Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode (Watching)
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
’’راحم! آپ کب تک مجھ سے ناراض رہ کر مجھے ایسے
جرم کی سزا دیتے رہیں گے جو مجھ سے سرزد بھی نہیں ہوا۔‘‘ جب مائدہ الحسن ہائوس لوٹ کر آئی تھی ان کی ازدواجی زندگی میں دراڑ سی پڑ گئی تھی جو اس کے کاشانہ عالم لوٹ جانے پر بھر بھی نہیں پائی تھی کہ اس کی موت نے اس دراڑ میں مزید دراڑیں سی ڈال دی تھیں۔ ان کے دلوں میں موجود محبت اور ان کے رشتے کا خلوص و اپنائیت بھری بے تکلفی سب کچھ جیسے ماضی کا حصہ بن کر رہ گیا تھا اور راحم الحسن کے اچھے رویے کی عادی شازمین اس کے رویے سے ہرٹ ہوتی آج بالاخر شکوہ و سوال کر گئی تھی۔ ’’مجرم تو تم ہو شازمین! مگر تم جسے تسلیم نہیں کرتیں کیونکہ دھوکا ٗ جھوٹ و فریب تمہاری نظر میں جرم ہیں ہی نہیں۔‘‘ وہ نہایت سرد لہجے میں بنا اس کے چہرے کی طرف دیکھے بولا تھا کہ چاہے اس کا رویہ کیسا ہی کیوں نہیں ہو گیا تھا اس نے شازمین سے محبت کی تھی جو آج بھی قائم تھی اور اسی قائم محبت کا پاس رکھنے کو وہ بے حسی کا مظاہرہ کرتے وقت اس کے چہرے کی جانب نہیں دیکھتا تھا کہ اس کا متورم چہرہ ٗ بھیگی پلکیں اسے بے چین کر دیتی تھیں اور وہ غصہ کے اظہار کیلئے اپنی محبت کو ہی تکلیف دیئے جا رہا تھا۔
’’میں نے دھوکا نہیں دیا ہے راحم! آپ کیوں نہیں سمجھتے۔‘‘ اس کے رونے میں شدت آ گئی تھی۔
’’تم بروقت ہمیں حقیقت سے آگاہ کرکے مائدہ کو عذاب بھری زندگی کی نظر ہونے سے بچا سکتی تھیں مگر تم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ تم خود غرض تھیں تمہیں لگا ہوگا کہ مائدہ کی شادی ختم ہوئی تو میں تم سے شادی نہیں کروں گا اور میری بہن تو تم سب کی بے حسی و خود غرضی کے سبب مر گئی اور میں تو تمہاری سوچ پر پورا اتر رہا ہوں۔ تو مجھ سے شکوہ کیسا شازمین؟‘‘ وہ سرخ پڑتیں آنکھوں سے بولا تھا کہ وہ یکدم اس کے عین سامنے آ ٹھہری تھی۔
’’ہاں مجھے لگا تھا کہ مائدہ اپیا کی شادی ٹوٹی تو آپ مجھ سے شادی نہیں کریں گے اور میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی تھی اس لئے میں نے بہت دعائیں کی تھیں کہ اسجد بھائی! اپیا سے شادی کر لیں۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہی تھی۔
’’لیکن میں اس وقت بہت ڈری ہوئی تھی مجھے ڈر تھا کہ اپیا سے بھائی نے شادی کر لی اور وہ خوش نہیں رہیں تو کیا ہوگا؟ رشتے بکھر جائیں گے اور میں ایسا کب چاہتی تھی ٗ میں نے اپیا کو فون کیا تھا اور ساری بات انہیں بتا دی تھی۔‘‘ اس کے انکشاف پر وہ متحیر سا اسے دیکھ رہا تھا۔
’’مگر اپیا تو یہ سب مہندی کی شب سے جانتی تھی ٗ برات کی صبح جب میں نے ان کو بتایا تو انہوں نے انکشاف کرنے کے بعد کہا کہ میں خاموش رہوں کہ انہیں وہی ملے گا جو ان کے نصیب میں ہے کہ وہ اپنی خاطر اپنے والدین اور بھائیوں کا سر جھکنے نہیں دینگی۔‘‘ شازمین اسے مائدہ کے ایثار کی تفصیل سے آگاہ کر رہی تھی۔
