No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
رابی اگلے دن جب آفس آئی تو بہت خوش تھی۔۔۔ اور اب اسے وجدان کی طرف سے بھی ٹینشن نہیں تھی۔۔۔
اسے لگتا تھا وجدان اس سے معافی مانگ چکا ہے۔۔۔۔ اب دوبارہ کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کرے گا جس سے رابی کو مسئلہ ہو۔۔۔
رابی آپ دو دن سے آفس کیوں نہیں آئی۔۔۔؟ آبان نے فکر مندی سے پوچھا۔۔۔
سر میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ رابی نے بے زاری سے جواب دیا اور وہاں سے جانے لگی۔۔۔
جب اچانک آبان نے رابی کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔
رابی نے بڑی مشکل سے آبان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنے اور آبان کے درمیان فاصلہ قائم رکھا تھا۔۔۔ ورنہ رابی نے سیدھا آبان کے سینے سے جا لگنا تھا۔۔۔۔
اسی وقت وجدان وہاں آیا تھا۔۔۔
سامنے کا منظر دیکھ کر اسے غصہ تو بہت آیا تھا۔۔۔۔ لیکن دونوں کے پاس نہیں گیا تھا۔۔۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ رابی کیا کرے گی۔۔۔۔
رابی نے اپنا ہاتھ آبان کے ہاتھ سے چھڑوایا جو کھڑا رابی کو دیکھ مسکرا رہا تھا۔۔۔
رابی نے کھنیچ کر تھپڑ آبان کو مارا تھا۔۔۔
رابی کے تھپڑ مارنے پر وجدان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔۔۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی۔۔۔
اگر آئندہ مجھے چھونے کی کوشش کی تو تمھاری جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤ گی۔۔۔ رابی نے غصے سے کہا اور وہاں سے جانے لگی۔۔۔ جب اس نے دروازے پر وجدان کو کھڑا دیکھا اور وہی رک گئی۔۔۔۔
آبان ابھی بھی ویسی ہی کھڑا تھا۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک لڑکی نے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے۔۔۔
وجدان اندر آیا تھا اور رابی کو بھی آنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
آبان نے جب وجدان کو اپنے سامنے دیکھا تو اس کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔۔
معافی مانگو مس رابیل سے۔۔۔ وجدان نے سنجیدگی سے کہا اور آبان نے ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا۔۔۔۔ اور رابی سے معافی مانگی تھی اور وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ شاہ اور وجدان کو بہت اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔۔
ایم سوری مس رابیل وجدان نے شرمندگی سے رابی کو کہا۔۔۔۔
اور آج پہلی بار رابی کو وجدان کا شرمندہ ہونا اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔
سر آپ کیوں سوری بول رہے ہیں۔۔۔ اس میں آپ کی تو کوئ غلطی نہیں ہے۔۔۔۔ رابی نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔۔۔۔
اگر آپ کو یہاں کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھے ضرور بتائیے گا۔۔۔۔ وجدان نے رابی کو کہا۔۔۔
جی سر۔۔۔ رابی نے بس اتنا ہی کہا۔۔۔
ویسے زیادہ مسئلہ تو مجھے پہلے آپ سے ہی تھا۔۔۔ یہ بات رابی نے دل میں سوچی تھی۔۔۔
💖————💖
کیسی ہو جاناں۔۔۔؟
فیری کچن سے باہر جارہی تھی جب شاہ اس کے راستے میں حائل ہوا۔۔۔
بھاگ رہی ہوں اس گھر سے۔۔۔ آئیے پکڑ لے مجھے کہیں بھاگ گئ تو۔۔۔۔؟
فریال نے غصے سے کہا۔۔۔
وہ ابھی شاہ کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی۔۔۔
پکا پکڑ لو تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گا نا۔۔۔ شاہ نے آنکھوں میں شرارت لیۓ فیری سے پوچھا۔۔۔۔ اسے فیری کا غصہ سے بھرا چہرہ مزا دے ریا تھا۔۔۔
