Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11
’’تایا ابو! میں شادی نہیں کروں گی۔‘‘ ناشتے کی ٹیبل پر اس نے دھماکہ کیا تھا ٗ وہ کل راستے میں سو گئی تھی کیونکہ صبح کی اٹھی ہوئی تھی اور ساجدہ کے اٹھانے پر وہ بمشکل اپنے کمرے تک گئی ٗ مگر رات جو نیند کی وجہ سے بات ذہن سے نکل گئی تھی وہ بیدار ہوتے ہی یاد آ گئی۔
’’یہ خیال کیوں ذہن میں آیا؟‘‘ سوال میں حیرت پنہاں تھی اور اس نے شازمین کی بات کہہ دی۔
’’شازمین بجو کہہ رہی تھیں کہ آپ میری شادی کر رہے ہیں۔‘‘
’’شازمین کو غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ وہ ساری تفصیل سن کر سنجیدگی سے بولے۔
’’لیکن بجو…!‘‘
’’میں نے کہا ناں ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ صرف اپنی اسٹڈیز کی جانب توجہ دو۔‘‘ وہ اسے کچھ کہنے سے روکتے دو ٹوک بولے اور وہ خاموشی سے جوس پینے لگی پھر تھوڑی ہی دیر میں فیصل کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا اور وہ جلدی سے سب کو خدا حافظ کہتی باہر نکل گئی۔
’’شازمین نے اتفاقی طور پر کچھ سن بھی لیا تھا تو وہ حنین کے سامنے کہنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ کب سے مچلتا ذہن میں سوال وہ بالآخر کہہ اٹھے۔
’’شازمین نے تو ازراہ مذاق کہہ دیا ہوگا بھائی صاحب! بہنیں آپس میں ہنسی مذاق کرتی ہی ہیں۔‘‘ ساجدہ بول اٹھیں۔
’’وہ سب ٹھیک ہے مگر جو بات ہم حنین کے سامنے ابھی نہیں کرنا چاہ رہے تھے شازمین بیٹی نے اس کا ڈھنڈورا…!‘‘
’’بھائی صاحب! اگر برا نہ مانیں تو میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ کچھ کہتے ہوئے رک کر چونک کر انہیں دیکھنے لگے اور ان کے چہرے کو دیکھ کر اندازہ لگاتے ہوئے بولے۔
’’اگر آپ کی مرضی یہی ہے تو سحرش کو فون کر دیجئے گا ٗ میں لڑکے سے مل لوں گا۔‘‘
’’میں نے ایسا تو نہیں کہا بھائی صاحب!‘‘ وہ شرمندہ سی ہو گئی تھیں (ان کے درست اندازے پر)۔
’’آپ ماں ہیں ٗ بیٹی کیلئے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں لے سکتیں۔‘‘
’’بھائی صاحب! مائیں تو جذباتی ہوتی ہیں ٗ باپ زیادہ درست فیصلے کرتے ہیں اولاد کے حق میں اور میں نے ماں ہونے کا جتنا حق ادا نہیں کیا اس سے کہیں گنا زیادہ آپ نے حنین کے باپ ہونے کا حق ادا کیا ہے اور اس کی شادی کا فیصلہ بھی مجھے یقین ہے کہ آپ مجھ سے بہتر کریں گے۔‘‘ وہ سچائی اور عقیدت سے کہہ رہی تھیں اور ایسا صرف منہ زبانی نہ تھا وہ ایسا سمجھتیں اور دل سے مانتی بھی تھیں۔
’’لیکن آپ کی مرضی ہے تو لڑکے کو دیکھ لینے میں حرج نہیں ہے ٗ وگرنہ میں تو سال دو سال تک اس چکر میں پھنسنا نہیں چاہ رہا تھا۔‘‘ وہ صاف گوئی سے کہہ گئے۔
’’نوید! اس میں برائی نہیں ہے ٗ دونوں بچیاں گھر میں گئی ہیں مگر حنین کیلئے باہر کوئی رشتہ دیکھنا ہے اور یہ سب اتنا آسان تو نہیں ہوگا۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں راشدہ! مگر میں یہ سب اس لئے کہہ رہا ہوں اور چاہتا ہوں کیونکہ حنین اس قصے کو فی الحال برداشت نہیں کریں گی ٗ وہ آفس جوائن کرنا چاہتی تھیں ٗ کتنی مشکل سے وہ چیپٹر کلوز ہوا ہے ٗ وہ پہلے ہی بدگمان تھیں کہ میں انہیں صرف بہلا رہا ہوں ٗ ایسی کوئی بات چلی تو یہی ان کا یقین بن جائے گا اور ویسے بھی ان باتوں کے برعکس میں خود بھی یہ سب قبل از وقت سمجھتا ہوں ٗ جیسے دونوں بیٹیوں کی گریجوایشن کے بعد شادی کی ہے ٗ اسی طرح چھوٹی بیٹی کو بھی گریجوایشن تک تو پڑھانا چاہتا ہوں اور آج کل کا جیسا ماحول ہے اس کے پیش نظر منگنی کی رسم کے میں سخت خلاف ہوں ٗ شازمین اور اسجد کی منگنی بھی صرف یوسف الحسن کے کہنے پر کی ٗ بات گھر کی تھی ٗ مگر منگنی کے بعد ملنا ٗ فون کالز ٗ یہ سب مجھے پسند نہیں ٗ حنین کی اگر ہم بالفرض ابھی منگنی کرتے ہیں تو لڑکے اور لڑکے کی فیملی کی جانب سے ایسی کوئی ڈیمانڈ بھی ہو سکتی ہے ٗ کیونکہ یہ آج کل کا فیشن بن گیا ہے ٗ مگر میں اس فیشن کو نہیں اپنا سکتا ٗ آپ سوچ لیں ساجدہ! اور سوچ کر مجھے جواب دیں ٗ کیونکہ میں حنین بیٹی کی منگنی نہیں کروں گا۔‘‘ وہ اپنے موقف سے ان سب کو آگاہ کر رہے تھے۔
’’بھائی صاحب! آپ جو مناسب سمجھیں۔‘‘
’’میں دو سال تک اس معاملے کو چھیڑنا بھی نہیں چاہتا۔‘‘ وہ صاف کہتے اٹھ گئے۔
’’ایک تو نوید کی بھی مجھے سمجھ نہیں آتی ٗ جو سوچ لیتے ہیں اس سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے ٗ شادی نہیں کرنی ٗ منگنی بھی نہیں کرنی ٗ رشتہ تو دیکھا ہی جا سکتا ہے ٗ بات کا کیا ہے وہ تو بڑوں کے درمیان زبانی بھی طے ہو جاتی ہے۔‘‘ راشدہ کو اعتراض ہوا تھا مگر وہ شوہر کے سامنے کہہ نہیں سکی تھیں۔
’’آپا بیگم! بھائی صاحب بھی کچھ غلط نہیں کہہ رہے ٗ ان کی سوچ سے میں ایگری کرتی ہوں اور منگنیاں سال دو سال قائم رہتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں ٗ میں نے اس سلسلے میں بات اس لئے کہی کہ ذہن میں تھا کہ رشتہ دیکھ لیا جائے آگے میری بیٹی کا نصیب۔‘‘
’’چچی! ابو نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے ٗ حنین کو اتنی جلدی ان جھنجھٹوں میں نہیں ڈالنا چاہئے ٗ اس میں ابھی بہت بچپنا ہے ٗ یونیورسٹی جانے لگی ہے اس کی شخصیت وقت اور تعلیم کے ساتھ گروم ہو جائے تب ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہئے ٗ جہاں تک رشتوں کی بات ہے جب نصیب میں ہو گی تب ہی ہو گی ٗ آپ کے چاہنے اور ابو کے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ٗ آپ تو بس یہی دعا کیا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری حنین کے نصیب اچھے کرے۔‘‘ زرمین کے کہنے پر انہوں نے ’’آمین‘‘ کہا تھا۔
٭٭٭
’’فیصل بھیا! آج آپ اکیلے آئے ہیں ٗ سحرش اور سمیرا کہاں ہیں؟‘‘ وہ بیک ڈور کھولتے ہوئے یکدم رک کر حیرانگی سے پوچھ رہی تھی۔
