No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
حیدر آفس کا دروازہ نوک کر کے روم داخل ہوا تو اس کا دوست اس کا کزن اور اس کا بھائ سامنے کرسی پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا ۔
وجدان نے بلیک تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا ہاتھ میں مہنگی گھڑی بالوں کو اچھی طرف جیل سے سیٹ کیا گیا تھا۔
چہرے پر سنجیدگی اور بھوری آنکھیں کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا سکتی تھیں ۔
وجدان نے اپنا کوٹ پیچھے اپنی کرسی کے ساتھ لٹکایا ہوا تھا اور اپنے کف کو فولڈ کیا ہوا تھا ۔
حیدر اپنے خوبرو بھائ کو دیکھ رہا تھا جو کسی بھی انسان کو متاثر کرنے کا ہنر رکھتا تھا۔
یار تجھ پر سچ میں شلوار قمیض بہت سوٹ کرتی ہے وجدان نے حیدر کے گلے ملتے ہوۓ کہا ۔
حیدر وجدان کی بات سن کر ہنس پڑا تھا اس وقت وجدان بلکل مختلف لگ رہا تھا صرف اپنے بھائ کے سامنے حیدر شاہ کے سامنے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آتی تھی ۔
حویلی چکر لگا لیا کرو چاچی جان بہت یاد کرتی ہے حیدر نے بیٹھتے ہوۓ کہا۔
یار کام بہت زیادہ ہوتا ہے میں نے تو ماما سے کہا ہے یہاں آجاۓ میرے پاس لیکن وہ مانتی ہی نہیں اور تمہیں تو معلوم ہے وجدان کچھ کہنے ہی والا تھا جب حیدر نے اس کی باقی کی بات پوری کی
کہ تمہیں گاؤں کا ماحول پسند نہیں ہے حیدر نے ہنستے ہوئے کہا تو وجدان بھی ہنس پڑا۔
چل ویسے بھی لنچ کا ٹائم ہوگیا ہے باہر چلتے ہیں حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
جو حکم بوس وجدان نے سر کو خم دے کر کہا اور دونوں روم سے باہر نکلے
بےشک دونوں بہت ہننڈسم تھے اگر کوئ ان کو دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا ۔
یار کیا پرسنلٹی ہے دونوں کی وجدان کی سیکرٹری نے دونوں کو دیکھ کر کہا جو کسی بات پر مسکرا رہے تھے۔
آفس سٹاف کو تو یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کا بوس ہنستا بھی ہے ۔
دونوں پاس والے ریسٹورنٹ میں لنچ کرنے گئے تھے۔
💖💖💖💖💖💖💖
اف پتہ نہیں مجھے جاب کب ملے گی
رابی نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا
گرمی بھی آج بہت زیادہ تھی۔
کیوں نا تھوڑی دیر سامنے والے ریسٹورنٹ میں بیٹھ جاؤ پسینہ سوکھ جاۓ گا تو گھر چلی جاؤ گی گھر بھی کافی دور ہے اور پیدل چل کر جانا ہے
یہ سوچتے ہی رابی اس ریسٹورنٹ میں داخل ہوئ تھی اور قدر سنسان والے کونے میں بیٹھ گئ تھی۔
اند کا ماحول کافی اچھا تھا یہ بہت بڑا ریسٹورنٹ تھا۔
رابی کو کافی اچھا محسوس ہورہا تھا ۔
دس منٹ وہاں بیٹھنے کے بعد رابی نے گھڑی کی طرف دیکھا جو تین بجا رہی تھی۔
مجھے اب نکلنا چاہیے آج تو کافی دیر ہوگئ ہے رابی نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا اور اپنا بیگ پکڑا اور دروازے کی طرف جانے لگی۔
