No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
مس رابیل آپ کہاں تھی اتنے دن؟ وجدان نے رابی سے پوچھا۔
وہ سر میں شادی کی شاپنگ میں بزی تھی رابیل نے آرام سے وجدان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
شادی کی بات سن کر وجدان کے چہرے پر ایک دم پریشان آگئ تھی ۔
کس کی شادی؟ وجدان نے جلدی سے پوچھا
جبکہ وجدان جانتا تھا اسے رابیل پرسنل سوال نہیں کرنا چاہیے تھا۔
وہ سر میری بہن کی شادی ہے رابیل نے جواب دیا اسے وجدان کا سوال بہت عجیب لگا تھا۔
بہن کا سن کر وجدان نے سکون کا سانس لیا تھا ۔
مس رابیل آپ جانتے ہیں کہ یہ میرا آفس ہے اور آپ میری سیکرٹری بھی ہے تو آپ کو ہر وقت میرے ساتھ ہونا چاہیے اور میں بلکل بھی برداشت نہیں کروں گا میری سیکرٹری جوائنگ کے دوسرے دن ہی چھٹیوں پر چلی جاۓ وجدان نے دوبارہ اپنی ٹون میں آتے ہوۓ سنجیدگی سے کہا۔
تو سر آپ مجھے نکال دیں رابی نے وجدان کو آسان حل بتایا ۔
رابیل کی بات سن کر وجدان کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھل گئے تھے۔
مس رابیل اگر آپ کو لگتا ہے کہ جو آپ فضول قسم کی حرکتیں کر رہی ہے اس کی وجہ سے میں آپ کو آفس سے نکال دوں گا تو یہ صرف آپ کی سوچ ہی ہے ۔
وجدان نے رابیل کے کان کے پاس سرگوشی کرتے ہوۓ کہا۔
وجدان کے قریب آنے سے رابی ایک دم گھبرا گئ تھی
وجدان کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
لیکن رابی ابھی بھی ویسے ہی کھڑی تھی۔
اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔
لیلا کے پکارنے پر رابی ہوش میں آئ تھی ۔
رابیل تمہیں وجدان سر نے بلایا ہے
لیلا نے کہا
کیوں وہ مجھے کیوں بلارہے ہیں رابی نے گھبراتے ہوۓ پوچھا ۔
تم یہاں کس لۓ آئ ہو لیلا نے الٹا رابی سے سوال کیا
کام کرنے رابی نے سنبھلتے ہوۓ جواب دیا۔
تو وجدان سر تمہیں کام کے لۓ بلارہے ہیں لیلا نے رابی کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا۔
تمہیں نہیں پتہ تمھارے سر کتنے ٹھرکی ہے رابی نے دل میں سوچا اور لیلا کے پیچھے چل پڑی ۔
💖💖💖💖💖
فیری کی تین دن بعد مہندی تھی آج شام میں ہی شفیق صاحب شمس کی دی ہوئ انگوٹھی فیری کو پہنا گۓ تھے۔
رابیل آفس سے آتے ہی شاپنگ کرنےچلی جاتی تھی اسے سب کچھ دیکھنا تھا تہمینہ بیگم تو کسی کام کو ہاتھ نہیں لگارہی تھی ۔
💖💖💖💖💖💖
رابیل پوری کوشش کرہی تھی کہ وجدان اسے آفس سے نکال دیں کبھی لیٹ جاتی تھی کبھی وجدان کا دیا ہوا کام وقت پر نہیں کرتی تھی ۔
