Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

اسما لائبہ کے ساتھ چہل قدمی کرنے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔۔۔ جب باتوں کے دوران ان کو معلوم نہیں ہوا اور دونوں کافی دور نکل آئی تھیں۔۔۔۔
آپی لگتا ہے ہم لوگ زیادہ دور آگئے ہیں۔۔۔ اور ماما نے اس جگہ پر آنے سے منع کیا تھا۔۔۔ لائبہ نے ڈرتے ہوۓ کہا کیونکہ یہ جگہ بہت سنسان رہتی تھی۔۔۔ اِدھر لوگوں کا آنا بہت ہی کم تھا۔۔۔
باتیں کرتے ہوئے معلوم ہی نہیں ہوا چلو یہاں سے چلتے ہیں۔۔۔ اسما نے بھی جلدی سےکہا اور وہاں سے جانے لگیں۔۔۔ جب اسما کو اپنے پیچھے وہی ریسٹورنٹ والا لڑکا کھڑا ہوا نظر آیا جو اسما کو دیکھ کر کمینگی سے مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
میں یہی سوچ رہا تھا کہ اپنے پیار کو کہا ڈھونڈوں گا۔۔۔ لیکن دیکھو میرا پیار خود چل کر یہاں آیا ہے۔۔۔۔ اس لڑکے نے اسما کو اوپر سے نیچے تک گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اسما اپنے سامنے اس لڑکے کو دیکھ کر ڈر گئ تھی۔۔۔
اس کے دوست بھی وہاں آگئے تھے۔۔۔
لائبہ نے اسما کے بازو کو زور سے پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
تو کیا کہہ رہی تھی تم کہ تم مجھ سے پیار کرتی ہو۔۔۔۔
یار اگر تم مجھے پہلے ملی ہوتی تو میں اس لڑکی کو منہ ہی نا لگاتا۔۔۔۔ لڑکے نے اپنی گرل فرینڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
دیکھو وہ سب مزاح تھا میری فرینڈز نے مجھے چیلنج دیا تھا پلیز ہمیں جانے دو۔۔۔ اسما نے جلد جلدی بولتے ہوئے کہا۔۔۔
ارے تم خود میرے پاس چل کر آئی ہو۔۔۔ اور میں پاگل تھوڑی ہوں جو ایک خوبصورت لڑکی سے منہ پھیر لوں۔۔۔۔ اس لڑکے نے ہنستے ہوئے کہا اس کے دوست بھی ہنس پڑے تھے۔۔۔۔
لڑکا ابھی مزید کچھ کہتا جب اس ویران جگہ میں شمس کی آواز گونجی تھی۔۔۔
لڑکیوں کو چھوڑ دو۔۔۔ شمس نے کہا۔۔۔
شمس کو دیکھ کر اسما کی جان میں جان آئی تھی۔۔۔۔
تم کون ہو۔۔۔؟ اور میں اس لڑکی کو اپنے ساتھ لے کر جاؤ گا۔۔۔ اس لڑکے نے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے پانچ منٹ بعد یہاں پولیس آتی ہو گی۔۔۔ اور پانچ منٹ تک تو میں تم لوگوں کو روک سکتا ہوں۔۔۔۔
اور دوسری بات یہاں کے قانون کے بارے میں تو تم لوگ بہت اچھی طرح واقف ہو۔۔۔۔
لڑکیوں کو ہراس کرنے کے جرم میں جیل جاؤ گے اور سزا کیا ہوتی ہے۔۔۔؟ شمس نے سوچنے والے انداز میں کہا۔۔۔
ہاں دو یاں تین سال تو پکا تم لوگ جیل میں چکی ِپیسوں گے۔۔۔
وہ لڑکے شمس کی بات سن کر ڈر گئے تھے اور شمس بول بھی سچ رہا تھا۔۔۔
ان لڑکوں نے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی تھی۔۔۔
آپ ٹھیک ہو۔۔۔۔؟
شمس اسما کے پاس آیا تھا۔۔۔۔ لیکن پوچھا اس نے لائبہ سے تھا۔۔۔
اسے اسما پر بہت غصہ آرہا تھا۔۔۔
جو اسما کو اس شمس کی آنکھوں سے صاف پتہ چل گیا تھا۔۔۔۔
جی آپ کا بہت شکریہ لائبہ نے کہا۔۔۔۔