رابی نے دروازہ کھولا اور اسی وقت وجدان بھی اندر آرہا تھا دونوں کا زبردست تصادم ہوا وجدان کا تو کچھ نہیں گیا ہاں رابی زمین بوس ہوچکی تھی ۔
رابی کو لگا شاید اس نے غلطی سے دروازے کی طرف جانے کی بجاۓ دیوار میں جالگی ہے رابی ابھی بھی زمین پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھی ہوئ تھی۔
وجدان کو ایک دم غصہ آیا تھا
تم اندھی ہو؟
دیکھ کر نہیں چل سکتی وجدان نے غصے سے گھورتے ہوئے رابی سے کہا ۔
رابی کا چہرہ نیچے تھا لیکن جب اس نے سامنے والے کی بات سنی تو اس کا بھی دماغ گھوم گیا تھا ۔
رابی ایک دم وجدان کے سامنے آکر کھڑی ہوگئ تھی۔
ماتھا گرنے کی وجہ سے لال تھا اور ناک غصے کی وجہ سے لال ہو رہی تھی۔
ایکسکیوز می مسٹر اس حساب سے تو آپ بھی اندھے ہوۓ آپ کو بھی دیکھ کر چلنا چاہیے تھا رابی نے بھی غصے سے کہا ۔
وجدان تو رابی کی ہمت پر ہی حیران رہ گیا تھا
آج تک کسی بھی لڑکی نے تو کیا لڑکے نے بھی وجدان سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی ۔
وجدان اب اس لڑکی کا پورا معائنہ کر رہا تھا جس نے سفید کلر کی لمبی سی شال لی ہوئ تھی اس کے کپڑے سارے شال کی وجہ سے کور تھے۔
گندمی نکھری رنگت بڑی بڑی براون آنکھیں گلابی رنگ کے ہونٹ اور چھوٹی سی ناک میں ایک چھوٹی سی بالی تھی جو رابی اور فیری نے ایک جیسی پہنی تھی ۔
بے شک سامنے کھڑی لڑکی سراپا حسن اور پرکشش تھی اس کا گندمی رنگ اسے مزید خوبصورت بناتا تھا۔
وجدان کو لگ رہا تھا سامنے کھڑی لڑکی کی کشش اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔
رابی نے جب سامنے والے کو اپنا xray کرتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے وہاں سے نکل گئ۔
باہر آکر رابی نے وجدان کو لوفر لازمی کہا تھا
اگر وجدان یہ سن لیتا تو پکا غش کھاکر گرجاتا ۔
کیا ہوا ہے تجھے اندر نہیں جانا کیا حیدر نے جب وجدان کو دروازے کے پاس کھڑے دیکھا تو کہا
حیدر کی آواز اسے ہوش کی دنیا میں لائ تھی
حیدر کا موبائل گاڑی میں رہ گیا تھا اس لیے وہ دوبارہ گاڑی سے اپنا موبائل لینے گیا تھا۔
نہیں کچھ نہیں وجدان نے کہا اور ٹیبل کی طرف چل پڑا حیدر بھی وجدان کے پیچھے چل پڑا تھا……
💖💖💖💖💖💖💖
شمس نے فیری کو ایک مارکیٹ میں دیکھا تھا فیری کو دیکھنے کے بعد ہی شمس کا دل فیری کے لیے بے ایمان ہوگیا تھا ۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ اگر شادی کرے گا تو فیری سے کرے گا۔
شمس نے جب اپنے باپ سے بات کی تو شفیق صاحب نے صاف منع کردیا تھا کہ ایک غریب گھر کی لڑکی کبھی بھی ان کے گھر کی بہو نہیں بنے گی۔
لیکن شمس نے بھی سوچ لیا تھا چاہے کچھ بھی ہو جاۓ وہ اسی لڑکی سے شادی کرے گا۔
💖 💖 💖 💖 💖
کہاں کی تیاری ہے؟
شفیق صاحب نے اپنے بیٹے سے پوچھا جو اپنا سامان پیک کررہا تھا.
