No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
تہمینہ آج میں تم سے بہت ضروری بات کرنے آئی ہوں۔۔۔ اظہر کی ماں نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیا مطلب۔۔؟ میں سمجھی نہیں تہمینہ نے کہا۔۔۔
ارے میں رابی کو اپنی بیٹی بنانے کی بات کررہی ہوں۔۔۔ اظہر کی ماں نے خوشی سےکہا۔۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔ تہمینہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
اس کی دلی خواہش تھی کہ اظہر اس گھر کا داماد بنے۔۔۔
بھائی صاحب کہاں ہیں۔۔۔؟ آج تو میں نکاح کی تاریخ لے کر ہی جاؤں گی۔۔۔
اظہر کی ماں نے تہمینہ کو کہا۔۔۔ اور فاروق صاحب کے بارے میں پوچھا۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں ہے۔۔۔
لیکن اتنی جلدی میرا مطلب ہے کہ میری ایک ہی تو بیٹی ہے۔۔۔ تو اس کی شادی میں دھوم دھام سے کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ تہمینہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔۔۔
تہمینہ تم سے کس نے کہا ہم رابی کی شادی دھوم دھام سے نہیں کریں گے۔۔۔۔ ہم پورے رسم رواج کے ساتھ رابی کی شادی کریں گے۔۔۔۔
ایک ہفتے کے بعد رابی کی منگنی کر دیتے ہیں۔۔۔ اور نکاح ایک ماہ بعد۔۔۔۔
کیونکہ اظہر نے بزنس کے لیۓ لندن چلے جانا ہے۔۔۔ تو وہ کہہ رہا تھا جانے سے پہلے نکاح کر لے۔۔۔۔ اور رخصتی رابی جب چاہے گی اس وقت کر لے گے۔۔۔
اظہر کی ماں نے پوری بات تہمینہ کو بتائی۔۔۔
چلو یہ تو اچھی بات ہے کہ۔۔۔ ہمارا بیٹا باہر کے ملک میں اپنا بزنس کرنے والا ہے ۔۔۔ اللہ اسے کامیاب کریں۔۔۔
اور میں فاروق کو بلا کر لاتی ہوں۔۔۔ تہمینہ نے کہا اور فاروق صاحب کو بلانے چلی گئ تھیں۔۔۔
ان کو بھی اپنی بہن کی بات ٹھیک لگی تھی۔۔۔
💖………….………….💖
فاروق صاحب کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔ اظہر ان کی آنکھوں کے سامنے بڑا ہوا تھا۔۔۔
فاروق صاحب کو اب فیری کی طرف سے بھی خبر مل چکی تھی کہ اور وہ ٹھیک ہے۔۔۔
اگلے ہفتے کو اظہر اور رابی کی منگنی کا فنکشن طے پایا گیا تھا۔۔۔
چھوٹا سا فنکشن گھر میں ہی رکھا گیا تھا۔۔۔
💖………….………….💖
فیری بیٹا میں تم سے ایک بہت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ امید کرتی ہوں تم مجھ پر یقین رکھتے ہوئے مجھے صاف صاف سب کچھ بتاو گی۔۔۔۔
ہیرا بیگم نے فیری کے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔
جی آنٹی پوچھیئے۔۔۔۔؟ فیری نے ہیرا بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
آنٹی نہیں میں تمہاری ممانی ہوں۔۔۔ تم مجھے ممانی جان کہو گی۔۔۔۔ ہیرا بیگم نے پیار سے کہا۔۔۔
اب مجھے بتاؤ جس رات تم مجھے ملی تم اتنی رات کو سڑک پر کیا کر رہی تھی۔۔۔
ہیرا بیگم نے صاف صاف لفظوں میں فیری سے پوچھا۔۔۔
ہیرا بیگم کے سوال پر فیری خاموش ہوگئ تھی۔۔۔
بیٹا میں تم سے وعدہ کرتی ہوں تمہاری ہر حال میں میں مدد کروں گی۔۔۔ تم اپنے آپ کو اکیلا مت سمجھنا۔۔۔ میں ہمیشہ تمھارے ساتھ کھڑی رہو گی۔۔۔ اگر مجھے داجی کے خلاف بھی جانا پڑا تو میں جاؤ گی۔۔۔۔ ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
فیری کو بھی کسی اپنے کی ضرورت تھی۔۔۔ اس لیۓ ہیرا بیگم کے کاندھے پر سر رکھ کر ان کو سب بتاتی جارہی تھی۔۔۔
آنسو اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔۔
ہیرا بیگم جیسے جیسے سنتی جارہی تھیں۔۔۔ ان کو فیری پر ترس آرہا تھا۔۔۔
