No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
فیری جب کچن سے باہر آئ تھی تو اس کا ڈوپٹہ کچن کے دروازے کے ساتھ اٹک گیا تھا تہمینہ بیگم کو لگا تھا فیری چلی گئ ہے ۔
جب تہمینہ بیگم کسی سے فون پر بات کر رہی تھیں
فیری نے تہمینہ بیگم کی ساری باتیں سن لی تھیں ۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کس سے بات کر رہی تھی اسے بس اتنا پتہ تھا کہ اگر یہاں رکی تو اس کے ساتھ بہت برا ہو گا ۔
فیری کمرے میں جانے کی بجائے گھر سے ہی نکل گئ تھی۔
اس کے دماغ میں بس ایک ہی بات چل رہی تھی کہ یہ سب شاہ کی وجہ سے ہوا ہے ۔
شاہ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی بھی نہیں فیری نے نفرت سے سوچا اور گھر سے نکل گئ تھی ۔
…………
تہمینہ بیگم تھوڑی دیر بعد کمرے میں آئ تو ان کو فیری کہی بھی نظر نہیں آئ تھی ۔
یہ کہاں چلی گی ہے؟ تہمینہ بیگم نے پریشانی سے کہا اور دوسرے کمرے میں دیکھنے کے لیے چلی گئی تھیں ۔
ان کو پیسے جانے کی ٹینشن تھی تہمینہ بیگم نے شفیق صاحب سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ فیری کو ان کے حوالے کر دے گی اور اس کے بدلے میں شفیق تہمینہ کو پیسے دے گا ۔
شفیق صاحب کو یقین تھا کہ فریال واپس ضرور آۓ گی وہ شاہ کو بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ شاہ اپنی اینجل کے سوا کسی بھی لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرے گا اس لیے شفیق نے تہمینہ کو کہا تھا کہ شمس کو اس بات کا پتہ نہیں چلنا چاہیے ۔۔
تہمینہ نے پورے گھر میں فیری کو دیکھ لیا تھا لیکن اسے فیری کہی نہیں ملی تھی۔
تہمینہ بیگم نے جلدی سے شفیق کو فون کیا تھا
کیا ہو گیا ہے؟ میں آرہا ہوں شفیق نے کہا
فیری یہاں نہیں ہے مجھے لگتا ہے اس نے میری باتیں سن لی ہے اور وہ گھر سے چلی گئ ہے تہمینہ بیگم نے پریشانی سے کہا ۔
اب تہمینہ کو اس بات کی فکر کھائ جارہی تھی کہ اگر فیری دوبارہ رابی اور فاروق صاحب کی. موجودگی میں آگیٔ اور اس نے دونوں کو سب کچھ بتا دیا تو ان کا کیا حال ہوگا ۔
تم فکر مت کرو وہ گھر کے قریب ہی ہو گی زیادہ دور نہیں گئ ہوگی ۔
شفیق نے کہہ کر فون بند کر دیا ۔
…………….
رابی گھر پہنچی تو تہمینہ بیگم کافی پریشان تھیں
امی آپ ٹھیک ہیں؟
رابی نے پوچھا
ہاں میں ٹھیک ہوں وہ تو میں تمھارا انتظار کررہی تھی۔
آج کتنی دیر لگا دی تم نے آنے میں تہمینہ بیگم نے جلدی سے کہا ۔
وہ امی آج کام کچھ زیادہ تھا اس لۓ رابی نے کہا اچھا چلو میں کھانا لگاتی ہوں تہمینہ بیگم نے کہا
اور وہاں سے چلی گئ
………..