’’سمیرا کی طبیعت خراب ہے اور سحرش کام کیلئے رک گئی ہے کیونکہ بھابی گھر پر نہیں ہیں۔‘‘
’’وہ دونوں چھٹی کر رہی تھیں تو آپ مجھے بھی لینے نہ آتے…!‘‘
’’سحرش نے تمہارے سیل پر ٹرائی کیا تھا ٗ مگر تم نے ریسیو نہیں کیا اور میں نے سوچا کہ ان دونوں کی وجہ سے تمہاری چھٹی نہیں ہونی چاہئے ٗ مگر تمہارا دل نہیں چاہ رہا تو تم چھٹی…!‘‘
’’نہیں… میں چلتی ہوں ٗ بلاوجہ چھٹی مجھے پسند نہیں ہے ٗ تایا ابو سے بھی ڈانٹ پڑے گی۔‘‘ وہ کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
’’تم اندر جا کر بتا آئو کہ تم آج اکیلی…!‘‘
’’کلاس اسٹارٹ ہو جائے گی بھیا! میں آکر بتا دوں گی۔‘‘ اس نے کار اسٹارٹ کر دی۔
’’فیصل بھیا! مجھے اپنا سیل فون دیجئے گا میں لاج سے پوچھ لوں کہ وہ آ رہی ہے یا نہیں؟‘‘ خیال آنے پر وہ بولی ٗ وہ اپنا موبائل کل پھپھو کے ہاں بھول آئی تھی ٗ اس کے کہنے پر فیصل نے اسپیڈ کم کرتے ہوئے ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھا کر گردن گھما کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’اوہ… شٹ… لیکن مجھے اس کا نمبر یاد نہیں ہے۔‘‘ وہ موبائل لیتے لیتے رک گئی۔
’’میں خود پوچھ کر تمہیں بتاتا ہوں۔‘‘ وہ سیل لیتے ہوئے بولا۔
’’آپ کے پاس لاج کا نمبر ہے؟‘‘ وہ اس کے کہنے پر خوش ہو گئی۔
’’لاج کا نہیں ہے ٗ میں کنعان سے پوچھ لیتا ہوں۔‘‘ وہ کہتے ہوئے نمبر ڈائل کرنے لگا ٗ اس نام پر اس کے منہ کے زاویے بن گئے جو اس نے بیک مرر سے دیکھ لئے تھے۔
’’وہ محترم نہ جانے کن خوابوں کی دنیا کی سیر کو نکل پڑنے کو تیار بیٹھے ہیں اور یہ محترمہ اس کا نام سننے کی بھی روادار معلوم نہیں ہوتیں ٗ اللہ ہی بہتر کرے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوا۔
’’فیصل کے بچے! اب پھوٹ بھی اتنی صبح کیسے فون کیا ہے؟‘‘ وہ ماہ کنعان کی آواز پر چونکا اور فون کرنے کا مقصد بتانے لگا۔
’’میں لاج کو یونیورسٹی ہی تو چھوڑنے جا رہا ہوں ٗ راستے میں ہوں ٗ لیکن تو کیوں پوچھ رہا ہے؟‘‘
’’تو لاج کو فون دے ٗ پھر وہ خود تجھے بتا دے گی۔‘‘ ماہ کنعان نے فیصل کے کہنے پر سیل فون فرنٹ سیٹ پر بیٹھی بہن کی جانب بڑھا دیا۔
’’السلام علیکم! فیصل لالہ!‘‘
’’میں حنین بول رہی ہوں۔‘‘
’’ارے حنین! لالہ جان تو فیصل لالہ سے بات کر رہے تھے ٗ اس لئے میں سمجھی لالہ ہوں گے۔‘‘ وہ حنین کی آواز پر اور وہ اس کے نام پر چونک اٹھا تھا۔
’’تم بتائو کیسے فون کیا؟‘‘
’’صرف یہ پوچھنے کیلئے تم یو نی آ رہی ہو؟‘‘
’’ہاں ٗ راستے میں ہوں ٗ مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘
’’یار! آج سمیرا اور سحرش دونوں نے ساتھ ہی چھٹی کر لی ہے ٗ اس لئے سوچا کہ تم سے پوچھ لوں ٗ تم بھی نہ آتیں تو بڑی بوریت ہوتی۔‘‘ اس نے اصل بات بتا کر اس سے اجازت لی تھی اور سیل فیصل کو دے دیا اور اس نے بھی ماہ کنعان کو سیل واپس کر دیا۔
’’میں اس سب کا مقصد سمجھا نہیں۔‘‘
’’جانے دے ٗ ہر بات کی کھوج میں مت لگا کر ٗ ہو سکتا ہے رات میں تیری طرف چکر لگائوں ٗ کچھ بات کرنی ہے۔‘‘
’’ایسی کیا ضروری بات ہے؟‘‘
’’مل کر بتائوں گا ٗ ابھی رکھتا ہوں بائے!‘‘ فیصل نے اسے موقع دیئے بغیر لائن کاٹ دی اور ماہ کنعان نے سیل ڈش بورڈ پر ڈال دیا۔
’’فیصل کیا کہہ رہا تھا؟‘‘ موڑ کاٹتے ہوئے عام سے لہجے میں پوچھا۔
’’میں نے فیصل لالہ سے نہیں اپنی فرینڈ حنین سے بات کی ہے۔‘‘ اس نے حنین سے ہوئی بات اسے بتا دی۔
’’لیکن یہ حنین کون ہے؟ تمہاری کوئی نئی فرینڈ ہے تو فیصل…!‘‘ وہ جان کر انجان بن کر لاعلمی ظاہر کرنے لگا۔
’’لالہ جان! حنین وہی ہے جن کے گھر ہم فیصل لالہ کی چوتھی کی رسم میں گئے تھے ٗ لالہ کی بھابی کی کزن ہے۔‘‘ اس کے بتانے پر اس نے محض سر ہلایا۔
’’آپ تو اسے بھول بھی گئے مگر وہ آپ کو بہت برے انداز میں یاد رکھے ہوئے ہے۔‘‘ ماہ لاج عام سے لہجے میں بولی مگر وہ بہت بری طرح چونک گیا۔
’’میں سمجھا نہیں لاج!‘‘
’’اصل میں لالہ جان! لالہ کی شادی میں آپ اس سے ٹکرائے یا وہ آپ سے مگر وہ اس کا ذمے دار آپ کو ٹھہرائے ہوئے ہے ٗ اسی لئے تو وہ مجھ سے بات تک نہیں کر رہی تھی ٗ سحرش نے بہت مشکل سے اسے سمجھایا تو اس نے اس شرط پر مجھ سے دوستی کی کہ میں اس سے یا اس کے سامنے بھی آپ کا ذکر نہیں کروں گی ٗ یہ بات مجھے اچھی تو نہیں لگی تھی مگر سحرش نے کہا کہ میں حنین کی شرط مان لوں ٗ کیونکہ اسے آپ پر غصہ ہے اور وہ ضد اور غصے میں ایسی بات کر رہی ہے ٗ مگر وہ دل کی بہت اچھی ہے ٗ ہماری دوستی ہو جائے گی تو بعد میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ ماہ لاج کی باتیں اسے عجیب سی سچوایشن سے دو چار کر گئی تھیں ٗ اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ غصہ کرے یا نہیں؟ اور اس سے کچھ کہے تو کیا؟
’’اور اس گزرے ہفتے میں ٗ میں نے جانا کہ وہ ضدی ہے برداشت بھی بالکل نہیں ہے مگر وہ ہے بہت سوفٹ نیچر اور کائینڈ ہارٹ ٗ میری اس سے بہت اچھی دوستی ہو گئی ہے ٗ آپ سے ایک بات کہوں لالہ جان؟‘‘ اس نے محض اثبات میں سر ہلا دیا ٗ وگرنہ کافی دیر سے وہی تو کہہ رہی تھی وہ تو صرف سن رہا تھا۔
’’مجھے نہیں پتہ کہ غلطی پر کون ہے اور سحرش کہہ رہی تھی کہ بات اتنی بڑی نہیں ہے ٗ حنین معمولی بات پر بھی زبردست طریقے سے ری ایکٹ کرتی ہے ٗ صرف اس لئے اس نے بات کو بہت بڑھا دیا ہے۔‘‘
’’لاج! جو کہنا چاہتی ہو صاف کہو۔‘‘ الجھتے ہوئے بہن کو ٹوکا۔
’’آپ حنین سے سوری…!‘‘
’’نیور… تم مجھے اچھے سے جانتے ہوئے بھی کہہ رہی ہو کہ میں اس لڑکی سے سوری کروں ٗ میں نے غلطی پر ہو کر کبھی سوری نہیں کی۔‘‘ وہ خود کو بہت مشکل سے کنٹرول کئے ہوئے تھا۔
