No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
شاہ تم کب تک آؤ گے۔۔۔؟ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔ وجدان نے شاہ سے پوچھا۔۔۔۔
میں کل ہی آجاتا ہوں شاہ نے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے میں تمھارا انتظار کرو گا۔۔۔۔ وجدان نے کہا۔۔۔۔
اور ہاں اس آدمی نے اینجل کے بارے میں کچھ بتایا۔۔۔؟ شاہ نے جلدی سے پوچھا۔۔۔۔
بہت کچھ بتایا ہے اس آدمی نے۔۔۔۔
وہ جب تم آؤ گے۔۔۔ تو آرام سے بیٹھ کر بات کریں گےوجدان نے کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ شاہ نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔۔۔
وجدان یہی سوچ رہا تھا کہ۔۔۔ جب شاہ کو معلوم ہو گا کہ جس لڑکی سے اس کا نکاح ہوا ہے۔۔۔ وہی اس کی اینجل ہے تو شاہ کیا کرے گا۔۔۔۔
…………….
فریال ملی۔۔۔؟ تہمینہ بیگم نے شفیق سے پوچھا جو ان کے گھر میں آیا تھا۔۔۔۔۔
اس وقت گھر میں کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ میں نے ہر جگہ دیکھ لیا تھا۔۔۔ وہ مجھے کہیں نہیں ملی۔۔۔ شفیق نے پریشانی سے کہا۔۔۔
چھوڑو اسے۔۔۔ ہوسکتا ہے اپنی ماں کی طرح مر گئی ہو۔۔۔ تہمینہ بیگم نے نحوست سےکہا۔۔۔۔
تم سے کس نے کہا۔۔۔ کہ عالیہ مر چکی ہے شفیق نے تہمینہ کی بات سن کر کمینگی سے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔۔
کیا مطلب؟
تہمینہ بیگم نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
مطلب یہ کہ وہ زندہ ہے۔۔۔۔ اور میری قید میں ہے۔۔۔ شفیق نے کہا۔۔۔۔
تم جانتے ہو اگر کسی کو معلوم ہو گیا کہ۔۔۔ اسے تم نے غائب کروایا تھا تو کیا ہو گا۔۔۔؟ تہمینہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا اس کی حالت ایسی ہے کہ وہ خود کو نہیں پہچانتی کسی کو کیا بتاۓ گی۔۔۔۔
شفیق نے آرام سے جواب دیا۔۔۔
تم نے اسے ابھی تک ختم کیوں نہیں کیا۔۔۔
تم نے تو مجھے کہا تھا۔۔۔ تمہارا کام ہوجانے کے بعد اسے جان سے مار دو گے۔۔۔
تہمینہ نے غصے سے کہا۔۔۔۔
عالیہ جیسی حسین عورت کو مارنےکا دل نہیں کیا۔۔۔
وہ ابھی بھی اتنی ہی حسین ہے جتنی پہلے تھی۔۔۔
اور اس کی بیٹی تو عالیہ سے زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔
شفیق نے اپنی آنکھوں کے سامنے فیری کا چہرہ لاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور میں بہت جلد اسے ڈھونڈ لوں گا شفیق نے کہا۔۔۔
………..
ماضی۔۔۔۔
فاروق صاحب اور عالیہ بیگم سکون کی زندگی گزار رہے تھے۔۔۔ ایک دن اچانک عالیہ بیگم اپنے گھر سے نکلی تھی ان کو مارکیٹ تک جانا تھا۔۔۔۔
فاروق صاحب گھر پر نہیں تھے فیری ان کے ساتھ ہی تھی۔۔۔
اچانک عالیہ کو چکر آیا اور بے ہوش ہوکر گر گئ تھی۔۔۔۔
شفیق نے جب ایک عورت کو سڑک پربے ہوش دیکھا تو اسے جلدی سے ہوسپیٹل لے گیا تھا۔۔۔
عالیہ کو دیکھ کر ہی شفیق عالیہ کی خوبصورتی پر مر مٹا تھا۔۔۔۔
اس وقت فیری چھ سال کی تھی۔۔۔
عالیہ کو جب ہوش آیا تو۔۔۔ اس نے شفیق کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔ اور فاروق کو فون کرکے ہوسپیٹل بلایا تھا ۔۔۔۔
اس کے بعد شفیق عالیہ کے گھر کے باہر چکر لگانے لگا تھا۔۔۔ اسے سب معلوم تھا کہ کب فاروق گھر ہوتا ہے اور کب نہیں ہوتا۔۔۔
ایک دن شفیق فاروق کے جانے کے بعد عالیہ کے گھر آیا تھا۔۔۔
آپ۔۔۔؟؟ عالیہ نے شفیق کو دیکھ کر حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
ہاں میں شفیق نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
میں یہاں تم سے ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں شفیق نے کہا۔۔۔۔
جی کہیے کیا کہنا ہے آپ کو۔۔۔۔ عالیہ نے پوچھا
لیکن جب عالیہ نے شفیق کی بات سنی تو ۔۔۔ غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔۔۔۔
تمہیں بلکل بھی شرم نہیں آئی ایسی بات مجھ سے کہتے ہوۓ۔۔۔۔ جبکہ تم جانتے ہو میں شادی شدہ ہوں۔۔۔
عالیہ نے کھڑے ہوتے ہوۓ غصے سے کہا۔۔۔۔
میں کون سا تمھیں تمھاری شادی توڑنے کا کہہ رہا ہوں۔۔۔
بس ایک رات کی تو بات ہے۔۔۔۔ تم جتنے پیسے کہو گی تمہیں ملے گے۔۔۔ شفیق نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور یہاں عالیہ کا ہاتھ اٹھا تھا۔۔۔ اور شفیق کے چہرے ہر نشان چھوڑ گیا تھا۔۔۔
تمھاری ہمت کسی ہوئی۔۔۔ مجھ سے فضول قسم کی بکواس کرنے کی۔۔۔۔ ابھی کے ابھی میرے گھر سے نکل جاؤ۔۔۔۔
عالیہ نے غصے سے کہا۔۔۔
شفیق بنا کچھ کہے وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
جب شفیق گھر سے باہر نکلا تو اسے باہر تہمینہ بیگم ملی تھی۔۔۔۔
اس وقت تہمینہ کو طلاق ہو چکی تھی۔۔۔
کون ہو تم؟
تہمینہ نے شفیق سے پوچھا۔۔۔
شفیق بنا جواب دیے جانے لگا جب تہمینہ کی بات سن کر رک گیا۔۔۔۔
ہو سکتا ہے میں تمہاری مدر کر سکو۔۔۔۔ تہمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
تہمینہ کی بات سن کر شفیق بھی ہنس ہڑا تھا۔۔۔۔
…………….
