No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
شاہ دیکھ یار سب کچھ بہت جلدی میں ہوا تھا۔۔۔ اور تو بھی بزی تھا۔۔۔ وجدان نے جلدی سے اپنی صفائی دینی چاہی۔۔۔ تو شاہ نے کہا۔۔۔
اتنا بھی بزی نہیں تھا کہ ایک فون کال نا سن سکتا۔۔۔ شاہ نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
اچھا چل تجھے اپنی بیوی سے ملوا تا ہوں۔۔۔ وجدان نے شاہ کو کہا۔۔۔
میں آج بھی اتنا ہی بزی ہوں جا خود جا کے مل آ اپنی بیوی سے۔۔۔۔ شاہ نے منہ بناتے ہوۓ کہا۔۔۔
وجدان شاہ کی شکل دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔۔۔
یار تجھے سارا معاملہ بتاتا ہوں وجی نے بے چارگی سے کہا۔۔۔
شاہ کو بھی وجدان کی شکل دیکھ کر ترس آگیا تھا اس لیے اس کے ساتھ چل پڑا۔۔۔
💖————💖
شاہ جب وجدان کے گھر آیا تو رابی کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔۔۔
یہ تمھاری سیکرٹری تھی نا۔۔۔؟ شاہ نے وجدان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ہاں اور اب بیوی بھی ہے وجدان نے رابیل کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ رابی نے شاہ کو دیکھتے ہی کہا۔۔۔۔
کیسی ہیں آپ۔۔۔۔؟ وجدان آپ کو تنگ تو نہیں کرتا۔۔۔؟ شاہ نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا۔۔۔۔
شاہ کے سوال پر رابی نے وجدان کی طرف دیکھا تھا جو رابی کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
رابی نے نا میں سر ہلایا تھا۔۔۔
راستے میں وجدان نے شاہ کو رابی کے بارے میں بتا دیا تھا۔۔۔
اور یہ بھی بتایا تھا کہ رابی فیری کی بڑی بہن بھی ہے۔۔۔۔ شاہ کو یہ جان کر خوشی ہوئی تھی۔۔۔
وجی پھر اپنی بیوی کو حویلی کب لے کر آرہے ہو۔۔۔شاہ نے وجدان سے پوچھا۔۔۔
جب تم اپنی بیوی کا تعارف حویلی والوں سے کرواؤ گے۔۔۔ وجدان نے مزاح میں کہا۔۔۔
تو پھر تم بھی تیار ہوجاؤ کیونکہ میں بہت جلد حویلی والوں کو سر پرائز دینے والا ہوں۔۔۔شاہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
رابی کھڑی دونوں بھائیوں کی نوک جوک دیکھ رہی تھی۔۔۔
اوکے وجی اب میں چلتا ہوں شاہ نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ اسے عالیہ بیگم کے پاس بھی جانا تھا۔۔۔
بھائی آپ کھانا تو کھا کر جاۓ۔۔۔ وجدان نے سارا کھانا خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔۔۔ رابی نے مسکراتے ہوۓ شاہ کو کہا۔۔۔
رابی کی بات سن کر شاہ مسکرا پڑا تھا۔۔۔۔
بلکل میری بہن کے شوہر نے اتنے پیار سے کھانا بنایا ہے میں ضرور کھا کر جاؤ گا۔۔۔۔ شاہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
وجدان کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ رابی نے اس کی تعریف کی ہے یا بےعزتی۔۔۔۔ رابی کچن میں چلی گئ تھی۔۔۔
اووو بھائی اس نے تیری بےعزتی اور تعریف دونوں کی ہے زیادہ نا سوچ اب تو یہ چلتا رہے گا۔۔۔ شاہ نے وجدان کو کہا اور اندر چلا گیا۔۔۔
اسے کیسے معلوم ہوا کہ میں کیا سوچ رہا ہوں وجدان نے دل میں سوچا اور خود بھی اندر چلا گیا۔۔۔
💖————💖
آپی کسی خاص سے ملنے جارہی ہیں آپ۔۔۔؟ لائبہ نے اسما سے پوچھا جو کب سے اسی سوچ میں گم تھی کہ کیا پہن کر جاۓ۔۔۔