’’لالہ جان! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ وہ آپ کا نام سنتے ہی منہ کے زاویے بگاڑ لیتی ہے ٗ معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا تو نہیں ہو جاتا ٗ اگر آپ…!‘‘
’’پلیز لاج! چینج دا ٹاپک۔‘‘ وہ اس کی ایک ہی رٹ سے تنگ آ گیا۔
’’لالہ جان! بات کچھ بھی نہیں ہے ٗ لیکن نہ وہ سمجھنے کو تیار ہے اور نہ ہی آپ اور میں چاہتی ہوں کہ میری برتھ ڈے پارٹی میں حنین آئے ٗ مگر وہ کسی طور راضی نہیں ہو رہی ٗ بہت ضدی ہے وہ اگر آپ آج اس سے مل کر ایکسکیوز کر لیں تو ہو سکتا ہے وہ آ جائے ٗ میں آپ سے یہ تو نہیں کہہ رہی کہ آپ اس سے معافی مانگیں کیونکہ میں اپنے لالہ جان کو جانتی ہوں کہ وہ کچھ غلط نہیں کر سکتے اور حنین سے آپ فیصل لالہ کی محفل میں ملے اور میں جانتی ہوں فیصل لالہ سے جڑا ہر ایک رشتہ آپ کیلئے کتنا قابل احترام ہے ٗ وہ سب جو ہوا مجھے سحرش نے بتایا وہ سب اچانک ہوا ٗ آپ نے جان کر ایسی حرکت نہیں کی ٗ حنین کو غلط فہمی ہوئی ہے ٗ میں تو بس اس لئے چاہتی ہوں کہ حنین کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو میں ایسا ہی چاہتی ٗ کیونکہ کوئی میرے لالہ کے بارے میں غلط رائے رکھے ٗ انہیں غلط سوچے سمجھے یہ مجھے برداشت نہیں ہوگا۔‘‘ وہ یونیورسٹی کے سامنے اتر گئی۔
’’وہ میرے بارے میں غلط رائے رکھنے پر مجبور ہے ٗ کیونکہ میں بے خودی میں اس کے ساتھ غلط کر چکا ہوں۔‘‘ سوچتے ہوئے اندر کا اشتعال باہر لانے کیلئے اس نے غصے سے ہاتھ اسٹیئرنگ پر مارا۔
’’میں اپنی غلطی پر پردہ ڈالنا نہیں چاہتا ٗ مگر یہ بھی نہیں چاہوں گا کہ وہ اپنی جذباتیت میں آکر تم سے کچھ کہے ٗکیونکہ جو سب کی نگاہ میں میری غلطی ٗ بلکہ میرا گناہ ہو گی اسے میں خود کوئی نام ابھی تک نہیں دے پایا۔‘‘ اس نے گاڑی بیک کی اسی وقت فیصل کی کار رکی اور بیک ڈور کھول کر وہ اتری اور ماہ کنعان گاڑی بڑھا لے جانے کی بجائے یک ٹک اسے دیکھنے لگا ٗ جو ڈرائیونگ ڈور کے پار کھڑی قدرے جھک کر اندر بیٹھے فیصل سے کچھ کہہ رہی تھی اور بات کرتے ہوئے اس کے احمریں لبوں کی تراش میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی اور اس نے سوچا تھا کہ اتنی خوبصورت مسکراہٹ اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ٗ دیکھی بھی تھی تو جو خوبصورت احساس آج دل میں در آیا تھا ایسا کوئی خیال کبھی اس کے آس پاس پھٹکا تک نہ تھا ٗ وہ بے بی پنک کلر کے ایمبرائیڈری سوٹ میں دوپٹہ کاندھوں پر پھیلائے لانبے بالوں کی اونچی سی پونی ٹیل بنائے ٗ کاندھے پر اسٹائلش سا بیگ لٹکائے فیصل کو ہاتھ ہلاتی وہاں سے نکلتی چلی گئی اور کچھ فاصلے پر اسی کے انتظار میں کھڑی ماہ لاج سے ملنے لگی اور وہ اب تک اسے ہی ساکت سا بیٹھا دیکھ رہا تھا اور اسے پتہ بھی نہیں چلا تھا کہ فیصل کب گاڑی سے نکل کر اس کی گاڑی تک پہنچا ٗ اس کے شیشہ ناک کرنے پر اس کی محویت ٹوٹی۔
’’برخوردار! یہ اچھی بات نہیں ہے۔‘‘
’’آئی نو ٗ بٹ خود کو مجبور پاتا ہوں۔‘‘ اس نے سرد سانس خارج کرتے ہوئے بے بسی سے کہا اور وہ اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھنے لگا تھا ٗ جو قدرے سرخی مائل ہو رہی تھیں اور اس کی آنکھوں میں کچھ اور بھی تھا جو بالکل نیا تھا ٗ جسے فیصل کوئی نام نہیں دے پایا۔
’’میں رات تیری طرف آئوں گا پھر بعد میں بات کریں گے۔‘‘ وہ پلٹ گیا اور اس نے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر سر سیٹ کی بیک سے لگا لیا اور خود کو ریلیکس کرنا چاہا اور تھوڑی ہی دیر بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کی جس کی اسپیڈ معمول سے کافی زیادہ تیز رکھی تھی۔
٭٭٭
ٹائم تو کافی زیادہ ہو گیا ہے لیکن انکل فیاض پتہ نہیں کیوں نہیں آئے؟‘‘ ان دونوں کی ایکسٹرا کلاس چل رہی تھی ٗ جس سے فارغ ہو کر وہ باہر آئیں تو ماہ کنعان کی گاڑی کھڑی تھی ٗ مگر فیاض انکل کی گاڑی انہیں کہیں دکھائی نہیں دی۔
’’ہم لوگ تو ویسے ہی لیٹ ہو گئے ہیں ٗ انکل کو اب تک آ جانا چاہئے تھا۔‘‘ ماہ لاج نے تبصرہ کیا۔
’’لاج! کہیں انکل واپس تو نہیں چلے گئے؟‘ اس کو فکر ہونے لگی۔
’’ارے ٗ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ٗ یقینا وہ ٹریفک میں پھنس گئے ہوں گے۔‘‘
’’میرے پاس آج سیل فون بھی نہیں ہے ورنہ ان سے پوچھ ہی لیتی کہ کب تک آئیں گے۔‘‘ وہ قدرے بے چارگی سے بولی۔
’’تم میرے سیل سے فون کر لو جب تک میں لالہ جان کو بتا آتی ہوں۔‘‘ وہ سیل فون اسے دے کر آگے بڑھ گئی۔
’’انکل کا مجھے نمبر نہیں یاد اور سحرش کال ریسیو نہیں کر رہی۔‘‘
’’تم ہمارے ساتھ چلو ٗ لالہ جان تمہیں ڈراپ کر دیں گے۔‘‘
’’نہیں ٗ تم جائو میں انکل فیاض کا انتظار کر لوں گی۔‘‘ اس کے سختی سے کہنے پر ماہ لاج نے اپنے لب بھینچ لئے اور اس کے ہاتھ سے سیل لے کر سحرش کے نمبر پر دوبارہ کال کی مگر اس کا نمبر ہی آف تھا۔
’’وہ ساتھ چلنے کو راضی نہیں ہے ٗ وہ انکل کا انتظار کرے گی ٗ اگر آپ کو جلدی ہے تو ہم چلتے ہیں ورنہ انکل کے آنے تک ویٹ کر لیتے ہیں۔‘‘
’’تم اپنی فرینڈ کے پاس جائو میں انکل کو کال کرکے معلوم کر لیتا ہوں کہ وہ اب تک کیوں نہیں آئے؟‘‘ وہ 3 بجے گھر پر ہوتی تھی اور پونے تین بج گئے تھے۔ ماہ کنعان نے ان کا نمبر ڈائل کیا ٗ مگر نمبر بزی تھا اس نے کچھ سوچ کر فیصل کو کال ملائی تھی۔
’’اوگاڈ! آج وہ دونوں نہیں آئیں اس لئے ہو سکتا ہے ڈیڈی نے سوچا ہو کہ حنین بھی نہیں گئی ہو گی ٗ میں ابھی ڈیڈی کو کال کرکے پہنچنے کا کہتا ہوں۔‘‘ فیصل تفصیل سن کر پریشان ہو گیا۔
’’انکل کا نمبر بزی ہے ٗ وہ ہمارے ساتھ چلنے کو بھی تیار نہیں ہے ٗ تم آ سکتے ہو تو آ جائو یا اس کے گھر سے کسی کو بلا لو۔‘‘
