No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
ڈیڈ آپ سمجھ نہیں رہے
میں اُس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں..
شمس نے اس بار تھوڑا غصے سے کہا
وہ کب سے اپنے باپ کو سمجھا رہا تھا
جو سمجھبے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
بیٹا ایک غریب گھرانے کی لڑکی کو میں کبھی بھی اپنی بہو نہیں بناؤ گا۔
اگر تم چاہو تو وہ لڑکی آج رات تمھارے بیڈروم میں موجود ہوگی
لیکن شادی ہرگز نہیں ہونے دو گا
شفیق صاحب نے اپنا فیصلہ سنایا اور وہاں سے چلے گۓ ۔
ڈیڈ مجھے وہ لڑکی ایک رات کے لیے نہیں چاہیئے مجے وہ ساری زندگی کے لۓ چاہیے ۔
اور شادی تو میں اُسی لڑکی سے ہی کروں گا وہ بھی آپ کی رضامندی سے شمس نے دل میں سوچا
اور خود بھی وہاں سے چلا گیا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
رابی بیٹا تمہاری جاب کا کیا بنا تہمینہ بیگم نے اپنی بیٹی سے پوچھا۔
امی اِنٹرویو تو دے آئ ہوں لیکن مجھے امید نہیں ہے کہ مجھے وہ جاب مل جاۓ گی۔
رابی نے مایوسی سے کہا
رابی بی اے کی طلبہ تھی
باپ اکثر بیمار رہتا تھا
رابی نے سوچ لیا تھا اپنی پڑھائی کے ساتھ جاب بھی سٹارٹ کرے گی
تاکہ اپنے باپ کا سہارا بن سکے لیکن رابی کافی اِنٹرویوز دے چکی تھی
لیکن ابھی تک رابی کو جاب نہیں ملی تھی
کیونکہ رابی کے پاس کسی قسم کا کوئ ایکسپیرینس
بھی نہیں تھا ۔
تم فکر مت کرو تمہیں جاب مل جاۓ گی
تہمینہ بیگم نے پیار سے کہا
اچھا چلو کھانا کھا لو صبح سے تم نے کچھ نہیں کھایا تہمینہ بیگم نے اٹھتے ہوئے کہا
امی کھانا کس نے بنایا ہے رابی نے اپنی ماں کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اور رابی کو یقین تھا کہ اس کی ماں فیری کا نام لے گی۔
ارے بیٹا تمھاری نالائق بہن کو کہا تھا پتہ نہیں اب اُس نے کھانا کگانے لائق بنایا بھی ہے کہ نہیں تہمینہ بیگم نے نحوست سے کہا۔
نرمی ان کے چہرے پر رابی سے بات کرتے وقت تھی اب اس کی جگہ نفرت نے لے لی تھی۔
امی میں نے اپ کو کتنی بار کہا ہے فیری سے کام نا کروایا کریں وہ ابھی چھوٹی ہے اسے پڑھنے دیں
رابی نے اپنی ماں کو کہا
چھوٹی پوری اٹھارہ کی ہوچکی ہے تمھاری فیری اور کرتی ہی کیا ہے اگر میں نے تھوڑا بہت کام کہہ بھی دیا تو کون سی قیامت آگئ ہے تہمینہ بیگم نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلی گئ تھیں
رابی کو فیری بہت عزیز تھی اس گھر میں نا تو تہمینہ بیگم فیری کو پسند کرتی تھی اور نا ہی فاروق صاحب فیری سے ٹھیک سے بات کرتے تھے۔
رابی کو ایک بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ فاروق صاحب کیوں اپنی بیٹی سے بات نہیں کرتے تھے تہمینہ بیگم کی نفرت اس لۓ تھی کیونکہ فیری ان کی سوتیلی بیٹی تھی لیکن فاروق صاحب کا تو خون تھی۔
اگر تہمینہ بیگم کبھی کبھی غصے میں فیری کو ڈانٹتی تو فاروق صاحب ان کو نہیں روکتے تھے خاموش رہتے یا وہاں سے چلے جاتے تھے پھر
