Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32


چھوڑیے میرا ہاتھ شاہ۔۔۔
اف اللہ آپ انسان ہے یا جن میرا ہاتھ ٹوٹنے والا تھا۔۔۔۔ فیری نے اپنے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے شاہ کو گھور کر کہا جو سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
میری اینجل تو بہت نازک سی ہے۔۔۔ مجھے تو پھر بہت سوچ سمجھ کر ہاتھ لگانا چاہیے۔۔۔ شاہ نے فیری کو اپنے قریب کرتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔۔
شاہ آپ کیا کررہے ہیں فیری شاہ کے قریب آنے پر بوکھلا گئ تھی۔۔۔
جاناں مجھے تمہیں ایک بہت ضروری بات بتانی تھی۔۔۔۔ شاہ نے فیری کو کمر سے پکر کر مزید اپنے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔۔
کون سی بات فیری نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا۔۔۔
وہ میں تمہیں بعد میں بتاؤ گا۔۔۔ ابھی میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں شاہ نے کہا۔۔۔
کیا۔۔۔؟ فیری نے پوچھا۔۔۔
میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔۔
میں مانتا ہوں میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے بہت دکھ دیے ہیں۔۔۔۔
میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ تم مجھے جو بھی سزا دینا چاہو دے سکتی ہو۔۔۔ میں اف بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔
لکن پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے۔۔۔۔ شاہ نے فیری کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ فیری کو شاہ کے چہرے پر شرمندگی صاف محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
شاہ کے چہرے پر شرمندگی فیری کو بلکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔
شاہ میں آپ کو معاف کر دوں گی۔۔۔۔ لیکن ایک شرط پر فیری نے کہا۔۔۔
مجھ سے الگ ہونے کے علاوہ مجھے اپنی اینجل کی ساری شرائط منظور ہیں۔۔۔۔
شاہ نے پیار سے فیری کے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ نے جو وہ کیڑے مکوڑے رکھے ہوئے ہیں اسے کسی کو دے دیں۔۔۔۔۔ فیری نے کہا کیڑوں کا نام لیتے ہوئے فریال کے چہرے پر ڈر کے آثار شاہ کو صاف محسوس ہوۓ تھے۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔ میں ان سب کو ختم کر دوں گا۔۔۔۔ شاہ نے کہا۔۔۔
نہیں اُن میں بھی تو جان ہوتی ہے۔۔۔۔ آپ کسی کو دے دینا۔۔۔۔ فیری نے سمجھداری سے جواب دیا۔۔۔۔
شاہ کو فیری کی بات پسند آئی تھی۔۔۔۔
ٹھیک ہے جو میری اینجل کا حکم۔۔۔۔ شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
اور دوسری ضروری بات کیا تھی۔۔۔؟ فریال نے جلدی سے پوچھا۔۔۔
وہ تمہارے لیے سرپرائز ہے۔۔۔۔ شاہ نے فیری کے ہونٹوں پر اپنی نظریں جماۓ کہا۔۔۔۔
لیکن۔۔۔ فیری اس سے پہلے کچھ کہتی شاہ نے فیری کی سانسوں کو اپنے قید میں لے چکا تھا۔۔۔
فیری نے زور سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔
تھوڑی دیر بعد شاہ نے فیری کے لب آزاد کیے تھے۔۔۔ اور فیری سے الگ ہوا تھا۔۔۔
سرپرائز کے لیے تیار رہنا جانِ شاہ۔۔۔۔ شاہ نے فیری کے کان کے پاس سرگوشی نما کہا۔۔۔
فیری کے دونوں گال ٹماٹر کی طرح لال ہوگئے تھے۔۔۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ شاہ سے نظریں ملا کر بات کر سکے۔۔۔ شاہ اس دلکش منظر کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
جاناں اگر تم میرے کمرے میں پوری رات گزارنا چاہتی ہو تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔ شاہ نے شوخی سے کہا اور فیری کو ایک دم احساس ہوا کہ وہ اس وقت شاہ کے کمرے میں کھڑی ہے۔۔۔
نہیں میں جارہی ہوں۔۔۔ فیری نے جلدی سے کہا اور شاہ کا جواب سنے بغیر وہاں سے بھاگ گئ۔۔۔
شاہ سونے کے لیے لیٹ گیا تھا آج رات اسے نیند بلکل بھی نہیں آنی تھی۔۔۔۔
💖————💖
گھر میں شادی کی تیاریاں زور شور سے چل رہی تھیں۔۔۔۔ ہر ایک خوش تھا سواۓ سدف اور صوفیہ کے۔۔۔۔