’’میری تو 10 منٹ بعد امپورٹنٹ میٹنگ ہے ٗ انکل نوید یا اسجد کو وہاں پہنچنے میں کافی ٹائم لگے گا ٗ تم ایسا کرو اسے فون دو ٗ میں بات کرتا ہوں۔‘‘ فیصل کے کہنے پر وہ گاڑی سے اترا ورنہ وہ جان کر گاڑی میں ہی بیٹھا ہوا تھا ٗ اسے آتے دیکھ کر وہ منہ پھیر کر کھڑی ہو گئی۔
’’فیصل بات کرنا چاہتا ہے تمہاری فرینڈ سے۔‘‘
’’فیصل بھیا! یہاں کھڑے کھڑے میرے پائوں دکھ گئے ہیں ٗ انکل ابھی تک کیوں نہیں آئے؟‘‘ وہ بے قراری سے بولی۔
’’ڈیڈی کچھ مصروف ہیں ٗ تم لاج کے ساتھ…!‘‘
’’نہیں ٗ مجھے لاج کے ساتھ گھر نہیں جانا۔‘‘ وہ پشت موڑے کھڑی تھی اور وہ دونوں اس کے چہرے کے تیور تو نہیں دیکھ سکے لہجے کی ناگواری محسوس کی تھی۔
’’حنین! بات کو سمجھا کرو ٗ لاج تمہاری فرینڈ ہے ٗ اس کے ساتھ جانے میں تمہیں اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔‘‘
’’لاج کے ساتھ جانے میں مجھے اعتراض نہیں ہے ٗ مگر وہ آپ کے دوست… میں ان کے ساتھ جانے سے بہتر کچھ دیر انتظار کر لوں گی ٗ انکل نہیں آ رہے تو میں تایا ابو کو بلا لوں گی۔‘‘ ماہ کنعان بہن سے نظر چرانے پر مجبور ہو گیا۔
’’انکل کو وہاں آنے میں بہت ٹائم لگے گا۔‘‘ فیصل کو اسے سمجھانا بہت مشکل لگ رہا تھا۔
’’میں انتظار کر لوں گی ٗ بائے!‘‘ اس نے لائن ہی ڈسکنیکٹ کر دی تھی۔
’’لاج! میں اپنے تایا ابو کو بلا لیتی ہوں ٗ تم مجھے ایک فون کروا دو اور پھر تم چلی جانا ٗ مجھے اپنی وجہ سے تمہیں پریشان کرنا اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘ وہ قدرے شرمندگی سے بولی۔
’’مس حنین!‘‘ اس نے مخاطب کیا۔
’’میں آپ سے بات کرنا نہیں چاہتی اور نہ ہی آپ کے منہ سے اپنا نیم سننا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے اب تک جان کر اس کی طرف نہیں دیکھا تھا اب ذرا کی ذرا پلکیں اٹھائیں اور غصے سے اسے دیکھ کر وہ لاج کو دیکھنے لگی۔
’’مجھے لیکن کسی کا فون نمبر یاد نہیں ہے ٗ یہاں تک کہ گھر کا بھی نہیں ٗ مجھ سے فون نمبرز یاد نہیں ہوتے۔‘‘ اسے صحیح معنوں میں اب فکر لاحق ہوئی تھی اور کنعان جو ایک زور کا تھپڑ اسے لگا کر اس کا دماغ درست کرنے کا سوچ رہا تھا ٗ اس کے صبیح چہرے پر در آنے والی پریشانی کو دیکھ کر سانس بھر کر رہ گیا۔
’’حنین! تم ہمارے ساتھ چلو ٗ لالہ جان کی کسی بات سے تم ہرٹ ہوئی ہو تو میں تم سے سوری کرتی ہوں۔‘‘
’’نہیں لاج! تم سوری مت کرو ٗ مجھے اچھا نہیں لگ رہا ٗ بٹ میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔‘‘ اس کے چہرے پر خجالت کی سرخی دوڑ گئی تھی۔
’’پھر تم فون کیسے کرو گی؟‘‘ اس کی ضد ان دونوں کو ہی زچ کرنے لگی۔
’’مجھے ارحم بھیا کا نمبریاد ہے۔‘‘ وہ جوش سے بولی اور سر اٹھا کر کنعان نے اسے دیکھا ٗ کتنا اطمینان اس کے چہرے پر جگہ بنا گیا تھا اور وہ چمکتی آنکھوں سے نمبر ڈائل کرنے لگی۔
’’ہیلو… ایس پی ارحم الحسن اسپیکنگ!‘‘ نیا نمبر دیکھ سنجیدگی سے بولا تھا۔
’’ارحم بھیا! میں حنین بول رہی ہوں۔‘‘
’’حنین! تم یہ کس کے نمبر سے بات کر رہی ہو؟‘‘ اس نے گاڑی کی اسپیڈ بہت کم کر دی۔
’’ارحم بھیا! آئی نیڈ یو!‘‘
’’تم ہو کہاں؟‘‘ اس کا گھبرایا ہوا لہجہ اسے پریشان کر گیا۔
’’یونیورسٹی میں ٗ انکل فیاض مجھے لینے نہیں آئے۔‘‘ اب آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر رخساروں پر لڑھکنے لگے تھے۔
’’اوہ گاڈ! تم پریشان نہ ہو ٗ میں 15 سے 20 منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔‘‘
’’ارحم بھیا! پلیز جلدی آیئے گا ٗ مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے اور ڈر بھی لگ رہا ہے۔‘‘ وہ اس کے آنسو صاف کرنے کی خواہش دل میں دباتا لب بھینچے کھڑا تھا۔
’’ڈر کیوں لگ رہا ہے؟ سحرش تمہارے ساتھ…!‘‘
’’وہ نہیں آئی اسی لئے انکل فیاض مجھے لینے آنا بھول گئے ٗ ماہ لاج میرے ساتھ ہے لیکن اس کے بھائی بھی ہیں اسی لئے مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ وہ بے دھڑک ہمیشہ کی طرح ارحم سے کہہ گئی ٗ ماہ لاج نے لب بھینچے کھڑے بھائی کو دیکھا ٗ جس کے چہرے پر غصے کی سرخی اور ضبط کی کوشش نظر آئی۔
’’تم کس کی ماہ کنعان کی بات کر رہی ہو؟‘‘ اسپیڈ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
’’جی ارحم بھیا!‘‘ وہ فوراً بولی۔
’’اس نے تم سے کچھ کہا؟‘‘ پریشانی سے پوچھا۔
’’نہیں ٗ بس آپ جلدی آ جائیں۔‘‘
’’یو ڈونٹ وری ٗ میں بس پہنچ رہا ہوں۔‘‘ اس کے کہنے پر حنین نے فون بند کر دیا۔
’’مس حنین! میری خاموشی سے تم نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔‘‘
’’فائدہ میں نے نہیں ٗ آپ نے اٹھانے کی کوشش کی تھی ٗ نفرت کرتی ہوں میں آپ سے۔‘‘ وہ سرد لہجے میں کہتا خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ٗ جب وہ غصے سے چلائی ٗ ماہ لاج کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔
’’تم مجھے غصہ دلا رہی ہو اور ایسا نہ ہو کہ میں غصے میں کچھ ایسا کر بیٹھوں کہ تمہاری ساری اکڑ ٗ سارا طنطنہ نکل جائے۔‘‘ ماہ کنعان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ غصے میں اس کا قتل کر دے۔
’’لالہ جان! آپ یہ سب کیا کہہ رہے ہیں ٗ آپ کو حنین سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہئے۔‘‘ اس کی غیر ہوتی حالت کے پیش نظر اس نے بھائی کو ٹوکا۔
’’اور اسے زیب دیتا ہے کہ یہ مجھے اس طرح ڈی گریڈ کرے۔‘‘
’’لاج! تم یہاں سے جائو ٗ مجھے تمہاری ہیلپ نہیں چاہئے ٗ میرے ارحم بھیا آتے ہی ہوں گے۔‘‘ وہ اس کے سرخ تنے ہوئے چہرے کو دیکھ کر خوف کا شکار ہو رہی تھی اور اسی وقت پولیس جیپ آ کر رکی ٗ ارحم الحسن باہر آیا اور وہ اسے دیکھ کر دیوانہ وار اس کی طرف بھاگی اور اس کے چوڑے سینے میں سما گئی۔