میں آپ لوگوں کو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔
شمس نے کہا اسما اور لائبہ خاموشی سے شمس کے پیچھے چل پڑی تھیں۔۔۔۔
💖————💖
الطاف کو وجدان سے کچھ کام تھا اس لیے وہ وجدان کے گھر آیا تھا۔۔۔ کیونکہ الطاف کو معلوم تھا کہ اس وقت وجدان گھر ہوتا ہے۔۔۔۔
الطاف صاحب نے بیل بچائی تو وجدان نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔
انکل آپ۔۔۔۔ وجدان نے خوشی سے کہا وجدان اور شاہ دونوں الطاف صاحب کو انکل ہی کہتے تھے۔۔۔۔
وجدان الطاف صاحب کے گلے لگا تھا۔۔۔
آخر آپ کو آج میری یاد کیسے آگئ۔۔۔۔ وجدان نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
بس بیٹا تم تو جانتے ہو آجکل کام بھی بہت زیادہ ہے وقت نہیں ہوتا۔۔۔ الطاف صاحب نے کہا۔۔۔
پھپھو کیسی ہیں وجدان نے پوچھا وجدان کو حویلی والے سارے ڈرامے کا معلوم نہیں تھا۔۔۔
وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔ الطاف صاحب نے کہا۔۔۔
دونوں باتیں کرنے لگے تھے جب رابی وہاں آئی۔۔۔
جب الطاف صاحب اور رابی نے جب ایک دوسرے کو دیکھا تو دونوں اپنی اپنی جگہ شوکڈ ہوگئے تھے۔۔۔۔
💖————💖
شاہ نے عالیہ بیگم کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا سب کچھ داجی کو بتا دیا تھا۔۔۔۔
داجی اپنے پوتے کے سامنے اپنے آنسو روک نہیں سکے تھے۔۔۔۔
داجی میں مانتا ہوں انہوں نے آپ کی بات نا مان کر ایک غلط آدمی کا انتخاب کیا تھا۔۔۔۔ اور دیکھیے وہ اپنے غلط فیصلے کی سزا بھگت چکی ہے۔۔۔۔ آپ پلیز انہیں معاف کر دیں۔۔۔۔ شاہ نے منت بھرے لہجے میں داجی کو کہا۔۔۔۔
شاہ معاف تو میں اسے اس دن کی کر چکا تھا جب اس حویلی میں اس کے مرنے کی خبر آئی تھی۔۔۔۔ داجی نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔
لیکن شاہ میری ایک بات یاد رکھنا شفیق کی جان میں اپنی ہاتھوں سے لوں گا۔۔۔۔ داجی نے غصے سے کہا۔۔۔۔
شاہ داجی کی بات سن کر خوش ہوا تھا کہ داجی نے عالیہ پھپھو کو معاف کر دیا ہے۔۔۔۔
برخوردار میں اپنی نواسی سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔ چلو جلدی سے اسے میرے پاس بھیجو۔۔۔ داجی نے کہا۔۔۔۔
داجی آپ پہلے ایک وعدہ کریں کہ آپ کی نواسی کے آنے کے بعد میرے لیے آپ کا پیار کم نہیں ہو گا۔۔۔۔
شاہ نے چھوٹے بچوں کی طرح وعدہ لیتے ہوئےکہا۔۔۔۔
برخوردار تم ابھی سے گھبرا گئے ہو۔۔۔۔؟ داجی نے ہنستے ہوئے کہا اور شاہ داجی کو ہنستے ہوئے ہی تو دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
میں فیری کو آپ کے پاس بھیجتا ہوں۔۔۔ شاہ نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
کتنا غلط کرنے جارہا تھا میں اپنی معصوم سی نواسی کے ساتھ یااللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے جو تو نے مجھے کچھ بھی غلط کرنے سے پہلے ہی روک دیا۔۔۔ داجی نے دل میں اپنے اللہ سے مخاطب ہوتے ہوئے سوچا۔۔۔
💖————💖