کیا مطلب تمہیں بتایا تو تھا ایک لڑکے نے میری مدد کی تھی تو پیسے لوٹانے جارہی ہوں۔۔۔ اسما نے کہا۔۔۔
تو آپی آپ کوئی سے بھی کپڑے پہن لے۔۔۔۔ پہلے تو آپ نے کبھی بھی اتنی کپڑوں کی ٹینشن نہیں لی۔۔۔۔ لائبہ نے مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ کہا۔۔۔
تم نا خاموش رہو۔۔۔۔ اسما سے جب کوئی بات نہیں بنی تو لائبہ کو خاموش ہونے کا کہہ کر جلدی سے چینج کرنے چلی گئ۔۔۔۔
💖————💖
شمس کافی دیر سے بیٹھا اسما کا انتظار کررہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔۔
پتہ نہیں کب یہ لڑکی اپنا دیدار کرواۓ گی۔۔۔ شمس نے دل میں سوچا لیکن جب سامنے نظر گئ تو پلٹنا بھول گئی۔۔۔۔
اسما نے بلیو کلر کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔
اور لمبے سے ڈوپٹے کے ساتھ الجھی ہوئی تھی۔۔۔ اس کے چہرے پر الجھن دیکھ کر ہی معلوم ہو رہا تھا کہ اس نے آج پہلی بار اتنا بڑا ڈوپٹہ لیا ہے۔۔۔ لیکن شلوار قمیض میں اسما بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔۔
اسما کو دیکھ کر شمس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔
ایم سو سوری۔۔۔ مجھے آنے میں دیر ہوگئ۔۔۔ اسما نے شمس کے سامنے بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
کوئی بات نہیں میں خود تھوڑی دیر پہلے آیا ہوں۔۔۔ شمس نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
اووو یہ تو اچھا ہو گیا۔۔۔۔
کچھ آڈر کیا کہ نہیں اسما نے شمس سے پوچھا۔۔۔؟
نہیں آپ کو جو پسند ہے آڈر کر لے۔۔ شمس نے اسما کے چہرے پر نظریں گاڑھے کہا۔۔۔
اوکے۔۔۔” اسما نے کہا۔۔۔
یہ آپ کے پیسے۔۔۔ اسما نے پیسے شمس کے آگے کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
شمس نے پہلے پیسوں کی طرف دیکھا پھر اسما کی طرف۔۔۔
اب میں ایک خوبصورت لڑکی سے پیسے لیتا ہوا اچھا لگو گا۔۔۔؟ شمس نے اسما کو کہا۔۔۔
آپ مجھ سے فلرٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔؟ اسما نے شمس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ویل فلرٹ نہیں کہہ سکتی آپ البتہ میرا دل کرتا ہے آپ سے باتیں کرتا رہوں۔۔۔” شمس نے صاف گوئی سے کہا۔۔۔۔
اور اسما کو شمس کی صاف گوئی پر حیرانگی ہوئی تھی۔۔۔
سامنے والے شخص میں کچھ تو ایسا خاص تھا جو اسما کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔
مسٹر اپنا نام ہی بتا دیں۔۔۔ اسما نے بات بدلتے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
شمس میرا نام شمس ہے۔۔۔ شمس نے کہا۔۔
اور میرا نام اسما ہے اسما سلیمان شاہ۔۔۔ اسما نے کہا۔۔۔
آپ یہی رہتے ہیں۔۔۔؟ اسما نے شمس سے پوچھا۔۔۔
نہیں میں کچھ وقت کے لیے یہاں آیا ہوں۔۔۔ شمس نے کہا اور پھر دونوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کرنے لگے تھے۔۔۔۔
💖————💖
شفیق جب اپنے گھر آیا تھا تو اس کمرے میں آیا لیکن اسے عالیہ کہی بھی نظر نہیں آئی تھی۔۔۔
شفیق نے پورے گھر میں عالیہ کو دیکھ لیا تھا لیکن اسے عالیہ کہی نہیں ملی تھی۔۔۔
کہاں جاسکتی ہے۔۔۔؟؟؟
عالیہ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ خود کہی جاسکے اس کا مطلب کوئی اسے یہاں سے لے گیا ہے لیکن کون۔۔۔؟؟؟