’’نینی! اس طرح رونے کی کیا ضرورت ہے ٗ آ گیا ہوں ناں میں۔‘‘ اسے خود سے الگ کیا ٗ مگر وہ اس کا بازو جکڑے ہوئی تھی ٗ ماہ کنعان کے چہرے پر غصے کی جگہ ناگواری نے لے لی اور ماتھے پر سلوٹیں سی پڑ گئیں۔ ارحم الحسن نے اسے جیپ کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور وہ چلتا ہوا ماہ کنعان کے پاس آ رکا۔
’’تھینکس مسٹر کنعان! کہ آپ نے میری سسٹر کی اتنی مدد کی ٗ آپ اپنی سسٹر کو لے کر چلے جاتے تو اس نے نہ جانے کیا کرنا تھا۔‘‘ وہ ہاتھ ملاتے ہوئے بولا تھا اور لاج کی نگاہیں ہینڈسم سے ارحم الحسن پر جم سی گئی تھیں۔
’’مسٹر ارحم! کچھ گھنٹے قبل تک میرے دماغ میں یہ احساس تھا کہ میں نے جو کیا تھا وہ کرنا نہیں چاہئے تھا ٗ مگر مجھے شرمندگی پہلے بھی نہیں تھی کیونکہ میں اپنے کئے اقدام کا ازالہ کر چکا تھا‘ (اس کا اشارہ واش روم میں پیش آنے والے واقعہ کی جانب تھا) مگر جس طرح کا بی ہیو آج حنین نے کیا اور جس طرح کا بی ہیو لاج کے ساتھ کرتی رہی ہے ٗ اس کے بعد میرے دل و دماغ میں صرف اتنا ہی آ رہا ہے میں نے اس دن حنین کی غلطی پر پردہ ڈالا ہی کیوں؟ میں بہت برا انسان ہوں ناں تو مجھے اس آپر چیونیٹی سے فائدہ اٹھانا چاہئے تھا؟‘‘ وہ بہت سرد لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہہ رہا تھا ارحم نے کچھ کہنا چاہا تو وہ ہاتھ کے اشارے سے روک گیا جبکہ وہ لاج کو گاڑی میں بیٹھنے کو پہلے ہی کہہ چکا تھا۔
’’میری بات ختم نہیں ہوئی ہے ٗ میں نے زندگی میں کبھی کچھ غلط نہیں کیا اور کیا بھی تو نہ شرمندہ ہوا نہ ہی معافی مانگی ٗ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے مگر میں اتنا ہی خود پسند ہوں ٗ میرے لئے میری ذات سے بڑھ کر دنیا میں کوئی شے نہیں ہے ٗ حنین کا بی ہیویئر میرے ساتھ جیسا تھا اس کا میں ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا ٗ مگر اتنا ہے کہ حنین ٗ فیصل کی ریلیٹیو نہیں ہوتی توآج کم از کم زندہ نہ ہوتی۔‘‘
’’مسٹر کنعان! آپ حد سے زیادہ بول رہے ہیں۔‘‘ نرم مزاج ارحم کو غصہ آنے لگا تھا۔
’’میں بولتا نہیں ہوں ٗ عمل کرتا ہوں ٗ میں نے غلطی کی ہے ٹھیک ہے میں اپولو جائز کرنے کو تیار ہوں ٗ بتائو میں کہاں کس جگہ ٗ کس چینل پر ایسا کروں ٗ میں تیار ہوں مگر تم ایسا نہیں چاہو گے ٗ اس لئے بہتر ہوگا کہ اپنی بہن کو تمیز سکھائو ٗ اسے طاقت کی اہمیت بتائو ٗ میں نے اس دن جو کیا وہ جان کر نہیں کیا ٗ مگر اب خود کو مجبور پاتا ہوں ٗ جس دن میرا ٹیمپر لوز ہو گیا میرا کچھ نہیں جائے گا ٗ خسارہ اس کے حصے میں آئے گا ٗ سو بی کیئر فل۔‘‘ وہ انگلی اٹھا کر اسے چیلنجنگ انداز میں جھٹکتا اسے سرد نگاہوں سے دیکھتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکل گیا ٗ کہنے کو ارحم بہت کچھ کہہ سکتا تھا مگر اس نے کچھ نہیں کہا ٗ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جس فیملی سے وہ بی لانگ کرتا ہے وہ اسی طرح کی باتیں اور بی ہیو کر سکتا تھا ٗ اسے کنعان پر نہیں حنین پر غصہ آ رہا تھا ٗ اسے ابھی حنین سے پوچھنا تھا کہ اس نے ایسا اسے کیا کہا جو وہ اتنے غصے میں آ گیا؟
٭٭٭
’’سحرش! تم گھر آ گئیں لیکن حنین… وہ ابھی تک گھر نہیں آئی۔‘‘
’’بھابی! میں اور سمیرا تو آج یونیورسٹی ہی نہیں گئے۔‘‘ زرمین کو فون کرکے پوچھنے کا ساجدہ نے کہا تھا وہ سحرش کی آواز سن کر حیران اور اس کی بات سن کر پریشان ہو گئی۔
’’کیا… لیکن حنین کو لینے صبح فیصل خود آئے تھے ٗ ان کی گاڑی کا ہارن سن کر ہی تو حنین گھر سے نکلی تھی۔‘‘
’’بھابی! میں نے صبح حنین کو کافی کالز کیں ٗ مگر اس نے ریسیو نہیں کیں ٗ اس لئے فیصل بھیا نے کہا کہ ہماری وجہ سے حنین کی چھٹی نہیں ہونی چاہئے ٗ اسی لئے انہوں نے حنین کو پک کر لیا ہوگا۔‘‘
’’مگر وہ ابھی تک گھر نہیں آئی ٗ 4 بج رہے ہیں وہ 3 بجے تک آ جاتی ہے ٗ ڈیڈی اسے پک کرنے کیلئے گئے ہوئے ہیں یا وہ گھر میں ہیں؟‘‘
’’ڈیڈی 2 بجے کے قریب گھر سے نکلے میں اس وقت واش روم میں تھی ٗ اس لئے ان سے پوچھ نہیں سکی ٗ آپ ہولڈ پر رہیں میں اپنے سیل سے ڈیڈی کو فون کرکے پوچھ لیتی ہوں کہ وہ کہاں ہیں؟‘‘
’’میں تمہیں 5 منٹ بعد فون کرتی ہوں۔‘‘ زرمین کی حالت غیر ہو رہی تھی ٗ مگر اس نے ساجدہ سے کہہ دیا کہ وہ کچھ دیر میں آ جائے گی اور بے چینی سے وقت گزرنے کا انتظار کرنے لگی ٗ سحرش نے فیاض کا نمبر ڈائل کیا۔
’’ڈیڈی! آپ اس وقت کہاں ہیں؟‘‘ وہ چھوٹتے ہی پوچھ رہی تھی۔
’’میں واحدی کے ہاں ہوں ٗ کیوں سب خیریت تو ہے؟ تم کچھ پریشان لگ رہی ہو؟‘‘
’’ڈیڈی! آپ حنین کو یونیورسٹی سے لینے نہیں گئے؟‘‘
’’نہیں… میں نے سوچا کہ تم دونوں نے چھٹی کی ہے تو حنین بیٹی نے بھی چھٹی کی ہو گی ٗ وہ یونیورسٹی گئی ہے تو مجھے کم از کم بتاتیں تو سہی۔‘‘ وہ پریشانی سے بولے۔
’’ڈیڈی! آپ گھر سے ایسے ٹائم پر نکلے کہ مجھے لگا کہ آپ حنین کو لینے جا رہے ہیں۔‘‘
’’نہیں ٗ مجھے کب پتا تھا کہ وہ یونیورسٹی گئی ہے ٗ یہ بتائو وہ گھر آ گئی ہے یا نہیں؟ ٹائم تو کافی زیادہ اوپر ہو گیا ہے۔‘‘ انہوں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تھی جو سوا 4 بجا رہی تھی۔
’’نہیں ڈیڈی! اسی لئے تو زرمین بھابی کا فون آیا تھا ٗ وہ بہت پریشان ہیں ٗ انہیں تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ہم یونیورسٹی نہیں گئیں۔‘‘ فیاض بیٹھے سے یکدم کھڑے ہو گئے۔
’’تم نے اس کے سیل پر ٹرائی کیا؟‘‘
’’وہ فون نہیں لے گئی کل فریدہ آنٹی کے ہاں بھول آئی ہے۔‘‘
’’تم پریشان نہ ہو میں دیکھتا ہوں جا کر۔‘‘ ان کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے وہ دوست سے بعد میں آنے کا کہتے بڑی عجلت میں گھر سے نکلے۔ زرمین دوبارہ کال ملانے کیلئے فون کی جانب بڑھی تھی کہ فون خود ہی بجنے لگا اور اس نے نمبر دیکھے بنا عجلت میں ریسیور اٹھا کر کان سے لگا لیا تھا۔
