No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
رابی گھر آتے ہی اپنے کمرے میں بند ہوگئ تھی۔۔۔ تہمینہ بیگم نے جلدی آنے کی وجہ پوچھی تو۔۔۔رابی نے بہانا بنایا۔۔۔
رابی اپنی انگلی کو دیکھ رہی تھی جس میں وجدان نے چھلا پہنایا تھا۔۔۔
اگر کسی نے دیکھ لیا تو میں کیا جواب دوں گی رابی نے دل میں سوچا۔۔۔ اور چھلے کو اتارنے کی کوشش کی لیکن چھلا بہت تنگ تھا۔۔۔ اور رابی کی انگلی سے نکل نہیں رہا تھا۔۔۔
یااللہ میں کیا کروں رابی نے سوچا بےسی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگۓ تھے۔۔۔
اسے ایک اور بات کی بھی ٹیشن تھی کہ اب وجدان کا سامنا کیسے کریں گی۔۔۔ جاب بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔
رابی نے نے ایک نیند کی گولی کھائی اور کچھ دیر سکون کی غرض سے لیٹ گئ تھی۔۔۔۔
💖————💖
شاہ اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔۔۔
ماں جانتی ہیں سب کچھ لیکن وہ مجھ سے ناراض ہے۔۔۔
کوئی بات نہیں میں ماں کو منانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے وہ مجھے معاف کر دے گی۔۔۔
شاہ نے سوچا اور اپنے کمرے سے سے نکل گیا۔۔۔
💖————💖
یہ دو گھنٹے گزارنا وجدان کے لیے کسی عزاب سے کم نہیں تھے۔۔۔ وجی ایک سیکنڈ کے لیے بھی آرام سے نہیں بیٹھا تھا۔۔۔
آخر کا اس آدمی کی کال آگئ تھی وجدان نے نمبر دیکھا اور دل میں بس ایک ہی بات سوچی یااللہ میرے حق میں جو بہتر ہے وہ مجھے عطا فرما وجی نے کہا اور کال سننے لگا۔۔۔
سر آپ نے جس لڑکے کی تصویر دی تھی۔۔۔ اس کا نام اظہر ہے لندن میں اپنا بزنس شروع کرنے لگا۔۔۔ ہے کچھ ماہ تک لندن چلا چاۓ گا اکلوتا ہے۔۔۔ کل ہی اس کی اپنی کزن کے ساتھ منگنی ہوئ ہے۔۔۔
جیسے جیسے وجی سنتا جارہا تھا اسے اپنا دل بند ہوتا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔
اسے اظہر میں کوئی برائی نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے میں بعد میں تم سے بات کرتا ہوں وجی نے جلدی سے کہا کیونکہ اس میں مزید ہمت نہیں تھی سنے کی۔۔۔
سر ایک بہت ضروری بات بھی پتہ چلی ہے اظہر نے کے بارے میں اس آدمی نے کہا۔۔۔
وہ کیا۔۔۔؟
وجی نے بے دلی سے پوچھا۔۔۔
سر اظہر شادی شدہ ہے۔۔۔ اس کی بیوی لندن میں ہے اور ایک بیٹی بھی ہے۔۔۔ اظہر کی شادی کو چار سال ہو چکے ہیں۔۔۔ اور اس شادی کے بارے میں اظہر کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔۔۔ اس نے اپنی شادی کو خفیہ رکھا ہوا ہے۔۔۔ جس لڑکی کے ساتھ اس کی منگنی ہوئی ہے وہ بھی اس کی شادی کے بارے میں نہیں جانتی۔۔۔ اس آدمی نے تفصیل سے وجدان کو بتایا۔۔۔
اور وجدان کو لگ رہا تھا کہ خوشی سے اس وقت پاگل ہو جانا ہے۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے اس کی بیوی کی ساری معلومات چاہیے وجدان نے خوشی سے کہا۔۔۔
جی سر۔۔۔ اس آدمی نے کہا۔۔۔
وجی نے فون رکھا اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔۔۔ اب رابی کو اس کا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔۔۔
لیکن وجی کو ایک بات سمجھ نہیں آئی تھی کہ اگر اظہر شادی شدہ ہے تو رابی سے شادی کیوں کر رہا ہے۔۔۔جو بھی ہے وجی پتہ لگا لے گا۔
۔
مجھے ماما سے بات کرنی ہوگی وجدان نے دل میں سوچا۔۔۔
💖————💖
شاہ اجازت ملنے پر ہیرا بیگم کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ شاہ کو دیکھ کر ہیرا بیگم نے رخ موڑ لیا تھا۔۔۔۔
شاہ چلتا ہوا ہیرا بیگم کے پاس آیا اور ان کے قدم میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