جیتنا خوش ہونا ہے ہو جاو۔۔۔۔ یہ خوشی صرف کچھ وقت کی ہے صوفیہ نے فیری کو دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔۔۔۔
جو سارہ سے بات کر رہی تھی۔۔۔
سارہ فیری کی شادی کو لے کر بہت خوش تھی۔۔۔۔ آبان نے سارہ کو بتا دیا تھا کہ وجدان شادی کر چکا ہے۔۔۔ اس لیے سارہ پیچھے ہٹ گئ تھی۔۔۔
سارہ شاہ اور فیری کی شادی کی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی۔۔۔۔ سارہ یہ سوچ کر مطمئن ہوگئ تھی کہ وجدان اس کی قسمت میں نہیں تھا اگر ہوتا تو اسے ضرور ملتا۔۔۔
سارہ کے دماغ میں بھی وجدان کا خیال سدف نے ڈالا تھا۔۔۔۔ لیکن سارہ اپنی ماں اور بہن سے تھوڑی الگ تھی۔۔۔۔
💖————💖
ابھی بھی گھر آنے کی کیا ضرورت تھی ابھی بھی نا آتے۔۔۔۔ شفیق نے غصے سے شمس کو کہا جو آج صبح ہی واپس آیا تھا۔۔۔
ڈیڈ میں ابھی بحث کرنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔ ابھی میں سونا چاہتا ہوں بہت تھکا ہوا ہوں۔۔۔ شمس نے بے زاری سے کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے بس ایک سوال کا جواب چاہیے اس کے بعد میں چلا جاؤں گا۔۔۔۔ شفیق نے کہا۔۔۔۔
جی پوچھیے۔۔۔۔ شمس نے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا تم اپنی شہر والی کوٹھی میں گئے تھے۔۔۔؟ شفیق نے جانچتی ہوئی نظروں سے شمس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
نہیں آپ جانتے ہیں آج تک میرا وہاں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔۔۔۔۔ شمس نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔
آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں کیا میں وہاں نہیں جاسکتا۔۔۔۔؟ شمس نے الٹا شفیق سے پوچھا۔۔۔
نہیں نہیں میں نے ویسے ہی پوچھا تھا۔۔۔۔ تم آرام کرو تھکے ہوۓ لگ رہے ہو۔۔۔۔ شفیق نے جلدی سے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔
شفیق کے جانے کے بعد شمس کے چہرے پر سختی آگئ تھی۔۔۔
ڈیڈ آپ نہیں جانتے برے کام کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔۔۔۔ کاش میں آپ کو سمجھا سکتا شمس نے بے بسی سے سوچا۔۔۔
💖————💖
اس وقت شاہ کے سارے آدمی نظریں جھکائے کھڑے تھے۔۔۔ شاہ سامنے بیٹھا کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔۔۔۔ جب تھوڑی دیر بعد شاہ کی آواز کمرے میں گونجی۔۔۔۔
تم لوگوں کو کیسے معلوم ہوا کہ میری پھپھو شفیق کی قید میں ہے۔۔۔۔ تم لوگ تو کافی وقت سے انہیں ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔۔ پھر کس نے بتایا کہ وہ شفیق کی شہر والی کوٹھی میں ہیں۔۔۔۔
شاہ نے اپنے سامنے کھڑے آدمیوں سے پوچھا جن کے چہرے پر شاہ کی بات سن کر پریشانی چھا گئ تھی۔۔۔۔
لیکن کسی نے بھی کچھ بھی بولنے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔۔۔
میں کچھ پوچھ رہا ہوں شاہ نے غصے سے کہا۔۔۔
وہ سر ہمیں ان کے بیٹے نے بتایا تھا ان میں سے ایک آدمی جلدی سے بولا ۔۔۔
جسے شمس نے عالیہ بیگم کا بتایا تھا۔۔۔۔
شمس کی بات کررہے ہو۔۔۔؟ شاہ نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
جی سر انہوں نے مجھے فون کیا تھا۔۔۔ اور کہا تھا کہ ابھی شفیق صاحب گھر پر نہیں ہے تو میڈم کو یہاں سے لے جاۓ۔۔۔۔ اور شاہ کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ میں نے تمہیں بتایا ہے۔۔۔۔ اس آدمی نے شاہ کو ساری بات بتا دی۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا اگر اس نے شاہ کو سچ نہیں بتایا تو وہ کسی نا کسی طرح ضرور اگلوا لے گا۔۔۔۔ اور اس کے اگلوا نے کا طریقہ بہت خطرناک تھا۔۔۔ اس لیے اس کے آدمی نے سچ بتانا ہی بہتر سمجھا۔۔۔
شاہ اپنے آدمی کی بات سن کر حیران ہوا تھا آخر شمس نے کیوں میری مدد کی۔۔۔۔ وہ کیوں بتاۓ گا ہوسکتا ہے اس میں بھی شمس کا اپنا کوئی فائدہ ہو۔۔۔۔ کیونکہ وہ بھی اپنے باپ جیسا ہی ہے۔۔۔۔
لیکن میں بہت جلد پتہ لگا لوں گا کہ شمس نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔
شاہ نے دل دل میں سوچا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
…………..