’’کیا ہوا سحرش! انکل سے بات ہوئی وہ حنین کو لینے چلے گئے؟‘‘
’’میں ارحم بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’ارحم! آپ…؟‘‘
’’حنین میرے ساتھ ہے۔‘‘
’’کیا… آپ کے ساتھ؟‘‘ وہ بولی اور ارحم نے فون پر ہی اسے ساری تفصیل بتا دی۔
’’پریشان نہ ہو ٗ ہم کچھ دیر میں آ رہے ہیں۔‘‘ کہہ کر فون بند کر دیا اور زرمین نے فیاض ہائوس کا نمبر ڈائل کیا ٗ سحرش کو اس کی خیریت کی اطلاع دی اور اب سحرش باپ کو یہ سب بتانے کیلئے ان کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔
٭٭٭
’’حنین! میں ہوں ناں اب تمہارے ساتھ تو تم کیوں رو رہی ہو ٗ پلیز چپ کر جائو۔‘‘ وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی حنین سے بولا۔
’’آپ کو نہیں پتہ ارحم بھیا! مجھے کتنا زیادہ ڈر لگ رہا تھا ٗ انکل فیاض کا انتظار کرتے کرتے میری ٹانگیں دکھ گئیں ٗ دھوپ بھی کتنی تیز تھی ٗ میری اسکن بری طرح جھلسنے لگی تھی اور وہ ہیں کہ مجھے لینے ہی نہیں آئے ٗ میں آئندہ ان کے ساتھ نہیں جائوں گی ٗ وہ مجھے لینے نہیں آتے وہ تو سحرش اور سمیرا کو لینے آتے ہیں اور وہ آج وہ دونوں نہیں آئیں تو وہ مجھے لینے ہی نہیں آئے۔‘‘ اس کے لہجے میں غصہ اور ناپسندیدگی سی در آئی تھی۔
’’نینی! ایسی بات نہیں ہے ٗ یقینا انکل بہت بزی…!‘‘
’’آج ہی وہ بزی کیوں ہو گئے؟ اور بزی تھے تو بتانا تو چاہئے تھا ٗ وہ دونوں بھی ہوتیں تو انکل اتنی ہی غیر ذمے داری کا ثبوت دیتے؟‘‘ اس کی ناگواری بڑھنے لگی تھی۔
’’اچھا اب اس بات کو جانے دو ٗ یہ بتائو آئسکریم کھائو گی؟‘‘ وہ جانتا تھا کہ اس وقت اس سے کچھ بھی کہنا فضول ہی ہوگا ٗ اس لئے بات بدل دی۔
’’نہیں میرادل نہیں کر رہا ٗ میں بہت تھک گئی ہوں ٗ آپ کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ انکل کے نہ آنے کی وجہ سے میں کتنا پریشان ہو گئی تھی اور مجھے فیصل بھیا پر بھی غصہ آ رہا ہے جب وہ خود مجھے یونی چھوڑ گئے تھے تو ان کی ذمے داری تھی کہ وہ خود آتے ٗ انکل کو بھیجتے یا کم از کم تایا ابو سے کہہ دیتے ٗ وہ تو مزے سے اپنے آفس میں بیٹھے مجھے آرڈر کر رہے تھے کہ میں ان کے دوست کے ساتھ چلی جائوں۔‘‘ اس کو رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا۔
’’فیصل نے ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا ٗ تم اپنی دوست کے ساتھ چلی جاتیں تو اتنے مسئلے ہی نہیں ہوتے۔‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ارحم بھیا! جبکہ آپ سب کچھ جانتے بھی…!‘‘
’’ہاں میں کہہ رہا ہوں کیونکہ اس کے ساتھ اس کی بہن بھی تھی ٗ اس لئے مجھے ان لوگوں کے ساتھ تمہارے چلے جانے میں کوئی قباحت نظر نہیں آ رہی ٗ وہ اکیلا ہوتا تو…!‘‘
’’مجھے وہ شخص سخت ناپسند ہے ٗ میں لاج سے بھی دوستی نہیں کرنا چاہتی تھی ٗ کیونکہ جیسے میں اپنی باتوں میں اپنے بھائیوں کا ذکر کرتی ہوں ایسے ہی لاج بھی کرتی ہے اور میں اس شخص کا نام بھی سننا نہیں چاہتی۔‘‘ وہ نہایت ناگوار تاثرات چہرے پر سجائے سختی سے بولی۔
’’حنین! وہ شرمندہ ہے۔‘‘
’’مجھے ان کی شرمندگی نہیں چاہئے اور مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آپ ان کی اتنی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ آپ کیلئے یہ بات اتنی غیر اہم ہے کہ اس شخص نے آپ کی بہن کو چھوا اور آپ اسے ہٹ کرنے کی بجائے اس کو فیور کر رہے ہیں۔‘‘
’’شٹ اپ حنین! فضول مت بولا کرو ٗ میں اسے فیور نہیں کر رہا ٗ مگر تمہارا سخت رویہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’آپ کو لگتا ہو گا ایسا ٗ مگر مجھے نہیں ٗ مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ ممی نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے لڑکوں سے دوستی نہیں کرنی ان سے دور رہنا ہے ٗ ہمیشہ انہوں نے مجھ سے یہی کہا کہ مجھے لڑکوں سے ہاتھ تک نہیں ملانا ہے ٗ کوئی کچھ دے تو نہیں لینا ٗ کچھ کہے تو اگنور کرکے بعد میں انہیں بتانا ہے اور انہوں نے مجھے ہاتھ لگایا ٗ مجھے وہ سب بالکل اچھا نہیں لگا تھا ٗ آپ کو نہیں پتہ ٗ میں آج کل کتنی خوفزدہ رہتی ہوں ٗ ممی کو یہ سب پتہ چلا تو وہ مجھ پر کتنا غصہ ہوں گی ٗ میں ممی کو بتانا چاہتی تھی مگر پہلے آپ نے اور پھر زرمین آپی نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا ٗ مگر زرمین آپی نے کہا ہے کہ مجھے اس شخص سے دور رہنا ہے ٗ وہ اچھا انسان نہیں ہے۔‘‘ کاشانہ عالم کے سامنے گاڑی روکے وہ اسے دیکھنے لگا ٗ وہ کتنی معصوم تھی ٗ دنیاوی برائیوں سے نابلد ٗ ساجدہ نے اس کی بہت اچھے خطوط پر پرورش کی تھی ٗ فضول ناولوں اور فلموں سے بیٹی کو بہت دو رکھا اور اس کی معصومیت اس کے خوبصورت چہرے اور ہر ایک انداز سے جھلکتی تھی ٗ لاڈ پیار کی وجہ سے وہ بہت ضدی اور موڈی ہو گئی تھی ٗ لیکن وہ آج کل کی لڑکیوں کی طرح تیز و طرار بالکل نہیں تھی ٗ 16 سال کی ہو کر سترہویں سال میں لگی تھی ٗ مگر معصومیت ایسی تھی کہ 14,13 سال کی کم عمر بچی ہی لگتی تھی اور اسے گھر میں ٹریٹ بھی ایسے ہی کیا جاتا تھا۔
’’اچھا بس اب اندر چلو ٗ سب پریشان ہو رہے ہیں۔‘‘ وہ اس کے نم چہرے سے نگاہ ہٹاتا بولا اور ڈرائیونگ ڈور کھولتا اس کے ساتھ ہی باہر آ گیا۔