رابی اپنی ماں کو روکتی تھی ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
بہو حیدر شاہ کہا ہے؟
داجی نے اپنی روبدار آواز میں ہیرا بیگم سے پوچھا
داجی وہ کچھ دنوں کے لۓ وجدان شاہ کے پاس شہر گیا ہے۔
ہیرا بیگم نے ادب سے جواب دیا
پتہ نہیں اپنا کاروبار ہونے کے باوجود شاہ کو کیا پڑی ہے جو شہر میں اپنا کاروبار سیٹ کیاہوا ہے
میں مانتا ہوں آج وجدان شاہ کا نام مشہور بزنس مین میں شامل ہوتا ہے لیکن اسے اپنے گھر والو کا بھی خیال ہونا چاہیے
داجی نے کہا
داجی آپ جانتے تو ہے چھوٹے شاہ کو گاؤں میں رہنا پسند نہیں ہے اس لۓ وہ یہاں سے چلا گیا ہے
ہیرا بیگم نے اداسی سی کہا۔
ہیرا بیگم کو حیدر کی طرح وجدان بھی بہت عزیز تھا۔
حیدر تو اکثر کام کے سلسلے میں گاؤں سے باہر ہی پایا جاتا تھا۔
بہو میں نے حیدر کے لئے ایک فیصلہ کیا ہے مجھے امید ہے تمہیں اس سے کوئ مسئلہ نہیں ہوگا۔
جی داجی ہیرا بیگم نے نظریں جھکا کر کہا
داجی ہیرا بیگم کے سر پر پیار دے کر وہاں سے چلے گۓ تھے۔
جب ماہین بیگم ہیرا بیگم کے پاس آئ
ماہین تم جانتی ہو داجی کیا چاہتے ہیں
لیکن حیدر کبھی بھی ان کی بات نہیں مانے گا مجھے بہت ٹینشن ہورہی ہے ہیرا بیگم نے کہا
بھابھی آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہوگا ٹینشن لینے سے آپ کی طبیعت بھی خراب ہوسکتی ہے ماہین بیگم نے فکر مندی سے ہیرا بیگم کو کہا
ہیرا بیگم ماہین بیگم کی فکر مندی پر مسکرا پڑی تھیں
لیکن ماہین بیگم جانتی تھی انہوں نے ہیرا کو تو حوصلہ دے دیا ہے لیکن داجی اپنی ضد کے پکے ہیں
پر داجی بھی یہ جانتے ہیں کہ ان کا پوتا ضد میں ان سے بھی چار قدم آگۓ ہے ۔
اگے کیا ہوبا تھا یہ تو حیدر شاہ کے آنے پر ہی معلوم ہونا تھا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
داجی گاؤں کے چودھری تھے لوگ ان کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے تھے
داجی کی گاؤں میں بہت بڑی حویلی تھی ۔
داجی کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔
ان کے بڑے بیٹے کا نام سلیمان شاہ اور چھوٹے بیٹے کا نام وسیم شاہ تھا ۔
سلیمان کی شادی ان کی کزن ہیرا بیگم سے ہوئ تھی
ہیرا بیگم نرم دل کی مالک تھیں ہر کام صلہ سے کرنے والی ہر ایک کے بارے میں سوچنے والی ۔
ان کا ایک بیٹا تھا حیدر شاہ ۔
چھوٹے بیٹے کی شادی بھی اپنی کزن سے ہوئ تھی جس کا نام ماہین تھا ماہین بیگم ہیرا بیگم کی دوست بھی تھی ان دونوں کی نیچر سوفٹ تھیں ۔
اور ان دونوں نے اپنے نرم مزاج سے حویلی کو بہت اچھی طرح سنبھالا ہوا تھا۔
ان کا بھی ایک بیٹا وجدان شاہ تھا۔
داجی بیٹی کا نام عالیہ تھا
وسیم شاہ کی شادی کے بعد عالیہ کی شادی ہوئ تھی۔
عالیہ بیگم نے اپنی پسند سے فیملی سے باہر شادی کی تھی
داجی نے عالیہ سے اپنا تعلق ختم کرلیا تھا