شاہ کو ماہین بیگم سے معلوم ہوا تھا کہ فیری ابھی ابھی اپنے کمرے میں گئ ہے۔۔۔ کیونکہ اسے بہت نیند آرہی تھی۔۔۔
شاہ کمرے میں داخل ہوا تو فیری کمرے کی ساری لائٹس بند کر کے لیمپ کی ہلکی سی روشنی کیے کمبل میں گھسی ہوئی تھی۔۔۔
شاہ چلتا ہوا فیری کے پاس گیا اور اس کے پاس ہی بیٹھ گیا تھا۔۔۔
شاہ نے فیری کے چہرے سے بال پیچھے کیے تھے۔۔۔
میں بہت خوش نصیب ہوں جو تم میری زندگی میں ہو۔۔۔ شاہ نے سرگوشی نما کہا۔۔۔۔
تھوڑی دیر دیکھنے کے بعدشاہ نے فیری کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔ اور اس کا کمبل ٹھیک کر کے وہاں سے چلا گیا تھا اس نے فیری کو اٹھانا مناسب نہیں سمجھ تھا۔۔۔۔
اس نے ملازم کو کہہ دیا تھا کہ داجی کو بتا دے کہ فیری سوگئ ہے۔۔۔۔
💖————💖
اسما کا گھر آگیا تھا لائبہ اند چلی گئ تھی۔۔۔
لیکن اسما ابھی بھی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
ایم سوری۔۔۔۔ اسما نے شمس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
مس اسما میں مانتا ہوں لڑکیوں کو ہسی مزاح کرنا چاہیے۔۔۔۔ لیکن جو مزاح آپ نے کیا تھا ان لڑکوں کے ساتھ آپ جانتی ہے اگر میں وہاں وقت ہر نا پہنچتا تو کیا ہو سکتا تھا۔۔۔۔
شمس نے اسما کی طرف دیکھتے ہوۓ سنجیدگی سے کہا۔۔۔
سوری میں آئندہ ایسا مزاح کسی کے ساتھ نہیں کرو گی۔۔۔۔ اسما نے نظر جھکا کر کہا۔۔۔۔
اتنے سیریس ماحول میں بھی اسما کی شکل دیکھ کر شمس کو ہنسی آگئ تھی۔۔۔ جو اس نے بہت مشکل سے کنٹرول کی تھی۔۔۔۔
اسما میں آپ کو ڈانٹ نہیں رہا میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔ لڑکی کی عزت ایک شیشے کی مانند ہوتی ہے۔۔۔ اور اگر شیشے میں زرا سی بھی دراڑ آجاۓ تو شیشے کے ٹوٹنے کا خدشہ ہوتا ہے۔۔۔۔
شمس نے پیار سے سمجھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اسما کی آنکھ میں آنسو آگئے تھے اپنے سامنے لڑکوں کو دیکھ کر اسے اسی وقت اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔۔ اسما نے شمس کو کہا اور گاڑی سے نکل گئ۔۔۔۔
جب تک اسما گیٹ سے اندر نہیں چلی گئ تھی شمس وہی کھڑا رہا تھا۔۔۔۔
💖————💖
رابی یہ میرے۔۔۔ اس سے پہلے وجدان رابی سے الطاف صاحب کا تعارف کرواتا رابی بیہوش ہوکر زمین پر گر گئ چکی تھی۔۔۔۔
رابی۔۔۔ وجدان نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔
اور جلدی سے رابی کے پاس گیا۔۔۔۔
رابی کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔؟ وجدان نے رابی کے گال تھپتھپاتے ہوۓ پریشان سے کہا۔۔۔ وجدان کو تو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔
وجدان رابی کو کمرے میں لے گیا تھا اور ڈاکٹر کو فون کیا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹر تھوڑی دیر بعد آگیا تھا او اس نے کہا تھا کہ پریشانی والی بات نہیں ہے ٹینشن کی وجہ سے بے ہوش ہوگئ تھیں۔۔۔۔