’’انہوں نے بھائی سے شادی کا فیصلہ صرف آپ سب کی عزت اور مان رکھنے کیلئے کیا ضرور تھا ٗ مگر وہ سب کرتے ہوئے ان کا دل بھی مطمئن تھا چاہے اسجد بھائی کسی اور سے محبت کرتے ہوں انہوں نے صرف بھائی سے محبت کی تھی۔‘‘ وہ بیڈ پر گر سی گئی تھی جبکہ وہ تو ہوا میں معلق رہ گیا تھا اور وہ اسے مائدہ کے کہے الفاظ بتانے لگی تھی۔
’’شازمین! تم اس سارے معاملے سے یوں الگ رہو جیسے کچھ جانتی ہی نہیں ہو کہ میں اسجد سے محبت کرتی ہوں ان کے سوا کسی کا خیال بھی دل میں نہیں لا سکتی ٗ میں جانتی ہوں کہ اسجد کو مجھ سے محبت نہیں ہے ٗ لیکن مجھے نا صرف ان سے ہی محبت ہے اس لئے مجھے اس دن کا انتظار رہے گا جب اسجد بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں گے اور میرا انتظار رائیگاں نہ جائے یہ تم دعا کرنا کہ میری اسجد سے شادی ٹوٹی تو میرے والدین کا سر جھک جائے گا اور میں بے دل ہو جائوں گی اس لئے والدین کی عزت اور اپنے دل کیلئے مجھے یہ جواء کھیلنے دو کہ مجھے اسجد سے نہیں ٗ خود پر اپنی محبت پر نہیں ٗ مگر اپنے اللہ پر بھروسہ ہے کہ وہ مجھے میری برداشت سے زیادہ سخت امتحان میں نہیں ڈالے گا۔‘‘ وہ مائدہ کی کہی باتیں دہرا کر سسکنے لگی تھی۔
’’تم نے یہ سب مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا…؟‘‘
’’کیونکہ اپیا ایسا نہیں چاہتی تھیں اور باخدا اپیا کا خیال نہ ہوتا تو آج بھی یہ سب نہ کہتی۔‘‘ وہ آنسو پونچھتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’اپیا آپ کے بدل جانے والے رویے کے سبب خود کو میرا مجرم سمجھتی تھیں ٗ مجھ سے کئی بار معافی طلب کر چکی تھیں ٗ میں انہیں اپنا مجرم نہیں مانتی ٗ میں بھی اپنا نصیب جھیل رہی ہوں مگر میری کوئی دلیل انہیں مطمئن نہیں کر سکی تھی اس لئے انہوں نے مجھ سے اپنی وفات سے چند دن قبل کہا تھا کہ آپ کا رویہ مجھ سے نہ بدلے تو میں آپ کو سب باتیں بتا دوں کہ اگر ہمارے درمیان چپقلش رہی تو وہ اس جہاں میں بھی سکون نہیں پا سکیں گی‘‘اس کے آنسو بڑی روانی سے رخساروں پر لڑھکتے جا رہے تھے۔
’’میں ٗ میرے اختیار میں ہوتا تو کبھی اپیا کو آنچ بھی نہ آتے دیتی ٗ مگر میں ان کی راہ کا ایک کانٹا بھی نہ چن سکی۔‘‘ اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
’’آج آپ کو سب بتایا تاکہ اپیا کی آخری خواہش پوری ہو جائے ٗ آپ کی غلط فہمی دور ہو جائے راحم! آپ مجھے میرے لئے ٗ ہمارے بیٹے کیلئے خود اپنی محبت کیلئے بھی معاف نہ کریں لیکن اپیا! کیلئے معاف کر دیں کہ وہ میری جانب سے غیر مطمئن چلی گئیں ٗ انہیں اس جہاں میں بھی سکون نہ ملا تو میں خود کو معاف نہیں کر پائوں گی۔‘‘ وہ اس کے پائوں جکڑے بری طرح بلک رہی تھی۔