لیکن وجدان بھی ڈھیٹ ثابت ہواتھا وہ رابی کے غلط کام میں بھی حوصلہ افزائی کرتا تھا جو رابی کا غصہ بڑھانے کا باعث بنتا تھا ۔
💖💖💖💖💖
سر مجھے چھٹی چاہیے رابی نے وجدان کو کہا جو لیپ ٹاپ پر کام کررہا تھا ۔
کیوں؟
وجدان نے رابی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
میری بہن کی شادی ہے رابی نے نظریں جھکا کر کہا۔
اسے وجدان کی نظروں میں دیکھنا دنیا کا مشکل ترین کام لگتا تھا۔
اس وقت وجدان کو رابیل بہت معصوم لگ رہی تھی ۔
اوکے کتنے دن کی لیو چاہیے آپ کو وجدان نے پوچھا
تین دن رابی نے کہا
ٹھیک ہے۔
وجدان کہہ کر کام کرنے لگا ۔
رابی واپس جانے لگی جب وجدان نے کہا
مس رابیل آپ کو میں نے جانے کا کہا؟
وجدان نے کہا نظریں ابھی بھی لیپ ٹاپ پر تھی ۔
رابی وجدان کو دیکھنے لگی تھی ۔
جو رابیل کو نہیں دیکھ ریا تھا۔
رابیل کو اس وقت وجدان پر بہت غصہ آرہا تھا۔
سر آپ کو مجھ سے کوئ کام ہے رابی نے ایک ایک لفظ چبا کر پوچھا ۔
رابی کو غصے میں دیکھ کر وجدان کو ہنسی آرہی تھی ۔
رابی بھی تو وجدان کو تنگ کرتی تھی اب وجدان کا بھی حق بنتا تھا رابی کو تھوڑا تنگ کریں ۔
آپ جا سکتی ہیں وجدان نے احسان کرنے والے انداز میں کہا ۔
اور رابیل نے وجدان کو ایسے دیکھا جیسے کچا چبا جاۓ گی۔
اگر آپ کا موڈ نہیں ہے جانے کا تو آپ یہاں بیٹھ سکتی ہے وجدان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
رابیل وجدان کی بات سنتے ہی وہاں سے واک آوٹ کر گئ تھی۔
عجیب لڑکی ہے کبھی اتنے آرام سے بات کرتی ہے جیسے اس سے زیادہ نرم لہجہ کسی کا ہو ہی نہیں سکتا اور کبھی کاٹنے کھانے کو دوڑتی ہے
وجدان نے مسکراتے ہوۓ سوچا۔
💖 💖 💖 💖 💖
فیری کی مہندی کا دن آگیا تھا رابیل صبح سے کاموں میں لگی ہوئ تھی ۔
مہمان بھی آچکے تھے ۔
اظہر رابی کا کاموں میں پورا پورا ساتھ دے رہا تھا ۔
اظہر کی ماں بھی خوشی خوشی سارا کام سر انجام دے رہی تھیں وہ فریال کو اپنی بیٹی کی طرح ہی مانتی تھی ۔
مہندی کا فنکشن شفیق صاحب نے اپنے شہر والے گھر میں ارینج کیا تھا ۔
شمس پیلے رنگ کے کرتے اور وائٹ شلوار میں اچھا لگ رہا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد شمس کو فیری آتی ہوئی دکھائ دی جس نے فل پیلا چوڑا پہنا ہوا تھا رابی کے ساتھ چلتی ہوئ گھبرائ سی بنا میک اپ کے بہت پیاری لگ رہی تھی،
فیری کو شمس سے تھوڑا فاصلے پر بیٹھایا گیا تھا ۔
رابی اپنی بہن کے لۓ بہت خوش تھی ۔
مہندی کا فنکشن بہت اچھا گزرا تھا
شمس خود فاروق صاحب کی فیملی کو گھر چھوڑنے آیا تھا۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
