
فیری نے رابی سے پوچھا جو ناول پڑھ رہی تھی۔
سات بجے رابی نے ناول پر نظریں مرکوز کیے جواب دیا ۔
میں آپ کے کپڑے پریس کر دوں؟
فیری نے پوچھا۔
نہیں میں خود کرو گی
تم اپنی پڑھائی پر دھیان دو رابی نے فیری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
آپی آپ کی واپسی کب ہوگی فیری نے رابی سے پوچھا تو اس بار رابی نے ناول پڑھنا بند کیا اور فیری کی طرف دیکھا جو رابی کو ہی دیکھ رہی تھی ۔
فیری میں جلدی آجایا کرو گی تم ٹینش نا لو امی اب تمہیں کچھ نہیں کہے گی۔
رابی نے فیری کو گلے لگاتے ہوئے کہا ۔
رابی نے فیری کی آنکھوں میں ڈر محسوس کر لیا تھا۔
فیری رابی کی گودمیں سر رکھ کر لیٹ گئ تھی ۔
آپی ایک اور بات پوچھوں فیری نے پھر سے پوچھا
بلکل رابی نے فیری کے بالوں میں اپنے ہاتھ کی انگلیاں پھیرتے ہوۓ کہا۔
آپی آپ اظہر بھائ کو پسند کرتی ہیں ؟
فیری نے رابی سے معصوم سا سوال کیا۔
تمہیں کس نے کہا ہے؟ رابی نے اپنا ہاتھ روک کر فیری سے پوچھا۔
وہ اظہر بھائ نے بتایا تھا اور وہ کہہ رہے تھے آپ دونوں بہت جلد شادی بھی کرنے والے ہو فیری نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
تمھارے اظہر بھائ سے تو میں بعد میں نپٹ لوں گی اور تم اپنی پڑھائی ہر دھیان دیا کرو رابی نے پیار سے فیری کو ڈانٹتے ہوۓ کہا۔
تو پھر اس کا مطلب آپ بھائ کو پسند نہیں کرتی فیری کی سوئی ابھی بھی وہی اٹکی ہوئ تھی۔
فیری رابی نے گھورتے ہوئے کہا
سوری سوری میں تو سونے لگی ہوں فیری نے کہا اور جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
رابی کو فیری کی اس ادا پر بہت پیار آیا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد فیری سو گئ تھی
رابی نے فیری کو ٹھیک سے لیٹایا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر کمرے سے باہر آگئ تھی ابھی اسے بہت سارے کام کرنے تھے۔
💖 💖 💖 💖
داجی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے حیدر نے کہا ۔
حیدر اس وقت داجی کے کمرے میں موجود تھا.
کہو داجی نے اپنی روبدار آواز میں کہا۔
لیکن میں اپنی بات حویلی کے تمام افراد کے سامنے کہنا چاہتا ہوں حیدر نے کہا۔
جاؤ جاکر سب کو بلا کر لاؤ داجی نے اپنے پاس کھڑے ملازم سے کہا تو وہ باہر چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد حویلی کے تمام لوگ داجی کے کمرے میں موجود تھے۔
حیدر نے اپنی بات کا آغاز کیا ۔
داجی میں آپ کے فیصلے کی دل سے قدر کرتا ہوں اور جو آپ نے میرے نکاح کا سوچا ہے وہ بھی آپ کا حق ہے۔
لیکن یہ پوری زندگی کا معاملہ ہے اور صوفیہ کو میں نے ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن مانا ہے اور اس سے شادی میں کبھی نہیں کر سکتا۔
اور دوسری بات میں بہت جلد اینجل کو ڈھونڈ لوں گا اور شادی میں اپنی اینجل سے ہی کروں گا۔
اور میں امید کرتا ہوں اب آپ لوگ مجھے فورس نہیں کرے گۓ کیونکہ آپ لوگ نہیں چاہے گۓ جیسے وجی یہاں سے چلا گیا تھا میں بھی ہمیشہ کے لیے یہاں سے چلا جاؤ
حیدر نے تحمل سے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے داجی کو کہا ۔
صوفیہ کی آنکھوں میں ابھی سے اینجل کے لیے نفرت جاگ گئ تھی جو پتہ نہیں زندہ بھی تھی کہ نہیں ۔
اللہ کریں تم زندہ ہی نا ہو اگر زندہ بھی ہو تو کبھی میرے حیدر کو نا ملو صوفیہ نے دل میں اینجل کو کوستے ہوۓ کہا۔
جو یہاں نا ہوکر بھی اس کی زندگی کا عزاب بنی ہوئ تھی۔
برخوردار اگر وہ تمہیں کبھی بھی نا ملی تو کیا پوری زندگی شادی نہیں کرو گۓ داجی نے حیدر کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھتے ہوۓ پوچھا۔
سب کے ساتھ وجدان کو بھی حیدر کے جواب کا انتظار تھا۔
اگر مجھے اینجل نا ملی اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہے تو جس لڑکی کو دیکھ کر مجھے لگا کہ میرے ساتھ اپنی ساری زندگی گزار سکتی ہے میں اس سے شادی کر لوں گا ۔یہ بات اس نے داجی کو خاموش کروانے کے لیے کہی تھی کیونکہ اسے پورا یقین تھا کہ اسے اینجل مل جاۓ گی۔
اور دوسری بات اگر آپ یہ کہے کہ اگر مجھے کسی اور لڑکی سے شادی کرنی ہے تو صوفیہ سے کیوں نہیں تو میں یہ کہنا چاہو گا جیسی میں بیوی چاہتا ہوں صوفیہ ویسی بلکل بھی نہیں ہے صوفیہ میری چھوٹی بہن جیسی ہے۔
حیدر نے کہا.