داجی کی بیوی (ثریا) نے بہت کہا کہ بیٹی کو معاف کر دے لیکن داجی نے عالیہ کو معاف نہیں کیا کیونکہ داجی فیملی سے باہر رشتہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔
داجی نے عالیہ کو معاف نہیں کیا
اکثر ثریا بیگم اپنے شوہر سے چپ کر عالیہ کو ملنے جاتی تھی اور ان کے ساتھ حیدر ہوتا تھا۔
جب عالیہ نے ایک ننھی سی جان کو جنم دیا تو حیدر بہت خوش تھا۔
حیدر نے کہہ دیا تھا کہ یہ اس کی اینجل ہے اس وقت ثریا بیگم اپنی بیٹی کے پاس موجود تھیں ۔
اس کے بعد حیدر یا تو اپنی دادی کے ساتھ عالیہ کی طرف جاتا یا اپنے ماں باپ کے ساتھ لیکن داجی کو ان سب کا معلوم نہیں تھا۔
حیدر کو اپنی اینجل کے ساتھ کافی لگاؤ ہو گیا تھا
ایسے ہی چھ سال گزر گۓ
جب حویلی میں خبر پہنچی کہ عالیہ اور اس کی بیٹی کی کار ایکسیڈنٹ میں موت ہوگئ ہے
حیدر اس وقت بارہ سال کا تھا اسے تو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی پھپھو اور اینجل دونوں اب اس دنیا میں نہیں ہے۔
یہ خبر سن کر داجی ٹوٹ گئے تھے عالیہ ان کی لاڈلی بیٹی تھی۔
ثریا بیگم یہ خبر سن کر خالقِ حقیقی کو جا ملی تھی ۔
دوسری بیٹی کا نام سدف تھا سدف بیگم
کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں۔
سدف بیگم داجی کے پاس ہی رہتی تھیں ان کی شادی بھی اپنے ایک کزن سے ہوئ تھی جو زیادہ امیر نہیں تھا۔
داجی گاؤں کے چودھری تھے ان کی اپنی کافی زمنین تھیں پیسے کی ان کے پاس کمی نہیں تھی ۔
سدف بیگم کی بڑی بیٹی کا نام صوفیہ اور چھوٹی کا نام سارہ تھا اور ان کے بیٹے کا نام ابان شاہ تھا۔
ابان حیدر اور وجدان سے کافی مختلف تھا ۔
اسے ان دونوں سے ہمیشہ چڑ رہتی تھی ۔
حیدر وجدان سے دو سال بڑا تھا لیکن دونوں کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ حیدر بڑا ہے ۔دونوں ہم عمر لگتے تھے ۔ دونوں کزن ہونے کے ساتھ کافی اچھے دوست بھی تھے ۔
وجدان کو گاؤں کا ماحول بلکل بھی پسند نہیں تھا اور داجی کی رسموں سے تو وجدان کو ہمیشہ سے چڑ رہی تھی ۔
اس لۓ وجدان جب پندرہ سال کا تھا تو گھر والوں کی ناراضگی مول لے کر شہر چلا گیا تھا۔
وہاں جاکر وجدان نے اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی اور ساتھ جاب بھی کرتا رہا۔
حیدر نے وجدان کا پورا ساتھ دیا تھا پھر آہستہ آہستہ وجدان نے اپنا بزنس شروع کیا تھا اور آج وجدان کی کمپنی کا نام ہر جگہ پر مشہور تھا ۔
حیدر گاؤں میں ہی رہتا تھا حیدر اپنی پڑھائی کے لۓ ملک سے باہر چلا گیا تھا
وہ تین سال پہلے ہی گاؤں واپس آیا تھا اور گاؤں کی ساری ذمہ داری کو سنبھالا تھا۔
آبان اپنی موج میں رہنے والا لڑکا تھا اس کا کہنا تھا جب اتنا پیسہ ہے تو کمانے کی کیا ضرورت ہے
💖💖💖💖💖💖💖
کیا کر دیا تو نے منحوس سارا سالن جلا دیا تہمینہ بیگم نے فیری کو بالوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور اس کے منہ پر ایک تھپڑ مارا.