’’بھائی! اسجد نے ہی مجھے کچھ کم دکھ نہیں دیئے جو آپ بھی اب مجھے ہی تکلیف دے رہے ہیں کہ جانتی ہوں شازمین! آپ کیلئے بہت اہم ہے ٗ جسے میری تکلیف کے خیال سے آپ غیر اہم کرتے جا رہے ہیں جبکہ میری تکلیف میں شازمین کا ہاتھ تو کیا وہ سبب تک نہیں ہے مگر اس کی ناآسودگی کا سبب میں بن گئی ہوں اور میں تو پہلے ہی خوش نہیں ہوں کہ کہیں مجھے شازمین کی خاموش آہ نہ لگ جائے۔‘‘ وہ اسے خود سے لگائے مائدہ کی کہی باتیں سوچ رہا تھا جو وہ اس سے اپنی موت سے ایک دن پہلے کہہ گئی تھی۔ وہ اس کے سینے سے لگی بلک رہی تھی اور راحم کے آنسو اس کے بالوں میں جذب ہونے لگے تھے۔
’’مجھے معاف کر دینا مائدہ! کہ میں تمہاری راہیں آسان نہ کر سکا۔‘‘ وہ روتے ہوئے بہن سے دل ہی دل میں مخاطب ہوا تھا کہ وہ پیاری سی لڑکی رشتوں کو نبھاتی ٗ ان کیلئے جیتی ٗ جان سے چلی گئی تھی اور اس نے شازمین اور اپنے بھائی کی خوشیوں کیلئے جتنی دعائیں مانگی تھیں وہ سب قبول ہونے کو تھیں کہ اس کی کتنی ہی دعائیں سوہنے رب نے اپنی حکمت کے تحت اس جہاں میں قبول کرنے کیلئے رکھ چھوڑیں تھیں مگر اپنوں کے حق میں مانگی اس کی ہر دعا قبول ہو گئی تھی کہ اللہ نامہربان اور غیر منصف نہیں ہے!
٭٭٭
’’تم تو مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کر گئیں مگر مجھے اس کا موقع ہی نہیں دیا۔‘‘ کئی بار کا کیا شکوہ اس نے مائدہ کی قبر پر سرخ پتیاں بکھیرتے ہوئے پھر سے دہرایا تھا۔ اس دن اس نے سارے اعتراف کر لئے تھے ٗ ایک اعتراف نہیں کر سکا تھا کیونکہ وقت کی لگام اس کے ہاتھ سے پھسل گئی تھی۔ وہ ہر لحاظ سے مطمئن تھا کہ اس نے اسے معاف کر دیا تھا مگر ایک تشنگی تھی کہ جس لمحے اس نے اسے معافی کا عندیہ دیا تھا اور وہ اس کی طرف بے یقینی سے دیکھ رہا تھا۔ اس لمحے کے نہ جانے کون سے حصے میں وہ اس پر اپنا دل ہار بیٹھا تھا۔ اسی مائدہ سے محبت کر بیٹھا تھا جس کو اس نے ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی اور دل میں جنم لینے والے احساس کا ہی کمال تھا کہ اس نے اپنی شکست قبول کرکے خود کو انا کے حصار سے نکال کر اس پیاری سی لڑکی کے زخم زخم جذبات پر نرم اعتراف کی قبا ڈال کر اس کی ہر تشنگی مٹا ڈالی تھی۔ اپنی صفائی دیتا وہ شخص اسے یکدم زندگی کی نوید دے گیا تھا۔ مائدہ نے اس کے سینے سے لگے اس کے دل کی دھڑکن سنی تھی۔ اس کے دل نے جینے کی تمنا کر ڈالی تھی لیکن اس کی یہ تمنا ابھی پوری نہ ہوئی تھی کہ موت کا فرشتہ اپنے مقررہ وقت پر ہی آیا تھا مگر وہ جاتے ہوئے پرسکون تھی لیکن وہ اب پرسکون ہو کر بھی پرسکون نہ تھا۔ مائدہ کا خیال اسے اکثر بے چین کر دیتا تھا اور اس کی بے چینی کو محسوس کرتی یسریٰ منہ سے ایک لفظ نہیں کہتی کہ وہ محبت کے مسافروں میں سے تھی۔ اہل دل کی مجبوریوں کو سمجھتی تھی اگر اسجد عالم کی رات مائدہ کو یاد کرتے کٹتی تھی تو وہ اپنا تکیہ بھیگنے سے روک نہیں پاتی تھی کہ وہ جانتی تھی ٗ محبت خوشبو کا سفر ہے جو مائدہ کے دل سے ہوتا اسجد کے دل میں اتر گیا تھا اور جب مائدہ نے عشق کا عذاب جھیلا تھا تو وہ دونوں اس سے کیسے بچ سکتے تھے کہ عشق کا سفر کامیاب ٹھہرے یا رائیگاں چلا جائے۔ سلسلہ ٹوٹتا سانسوں کی ڈور کے ساتھ ہی ہے۔ مائدہ اس سفر سے آزاد ہو گئی تھی لیکن انہوں نے زندہ رہنے تک عشق کی غلامی کرنی تھی۔ یسریٰ اس کے خوبرو چہرے کی یاسیت اور سرخ آنکھوں سے ہی سمجھ گئی تھی کہ وہ کہاں سے آیا ہے مگر بولی کچھ نہیں تھی۔ عشق کی پہلی منزل ضبط تھی اور وہ ضبط و برداشت کی قبا اوڑھے اس کی بند قبا سی محبت میں بھی پرسکون تھی کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ مسکرا کر آگے بڑھی تھی اور اس کے وجود سے لگی اس کے وجود کی خوشبو سے اٹھتی مٹی کی مہک بھی دل میں اتارتی چلی گئی تھی۔
کاش! کہ محبت کی بند قبا ایسے کھلتی جاناں
دوری کا شائبہ تک نہ رہتا
مگر بند قبا کھل تو گئی ہے مگر ایسے جاناں
کہ محبت کی حسرتیں بے قبائی پر روتی ہیں
ارمان محبت بند قبا میں سسکتے ہیں
کاش! کہ ایسے نہ کھلتی بند قبا جاناں!
٭٭٭
’’بھابی! آپ کو کنعان بلا رہا ہے۔‘‘ ماہ لاج کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف حنین چونک اٹھی تھی اور عین العارفین اسے لوکیشن سمجھا کر چلا گیا تھا اور وہ رنگ و بو کا سماں پیش کرتے ہال سے نکلتی وزیٹنگ رومز کی طرف بڑھنے لگی تھی۔ آج سہرینہ کی برتھ ڈے تھی اور شادی کے بعد یہ پہلا فنکشن تھا جو اس نے اپنے سسرال میں اٹینڈ کیا تھا اس نے مطلوبہ کمرے کے سامنے رک کر دروازے پر دستک دینا چاہی تھی مگر دروازہ ہلکے سے دبائو پر ہی کھلتا چلا گیا تھا اور اندر کا منظر اس کی آنکھیں پتھرا گیا تھا۔
’’رئیلی لو یو کنعان پلیز! اب تم حنین کو ساری سچائی بتا دو کہ تمہاری دوری میں مزید برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘ ماہ کنعان بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے نیم دراز نیم غنودگی کی سی حالت میں تھا اور سہرینہ اس پر جھکی کہہ رہی تھی کچھ ہی لمحوں میں اس نے ماہ کنعان کے ہاتھ اپنی کمر کے گرد باندھ دیئے تھے۔
’’تم خاموش کیوں ہو ٗ جواب دو کب حنین کو ہمارے بارے میں بتائو گے۔‘‘ اب وہ اس کے گھنیرے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی۔ بائیں ہاتھ سے اس کا گال تھپکا تھا کہ وہ جانتی تھی کہ کچھ ہی دیر میں دوا کا اثر ختم ہو جائے گا ٗ اس لئے اسے ہوش میں لانے کیلئے کچھ کوشش بھی کرنے لگی تھی۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھولی تھیں۔ نگاہ کے سامنے ہی وہ ساکت سی کھڑی تھی۔ اس کا چہرہ دھندلا گیا تھا اس نے چکراتے سر کو تھاما تھا۔
’’حنین۔‘‘ اس کے لبوں سے اس کا نام آزاد ہوا تھا۔
’’کنعان! او مائی گاڈ ٗ اب کیا ہوگا؟‘‘ وہ کمال کی اداکاری کرتی اسے جھنجھوڑتی کھڑی ہو گئی تھی اور بے بسی سے بت بنی حنین کو دیکھا تھا۔