تمہیں بھی کوئ نا کوئی مسئلہ ضرور ہوگا تم بھی بتا دو داجی نے وجدان کی طرف دیکھتے ہوئے طنزیہ کہا جو حیدر کو دیکھ رہا تھا۔
میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور شادی بھی اسی سے کروں گا وجدان نے صاف گوئ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ۔
تو تم دونوں نے قسم کھائی ہے کہ میری بات نہیں مانو گۓ اور باہر کی لڑکیوں کو لاؤ گۓ اور ہمیں اس بات کابھی علم نہیں ہوگا کہ ان لڑکیوں کا کردار کیسا ہے ۔داجی آگے بھی کچھ کہتے جب وجدان سے پہلے حیدر بول پڑا ۔
داجی آپ اینجل کے کردار پر بھی شک کریں گۓ جو آپ کی اپنی نواسی ہے اور آپ اسے باہر کی لڑکی کہہ رہے ہیں حیدر نے بے یقینی سے پوچھا ۔
اگر وہ مل بھی جاتی ہے تو ہمیں کیا معلوم وہ ابھی تک کہاں رہی ہے کس کے ساتھ رہی ہے اور ویسے بھی وہ اپنے باب کا خون ہے جیسا باپ ویسی ہی بیٹی ہوگی داجی نے سفاکی سے کہا۔
بس داجی میں مزید اپنی بہن کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سنو گا اور وہ لڑکی میری پھوپھو کی بیٹی بھی ہے جو آپ کی سگی بیٹی تھی ۔
وجدان نے غصے سے کہا ۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ داجی اپنی نواسی کے بارے میں بھی ایسا بول سکتے ہیں ۔
میری بھی بات تم دونوں کان کھول کر سن لوں اگر باہر کی لڑکیاں اس حویلی میں آئ تو وہ تم دونوں کی بیویاں تو رہے گئیں لیکن ان کو کبھی بھی حویلی کی بہو کا درجہ نہیں ملے گا۔
ان کی حیثیت یہاں ایک نوکرانی کی ہوگی اور اس گھر کی بہو صوفیہ اور سارہ ہی بنے گئیں اور مرد تو چار شادیاں کر سکتا ہے تم دونوں دوسری شادی ان باہر والی لڑکیوں سے کر لینا جو اس حویلی کے نوکروں میں شمار ہونگی اور گھر کی بہو صوفیہ اور سارہ ہونگی اگر تم دونوں کو میری یہ بات منظور ہے تو مجھے باہر والی لڑکیوں سے کو اعتراض نہیں ہے داجی نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلے گۓ تھے۔
سدف اور ان کی دونوں بیٹیاں تو داجی کی بات سن کر خوش ہوگئ تھیں۔
سدف اور ان کی بیٹیوں کے علاوہ سب شوکڈ کھڑے تھے۔
۔
حیدر کی آنکھیں غصے کی شدت سے سرخ ہورہی تھی ۔
حیدر وہاں سے چلا گیا تھا
اور پھر ایک ایک کر کے سب وہاں سے نکل گۓ تھے ۔
💖💖💖💖💖💖
حیدر نے اپنے کمرے میں آکر جو چیز اس کے ہاتھ لگ رہی تھی اسے توڑتا جارہا تھا۔
ایک شیشے کا ٹکرا حیدر کے ہاتھ پر بھی لگا تھا لیکن اسے پرواہ نہیں تھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہورہا تھا حیدر بیڈ کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا ۔
کیسے داجی اپنی نواسی میری اینجل کے کردار پر شک کر سکتے ہیں۔داجی اتنے بےحس کیسے ہو سکتے ہیں ۔
مجھے پورا یقین ہے میری اینجل کا کردار پاک ہوگا میں نے اپنی اینجل کی حفاظت اپنے اللہ کے سپرد کی ہے تو میری اینجل کا کردار کیسے ٹھیک نہیں ہو گا ۔