ڈیڈ میں ملک سے باہر جا رہا ہوں شمس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
کیا مطلب؟ شفیق صاحب نے حیرانگی سے پوچھا
ڈیڈ میں ہمیشہ کے لیے پاکستان چھوڑ کر جارہا ہوں
شمس نے اپنے باپ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
شفیق صاحب کو شمس کا چہرہ دیکھ کر بلکل بھی ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ مزاخ کررہا ہے۔
تم ایسے کیسے سب کچھ چھوڑ کر جاسکتے ہو شفیق صاحب نے غصے سے کہا ۔
ڈیڈ اگر آپ میری بات مان لیں تو میں یہاں رک جاؤ گا
شمس نے اپنے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جو ایک لڑکی کے لیے اپنے باپ سے بغاوت پر اتر آیا تھا۔
شفیق صاحب کو معلوم تھا کہ ان کا بیٹا ضد میں کچھ بھی کرسکتا ہے اس لئے ان کو اپنے بیٹے کے سامنے ہار ماننی پڑی
ٹھیک ہے میں تمہاری شادی اس لڑکی سے کروا دوں گا۔
لیکن میری ایک شرط ہے شفیق صاحب نے لمبا سانس لیتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے ڈیڈ تھینک یو سو مچ مجھے آپ کی ساری شرائط منظور ہے۔
آپ شرط بتاۓ شمس نے اپنے باپ کے گلے لگتے ہوۓ خوشی سے کہا ۔
وہ میں تمھیں وقت آنے پر بتا دوں گا شفیق صاحب نے شمس سے کہا
اوکے ڈیڈ کب جانا ہے پھر شمس نے جلدی سے پوچھا؟
صبر کر لو کچھ دن تک چلتے ہیں ابھی مجھے کچھ کام ہے وہ مکمل کر لوں شفیق صاحب نے کہا۔
اوکے ڈیڈ شمس نے کہا اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ شفیق صاحب مان گئے ہیں ۔
💖 💖 💖 💖 💖 💖
رابی گھر پہنچی تو اسے سب سے پہلے فیری نظر آئ فیری کی نظر جب رابی پر پڑی تو جلدی سے رابی کے پاس آئ جو اپنی چادر اتار رہی تھی۔
آپی آپ کا ماتھا اتنا لال کیوں ہوا ہے؟ فیری نے پریشانی سے پوچھا۔
تو رابی کو وہ انجان شخص یاد آیا جو رابی کو عجیب نظروں سے گھور رہا تھا ۔
کچھ نہیں وہ میں رابی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ فیری کو کیا بولے.
کیا آپی فیری نے پوچھا وہ میں دیوار سے ٹکرا گئ تھی رابی نے نظریں چراتے ہوۓ کہا۔
کیا آپی دھیان سے چلا کرے نا میں ابھی کریم لگاتی ہوں فیری نے کہا اور کریم لینے چلی گئ۔
فیری واپس آئ تو اس کے ہاتھ میں کریم اور ٹھنڈا پانی تھا۔
فیری احتیاط سے رابی کے ماتھے پر کریم لگانے لگی
رابی کو ٹھنڈا پانی پی کر سکون ملا تھا۔
فیری یار اتنا پریشان کیوں ہورہی ہو بس زرہ سی لگی ہے رابی نے فیری کو کہا جو کریم اتنے احتیاط سے لگا رہی تھی جیسے پتہ نہیں کتنا بڑا زخم ہے۔
بس ہوگیا آپی فیری نے کہا۔
رابی فیری کا چہرہ دیکھ کر مسکرا پڑی تھی۔
آپی آپ فریش ہوجاۓ میں آپ کے لئے کھانا لگاتی ہوں۔فیری نے کہا ۔
اوکے جناب جو حکم آپ کا رابی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور فریش ہونے چلی گئ۔
بے شک دونوں سگی بہنیں نہیں تھیں لیکن ان میں پیار سگی بہنوں سے بھی بڑھ کر تھا۔
💖💖💖💖💖💖
سدف میں سوچ رہا ہوں حیدر آتا ہے تو اس کا نکاح صوفیہ کے ساتھ کر دیتے ہیں۔
اور پھر کچھ دنوں بعد وجدان کا سارہ کے ساتھ کر کے دیں گئے ۔
تمہیں کوئ مسئلہ تو نہیں ہے؟ داجی نے اپنی بیٹی سے پوچھا ۔
داجی پہلے ہی سب کچھ طے کر کے بیٹھے ہوۓ تھے
