Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

اظہر تہمینہ بیگم کے گھر سے ابھی نکلا ہی تھا جب کچھ آدمی اسے نظر آئیں جو اسے ہی گھور رہے تھے۔۔۔۔
آدمی دیکھنے میں ہی ہٹے کٹے لگ رہے تھے۔۔۔ اظہر ان کو اگنور کرکے اپنی گاڑی کی طرف جانے ہی والا تھا۔۔۔ جب وہ سارے آدمی اظہر کے پاس آۓ اور اسے بولنے کا موقع دیے بغیر مارنے لگے۔۔۔۔۔ اظہر وجہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ لوگ اسے کیوں مار رہے ہیں۔۔۔۔
کون ہو تم لوگ۔۔۔۔؟
اور مجھے کیوں مار رہو ہو۔۔۔۔؟
اظہر نے اپنے آپ ان آدمیوں سے چھڑواتے ہوۓ کہا۔۔۔ لیکن وہ آدمی سن ہی کہاں رہے تھے۔۔۔۔
جب اظہر بے ہوش ہو گیا تو وہ آدمی اسے وہاں ہی چھوڑ کر چلے گۓ تھے۔۔۔۔ رات کا وقت تھا اور گلی میں بھی کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
اظہر کی حالت ان آدمیوں نے بہت بری کر دی تھی۔۔۔۔
💖————💖
فاروق صاحب گھر آرہے تھے جب ان کی نظر اظہر پر پڑی۔۔۔۔ جو بے ہوش بری حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔۔۔۔
فاروق صاحب اسے جلدی سے ہوسپیٹل لے گۓ تھے۔۔۔۔
💖————💖
تم کتنے بے وفا ہو مجھے تم نے کہا تھا تم بیمار ہو۔۔۔۔ اور گھر پر ہو۔۔۔ لیکن یہاں کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھے ہوۓ عیاشی کر رہے ہو۔۔۔۔
تم میں زرا بھی شرم نہیں ہے تم تو کہتے تھے۔۔۔۔ میں تمھاری جان ہوں۔۔۔۔ تو پھر اس لڑکی کے ساتھ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔
اس کا مطلب تم مجھے اتنے عرصے سے چیٹ کر رہے تھے۔۔۔۔ اسما نے اس لڑکے کے پاس جاتے ہی اپنے نقلی آنسو بہاتے ہوۓ اس لڑکے کو کہا۔۔۔۔
وہ لڑکا حیران سا اسما کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کیا فضول بول رہی ہو۔۔۔؟ میں تمہیں نہیں جانتا۔۔۔۔ آج سے پہلے میں نے کبھی تمہیں دیکھا ہی نہیں ہے۔۔۔۔ اس لڑکے نے پریشان سے کہا۔۔۔۔
واہ مجھ سے کتنے محبت کے دعوے کرتے تھے۔۔۔۔ اور اب اس لڑکی کے سامنے مجھے پہچانے سے انکار کر رہے ہو۔۔۔۔
اسما نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
مجھے تو پہلے ہی تم پر شک تھا۔۔۔ تم ایک گھٹیا انسان ہو اور آئندہ مجھے کال کرنے کی کوشش کی تو اندر کروا دوں گی۔۔۔۔ اس لڑکی نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلی گئ۔۔۔۔
وہ لڑکا حیران سا کھڑا تھا۔۔۔۔
اس لڑکے کے باقی دوست بھی معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔
اسما نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی تھی۔۔۔۔ اسما وہاں سے چلی گئ تھی لڑکو کا دھیان اسما کی طرف نہیں تھا۔۔۔۔
💖————💖
لوں کر لیا چیلنج پورا۔۔۔ اسما نے باہر آتے ہی ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
ویسے یار مان گئے تمہیں۔۔۔ اسما کی فرینڈ نے بھی اسے داد دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اب چلو یہاں سے اگر وہ لڑکے باہر آ گئے تو ہم سب مشکل میں پھنس جاۓ گی۔۔۔۔ اسما نے جلدی سے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
💖————💖
یار وہ خوبصورت لڑکی کون تھی جو تجھ سے پیار کا دعویٰ کر رہی تھی۔۔۔۔ اس لڑکے کے دوست نے پوچھا۔۔۔۔
جو بھی تھی لیکن اب مجھ سے بچ نہیں سکے گی لڑکے نے غصے سے کہا۔۔۔۔
اسما نہیں جانتی تھی کہ اس نے مزاح مزاح میں کس مصبیت کو گلے لگایا ہے۔۔۔۔
شمس جب اپنے دوست سے فارغ ہوا تو اس نے اس ٹیبل کی طرف دیکھا۔۔۔ جہاں اسما کھڑی تھی لیکن اب وہاں نا تو وہ لڑکی تھی اور نا ہی اسما تھی۔۔۔
💖————💖