حیدر بیٹا آج تمہیں کوئ کام تو نہیں ہے ہیرا بیگم نے حیدر سے پوچھا
نہیں ماں آج میں گھر پر ہی ہوں آپ کو کچھ کام تھا
حیدر نے پوچھا
ہاں داجی کی کو ان کے دوست نے دعوت پر بلایا ہے تو تم ان کے ساتھ چلے جانا ۔
ہیرا بیگم نے کہا
جی ٹھیک ہے ماں میں چلا جاؤ گا حیدر نے کہا
تو ہیرا بیگم حیدر کے سر پر پیار دے کر وہاں سے چلی گئ تھی ۔
💖 💖 💖 💖 💖
رابی کو کافی کام تھا اس لیے وہ ابھی کمرے میں نہیں آئ تھی ۔
فیری آئینے کے سامنے کھڑی اپنا پراندہ اُتار رہی تھی۔
بے شک فیری سادگی میں بھی حسین لگ رہی تھی
فیری اپنے بالوں کے ساتھ الجھی ہوئ تھی جب کوئی دروازہ کھول کر اندر آیا۔
فیری کو لگا شاید رابی آئ ہے اس لیے اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔
جب فیری کو رابی کی کوئی آواز نہیں آئ تو اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کا سانس اٹک گیا تھا اپنے سامنے ایک انجان لڑکے کو اپنے کمرے میں دیکھ کر جو اب دروازے کو لوک کررہا تھا۔
کون ہیں آپ؟
فیری نے گھبراتے ہوۓ پوچھا اگر اس وقت کسی نے اس لڑکے کو اس کے کمرے میں دیکھ لیا تو کیا عزت رہ جاۓ گی اس کی ۔یہ سوچ ہی اس کی جان نکالنے کے لیے کافی تھی۔ گھر بھی مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔
آج تک اس نے کبھی کسی لڑکے کی طرف نہیں دیکھا تھا لیکن اب رات کے اس پہر ایک لڑکے کا فیری کے کمرے میں ہونا بہت بڑا مسئلہ کھڑا کر سکتا تھا ۔
ازلان فیری کو دلچسپ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
ازلان بہت غور سے فیری کو سر سے پاؤں تک دیکھ رہا تھا اگر ایسا کہا جاۓ گھور رہا تھا تو زیادہ بہتر ہوگا ۔
فیری اس وقت ڈوپٹے سے بےنیاز کھڑی تھی اس کے کالے گھنے بال کاندھے کے ایک طرف پڑے ہوۓ تھے۔
کچھ آوارہ لٹے اس کے چہرے پر بوسہ دے رہی تھیں ۔
میں سوچ رہا تھا کہ ایسی کیا وجہ ہوسکتی ہے جو شمس جیسا انسان ایک غریب لڑکی سے شادی کررہا ہے لیکن یہاں آکر معلوم ہوا وجہ تو واقعی بہت خوبصورت اور حسین ہے اس ازلان نے فیری کی طرف قدم بڑھاتے ہوۓ کمینگی سے کہا۔
فیری کا چہرہ سفید ہوگیا تھا۔
آپ پلیز یہاں سے چلے جاۓ میں آپ کو نہیں جانتی آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگئی لڑکی نے ڈرتے ہوئے کہا ڈر سے اس کی آواز بھی بہت مشکل سے نکل رہی تھی ۔
اسے لگا شاید یہ انسان غلط گھر میں آگیا ہے کیونکہ فیری کی تو کسی کے ساتھ بھی دشمنی نہیں تھی۔
ناں جاناں..