عالیہ کا تو کسی کو بھی معلوم نہیں تھا یہاں تک کہ شمس کو بھی نہیں پھر کیسے شفیق نے ٹہلتے ہوۓ پریشانی سے سوچا۔۔۔۔
اس والے گھر کا صرف شمس کو معلوم تھا۔۔۔ لیکن وہ کبھی بھی اس گھر میں نہیں آیا تھا۔۔۔
💖————💖
اظہر تہمینہ بیگم سے ملنے آیا تھا اس نے تہمینہ سے معافی بھی مانگی تھی اور تہمینہ نے معاف بھی کر دیا تھا۔۔۔۔
خالہ جان آپ تو جانتی ہے میں رابی کو کتنا چاہتا ہوں۔۔۔ کیا آپ رابی کو واپس لانے میں میری مدد کریں گی۔۔۔۔
اظہر نے تہمینہ سے پوچھا جو یہ بات بلکل ہی فراموش کر گئ تھی کہ اظہر نے ان کی بیٹی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ لیکن ابھی بھی ان کو رابی سے زیادہ اظہر عزیز تھا
کیونکہ دونوں ایک جیسے ہی تھے۔۔۔
میں خود ایسا چاہتی ہوں بیٹا۔۔۔ میں نے شروع سے سوچا تھا کہ رابی تمہاری ہی دلہن بنے گی۔۔۔ تم اپنے آپ کو اکیلا نا سمجھنا۔۔۔۔ میں تمھارے ساتھ ہوں اور ویسے بھی مجھے وہ لڑکا اپنی رابی کے لیے بلکل بھی اچھا نہیں لگا۔۔۔۔تہمینہ نے کہا۔۔۔۔
تہمینہ کی بات سن کر اظہر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔۔۔۔
وجدان شاہ رابی میری تھی اور میری ہی رہے گی۔۔۔۔ میں رابی کو تم سے چھین لوں گا۔۔۔۔
اظہر نے نفرت سے سوچا۔۔۔
💖————💖
بھابھی سدف کو ہم سب سے جھوٹ نہیں بولنا چاہے تھا۔۔۔ کتنا دکھ ہوا ہو گا داجی کو ماہین بیگم نے ہیرا بیگم کو کہا جو سبزی کاٹ رہی تھیں۔۔۔
ہممم دکھ تو اُن کو بہت ہوا ہے ماہین لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔ بس یہی کہہ سکتے ہیں اللہ سدف کو ہدایت دے۔۔۔۔ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔۔
اتنے میں سدف بھی کچن میں آگئ تھی۔۔۔۔
بھابھی پلیز آپ دونوں مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔ سدف نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
سدف تم جانتی ہو ہم سب کتنا پریشان ہوگئے تھے۔۔۔ تم ایک بار تو ہم سب کے بارے میں سوچتی۔۔۔۔ اور داجی کو کتنی تکلیف پہنائی ہے تم نے۔۔۔۔ ہیرا بیگم نے دکھ سے سدف کو کہا۔۔۔
بھابھی میں جانتی ہوں اور مجھے اپنی غلط کا احساس بھی ہوگیا ہے۔۔۔ میں داجی سے بھی معافی مانگ لوں گی لیکن پلیز آپ دونوں بھی مجھے معاف کر دیں۔۔۔ سدف نے کہا ۔۔۔۔
تم رونا بند کرو اور ہم دونوں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔۔۔ لیکن داجی تم سے بہت زیادہ خفا ہے ان سے معافی مانگ لو۔۔۔۔
ماہین بیگم نے سدف کو کہا۔۔۔۔
جی بلکل میں داجی سے معافی مانگ لوں گی
آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ میری غلطی پر مجھے معاف کرنے کے لئے۔۔۔ سدف نے دونوں کے گلے لگتے ہوئے کہا۔۔۔
💖————💖
لگتا ہے شاہ مجھ سے ناراض ہوگئے ہیں۔۔۔ اب کیا کروں میں فیری نے اپنے ناخن چباتے ہوۓ سوچا۔۔۔
انہوں نے بھی تو مجھے کتنی تکلیف پہنائی تھی۔۔۔ فیری نے خود سے کہا۔۔۔
ہاں انہوں نے بھی مجھے تکلیف پہنائی تھی اور میں نے کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا۔۔۔
فیری نے اپنے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔ لیکن اس کا دل اس دلیل پر ابھی بھی مطمئن نہیں ہوا تھا۔۔۔
یااللہ شاہ کے ناراض ہونے سے مجھے کیوں برا لگ رہا ہے۔۔۔ فیری نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔
اف کیا ہوریا ہے میرے ساتھ فیری نے اپنا سر پکڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ جب بھی واپس آۓ گے میں ان سے معافی مانگ لوں گی۔۔۔۔ فیری نے خود سے کہا اب اس کے دل کو سکون ملا تھا۔۔۔
💖————💖
داجی نماز پڑھ کر فارغ ہوۓ تھے جب انہوں نے سدف کو اپنے کمرے میں دیکھا۔۔۔۔
تم کیا لینے آئی ہو یہاں چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔ داجی نے غصے سے کہہ کر منہ پھیر لیا۔۔۔۔
داجی میں جانتی ہوں میں نے آپ کا دل دکھایا ہے
آپ کو تکلیف پہنچائی ہے۔۔۔
میں جانتی ہوں میں معافی کے بھی قابل نہیں ہوں۔۔۔ لیکن میں آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔
میں یہاں سے چلی جاؤ گی بس مجھے آپ معاف کر دیں۔۔۔۔ سدف نے داجی کے قدموں میں بیٹھتے ہوۓ رو کر کہا۔۔۔
داجی کی بھی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔۔۔ ایک ہی تو بیٹی ان کے پاس تھی اسے بھی اپنے سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔
سدف میں نے تمہیں معاف کیا لیکن یاد رکھنا یہ آخری بار ہے اس کے بعد تمھیں معافی نہیں ملے گی اور اب مجھے نوافل پڑھنے ہے تم جاؤ یہاں سے داجی نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔
سدف اسی بات پر خوش ہوگئ تھی کہ داجی نے اسے معاف کر دیا ہے۔۔۔۔
جی داجی سدف نے خوشی سے کہا اور کمرے سے چلی گئ۔۔۔۔
💖————-💖
اسما اپنی فرینڈز کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی جب اس کی ایک دوست نے کہا۔۔۔
اسما آج تک تم نے ہمارے سارے چیلنج پورے کیے ہے۔۔۔ آج بھی تمہیں ہم ایک چیلنج دیتے ہیں اگر تم نے پورا کر لیا تو تم جو کہو گی میں وہ کرو گی اسما کی فرینڈ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اچھا اور وہ چیلنج کیا ہے۔۔۔؟
اسما نے کولڈ ڈرنک کا سیپ لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔
وہ سامنے لڑکوں کا گروپ دیکھ رہی ہو اسما کی فرینڈ نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا باقی سب لڑکیاں بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہوگئ تھیں۔۔۔۔
ہاں اور جس لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی بیٹھی ہوئی ہے یقیناً وہ اس لڑکے کی گرل فرینڈ ہوگی تمہیں اس لڑکے کا بریک اپ کروانا ہے۔۔۔ سمپل اسما کی فرینڈ نے ساری بات بتاتے ہوئے کہا۔۔۔
بس یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اسما نے خوشی سے کہا۔۔۔ اور ان لڑکوں کی ٹیبل کی طرف چلی گئ۔۔۔
شمس یہاں اپنے دوست کو ملنے آیا تھا اور اسما کے پاس والی ٹیبل پر ہی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
اور ان کی ساری باتیں بھی سن چکا تھا ۔۔۔
لگتا ہے یہ لڑکی پاگل ہے اور ساتھ اس کی فرینڈز بھی شمس غصے سے منہ میں بڑبڑایا۔۔۔
شمس اپنی جگہ سے اٹھنے ہی والا تھا جب اس کا دوست وہاں آگیا۔۔۔
مجبوراً شمس کو وہاں بیٹھنا پڑا لیکن اس کا سارا دھیان اسما کی طرف ہی تھا۔۔۔۔ جو پتا نہیں اس لڑکے کو کیا کہہ رہی تھی۔۔۔۔
💖————💖
شاہ جب واپس آیا تو اپنے کمرے میں فیری کو دیکھ کر اسے خوشگواری حیرت ہوئ تھی۔۔۔۔ پر اس نے ظاہر نہیں کیا تھا۔۔۔