پلیز ہٹیے راستے سے۔۔۔ فیری نے کہا۔۔۔
اگر نا ہٹو تو شاہ نے اپنا چہرہ فیری کے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔۔
فیری ایک دم پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
آپ کو معلوم ہے آپ ایک نمبر کے فلرٹی انسان ہے۔۔۔ فیری نے گھورتے ہوئے شاہ کو کہا۔۔۔
اپنی بیوی کے ساتھ فلرٹ کررہا ہوں جاناں۔۔۔ مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔
شاہ نے سرگوشی نما کہا۔۔۔
فیری کا مزید یہاں رکنا بےکار تھا۔۔۔ اس نے شاہ کو پیچھے دھکا دیا اور باہر بھاگ گئ۔۔۔۔
شاہ بھی مسکراتا ہوا وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
صوفیہ نے فیری کو کچن سے بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی شاہ کو کچن سے نکلتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔
یہ دونوں اکیلے کچن میں کیا کررہے تھے۔۔۔؟ صوفیہ نے غصے سے سوچا۔۔۔
اگر تم نے میرے شاہ کے قریب آنے کی کوشش کی تو جان سے جاو گی۔۔۔
صوفیہ نے نفرت سے فیری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔ اور پیر پٹخ کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔
💖————💖
ماما مجھے اس فریال کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔ وہ میرے شاہ پر ڈورے ڈال رہی ہے۔۔۔ صوفیہ نے نفرت سے فیری کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔۔۔
تم ٹینشن نا لو میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے اب کیا کرنا ہے۔۔۔
ویسے شاہ ہاتھ نہیں آنے والا سدف نے مسکراتے ہوۓ صوفیہ کو کہا۔۔۔
کیا کرنے والی ہے آپ۔۔۔؟ صوفیہ نے جلدی سے پوچھا۔۔۔
وہ تمہیں وقت آنے پر معلوم ہو جاۓ گا۔۔۔ سدف نے کہا۔۔۔۔
💖————💖
شمس نے اپنے ذریعے معلوم کروایا تھا کہ اسما کو گولی لگنے کے بعد کس ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا تھا۔۔۔ اور خوش قسمتی سے اسے وہ ڈاکٹر مل بھی گیا تھا۔۔۔
جس نے بتایا تھا کہ وہ لڑکی بچ گئ تھی۔۔۔
اور جب یہ بات شمس کو معلوم ہوئی تو سب سے پہلے اپنے اللہ کے سامنے سجدے میں جھکا تھا اور بہت رویا تھا۔۔۔۔
اسے خود معلوم نہیں تھا کہ وہ کس بات پر زیادہ خوش ہورہا ہے۔۔۔ اسما کے زندہ ہونے پر یا۔۔۔۔ اس کے دوبارہ ملنے پر۔۔۔۔
شمس نے اب سوچ لیا تھا اب وہ اپنی محبت سے اسما کا دل جیتے گا۔۔۔ اور کبھی بھی اسما کو اپنے آپ سے دور نہیں جانے دے گا۔۔۔
اگر اسما کو معلوم ہوتا کہ کوئی اس کے لئے رو رہا ہے۔۔۔ تڑپ رہا ہے۔۔۔ تو اسما ضرور اپنی قسمت پر رشک کرتی۔۔۔
💖————💖
سدف کے شوہر کا نام الطاف تھا۔۔۔ سدف الطاف کو پسند کرتی تھیں۔۔۔ الطاف سدف کا کزن بھی تھا۔۔۔۔
الطاف امیر نہیں تھا بلکہ معمولی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔۔۔
سدف کی شادی جب الطاف سے ہوئی۔۔۔ تو وہ الطاف کے چھوٹے سے گھر میں گزارا نہیں کر سکی۔۔۔ اس لیے اپنے باپ کے پاس آکر رہنے لگی داجی کو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔
الطاف نے اپنے سسر کے گھر رہنے سے صاف انکا کر دیا تھا۔۔۔
وہ آکر سدف اور بچوں سے مل لیتا تھا۔۔۔۔
پھر الطاف نے تہمینہ بیگم کو دیکھا تھا۔۔۔ اور پہلی نظر میں ہی الطاف کو تہمینہ پسند آگئ تھی۔۔۔
تہمینہ کے گھر والوں کو بھی شادی کی جلدی تھی اس لیے انہوں نے تہمینہ کی شادی الطاف سے کر دی تھی۔۔۔۔
لیکن جب الطاف کو معلوم ہوا کہ تہمینہ اپنے کزن کو پسند کرتی ہے۔۔۔ تو ان کو بہت دکھ ہوا تھا۔۔۔
الطاف نے تہمینہ کو ہر طرح کی خوشی دینے کی کوشش کی تھی۔۔۔ لیکن تہمینہ کا دھیان اپنے کزن کی طرف ہی رہتا تھا۔۔۔