ماں آپ ابھی بھی مجھ سے ناراض ہے۔۔۔ شاہ نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
شاہ تم جانتے بھی ہو کہ تم نے کیا کیا ہے۔۔۔؟
ہیرا بیگم نے نے شاہ سے پوچھا۔۔۔
ماں میں جانتا ہوں میں نے فیری کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔۔۔ میں اسے منا لوں گا مجھے یقین ہے۔۔۔ لیکن پلیز میں آپ کی ناراض برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ شاہ نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو چومتے ہوۓ کہا۔۔۔
ہیرا بیگم نے شاہ کو اپنے پاس بیٹھایا تھا۔۔۔
شاہ ایک ماں کب تک اپنی اولاد سے ناراض رہ سکتی ہے۔۔۔ میں تم سے ناراض نہیں ہوں لیکن میری ایک بات یاد رکھا میں فریال کے ساتھ ہوں۔۔۔ اور جو وہ فیصلہ کرے گی اسی کو مانا جاۓ گا۔۔۔
ہیرا بیگم نے صاف صاف شاہ کو کہا۔۔۔ شاہ کچھ کہنےہی لگا تھا لیکن پھر چپ کر گیا۔۔۔
ٹھیک ہے ماں۔۔۔ شاہ نے تابعداری سے جواب دیا۔۔۔
شاہ مجھے لگتا ہے عالیہ بھی زندہ ہے ہیرا بیگم نے شاہ کو کہا۔۔۔
میں جانتا ہوں ماں اور آپ فکر مت کریں میں بہت جلد ان کو ڈھونڈ لوں گا۔۔۔ شاہ نے ہیرا بیگم کو امید دلاتے ہوئے کہا۔۔
💖————💖
وجدان حویلی آیا تھا گھر والے وجدان کو دیکھ کر حیران ہوۓ تھے۔۔۔
وجی سیدھا اپنے ماں باپ کے کمرے میں گیا تھا۔۔۔
داجی اس وقت اپنے کمرے میں آرام کررہے تھے۔۔۔ وجی نے ان کو جگانا بہتر مناسب نہیں سمجھا۔۔۔
ماہین بیگم فون پر بات کررہی تھیں۔۔۔ جب وجی نے انکی آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔ وجدان کی خوشبو سے ہی ماہین بیگم وجی کو پہچان گئ تھی۔۔۔
وجی۔۔۔؟ماہین بیگم نے کہا۔۔۔
وجدان مسکراتا ہوا ماہین بیگم کے سامنے آیا تھا۔۔۔
ماما آپ کیسے پہچان لیتی ہے مجھے۔۔۔
وجدان نے اپنی ماں کو گلے لگاتے ہیں پوچھا۔۔۔۔
وہ اس لیے کہ میں تمھاری ماں ہوں۔۔۔ تمھاری خوشبو سے ہی تمہیں پہچان لیتی ہوں۔۔۔ ماہین بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
وجی اپنی ماں کی بات سن کر مسکرا پڑا تھا۔۔۔
ماما مجھے واپس جانا ہے۔۔۔ میں آپ سے بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں۔۔۔ پاپا گھر پر نہیں ہے۔۔۔ ان سے آپ بات کر لیجیے گا۔۔۔ وجی نے کہا۔۔۔
وجدان بیٹا سب ٹھیک ہے نا۔۔۔؟ ماہین بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
ماما کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔۔۔ میں نے بتایا تھا آپ سب کو کہ میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں۔۔۔ وجدان نے ماہین بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں تم نے کہا تھا۔۔!! ماہین بیگم بے کہا۔۔۔
تو ماما میں اس سے نکاح کرنے والا ہوں۔۔۔
وجدان نے موٹی موٹی بات ماہین بیگم کو بتا دی۔۔۔
وہ سب ٹھیک ہے بیٹا لیکن تم اکیلے سب کچھ کیسے کرو گے۔۔۔ ماہین بیگم نے فکرمندی سے کہا
ماما آپ ابھی اپنے بیٹے کو جانتی نہیں ہے کہ وہ کیا کیا کر سکتا ہے۔۔۔ یہ بات وجی نے دل میں سوچی تھی۔۔۔
لیکن کہا بس اتنا ہی تھا۔۔۔ ماما شاہ ہو گا نا میرے ساتھ وہ سب سنبھال لے گا۔۔۔ وجدان نے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔ ماہین بیگم نے وجی کا ماتھا چومتے ہوۓ پیار سے کہا۔۔۔
تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد وجدان واپسی کے لیۓ نکل پڑا تھا۔۔۔
💖————💖
وجی گاڑی ڈرائیور کر رہا تھا اور وہ سب باتیں سوچ رہا تھا جو اس نے رابی کو کہی تھی۔۔۔
وجی تم نے یہ کیا کر دیا کیا سوچ رہی ہو گی رابی تمھارے بارے میں۔۔۔ مجھے رابی سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔
لیکن کوئی بات نہیں مجھے یقین ہے کہ میں اسے منا لوں گا وجدان نے دل میں سوچا۔۔۔
رابی کا خیال آتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔۔۔
💖————💖
فیری نے ایک فیصلہ کیا تھا۔۔۔
اور اب اس نے اپنا فیصلہ ہیرا بیگم کو سنانا تھا۔۔۔
ممانی مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔۔۔ کیا آپ فارغ ہے۔۔۔ فیری نے ہیرا بیگم سے پوچھا۔۔۔
ہاں بیٹا میں فری ہوں کہو کیا کہنا ہے ہیرا بیگم نے پیار سے پوچھا۔۔۔
ممانی آپ نے کہا تھا نا کہ آپ میرا ساتھ ہر فیصلے میں دے گی۔۔۔ فیری نے ہیرا بیگم کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
بلکل میں نے کہا تھا ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
ممانی میں چاہتی ہوں آپ شاہ سے بات کریں کہ وہ مجھے چھوڑ دیں۔۔۔ فیری کے نظریں جھکا کر کہا۔۔۔
فیری کی بات سن کر ہیرا بیگم بھی شوکڈ ہوئی تھی۔۔۔ لیکن جلد ہی انہوں نے اپنے آپ کو سنبھال لیا تھا۔۔۔
فریال بیٹا آپ اچھی طرح سوچ لو پھر فیصلہ کرنا۔۔۔
اس طرح کے کاموں میں جلدی نہیں کیا کرتے۔۔۔ ہیرا بیگم نے فیری کو سمجھاتے ہوۓ کہا۔۔۔
ممانی میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ لیا ہے فیری نے کہا۔۔۔
تو کیا تم پھر کبھی کسی سے بھی شادی نہیں کرو گی۔۔۔؟ ہیرا بیگم نے رابی سے پوچھا۔۔۔
ممانی مجھے پوری امید ہے کہ میری ماما مجھے مل جاۓ گی۔۔۔ پھر وہ میری شادی اپنی مرضی سے جہاں ان کا دل چاہے گا وہاں کر دے گی۔۔۔ لیکن میں شاہ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔۔۔ فیری نے کہا
یہ سب اس نے داجی کی بات سننے کے بعد بھی سوچا تھا اور اس فیصلے پر پہنچی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے میں شاہ سے بات کرو گی۔۔۔ ہیرا بیگم نے کہا۔۔۔
تھینک یو ممانی جان۔۔۔ فیری نے کہا اور وہ سے نکل گئ۔۔۔
لیکن جب دروازے سے باہر نکلی تو شاہ آنکھوں میں غصہ لیے فیری کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
شاہ تھوڑی دیر پہلے آیا تھا اور فیری کی ساری باتیں سن چکا تھا۔۔۔
فیری نے شاہ کو دیکھا تو اس وقت اسے حیدر وہی پرانے والا حیدر لگا تھا۔۔۔ جو اسے کڈنیپ کر کے لایا تھا۔۔۔ فیری اپنے اندر ہمت پیدا کرکے وہاں سے جانے لگی۔۔۔ لیکن شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔ اور اپنے کمرے میں فیری کو لے گیا تھا۔۔۔ شاہ کا کمرہ پاس ہی تھا۔۔۔
اس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔۔۔
فیری شاہ کے ساتھ کھینچی چلی جارہی تھی۔۔۔
کمرے میں آکر بھی شاہ نے فیری کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔۔ بلکہ فیری کو اور اپنے قریب کیا تھا۔۔۔ اتنا قریب کے دونوں میں ایک انگلی کا فاصلہ رہ گیا تھا۔۔۔
کیا کہہ رہی تھی تم زرہ میرے سامنے بھی تو کہو۔۔۔؟ شاہ نے فیری کے کان کے پاس دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
فیری کا پورا جسم کپکپا رہا تھا۔۔۔ بولنا تو دور فیری میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ شاہ کی طرف دیکھ سکے۔۔۔
فیری نظریں جھکائے کھڑی تھی اور اپنے آنسوؤں کو روکنے کی جدوجہد کر رہی تھی۔۔۔
شاہ نے فیری کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں تکلیف کے آثار تھے۔۔۔ شاہ نے اپنی گرفت ہلکی کر دی تھی۔۔۔
میں جانتا ہوں میں نے تمھارے ساتھ جو بھی کیا وہ غلط تھا۔۔۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے۔۔۔ اس کے لیے تم مجھے جو بھی سزا دو گی مجھے قبول ہوگی۔۔۔ لیکن الگ ہونے کی بات مت کرنا یہ میرے بس میں نہیں ہے۔۔۔
