No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
حیدر کو گھر سے گئے دو دن ہوگۓ تھے وہ واپس نہیں آیا تھا۔
فیری نے گھر کا کونا کونا چیک کرلیا تھا لیکن اسے باہر جانے کا کوئ راستہ نہیں ملا تھا۔
حیدر نے ہر ایک کھڑکی دروازے کو لوک کیا ہوا تھا
گھر میں کھانے پینے کا سامان بھی موجود تھا ۔
فیری بیٹھی یہی سوچ رہی تھی کہ اس کے ساتھ کیا کیا کچھ ہو گیا ہے۔
اس کی تو شادی ہونے واکی تھی پھر اس کے ساتھ کیا ہو گیا ۔
فیری انہی سوچوں میں گم تھی جب اس کے کان میں اذان کی آواز پڑی تھی۔
فیری نے اپنے دماغ سے تمام سوچوں کو جھٹکا اور وضو کرنے چلی گئ تھی ۔
بے شک نماز میں اللہ نے سکون رکھا ہوا ہے
فیری کبھی بھی کوئی بھی نماز نہیں چھوڑتی تھی اس کی عادت رابی نے بنائ تھی دونوں بہنیں نماز کی پابند تھی ۔
نماز ادا کرنے کے بعد فیری نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تھے اور اس کے آنسوؤں خود بخود ہی نکل رہے تھے۔
فیری اپنے اللہ سے شکوہ کبھی بھی نہیں کرسکتی تھی وہ جانتی تھی اس کے ساتھ جو بھی ہوا ہے اللہ نے اس میں کوئ نا کوئ بہتری رکھی ہو گی۔
لیکن وہ اپنا دکھ اپنا درد اپنے اللہ کو بتا رہی تھی ۔
جو پہلے ہی سب کچھ جانتا تھا۔
“یا اللہ میں نہیں جانتی شاہ کون ہیں میری تو ان کے ساتھ کوئ دشمنی نہیں ہے
یااللہ میں نے تجھ سے کبھی بھی شکوہ نہیں کیا یااللہ مجھے یہاں سے نکلنے کا راستہ دکھا دے
میں یہاں نہیں رہنا چاہتی شاہ بہت برے ہیں ۔
مجھے ان سے ڈر لگتا ہے آپ پلیز ان کے دل میں رحم ڈال دیں”
فیری شاہ کی شکایتیں اللہ تعالیٰ سے لگا رہی تھی ۔
یہ ایسی ہی تھی جب اس کے ساتھ کوئ برا کرتا تو اس کی شکایتیں اللہ تعالیٰ سے لگاتی تھی ایسے اس کے دل کا غم بھی ہلکا ہو جاتا تھا ۔
دعا مانگ کر فیری نے اپنے آنسو صاف کیے تھے اور کچھ کھانے کے لیے بنانے چلی گئ تھی اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
اب اس کا دل بھی کچھ ہلکا ہو گیا تھا۔
فیری کو نہیں معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ شاہ کے دل میں فیری کے لیے محبت ڈالنے والا ہے ۔
جس سے شاہ خود بھی پیچھا نہیں چھڑوا سکے گا ۔
محبت ایک پاک جزبہ ہے اور نکاح کے دو بول میں اللہ نے اتنی طاقت رکھی ہے کہ انسان ناچاہتے ہوۓ بھی اپبے محرم کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔
………….