جبکہ وہ بھی شادی کر چکا تھا۔۔۔ لیکن ایک دن جب الطاف نے تہمینہ کو فون پر کسی سے بات کرتے سنا تو۔۔۔ اور اس کے بعد تہمینہ کو طلاق دے دی۔۔۔۔
تہمینہ تو بہت خوش تھی الطاف نے رابی کو اپنے پاس رکھنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔ کیونکہ اسے اس وقت اپنی ماں کی زیادہ ضرورت تھی۔۔۔
سدف بیگم کو جب الطاف کی دوسری شادی کا معلوم ہوا تو انہوں نے گھر میں بہت شور مچایا تھا۔۔۔۔
ان کو معلوم تھا کہ الطاف نے دوسری شادی کی ہے۔۔۔ اور اس کو طلاق بھی دے دی ہے۔۔۔۔ لیکن وہ تہمینہ بیگم کو جانتی نہیں تھی اور نا ہی کبھی دیکھا تھا۔۔۔
اس کے بعد سدف الطاف سے نا ہونے کے برابر بات کرتی تھی۔۔۔
💖————💖
شاہ اچھا ہے ایسا فیری کا دل کہنے لگا تھا۔۔۔ لیکن یہ بات فیری ماننے سے انکاری تھی۔۔۔
شاہ اور فیری مل کر عالیہ کو ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔ ایسا فیری کو لگتا تھا۔۔۔ جبکہ شاہ فیری کے ساتھ وقت گزارنے کی غرض سے فیری کے ساتھ رہتا۔۔۔ اور باتیں کرتا جو زیادہ تر عالیہ بیگم کے مطلق ہوتی تھیں۔۔۔
💖————💖
سر ہمیں میم کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔۔۔ آپ جلدی سے شہر آجاۓ۔۔۔ شاہ کے ایک خاص بندے نے فون پر شاہ کو کہا۔۔۔
شاہ یہ سنتے ہی خوش ہو گیا تھا۔۔۔ اور اسی وقت شہر کے لیے نکل گیا تھا۔۔۔۔
💖————💖
جیسے جیسے دن نزدیک آرہے تھے۔۔۔ رابی کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا جسے کچھ برا ہونے والا ہے۔۔۔ لیکن کیا یہ بات اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔۔
رابی نے اپنی شادی کی شاپنگ بھی بےدلی سے کی تھی۔۔۔
اور وجدان کو بس نکاح کے دن کا انتظار تھا۔۔۔۔
💖———-💖
آج وہ دن آگیا تھا جب رابی اور اظہر کا نکاح ہونا تھا۔۔۔
اظہر بہت خوش تھا۔۔۔ اور رابی کا دل بےچین تھا۔۔۔
تہمینہ بیگم کے کہنے پر نکاح پر سب لوگوں کو بلایا تھا۔۔۔
وجدان بھی بلیک تھری پیس میں اپنی بے پناہ وجاہت سمیت وہاں پر ہر ایک کی نظروں کا مرکز بنا ہوا تھا۔۔۔
وجدان بار بار اپنی گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب اسے ایک میسج موصول ہوا جسے پڑھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔۔۔۔
رابی کو جب ہال میں لایا گیا تو وجدان کی نظریں اس کے خوبصورت چہرے پر ٹھہر سی گئ تھی۔۔۔
وجی کو اپنے آس پاس کی کسی چیز کی ہوش نہیں رہی تھی۔۔۔ وہ بس یک ٹک رابی کو دیکھی جا رہا تھا۔۔۔
رابی نے سفید رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا۔۔۔ جو رابی کی گندمی رنگت پر بہت جچ رہا تھا۔۔۔ رابی اس وقت آسان سے اتری ہوئی پری لگ ہی رہی تھی۔۔۔
رابی کی نظریں اٹھیں اور رابی نے سامنے دیکھا۔۔۔۔ جہاں وجی کھڑا رابی کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملی تھیں۔۔۔
وجدان کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر رابی کا ننھا سا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔۔
رابی کو اظہر کے سامنے بیٹھایا گیا تھا۔۔۔
وجدان ریلیکس سا کھڑا اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالی کھڑا تھا۔۔۔ جسے سامنے ہورہے نکاح سے بہت خوش ہو۔۔۔
💖————💖
شاہ جب شہر پہنچا تو اس کے آدمی نے جس انسان کا نام بتایا۔۔۔ اس نام کو سن کر شاہ کی رگیں پھول گئ تھیں۔۔۔۔
بہت غلط کیا ہے تم نے۔۔۔ تمہیں اب شاہ کے قہر سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔
شاہ نے غصے سے کہا۔۔۔ اور کرسی کو ٹھوکر مار کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔۔💞