اور اس انسان کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔۔۔ جس نے بدلے کے لیے ایک لڑکی کی زندگی خراب کی تھی۔۔۔
کیا نام ہے اس انسان کا جس سے تمہارا نکاح ہوا ہے۔۔۔؟ ہیرا بیگم نے فیری کے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
مجھے نہیں معلوم۔۔۔ مجھے بس اتنا معلوم ہے۔۔۔ ان کا نام شاہ تھا۔۔۔ لیکن پورا نام مجھے یاد نہیں ہے۔۔۔ فیری نے کہا۔۔۔
شاہ نام سن کر ان کے دماغ میں حیدر کا چہرہ آیا تھا ۔۔۔
لیکن اپنی اس سوچ کو ہیرا بیگم نے جھٹک دیا تھا۔۔۔ ان کو یقین تھا ان کا بیٹا کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔
فیری میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں حیدر آتا میں اس سے بات کرتی ہوں۔۔۔
میں کبھی بھی ایسے انسان کے ساتھ تمھیں نہیں رہنے دوں گی۔۔۔ جو تم پر ہاتھ اٹھاۓ۔۔۔ تم پر ظلم کریں۔۔۔ میری بچی تمہاری ممانی تمہارے ساتھ ہے۔۔۔ تم اکیلی نہیں ہو۔۔۔
ہیرا بیگم نے فیری کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
فیری نے بھی ہیرا بیگم کی آغوش میں آکر سکون سے آنکھ موند لیں تھیں۔۔۔
💖………….………….💖
ہیرا بیگم اپنے کمرے میں آئی تو ان کو ایک بات بہت تنگ کررہی تھی۔۔۔۔
فریال نے بتایا تھا کہ جس سے اس کی شادی ہونے والی تھی۔۔۔ اس کا نام شمس تھا۔۔۔ تو شمس کہی وہ تو نہیں۔۔۔ جس کے ساتھ داجی کی دشمنی ہے۔۔۔ اور شاہ تو حیدر کا بھی نام ہے۔۔۔
ہیرا بیگم جتنا ان سب باتوں کو دماغ سے نکالنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ اتنی ہی یہ سب باتیں ہیرا بیگم کو سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہی تھی۔۔۔
وجدان کو کال کر کے پوچھتی ہوں شاہ کے بارے میں اسے سب معلوم ہوتا ہے۔۔۔
ہیرا بیگم نے دل میں سوچا اور وجدان کو کال کی۔۔۔
تائی جان سب خیریت ہے۔۔۔؟ وجدان نے کال اٹھاتے ہی پوچھا تھا۔۔۔
ہاں بیٹا سب ٹھیک ہے۔۔۔
کیا میں تمہیں ویسے کال نہیں کرسکتی۔۔۔؟ ہیرا بیگم نے پوچھا۔۔۔
جی بلکل کر سکتی ہے۔۔۔۔ مجھے لگا کوئی مسئلہ نا ہوگیا ہو۔۔۔ کیونکہ شاہ بھی یہاں ہے۔۔۔ اور آبان بھی۔۔۔ وجدان نے تفصیل سے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
مجھے حیدر کے بارے میں ہی تم سے بات کرنی تھی۔۔۔ ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
جی کہیے میں سن رہا ہوں۔۔۔ وجدان نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد کہا۔۔۔
کیا حیدر نکاح کر چکا ہے۔۔۔؟ ہیرا بیگم نے پوچھا۔۔۔
ہیرا بیگم کی بات سن کر وہ ایک دم گڑبڑا گیا تھا۔۔۔
تائی جان یہ آپ کیسی باتیں کررہی ہے۔۔۔؟ وجدان آگے بھی کچھ کہتا جب ہیرا بیگم بولی۔۔۔
وجدان میں جانتی ہوں۔۔۔ تم مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولو گے۔۔۔ اس لیے ہاں یا ناں میں جواب دو ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
جی وہ نکاح کر چکا ہے وجدان نے کہا۔۔۔
اور یہ سنتے ہی ہیرا بیگم کا شک یقین میں بدلا تھا۔۔۔
مجھے ساری بات بتاو۔۔۔؟ ہیرا بیگم نے کہا تو وجدان نے کہانی کا خلاصہ بتا دیا۔۔۔
تائی جان آپ کو یہ سب کیسے معلوم ہوا۔۔۔
وجدان نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
کیونکہ اس رات سڑک پر فیری مجھے ملی تھی۔۔۔ اور پھر میں اسے حویلی لے آئی تھی۔۔۔ اور جب فیری نے عالیہ کی تصویر دیکھی۔۔۔ تو اس وقت مجھے معلوم ہوا تھا کہ فریال ہی ماہی ہے۔۔۔
لیکن مجھے تم سے اور شاہ سے یہ امید بلکل بھی نہیں تھی۔۔۔ ہیرا بیگم نے دکھ سے کہا۔۔۔
