No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
فیری کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو کمرے میں اکیلا پایا تھا ۔
شاہ وہاں نہیں تھا ۔
فیری کے زخموں پر بہت جلن ہورہی تھی ۔اس کا سر ابھی بھی گھوم رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد شاہ کمرے میں آیا تھا اس بار فیری شاہ کو دیکھ کر ڈری نہیں تھی بلکہ اس نے شاہ کو دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیا تھا۔
فیری کی بےرخی پتہ نہیں کیوں شاہ کو تکلیف دے رہی تھی ۔
شاہ خود نہیں جانتا تھا کیوں یہ چھوٹی سی لڑکی اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہے ۔
تمھارے زخم ٹھیک ہوجاۓ تو پھر میں تمہیں تمھارے گھر چھوڑ آؤ گا اور تمہیں طلاق بھی دے دوں گا پھر جس مرضی سے تم شادی کر لینا چاہے شمس سے ہی کر لینا جیسے تمہیں ٹھیک لگے شاہ بہت آرام سے فیری کو کہہ رہا تھا ۔
شاہ کی بات سن کر فیری کو حیرانگی ضرور ہوئ تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا
یہ وہی جلاد شاہ ہے۔
فیری نے بس ایک ہی بات کہی تھی کہ مجھے آج ہی گھر جانا ہے فیری کی بات سن کر شاہ فیری کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا تھا۔
ایک پل کے لیے دونوں کی نظریں ملی تھی فیری نے جلدی سے اپنی نظریں جھکا لیں تھیں۔
شاہ کا دل کہہ رہا تھا کہ فیری کو نا جانے دے لیکن شاہ اپنے دل کی نہیں اپنے دماغ کی سن رہا تھا۔
میں تمھیں کل چھوڑ آؤ گا ابھی کافی رات ہوچکی ہے
شاہ نے آرام سے جواب دیا۔
اس وقت اسے فیری قابل رحم لگی رہی تھی چہرے ہر جگہ جگہ زخم تھے آنکھیں سرخ تھی رونے سے اس کی آواز بھی تبدیل ہوگئ تھی ۔
گلا بھی خراب تھا۔
اور ان سب زخموں کی وجہ شاہ خود تھا۔
شاہ کمرے سے باہر چلا گیا تھا اور جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔
جلدی سے کھانا کھا لو پھر میڈیسن بھی لینی ہے شاہ کہہ کر وہاں سے باہر چلا گیا تھا اسے معلوم تھا اس کی موجودگی میں فیری ٹھیک سے کھانا نہیں کھاۓ گی ۔
فیری چھوٹے چھوٹے نوالے لے کر کھانے لگی تھی ۔
کھانا سے فارغ ہوکر اس نے ٹیبل کی طرف دیکھا جہاں میڈیسن پڑی ہوئ تھی۔
فیری کو بخار بھی ہو گیا تھا اس لیے دیوار کا سہارا لے کر ٹیبل تک آئ تھی لیکن میڈیسن پکڑنے سے پہلے ہی اسے چکر آیا تھا اس سے پہلے کہ فیری زمین بوس ہوتی شاہ نے اسے بازو سے پکڑ لیا تھا ۔
شاہ کو لگا اس نے دہکتے کوئلے کو ہاتھ لگا لیا ہو اس نے فیری کو سہارا دیا اور اسے بیڈ تک لایا تھا۔
شاہ نے فیری کو میڈیسن دی تو فیری نے چپ چاپ دوائ کھا لی تھی اور تھوڑی دیر بعد ہی غنودگی میں چلی گئ تھی ۔
شاہ نے فیری کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا تو اس کے بخار میں کوئی کمی نہیں آئ تھی۔
شاہ باہر گیا اور ایک bowl میں پانی لے کر آیا اور ٹھنڈے پانی سے فیری کی پیٹیاں کرنے لگا۔
دو گھنٹوں تک شاہ فیری کی پیٹیاں کرتا رہا تھا اور اب جاکر اس کے بخار میں کمی آئ تھی ۔
شاہ بہت غور سے فیری کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
بے شک فیری بہت خوبصورت تھی اس لیے تو شمس کا دل اس پر آیا تھا۔
………….
اگے دن فیری کا بخار کافی حد تک ٹھیک ہو چکا تھا ۔
فیری نے ناشتے کے فورا بعد ہی اپنے گھر جانے کا کہا تھا ۔
شاہ نے کوئ جواب نہیں دیا اور فیری کو اس کے گھر چھوڑنے چلا گیا تھا۔
گاڑی میں خاموشی تھی تھوڑی دیر بعد فیری کا گھر آگیا تھا فیری کا گھر گلی میں جاکر تھا ۔
شاہ نے گلی سے تھوڑا دور گاڑی روک دی تھی فیری بنا کچھ کہے گاڑی سے نکل گئ تھی ۔
شاہ اسے دور جاتے ہوۓ دیکھ رہا تھا دل کہہ رہا تھا اسے روک لوں ایسا نا ہو بعد میں پچھتانا پڑے لیکن شاہ نے پہلے کون سا دل کی سنی تھی جو اب سنتا
تھوڑی دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد شاہ بھی وہاں سے چلا گیا تھا۔
گھر آکر اسے عجیب سی بے چینی ہورہی تھی سر درد سے پھٹا جارہا تھا ۔اسے لگ رہا تھا اس نے اپنی کوئ قمتی چیز کھو دی ہو۔
شاہ نے نیند کی گولی کھائ اور تھوڑی دیر بعد ہی اسی بیڈ پر سو گیا تھا جہاں کل رات فیری سوئ تھی۔
۔کچھ دیر کے لئے ہی سہی اس کے دماغ کو سکون ملا تھا ۔
………………
فیری کو نہیں معلوم تھا کہ گھر میں کیا جواب دے گی ۔
محلے والے فیری کو دیکھ کر باتیں کر رہیے تھے اور آوازیں ایسی تھی کہ فیری آرام سے سن سکتی تھی ۔
فیری اپنے گھر میں داخل ہوئ تو اسے گھر میں کوئ نظر نہیں آیا تھا
کچن میں سے برتنوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔
فیری کچن میں گئ تو اسے سامنے ہی تہمینہ بیگم نظر آئ تھی ۔
…………….
فیری کو اپنے سامنے دیکھ کر تہمینہ بیگم حیران ہوگئ تھی۔
فیری کو معلوم تھا کہ اب تہمینہ بیگم اسے ضرور مارے گی۔
لیکن جب تہمینہ بیگم نے فیری کو اپنے گلے لگایا تو اب حیران ہونے کی باری فیری کی تھی ۔
تم کہاں چلی گئ تھی میری بچی کتنا ڈھونڈا تمہیں ہم سب نے اور یہ زخم؟ تہمینہ بیگم نے اپنی آنکھوں میں آنسو لاتے ہوۓ پوچھا ۔
امی آپ مجھ سے پوچھے گی نہیں کہ میں کہاں تھی
فیری کے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔
ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گۓ ابھی میں تمھارے زخموں پر مرہم لگاتی ہوں تم چلو اند کمرے میں میں ابھی آتی ہوں تہمینہ بیگم نے پیار سے کہا ۔
فیری کو تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن مڑنے سے پہلے اس نے علرابی کا پوچھا تھا ۔
وہ آفس گئ ہے تھوڑی دیر تک آتی ہو گی تم تب تک آرام کر لو تہمینہ بیگم نے کہا
فیری ہاں میں سر ہلاکر وہاں سے چلی گئ تھی ۔
………….
ہیلو تم نے ٹھیک کہا تھا فریال گھر آگیٔ ہے تمھارے پاس ایک گھنٹہ ہے جو بھی کرنا ہے جلدی کرو اگر رابی اور اس کا باپ گھر آگۓ تو پھر تم کبھی بھی فریال کو یہاں سے لے کر نہیں جاسکتے۔
تہمینہ بیگم نے کہا اور فون بند کر دیا تھا ۔
…………….
مس رابیل مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے میرے پیچھے آپ سب سنبھال لیجیے گا اور میں دو گھنٹوں تک واپس آجاؤ گا۔
میرے واپس آنے تک آپ آفس میں ہی روکیے گا وجدان نے اپنی گاڑی کی چابی پکڑتے ہوۓ رابیل سے کہا
اوکے سر رابیل نے کہا ۔
………….
وجدان شاہ کے گھر آیا تھا گھر کی ایک چابی اس کے پاس بھی تھی ۔
وجدان اندر آیا اور شاہ کے کمرے کی طرف آیا جہاں وہ سو رہا تھا ۔
مجھے ٹینشن میں ڈال کر خود بھائ صاحب نیند کے مزے لے رہے ہیں وجدان نے شاہ کو گھورتے ہوئے کہا ۔
اس نے باہر آکر پورا گھر دیکھ لیا تھا اسے فیری کہی نظر نہیں آئ تھی۔
وجدان جلدی سے شاہ کے پاس آیا اور اسے جگانے لگا
شاہ تمھارے بیوی کہاں ہے وجدان نے شاہ کو جھنجھوڑتے ہوۓ پوچھا؟
شاہ نے اپنی سرخ آنکھیں تو کھول لیں تھیں لیکن ابھی بھی دوائ کے اثر میں تھا۔
شاہ کون سا نشہ کر کے تم سوۓ ہو اور اس وقت تو تم کبھی نہیں سوتے تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے
وجدان نے جلدی سے پوچھا ۔
ہاں یار میں ٹھیک ہوں تم کب آۓ شاہ نے بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوۓ پوچھا ۔
میں ابھی آیا ہوں اور وہ لڑکی کہاں ہے وجدان نے پوچھا۔
مییں اسے اس کے گھر چھوڑ آیا ہوں اور پھر شاہ نے ساری بات وجدان کو بتا دی،
وجدان نے شاہ کی ساری بات آرام سے سنی تھی
اب تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا جب وہ لڑکی شمس سے شادی کریں گی؟ وجدان نے شاہ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
جہاں بلا کی سنجیدگی تھی ۔
شاہ نے اپنے تاثرات کو نورمل رکھا تھا
اس کی زندگی ہے وہ جس جے ساتھ چاہیے شادی کر سکتی ہے۔
میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں اور میں اسے اپنے پاس رکھ کر مزید اور تکلیف نہیں دے سکتا ۔
شاہ کے کہا
شاہ تمہیں اس کے ساتھ اس کے گھر والوں کے سامنے جانا چاہیے تھا اور پھر اس کی فیملی کو جو سچ تھا بتا دیتے
وجدان نے کہا
تم اس بات کی فکر مت کرو یہ کام شمس خود کر چکا ہے شاہ نے لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا ۔
کیا مطلب؟ وجدان نے ناسمجھی سے پوچھا۔
شمس فریال کے گھر والوں کو پہلے ہی بتا چکا ہے کہ میرے ایک دشمن نے مجھ سے بدلہ لینے کے لئے میری منگیتر کو اغواء کیا ہے اس میں فریال کا کوئ امل دخل نہیں ہے۔
اور میں فریال کو طلاق دے دوں گا شمس اسے خوش رکھے گا کیونکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔
شاہ نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر وجدان کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی لیکن تم جانتے ہو شمس اچھا انسان نہیں ہے پھر بھی تم چاہتے ہو فریال کی شادی شمس سے ہوجاۓ۔
اسے تم بھی تو خوش رکھ سکتے ہو وہ تمھارے ساتھ بھی تو خوش رہے گی۔
وجدان نے شاہ کو سمجھاتے ہوۓ کہا
جو کچھ میں اس کے ساتھ کر چکا ہوں اس کے بعد وہ کبھی بھی میرے ساتھ نہیں رہے گی۔
میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھی ہے شاہ نے تکلیف سے کہا ۔