شاہ تم ٹھیک ہو میں کب سے تمہیں کال کر رہا ہوں تم اٹھا کیوں نہیں رہے؟
وجدان نے فکر مندی سے حیدر سے پوچھا جو ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
میں ٹھیک ہوں دس منٹ تک تمھارے آفس پہنچ رہا ہوں پھر بات کرتے ہیں شاہ نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا ۔
دو دن سے شاہ جا دل بےچین تھا اور اپنے کیے پر اندر ہی اندر پچھتا بھی رہا تھا لیکن زبان سے یہ بات قبول نہیں کررہا تھا۔
دس منٹ بعد شاہ وجدان کے سامنے موجود تھا
کیا ہوا ہے؟ سب ٹھیک ہے اور تمھاری بیوی کیسی ہے؟ وجدان نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
فیری کے بارے میں وجدان جانتا تھا شاہ کے نکاح میں وجدان بھی شامل تھا ۔
ٹھیک ہوگی میں آج ہی شہر آیا ہوں شاہ نے عام سے لہجے میں کہا ۔
کیا تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے تم دو دن یہاں نہیں تھے اس کا مطلب وہ لڑکی اکیلی تھی اور اب وہ لڑکی تمھاری بیوی بھی ہے۔
وجدان نے دبے دبے غصے سے کہا اسے شاہ سے اس طات کی امید نہیں تھی ۔
کیا ہو گیا ہے اگر وہ اکیلی ہے تو میں نے صرف شمس سے بدلہ لینے کے لئے اس لڑکی سے شادی کی تھی اب میری بلا سے اکیلی رہے یا کسی کے ساتھ رہے مجھے فرق نہیں پڑتا اور مجھے کیا معلوم اس لڑکی کا کردار کیسا ہے؟ میں اس لڑکی کو اپنی بیوی بلکل بھی نہیں مانتا ۔
شاہ نے سفاکی سے کہا ۔
وجدان کو حیدر اس وقت ایک ظالم انسان لگ رہا تھا اسے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہی نرم مزاج والا ازلان حیدر شاہ ہے ۔
تو پھر تمہیں اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی اگر تمہیں اس کا کردار ٹھیک نہیں لگ رہا تھا تو تم اس لڑکی کے کمرے میں تو چلے ہی گئے تھے تو پھر لوگوں کو اکٹھا کر لیتے لڑکی کی عزت کا جنازہ ویسے ہی نکل جانا تھا کیونکہ لوگوں نے لڑکے کی بات پر ہی یقین کرنا تھا۔
تم نے لڑکی کو اس کی شادی کی رات غائب کرکے اس لڑکی کی عزت پر داغ لگایا ہے جو بدقسمتی سے اب تمھاری بیوی بھی ہے ۔
اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ شمس کی عزت خراب ہوئ ہے تو تو یہ صرف تمھاری سوچ ہی ہے
کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ تم نے شمس سے بدلہ لینے کے لئے اس کی منگیتر کے ساتھ نکاح کیا ہے لوگ یہی سمجھے گۓ لڑکی کا چکر چل رہا تھا جو اپنی شادی والے دن بھاگئ۔
زمانہ لڑکی کو ہی ہمیشہ غلط کہتا ہے لڑکے کا قصور نہیں دیکھتا اور مجھے تو لگ رہا ہے کہ تم نے شمس سے نہیں بلکہ اس لڑکی سے بدلہ لیا ہے اس کی عزت خراب کر کے
وجدان نے غصے سے کہا اس کی آواز بھی اونچی ہوگئ تھی ۔
وجدان کی بات سن کر حیدر کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ۔
اسے فیری کے بارے میں یہ سب باتیں سن کر برا لگ رہا تھا ۔
دل تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ تم غلط کر چکے ہو لیکن جب انسان پر بدلہ لینے کا جنون سوار ہوجاۓ تو وہ کسی کی نہیں سنتا اور پھر بعد میں پچھتاتا ہے اور اس وقت شاہ پر بھی بدلا لینے کا جنون سوار تھا اس کی عقل پر پردہ پر چکا تھا ۔
تم میرے بھائ ہو کر اس لڑکی کی سائیڈ کیوں لے رہے ہو؟
شاہ نے بھی غصے سے کہا
تمہیں غلط کرنے سے روک رہا ہوں
اور تمہیں کیا لگتا ہے جو کچھ تم اس معصوم لڑکی کے ساتھ کر رہے ہو اس کے بعد اللہ تمہیں تمھاری اینجل سے ملوا دیں گا ۔
وجدان نے کہا ۔
اس معاملے میں اینجل کہا سے آگئ شاہ نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوۓ پوچھا ۔
اگر کسی معصوم کی آہ لگ جاۓ نا تو ازلان حیدر شاہ وہ آہ انسان کی زندگی بدل دیتی ہے اس لۓ کسی معصوم کی آہ نا لینا ساری زندگی پچھتاتے رہو گے