تم اس وقت شاہ کے کمرے میں کیا کر رہی ہو۔۔۔؟ سدف نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوۓ فیری سے پوچھا جو گھبرائی سی کھڑی تھی۔۔۔۔
پھپھو وہ آپ کو جواب دینے کی پابند نہیں ہے۔۔۔۔ شاہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
فیری جاؤ اپنے روم میں شاہ نے فیری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
فیری وہاں سے جانے ہہ والی تھی جب سدف نے فیری کو بازوں سے پکڑ کر روکا۔۔۔۔
کہاں جارہی ہو بد چلن لڑکی۔۔۔۔ اس لیے تم یہاں آئی تھی کہ یہاں کے لڑکوں پر ڈورے ڈال سکو۔۔۔۔
سدف نے نفرت سے فیری کا بازو پکڑ کر اسے کمرے سے باہر لے جاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
سدف کی بات سن کر شاہ کا پارا ہائی ہو گیا تھا۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہے آپ چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ فیری نے سدف سے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوۓ کہا۔۔۔
سدف فیری کو نیچے لے گئ تھی۔۔۔۔
داجی، بھابھی، بھائی کہاں ہے آپ لوگ۔۔۔۔؟ باہر آئیں۔۔۔
سدف نے اونچی آواز میں سب کو باہر آنے کا کہا۔۔۔۔
فیری کا بازو ابھی بھی سدف نے پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔
شاہ بھی نیچے آگیا تھا اور سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔۔ اس نے آنکھوں سے فیری کو حوصلہ دیا تھا۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے سدف کیوں تم نے شور مچایا ہوا ہے۔۔۔۔ اور بچی کا بازو کیوں پکڑا ہوا ہے۔۔۔۔ داجی حیرانگی سے سدف کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
داجی پوچھیے اس بدچلن لڑکی سے رات کے اس پہر یہ ہمارے شاہ کے کمرے میں کیا کر رہی تھی۔۔۔۔؟
چلو کمرے میں تو تھی لیکن شاہ کے گلے کیوں لگی ہوئی تھی۔۔۔۔
سدف نے اونچی آواز میں کہا تھا فیری نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔۔۔
سدف کیا بکواس کر رہی ہو ہوش میں تو ہو تم۔۔۔؟ داجی نے بھی غصے سے کہا۔۔۔
داجی میں سچ کہہ رہی ہو۔۔۔ اگر مجھ پر آپ کو یقین نہیں ہے تو اس سے پوچھیے۔۔۔؟ سدف نے فیری کو داجی کے سامنے کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اس سے پہلے داجی فیری سے کچھ پوچھتے شاہ بول پڑا تھا۔۔۔
اس سے کیا پوچھ رہے ہیں آپ۔۔۔؟ مجھ سے پوچھیے۔۔۔۔ ہمیشہ لڑکی کو ہی آپ لوگ کیوں غلط سمجھتےہیں۔۔۔۔؟ شاہ نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔۔۔۔
شاہ کا لہجہ ایسا تھا کہ وہاں کھڑے سب لوگوں کو شاہ کے لہجے سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
تو بتاؤ برخوردار کیا یہ لڑکی تمہارے کمرے میں تھی۔۔۔۔؟ داجی نے شاہ سے پوچھا۔۔۔۔
جی بلکل تھی۔۔۔۔ اور میں نے ہی اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا۔۔۔۔ شاہ نے سدف کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہم کیسے مان لیں کہ تم سچ بول رہے ہو۔۔۔۔ اور یہ تمھارے گلے کیوں لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ سدف نے شاہ سے پوچھا۔۔۔۔
آپ لوگوں کے ماننے یاں نا ماننے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔
اور جہاں تک بات ہے گلے لگنے کی تو وہ میرے گلے نہیں لگی تھی۔۔۔ میں نے اسے گلے لگایا تھا۔۔۔
شاہ نے عام سے لہجے میں کہا۔۔۔
وہاں کھڑے سارے لوگ شاہ کی بات سن کر حیران ہوۓ تھے۔۔۔۔ کیونکہ شاہ نے آج تک کسی لڑکی کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔۔۔