اور وجدان کو داجی کی انہی رسموں سے چڑ تھی ۔
سدف کی دلی مراد پوری ہوگئ تھی حیدر اچھا خاصا خوبرو اور خوبصورت مرد تھا بھلا ان کو کیا اعتراض ہونا تھا وہ تو شروع سے سوچتی تھی ان کی دونوں بیٹیاں ہمیشہ ان کے پاس ہی رہیں ۔
داجی مجھے تو مسئلہ نہیں ہے لیکن آپ ایک بار حیدر سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا اگر اس نے منع کر دیا تو سدف نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
اس کی فکر تم مت کرو میں اسے منا لوں گا اور جس کی تلاش میں وہ لگا ہوا ہے وہ اسے کبھی نہیں مل سکتی داجی نے کہا۔
یہ بات کرتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک سایہ آکر گزرا تھا۔
جی بہتر داجی سدف نے خوشی سے کہا ۔
دروازے کے باہر صوفیہ کھڑی تھی اس کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہیں تھا صوفیہ حیدر کو پسند کرتی تھی ۔
💖💖💖💖💖
کیا سوچ رہے ہو؟
وجدان نے حیدر سے پوچھا ۔
مجھے اب ڈر لگ رہا ہے حیدر نے لمبا سانس لیتے ہوۓ کہا۔
ڈر… حیدر شاہ کو سواۓ اللہ کے کس سے ڈر لگنے لگا
وجدان نے حیرانگی سے پوچھا ۔
اینجل کو لے کر جو میں اپنے دل کو حوصلہ دیتا تھا جو مجھے امید تھی
کہ میری اینجل زندہ ہے لیکن اب لگتا ہے جیسے وہ سچ میں اب اس دنیا میں نہیں ہے اگر ہوتی تو اتنی کوشش کے بعد ہمیں مل جاتی۔
ڈر لگتا ہے مجھے اگر میرا اتنے سالوں کا انتظار رائیگاں چلا گیا اور اگر وہ سچ میں زندہ نا ہوئ تو میں کیا کروں گا۔
اور پھوپھو کا بھی کچھ معلوم نہیں ہے ۔
حیدر نے بے بسی سے کہا۔
مایوسی تو اللہ کو بھی پسند نہیں ہے حیدر اتنا صبر کر کے اب آگر تم ایسے کہہ رہے ہو تو کیا فائدہ تمھارا اتنا انتظار کرنے کا ۔
ہو سکتا ہے اب تم اپنی منزل کے قریب ہو اور اللہ تمہیں پھر سے آزما رہا ہو۔ اور وہ دیکھنا چاہتا ہو تم پھر سے آزمائش پر پورا اترتے ہو کہ نہیں ۔
لیکن اگر تم ایسی باتیں سوچو گۓ تو تمھارے اتنے سالوں کا صبر، یقین ان سب کا کوئ فائدہ نہیں ہو گا
مایوسی اور ناامیدی تو اللہ کو سخت ناپسند ہے ۔
اور جہاں اتنا صبر کیا ہے وہاں تھوڑا اور سہی
اللہ آزماتا ہے لیکن جب دینے پر آتا ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے ۔
وجدان نے حیدر کو سمجھا تے ہوۓ کہا
اور شاید حیدر کو بھی کسی کے حوصلے کی ضرورت تھی جو وجدان نے پوری کر دی تھی ۔تھینک یو وجی یار مجھے ان سب باتوں کی بہت ضرورت تھی حیدر نے وجدان کے گلے لگتے ہوۓ کہا ۔
وجدان حیدر کی بات سن کر مسکرا پڑا تھا۔
پیچھلے کچھ دنوں سے حیدر کو لگ رہا تھا کہ وہ اپنی اینجل کو کبھی ڈھونڈ نہیں سکے گا ۔
حویلی میں تو کسی کو یقین ہی نہیں تھا کہ اینجل زندہ ہے لیکن وجدان کو بھی لگتا تھا اس کی اینجل زندہ ہے۔
یہ دونوں کافی سالوں سے کوشش کررہے تھے لیکن ابھی تک کوئی سوراخ ہاتھ نہیں لگا تھا ۔
لیکن دونوں کو اللہ پر پورا یقین تھا کہ ایک دن اللہ ان کی اینجل کو ان سے ضرور ملاۓ گا۔
💖💖💖💖💖
حویلی میں نکاح کی تیاری چل رہی تھیں
ماہین بیگم اور ہیرا بیگم بہت پریشان تھیں۔
ان دونوں کے شوہر بھی اپنے باپ کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔
اس لیے دونوں خاموش تھے