شاہ ہم کہاں جارہے ہیں فیری نے بے تابی سے شاہ سے پوچھا۔۔۔۔
جاناں اگر بتا دیا تو سر پرائز نہیں رہے گا۔۔۔ شاہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد شاہ نے گاڑی ایک جھوٹے سے گھر کے سامنے روکی تھی۔۔۔۔
شاہ فیری کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر کے اندر لے گیا تھا۔۔۔۔
شاہ یہ کس کا گھر ہے۔۔۔؟ فیری نے پوچھا۔۔۔۔
جاناں یہ بھی ہمارا ہی گھر ہے۔۔۔۔ تمہیں کسی سے ملانا تھا۔۔۔۔ شاہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ فیری کو کہا۔۔۔۔
اس سے پہلے فیری شاہ سے مزید کوئی سوال کرتی۔۔۔ اس کی نظر بیڈ پر لیٹے وجود پر پڑی تھی۔۔۔
شاہ یہ تو میری۔۔۔۔۔
ہاں یہ تمھاری ماما ہے۔۔۔۔ شاہ نے فیری کی بات مکمل کرتے ہوئے کہا۔۔۔
فیری جلدی سے عالیہ بیگم کے قریب گئ تھی۔۔۔۔
ماما۔۔۔!!
فیری نے آہستہ آواز میں عالیہ بیگم کو پکارا۔۔۔
عالیہ بیگم نے فیری کی آواز سن کر اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔
فیری آنکھوں میں آنسو لیے عالیہ بیگم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ماما آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟ فیری نے اپنی ماں کا ماتھا چومتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
شاہ باہر چلا گیا تھا۔۔۔
ماہی۔۔۔ تم میری ماہی ہو نا۔۔۔؟ عالیہ بیگم نے فیری کو دیکھ کر دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔۔
جی ماما۔۔۔ میں آپ کی ماہی ہوں۔۔۔۔ فریال نے عالیہ بیگم کے ہاتھوں کو چومتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
تم کتنی بڑی ہو گئ ہو۔۔۔ عالیہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
ماما آپ کہاں چلی گئ تھی۔۔۔؟ میں آپ کو بہت مس کرتی تھی۔۔۔۔ اب میں آپ کو کہی نہیں جانے دوں گی۔۔۔ فیری نے کہا۔۔۔۔
میں بھی اب اپنی بیٹی کو خود سے کبھی الگ نہیں کروں گی۔۔۔۔ عالیہ بیگم نے فیری کا چہرہ دیکھتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔۔
ڈاکٹر نے کہا تھا اب عالیہ بیگم پہلے سے کافی بہتر ہوگئ ہیں۔۔۔۔ اس لیے شاہ نے ان کو ابھی اس گھر میں رکھا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ سب سے پہلے فیری کو عالیہ بیگم سے ملوانا چاہتا تھا۔۔۔
فیری کافی دیر اپنے ماں کے آغوش میں بیٹھی رہی تھی۔۔۔۔
شاہ ہم ماما کو بھی گھر لے جاۓ۔۔۔؟ فیری نے شاہ کو کہا جو سامنے بیٹھا دونوں ماں بیٹی کا پیار دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہاں کیوں نہیں اب پھپھو ہمارے ساتھ حویلی جاۓ گی۔۔۔۔ شاہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
لیکن۔۔۔
عالیہ بیگم نے شاہ کو کچھ کہنا چاہا جب شاہ نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
پھپھو مجھ پر یقین رکھیے کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔ شاہ نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔
عالیہ بیگم نے بھی مزید سوال جواب نہیں کیے تھے۔۔۔
فیری تو اپنی ماں سے الگ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔
💖————💖
زوجہ محترمہ ہم لوگ حویلی جا رہے ہیں تیاری کر لو۔۔۔۔
وجدان نے رابی سے کہا جو کھانا بنا رہی تھی۔۔۔