شاہ فیری سے معافی مانگنا چاہتا تھا لیکن درمیان میں اس کی انا آرہی تھی وہ چاہتا تھا کہ فیری اس کے ساتھ رہے لیکن فیری کی آنکھوں میں. اپنے لیے نفرت بھی دیکھ چکا تھا۔
ایک اور بات میرے ایک آدمی کو اینجل کے بارے میں کچھ معلومات ملی ہیں اور وہ کل ملے گا تو کل ہم اس آدمی سے ملے گۓ وجدان نے کہا
اینجل کا سن کر شاہ کے چہرے سے اداسی ہٹ گئ تھی جو فیری کے جانے کے بعد آئ تھی،
ٹھیک ہے ۔
شاہ نے بس اتنا ہی کہا۔
………
وجدان کو واپس آتے کافی دیر ہو گئ تھی رابی وجدان کا انتظار کررہی تھی اسے وجدان پر بہت غصہ آرہا تھا اور اسے ڈر بھی لگ رہا تھا اتنا بڑا آفس تھا سب لوگ جاچکے تھے۔
وجدان کو یہی لگا تھا کہ رابی چلی گئ ہو گی لیکن جب اس نے آفس میں رابی کو دیکھا جو اپنا غصہ کنٹرول کرنے کے چکر میں لال پیلی ہو رہی تھی ۔
آپ ابھی تک یہی ہیں وجدان نے مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ سنجیدگی سے پوچھا ۔
نہیں میں ابھی اس لۓ نہیں گئ کیونکہ میں نے سوچا کیوں نا آج سب کے جانے کے بعد اکیلی کام کرکے دیکھو کیسا لگتا ہے.. رابیل نے ایک ایک لفظ چبا کر غصے سے کہا۔
چلو میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں وجدان نے کہا
بہت بہت شکریہ میں چلی جاؤ گی رابی نے کہا اور وہاں سے چلی گئ۔
اف یہ لڑکی کتنی ضدی ہے اس وقت اسے بس تو ملے گی نہیں اور رکشہ بھی بڑی مشکل سے ہی اس جگہ پر آتا ہے ۔
وجدان نے آفس سے باہر نکلتے ہوئے سوچا
رابیل غصے میں تو نکل آئ تھی اب اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گھر کیسے جاۓ۔
اظہر بھی یہاں نہیں تھا ورنہ اسے بلا لیتی وہ شہ سے باہر گیا ہوا تھا۔
رابی ابھی انہی سوچوں میں غم تھی جب اپنے پیچھے سے وجدان کی آواز سن کر ڈر گئ ۔
گاڑی میں بیٹھو میں تمھیں گھر چھوڑ دیتا ہوں وجدان نے رابی کو کہا
آپ کو ایک بار بات سمجھ نہیں آتی میں نے کہا میں چلی جاؤں گی رابی نے بھی گھورتے ہوئے کہا۔
اوکے اگر تم یہی چاہتی ہو کہ میں تمہیں اپنی باہوں میں بھر کر گاڑی میں بیٹھا ؤں تو مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہے وجدان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
رابی ابھی بھی وجدان کو گھور رہی تھی ۔
وجدان رابی کے تھوڑا قریب آیا تو رابی جلدی سے بول پڑی تھی۔
بیٹھ رہی ہوں رابی نے گھبراتے ہوۓ کہا
وجدان نے دروازہ کھولا تو رابی اند بیٹھ گئ تھی ۔۔
لوفر انسان رابی نے دل میں وجدان کو کہا۔
رابی نے وجدان کو گھر کا راستہ نہیں بتایا تھا اور نا ہی وجدان نے پوچھا تھا۔
وجدان نے گھر کے قریب گاڑی روک دی تھی۔
آپ کو میرے گھر کا پتہ کیسے معلوم ہوا رابی نے گھورتے ہوئے پوچھا ۔
وہ میں پھر کبھی بتاؤ گا رابی جی ابھی آپ جاۓ آپ کو دیر ہو رہی ہے وجدان نے تھوڑا رابی کی طرف جھکتے ہوۓ رابی کے ہونٹوں پر نظریں گاڑھے کہا۔
رابی وجدان کی نظروں کی تاب نا لاسکی اور جلدی سے گاڑی سے نکل گئ تھی ۔
بیوقوف لڑکی وجدان منہ میں بڑبڑایا اور وہاں سے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ لی۔
…………..