اب حیدر کا انتظار تھا ۔
سدف بیگم تو ایسے شاپنگ کر رہی تھی جیسے لڑکا بھی راضی ہے۔
ہیرا بیگم حیدر کو فون بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ داجی نے منع کیا تھا ۔
💖💖💖💖💖💖
فیری چلو تمھارے لیے کچھ شاپنگ کر لیتے ہیں تمھارے کپڑے کافی پرانے ہوگئے ہیں رابی نے فیری سے کہا ۔
نہیں آپی میرے پاس بہت کپڑے ہے مجھے ضرورت نہیں ہے اور ابھی تو آپ کو جاب بھی نہیں ملی تو پیسے کہاں سے آۓ گۓ۔
فیری نے کہا۔
تم اس بات کی فکر مت کرو میرے پاس پیسے ہیں تمھارے تین چار سوٹ آجاۓ گۓ اور اب اگر تم نے منع کیا تو م ناراض ہوجاؤ گی رابی نے جلدی سے کہا ۔
آپی یہ غلط بات ہے فیری نے منہ بسوڑتے ہوۓ کہا
مجھے معلوم ہے رابی نے ہنستے ہوئے کہا۔
لیکن آپی ہم اپنے گھر کے پاس جو مارکیٹ ہے وہاں جاۓ گۓ وہاں چیزیں سستی ملتی ہے فیری نے جلدی سے کہا۔
ٹھیک ہے میری ماں وہاں ہی چلے جاۓ گۓ
اب چلو رابی نے کہا پھر دونوں مارکیٹ کے لیے نکل پڑی۔
چونکہ مارکیٹ گھر سے زیادہ دور نہیں تھی اس لیے دونوں نے پیدل جانے کا سوچا تھا۔
💖💖💖💖💖💖
وجدان میں کل حویلی جارہا ہوں
حیدر نے وجدان سے کہا جو کوکنگ کررہا تھا،
اوکے لیکن کچھ دن تو اور رکتے وجدان نے کہا
حیدر تو کچھ دنوں سے خود پریشان تھا وہ وجدان کے پاس اس لۓ آیا تھا وہ اسے حوصلہ دے سکے ایک وجدان ہی تو تھا جو حیدر کو ٹھیک سے سمجھا سکتا تھا اس کی ہمت باندھ سکتا تھا۔
اور وہی ہو تھا وجدان نے حیدر کی پریشانی دور کر دی تھی اور اسے بہت اچھی طرح سمجھا بھی دیا تھا ۔
حیدر کو جو ٹینشن تھی وہ اب دور ہوگئ تھی اب اس میں نئے سرے سے اپنی اینجل کو دھونڈبے کا جزبہ پیدا ہوا تھا ۔
حیدر اتنے کمزور دل کا مالک نہیں تھا اپنا دکھ درد اس نے وجدان کے علاوہ کسی کے سامنے ظاہر نہیں کیا تھا یہاں تک کے اپنی ماں کے سامنے بھی نہیں
جب وجدان اور حیدر ایک ساتھ ہوتے تو کوئ ان کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی سنجیدہ رہنے والا حیدر اور کھڑوس بوس وجدان ہے ۔
تم شاہد کچھ بھول رہے ہو ۔
حیدر نے وجدان کو گھورتے ہوئے کہا۔
کیا…
وجدان نے عام سے لہجے میں کہا
تم نے وعدہ کیا تھا جب مین دوبارہ شہر آؤ گا تو تم واپسی پر میرے ساتھ گاؤں جاؤ گۓ اور میں تو چاچی جان سے وعدہ بھی کر آیا ہوں
حیدر نے گھورتے ہوۓ کہا۔
اوو شیٹ میں تو بھول گیا تھا وجدان نے حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
حیدر میری کچھ اہم میٹنگز ہیں میں اگلی بار چلا جاؤ گا وجدان نے پھر سے بہانا بنانا چاہا ۔
وجدان شاہ ہم کل صبح فجر کی نماز پڑھ کر نکل جاۓ گۓ۔
تمھارے پاس آج کا دن ہے اور تم یہ تو بلکل بھی نہیں چاہو گۓ کہ اتنے سالوں بعد اپنے گھر جارہے ہو اور خالی ہاتھ جاؤ تو جاکر گفٹ خرید لو تب تک میں بھی اپنا کچھ کام نپٹا لوں حیدر وجدان کی بات کو اگنور کر کے وہاں سے چلا گیا تھا ۔
وجدان ابھی بھی حیران کھڑا تھا جو اس کی سنے بغیر اپنی کہہ کر چلا گیا تھا ۔
مجبوراً وجدان کو بھی گفٹ لینے کے لۓ باہر جانا پڑا تھا۔
وجدان جانتا تھا اب حیدر اس کی بات نہیں مانے گا اور اب تو وجدان بھی اپنے ماں باپ سے ملنا چاہتا تھا اس لیے خاموشی سے گفٹ لینے چلا گیا تھا۔