وہ ہمیشہ سے کہتا تھا کہ اس کے دل میں اس کی اینجل کے سوا کسی اور لڑکی کی جگہ نہیں ہے۔۔۔ لیکن اب کسی لڑکی کو گلے لگانا یہ بات سب کو حیران کر گئ تھی۔۔۔۔
برخوردار تمہاری تربیت ہم نے ایسی تو نہیں کی تھی۔۔۔۔ اور لگتا ہے تم میں شرم ختم ہوگئ ہے۔۔۔۔؟ داجی نے غصے سے کہا۔۔۔
داجی بیوی کو گلے لگانے میں کہاں کی شرم۔۔۔؟ شاہ نے بے باکی سے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔؟ سدف نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
مطلب یہ کہ فریال میری بیوی ہے۔۔۔ اور میں اس سے نکاح کر چکا ہوں۔۔۔۔
یہ ہے مسز ازلان حیدر شاہ۔۔۔ اور اس حویلی کی بڑی بہو مائی کیوٹ اینجل۔۔۔۔ شاہ نے فیری کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب کرتے ہوۓ اس کا تعارف کروایا۔۔۔۔
سب لوگوں کے لیے یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہیں تھی۔۔۔۔ جیسے وہ مرا ہوا سمجھ رہے تھے وہ زندہ تھی۔۔۔ اور سب کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
پھپھو آپ نے جو میری بیوی کے لیے بدچلن کا لفظ استعمال کیا ہے۔۔۔۔ آج پہلی اور آخری بار آپ کو اس کے لیے معاف کر رہا ہوں۔۔۔ لیکن آئندہ کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔۔۔۔
شاہ نے سنجیدگی سے ایک ایک لفظ چباکر کر سدف کو باور کروایا۔۔۔۔
داجی بنا کچھ کہے وہاں سے چلے گۓ تھے۔۔۔۔
ہیرا بیگم سچ جانتی تھی۔۔۔۔ لیکن باقی سب کے لیے یہ خبر کسی خوشی سے کم نہیں تھی۔۔۔۔
ماہین بیگم، وسیم شاہ اور سلیمان شاہ جلدی سے فیری کے پاس آۓ تھے۔۔۔۔
شاہ تم نے پہلے کیوں نہیں ہمیں بتایا کہ یہ ہماری عالیہ کی بیٹی ہے۔۔۔۔ سلیمان شاہ نے فیری کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
بابا میں تو سر پرائز دینا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن پھپھو نے میرے سرپرائز پر پانی پھیر دیا۔۔۔۔ شاہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
وسیم شاہ نے فیری کے ماتھا کو چوما تھا۔۔۔۔
مجھے پہلے ہی لگا تھا کہ اس کی شکل ہماری عالیہ سے ملتی ہے۔۔۔۔ لیکن دیکھو یہ سچ ہے وسیم شاہ نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
فیری اپنے لیے اتنی محبت دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی۔۔۔۔ شروع سے ہی تو وہ ان محبتوں کے لیے ترسی تھی۔۔۔۔
اسے لگا تھا جب سب کو سچ معلوم ہو گا تو سب اس سے ناراض ہوجاۓ گے۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔۔
شاہ ہم اپنی بیٹی کی شادی پورے رسم رواج سے کرے گے۔۔۔ سلیمان شاہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
نہیں بابا ایسا نہیں ہو گا۔۔۔ ہماری شادی ہوچکی ہے شاہ نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
ہماری بیٹی جو کہے گی وہی ہو گا۔۔۔ ماہین بیگم نے کہا۔۔۔۔
سدف اور اس کی بیٹیاں وہاں سے چلی گئ تھیں۔۔۔۔
فیری بیٹا آپ کیا چاہتی ہو۔۔۔۔؟
سلیمان شاہ نے فیری سے پوچھا۔۔۔۔
جو آپ لوگوں نے فیصلہ کیا ہے وہ مجھے منظور ہے۔۔۔ فیری نے کہا۔۔۔۔
شاہ فیری کو گھور یوں سے نواز رہا تھا۔۔۔ لیکن یہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔۔
چلو شاہ فیصلہ ہو گیا ہے۔۔۔۔ اور جب تک تم دونوں کی شادی نہیں ہوجاتی تم دونوں الگ الگ رہو گئے۔۔۔۔ ہیرا بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔ شاہ نے کیا کو لمبا کرتے ہوئے کہا اس نے سوچا تھا کہ سچائی کا سب کو معلوم ہو گیا ہے اور اب فیری اس کے کمرے میں رہے گی۔۔۔ لیکن اس کے ارمانوں پر اس کے باپ نے پانی پھیر دیا تھا۔۔۔۔