فیری کی آنکھوں سے آنسو نکل کر زمین ہر گر رہے تھے یہ تو اب روز کا معمول تھا
لیکن فیری کو عادت ہونے کی بجاۓ مزید تکلیف ہوتی تھی۔
اب بول کیوں نہیں رہی دھیان کہاں ہوتا ہے تیرا بول تہمینہ بیگم نے اپنا ہاتھ دوبارہ اٹھایا ہی تھا۔
جیسے رابی نے بیچ راستے پکڑ لیا تھا امی کیا کررہی ہیں آپ چھوڑیں اسے رابی نے غصے سے اپنی ماں کے ہاتھوں سے فیری کے بال آزاد کرواتے ہوئے کہا۔
تو کیوں اس کی حمایت کرنے آجاتی ہے کام سکھا رہی ہوں اس کو آگلے گھر جاکر میرا نام بدنام کرے گی ماں تو بھاگ گئ اپنے عاشق کے ساتھ اور اس مصیبت کو ہمارے سر ہر چھوڑ گئ ہے۔
تہمینہ بیگم نے نفرت سے فیری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
فیری کے دل پر یہ ساری باتیں خنجر کی طرح اس کا دل چیر رہی تھیں ۔
آمی بس کر دیں خدا کے لۓ بس کر دیں
کیا بگاڑا ہے؟ اس معصوم نے آپ کا کیوں اس کے پیچھے پڑی رہتی ہے۔
میری ایک بات آپ غور سے سن لیں اگر آپ ایسے ہی کرتی رہی تو میں فیری کو لے کر یہاں سے بہت دور چلی جاؤ گی۔
رابی نے کہا اور فیری کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے میں لے گئ تھی۔
تہمینہ بیگم حیران پریشان کھڑی اپنی بیٹی کی باتوں ہر غور کررہی تھی ۔جو اپنی سوتیلی بہن کے لئے اپنی ماں سے لڑ ر گئ تھی۔
💖 💖 💖 💖 💖
سر آپ سے حیدر شاہ ملنے آۓ ہیں وجدان کی سیکرٹری نے وجدان کو کال کر کے بتایا جو اپنے آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا.
تم نے ابھی تک ان کو باہر کیوں روک کر رکھا ہے ایڈیٹ سوری بول کر اندر بھیجو وجدان نے غصے سے کہا یہ سیکرٹری نئ تھی اس لۓ اس وجدان کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔
اوکے سر سیکرٹری نے گھبراتے ہوۓ کہا ۔
سر سوری آپ پلیز اند جاۓ سیکرٹری نے معزرت کرتے ہوئے کہا
حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اسے معلوم تھا کہ وجدان نے کیا کہا ہو گا
وجدان نے اس وقت کالی شلوار قمیض پہنی ہوئ تھی کاندھوں ہر سفید شال رکھی ہوئ تھی
پاؤں میں پشاوری چپل پہنی تھی
آفس میں ہر ایک کی نگاہ کا مرکز اس وقت حیدر شاہ بنا ہوا تھا۔
کالی آنکھوں میں ہمیشہ ایک چمک رہتی تھی جو دیکھنے والے کو اپنی طرف کھنچتی تھی ۔
یار بوس کا کزن تو بوس جیسا ہی ہنڈسم ہے پتہ نہیں کس کا نصیب ہوگا ایک لڑکی نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔
ویسے بہت ہی خوش نصیب ہوگی وہ لڑکی دوسری لڑکی نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوۓ کہا
چلو جلدی سے اپنا کام مکمل کر لیں ورنہ بوس نکالنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاۓ گۓ دوسری لڑکی نے کہا پھر دونوں کام کرنے لگیں ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
رابی فیری کو اپنے کمرے میں لے آئ تھی
آپی آپ کو امی سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی فیری نے اپنی گال سے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا جہاں پر انگلیوں کے نشان واضح تھے۔
چپ ایک دم چپ رابی نے فیری کو کہا اور اسے بیڈ پر بیٹھایا اور فیری کے گال پر کریم لگانے لگی
رابی کو آج اپنی ماں پر بہت افسوس ہورہا تھا آج اس نے اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی ماں نے کبھی اسے زرہ سا بھی نہیں ڈانٹا اور فیری کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے ۔