تائی جان آپ پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں شاہ کو سمجھا نہیں سکا۔۔۔ وجدان نے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔۔
تمہارے شاہ کو تو اس بات کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔ جو اس نے کیا ہے وہ سزا کا حقدار ہے۔۔۔۔ اور خبردار تم نے شاہ کو کچھ بتایا تو۔۔۔ اسے تم کچھ بھی نہیں بتاؤ گے۔۔۔ ہیرا بیگم نے سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔
جی تائی جان۔۔۔
کیا حویلی میں سب کو معلوم ہے کہ فیری ہی اینجل ہے۔۔۔؟ وجدان نے پوچھا۔۔۔
نہیں ابھی کسی کو نہیں پتہ کہ فیری ہی ماہی ہے۔۔۔ ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔ ہیرا بیگم نے کہا فون رکھ دیا۔۔۔
اب وجدان ٹینشن فری ہو گیا تھا۔۔۔
کیونکہ فیری اپنے گھر والوں کے درمیان تھی محفوظ تھی۔۔۔
لیکن شاہ کی مدد اب صرف اللہ ہی کر سکتا تھا۔۔۔
💖………….………….💖
رابی آج تمہاری خالہ آئی تھیں۔۔۔ تمھارا رشتہ لے کر۔۔۔
تہمینہ بیگم نے خوشی سے رابی کو بتایا۔۔۔
آپ نے کیا جواب دیا رابی نے پوچھا۔۔۔
ارے میں نے کیا کہنا تھا اظہر اپنا ہی لڑکا ہے۔۔۔ میں نے اور تمہارے بابا نے ہاں کر دی ہے۔۔۔ اگلے ہفتے تمھاری منگنی ہے۔۔۔
تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے۔۔۔؟ تہمینہ بیگم نے پہلے رابی کو منگنی کا بتایا۔۔۔ اور پھر رابی کی راۓ جاننی چاہی۔۔۔
نہیں امی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ آپ لوگوں نے جو بھی میرے لیے سوچا ہے۔۔۔ اچھا ہی سوچا ہوگا۔۔۔ رابی نے کہا۔۔۔
رابی اظہر کو پسند بھی کرتی تھی۔۔۔ اور اسے اس رشتے سے کوئی مسئلہ بھی نہیں تھا۔۔۔
💖………….………….💖
حیدر تم نے بہت غلط کیا ہے۔۔۔
تم نے اپنی اینجل کو تکلیف پہنچائی ہے۔۔۔ تم کیسے کسی کو تکلیف پہنچا سکتے ہو۔۔۔
لیکن میں نے بھی فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔
میں فیری کا ساتھ دوں گی۔۔۔ جو اس کا فیصلہ ہو گا۔۔۔ وہی مانا جاۓ گا۔۔۔ چاہے وہ تمہارے حق میں ہو۔۔۔ یا نا ہو۔۔۔ اس بار فریال کی بات کو اہمیت دی جاۓ گی۔۔۔
ہیرا بیگم نے دل میں عہد کیا۔۔۔
بے شک وہ شاہ کی ماں تھی۔۔۔ لیکن اتنی بھی خودغرض نہیں تھی کہ۔۔۔ بیٹے کے پیار میں فیری کے ساتھ ہوئی زیادتی کو فراموش کر دیں۔۔۔
💖………….………….💖
شاہ کو حویلی پہنچتے پہنچتے شام ہوگئ تھی۔۔۔
شاہ سب سے پہلے داجی کے پاس گیا تھا۔۔۔
شام کا وقت تھا۔۔۔ سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔۔۔ شاہ داجی کے کمرے سے باہر آیا۔۔۔ اب اس کا ارادہ ہیرا بیگم کے پاس جانے کا تھا۔۔۔
شاہ فون پر بات کرتا جارہا تھا۔۔۔ جب اس کا کسی نازک وجود کے ساتھ زبردست تصادم ہوا۔۔۔ شاہ نے اگر بازو سے نا پکڑا ہوتا تو۔۔۔ پکا اس کا سر زمین پر لگنے سے پھٹ جانا تھا۔۔۔
لیکن جب شاہ نے اس انسان کی شکل دیکھی تو۔۔۔ شاہ ساکت ہو گیا تھا۔۔۔ اس کی نظریں پلٹنا بھول گئ تھیں۔۔۔
اگر تو یہ خواب تھا تو شاہ چاہتا تھا کہ۔۔۔ وہ کبھی بھی اپنی پلکیں نا جھکیں۔۔۔ ایسا نا ہو پلکیں جھپکنے سے اس کی اینجل غائب ہو جاۓ۔۔۔
شوکڈ تو فیری بھی ہوئی تھی۔۔۔ لیکن سب سے پہلے ہوش بھی اسے ہی آیا تھا۔۔۔
اور اس نے اپنا پورا زور لگا کر اپنا بازو شاہ سے چھڑوایا تھا۔۔۔
شاہ بھی ہوش میں آیا تھا۔۔۔
یہ خواب نہیں ہے یہ سچ ہے۔۔۔ میری اینجل میرے سامنے ہے۔۔۔
شاہ منہ میں بڑبڑایا۔۔۔
💖………….………….💖
جاری ہے۔۔۔۔