تم یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو۔۔۔ شاہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
وہ مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔۔۔ فیری نے نظریں جھکا کہا اور شاہ کو فیری اس وقت بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔۔۔
کہو میں سن رہا ہوں شاہ نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوۓ کہا۔۔۔
شاہ کی بات سن کر فیری نے شاہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
آپ یہ کیا کررہے ہیں۔۔؟ فیری نے جلدی اپنا رخ تبدیل کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
شاہ فیری کی حرکت پر مسکرا پڑا تھا۔۔۔
محترمہ اس وقت آپ میرے کمرے میں کھڑی ہے۔۔۔۔ اور میں اپنے کمرے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔ شاہ نے فیری کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
کہو کیا کہنا تھا شاہ نے فیری کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
وہ میں نے آپ سے معافی مانگنی تھی جو کچھ بھی میں نے آپ کو کہاں تھا میں اس بات پر شرمندہ ہوں۔۔۔ فیری نے کہا۔۔۔۔
اوووو تو محترمہ کو احساس ہے کہ انہوں نے غلط کہا تھا۔۔۔۔ شاہ نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
آپ مجھ سے ناراض تھے نا اس لئے میں نے سوچا آپ سے معافی مانگ لوں۔۔۔ فیری نے نظریں اٹھا کر شاہ کو کہا۔۔۔
شاہ کو اس بات کی خوشی ہوئی تھی کہ فیری کو شاہ کی ناراضگی سے فرق پڑرہا تھا۔۔۔
مانگو معافی۔۔۔ شاہ نے فیری سے کہا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟
مانگ تو لی ہے۔۔۔ فیری نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
محترمہ آپ نے کب معافی مانگی۔۔۔؟ شاہ نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔۔
میں نے ابھی تو کہا کہ میں شرمندہ ہوں اور معافی مانگنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ اس کا مطلب ہوا میں نے آپ سے معافی مانگ لی ہے۔۔۔۔ فریال نے لمبی چوڑی بے تکی سی دلیل دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور مجھے بتاو کس کتاب میں لکھا ہے کہ ایسےمعافی مانگتے ہیں۔۔۔۔؟ شاہ نے مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
جہاں بھی لکھا ہو میں نے آپ سے معافی مانگ لی ہے۔۔۔۔ اب میں جارہی ہوں۔۔۔۔ فیری نے کہا اور وہاں سے جانے لگی جب شاہ نے فیری کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھنچا تھا۔۔۔۔ فیری شاہ کے سینے سے جالگی تھی اور اسی وقت سدف کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔۔۔۔
شاہ تو ویسے ہی کھڑا تھا لیکن فیری سدف کو دیکھ کر جلدی سے شاہ سے پیچھے ہوکر کھڑی ہوگئ تھی۔۔۔۔
فیری کو لگ رہا تھا آج پھر اس کی عزت کا جنازہ نکنے والا ہے۔۔۔۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس وقت وہ اپنے شوہر کے گھر میں کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ جو اس کی عزت پر آنچ بھی نہیں آنے دے گا۔۔۔
سدف منہ ہر ہاتھ رکھے آنکھیں پھاڑے دونوں کی شکلوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔۔💞💞