مجھے بلکل بھی غلط فہمی نہیں ہوئ ازلان نے فیری کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔اس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی ۔
فیری نے دروازے کی طرف جانا چاہا تو ازلان نے اس کا ارادہ بھانپ کر فیری کو بازو سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔
فیری کو لگا اس کی کوئی نہ کوئی ہڈی ضرور ٹوٹ گئ ہوگی۔
ازلان نے فیری کی دونوں سائیڈ پر اپنے بازو رکھ کر گھیرا بنایا۔
فیری کو لگا ابھی اس کی جان نکل جاۓ گی فیری ہولے ہولے کانپ رہی تھی ازلان یہ بات صاف محسوس کرسکتا تھا۔ فیری کی آواز ہی نہیں نکل رہی تھی کہ وہ رابی کو آواز دی سکے ۔
وہ کھڑا ہی اتنے قریب تھا کہ فیری کے دل کی دھڑکن تک کو بآسانی سن سکتا تھا۔
ازلان اپنے ہونٹوں کو فیری کے کان کے پاس لے گیا فیری نے ایک دم اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
جیسے آنکھیں بند کرنے سے یہ سب کچھ غائب ہوجاۓ گا۔
میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ازلان نے فیری کے کان میں سرگوشی نما کہا بولتے ہوۓ اس کے ہونٹ فیری کے کان سے ٹچ ہورہے تھے۔
جو فیری کو کپکپانے پر مجبور کررہے تھے۔
ازلان کی بات فیری کے لیے دھماکے سے کم نہیں تھی۔
فیری نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول لی تھیں۔
ازلان کا چہرہ فیری کے چہرے کے بہت قریب تھا آپ کا دماغ ٹھیک ہے میرا کل نکاح ہے فیری نے اس بار اپنا پورا زور لگا کر ازلان کو پیچھے دھکا دیتے ہوئے غصے سے کہا۔
اس کا ڈر کہی چھپ گیا تھا ازلان کے چہرے مسکراہٹ آگیٔ ۔
اس لیے تو آج آیا ہوں جاناں ازلان نے ایک آنکھ دباتے ہوۓ کہا۔
ویسے ایک بات تو بلکل سچ ہے اور آج مجھے یقین بھی آگیا ہے ۔
اصل خوبصورتی تو غریب لڑکیوں میں ہوتی ہے کسی بھی ملاوٹ سے پاک اب تم خود کو دیکھ لو تمھیں کسی بھی میک اپ کی ضرورت نہیں ہے تمھاری خوبصورتی کسی بھی مرد کا ایمان ڈگمگا سکتی ہے۔
ازلان نے مسکراتے ہوئے فیری کے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے فیری کی خوبصورتی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔
ازلان کی بےباک گفتگو فیری کو مزید شرمندگی میں لیے جارہی تھی۔
فیری کو تو اس ازلان کی اس حرکت پر پھر سے خوف محسوس ہونے لگا تھا ایک تو یہ کمرے میں بھی اکیلی تھی اور اس طاقت ور انسان کے سامنے بلکل بےبس تھی۔
وہ تو ازلان کو جانتی بھی نہیں تھی۔
باتوں کا وقت ختم ہوتا ہے باقی کی باتیں گھر جاکر کرے گۓ ازلان نے فیری کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہاجہاں خوف صاف نظر آرہا تھا ازلان فیری کے خوف سے محفوظ ہوا تھا۔
کیا مطلب فیری نے سہمی ہوئی نظروں سے ازلان کو دیکھا جو اپنی پاکٹ سے ایک انجکشن نکال رہا تھا۔
دیکھیے میں تو آپ کو جانتی بھی نہیں ہوں پلیز مجھے جانے دیں کل میرا نکاح ہے فیری نے گڑگڑاتے ہوۓ کہا شاید اس بے حس انسان کو رحم آجائے لیکن وہ انسان رحم کرنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھا۔
اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جاناں پہلے میرا بھی ارادہ کچھ ایسا ہی تھا لیکن تمہیں دیکھ کر مجھے اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔
ازلان نے فیری کے کان کے پاس سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔اور فیری کی گردن میں انجکشن لگادیا۔
فیری نے اپنے آپ کو چھڑوانے کی بہت کوشش کی لیکن ایک نازک سی لڑکی ایک مضبوط مرد کے سامنے ایک چڑیا کی مانند تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ہی فیری ازلان کے بازوں میں جھول گئ تھی
ازلان نے فیری کو اپنی باہوں میں اُٹھایا اور کھڑکی سے باہر کود گیا ۔
……………..
صبح صبح شمس کے نام پر ایک پارسل آیا تھا جب اس نے اس میں موجود تصویر اور نکاح نامے کو دیکھ کر غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
………..