’’زرمین آپی! میں انکل کے ساتھ کبھی نہیں آئوں گی ٗ وہ مجھے لینے ہی نہیں آئے ٗ مجھے ارحم بھیا کا سیل نمبر یاد نہ ہوتا تو…!‘‘ وہ اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی ٗ زرمین اسے بمشکل چپ کرواتی روم میں لے گئی ٗ ارحم نے ان دونوں کو ساری تفصیل بتا دی ٗ جو زرمین نے اب تک چھپائے رکھی تھی اور وہ دونوں بھی پریشان ہو گئیں ٗ وہ لوگ کھانا ہی کھا رہے تھے کہ فیاض اور مہوش چلے آئے ٗ وہ بہت شرمندہ تھے ٗ غلطی فیاض کی نہیں تھی اور وہ سب اسے مان رہے تھے ٗ لیکن وہ انکل فیاض کو خفگی بھری نگاہوں سے دیکھتی وہاں سے واک آئوٹ کر گئی اور سب کے بہت سمجھانے پر بھی وہ اپنی بات پر اڑی رہی ٗ تو نوید عالم نے فیاض سے ایکسکیوز کرکے اس کیلئے ڈرائیور رکھ لیا اور وہ ڈرائیور کے ساتھ آنے جانے لگی ٗ جس سے وہ بات پہلے ہی کر چکے تھے ٗ لیکن فیصل کی پیار بھری ضد پر خاموش ہو گئے تھے اور وہی ڈرائیور ان کو آفس لانے لے جانے کی ذمے داری اٹھا رہا تھا اور اس عرصے میں وہ اس کو پرکھ چکے تھے ٗ اس لئے حنین کو لانے لے جانے کی ذمے داری بلا جھجک اس پر ڈال دی۔
٭٭٭
’’مجھے اندازہ نہیں تھا سمیرا! کہ تم پڑھنے کی اتنی زیادہ چور ہو گی ٗ روز نئے بہانے گھڑ کے بیٹھ جاتی ہو۔‘‘ وہ آفس سے لوٹا تھا تو وہ سو رہی تھی اور وہ اسے ڈسٹرب کئے بغیر شاور لینے چلا گیا ٗ فریش ہو کر اس تک آیا اور ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا تھا ٗ وہ ہلکی ہلکی گرم ہو رہی تھی ٗ وہ سیدھا ہوا کہ اس نے آنکھیں کھول دیں اور بکھرے بال سمیٹتی اٹھ بیٹھی اور وہ بیڈ کے کونے پر تکتے ہوئے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے بولا جبکہ وہ تو بری طرح تپ گئی۔
’’صبح سے بخار میں جل رہی ہوں اور آپ کو لگتا ہے کہ میں بہانے بنا رہی ہوں؟‘‘ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
’’مذاق کر رہا تھا ٗ ایک تو تم مذاق بھی نہیں سمجھتیں۔‘‘ تاسف سے کہتے ہوئے اس کے آنسو صاف کرنے کو ہاتھ بڑھایا ٗ مگر وہ کچھ پیچھے ہو گئی۔
’’مجھے آپ کی ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’ناراض ہو کر اچھی نہیں لگ رہی ہو۔‘‘
’’میں بری ہوں ناں تو بری ہی سہی۔‘‘ وہ خفگی سے کہتی وہاں سے اٹھنے لگی تھی کہ وہ اس کو بازو سے تھام کر شرارت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
’’بری تو تم بہت ہو ٗ اتنی بری کہ چوری بھی کرتی ہو میرا سکون میرا چین و قرار اور میرا دل چرائے بیٹھی ہو۔‘‘ وہ مخمور لہجے میں کہتا اس کی پلکوں کو رخساروں کو سجدہ کرنے پر مجبور کر گیا۔
’’فضول الزام مت لگائیں۔‘‘
’’الزام لگا رہا ہوں؟ سچ ہی تو کہہ رہا ہوں ٗ جب سے میری زندگی میں آئی ہو مجھے اپنا بھی ہوش نہیں رہا ٗ تم زندگی بن گئی ہو۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے ایک شوخ جسارت کر گیا اور وہ یہیں آ کر تو بے بس ہو جاتی تھی۔
’’زندگی بن گئی ہوں ٗ میری بات تک کی تو اہمیت نہیں ہے ٗ ڈائیلاگز اتنے بڑے بڑے مارتے ہیں۔‘‘ وہ پلکوں کی باڑ اٹھاتی دھیمے سے بولی۔
’’ڈائیلاگز… میری محبت ٗ میرا اقرار وفا تم کو ڈائیلاگز لگتے ہیں؟‘‘ وہ اس پر بگڑا (مصنوعی) تھا۔
’’ہاں نہیں تو اور کیا ٗ ہر معاملے میں تو اپنی چلاتے ہیں ٗ آپ کی مرضی سے سوئوں ٗ آپ کی مرضی سے جاگوں اور تو اور زبردستی لے کر میرا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروا دیا۔‘‘ وہ تپے تپے خفا انداز میں کہتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
’’اوہ… اب سمجھ آیا محترمہ اصل میں اتنی تپی ہوئی کیوں ہیں؟‘‘
’’آپ میری بات کو مذاق میں مت اڑائیں فیصل! مجھے سچ میں پڑھائی سے ذرا بھی شغف نہیں ہے ٗ کتنی مشکل سے میں نے انٹر کیا ہے اور یونیورسٹی میں پڑھنا تو بے حد مشکل ہے ٗ گزرے ہفتے میں ہی تھکن اور اکتاہٹ نے میرا برا حال کرکے رکھ دیا ہے۔‘‘ تھکن اور اکتاہٹ اس کے چہرے سے چھلکنے لگے۔
’’میں تمہاری اس بات کے ساتھ کمپرومائز نہیں کر سکتا ٗ شروع شروع میں پرابلم ہو گی بعد میں سیٹ ہو جائو گی ٗ ہاں پڑھائی سے متعلق کوئی مسئلہ ہو تو میں ہیلپ کر دوں گا۔‘‘ وہ اپنے مخصوص بے لچک لہجے میں کہتا بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گیا۔
’’آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں ٗ جب مجھے شوق ہی نہیں ہے تو زبردستی مجھے کیوں اس مشکل میں پھنسا رہے ہیں؟‘‘
’’انٹر آج کل کے دور میں کوئی معنی نہیں رکھتا ٗ اسی لئے میں شادی کے بھی خلاف تھا کیونکہ تمہیں بچپن سے جانتا ہوں ٗ مجھے اندازہ تھا کہ تم شادی کے بعد ہزار بہانے تراش لو گی ٗ لیکن میں تمہارا کوئی بہانہ نہیں سنوں گا‘ تم اپنی ایجوکیشن کنٹینیو رکھو گی اور پلیز اب یہ روز کے بہانے اور تاویلیں ملتوی کر دو ٗ میں تمہاری یہ بات نہیں مانوں گا ٗ ہاں اگر سبجیکٹ تمہیں یہ نہیں رکھنے ٗ مشکل لگ رہے ہیں تو چینج کروا سکتا ہوں جبکہ یہ سبجیکٹ میں نے تمہاری مرضی سے رکھے ہیں اور سحرش اور حنین بھی تمہارے ساتھ ہیں تو کوئی پرابلم بھی نہیں ہو گی۔‘‘ اس نے فارم جمع کروانے سے پہلے باتوں باتوں میں اس سے سبجیکٹ پوچھے تھے اور اکنامکس کے علاوہ سارے سبجیکٹ وہی تھے ٗ اکنامکس سحرش نے لی تھی ٗ اس لئے اس نے اسے بھی اکنامکس ہی رکھوا دی۔
’’فیصل! مجھے پڑھائی میں بالکل انٹرسٹ نہیں ہے ٗ آپ اپنی ضدی چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟‘‘ وہ اب قدرے لاڈ سے بولی۔
’’بحث نہیں کرنا چاہتا میں۔‘‘
’’مان جایئے ناں فیصل! پلیز… آپ کو میری قسم۔‘‘ وہ جذباتی لہجے میں کہتی پیار سے اس پر جھکی۔
’’تم کیوں نہیں مان جاتیں جان فیصل!‘‘ اس کی معصوم ادا پر مسکراتے ہوئے اس کی ناک کھینچی۔
’’پھر طے ہو گیا کہ میں آگے نہیں پڑھوں گی۔‘‘ اس کا نرم لہجہ اسے خوش فہم کر گیا۔
’’یہ طے ہے کہ تم آگے پڑھو گی اور اس فیصلے میں رد و بدل نہیں ہو گی ٗ جو چاہو وہ مانگ لو ٗ مگر میری یہ بات مان لو ٗ اسے میری فرمائش سمجھ لو ٗ میری خوشی یا پھر میرا حکم۔‘‘ ماتھے پر جھولتی لٹ انگلی پر لپیٹتے ہوئے وہ بولا اور وہ سیدھی ہو گئی۔
’’آپ بہت زیادہ ضدی ہیں فیصل! ہمیشہ اپنی ہی منواتے ہیں آپ کے نزدیک صرف اپنی خوشی اپنا فیصلہ اہم ہے ٗ میری خوشی تو جیسے معنی ہی نہیں کھتی۔‘‘ وہ خفگی بھری نگاہ اس پر ڈالتی بیڈ سے اتر گئی۔