’’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہاں تمہاری بیوی بھی ہے ٗ اس لئے آج مجھ سے نہ ملو۔‘‘ وہ خود کو ڈرا ہوا ظاہر کر رہی تھی۔ ماہ کنعان دکھتے سر کودباتا کھڑا ہو گیا تھا۔
’’تم نے مجھے ٹھکرا دیا تھا یہ کہہ کر کہ تم صرف حنین سے محبت کرتے ہو۔ میں اپنی بے عزتی بھولی نہیں تھی۔ اب مزہ آئے گا جب تمہاری بیوی تمہیں دھتکارے گی۔‘‘ وہ اس کی راہ میں آئی تھی اور اس کے بہت قریب ہو کر سرگوشی میں بولی تھی اس نے نفرت سے اسے خود سے پرے دھکیل دیا تھا اور مجسمہ بنی حنین تک آیا تھا جو اس کی پکار پر ہی ٹوٹتی چلی گئی تھی۔
’’حنین۔‘‘ اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اس کے گال پر سہرینہ کے لبوں کی سوغات ٹھہری تھی۔ اسی سبب اس کی نگاہ نہ ٹھہر سکی اس نے جاتی ہوئی حنین کی کلائی تھامی جسے اس نے ایک جھٹکے سے آزاد کروا لیا۔
’’آپ اتنا بھی گر سکتے ہیں میں نے تصور نہیں کیا تھا۔‘‘ وہ بلک بلک کر رو دی تھی۔ سہرینہ کے لب مسکرا اٹھے تھے۔ جب کہ وہ ایک نفرت زدہ نگاہ اس پر ڈالتی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی اس کے پیچھے جانے کے بجائے اس نے کچھ سوچ کر لاج کا نمبر ملایا ٗ اسے کچھ ہدایات دیں اور سیل فون جیب میں ڈال کر اس نے آگے بڑھ کر روم لاکڈ کر دیا۔
’’سہرینہ ڈارلنگ! تم روم لاکڈ کرنا بھول گئی تھیں اس لئے میری بیوی نے ہماری پرائیویسی میں دخل اندازی کر دی مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ وہ اس کے روم لاکڈ کرنے پر حیران تھی۔ اس کے لفظوں کے بعد آنکھوں سے نکلتے شعلے دیکھ کر وہ پوری جان سے کانپ اٹھی تھی۔
’’یہ کیا بدتمیزی ہے کنعان! چھوڑو مجھے۔‘‘ وہ اس کے تیوروں سے خائف ہوتی باہر کی طرف بڑھی تھی کہ اس نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور اس کی یہ حرکت اس کے چودہ طبق روشن کر گئی تھی۔
’’دس از ناٹ فیئر ڈارلنگ پہلے مجھے اس مقام تک لائیں اور اب ہاتھ آیا پیمانہ چھین لینا چاہتی ہو ٗ ایسا نہ کرو ڈیئر! قسم سے میری بیوی اب یہاں نہیں آئے گی اسے لاج کے ساتھ گھر بھیج دیا ہے۔ سو انجوائے دس نائٹ ڈارلنگ!‘‘ وہ اس کی گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی اور وہ اس کی بے بسی سے حظ اٹھاتا بے باکی سے کہتا چلا گیا تھا۔
’’کنعان! آئی ایم سوری ٗ میں نے سب کچھ صرف اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کیلئے کیا ٗ پلیز چھوڑو مجھے ڈونٹ ٹچ می۔‘‘ بے باک سی سہرینہ عام سی لڑکی لگ رہی تھی جسے اپنی آبرو دنیا کی ہر شے سے پیاری ہوتی ہے اس کے گڑگڑانے پر اس نے اس پر سے گرفت کمزور کی اور ایک تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا تھا وہ لڑکھڑا کر کارپٹ پر جا گری تھی۔
’’تم جیسی لڑکیوں کو چھونا تو دور تم پر تھوکنا بھی میں اپنی توہین سمجھتا ہوں۔‘‘ وہ سسکتی ہوئی سہرینہ کو اپنے مقابل کھڑا کرتا نفرت سے پھنکار اٹھا۔