وجدان کمرے سے باہر آیا تو الطاف صاحب اپنا سر پکڑے بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔۔
وجدان بھی ان کے پاس بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
وجدان رابیل میری بیٹی ہے۔۔۔۔ الطاف صاحب نے آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔
کیا انکل آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟ وجدان نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
رابیل میری بیٹی ہے۔۔۔ الطاف صاحب نے اپنی بات دہرائی۔۔۔
وجدان کو یہ جان کر خوشی بھی ہورہی تھی کہ رابیل اس کی کزن بھی ہے۔۔۔۔
انکل اس میں اتنی پریشان ہونے والی کون سی بات ہے۔۔۔۔؟ وجدان نے پوچھا۔۔۔
بیٹا جب اسے میری ضرورت تھی تو میں اس کے پاس نہیں تھا۔۔۔۔ اور اب وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔۔۔۔ وہ اپبے باپ سے نفرت کرتی ہے۔۔۔۔ الطاف صاحب نے کہا۔۔۔۔
انکل آپ پریشان نا ہو میں رابی کو سمجھانے کی کوشش کروں گا وہ سمجھ جاۓ گی۔۔۔۔ وجدان نے کہا۔۔۔
بیٹا ابھی میں چلتا یوں میں نہیں چاہتا رابی مجھے دوبارہ دیکھ کر پریشان ہو۔۔۔ الطاف صاحب نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔
وجدان کو بھی ابھی الطاف صاحب کا یہاں رکنا ٹھیک نہیں لگا تھا۔۔۔۔ اس لیے اس نے الطاف صاحب کو نہیں روکا۔۔۔
جی انکل جیسی آپ کی مرضی۔۔۔ وجدان نے کہا۔۔۔۔
💖————💖
اظہر بیٹا تمھاری اتنی بری حالت کس نے کی ہے۔۔۔۔؟ تہمینہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
اسے اس کے گناہوں کی سزا ملی ہے۔۔۔ اظہر کی ماں نے غصے سے کہا۔۔۔ اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
پتہ نہیں خالہ میں آپ کے گھر سے نکلا تھا جب کچھ لوگ مجھے مارنے لگے۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے ان کو غلط فہمی ہوئی تھی۔۔۔۔ اظہر نے اپنا اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے بھلا میرے بچے کی کسی کے ساتھ کیا دشمنی ہوسکتی ہے۔۔۔ تہمینہ بیگم نے پیار سے کہا تھا۔۔۔۔
💖————💖
آپی کیا یہ وہی لڑکا تھا جس نے آپ کی مدد کی تھی۔۔۔؟
لائبہ نے اسما سے پوچھا جو چاۓ پی رہی تھی۔۔۔
ہاں یہی تھا۔۔۔ اسما نے بے دھیانی میں جواب دیا۔۔۔۔
اووووو لائبہ نے اووو کو لمبا کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اووو کی بچی چاۓ پیو آرام سے۔۔۔۔ اسما نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
پھر دونوں ہی ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر ہنس پڑی تھیں۔۔۔۔
💖———–💖
صبح داجی بہت خوش تھے اور ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے فیری کا انتظار کررہے تھے۔۔۔۔ سب لوگ حیران ضرور ہوۓ تھے۔۔۔ کیونکہ داجی آج تک کسی کا انتظار نہیں کیا تھا۔۔۔۔
سدف کا تو دل کررہا تھا کہ فیری کی جان لے لیں۔۔۔
تھوڑی دیر بعد فیری ڈرتی ڈرتی وہاں آئی تھی۔۔۔۔ وہ داجی سے ڈر رہی تھی۔۔۔۔ پتہ نہیں سچ جاننے کے بعد وہ کیا کریں گے۔۔۔۔
