No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
کیا ہوا گاڑی کیوں روک گئ؟
وجدان نے اپنے ڈرائیور سے پوچھا ۔
سر میں ابھی دیکھتا ہوں ڈرائیور نے کہا اور باہر نکل کر دیکھا ۔
سر گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا ہے
ڈرائیور نے کہا۔
وجدان نے باہر نکل کر دیکھا تو سامنے اسے ایک مارکیٹ نظر آئ تھی۔
تم گاڑی کو ٹھیک کرواؤ تب تک میں سامنے والی مارکیٹ میں جارہا ہوں۔
وجدان نے کہا
لیکن سر وہ مارکیٹ ڈرائیور کچھ کہتے ہی رک گیا
کیا….؟
وجدان نے ڈرائیور سے پوچھا سر وہ مارکیٹ چھوٹی سی ہے آپ کے مطابق نہیں ہے ڈرائیور نے نظریں جھکا کر کہا۔
وہاں بھی انسان ہی ہوتے ہیں نا یا وہاں کوئ اور مخلوق موجود ہے جو وہ مارکیٹ میرے مطابق نہیں ہے وجدان نے گھورتے ہوۓ کہا ۔
سوری سر ڈرائیور نے نظریں جھکا کر کہا
وجدان نے اپنی آنکھوں پر گلاسز لگائی اور مارکیٹ کے اند چلا گیا تھا ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
وجدان مارکیٹ میں گیا تو اسے ایک شال پسند آئ تھی جو اس نے اپنی ماں کے لیے پسند کی تھی۔
جو چیز اسے پسند آرہی تھ وہ وجدان لے رہا تھا ۔
وجدان کو ایک لڑکی سفید چادر میں نظر آئ تھی
اس سفید چادر والی لڑکی کو دیکھ کر وجدان کو ریسٹورنٹ والی لڑکی یاد آگئ تھی۔
وہ لڑکی جب وجدان کی طرف مڑی تو وہ رابی ہی تھی رابی نے وجدان کو نہیں دیکھا تھا۔
رابی کو دیکھ کر وجدان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئ تھی ۔جیسے اس نے چھپانے کی بلکل بھی کوشش نہیں کی تھی۔
رابی اپنے بیگ میں سے کچھ تلاش کررہی تھی جب اسے لگا جیسے کوئ اسے دیکھ رہا ہو۔
رابی نے ارد گرد دیکھا تو کوئی نہیں تھا سب اپنے دھیان چل پھر رہے تھے۔
رابی نے اپنے بیگ سے موبائل نکالا اور کان سے لگایا جو کب سے بج رہا تھا۔
ہاں اظہر بولو
رابی نے فون کان سے لگاتے ہی کہا
میں مارکیٹ کے باہر تم دونوں کا انتظار کررہا ہوں اگر شاپنگ ہوگئ ہے تو آجاؤ اظہر نے کہا۔
لیکن تمہیں کیسے معلوم ہوا ہم اس مارکیٹ میں آۓ ہیں رابی نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔
وجدان بہت غور سے رابی کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا ۔
وہ میں گھر گیا تھا تو خالہ نے بتایا تم دونوں پاس والی مارکیٹ میں آئ ہو تو میں نے سوچا تم دونوں کو پک کر لوں۔
اظہر نے لمبی چوڑی دلیل دیتے ہوئے کہا
اور اس کی دلیل پر رابی کھل کر ہنسی تھی جس سے اس کا ڈمپل نمایا ہوا تھا۔
بس ہم تھوڑی دیر تک آرہے ہے فیری آیسکریم لینے گئ ہے وہ آتی ہے تو ہم لوگ آتے ہیں رابی نے کہا۔
اوکے میں انتظار کررہا ہوں اظہر نے کہہ کر فون رکھ دیا۔
اتنے میں فیری بھی آیسکریم کھاتی ہوئ آرہی تھی آپی چلیں فیری نے رابی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو مسکرا رہی تھی۔
ہاں چلوں اظہر لینے آیا ہے رابی نے فیری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اظہر بھائ آۓ ہیں فیری نے پرجوشی سے پوچھا ہاں رابی نے کہا اور دونوں وہاں سے چلی گئ تھی ۔
وجدان ابھی بھی اسی جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں کچھ دیر پہلے رابی کھڑی تھی۔
وجدان کا موبائل رنگ کیا اور پھر وجدان ہوش میں آیا تھا ۔