’’بدلہ لینے کی چاہ میں تم اتنا گر گئیں عقل ہو تو سوچنا کہ میں اگر نفس کی غلامی کرنے والا ہوتا تو تمہاری عزت کا آبگینہ محفوظ رہتا؟’’ وہ مدھم نہیں پڑا تھا اس کی ہچکیاں اس کا رونا کمرے میں بکھرنے لگا تھا۔
’’میں نے جو کیا صرف تمہاری محبت میں۔‘‘
’’مگر میں تم سے محبت تو کیا نفرت بھی نہیں کرتا ٗ میں نے صرف حنین سے محبت کی ہے اور آج تم نے ہمارے درمیان غلط فہمی پیدا کر دی ہے مگر غلط فہمی و بدگمانی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو ایک دن ختم ہو جاتی ہے مگر عزت ایک بار جائے تو نہیں آتی۔‘‘ وہ متاسف نگاہوں سے اسے روتے دیکھ رہا تھا
’’یاد رکھنا سہرینہ کہ مرد 100 گناہ کرکے بھی دودھ کا دھلا ہی رہتا ہے اور عورت کی ایک معمولی سی غلطی بھی اسے وہ مکھی بنا دیتی ہے جسے دودھ میں سے فقط دو انگلیوں کی مدد سے نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔‘‘ اس کے تذلیل سے سرخ پڑے چہرے پر اس نے آخری نگاہ ڈالی اور باہر نکل آیا وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چلی گئی تھی کہ اس نے محبت تو پہلے ہی کھو دی تھی اب اپنا مقام بھی کھو بیٹھی تھی۔
٭٭٭
’’حنین! صرف ایک بار تو ٹھنڈے ذہن و دل سے میری بات سنو ٗمجھے پلیز صفائی کا ایک موقع تو دو۔‘‘ وہ اس کے سامنے بے بسی سے بیٹھا کہہ رہا تھا کہ اس نے رو رو کر اپنا حشر کر لیا تھا۔
’’میرے سامنے سے چلے جائیں ٗ باخدا ممی نے اگر مجھ سے یہ نہ کہا ہوتا کہ آپ سے لڑ کر جانے پر کاشانہ عالم کے دروازے مجھ پر بند ہوں گے تو میں ہرگز وہ سب دیکھنے سننے کے بعد یہاں نہ آتی۔‘‘ وہ بری طرح سسکتے ہوئے بولی تھی اس کا رونا اس سے کب برداشت ہو سکتا تھا۔ تڑپ کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھنا چاہا تھا مگر اس نے موقع ہی نہ دیا۔
’’خدا کیلئے ہاتھ بھی نہ لگائیں ٗ گھن آ رہی ہے مجھے آپ سے کہ انہی ہاتھوں سے آپ کسی رشتے کے نہ ہوتے ہوئے اس لڑکی کو چھو رہے تھے۔‘‘ وہ بری طرح ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی۔
’’آپ کہتے تھے ناں کہ میں کیوں خوش نہیں ہوں کیوں اداس رہتی ہوں تو یہی سبب تھا آپ سے شادی نہ کرنے کا۔‘‘ وہ بیڈ سے اٹھ گئی تھی اور وہ منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’یہ خیال مجھے آپ پر بھروسہ کرنے نہیں دیتا تھا کہ جو آپ نے آپی کی شادی میں میرے ساتھ کیا ٗ نہ جانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوگا۔‘‘ بلی آخر تھیلے سے باہر آ گئی تھی مگر اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اس سے اس حد تک بدگمان تھی۔ اس سے اس سبب ہراساں تھی۔
’’مگر مجھے یقین دلایا گیا کہ آپ کی کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے اور جب کوئی گرل فرینڈ نہیں تھی تو یہ سہرینہ کہاں سے آ گئی؟‘‘ اس نے بدگمانی سے اسے دیکھا تھا۔ اس نے لب سختی سے بھینچ لئے تھے۔