فیری گھر سے نکل آئی تھی اسے نہیں معلوم تھا کہ اب کہاں جاۓ گی۔
آنکھوں میں آنسو لیے چلتی جا رہی تھی چادر اس کی سر سے اتر کر کاندھوں پر آگری تھی ۔
دل میں اپنی ماں کو یاد کررہی تھی
ماما آپ کہاں ہوں؟
کیوں مجھے اکیلا چھوڑ کر آپ چلی گئ ہو پلیز واپس آجاؤ۔مجھے آپ کی ضرورت ہے ۔
اسے بلکل بھی ہوش نہیں تھا۔
ابھی بخار بھی ٹھیک نہیں ہوا تھا فیری انہی سوچوں میں غم تھی جب اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ وہ سڑک کے درمیان میں آگئ ہے ۔
ایک گاڑی تیز رفتار سے آئ اور اور فیری کو ٹکر مار کر چلی گئ تھی فیری کی دلخراش چیخ سڑک پر گونجی تھی۔
کچھ لوگ فیری کے ارد گرد جمع ہوگۓ تھے۔
……………
وجدان اس وقت اس آدمی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا جس نے اینجل کے بارے میں بتانا تھا ۔
شاہ ابھی تک نہیں آیا تھا ۔
صاحب مجھے بہت ضروری کام سے جانا ہے میں آپ کو بتا دیتا ہوں آپ بڑے صاحب کو بتا دینا اس آدمی نے کہا۔
اوکے کیا معلوم ہوا ہے تمہیں اینجل کے بارے میں وجدان نے پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا ۔
صاحب اس بار آپ سمجھو آپ کو وہ لڑکی مل گئ ہے اس آدمی نے خوشی سے کہا ۔
کیا مطلب؟ وجدان جے گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ۔
صاحب آپ نے جس آدمی کی تصویر مجھے دی تھی مجھے وہ آدمی مل گیا ہے اس کا نام فاروق ہے اس کی دو بیٹیاں ہیں۔اس نے دو شادیاں کی ہیں ۔
بڑی بیٹی کا نام رابیل ہے اور چھوٹی کا نام فریال ہے فریال فاروق کی پہلی بیوی میں سے ہے ۔
رابیل کے نام پر اور فاروق کے نام پر وجدان چونکا ضرور تھا ۔
اس لفافے میں دونوں لڑکیوں کی تصاویر بھی ہے اور گھر کا ایڈریس بھی ہے ۔
اس آدمی نے کہا اور لفافہ وجدان کے سامنے رکھا ۔
صاحب اب مجھے اجازت دیں اس آدمی نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔
وجدان نے تصاویر باہر نکالیں تو سب سے پہلے جس کی تصویر اس نے دیکھی تھی وہ رابیل کی تھی۔
رابیل کی تصویر دیکھ کر وجدان شوکڈ ہو گیا تھا ۔
اسے یاد آیا کہ رابیل نے کہا تھا کہ اس کی بہن کی شادی تھی اس کا مطلب اینجل کی شادی تھی ۔
وجدان نے خود سے ہی اندازہ لگایا تھا کیونکہ رابیل کی عمر تقریباً 22 سال تھی تو اس کا مطلب فریال ہی اینجل ہے کیونکہ اینجل سارہ کی عمر کی تھی اور سارہ اب 20 کی ہونے والی تھی تو اینجل بھی بیس سال کی ہونے والی تھی۔
لیکن اینجل کا نام تو ماہی تھا پھر فریال نام اور شاہ نے جس لڑکی سے شادی کی تھی اس کا نام بھی تو فریال تھا اگر جو میں سوچ رہا ہوں وہ سچ ہوا تو وجدان یہ سب باتیں سوچتے ہوئے کہا اور پھر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔
اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد اسے شاہ کی کال آئ تھی
وجدان مجھے ایک ضروری کام سے گاؤں جانا ہے تم اس آدمی سے مل لینا اور پھر مجھے بتا دینا میرا جانا ضروری ہے ورنہ میں خود اس آدمی سے ملتا شاہ نے کہا ۔
ٹھیک ہے میں بات کر لوں گا وجدان نے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔
شاہ اگر جیسا میں سوچ رہا ہو ویسا ہی ہوا تو بہت غلط کر چکے ہو تم اہنی اینجل کے ساتھ بہت غلط وجدان نے پریشانی سے کہا ۔
اسے اب رابیل سے بات کرنی تھی ۔
اس لیے اپنے آفس کے لیے نکل پڑا تھا۔
…………..