آج بھی رابی کا انٹرویو تھا لیکن راستے میں ہی اسے کال آگۓ تھی اس کا انٹرویو دو دن بعد ہوگا اس لئے گھر واپس آگئی تھی۔
لیکن جب اپنی ماں کو دیکھا تو اسے یقین نہیں آیا اسے معلوم تھا اس کی ماں فیری کو ناپسند کرتی ہے لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ اس پر ہاتھ بھی اٹھاتی ہے۔
تمھارے منہ میں زبان نہیں ہے کب تک ایسے مار کھاتی رہو گی بولو کم از کم اپنے بچاؤ کے لئے تو آواز اٹھاو اگر امی تمہیں ایسے ہی مارتی رہے گی تو کیا مار کھاتی رہو گی۔
رابی نے اپنا غصہ فیری ہر نکالا جو منہ نیچے کیے رو رہی تھی ۔
رابی کو جب احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول پڑی ہے تو فیری کو گلے لگایا جو اب ہچکیوں سے رونے لگی تھی
ایم سوری میری جان پلیز رونا بند کرو
آپی میری ماما بھاگی نہیں تھی وہ لوگ ان کو لے گئے تھے۔
امی یہ بات کیوں نہیں سمجھتی بابا کو میں نے بتایا لیکن انہوں نے بھی کوئ جواب نہیں دیا وہ تو مجھ سے بات ہی نہیں کرتے۔
وہ بھاگی نہیں تھی فیری نے کہہ کر پھر سے رونا شروع کردیا تھا۔
فیری میری جان میں جانتی ہوں تم سچ بول رہی ہو اور ہم ایک دن ماما کو ڈھونڈ لیں گئے تم رونا بند کرو رابی نے فیری کے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا،
ویسے ایک بات تو سچ ہے تم روتے ہوئے زیادہ خوبصورت لگتی ہو رابی نے پیار سے فیری کے گال کھنچتے ہوۓ کہا
اور یہ سچ بھی تھا فیری روتے ہوئے بہت خوبصورت لگتی تھی
اس کے دائیں گال پر ڈمپل پڑتا تھا جبکہ رابی کا بائیں گال پر ڈمپل پڑتا تھا
گرے کلر کی آنکھیں سفید رنگ خوبصورت کٹاؤدار ہونٹ اور چھوٹی سی ناک جس میں چھوٹی سی بالی پہنی ہوئ تھی ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖 💖
فاروق صاحب نے دو شادیاں کیں تھیں۔
پہلی بیوی میں سے فریال تھی
فاروق صاحب کی پہلی بیوی ایک رات غائب ہوگئ تھیں ۔
تہمینہ بیگم فاروق صاحب کو پسند کرتی تھی اور انہوں نے پورے خاندان میں بات پھیلا دی کہ فاروق کی بیوی اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئ ہے ۔
چونکہ فاروق نے پہلی شادی اپنی پسند کی کی تھی اور یہ بات تہمینہ کو ہضم نہیں ہورہی تھی۔
فاروق کی شادی سے پہلے تہمینہ کی بھی شادی ہوگئ تھی۔
تہمینہ کے گھر والوں نے زبردستی تہمینہ کی شادی کر دی تھی۔
تین سال بعد تہمینہ بیگم کو طلاق ہوگئ تھی وجہ آج تک معلوم نہیں ہوئ
تہمینہ کی ایک بیٹی بھی تھی جس کا نام رابیل تھا رابیل اس وقت دو سال کی تھی۔
فاروق کی بھی شادی ہوگئ تھی ایک سال بعد اللہ نے ان کو ایک بیٹی دی تھی جس کا نام فریال رکھا تھا۔
فاروق صاحب اپنی فیملی کے ساتھ بہت خوش تھے شادی کے سات سال بعد ایک رات فاروق صاحب کی بیوی غائب ہوگئ تھی۔
فاروق صاحب بہت کمزور ہوگۓ تھے ان کے گھر والوں سے ان کی حالت دیکھی نہیں گئ تو فاروق کی شادی تہمینہ سے کر دی اور پھر فاروق صاحب اس شہر کو کو چھوڑ کر دوسرے شہر میں آگۓ تھے۔
تہمینہ بیگم چھ سال کی فیری کو باتیں سناتی تھی کہ تمھاری ماں بھاگ گئ ہے۔
اس وقت تو فریال کو ان باتوں کا مطلب نہیں معلوم تھا
پھر آہستہ آہستہ اسے ان سب باتوں کا مطلب سمجھ میں آنے لگا ۔
فاروق صاحب اپنی پہلی بیوی کے غایب ہونے پر خاموش ہوگۓ تھے۔
فریال سے بھی بات نہیں کرتے تھے۔
رابیل کو فریال بہت پسند آئ تھی
رابیل کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ اس کی ماں اس کی فیری کو نا ڈانٹے
فاروق صاحب نے تو پہلے ہی فیری کی طرف سے منہ موڑ لیا تھا اسے صرف رابیل سنبھالتی تھی۔