کیوں۔۔۔؟ رابی نے پوچھا۔۔۔
تم اپنے ساس سسر سے نہیں ملنا چاہتی۔۔۔۔ وجدان نے رابی کے قریب آتے ہوۓ پوچھا۔۔۔ کیونکہ وہ اپنے کمرے میں فائل لینے جارہا تھا۔۔۔
صبح ہی وجدان کو ہیرا بیگم کی کال آئی تھی اور انہوں نے سختی سے کہا تھا۔۔۔
شاہ کی شادی ہے اور تم مجھے اپنی بیوی سمیت کچھ دنوں تک حویلی میں نظر آؤ۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن وہاں۔۔۔۔
رابی نے بات ادھوری چھوڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
وجدان رابی کو بتا چکا تھا کہ الطاف صاحب اس کی پھپھو کے شوہر ہیں۔۔۔ رابی اور وجدان آپس میں کزن بھی ہے۔۔۔۔
اب اس وجہ سے رابی حویلی جانے سے کترارہی تھی۔۔۔
میں ہوں نا تمھارے ساتھ۔۔۔ تمھارے آگے دیوار بن کر ہمیشہ کھڑا رہو گا۔۔۔۔ بس مجھ پر یقین رکھو۔۔۔
وجدان نے رابی کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ کہا۔۔۔
جی۔۔۔ رابی نے نظریں جھکا کر بس اتنا ہی کہا۔۔۔۔ وجدان کی آنکھوں میں دیکھنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔۔۔
وجدان کو رابی کا نظریں جھکا کر اچھے بچوں کی طرح بات مان جانا بہت اچھا لگتا تھا۔۔۔
شاہ اور فریال کی شادی ہو رہی ہے۔۔۔ اور میرا نہیں خیال کہ تم اپنی بہن کی شادی مس کرو گی۔۔۔ وجدان نے رابی کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے بات بدلی۔۔۔
اور رابی کا موڈ فیری کی شادی کا سن کر اچھا بھی ہو گیا تھا۔۔۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔۔؟ رابی نے خوشی سے پوچھا۔۔۔
ہاں میری جان میں تم سے کیوں جھوٹ بولوں گا۔۔۔ وجدان نے پیار سے کہا۔۔۔
جان کا لفظ سن کر رابی نے شرم سے نظریں جھکا لیں تھی۔۔۔
زوجہ محترمہ آج میرا آفس جانا بہت ضروری ہے۔۔۔ اگر آپ ایسے اپنی اداؤں سے مجھے گھائل کرے گی تو میں آفس کیسے جا سکو گا۔۔۔۔
وجدان نے رابی کی تھوڑی کو چومتے ہوۓ محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
میں نے کب روکا ہے آپ کو۔۔۔؟ رابی نے جلدی سے کہا اور کچن میں بھاگ گئ۔۔۔۔
پیکنگ کر لینا ہمیں آج ہی نکلنا ہے۔۔۔۔ وجدان نے پیچھے سے ہانک لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
💖————💖
تم نے میری مدد کیوں کی۔۔۔؟ شاہ نے شمس سے پوچھا۔۔۔
شاہ کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ کہ آخر شمس نے اس کی مدد کیوں کی۔۔۔
شاہ شمس کے گھر آیا تھا۔۔۔ جہاں شمس اکیلا رہتا تھا۔۔۔ اس کا باپ اس گھر میں نہیں رہتا تھا۔۔۔
تمہارا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔۔۔ جس کسی نے بھی بتایا ہو تم آم کھاو تمہیں گٹھلیوں سے کیا لینا دینا ہے۔۔۔۔ شمس نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
مجھے لینا دینا ہے میں جاننا چاہتا ہوں آخر تمہارا مقصد کیا ہے میری مدد کرنے کے پیچھے۔۔۔؟ شاہ نے شمس کے سامنے آتے ہوۓ سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
پہلے تو میں نے بس انسانیت کے ناطے مدد کی تھی۔۔۔ لیکن اگر تمہیں لگتا ہے کہ اس سب کے پیچھے میرا کوئی مقصد تھا تو ٹھیک ہے۔۔۔۔
