No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
کیا ہوا۔۔۔؟
اینجل کا کچھ معلوم ہوا۔۔۔؟ شاہ نے وجدان سے پوچھا۔۔۔ جو خود پریشان لگ رہا تھا۔۔۔
ہاں مجھے معلوم ہو گیا ہے۔۔۔
وجدان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے شاہ کو بتاۓ۔۔۔
وجی کیا ہوا ہے۔۔۔؟ مجھے بتاؤ کوئی پریشانی ہے۔۔۔ شاہ نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں شاہ۔۔۔۔
اس میں اینجل اور اس کی بہن کی تصاویر ہے۔۔۔۔ اور گھر کا ایڈریس بھی ہے۔۔۔ وجدان نے لفافہ شاہ کے سامنے رکھا۔۔۔ اور خود کھڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔ اور ٹھنڈی ہوا کو اپنے اندر اتاربے لگا۔۔۔۔۔
شاہ نے جب تصویر نکالی تو تصویر دیکھ کر اس کے پیروں تلے زمین نکل گئ تھی۔۔۔۔
اگر شاہ بیٹھا نا ہوتا تو یقیناً اس نے گر جانا تھا۔۔۔۔
یہ۔۔۔ کیسے۔۔۔ ہو۔۔۔ سکتا۔۔۔ ہے۔۔۔ شاہ کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کے نکل رہے تھے۔۔۔
وجدان شاہ یہ کیا مزاق ہے۔۔۔۔ یہ میری اینجل کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔۔ اس کا نام تو فریال ہے میری اینجل کا نام ماہی تھا۔۔۔۔
شاہ نے سرخ آنکھوں سے وجدان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اسے ابھی بھی سب مزاق لگ رہا تھا۔۔۔
ازلان حیدر شاہ یہ سچ ہے۔۔۔ وجدان نے باہر سڑک پر چلتی گاڑیوں کو دیکھ کر کہا۔۔۔
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو۔۔۔
ہو سکتا ہے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہو۔۔۔
شاہ نے کہا اسے ابھی بھی یہی لگ رہا تھاکہ یہ سب غلط فہمی ہی ہے۔۔۔۔
ازلان حیدر شاہ میں خود یہ سب معلوم کر چکا ہوں۔۔۔ اور مجھے پورا یقیں ہے کہ فریال ہی اینجل ہے۔۔۔۔
اور اگر تمہیں یقین نہیں آرہا تو اس کے گھر جاکر معلوم کر لو۔۔۔۔
وجدان نے اب حیدر کی طرف مڑتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔
شاہ نے اپنی گاڑی کی چابیاں پکڑی تھی اور باہر نکل گیا تھا۔۔۔
…………..
بہو ازلان حیدر شاہ کو فون کرو۔۔۔
اور اسے کہو میں اس سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ داجی نے ہیرا بیگم کو کہا۔۔۔
جی داجی ہیرا بیگم نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
………….
شاہ اس وقت فیری کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔۔۔
اس کا دل حد سے زیادہ گھبرا رہا تھا۔۔۔ اور یہ سب شاہ کے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا۔۔۔
شاہ کو وجدان پر پورا یقین تھا کہ وجدان کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔ لیکن وجدان کی بات کی نفی کر کے شاہ اپنے دل کو تسلی دے رہا تھا۔۔۔
شاہ نے ہمت کرکے دروازے کھٹکھٹایا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد فاروق صاحب نے دروازہ کھولا۔۔۔ فاروق صاحب نے تو ازلان حیدر شاہ کو نہیں پہچانا تھا۔۔۔
لیکن شاہ کی حالت ایسی تھی جیسے ابھی گر جائےگا۔۔۔
اس نے دیوار کا سہارا لیا تھا۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا تم ٹھیک ہو۔۔۔
فاروق صاحب نے جلدی سے شاہ کو سہارا دیتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ جس کی شکل دیکھ کر لگ رہا تھا اسے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔۔۔
تھوڑی دیر تک شاہ فاروق صاحب کو دیکھتا رہا تھا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں شاہ نے کہا۔۔۔ اور فاروق صاحب سے تھوڑا پیچھے ہوکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
یہ آپ کا گھر ہے شاہ نے پوچھا شاہ نے کافی حد تک خود کو سنبھال لیا تھا۔۔۔۔
ہاں یہ میرا گھر ہے لیکن تم کون ہو؟
میں نے تمہیں پہچانا نہیں۔۔۔ فاروق صاحب نے کہا۔۔۔