وجدان نے کہا۔
شاہ بنا کچھ کہے وہاں سے جانے لگا تھا جب وجدان کی آواز نے اسے روکا۔
ازلان حیدر شاہ جو بھی کرنا سوچ سمجھ کر کرنا ایسا نا ہو بعد میں تمہیں اپنے کیے پر پچھتاوا ہو۔
وجدان کی بات سنتے ہی حیدر وہاں سے نکل گیا تھا۔
پیچھے وجدان اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔
…………
شاہ سیدھا گھر آیا تھا ۔جہاں اس نے فیری کو رکھا ہوا تھا۔
شاہ اندر آیا تو فیری سامنے ہی صوفے پر بیٹھی ہوئ تھی ۔
شاہ کو دیکھ کر فیری ڈر گئ تھی اس کے چہرے پر ڈر صاف نظر آرہا تھا ۔
جو شاہ نے بھی نوٹ کیا تھا ۔
فیری کی آنکھیں رونے سے سرخ ہورہی تھیں ۔
شاہ بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا ۔
فیری نے سکون کا سانس لیا تھا ۔
…………
اگلے دن شاہ نے فیری کو کمرے میں کھانا لانے کا کہا تھا فیری جب کھانا لائ تو شاہ کے موبائل پر شمس کی کال آرہی تھی۔
شمس کا نام دیکھ کر فیری کی آنکھوں میں امید کی کرن جاگی تھی ۔
فیری نے فون کان سے لگایا تھا ۔
ہیلو… فیری جلدی سے بولی فیری واپس اپنے گھر جانے کا موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی۔
شمس نے جب فیری کی آواز سنی تو بہت خوش ہوا تھا۔
فیری تم کہاں ہو؟
تم ٹھیک تو ہو؟
شمس نے بے تابی سے ہوچھا
اس سے پہلے فیری کوئ جواب دیتی شاہ نے فیری کے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا تھا ۔
شاہ نے جب شمس کا نمبر دیکھا تو اس کا غصہ ساتویں آسمان کو پہنچ گیا تھا۔
فیری کو لگ رہا تھا اس بار شاہ اسے جان سے مار دے گا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی شمس سے بات کرنے کی
شاہ نے سخت تیور لیے اپنے سامنے کھڑی فیری کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا ۔
فیری کو تو اپنی جان نکلتی ہوئ محسوس ہورہی تھی۔
جواب دو کیوں بات کی تم نے شمس سے بولو شاہ نے فیری کی بازو پر گرفت مضبوط کرتے دھاڑتے ہوۓ پوچھا۔
فیری سہمی ہوئ نظروں سے شاہ کو دیکھ رہی تھی جو اس وقت بلکل ہی بے رحم بنا ہوا تھا۔
شاہ کی گرفت ایسی تھی کہ فیری کو اپنے بازو کی ہڈی ٹوٹتی ہوئ محسوس ہورہی تھی۔
ڈر کے مارے اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی آنسو خود با خود نکلتے جارہے تھے ۔
فیری کی خاموشی شاہ کو مزید غصہ دلا رہی تھی ۔
غلطی کی ہے تو سزا بھی ملے گی میری بیوی ہوتے ہوۓ تم اپنے پہلے منگیتر سے باتیں کرو یہ میں بلکل بھی برداشت نہیں کروں گا۔
آج سزا ملے گی تو آئندہ کچھ بھی ایسا کرنے سے پہلے سو بار سوچو گی۔
شاہ نے کہتے ہی فیری کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک کمرے میں لے گیا اور اُسے اندر دھکا دے کر دروازہ باہر سے بند کر دیا ۔
کمرے کے اندر جاتے ہی فیری کو ہوش آیا تھا کمرے میں ہلکی سی لائیٹ جل رہی تھی
فیری کی نظر جب زمین پر پڑی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ تھیں۔
زمین میں تقریباً ہر طرح کے کیڑے رینگ رہے تھے کچھ کو تو فیری نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔
فیری نے دروازہ پیٹنا شروع کردیا شاہ مجھے معاف کر دیں پلیز دروازہ کھول دیں فیری نے روتے ہوۓ کہا
اچانک فیری کو اپنے جسم پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے اپنے بازوں کی طرف دیکھا تو وہاں چھوٹے چھوٹے کیڑے رینگ رہے تھے۔
فیری پاگلوں کی طرح اپنے جسم کو نوچنے لگی تھی
اور چیخ بھی رہی تھی۔
کیڑے اسے کاٹ بھی رہے تھے۔
تھوڑی دیر بعد ہی فیری بے ہوش ہوکر زمین پر گر گئ تھی۔
ان کیڑوں میں زہر نہیں تھا لیکن یہ فیری کو کاٹ رہے تھے فیری بے ہوش ہوچکی تھی ۔
شاہ اسے کمرے میں بند کرتے ہی وہاں سے چلا گیا تھا بلکہ وہ گھر سے ہی نکل گیا تھا ۔
…………..