سر گاڑی ٹھیک ہوگئ ہے ڈرائیور نے کہا
اوکے میں آرہا ہوں
وجدان نے کہہ کر فون بند کر دیا۔
گاؤں سے واپس آکر تمہارے بارے میں معلوم کرتا ہوں
Attractive girl
وجدان نے دل میں کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔
💖💖💖💖💖💖
اظہر رابی کا خالہ ذاد تھا اور رابی کو پسند کرتا تھا
رابی بھی اظہر کو پسند کرتی تھی ۔
اظہر اکلوتا تھا اور اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ جاب بھی کرتا تھا۔
ان کے گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی اظہر کا باپ ڈاکٹر تھا اظہر اپنا بزنس سیٹ کرنا چاہتا تھا
اس لۓ اس نے اپنے باپ سے پیسے لینے سے منع کردیا تھا اور خود جاب کرتا تھا۔
اظہر کی ماں تہمینہ بیگم جیسی بلکل بھی نہیں تھی بلکہ وہ ایک نرم دل عورت تھیں ۔
ہر حال میں خوش رہنے والی خاتون تھی اس لیے اللہ نے ان کو ہر طرح کی خوشی سے نوازا تھا ان کا شوہر بہت بڑا ڈاکٹر تھا
گھر میں پیسے کی کمی نہیں تھی
اظہر بھی اپنے ماں باپ کے نقشے قدم پر چل رہا تھا
اس میں خودداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئ تھی ۔
اظہر اپنا بزنس لندن میں سیٹ کرنا چاہتا تھا ۔
اور اس نے اگلے سال تک لندن جانے کا سوچ بھی کیا تھا۔
💖💖💖💖💖💖
اگلی صبح حیدر اور وجدان فجر کی نماز پڑھ کر گاؤں کے لیے نکل پڑے تھے۔
وجدان نے جب حویلی میں قدم رکھا تو ماہین بیگم کو تو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کا بیٹا ان کے سامنے کھڑا ہے ۔
وجدان بہت کم حویلی میں آتا تھا اور آخری بار وجدان پانچ سال پہلے حویلی آیا تھا ۔
داجی اپنے کمرے میں تھے باقی سب ان دونوں کے استقبال کے لئے کھڑے تھے۔
سارہ اور صوفیہ تو بہت خوش تھیں۔
سدف بیگم تو حیدر اور وجدان کے صدقے واری جارہی تھی ۔
حیدر کو گھر کے ماحول میں کچھ تبدیلی نظر آئ تھی حویلی کو سجایا بھی گیا تھا۔
لیکن پھر حیدر نے سوچا ہوسکتا ہے وجدان کے آنے کی خوشی میں یہ سب کیا ہو کیونکہ حیدر بتا کر گیا تھا کہ وجدان کو اپنے ساتھ لے کر آۓ گا ۔
ماما پلیز رونا بند کریں کیا آپ کو میرا آنا پسند نہیں آیا وجدان نے مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ پوچھا۔
وجدان یہ کیسی باتیں کررہے ہو بھلا میں کیوں خوش نہیں ہونگی یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔
کافی وقت بعد تمہیں دیکھا ہے اس لیے آنکھوں میں پانی آگیا ہے ۔
ماہین بیگم نے اپنے خوبرو بیٹے کی نظر آنکھوں ہی آنکھوں میں اتارتے ہوۓ کہا۔
جس نے کالی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جو حیدر نے اسے دی تھی ۔
وجدان نے اپنی ماں کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور اب ہیرا بیگم کے پاس آیا۔
کیسی ہیں آپ تائ جان وجدان نے ہیرا بیگم کے سامنے جھکتے ہوۓ پوچھا ۔
میں بلکل ٹھیک ہوں میرے بچے تم تو ہمیں بھول ہی گۓ تھے ہیرا بیگم نے وجدان کے سر پر پیار دینے کے ساتھ شکوہ کرتے ہوئے کہا ۔
وجدان ہیرا بیگم کی بات سن کر مسکرا پڑا تھا اب آگیا ہوں نا آپ کے سارے شکوے دور کر دوں گا
وجدان نے کہا
ہیرا بیگم بھی وجدان کی بات پر مسکرا پڑی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖
امییییی رابی نے خوشی سے اپنی ماں کے گلے لگتے ہوۓ کہا۔
ارے پگلی تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا ہے کیا ہوا ہے؟ تہمینہ بیگم نے رابی سے پوچھا
امی میں جو کچھ دن پہلے شاہ کمپنی میں انٹرویو دے کر آئ تھی وہاں سے کال آئ تھی مجھے نوکری مل گئ ہے رابی نے خوشی سے بتایا ۔
کیا سچ میں وہ جو ٹی وی پر شاہ کمپنی کا بتاتے ہیں وہ تہمینہ بیگم نے خوشی سے پوچھا۔
جی امی وہی مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا رابی نے کہا
اب کر لے یقین اور دیکھ تجھے کتنی اچھی جگہ پر نوکری مل گئ ہے فضول میں تو پریشان ہوتی تھی تہمینہ بیگم نے رابی کا ماتھا چومتے ہوۓ کہا۔
امی میں شکرانے کے نفل ادا کر لوں رابی نے کہا اور وہاں سے چلی گئ تھی۔
💖💖💖💖💖
داجی اس وقت گاؤں کے لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوۓ تھے۔
داجی گاؤں کے لوگوں کو اس وقت بلاتے تھے جب ان کو کوئ ضروری بات کرنی ہوتی تھی ۔
حیدر اور وجدان کمرے میں داخل ہوۓ تو داجی سربراہ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔
یہ کافی بڑا اور کشیدہ کمرہ تھا۔
دونوں سب سے مل کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گۓ تھے
جب داجی کی آواز گونجی۔
جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں حیدر شاہ میرا سب بڑا پوتا ہے اور آج میں نے آپ لوگوں کو یہاں پر بلایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے حیدر کے نکاح کا فیصلہ کیا ہے اور آپ سب لوگوں کو میں اپنی خوشی میں شامل ہونے ہی دعوت دیتا ہوں۔
داجی نے خوشی سے کہا اور سب لوگوں سے مبارک باد وصول کرنے لگے۔
وجدان تو شو کڈ ہوا ہی تھا لیکن حیدر کے چہرے کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے ابھی اس کا سارا خون چہرے سے باہر آجاۓ گا جو غصے سے لال ہو ریا تھا۔
حیدر وہاں سے اٹھا اور بنا کسی کی پروا کیے وہاں سے باہر چلا گیا وجدان بھی حیدر کے پیچھے ہی باہر چلا گیا تھا۔
داجی کی آواز دینے سے پہلے ہی دونوں وہاں سے چلے گۓ تھے۔
💖💖💖💖💖💖
حیدر باہر آیا تو ہیرا بیگم سامنے ہی کھڑی تھیں
ماں کم از کم آپ ہی مجھے بتا دیتی کہ داجی نے کیا سوچا ہوا ہے۔
حیدر نے اپنے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے کہا حیدر نے کبھی بھی اپنی ماں سے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی ۔
بیٹا میں بتانا چاہتی تھی لیکن داجی نے منع کیا تھا
ہیرا بیگم نے بے بسی سے کہا۔
داجی کس کے ساتھ میرا نکاح کرنا چاہتے ہیں؟
حیدر نے پوچھا
صوفیہ سے اور کچھ دنوں بعد سارہ کا وجدان سے ہیرا بیگم نے کہا۔
وجدان جو حیدر کے پیچھے ہی آرہا تھا ہیرا بیگم کی بات سن کر رک گیا تھا۔
ماں میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں کوئ مجھے ڈسٹرب نا کرے حیدر کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔
ہیرا بیگم کی نظر جب وجدان پر پڑی تو ہیرا بیگم نے اپنی نظریں جھکا لیں تھیں وجدان ہیرا بیگم کے پاس آیا ۔
تائ جان آپ فکر مت کریں میں حیدر کے پاس جارہا ہوں۔
وجدان نے ہیرا بیگم کو کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا ۔