فیری بیٹا چلو ہمارے ساتھ ہمیں تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔۔۔۔ ماہین بیگم نے کہا۔۔۔
فیری وہاں سے جانے لگی تھی جب شاہ نے اس کے کان میں سرگوشی نما کہا۔۔۔
سزا کے لے تیار رہنا۔۔۔۔
شاہ کی سرگوشی فیری کو کپکپانے پر مجبور کر گئ تھی۔۔۔۔ فیری جلدی سے ہیرا بیگم کے ساتھ وہاں سے چلی گئ تھی۔۔۔۔
شاہ فیری کی پھرتی دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔۔۔۔
بیٹا جی آپ کے لیے بھی ایک ضروری کام ہے۔۔۔۔ وسیم شاہ نے شاہ کو کہا۔۔۔۔
کیا چاچو۔۔۔؟ شاہ نے پوچھا۔۔۔۔
داجی کو شادی کے لیے راضی کرنا۔۔۔۔ وسیم شاہ نے کہا۔۔۔۔
یہ تو سچ میں بہت مشکل کام ہے۔۔۔۔ شاہ نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
بیٹا جی جیتنی جلدی تم داجی کو منا لو گے اتنی جلدی تمھاری شادی ہوگی۔۔۔ سلیمان شاہ نے کہا۔۔۔
پھر تو مجھے ابھی جانا چاہیے۔۔۔۔ شاہ نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
بھائی آپ کو کیا لگتا ہے ہماری عالیہ بھی زندہ ہوگی۔۔۔۔؟ وسیم شاہ نے سلیمان شاہ سے پوچھا۔۔۔۔
اب تو مجھے بھی لگتا ہے کہ وہ زندہ ہوگی اور مجھے اللہ کے بعد اپنے بیٹے پر پورا یقین ہے کہ وہ عالیہ کو بھی ہمارے پاس لے آۓ گا۔۔۔۔ سلیمان شاہ نے کہا۔۔۔
انشاءاللہ۔۔۔۔ وسیم شاہ نے دل میں کہا۔۔۔۔
💖————💖
تم سب میری بات کان کھول کر سن لو حیدر سر کو معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں عالیہ میڈم کا شمس نے بتایا تھا۔۔۔
شمس نے سختی سے منع کیا تھا۔۔۔ اور اگر شمس کو معلوم ہوگیا کہ حیدر سر کو معلوم ہو گیا ہے کہ میڈم کا پتہ ہمیں شمس نے بتایا تھا۔۔۔۔ تو شاہ سر سے پہلے شمس ہماری جان نکال لے گا۔۔۔۔
شاہ کے آدمی نے باقی کے آدمیوں کو کہا۔۔۔۔۔
💖————💖
شمس جب تہمینہ بیگم کے گھر آیا تھا۔۔۔ تو اس نے اپنے باپ اور تہمینہ کی ساری باتیں سن لی تھیں۔۔۔۔
اس نے عالیہ کو ہر جگہ تلاش کیا تھا۔۔۔۔
لیکن پھر شفیق کی غیر موجودگی میں شمس شہر والے گھر آیا تھا۔۔۔۔ وہاں پر اس نے عالیہ کو دیکھا تھا۔۔۔۔
اسے اپنے باپ پر بہت غصہ آیا تھا۔۔۔۔ اس نے اسی دن شاہ کے آدمی کو فون کر کے سب بتا دیا تھا۔۔۔۔
اور سختی سے منع کیا تھا کہ شاہ کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ اس کے بعد شمس ملک سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
داجی میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔؟ شاہ نے داجی سے کہا۔۔۔۔
شاہ تم نے میری بات تو ماننی نہیں ہے۔۔۔۔ اس لیے یہاں سے چلے۔۔۔ جاو داجی نے کہا۔۔۔۔
داجی صرف آخری بار میری بات سن لیں میں آپ کو عالیہ پھپھو کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔۔۔۔
شاہ نے داجی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
عالیہ کے نام ہر داجی نے شاہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
💖————💖
رابی میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔۔۔ وجدان نے رابی کو کہا جو بیٹھی پتہ نہیں کیا سوچ رہی تھی۔۔۔۔
اگر آپ مجھ سے یہ کہنے والے ہے کہ آپ کسی اور کو پسند کرتے تھے۔۔۔ اور مجھ سے ہمدردی کے تحت شادی کی ہے۔۔۔۔ تو آپ دوسری شادی کر سکتے ہیں۔۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ رابی نے وجدان کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
جو حیران سا رابی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
زوجہ محترمہ پہلے مجھے لگتا تھا کہ آپ اپنے دماغ کو بلکل بھی استعمال نہیں کرتی لیکن اب یقین ہو گیا ہے۔۔۔۔