ہاں میرا مقصد تھا اس میں میرا بھی فائدہ تھا جب میں نے اسما کو دیکھا تو مجھے تمہاری مدد کرنے میں اپنا فائدہ بھی نظر آیا تھا۔۔۔ اس لیے تمھاری مدد کی۔۔۔ شمس نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو اسما کو تو تم مار چکے تھے۔۔۔۔ شاہ نے غصے سے کہا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسما کے بارے میں شمس کو کیسے معلوم ہوا۔۔۔۔
اووو کم اون شاہ کیسی بچوں جیسی باتیں کرہے ہو۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے تم مجھے کہو گے اسما مر چکی ہے۔۔۔ تو کیا میں تمہاری بات مان لوں گا کبھی نہیں۔۔۔۔ میں اسے دیکھ چکا ہوں مل بھی چکا ہوں۔۔۔۔
اسما صرف میری ہے۔۔۔۔ میرا عشق ہے۔۔۔۔ اور اب تمھیں کیا لگتا ہے کہ جب مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ اسما زندہ ہے تو میں اپنے عشق کو اپنے سے دور کروں گا۔۔۔؟ کبھی بھی نہیں۔۔۔۔
اور ایک بات یاد رکھنا ازلان حیدر شاہ۔۔۔ جو بھی میرے اور اسما کے درمیان میں آیا۔۔۔۔ اس کی جان لینے میں بلکل بھی وقت ضائع نہیں کروں گا۔۔۔۔ برا تو میں تمہیں پہلے سے ہی لگتا ہوں پھر برا بن کر بھی دکھاؤ گا۔۔۔۔
شمس نے شاہ کو کہا۔۔۔۔
شاہ شمس کی حالت دیکھ کر خود حیران ہوا تھا۔۔۔۔
غصے کی زیادتی سے اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔۔۔ شاہ کو شمس کی آنکھوں میں اسما کے لیے جنون صاف نظر آرہا تھا۔۔۔ اگر اسے اسما نہیں ملی تو جو وہ کہہ رہا ہے سچ کر دکھائے گا۔۔۔۔
شاہ خاموش ہوگیا تھا۔۔۔۔ شمس شاہ سے رخ موڑے لمبے سانس لے کر اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
شاہ بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ شمس کے رویے نے اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔ اب اسے اسما کے آنے کا انتظار تھا۔۔۔
💖————💖
فیری اور شاہ عالیہ بیگم کو حویلی لے آۓ تھے۔۔۔۔ داجی سمیت سب عالیہ کو دیکھ کر حیران تھے۔۔۔ داجی نے سب سے پہلے عالیہ کو گلے لگایا تھا۔۔۔۔
دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کے گلے لگے روتے رہے تھے۔۔۔۔
عالیہ بیگم کی ابھی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ اس لئے ان کو فیری کمرے میں لے گئ تھی۔۔۔ عالیہ بیگم کو جس بات کی فکر تھی وہ بھی دور ہوگئ تھی۔۔۔۔
سارے بہت خوش تھے جب سلیمان صاحب نے کہا۔۔۔۔
آپ سب کے لیے ایک اور سرپرائز ہے سب نے سلیمان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ جب اسما کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔
شاہ ایک نظر میں ہی اسما کو پہچان گیا تھا۔۔۔۔
شاہ کو دیکھ کر اسما کی آنکھوں میں بھی پانی آگیا تھا۔۔۔۔ اور اسما شاہ کے گلے لگی تھی۔۔۔۔
سب لوگ بہت خوش تھے آج ان کو دو دو خوشیاں ملی تھیں۔۔۔
داجی آج بہت خوش تھے۔۔۔ جن کے ملنے کی توقع وہ کھو چکے تھے۔۔۔۔ آج اللہ نے ان سب لوگو کو داجی سے دوبارہ ملادیا تھا۔۔۔۔
فیری کو اسما کا نہیں پتا تھا اس لیے اسے اسما کا شاہ کے گلے لگنا اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔
اس سے پہلے فریال اپنے دماغ میں کوئی غلط فہمی پالتی ہیرا بیگم نے فیری کو بتا دیا تھا کہ یہ شاہ کی بہن ہے۔۔۔۔ اور یہ سن کر فیری کو سکون ملا تھا۔۔۔
داجی نے کل پورے گاؤں والوں کی دعوت رکھی تھی۔۔۔۔
شام تک وجدان نے بھی آجانا تھا۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔💞