Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04
’’بھابی بیگم! آپ فکر کیوں کرتی ہیں ٗ سارے کام ہو جائیں گے۔‘‘ وہ کچھ دیر پہلے ہی آئی تھیں اور آنے سے پہلے کال کرکے کہہ دیا تھا کہ حنین سے کچھ نہ کہا جائے ٗ جو ہو گیا سو ہو گیا ٗ باتیں دہرانے سے کیا حاصل۔ حنین نے آتے ہی ان سے سوری کی تھی اور آفس جوائن نہ کرنے کا بھی بتا دیا تھا اور ان سب نے بلا ٹلنے پر اطمینان محسوس کرتے ہوئے اسے معاف کر دیا تھا۔
’’مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا کہ کس طرح ہوں گے سب کام؟‘‘
’’آپ دیکھتی جایئے سب کام وقت سے پہلے کس طرح نمٹتے ہیں ٗ یہ بتایئے رات کا مینیو تیار کر لیا ہے؟‘‘
’’ہاں ٗ میں سوچ رہی تھی کہ بریانی ٗ قورمہ ٗ کسٹرڈ میٹھے میں بن جائے گا ٗ اس کے علاوہ کباب اور سلاد وغیرہ ہو جائے گی ٗ تمہیں کچھ کم لگ رہا ہے تو بتائو؟‘‘
’’ایک دم پرفیکٹ بھابی! آپ جلدی جلدی سامان کی لسٹ بنا لیں ٗ جائو حنین! کاپی پین لے کر آئو۔‘‘ انہوں نے حنین کو دوڑایا تھا۔
’’میں چلوں ٗ آپ خواتین کی سودا سلف کی باتیں میرے سر سے گزر رہی ہیں۔‘‘ چائے ختم کرتے ہی وہ جانے کیلئے اٹھ گئے تھے۔
’’کیا چلوں… بیٹھ جایئے ٗ یہ سارا سودا سلف لے کر کون آئے گا؟‘‘ وہ شوہر کو دیکھنے لگی تھیں۔
’’فریدہ! بھیا جی کو جانے دو ٗ میں اسجد کو بلا لوں گی ٗ وہ کہہ کر گیا تھا۔‘‘
’’اتنا وقت نہیں ہے ہمارے پاس ٗ یوسف آپ بس 5, 10 منٹ رک جایئے ٗ میں آپ کے ساتھ چلوں گی ٗ باقی باتیں گاڑی میں بتا دوں گی۔‘‘ اسی وقت حنین مطلوبہ چیزیں لے کر آ گئی تھی۔
’’بھابی! آپ بتاتی جایئے ٗ حنین لسٹ بنا لے گی۔‘‘ انہوں نے کہتے ہوئے زرمین کو آواز لگائی تھی۔
’’آپ نے بلایا تھا پھپھو!‘‘ وہ اس کا جائزہ لے رہی تھیں ٗ جب اس نے پوچھا تھا اور وہ اس کے صاف ستھرے کاٹن کے سوٹ سے مطمئن ہو گئی تھیں۔
’’تم جا کر اپنا ہینڈ بیگ لے آئو۔‘‘
’’پھپھو! آپ زرمین آپی کو لے جائیں گی تو کھانا کون بنائے گا؟‘‘ لسٹ بناتے ہوئے اس کی زبان ہلی تھی۔
’’ایک صرف تمہاری آپی کو کھانا بنانا نہیں آتا ٗ ہم تینوں خواتین بھی یہ کارنامہ اچھے سے انجام دے لیتی ہیں اور تم ادھر ادھر دھیان نہ دو ٗ بھابی جو بتا رہی ہیں توجہ سے لکھو ٗ کوئی ایک چیز بھی لانے سے رہ گئی تو مسئلہ بنے گا اور تم کھڑی کیوں ہو، جائو اور ہاں رات میں پہننے کیلئے اسٹائلش سا سوٹ اور اس کی میچنگ کی ہر چیز بھی نکالتی آنا اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا ساتھ ہی لے آئوں گی۔‘‘ وہ فریدہ کی ہدایت پر وہاں سے نکل گئی تھی۔
’’شازمین! تم حنین کے ساتھ مل کر صفائی کر لینا اور تمہیں تو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے؟‘‘ شازمین نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
’’ویری گڈ حنین! تم نے بہت ہی زبردست لسٹ بنائی ہے ٗ آئی ایم ایمپریس۔‘‘ اس کے ہاتھ سے لسٹ لی تھی اور ان کی تعریف پر ایک فخریہ مسکراہٹ حنین کے چہرے پر سج گئی تھی۔
’’تھینک یو پھپھو!‘‘
’’حنین! تم شازمین کی مدد کروا دینا ٗ زرمین کو پارلر لے کر نہ جانا ہوتا تو میں تم سے نہیں کہتی اور تم تو جانتی ہو یہ شازمین کم اور زرمین زیادہ کام کرتی ہے ٗ تم مدد کروا دو گی تو سارا کام جلدی ہو جائے گا۔‘‘ وہ سب فریدہ کو دیکھ رہی تھیں کہ وہ کہہ کیا رہی ہیں ٗ ورنہ تو شازمین اپنا ہر کام نہایت ذمہ داری اور پھرتی سے ہی کرتی تھی۔
’’پھپھو! آپ فکر نہ کریں ٗ میں شازمین بجو کے ساتھ برابر سے کام کروائوں گی۔‘‘ اتنی تعریف سننے کے بعد وہ کافی ایکسائیٹڈ ہو چکی تھی۔
’’اچھا ٗ اب جا کر زرمین کو بلا لائو ٗ کافی دیر ہو رہی ہے۔‘‘
’’پھپھو! آپ کو میں ایسی لگتی ہوں؟‘‘ وہ حنین کے منظر سے ہٹتے ہی خفگی سے بولی تھی۔
’’ارے نہیں بیٹا! میں نے تو بس حنین کا دل رکھنے کو کہا اور تم خود سوچو میں یا کوئی بھی اسے یہ برتن بھی اٹھا کر کچن میں رکھ کے آنے کو کہتا تو وہ منع کر دیتی ٗ مگر اب دیکھنا وہ تمہارے ساتھ کام کروائے گی اور وہ بھی خوشی خوشی۔‘‘ انہوں نے شازمین کا گال تھپتھپایا تھا۔
’’میں جب تک سامان لے کر آتی ہوں ٗ آپ لوگ چھوٹے موٹے کام نبٹا لیں۔‘‘ یہ آتی ہوئی زرمین کو دیکھ کھڑی ہو گئی تھیں۔
’’اور میں زرمین کو اپنے ساتھ اس لئے لے جا رہی ہوں کہ اسے پارلر چھوڑ دوں گی ٗ کٹنگ ٗ فیشل اور مینی کیور و پیڈی کیور ہو گا جتنی دیر میں ٗ میں بھی فارغ ہو جائوں گی۔‘‘ وہ اپنا پرس اٹھاتیں باہر نکل گئی تھیں۔
’’یوسف! آپ پہلے زرمین کو پارلر چھوڑیں اور پھر مجھے چھوڑ کر دوست کی طرف نکل جائیں ٗ میں فارغ ہو کر آپ کو کال کرکے بلا لوں گی۔‘‘ فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد انہوں نے اپنے پروگرام سے آگاہ کیا تھا۔
’’اوکے مادام! جیسے آپ کہیں ٗ ورنہ میں آپ کے ساتھ بھی چل سکتا ہوں ٗ دوست کی طرف جانا اتنا ضروری بھی نہیں ہے ٗ خادم آپ کی مدد کیلئے حاضر ہے۔‘‘ مہارت سے ڈرائیو کرتے ہوئے شرارت سے کہا گیا تھا۔
’’خادم صاحب! زیادہ پھیلئے نہیں ٗ پیچھے بچی بیٹھی ہوئی ہے ٗ کیا سوچے گی؟‘‘
’’بچی بہت اچھی ہے ٗ اس لئے اچھا ہی سوچے گی۔‘‘ ان پر گویا کوئی اثر نہ ہوا تھا اور وہ دلکشی سے ہنستے ہوئے کہہ رہے تھے۔
’’پھپھو! وہ میں اکیلے پارلر میں کیسے رہوں گی؟‘‘ ان کی آپسی نوک جھوک کے اختتام پر وہ کچھ سوچ کر بولی تھی۔
’’کیا مطلب… کیسے رہو گی؟ وہ زرمین میری فرینڈ کا پارلر ہے ٗ جہاں میں تمہیں چھوڑ رہی ہوں ٗ یو ڈونٹ وری اور تم گھر پر کہتیں تو میں حنین کو ہی ساتھ لے آتی۔‘‘
’’پھپھو! میں تو سمجھی تھی کہ آپ ساتھ جائیں گی۔‘‘
’’بیٹا! ایک کام نہیں ہے ٗ سو بکھیڑے ہیں ٗ اس لئے میں تمہارے ساتھ چلی جائوں گی اور بعد میں سامان خریدیں گے تو اس طرح پورا دن اسی میں گزر جائے گا۔‘‘
’’زرمین بیٹی بھی ٹھیک کہہ رہی ہے فریدہ! یہ وہاں اکیلے نروس فیل کرے گی ٗ تمہیں اس کے ساتھ پارلر میں چھوڑنے کیلئے کسی کو تو لانا ہی چاہئے تھا۔‘‘
’’مگر ہم کافی دور نکل آئے ہیں ٗ واپس جائیں گے تو ٹائم ویسٹ ہو گا۔‘‘
’’میں ایسا کرتا ہوں پہلے تمہیں چھوڑ دیتا ہوں اور بعد میں زرمین بیٹی کو چھوڑ دوں گا ٗ میں تمہیں چھوڑ کر حنین…‘‘
’’حنین کو رہنے دیں یوسف! پارلر ہمارے گھر کے نزدیک ہے اس لئے آپ مائدہ کو زرمین کے ساتھ چھوڑ دیجئے گا ٗ وہ اب تک اپنے کاموں سے فارغ بھی ہو گئی ہو گی ٗ میں اسے فون کرکے تیار ہونے کا کہہ دیتی ہوں۔‘‘ وہ گھر کا نمبر ڈائل کرنے لگی تھیں۔
’’مائدہ بیٹا! کیا کر رہی تھیں؟ سب کاموں سے فارغ ہو گئیں۔؟‘‘
’’جی مما! سب کام ہو گئے ہیں ٗ شاور لے کر نکلی ہوں ابھی‘ بس دوپہر کیلئے کچھ بنانے جا رہی ہوں ٗ ارحم بھیا کا فون آیا تھا وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں گھر آ رہے ہیں ٗ پھر شاید انہیں کہیں جانا ہے۔‘‘ ایک ہاتھ سے سیل تھامے اور دوسرے سے بالوں میں برش کرتی وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
’’ایسا کرو تم تیار رہو ٗ تمہیں پاپا لینے آ رہے ہیں ٗ تمہیں زرمین کے ساتھ پارلر جانا ہے اور ارحم سے میں خود کانٹیکٹ کر لوں گی۔‘‘ انہوں نے بیٹی کو ہدایت دے کر لائن کاٹی تھی اور ارحم کا نمبر ملانے لگی تھیں۔
’’جی مما! کہئے کیسے فون کیا؟‘‘
’’ارحم بیٹا! کب تک گھر آ رہے ہو؟‘‘
’’مما! ڈیڑھ گھنٹہ تو کم از کم لگے گا ٗ کھانا گھر پر ہی کھائوں گا۔‘‘
’’اوکے ٗ گھر جاتے ہوئے مجھے یہاں مال سے پک کر لینا۔‘‘
’’اوکے مما! آپ جب فارغ ہو جائیں مجھے بتا دیں اور اگر میں پہلے فارغ ہو گیا تو آپ سے کانٹیکٹ کر لوں گا۔‘‘ لائن کٹ کرکے سیل پرس میں ڈال دیا تھا۔
’’زرمین! جب پارلر سے فارغ ہو جائو اپنے پھپھا جان کو فون کرکے بلا لینا ٗ آپ بچیوں کو گھر چھوڑ دیجئے گا ٗ میں ارحم کے ساتھ آ جائوں گی۔‘‘
’’مائدہ کو کہاں چھوڑنا ہے؟‘‘ گاڑی مطلوبہ جگہ روکتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’یوسف! آپ دیکھ لیجئے گا ٗ اگر آپ کو مناسب لگے تو بھائی صاحب کے ہاں لے جایئے گا ٗ ورنہ پہلے اسے گھر ڈراپ کر دیجئے گا۔‘‘ وہ کہتے ہوئے پرس اور دوپٹہ سنبھالتیں گاڑی سے اتر گئی تھیں اور وہ گاڑی بڑھا لے گئے تھے ٗ فریدہ نے خریداری سے فارغ ہو کر بیٹے کو کال کی تھی اور ارحم نے انہیں 15 منٹ بعد ہی پک کر لیا تھا اور وہ اس کے ساتھ سامان سے لدی پھندی ’’کاشانۂ عالم‘‘ چلی آئی تھیں۔
٭٭٭
’’پھپھو! سلاد میں بنائوں گی۔‘‘
’’نہیں حنین! سلاد مائدہ بنا لے گی ٗ تم ایسا کرنا پلیٹوں میں سلیقے سے سجا دینا۔‘‘ یوسف الحسن مائدہ کو کاشانۂ عالم ہی لے آئے تھے اور ان کے پوچھنے پر بولے تھے۔
’’یہ مائدہ کا سسرال بعد میں اور ماموں کا گھر پہلے ہے ٗ اس لئے میں مائدہ کو یہیں لے آیا ٗ ٹھیک کیا میں نے؟‘‘
’’جناب! آپ کچھ غلط کرتے ہی کب ہیں ٗ تھینکس!‘‘ مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا تھا اور وہ بھی دھیمے سے مسکرا دیئے تھے۔
’’میں گھر جا رہا ہوں فری! شام تک آ جائوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلے گئے تھے ٗ دوپہر کا کھانا کھا کر ارحم بھی ان کے ساتھ نکل گیا تھا ٗ شازمین نے دوپہر کے کھانے کے برتن سمیٹ کر دھوئے تھے اور جب سے ہی ساری خواتین بے حد مصروف تھیں۔ فریدہ نے بریانی ٗ ساجدہ نے قورمہ ٗ راشدہ نے کباب بنانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی اور اب حنین راشدہ کے ساتھ مل کر کبابوں کے مسالے کی ٹکیہ بنوا رہی تھی۔
’’فریدہ! تم نے ایک ہی رات میں جادو کر دیا ہے ٗ ہر کام یہ کتنی ذمہ داری سے سب کے ساتھ مل کر کروا رہی ہے ٗ ورنہ تو ہل کر پانی بھی نہیں پیتی۔‘‘ بیٹی کو دیکھتے ہوئے وہ سرگوشی میں بولی تھیں۔
’’بھابی! آپ سے کہا تھا نا میں نے حنین کو پیار اور توجہ دی جائے گی تو یہ ہماری امیدوں سے بڑھ کر ثابت ہو گی ٗ ڈانٹ پھٹکار سے صرف دور ہو گی اور آپ نے اس وقت چہرہ دیکھا تھا اس کا جب میں نے اس کی بنائی لسٹ کی تعریف کی تھی ٗ اس کے معمولی سے کام کی بھی تعریف کریں گی نا تو یہ اس سے بھی اچھا کرنے کی کوشش کرے گی اور دیکھئے گا پھر ایک دن ایسا آئے گا جب یہ زرمین اور مائدہ سے اچھا کھانا بنائے گی۔‘‘ وہ بریانی کو دم لگاتے ہوئے حنین کے حوالے سے پرامید تھیں۔
’’تھینکس فریدہ! تمہاری مورل سپورٹ میرے لئے بہت بڑا سہارا ثابت ہوئی ہے ٗ میں ماں ہو کر حنین کو نہیں سمجھ سکی اور تم!‘‘
’’بھابی! بریانی کو تھوڑی دیر بعد الٹ پلٹ دیجئے گا ٗ میں مہوش سے فون کرکے پوچھ آئوں کہ وہ لوگ کب تک آئیں گے؟‘‘ وہ ان کی بات کاٹ کر کہتیں باہر نکل گئی تھیں۔
’’بھابی بیگم! باقی کام بچیاں دیکھ لیں گی ٗ آپ دونوں ایک گھنٹہ آرام کر لیں ٗ وہ لوگ 7 بجے تک آئیں گے اور شازمین! تم کسٹرڈ بنا لو ٗ مائدہ! کھیر دیکھ لینا ٗ بن گئی ہے بس ٗ اب تم اسے پیالوں میں نکال لینا اور یہ سب کام جلدی جلدی فائنل کرکے ڈائننگ ٹیبل سجا دینا ٗ باقی مہمانوں کے آنے کے بعد دیکھ لیں گے اور یہ سب کام جلدی کرنا کیونکہ تم دونوں نے تیار بھی ہونا ہے۔‘‘ وہ جاتے جاتے پلٹ کر بولی تھیں اور کچن سے نکل گئی تھیں۔
’’مائدہ اپیا! آپ کون سے کپڑے پہنیں گی؟ آپ کپڑے لے کر تو آئی نہیں ہیں۔‘‘ حنین گاجر کھاتے ہوئے کارنر پر بیٹھ گئی تھی۔
’’تم نے آتے ساتھ ہی میرا سوٹ اتار دیا ہوتا تو میں یہی پہن لیتی ٗ مگر اب سوچا ہے زرمین کا سوٹ پہن لوں گی ٗ شازمین نے سب کے کپڑے استری بھی کر دیئے ہیں ٗ یہاں تک کہ تمہارے بھی کپڑے استری ہو گئے ہیں۔‘‘ وہ پیالوں میں کھیر نکالتے ہوئے اسے دیکھے بنا مصروف انداز میں بتا رہی تھی۔
’’میں آپ کا سوٹ ابھی آپ کو اتار کر دے دیتی ہوں ٗ مجھے تو پھپھو نے کہا تھا اس لئے پہن لیا ٗ ورنہ مجھے کوئی شوق نہیں ہے کسی کے کپڑے پہننے کا۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں ہے ٗ یہ سوٹ تم ہی رکھ لو ٗ میں نے ایک دفعہ ہی پہنا ہے اور مجھ سے زیادہ تم پر جچ رہا ہے ٗ یقین نہ آئے تو شازمین سے پوچھ لو اور حنین! تم کھیر کے پیالوں میں چاندی کے ورق اور پستے و بادام سے گارنشنگ کر دو۔‘‘ اسے کچھ کہنے سے پہلے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے اس نے کام بتایا تھا۔
’’میں بہت تھک گئی ہوں ٗ اس لئے میں نہیں کر رہی۔‘‘ اس کے انداز میں نروٹھا پن تھا۔
’’اچھا ٗ ہاں رہنے دو ٗ آج تم نے سب کی ہی ہیلپ کی ہے اس لئے جا کر آرام کر لو ٗ ہم فارغ ہو کر آئیں گے تو ساتھ ہی تیار ہو جائیں گے۔‘‘ وہ اپنا کام چھوڑ کر فوراً اس تک آئی تھی اور پیار سے اس کا گال تھپتھپایا تھا۔
’’میں یہ سب کر دیتی ہوں ٗ اس کے بعد چلی جائوں گی اور اب مجھے سلاد بھی تو سیٹ کرنی ہے ورنہ پھپھو کیا کہیں گی ٗ میں اتنا سا کام بھی نہیں کر سکتی۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کارنر سے اتری تھی اور کام کرنے لگی تھی۔
’’شازمین بجو! آپ نے میرے کون سے کپڑے نکالے ہیں؟ میں نے تو آپ کو اپنے روم میں بھی جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘ یاد آنے پر وہ پستے چھڑکتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی تھی۔
’’میں نے تمہارا سی گرین سوٹ جو تم نے لاسٹ منتھ بنایا تھا وہ پریس کر دیا ہے۔‘‘
’’وہ کیوں بجو؟ اس کی تو چوڑیاں بھی نہیں ہیں اور نہ ہی میچنگ سینڈل ہے ٗ وہ سوٹ تو ممی نے مجھے گھر میں پہننے کیلئے بنا کر دیا تھا ٗ اس لئے اس کی میچنگ کی چیزیں نہیں ہیں میرے پاس۔‘‘
’’بے فکر رہو ٗ تمہیں ہر ایک چیز میچنگ کی ملے گی ٗ آفٹر آل تم زرمین آپی کی سب سے لاڈلی اور چہیتی بہن ہو۔‘‘
’’وہ تو ہے ٗ زرمین آپی مجھے آپ سے زیادہ چاہتی ہیں اور میں ان کے جانے کے بعد ان کے بغیر کیسے رہوں گی؟‘‘
’’اب رونے مت بیٹھ جانا ٗ مہمان آنے والے ہیں اور تمہارا کام ختم نہیں ہوا تو سب کیا کہیں گے؟‘‘ شازمین کی بات پر وہ آنکھ میں آ جانے والے آنسو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی تھی۔
٭٭٭
’’میں تو چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو ہم دونوں بچیوں کی ایک ہی دن ایک ہی ہال میں شادی کر لیتے ہیں ٗ آخر سمیرا بھی تو میرے لئے میری بیٹی جیسی ہیں۔‘‘ نوید عالم نے خلوص سے ایک آفر کی تھی ٗ جس کو سب ہی سراہ رہے تھے۔
’’بھیا صاحب! بات تو نوید بھائی صاحب نے بہت اچھی کی ہے ٗ ہم بھی الگ الگ فضیل اور فیصل کی برات لے جانے سے بچ جائیں گے ٗ یہ دونوں بھائی اور وہ دونوں بہنیں ایک ساتھ ہی رخصت ہو جائیں گی۔‘‘ فیاض حمایت میں بولے تھے۔
’’یہ تو نوید کی اعلیٰ ظرفی ہے جو یہ اتنی اپنائیت سے بات کر رہے ہیں۔‘‘
’’بھیا صاحب! تو بس طے ہو گیا 24 کو مایوں اور مہندی کی رسم چاروں بچوں کی ایک ساتھ ہو جائے گی ٗ 25 کو برأت اور 26 کا ولیمہ یہاں کوئی غیر ہیں ٗ اس لئے جتنی اپنائیت سے اور دل بڑا کرکے آج ہم نئے رشتوں کی بنیاد رکھیں گے ٗ اتنی ہی ہمارے بچوں کی آنے والی زندگی خوشگوار گزرے گی۔‘‘ مہوش نے خلوص سے نوید عالم کے مشورے کو سراہتے ہوئے سارا پروگرام طے کر دیا تھا۔
’’جیسے آپ سب کی مرضی ٗ میں تو بس تمہاری اور سب کی خوشی میں خوش ہوں۔‘‘ شاکر مسکراتے ہوئے ان کی بات مان گئے تھے۔
’’میں مٹھائی لے کر آتی ہوں تاکہ سب کا منہ میٹھا کیا جا سکے۔‘‘ راشدہ کہتے ہوئے لائونج سے نکل گئی تھیں۔
’’اتنا بڑا کام تو خوش اسلوبی سے نمٹ گیا بس آگے کے کام بھی اچھے سے ہوں اور ہم سب بڑے بچوں کی شادی سے نمٹ جائیں۔‘‘ یوسف الحسن نے مٹھائی کا ٹکڑا منہ میں رکھ لیا تھا۔
’’انشاء اللہ! سارے کام اچھے سے نمٹ جائیں گے ٗ نیت نیک تو منزل آسان۔‘‘ فیاض بولے تھے۔
’’ایک بندہ تو یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکتا ٗ اس لئے ہم سب مل کر ذمہ داریاں اٹھائیں گے تو کام نمٹ بھی جائیں گے اور کسی پر برڈن بھی نہیں پڑے گا اور خواتین کا یہ خوف بھی نکل جائے گا کہ اتنے کم وقت میں اتنے ڈھیر سارے کام کیسے ہوں گے؟‘‘ یوسف الحسن احترام بھری نگاہوں سے راشدہ کو دیکھتے ہوئے بولے تھے اور وہ ان کا اشارہ سمجھ کر محض مسکرا دی تھیں۔
’’ہاں اور کیا… کام کم ہوتے ہیں ٗ مگر آرگنائزڈ طریقے سے نہیں ہوتے اور ساری ذمہ داری کسی ایک پر ہی ہو تو صحیح کام بھی غلط ہو جاتے ہیں۔‘‘
اسی لئے تو ہم مل کر کام کریں گے ٗ اب ہم خود ڈیسائیڈ کرلیں گے کہ کون کیا کام کرے گا۔‘‘
’’بھئی! مجھے تو کوئی آسان کام سونپ دینا ٗ بیمار آدمی ہوں زیادہ کچھ نہیں کر سکوں گا۔‘‘ شاکر اپنائیت سے بولے تھے۔
’’بھیا صاحب! فکر ہی نہ کریں اور آپ کوئی بیمار ویمار نہیں ہیں ٗ بیٹی کو خوشی خوشی رخصت کریں ٗ کون سا کسی غیر کے گھر جا رہی ہے۔‘‘ یوسف الحسن نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔
’’کام کس طرح کرنے ہیں وہ تو ہم سوچ ہی لیں گے ٗ مگر میں سمجھتا ہوں اس وقت ہمیں دینے دلانے کی بات کر لینی چاہئے۔‘‘
’’بھائی صاحب! دینے ولانے کی بات تو بالکل نہیں ہے ٗ ہمارے گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے ٗ ہمیں صرف زرمین بیٹی چاہئے ٗ ہاں آپ زرمین کو جو چاہیں دیں ٗ مگر جہیز وغیرہ کی بات بالکل نہ کریں۔ ہاں حق مہر اور جو چاہیں وہ آپ زرمین بیٹی کی سیفٹی کیلئے لکھوا لیں۔‘‘
’’زرمین آج تک میری بیٹی تھی ٗ مگر آج سے وہ آپ کی بہو ٗ آپ کی بیٹی ہے اور حق مہر شرع کے حساب سے رکھ لیں ٗ اس کے علاوہ ہمیں کسی قسم کی ضمانت نہیں چاہئے۔‘‘ نوید عالم نے صاف الفاظ میں اپنا موقف بیان کر دیا تھا۔
’’باقی باتیں میرا خیال ہے بعد میں کر لیں گے ٗ ابھی کھانا کھا لیتے ہیں۔‘‘ فریدہ نے کہا تھا اور جواب مثبت پاکر انہوں نے شازمین اور مائدہ کو بلا کر کھانا لگانے کو کہا تھا ٗ بڑے ہی خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا اور شادی کے متعلق چند ایک فیصلے ہوئے تھے ٗ تینوں فیملیز کے افراد نے اپنے اپنے حساب اور مرضی سے ذمہ داری لے لی تھی کیونکہ ان کے پاس شادی کی تیاریوں کیلئے محض اٹھارہ دن تھے اور کتنے ہی کام نمٹانے تھے۔
٭٭٭
’’آج آپ یہاں کا کیسے راستہ بھول گئے؟‘‘ سلام دعا کے بعد راحم سے استفسار ہوا تھا۔
’’بس فرصت ہی نہیں ملتی ٗ آج آفس سے لنچ ٹائم میں گھر آ گیا تھا اور مما یہاں لے آئیں۔‘‘
’’اور آنا بھی فضول گیا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ اس کی شرارت بالکل نہیں سمجھا تھا۔
’’شازمین بجو گھر پر نہیں ہیں۔‘‘ ہنستے ہوئے اطلاع فراہم کی تھی۔
’’اچھا ٗ پھرتو میں چلوں۔‘‘ وہ بھی شرارت سے بولا تھا۔
’’ایسے کیسے ٗ کیا آپ صرف شازمین بجو سے ملنے آئے تھے؟‘‘
’’ملنے نہیں آیا تھا ٗ مل تو سکتا تھا لیکن ایسا پوسیبل ہی نہیں ہے تو چلتا ہوں ٗ مجھے آفس پہنچنا ہے۔‘‘ وہ اس کے سر پر چپت لگاتا کھڑا ہو گیا تھا۔
’’کچھ دیر تو بیٹھو بیٹا! کم از کم چائے تو پی لو۔‘‘ ساجدہ اندر آتے ہوئے اس کے سلام کرنے کے ساتھ ہی اجازت طلب کرنے پر بولی تھیں۔
’’مامی! پھر کبھی آئوں گا ٗ ابھی تو میں صرف مما کو چھوڑنے آ گیا تھا ٗ 4 بجے میری ایک میٹنگ ہے ٗ اس لئے آفس پہنچنا ضروری ہے۔‘‘ وہ چائے کی آفر پھر کبھی پر ڈالتا ادب سے انہیں عذر بتا کر واپس چلا گیا تھا۔
٭٭٭
زرمین آپی! میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ حنین اس کے روم میں داخل ہوئی تھی اور اس کی نگاہ تو جیسے اس پر جم سی گئی تھی ٗ دھانی رنگ کی لانگ شرٹ اور چوڑی دار پاجامہ ٗ دھانی اور یلو رنگ کا دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا ٗ جس سے ذرا نیچے خوبصورت پینڈنٹ اپنی بہار دکھا رہا تھا ٗ لانبے لانبے ہمرنگ آویزے کانوں میں سجائے ٗ دونوں کلائیوں میں بھر بھر کانچ کی چوڑیاں پہنے اور لانبے بالوں کو پراندے میں سلیقے سے مقید کئے ٗ چند لٹیں ماتھے پر جھول رہی تھیں ٗ لائٹ نیچرل میک اپ ٗ آنکھوں میں کاجل ٗ مسکارا اور آئی لائنر کی موٹی سی تہہ لگائے ٗ وہ سجی سنوری اس کے سامنے تھی ٗ وہ خوبصورت تو پہلے بھی تھی اور آج تو اس کی خوبصورتی دو چند ہو گئی تھی ٗ چہرے پر لڑکپن و جوانی کا حسین امتزاج لئے وہ زرمین کو مبہوت کر گئی تھی۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہیں ٗ کیا میں اچھی نہیں لگ رہی؟‘‘ وہ اس کی آواز سے چونک اٹھی تھی۔
’’ماشاء اللہ بہت پیاری لگ رہی ہو ٗ اللہ تمہیں نظر بد سے بچائے۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل سے کاجل اٹھا کر اس کے کان کے پیچھے نظر کا ٹیکہ لگایا تھا۔
٭٭٭
’’تائی جان نے میری نظر بھی اتاری ہے ٗ وہ کہہ رہی تھیں میں بہت اچھی لگ رہی ہوں اور آج تو ممی اور شازمین بجو نے بھی میری تعریف کی ٗ اسی لئے میں بھاگی بھاگی آپ کے پاس آئی ہوں۔‘‘
’’تمہیں اتنے لوگوں کی بات پر یقین نہیں تھا؟‘‘
’’یقین تو تھا ٗ مگر آپ کی بات اور ہے ٗ آپ مجھے کبھی مس گائیڈ نہیں کرتیں۔‘‘ اس کے لہجے میں زرمین کیلئے محبت اور مان ہی مان تھا۔
’’تم سے یہ کہا تھا کہ تم یہاں آ کر جم جائو ٗ نیچے سب انتظار کر رہے ہیں اور محترمہ یہاں کھڑی باتیں کر رہی ہیں۔‘‘ شازمین نے انٹری دی تھی۔
’’وہ… سوری بجو! میں بھول ہی گئی تھی۔‘‘
’’آپی! ہال میں جانے کیلئے بس آپ کا ہی انتظار ہو رہا ہے اور پھپھو نے کہا ہے آپ بڑی سی چادر اوڑھ لیجئے گا۔‘‘
’’لیکن کیوں؟ آپی نے تو میک اپ تک نہیں کیا ہے۔‘‘ زرمین نے زرد رنگ کے شلوار قمیض میں سبز اور زرد ڈوپٹہ سلیقے سے سر تک لیا ہوا تھا اور وہ محض پھولوں کا زیور پہنے ہوئی تھی اور دونوں ہاتھوں میں تھوڑی تھوڑی کانچ کی چوڑیاں پہن رکھی تھیں اس کے علاوہ ہر آرائش سے مبرا تھی۔
’’آپی دلہن ہیں ٗ ان پر کسی کی نظر نہیںپڑنی چاہئے۔‘‘
’’لیکن کیوں؟‘‘
’’او، پلیز حنین! یہ باتیں تمہاری سمجھ میں نہیں آئیں گی۔‘‘
’’کیوں…؟ اب اتنی بھی کم دماغ نہیں ہوں۔‘‘
’’یہ باتیں چالاک لوگوں کے سمجھنے کی ہیں اور تم بہت معصوم ہو۔‘‘ اس سے بحث کرنے سے پہلے ہی اس نے ہتھیار ڈال دیئے تھے ٗ جہاں اس نے لڑنے کا ارادہ ترک کیا تھا وہیں زرمین مسکرا دی تھی۔
٭٭٭
’’یار! ہم رسم سے پہلے لڈی ڈال لیتے ہیں۔‘‘
’’نہیں ٗ رسم کے بعد ٗ ابھی تو ہم گانے گائیں گے ٗ کیوں مائدہ اپیا؟‘‘ اس نے وہاں سے گزرتی ہوئی مائدہ کو اس طرح مخاطب کیا تھا جیسے وہ ان کی باتوں میں کب سے ساتھ دے رہی تھی جبکہ اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ بات کیا ہو رہی تھی۔
’’مائدہ آپی کو کیا پتہ کہ ہم کیا بات کر رہے ہیں؟‘‘ سحرش نے طنز کیا تھا۔
’’مائدہ اپیا! ہم لوگ گانے کب گائیں گے؟‘‘
’’مما سے پوچھ کر بتاتی ہوں اور تم ذرا ارحم بھیا کو تو دیکھو ٗ کہاں ہیں؟‘‘
’’ارحم بھیا ابھی نہیں آئے۔‘‘
’’وہ آ گئے ہیں ٗ ان سے مما نے گجرے منگوائے تھے ٗ اسی لئے انہیں ڈھونڈ رہی ہوں۔‘‘ مائدہ سے بات کرتے ہوئے حنین کی نگاہ انٹرینس پر کھڑے باتیں کرتے ارحم کے ساتھ اسجد پر پڑی تھی۔
’’اوہ… آپ اسجد بھائی کی وجہ سے نہیں جا رہی ہیں نا؟‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے ٗ ارحم بھیا اشارے سے بلا رہے ہیں ٗ پلیز تم چلی جائو۔‘‘
’’میں کیوں جائوں؟‘‘
’’مت جائو ٗ میں بھی نہیں جا رہی اور مما سے کہہ دوں گی ارحم بھیا ابھی تک نہیں آئے۔‘‘ وہ کچھ چڑ کر کہتی اسٹیج کی جانب بڑھ گئی تھی اور وہ ہنستے ہوئے ارحم کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ اپنی ہی دھن میں کسی سے ٹکرا گئی تھی اور مقابل کی نگاہ اس پر اٹھی تو اٹھی کی اٹھی رہ گئی۔ ماہ کنعان مبہوت سا کھڑا اس حسن کے پیکر کو نگاہوں کے راستے دل میں اتار رہا تھا۔
’’دیکھ کر نہیں چل سکتے؟ میرا تو سر گھوم کر رہ گیا ٗ آپ انسان ہیں یا پتھر؟‘‘ اس کا ماتھا ماہ کنعان کے سینے سے ٹکرایا تھا ٗ جسے سہلاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے تھے اور اس نے نگاہ اٹھا کر لانبے چوڑے ماہ کنعان کو دیکھا تھا ٗ جس کی نگاہ اُسی پر جمی ہوئی تھی۔
’’حنین! تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ ارحم نے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ آواز پر جیسے وہ حال میں لوٹ آیا تھا۔
’’ہاں… نہیں ٗ ارحم بھیا! میرا سر بری طرح گھوم رہا ہے ٗ یہ دیکھ کر نہیں چل سکتے تھے؟‘‘ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام گئی تھی۔
’’آئی ایم سوری ٗ بٹ شاید غلطی میری نہیں تھی۔‘‘
’’آپ کی ہی ساری غلطی ہے ٗ آنکھیں بند کرکے چل رہے تھے۔‘‘
’’حنین! میں نے خود دیکھا ہے ٗ غلطی تمہاری تھی ٗ یہ تم سے نہیں تم ان سے ٹکرائی تھیں ٗ اس لئے سوری کرو۔‘‘
’’اٹس اوکے ٗ سوری کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ماہ کنعان نے سنجیدگی سے ارحم کی بات قطع کی تھی اور ’’ایکسکیوزمی‘‘ کہتا آگے بڑھا تھا کہ کسی نے اسے پکار لیا تھا۔
’’واٹ آ پلیز نٹ سرپرائز!‘‘ فیصل اس سے بغل گیر ہوتا ہوا ہاتھ تھامے بولا تھا۔
’’کیوں میرے آنے کی توقع نہیں تھی؟‘‘
’’سچ بولوں تو ایک فیصد بھی یقین نہیں تھا کہ تو آئے گا۔‘‘