شاہ آدھے راستے ہی پہنچا تھا جب جب اسنے گاڑی کو بریک لگائ اور گاڑی دوبارہ گھر کی طرف موڑ لی ۔
غصے میں فیری کو بند تو کر آیا تھا لیکن جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا تھا ۔
شاہ گھر پہنچا تو کمرے سے فیری کی آواز نہیں آرہی تھی۔
شاہ نے جلد سے کمرہ کھولا تو فیری زمین پر بے ہوش پڑی تھی۔
کچھ کیڑوں کے کاٹنے سے خون نکل رہا تھا اور کچھ جو فیری نے اپنے آپ کو نوچا تھا اس وجہ سے بھی خون نکل رہا تھا۔
شاہ نے جلدی سے فیری کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور باتھ روم لے گیا تھا اور شاور کے نیچے فیری کو کھڑا کیا تھا۔
شاہ خود بھی بھیگ گیا تھا اور جو تھوڑے بہت کیڑے طاقی تھے اسے اتار رہا تھا۔
پانی پڑنے سے خون پانی کے ساتھ بہ رہا تھا
شاہ کا دل کر رہا تھا اپنے ساتھ ہی کچھ کر لۓ۔
فیری کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا شاہ نے فیری کو زور سے اپنے سینے میں بیچ لیا تھا۔
ایم سوری شاہ نے فیری کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوۓ آہستہ سے کہا
خون ابھی بھی نکل رہا تھا ۔
شاہ کو اپنے کیے پر بہت افسوس ہو رہا تھا ۔
شاہ فیری کو باہر لایا اور بیڈ پر آرام سے لیٹایا۔
شاہ نے سب سے پیلے ڈاکٹر کو فون کیا تھا ۔
اور اب مسئلہ کپڑے چینج کرنے کا تھا
کیا کروں شاہ نے سوچا۔
شاہ یہ تمھاری بیوی ہے تم محرم ہو اس کے دل سے آواز آئ تھی ۔
شاہ نے ساری لائیٹ بند کر کے فیری کے کپڑے تبدیل کر دیے تھے ۔
تھوڑی دیر بعد ہی ڈاکٹر آگیا تھا اور ڈاکٹر نے کہا تھا ڈر کی وجہ سے بے ہوش ہوگئ تھی او زخموں پر لگانے کے لیے مرہم بھی دیا تھا ۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد شاہ نے مرہم فیری کے زخموں ہر لگا دیا تھا ۔
شاہ فیری کے چہرے پر نظریں مرکوز کیے بیٹھا ہوا تھا. جہاں کافی زخم تھے۔
اسے وجدان کی ساری باتیں یاد آرہی تھی سچ ہی تو کہہ رہا تھا وہ میں اس معصوم کے ساتھ زیادتی ہی تو کر ریا تھا۔
اس سارے معاملے میں اس کی تو کوئ غلطی نہیں تھی پھر میں اسے کس بات کی سزا دے رہا تھا ۔
میں اسے چھوڑ دوں گا پھر چاہے یہ جس مرضی سے شادی کریں بلکہ میں اس کی شادی کسی اچھی جگہ کروا دوں گا ۔
شاہ سوچتے ہوۓ اس فیصلے پر پہنچا ک وہ فیری کو طلاق دے گا اقر اس کی کسی اچھی جگ شادی کرواۓ گا ۔
شاید وہ ایسا کر کے اپنی غلطی سدھارنا چاہتا تھا اور اس نے سوچ لیا تھا مزید وہ فیری کو تکلیف نہیں دیں گا ۔
……………