ماہی ہم کب سے تمھارا انتظار کررہے ہیں کہاں تھی تم۔۔۔؟ داجی نے پیار سے فیری سے پوچھا۔۔۔۔
اور فیری کو لگا شاید داجی کسی اور کو کہہ رہے ہیں۔۔۔ اس لیے اس نے اپنے اردگرد دیکھا تو وہاں ہر کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
داجی میں۔۔۔؟ فیری اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
فیری کی اس حرکت ہر وہاں پر بیٹھے تمام نفوس کے چہروں ہر مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔۔
میں تم سے ہی کہہ رہا ہوں آؤ جلدی سے ورنہ ناشتہ ڈھنڈا ہوجاۓ گا۔۔۔۔ داجی نے کہا۔۔۔ فریال جلدی سے بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
صوفیہ کو یہ منظر زہر لگ رہا تھا۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں پیچھے ہٹ جاؤ گی۔۔۔۔؟
شاہ میرا تھا میں اسے تمھارے پاس کبھی نہیں رہنے دوں گی۔۔۔؟ صوفیہ نے نفرت ے سوچا۔۔۔۔
💖————💖
میری مدد صرف ایک انسان ہی کر سکتا ہے۔۔۔ اور وہ ہے شفیق۔۔۔ صوفیہ نے دل میں سوچا۔۔۔۔
کیونکہ جب شاہ داجی کو بتا رہا تھا کہ عالیہ شفیق کے پاس تھی۔۔۔ صوفیہ نے یہ بات سن لی تھی۔۔۔
اور اب وہ یہ بات اپنے مطلب کے لیے استعمال کررہی تھی۔۔۔۔
کیونکہ وہ شاہ کو حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔۔۔
💖————💖
صوفیہ شفیق سے ملنے اس کے گھر آئی تھی۔۔۔
واہ جی واہ آج تو بہت بڑے بڑے لوگ ہمارے غریب خانے میں آۓ ہیں۔۔۔۔ شفیق نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
میں تمھارے لیے ایک آفر لائی ہوں۔۔۔ صوفیہ نے شفیق کو کہا جو اسے گھورنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
کیسی آفر۔۔۔؟ شفیق نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
جس عالیہ کو تم نے اپنی قید میں رکھا تھا۔۔۔ وہ اس وقت شاہ کے پاس محفوظ ہے۔۔۔۔ اور پلیز مجھ سے یہ مت پوچھنا کہ مجھے کیسے معلوم ہوا۔۔۔۔ صوفیہ کے بےزاری سے کہا۔۔۔۔
تمہیں مجھ سے کیا چاہیے شفیق نے صوفیہ سے پوچھا۔۔۔۔
تم عالیہ کی بیٹی فریال کو غائب کرو گے اور اس کا وہ حال کرنا کہ وہ میرے شاہ کے قابل نا رہے۔۔۔۔ صوفیہ نے نفرت سے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن اس میں مجھے تمھاری مدد درکار ہوگی۔۔۔۔ اور دوسری بات پھر میں فریال کو کبھی واپس نہیں کروں گا۔۔۔۔ شفیق نے آرام سے کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں تمھاری مدد کروں گی۔۔۔۔ اور میری بلا سے چاہے اسے جان سے مار دو مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔ اور اب تم اپنی قیمت بتاو صوفیہ نے کہا۔۔۔۔
قیمت میں فریال کی صورت میں وصول کر تورہا ہوں۔۔۔۔ شفیق نے کمینگی سے کہا۔۔۔۔
تم فریال کو کیسے جانتے ہو صوفیہ نے شفیق سے ہوچھا۔۔۔۔
یہ جاننے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے تمھارا کام ہوجاۓ گا۔۔۔۔ شفیق نے کہا۔۔۔۔