پہلے اندر تو آنے دیں سسر جی۔۔۔ پھر آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔
شاہ نے اندر آتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے اور ہو کون تم۔۔۔؟ اس بار فاروق صاحب نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔
عالیہ کو تو آپ جانتے ہی ہونگے۔۔۔ میں ان کا بھانجا ہوں۔۔۔۔ اور ماہی کا شوہر بھی جس کے مرنے کی خبر آپ نے حویلی بھیجی تھی۔۔۔۔
شاہ نے آرام سے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔ چہرہ حد سے زیادہ سنجیدہ تھا۔۔۔
تم ازلان حیدر شاہ ہو۔۔۔؟ فاروق صاحب نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
واہ سسر جی۔۔۔۔ آپ نے مجھے پہچان لیا اور اب تو ہمارا رشتہ اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔۔۔ شاہ نے کہا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔؟
فاروق صاحب نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔
اتنے میں تہمینہ بھی آگئی تھی۔۔۔
اسے شاہ کو پہچانے میں دیر نہیں لگی تھی۔۔۔ کیونکہ شفیق تہمینہ کو شاہ کی تصویر دکھا چکا تھا۔۔۔۔
مطلب کو چھوڑیے سسر جی۔۔۔ پہلے آپ یہ بتائیں۔۔۔ آپ نے ہم سب سے جھوٹ کیوں بولا کہ پھپھو اور ماہی مر چکی ہیں۔۔۔۔
شاہ نے فاروق کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔ لہجہ سختی لیے ہوئے تھا۔۔۔۔
اس سے پہلے فاروق صاحب کچھ بولتے تہمینہ بول پڑی تھی۔۔۔
چھوٹ اس لیے بولا کیونکہ فاروق کو اپنی عزت عزیز تھی۔۔۔۔ اب کیا یہ سارے زمانے کو بتاتے پھرتے کہ ان کی بیوی اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئ ہے۔۔۔۔ تہمینہ بیگم آگے بھی کچھ کہتی لیکن شاہ کی آواز نے ان کو خاموش کروایا تھا۔۔۔۔
آپ مجھ سے بڑی ہے اور میری ماں کی عمر کی ہے اس لیے لحاظ کررہا ہو۔۔۔
لیکن خبردار اگر میری پھپھو کے بارے میں کچھ بھی غلط بولا تو بہت برا پیش آؤ گا۔۔۔۔
اور امید کرتا ہوں آئندہ بولنے سے پہلے آپ ضرور سوچے گی۔۔۔
شاہ نے تہمینہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔۔۔
آواز اور چہرے پر ایسی سختی تھی کہ تہمینہ بھی ڈر کر تھوڑا پیچھے ہوگئ تھی۔۔۔
میری بیوی کہا ہے؟
میں اسے لینے آیا ہوں اور میں اپنی پھپھو کو بھی ڈھونڈ لوں گا۔۔۔
شاہ نے فاروق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کس کی بات کر رہے ہو۔۔؟ فاروق نے پوچھا۔۔۔
فریال میری بیوی ہے۔۔۔ اور میں نے اس سے زبردستی نکاح کیا تھا۔۔۔ اب میں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں وہ کہا ہے۔۔۔؟
شاہ نے تہمینہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
تہمینہ شاہ کی بات سن کر پریشان ہوگئ تھی۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا فریال تو اس دن کے بعد گھر نہیں آئی۔۔۔؟؟ فاروق صاحب نے شاہ کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے۔۔۔ آپ لوگ مجھ سے جھوٹ بولے گے۔۔۔۔ اور میں مان لوں گا میں خود دو دن پہلے فریال کو یہاں چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔۔
کہا ہے وہ۔۔۔؟
شاہ نے دھاڑتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
فاروق صاحب کو تو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
تہمینہ ڈر کے مارے جلدی سے بول پڑی تھی۔۔۔ وہ گھر آئی تھی۔۔۔ لیکن جب میں نے اسے کمرے میں بھیجا۔۔۔ تو وہ گھر سے ہی نکل گئ تھی۔۔۔ اس سے آگے مجھے کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔۔۔
تہمینہ کی بات سن کر شاہ کو لگا تھا۔۔۔ اس نے ایک بار پھر سے اپنی اینجل کو کھودیا ہے۔۔۔۔
مجھے آج سچ میں عالیہ پھوپھو کے انتخاب پر افسوس ہورہا ہے۔۔۔۔
جو نا اپنی بیوی کی حفاظت کرسکا۔۔۔ اور نا اپنی بیٹی کی۔۔۔
شاہ نے غصے میں فاروق صاحب کو کہا اور وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