وجدان نے آفس میں پہنچتے ہی رابیل کو بلایا تھا
جی سر آپ نے بلایا رابی نے وجدان کے سامنے نظریں جھکا کر پوچھا
جی مس رابیل بیٹھیے وجدان نے کرسی کی طرف طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
۔رابی وجدان کے سامنے بیٹھ گئ تھی
مس رابیل میں کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں آپ کی فیملی کے بارے میں آپ پلیز اس کا جواب مجھے ٹھیک دیجیے گا۔
میرے لئیے یہ بہت ضروری ہے ۔
وجدان نے کہا ۔
رابیل کو وجدان کی بات سمجھ میں نہیں آئ تھی لیکن اس نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔
آپ کی کوئ بہن ہے؟ اور اس کا نام کیا ہے؟
وجدان نے پہلا سوال کیا
سر آپ کیوں یہ سب پوچھ رہے ہیں رابی نے حیرانگی سے پوچھا
مس رابیل پہلے آپ میرے سوالوں کا جواب دیں وجدان نے سنجیدگی سے کہا ۔
جی میری چھوٹی بہن ہے اس کا نام فریال ہے رابی نے کہا۔
آپ کی بہن کی شادی پوسپون کیوں ہوئ تھی
وجدان نے ہوچھا ۔
سر آپ کچھ زیادہ پرسنل جارہے ہے رابی نے اس بار تھوڑا غصے سے کہا ۔
تو ٹھیک ہے یہ سب سوال میں آپ کے گھر آکر پوچھ لوں گا کیونکہ مجھے ان کے جواب چاہیے وجدان نے کہا۔
وہ مہندی کی رات کو غائب ہوگئی تھی جس کے ساتھ اس کی شادی تھی اس کے دشمن نے میری بہن کو اغوا کر لیا تھا۔
رابی نے نظریں جھکا کر تفصیل بتائ۔
وجدان کو لگ رہا تھا اس کے کان سن ہوگۓ ہیں جس سے آپ کی بہن کی شادی ہونے والی تھی اس کا نام کیا تھا؟
وجدان نے آخری سوال پوچھا شاید اسے امید تھی
رابی شمس کا نام نہیں لے گی ۔
لیکن رابی نے جب شمس شفیق کہا تو وجدان کو یقین ہو گیا تھا کہ فریال ہی اینجل ہے اور شاہ کا نکاح اس کی اینجل سے ہی ہوا تھا،
وجدان نے جلدی سے پانی پیا تھا اور اپنی ٹائ دھیلی کی تھی۔
مس رابیل آپ جا سکتی ہے اور جب تک میں نا کہوں کسی کو اندر مت آنے دینا وجدان نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں موندتے ہوۓ کہا۔
جی سر رابی نے کہا او باہر چلی گئ تھی
عجیب انسان ہے رابی نے دل میں سوچا اور اپنا کام کرنے لگی ۔
…………….