’’کس حق سے آپ اس کے ساتھ تھے؟ کس رشتے سے اسے چھو رہے تھے؟ کس لئے وہ مجھ سے نفرت کا اظہار کر رہی تھی؟ کیوں آپ اس کی بکواس سن رہے تھے۔ اس کے قرب کی سوغات اپنے گال پر اپنے کپڑوں پر سجا کر لے آئے ہیں۔ کیوں؟‘‘ چیخ چیخ کر اس کے گلے میں خراشیں سی پڑ گئی تھیں۔
’’میں مر کر بھی آپ کو معاف نہیں کروں گی کہ آپ نے میرا بھروسہ توڑا ہے۔ مجھے دھوکا دیا ہے۔‘‘ اس نے خاموش کھڑے کنعان کو گھورا تھا۔
’’تم نے مجھ پر بھروسہ کیا ہی کب تھا جو میں توڑ دیتا۔‘‘ وہ دکھ سے بولا تھا۔
’’آپ پر اعتبار نہ کیا ہوتا تو مجھے فرق بھی نہ پڑتا آپ پر بھروسہ کرنے لگی تھی اسی لئے تو اتنا دکھ پہنچا ہے۔‘‘ وہ کارپٹ پر گرتی چلی گئی تھی اور وہ تو جیسے کھڑے کھڑے ہی جی گیا تھا۔
’’خدا کی قسم حنین! تم اس دنیا کی پہلی و آخری لڑکی ہو ٗ جسے میں نے عزت و پیار سے اپنی خلوت میں شامل کیا ہے۔‘‘ وہ اس کے سامنے دو زانو آن بیٹھا تھا وہ بے اعتباری سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’فیصل کی شادی میں جو کیا اس میں میرے کردار کی کمزوری کا نہیں میرے بے اختیار سے جذبوں کا ہاتھ تھا اور میں فیصل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو تم نے دیکھا وہ سب حقیقت بھرا افسانہ تھا ٗ سہرینہ کی سوچی سمجھی سازش تھی۔‘‘ وہ حیران سی اس کو تک رہی تھی۔
’’اس پوری کائنات کی میں جھوٹی قسم کھا سکتا ہوں حنین! مگر فیصل کی نہیں ٗ اس لئے یقین کرو میرا کہ میری زندگی میں تمہارے سوا کوئی نہیں۔ میرا بے اختیار سا قدم مجھے کٹہرے میں کھڑا کر گیا ہے مگر یقین کرو میرے کردار میں کوئی جھول نہیں ہے۔‘‘ وہ اپنی صفائی دیتا بے اختیار رو پڑا تھا۔ اس کے دل کی یکدم ہی عجیب حالت ہو گئی تھی اور وہ اب اسے سہرینہ کی چال کی داستان سنا رہا تھا کہ کیسے اس نے اس کی کولڈ ڈرنک میں بے ہوشی کی دوا ملائی تھی اور اثر کم ہوتے ہی اسے وہاں بلا لیا تھا۔
’’اگر تم غور کرتیں تو تمہیں اندازہ ہوتا کہ میں اسے نہیں چھو رہا تھا۔ ہر پیشرفت اس کی جانب سے تھی۔‘‘ وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
’’آئی ایم سوری! وہ سب دیکھ کر میں کنٹرول کھو گئی تھی۔ یہ احساس کہ آپ صرف میرے نہیں ہیں مجھے بے چین کرتا ٗ مجھے اس طرح ری ایکٹ کرنے پر مجبور کر گیا۔‘‘ وہ شدتوں سے رو رہی تھی۔ وہ اس کو پھر حیرت سے تک رہا تھا۔
’’محبت کیا ہوتی ہے؟ کیسے ہوتی ہے؟ مجھے نہیں معلوم کہ بس میں تو اتنا جانتی ہوں کہ آپ کی شدتوں کی تاب نہ لاتے ہوئے بھی میں ان کی عادی ہوتی جا رہی ہوں۔ جب آپ میرا خیال رکھتے ہیں تو مجھے بہت اپنے لگتے ہیں۔ آپ کا ساتھ مجھے اچھا لگتا ہے آپ میرے ساتھ ہوتے ہیں تو میں خود کو سیکیور فیل کرتی ہوں۔‘‘ وہ پہلی دفعہ اظہار کی منزل طے کرتی ماہ کنعان کی محبت کو معتبر کر گئی تھی۔ اس نے بلکتی ہوئی اس دشمن جاں کو اپنے قریب کر لیا تھا اور وہ اس سے لپٹی شدتوں سے روتی چلی گئی تھی۔