’’تم فضول میں نہ صرف بات بڑھا رہی ہو بلکہ بات کو غلط رنگ بھی دے رہی ہو ٗ میں ایسا ضد میں نہیں چاہتا ٗ میں تمہارا مستقبل محفوظ کرنا چاہتا ہوں ٗ عورت کے پاس تعلیم ہو تو وہ بڑے بڑے امتحانوں سے آرام سے نبرد آزمائی کر لیتی ہے اور میں نہیں چاہتا سمیرا! کہ خدا نخواستہ کہ زندگی کبھی مشکلات کی نظر ہو تو تم میں اس سے نبٹنے کی صلاحیت ہی نہ ہو۔‘‘ اس نے اپنا اصل موقف بیان کرنا چاہا۔
’’مجھے یہ سب باتیں سمجھ نہیں آتیں ٗ مجھے پڑھنے کا شوق نہیں ہے ٗ جیسے تیسے انٹر کر لیا ہے یہی بہت ہے اور میں اب آپ سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی ٗ مجھے آگے نہیں پڑھنا ہے بس۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر سختی سے بولی اور الماری سے کپڑے نکالنے لگی ٗ وہ کچھ کہتا کہ وہ خود ہی بول پڑی۔
’’میں تیار ہو جائوں تو آپ مجھے ڈیڈی کے پاس چھوڑ دیجئے گا اور اب میں ڈیڈی کے ہاں سے جب ہی آئوں گی جب آپ میرا ایڈمیشن کینسل کروا دیں گے۔‘‘ وہ کہہ کر رکی نہیں ٗ کپڑے لئے واش روم میں چلی گئی اور اس نے غصہ کنٹرول کرتے ہوئے کنعان کو فون کرکے اپنے آنے کا بتایا اور وہ اسے لئے ماموں کے ہاں آ گیا۔
’’تم اب یہیں رہنا جب تک چاہو جب تک نہیں بس‘ صرف اپنے ماسٹرز کمپلیٹ ہونے تک۔‘‘ اسے گاڑی سے اترتے دیکھ کر بولا جبکہ وہ تو تھم ہی گئی۔
’’میری ہی غلطی تھی کہ ماموں جان کے اور مما کے زور ڈالنے پر راضی ہو گیا ٗ میں تم سے تمہارے ماسٹرز کے بعد شادی کرنا چاہتا تھا ٗ مگر بگڑا اب بھی کچھ نہیں ہے ٗ میں اپنی خوشی سے تمہیں یہاں چھوڑ رہا ہوں ٗ یہ سمجھ لینا کہ ہماری شادی ہی نہیں ہوئی اور ماسٹرز کے بعد شادی ہو گی ٗ جس دن فائنل ایئر کا لاسٹ پیپر ہوگا میں تمہیں آ کر لے جائوں گا۔‘‘ اس نے تو ڈیڈی کے ہاں جانے کی بات کی اس لئے تھی کہ وہ اس طرح بلیک میل ہو جائے گا مگر وہ تو پورے 4 سالوں کیلئے اسے چھوڑ رہا تھا۔
’’آپ کو تو مجھ سے پیار ہے نہ دلچسپی ٗ مجھ سے جان چھڑانے کے بہانے تلاشتے رہتے ہیں۔‘‘ وہ کھسیاہٹ کا شکار ہو گئی۔
’’اب کچھ بھی سمجھ لو۔‘‘ اس کی سنجیدگی میں ذرا برابر فرق نہیں آیا۔
’’میں ڈیڈی سے کہہ دوں گی کہ آپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔‘‘
’’یہ بھی کرکے دیکھ لو ٗ میں کون سا خاموش رہوں گا ٗ ساری بات صاف بتا دوں گا اور سب تمہیں ہی غلط کہیں گے۔‘‘ وہ اندر ہی اندر اس کی بے بسی سے حظ اٹھا رہا تھا۔
’’آپ… آپ!‘‘ وہ کچھ کہہ ہی نہیں پائی اور وہ اسے اپنی طرف کھینچتا شرارت سے بولا۔
’’بہت اچھے ہیں۔‘‘ اور اس کی پیشانی پر لب رکھ دیئے۔
’’آپ بہت برے ہیں ٗ میں ڈیڈی سے آپ کی شکایت کروں گی۔‘‘
’’کوئی اعتراض نہیں ہے مجھے‘ 4 سال ہوں گے تمہارے پاس پڑھائی کے ساتھ کوئی مشغلہ بھی تو چاہئے ہوتا ہے ٗ ماموں جان سے میری خوب برائیاں کرنا ٗ شکایتیں لگانا ٗ میں بالکل برا نہیں مانوں گا۔‘‘ وہ اسے بری طرح چڑانے لگا۔
’’آپ اتنے سال مجھ سے دور رہ لیں گے؟‘‘ نہایت جذباتی لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں… مجبوری ہے ٗ مگر کبھی کبھی ملنے آ جایا کروں گا ٗ مگر رزلٹ اچھا نہیں آیا تو فون تک کرنا بند۔‘‘ وہ اسے ڈرا ہی تو گیا۔
’’اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے؟‘‘ وہ ہارنے لگی۔
’’ہے تو سہی مگر وہ تمہیں قبول ہی کب ہے۔‘‘ کن انکھیوں سے دیکھا۔
’’آپ چاہتے کیا ہیں؟‘‘ وہ زچ ہو گئی۔
’’صرف تمہیں۔‘‘ ادائے بے نیازی سے کہا گیا۔
’’فضول باتیں مت کریں اور مجھے اموشنل بلیک میل بھی مت کریں ٗ جانتے ہیں ناں کہ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی ٗ اس لئے ایسی شرطیں لگا رہے ہیں۔‘‘
’’تم مان جائو تو میں تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔‘‘ اس کے اداس ناراض چہرے کو اپنی طرف گھمایا۔
’’پوری 10 شرطیں ماننا پڑیں گی۔‘‘ اس نے گویا ہتھیار ڈال دیئے تھے۔
’’صرف 10…؟‘‘ وہ کھل کر مسکرایا۔
’’کم ہیں ناں تو پوری 20…!‘‘
’’اچھا اب زیادہ پھیلو نہیں ٗ اندر چلو ماموں جان کیا سوچیں گے گھر میں ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنے کا موقع نہیں ملتا ٗ جو اس طرح گاڑی سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔‘‘ شرارت سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دے کر چھوڑ دیا۔
’’آپ میری بات مت بدلیں ٗ میری پوری 20 شرطیں ہی ماننا پڑیں گی آپ کو ٗ ورنہ میں یونیورسٹی قطعی نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ ٹھنک کر نروٹھے لہجے میں بولی۔
’’مادام! ہم آپ کی ہر شرط مان لیں گے ٗ ابھی اندر چلو اور بعد میں ساری شرطیں ایک پیپر پر لکھ لینا ٗ خادم کسی ایک کی بھی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔‘‘
’’میں ساری شرطیں ایک ساتھ نہیں بتائوں گی ٗ بلکہ وقتاً فوقتاً۔‘‘
’’منظور ہے ٗ مگر میری بھی ایک شرط ماننا پڑے گی۔‘‘
’’آپ کوئی شرط نہیں رکھ سکتے ٗ آپ نے جو منوانا تھا وہ منوا چکے اب میری باری ہے اور میری بھی ایک بات یاد رکھئے گا ٗ بعد میں آئیں بائیں شائیں کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ پرس اٹھاتے ہوئے جذباتی انداز میں اسے دھمکایا۔
’’تم سے برا کوئی ہو بھی نہیں ہو سکتا۔‘‘ ہنستے ہوئے گاڑی سے باہر آ گیا۔
’’آپ نے میری ایک شرط بھی ماننے سے انکار کیا تو ہماری ڈیل کینسل ہو جائے گی۔‘‘ وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی۔
’’جو کہو گی ٗ جیسا کہو گی ٗ مان لوں گا ٗ بس اس ٹاپک کو ختم کرو ٗ بھیجا خالی کرکے رکھ دیا ہے۔‘‘ باقاعدہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے۔
’’خود کا بھیجا خالی ہو گیا ہے ناں تو اسی لئے تو چاہتے ہیں کہ میرا دماغ بھی خالی ہو جائے ٗ س?