داجی اس وقت آبان کے ساتھ گاؤں کے لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوۓ تھے ۔
اکرام اپنا مسئلہ بیان کرو ۔
داجی کی روبدار آواز گونجی تھی ۔
سرکار ہمیں انصاف چاہیے مشتاق کے بیٹے نے میرے چھوٹے بیٹے کا قتل کیا ہے ہم خون کے بدلے خون خون چاہتے ہیں۔
اکرام نے اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوۓ
کہا۔
چونکہ ازلان حیدر شاہ یہاں نہیں ہے تو اس بار فیصلہ آبان شاہ کرے گا۔
داجی نے آبان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
مشتاق ہم پہلے ہی اس معاملے کے بارے میں معلوم کر چکے ہیں اور سب چیزوں سے ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ تمھارے بیٹے نے اکرام کے بیٹے کا خون کیا ہے۔
اب تمھارے پاس دو راستے ہیں یا تو تم اپنی بیٹی کی شادی اکرام کے بڑے بیٹے سے کر دو یا تمھارے بیٹے کو بھی قتل کر دیا جاۓ گا۔
فیصلہ تمھارے ہاتھ میں ہے آبان نے اپنا فیصلہ سناتے ہوۓ کہا۔
سرکار مجھ ہر رحم کریں
میری بیٹی بہت چھوٹی ہے اکرام کے اپنے بچے میری بیٹی کی عمر کے ہیں میں کیسی اکرام کے بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی کر سکتا ہوں مشتاق نے داجی کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا۔
آبان شاہ فیصلہ سنا چکا ہے تمھارے بیٹے نے خون کیا ہے تو اس کی سزا بھی ملے گی یا تو اپنی بیٹی کا نکاح کر دو یا اپنے بیٹے کو گاؤں کے حوالے کر دو داجی نے سنجیدگی سے کہا۔
ٹھیک ہے میں اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کے کۓ تیار ہوں مشتاق نے کہا۔
تم نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے مشتاق جاؤ اپنی بیٹی کو لے جر آؤ نکاح ابھی ہو گا آبان نے مشتاق کو کہا۔
تھوڑی دیر بعد مشتاق اپنی بیٹی کو لے آیا تھا جو تقریباً 12 سال کی تھی ۔
اور اس نے ہاتھ میں گڑیا پکڑی ہوئی تھی
جب مولوی صاحب نکاح پڑھانے لگے تو شاہ کی آواز نے مولوی صاحب کو روک دیا تھا ۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ ازلان نے غصے سے پوچھا
حیدر یہ معاملہ طے ہو گیا ہے تن اب اس سے دور رہو
آبان نے کہا اسے شاہ کا اس وقت آنا بلکل بھی ٹھیک نہیں لگا تھا ۔
میں نے پوچھا یہاں کیا ہو رہا ہے ۔
اس بار شاہ نے دھاڑتے ہوۓ پوچھا وہاں بیٹھے ہوۓ تمام لوگوں کو سانپ سونگ گیا تھا۔
مشتاق نے ساری بات شاہ کو بتا دی تھی ۔
سارے بات سنے کے بعد شاہ کا رخ اب اکرام کی طرف تھا۔
تم جانتے ہو تمھارا بیٹا مشتاق کی بیٹی کے ساتھ کیا کرنے جارہا تھا حیدر نے چہرے پر سخت تیور لیے اکرام سے پوچھا جو حیدر کی بات سن کر نظریں جھکا کر کھڑا ہوگیا تھا ۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کا بیٹا کیا کرنے لگا تھا ۔ میں بتاتا ہوں آپ سب لوگو کو
اکرام کے بیٹے نے اس معصوم سی بچی کی معصومیت چھیننے کی کوشش کی تھی اور اس کے بھائ نے اپنی بہن کو بچانے کے لئے اکرام کے بیٹے کے سر پر پتھر مارا تھا اور وہ مر گیا۔
اور اگر تمھارا بیٹا اس معصوم کے ساتھ کچھ بھی غلط کر لیتا تو اسے میں اپنے ہاتھوں سے بہت بری موت دیتا کیونکہ میرے نزدیک اس گناہ کی سزا صرف موت ہے۔
شاہ نے ایک ایک لفظ چباتے ہوۓ کہا
اور دوسری بات میں ازلان حیدر شاہ اس بات کا اعلان کرتا ہوں آج سے جب تک کوئ بھی لڑکی اٹھارہ سال کی نہیں ہوجاتی اس کی شادی نہیں ہوگی ۔
اگر کسی نے لڑکی کے اٹھارہ سال ہونے سے پہلے شادی کروائ تو اس انسان کو مجھ سے کوئ نہیں بچا سکتا ۔
اگر کسی کو میرے اس فیصلے سے مسئلہ ہے تو ابھی میرے سامنے آۓ حیدر نے چاروں اور نظریں دوڑاتے ہوۓ کہا لیکن کوئ آگے نہیں آیا۔
ازلان حیدر شاہ کے غصے سے سب واقف تھے
آبان شاہ کو اس وقت شاہ پر بہت غصہ آرہا تھا
گاؤں والوں کو شاہ کے فیصلے سے کوئ اعتراض نہیں تھا۔
………….