’’مجھ سے وعدہ کریں ماہ کنعان! مجھے کبھی اکیلا نہیں کریں گے۔ میری آخری سانس تک آپ کی بے لوث چاہت مجھ پر حصار کئے رہے گی۔‘‘ آج اسے دور ہوتا محسوس کیا تھا تو اس کی اہمیت کا شدت سے اندازہ ہوا تھا وہ اس سے یقین مانگ رہی تھی تا عمر چاہتے رہنے کا وعدہ طلب کر رہی تھی۔ اس کے لب عشق کی معراج پر دلکشی سے مسکرا دیئے تھے۔
’’میری چاہت کی قبا تمہارے بند کلی سے جذبات پر تاحیات سایہ کئے رہے گی۔‘‘ وہ پُر تیقین لہجے میں بولا تھا اور وہ اس کی محبت کی قبا اوڑھے ٗ طمانیت ٗ یقین مان و بے اختیاری کے ساتھ ذات سے ذات کا سفر طے کر گئی تھی۔ آج تک وہ اسے اپنے قریب کرتا آیا تھا اور آج وہ خود سے اس کے قریب تر ہو گئی تھی کہ بدگمانی کے بادل چھٹ گئے تھے۔ آسمان نے بھی چاہت کی قبا اوڑھ لی تھی۔
دنیا میں جو کچھ ہے محبت کی کارستانی ہے اور وہ سب بھی لڑتے ٗ جھگڑتے روٹھتے مانتے مثبت طریقے سے اپنی اپنی زندگی شروع کر گئے تھے ٗ سب کی ہی زندگیاں ایک ڈگر پر چل پڑی تھیں کہ کچھ کھو کر بھی کچھ نہ کچھ سب ہی پا گئے تھے اور یہی زندگی ہے ٗ آگے کبھی کوئی مشکل آئی تو وہ محبت کی قبا کو اپنی پہچان بنائے اس مشکل سے نکل آئیں گے کہ محبت ہو تو کوئی مشکل ٗ مشکل نہیں رہتی۔
’’آئی لو یو ماہ کنعان! آپ میری پہلی و آخری چاہت ہیں آپ کی محبت میری روح کی قبا بن گئی ہے۔ اس لئے مر کر بھی ہمارے دل ایک دو جے کیلئے ہی دھڑکتے رہیں گے۔‘‘ وہ اپنی گردن پر ٹھہرے اس کے ہاتھ کو تھام کر کہتی اس کے ہاتھ پر اپنے لب رکھ گئی تھی کہ اسے ماہ کنعان کے ہاتھ بہت پسند تھے اور وہ سرشاری سے اسے خود سے لگا گیا تھا۔
’’جانتا ہوں ڈیئر! تمہیں میرے ہاتھ بہت پسند ہیں۔ کتنی ہی دفعہ تمہاری نظریں محسوس کی تھیں جاناں! میں تم سے تمہارے جذبوں سے کبھی انجان نہیں رہا۔‘‘ وہ چوری پکڑے جانے پر جھینپ گئی تھی اور اسی پل اس نے اس سے ایک عجب فرمائش کر ڈالی تھی اور وہ بھی بنا کچھ کہے حیا سے اقرار کر گئی تھی۔ اس نے اسے نکاح کا ڈریس پہننے کو کہا تھا اور اس کے آنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔ اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھیں اس کے جذبے صادق تھے۔ اسی لئے اس کے جذبے حنین کے دل میں اتر گئے تھے اور وہ بے فکری سے اس کے انتظار کیلئے آنکھیں موندھ گیا تھا اب اسے کسی دن کسی رات کی فکر نہ تھی۔ اس کا عشق بلندیوں کی بھی معراج کی جانب رواں دواں تھا اور اسے رواں ہی رہنا تھا۔ کیونکہ احساس اور عشق لافانی ہیں۔
جب تو پاس میرے آنے لگی جاناں
زندگی درد میں مسکرانے لگی جاناں
تیرے عشق نے کر ڈالا مجھے معتبر
میری چاہت تیرے دل تک جانے لگی جاناں
عشق پہنچا معراج کو اپنی ٗ طے ہوا ذات سے ذات کا سفر
تیرے مسکراتے ہی میری زندگی ہنسنے لگی جاناں
میرے لمس نے تجھے صندل کر ڈالا
تیرے احساس کی بند قبا کھلنے لگی جاناں
عشق کے مرحلے کیا طے ہوئے ہم ہوئے معتبر
اعتبار کے سائے تلے بند قبا کھلنے لگی جاناں!
بند قبا کھلنے لگی جاناں
ختم شد