صوفیہ نے بھی اپنے کندھےاچکادیے تھے۔۔۔۔ کیونکہ اسے بھی جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔۔
💖————💖
اب کیسا محسوس کررہی ہو رابی نے اپنی آنکھیں کھولی تو وجدان نے جلدی سے پوچھا تھا۔۔۔
ساری رات وجدان نے رابی کو دیکھتے گزراری تھی۔۔۔ ایک پل کے کے لیے بھی وہ نہیں سویا تھا۔۔۔ اور یہ بات اس کی آنکھوں سے صاف نظر آرہی تھی۔۔۔
آپ پوری رات کیا سوۓ نہیں۔۔۔؟ رابی نے اٹھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
وجدان کے چہرے ہر مسکراہٹ آگئ تھی۔۔۔
نہیں تم ٹھیک نہیں تھی تو میں کیسے آرام سے سو سکتا تھا۔۔۔ وجدان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
رابی وجدان کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
اللہ نے اسے اس قدر محبت کرنے والا شوہر دیا تھا۔۔۔ لیکن اسے ابھی بھی اظہر کی بےوفائی کا روگ لگا ہوا تھا۔۔۔۔
کیا ہوا زوجہ محترمہ نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔۔؟ وجدان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
رابی نے وجدان کی بات پر جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ تبدیل کرلیا تھا۔۔۔۔
رابی جلدی سے تیار ہو جاؤ۔۔۔ ہمیں آفس کے لیے نکلنا ہے بہت چھٹیاں ہو گئ ہیں۔۔۔ وجدان نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں کیوں جاؤ آفس رابی نے جلدی سے کہا۔۔۔
میڈم آپ میری سیکرٹری ہے کیا یہ بات آپ بھول گئ ہیں۔۔۔ وجدان نے سن سے کہا۔۔۔۔
ہاں مجھے معلوم ہے لیکن اب میں آپ کی بیوی بھی ہوں۔۔۔ رابی نہیں جانتی تھی اس نے بےدھیانی میں کیا بول دیا ہے۔۔۔۔ جو وجدان اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
اووو تو آپ میری بیوی بھی ہے۔۔۔۔ وجدان نے مسکراتے ہوۓ رابی کو اپنے قریب کھڑا کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
وجدان کی اس حرکت پر رابی ایک دم بوکھلا گئ تھی۔۔۔۔ وجدان کو یہی طریقہ ٹھیک لگا تھا۔۔۔ کہ رابی آفس جاۓ گی اس کا دھیان کام کی طرف ہو گا۔۔۔ اور فضول کی سوچیں اس کے دماغ میں نہیں آۓ گی۔۔۔۔
مسز وجدان شاہ یہ بات تو میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا کہ تم میری بیوی ہو۔۔۔۔ وجدان نے کہا اور رابی کی دونوں آنکھوں پر باری باری پیار سے بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
رابی آنکھیں بند کیے کھڑی تھی۔۔۔۔
جلدی سے فرش ہوکر نیچے آ جاؤ میں انتظار کررہا ہوں۔۔۔۔ وجدان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
رابی نے اپنی آنکھوں کو چھوا تھا اور ہلکا سا مسکرا ہڑی تھی۔۔۔۔
وجدان نے الطاف صاحب کے بارے میں رابی سے بات نہیں کی تھی۔۔۔ کیونکہ وجدان جانتا تھا کہ رابی کے ساتھ جو کچھ اظہر نے کیا وہ ابھی تک بھولی نہیں سکی تھی۔۔۔۔
اور وجدان چاہتا تھا کہ رابی خود اس سے الطاف صاحب کے بارے میں بات کرے۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