شفیق نے ساری بات تہمینہ کو بتا دی تھی۔۔۔
تہمینہ کو اور کیا چاہیے تھا۔۔۔ شفیق کی وجہ سے اگر عالیہ فاروق سے دور جارہی تھی۔۔۔۔ یہ تو تہمینہ کے لیے اچھا تھا۔۔۔۔
شفیق فاروق کی غیر موجودگی میں دو تین بار پھر عالیہ کے گھر آچکا تھا۔۔۔۔
تہمینہ نے دونوں کی کچھ تصاویر بھی لی تھیں۔۔۔ اور تصاویر ایسے لی گئ تھیں کہ۔۔۔ دیکھنے والے کو لگ رہا تھا کہ۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے ہیں۔۔۔۔
عالیہ شفیق کی وجہ سے بہت پریشان تھی۔۔۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ۔۔۔ آج فاروق کو شفیق کے بارے میں سب کچھ بتا دے گی۔۔۔۔
ابھی عالیہ یہی سوچ رہی تھی۔۔۔ جب شفیق نے اسے ایک ویڈیو بھیجی تھی۔۔۔ جس میں فیری تھی اور ساتھ لکھا ہوا تھا کہ۔۔۔ اس ایڈریس پر آجاؤ اور اپنے شوہر کو تم نے کچھ بتایا تو۔۔۔۔ تمھاری بیٹی کی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔۔۔
مجبوراً عالیہ کو جانا پڑا تھا۔۔۔ کیونکہ یہاں بات اس کی بیٹی کی تھی۔۔۔
عالیہ جب اس ایڈریس پر پہنچی تو۔۔۔ شفیق فیری کو اس کے گھر بھیج چکا تھا۔۔۔
اور اس نے عالیہ کو قید کر لیا تھا۔۔۔
باقی کا کام تہمینہ کا تھا۔۔۔ تہمینہ نے ایک خط ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔ اس میں کیا لکھا تھا۔۔۔ یہ صرف تہمینہ کو معلوم تھا۔۔۔
فاروق گھر آیا تو اس نے عالیہ کو پورے گھر میں ڈھونڈا تھا۔۔۔ لیکن اسے عالیہ کہی نہیں ملی تھی۔۔۔
فاروق کو دراز سے کچھ تصویریں ملی تھیں جو فاروق اور عالیہ کی تھی۔۔۔۔
اور پھر جب فاروق نے خط پڑھا تو اسے یقین ہو گیا تھا۔۔۔۔ کہ عالیہ پیسوں کی خاطر اسے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔۔۔ اور جو تھوڑا بہت اسے عالیہ پر یقین تھا۔۔۔
وہ بھی تہمینہ نے آکر ختم کر دیا تھا۔۔۔۔
تہمینہ نے فاروق سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔ کہ اس نے اپنی آنکھوں سے کافی بار عالیہ اور فاروق کو ایک ساتھ دیکھا ہے۔۔۔ اور عالیہ تو کہہ رہی تھی کہ وہ تمھیں چھوڑ دے گی۔۔۔۔
کیونکہ تم امیر نہیں ہو تہمینہ نے جلتی میں تیل ڈالنے والا کام کیا تھا۔۔۔۔
اور فاروق نے یقین بھی کر لیا تھا۔۔۔ اسے ایک بار خیال نہیں آیا کہ۔۔۔ فاروق کے لئے عالیہ اپنی دولت اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر آئی تھی۔۔۔۔
جو فاروق کو دکھایا جارہا تھا جو بتایا جارہا۔۔۔
اسے بس اس پر ہی یقین تھا۔۔۔۔
فاروق نے عالیہ کے گھر جھوٹی خبر بھیج دی تھی۔۔۔ کہ عالیہ اور فیری کی موت ہوچکی ہے۔۔۔
فاروق نے فیری کا نام بھی تبدیل کر دیا تھا کیونکہ ماہی نام عالیہ نے رکھا تھا۔۔۔
تہمینہ سے شادی کے بعد فاروق اپنا گھر بیچ کر دوسرے شہر آگیا تھا۔۔۔۔
اسے اپنی بیٹی میں بھی عالیہ نظر آتی تھی۔۔۔ اس لئے اسے فیری سے بھی نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔
فیری نے کافی بار اپنے باپ کو بتانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ لیکن فاروق فیری سے بات نہیں کرتے تھے۔۔۔۔
اس وقت فیری کافی چھوٹی تھی۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ اس نے بھی اپنے باپ سے بات کرنی چھوڑ دی تھی۔۔۔۔
…………
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