شاہ نے اس بار آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔
اور فیری کو چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔
مرد تو اپنی پسندیدہ عورت کو چھونے والی ہوا کا بھی دشمن ہوتا ہے۔۔۔ اور شاہ یہ بات کس طرح برداشت کر سکتا تھا کہ اس کی بیوی اس کا عشق اس سے طلاق لے کر کسی اور سے شادی کرے۔۔۔ یہ سب دیکھنے سے پہلے شاہ مرنا پسند کرتا۔۔۔ لیکن اپنی بیوی پر کسی کی غلط نگاہ نہیں پڑنے دیتا۔۔۔
شاہ کے جانے کے بعد فیری نے جن آنسوؤں کو باہر نکلنے سے روکا ہوا تھا۔۔۔ وہ باہر آ گئے تھے فریال وہی زمین پر بیٹھ کر رونے لگی تھی۔۔۔
💖————-💖
کیسی ہو ڈارلنگ شفیق نے عالیہ کے قریب بیٹھتے ہوۓ کمینگی سے پوچھا۔۔۔
عالیہ کی حالت بہت خراب تھی اسے اپنے بارے میں بھی کچھ یاد نہیں تھا۔۔۔ بس چپ چاپ بیٹھی رہتی تھی۔۔۔
عالیہ نے آنکھوں میں ویرانی لیۓ شفیق کو دیکھا۔۔۔
تم اداس مت ہو میں بہت جلد تمہیں تمھاری بیٹی سے ملاؤ گا۔۔۔ وہ بھی تمہارے ساتھ یہی رہے گی۔۔۔ ایک اور اہم بات وہ تو تم سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔ شفیق نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
💖————💖
شمس نے فیری کو کافی تلاش کیا تھا لیکن فیری اسے کہی نہیں ملی تھی۔۔۔
شمس کچھ دنوں کے لئے ملک سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
شمس اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا تھا اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔ اسے اپنی ایک ایک غلطی یاد آرہی تھی۔۔۔
اور سب سے بڑی غلطی اپنے پیار کو مار کر کی تھی۔۔ جس کا پچھتاوا اسے آج بھی تھا۔۔۔
اسے فیری میں اسما نظر آئی تھی اس لیے فیری سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن آج بھی اس کے دل میں اسما بسی تھی۔۔۔
اسما پر گولی چلانے کی سزا شمس اپنے آپ کو کافی بار دے چکا تھا۔۔۔
اسما اس کا پیار تھی اور شمس اسما کو آج بھی بھول نہیں پایا تھا۔۔۔ کیونکہ دل کے کسی کونے سے آواز آتی تھی کہ اسما زندہ ہے۔۔۔ لیکن ہر بار شمس اپنے دل کی آواز کو دبا دیتا تھا۔۔۔
اس نے اپنے باپ کی طرح بنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔ لیکن اپنے باپ جیسا خود غرض نہیں بن سکا تھا۔۔۔
دنیا والوں کے سامنے شمس بلکل اپنے باپ کے جیسا تھا۔۔۔ جبکہ حقیقت بلکل مختلف تھی۔۔۔ شاہ کو بھی ایسا ہی لگتا تھا کہ شمس اپنے باپ کے جیسا ہے۔۔۔
شاہ نے جب اپنی اور فیری کی تصاویر شمس کو بھیجی تھیں تو شمس کو غصہ آیا تھا۔۔۔ لیکن تھوڑی دیر بعد غصہ غائب ہو گیا تھا۔۔۔
کیونکہ اسے فیری میں اسما نظر آئی تھی۔۔۔ اور فیری اسما نہیں تھی۔۔۔ اس لیے شمس خاموش ہو گیا تھا۔۔۔ اور اس نے فیری کو ڈھونڈنےکا ارادہ بھی ترک کر دیا تھا۔۔۔ اسے معلوم تھا کہ شاہ کے پاس فیری سیف رہے گی۔۔۔
لیکن اپنے باپ کے کہنے پر اسے فیری کو ڈھونڈنا پڑا تھا۔۔۔ فیری اسے نہیں ملی تھی۔۔۔
اور پھر اپنے دماغ کو سکون دینے کے لیے شمس ملک سے باہر آگیا تھا۔۔۔
شمس انہی سوچوں میں گم تھا جب اس کے کانوں میں کسی کے کھلکھلانے کی آواز پڑی۔۔۔
شمس نے اس طرف دیکھا تو وہاں پر ایک لڑکی کھڑی تھی۔۔۔ اور فون پر بات کرتے ہوئے ہنس رہی تھی۔۔۔
شمس چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوۓ اس لڑکی سے کچھ فاصلے پر جاکر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
شمس نہیں جانتا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اسے اس لڑکی میں عجیب سی کشش نظر آئی تھی۔۔۔۔
💖————💖
جاری ہے۔۔۔۔۔!!💞