بے شک اللہ اپنے بندوں کی بہتر حفاظت کرنے والا ہے ۔
حیدر نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑتے ہوۓ کہا ۔
حیدر کو پورا یقین تھا کہ اس کی اینجل جہاں کہی بھی ہوگی اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حفظ و امان میں رکھا ہوگا ۔
اور جب انسان اپنے اللہ کے حوالے اپنی کوئ قیمتی چیز کرتا ہے تو اللہ تو بہتر حفاظت کرنے والا ہے ۔
💖💖💖💖💖💖💖
اگلے دن رابی آفس کے لیے نکل پڑی تھی ۔
رابی آفس میں پہنچی تو آفس کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آگئ تھی۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے شاہ کمپنی میں جاب مل جاۓ گی۔
رابی نے ریسیپشن پر کھڑی لڑکی سے مس لیلا کے بارے میں پوچھا تو وہ لڑکی رابی کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔
رابی نے سر پر ڈوپٹہ لیا ہوا تھا اور کاندھوں پر شال رکھی ہوئ تھی۔
سادہ سی شلوار قمیض اور میک اپ سے پاک چہرے میں رابی بہت پرکشش لگ رہی تھی۔
مس اگر آپ نے مجھے گھور لیا ہو تو مس لیلا کا بھی بتا دیں رابی نے اس لڑکی کو کہا.
اُس لڑکی کو رابی شکل سے جتنی معصوم لگ رہی تھی رابی اتنی معصوم بلکل بھی نہیں تھی۔
اس لڑکی نے رابی کو مس لیلا کے روم کا بتایا تو رابی روم کی طرف چلی گئ۔
عجیب لڑکی ہے بھلا مس لیلا نے اس میں کیا دیکھا جو اس بہن جی کو سر کی سیکرٹری بنا دیا۔
لیلا کی شادی تھی اس لیے وہ یہ جاب چھوڑ رہی تھی ۔
رابی جب انٹرویو دے کر گئ تھی تو لیلا کو رابی وجدان کی سیکرٹری کے روپ میں بلکل ٹھیک لگی تھی۔
لیلا کو رابی شکل سے ایک معصوم سی لڑکی لگی تھی لیکن جب لیلا نے رابی کا انٹرویو لیا تو اسے رابی معصوم بلکل بھی نہیں لگی ۔
وجدان نے نئ سیکرٹری کی ذمہ داری لیلا کو دی تھی ۔
اور اس بار وجدان نے لیلا کو کہا تھا جو بھی نئ لڑکی آتی ہے اس کے سائن اس پیپر پر ہونے چاہیے یہ ایک ارینجمنٹ تھا۔
جس میں لکھا تھا کہ جو بھی اس کی سیکرٹری بنے گی وہ ایک سال تک اس جاب کو نہیں چھوڑ سکتی جاب چھوڑنے کی صورت میں اسے ایک کروڑ کمپنی کو دینا ہو گا ۔
اور یہ ارینجمنٹ وجدان نے اس لیے سائن کروایا تھا کہ ہر دوسرے مہنے بعد اس کی سیکرٹری جاب چھوڑ دیتی تھی ۔
لیلا نے وجدان کو بتا دیا تھا کہ ایک لڑکی سیکرٹری کی جاب کے لیے مل گئ ہے اور وہ ایک سال تک جاب چھوڑ کر کہی نہیں جاۓ گی اور اس نے پیپرز پر دستخط بھی کر دیے ہیں ۔
💖 💖 💖 💖 💖
۔
وجدان بھی غصے سے اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا اس نے سوچ لیا تھا کل یہاں سے چلا باۓ گا اور حیدر کو بھی کچھ دنوں کے لۓ اپنے ساتھ لے جاۓ گا
لیکن وجدان کو اتنا معلوم تھا کہ جو نکاح جمعے کو ہونا تھا اب وہ نہیں ہو گا
وجدان کو داجی کی سوچ پر بہ افسوس ہوا تھا۔
……….