اور دوسری بات میں نے آپ سے کسی ہمدردی کے تحت شادی نہیں کی۔۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں اس لیے تم سے شادی کی ہے۔۔۔
وجدان نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
رابی وجدان کے منہ سے اپنے لیے محبت کا سن کر حیران ہوئی تھی۔۔۔۔
اور اگر میرا نکاح اس دن اظہر سے ہوجاتا تو۔۔۔۔؟ رابی نے وجی سے پوچھا۔۔۔۔
اس جاہل سے تو تمہارا نکاح کبھی بھی نہیں ہونا تھا۔۔۔ اور نا ہی میں نے ہونے دینا تھا وجدان نے کہا۔۔۔۔
وہ کیوں۔۔۔”؟ رابی نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔۔
وہ تمہیں میں پھر کبھی بتاؤ گا۔۔۔۔ لیکن ابھی میں تمہیں تمھاری بہن کے بارے میں بتانے والا ہوں وجدان نے کہا۔۔۔۔
آپ فریال کی بات کر رہے ہیں۔۔۔؟ رابی نے خوشی سے پوچھا۔۔۔۔
ہاں فریال میری کزن بھی ہے میری پھپھو کی بیٹی ہے۔۔۔۔
پھر وجدان نے رابی کو ساری بات بتا دی تھی۔۔۔۔
لیکن وجی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ فریال کو اس کے گھر سے غائب کرنے والا شاہ ہی تھا۔۔۔
بلکہ وجدان نے یہ کہا تھا کہ فیری کو شاہ نے بچایا تھا۔۔۔۔ اور پھر اس سے نکاح کیا تھا۔۔۔
اور اب فیری بلکل ٹھیک ہے۔۔۔۔
فریال ٹھیک ہے یہ سن کر رابی کو سکون ملا تھا۔۔۔۔
اور شاہ سے تو رابی مل بھی چکی تھی۔۔۔ اور اب رابی فیری کی طرف سے مطمئن بھی تھی۔۔۔۔
اسے شاہ فیری کے لیے اچھا لگا تھا۔۔۔۔
شاہ نے فیری کے لیے جو کچھ کیا تھا۔۔۔ رابی کے دل میں شاہ کے لیے عزت اور بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
ان میڈم کے لیے میں دن رات تڑپا ہوں اور اسے لگتا ہے میں نے اس سے ہمدردی میں شادی کی ہے۔۔۔۔ وجدان نے دل میں سوچا اود وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
وجدان کے آدمیوں نے اظہر کی دھلائی کی تھی۔۔۔ لیکن یہ بات اظہر کو معلوم نہیں تھی۔۔۔
وجدان نے کہا تھا کہ بس اس کی سانسیں چلنی چاہیے۔۔۔۔
باقی اگر اس کی کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ بھی جاۓ اس سے فرق نہیں ہڑتا۔۔۔۔
💖————💖
زوجہ محترمہ آپ کہاں جارہی ہیں۔۔۔؟
وجی نے رابی سے پوچھا جو دوسرے کمرے میں جانے کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔
دوسرے کمرے میں رابی نے آم سے لہجے میں کہا۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔
دراصل جو دوسرا کمرہ ہے نا وہاں پر کچھ دنوں سے چوہے پارٹی کر رہے ہیں۔۔۔۔ اور شاہ اپنے کمرے میں جانے کی کسی کو اجازت نہیں دیتا۔۔۔۔ میں نے تمہیں بتا دیا ہے۔۔۔۔ بعد میں مجھے مت کہنا کہ میں نے تمھیں بتایا نہیں تھا۔۔۔۔
اور مجھے بہت نیند آرہی ہے۔۔۔۔ میں سونے لگا ہوں۔۔۔۔ وجی نے کہا اور لائٹ بند کر کے لیٹ گیا۔۔۔
رابی اب پریشان سی کھڑی سوچ رہی تھی۔۔۔ کہاں پر سوۓ چوہوں کے درمیان تو سونے سے رہی۔۔۔۔
آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔۔ رابی نے وجی کو کہا۔۔۔
نہیں زوجہ محترمہ میں سچ میں سونے لگا ہوں۔۔۔۔ وجدان نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
میں ساتھ والے کمرے کی بات کر رہی ہوں۔۔۔۔ رابی نے کہا۔۔۔۔
اگر تمھیں میری بات پر یقین نہیں ہے تو جاکر دیکھ سکتی ہو۔۔۔۔ وجدان نے کہا۔۔۔۔
اور اگر تم چاہو تو اس بیڈ پر سو سکتی ہو۔۔۔۔ وجدان کہہ کر پھر سے لیٹ گیا تھا۔۔۔۔
رابی کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا اس لیے بیڈ پر لیٹ گئ۔۔۔۔
وجدان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
💖————-💖
جاری ہے۔۔۔۔💞💞