……………
فریال گھر آئی تھی تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔؟ پھر سے تم نے اسے کچھ کہا ہو گا۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ گھر سے چلی گئ۔۔۔۔
فاروق صاحب نے غصے سے کہا۔۔۔۔ آج کافی سالوں بعد فاروق صاحب اپنی بیٹی کے حق میں بول رہے تھے۔۔۔۔۔
میں نے اسے کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم وہ گھر سے کیو چلی گئ۔۔۔۔ اور آپ کو میں نے اس لیے نہیں بتایا تاکہ آپ ٹینشن نا لیں۔۔۔۔
تہمینہ نے جلدی سے کہا۔۔۔۔ اور وہ وہاں سے چلی گئ تھی۔۔۔
فاروق صاحب کرسی پر ڈھہ سے گئے تھے اور شاہ کی باتوں کو سوچنے لگے تھے۔۔۔۔
…………
شاہ نے اپنے بندے کو فریال کی تلاش میں لگا دیا تھا۔۔۔ لیکن فیری کی کوئی خبر نہیں تھی۔۔۔۔
شاہ تھک ہار کر وجدان کے پاس آیا تھا۔۔۔
وجدان نے جو شاہ کے بارے میں سوچا تھا شاہ کی حالت اس سے زیادہ خراب تھی۔۔۔۔
کپڑوں پر دھول لگی ہوئی تھی۔۔۔ بال بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔
تم ٹھیک ہو۔۔۔؟
وجدان نے شاہ کو پانی کا گلاس پکڑتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
وجی میں نے تمہاری بات نہیں مانی۔۔۔ دیکھو میری اینجل میرے بلکل سامنے تھی۔۔۔ اور میں نے اسے پھر سے کھو دیا ہے۔۔۔۔
اور جانتے ہو میرے ساتھ ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا۔۔۔ میرے ساتھ بلکل ٹھیک ہوا ہے۔۔۔ میں اسی قابل تھا۔۔۔۔ میں نے اپنی اینجل کو بہت تکلیف پہنچائی ہے۔۔۔ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔۔۔۔
دیکھو میں نے اپنے ہاتھوں سے سب کچھ کھودیا۔۔۔
جانتے ہو میں نے کہیں پڑھا تھا۔۔۔ کسی کو کھو کر پا لینا یا پاکر کھو دینا۔۔۔ یہ سب قسمت کا کھیل ہوتا ہے۔۔۔
اور میری قسمت میں بھی یہی لکھا تھا۔۔۔
میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔ میں نے اپنی اینجل کو پاکر کھودیا ہے۔۔۔۔ شاہ بہت آہستہ آواز میں وجدان کو کہہ رہا تھا۔۔۔۔
اللہ نے مجھے آزمایا۔۔۔ لیکن میں اس آزمائش پر پورا نہیں اتر سکا۔۔۔۔ وجی میں ہار گیا۔۔۔ وجی وہ پھر سے مجھ سے بہت دور چلی گئ ہے۔۔۔ شاہ نے وجدان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ شاہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
شاہ رو رہا تھا۔۔۔
اگر کوئی بھی اس شاندار مرد کو روتا ہوا دیکھ لیتا تو کبھی بھی یقین نہیں کرتا۔۔۔
وجدان کو بہت دکھ ہورہا تھا۔۔۔ اس نے پوری کوشش کی تھی۔۔۔ کہ شاہ کوئی بھی ایسا کام ناکرے لیکن اب جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔۔۔۔
شاہ تم اینجل سے معافی مانگ لینا۔۔۔ تم حوصلہ رکھو اللہ سب بہتر کرے گا۔۔۔ وجدان نے شاہ کو سمجھاتے ہوۓ کہا۔۔۔
وجی مجھے معلوم نہیں ہے۔۔۔ وہ کہاں ہے شاہ نے کہا اور ساری بات وجدان کو بتا دی۔۔۔۔
شاہ اللہ نے اینجل کی پہلے بھی حفاظت کی ہے۔۔۔ آگے بھی کرے گا تم بس دعا کرو اینجل جہاں بھی ہو ٹھیک ہو۔۔۔
وجدان نے شاہ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔
اسے بھی ٹینشن ہورہی تھی۔۔۔ لیکن شاہ کے سامنے اس بات کا زکر نہیں کیا۔۔۔
……………
وجدان اپنے آفس کے روم میں کھڑا تھا۔۔۔
جب اسے رابی کسی لڑکے کے ساتھ جاتی ہوئی دکھائی دی۔۔۔۔ اور رابی اس لڑکے سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔۔۔
وجدان کا یہ سب دیکھ کر خون کھول رہا تھا۔۔۔
میرے ساتھ کبھی سیدھے منہ بات نہیں کی میڈم نے۔۔۔ اور اب کیسے ہنس ہنس کر باتیں کررہی ہے۔۔۔ وجدان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
رابی وہاں سے جا چکی تھی وجدان ابھی بھی اسی جگہ کو گھور رہا تھا۔۔۔
آج رابی کو لینے اظہر آیا تھا۔۔۔ یہ کچھ دنوں سے ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔۔۔۔
……………
جاری ہے۔۔۔۔۔