’’چل ٗ دیکھ لے میں تیرے یقین پر پورا نہ اترتے ہوئے چلا آیا۔‘‘ ان دونوں نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا تھا ٗ حنین تو حنین ٗ ارحم بھی حیران رہ گیا تھا کیونکہ ان لوگوں نے فیصل کو شازو نادر ہی مسکراتے دیکھا تھا اور کہاں وہ کھل کر ہنس رہا تھا۔
’’ارحم بھیا! سورج آج مغرب سے نکلا ہے کیا؟ فیصل بھیا… اور ہنس رہے ہیں ٗ امیزنگ!‘‘ اس کی آواز میں حیرت ہی حیرت تھی۔
’’آرام سے بولو وہ سن بھی سکتا ہے۔‘‘ ارحم نے اسے ڈپٹا تھا جبکہ وہ دونوں ان کی جانب متوجہ ہو گئے تھے کیونکہ اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ کچھ فاصلے پر موجود ان دونوں تک خود بخود ہی پہنچ گئی تھی۔
’’آج تو نئے نئے انکشاف ہو رہے ہیں ٗ میں تو سمجھتی تھی فیصل بھیا نہ ہنس سکتے ہیں اور نہ ہی سن…!‘‘ وہ اس کو اپنے عین سامنے دیکھ کر ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی تھی اور بے اختیاری میں اتنی تیزی سے ہوا تھا کہ وہ سی کرکے رہ گئی تھی۔
’’ارحم بھائی! اس سے ملئے ٗ یہ ہے میرا دوست ماہ کنعان اور کنعان یہ ارحم بھیا ہیں ٗ مما کی فرینڈ کے بیٹے اور فضیل بھائی کے بیسٹ فرینڈ اور میرے لئے بالکل فضیل بھائی جیسے۔‘‘ فیصل کے تعارف کروانے پر ان دونوں نے مصافحہ کیا تھا۔
’’اور یہ حنین ہے ٗ ارحم بھائی کی کزن سسٹر اور سحرش کی بیسٹ فرینڈ۔‘‘ وہ اب کے حنین کا تعارف کروا رہا تھا۔
’’نائس ٹو میٹ یو مس حنین!‘‘ وہ ہلکے سے مسکرایا تھا۔
’’مجھے فارمیلیٹیز نہیں آتیں ٗ مجھے آپ سے مل کر بالکل خوشی نہیں ہوئی اور میں جھوٹ نہیں کہہ سکتی ٗ نائس ٹو میٹ یو مسٹر ماہ کنعان!‘‘ وہ لفظوں کو چبا چبا کر کہتی کسی کو دیکھے بغیر آگے بڑھ گئی تھی۔
’’آئی ایم سوری کنعان! تھوڑی دیر پہلے جو ہوا ٗ وہ اس کی وجہ سے…!‘‘
’’اٹس اوکے مسٹر ارحم!‘‘ ماہ کنعان کا انداز نہایت فارمل تھا جبکہ فیصل کو اس پر شدید غصہ آ رہا تھا ٗ جس کو ارحم محسوس کرتا ایکسکیوز کرکے حنین کے پیچھے لپکا تھا۔
’’حنین! کیا ضرورت تھی وہ سب بکواس کرنے کی؟‘‘
’’وہ مجھے اچھے نہیں لگے تو کہہ دیا۔‘‘
’’مگر وہ تمہیں اچھا کیوں نہیں لگا؟‘‘
’’وہ مجھ سے ٹکرائے ٗ میرا سر ابھی تک ہلکے ہلکے گھوم رہا ہے۔‘‘
’’غلطی کنعان کی نہیں ٗ تمہاری تھی ٗ تم اندھا دھند چل رہی تھیں۔‘‘
’’آپ مجھے ڈانٹ رہے ہیں؟‘‘
’’نہیں ٗ میری یہ مجال کہ میں تمہیں ڈانٹوں۔‘‘ اسے رونے کو پر تولتے دیکھ کر وہ قدرے خفگی سے کہتا آگے بڑھ گیا تھا ٗ جبھی اسے شازمین بلانے چلی آئی تھی۔
’’کہاں تھیں تم اتنی دیر سے؟ پھپھو کہہ رہی ہیں سنگینگ مقابلہ کرنا ہے تو ٹھیک ٗ ورنہ رسم شروع کر رہے ہیں۔‘‘
’’کیا… رسم شروع کر رہے ہیں ٗ میرے بغیر؟‘‘ وہ چیخی تھی اور کتنے ہی لوگ متوجہ ہو گئے تھے۔
’’پاگل! چیخو تو مت۔‘‘ شازمین نے اسے ڈپٹا تھا۔
’’اور یہ تمہاری بندیا کہاں گر گئی۔‘‘ جیسے ہی نظر پڑی تھی شازمین نے اس کی توجہ اس جانب دلائی تھی ورنہ تو اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کی بندیا کہیں گر گئی ہے۔
’’یہ یقینا اس سے ٹکراتے وقت ہی گری ہو گی۔‘‘
’’تم کس سے ٹکرا گئی تھیں؟‘‘
’’فیصل بھیا کا کوئی دوست ہے ٗ ماہ کنعان ٗ اندھوں کی طرح چل رہا تھا ٗ میرا سر اس کے سینے سے ٹکرا گیا تھا ٗ جبھی گری ہو گی ٗ میں دیکھ کر آتی ہوں۔‘‘ وہ اپنی غلطی اس کے سر ڈال جلدی جلدی کہتی پلٹنے لگی تھی ٗ مگر شازمین اسے روک گئی تھی۔
’’دیر ہو رہی ہے حنین! ابھی بہت سے کام کرنے رہتے ہیں ٗ اگر تم نے یوں ہی وقت ضائع کیا تو گانوں کا مقابلہ نہیں ہو سکے گا اور رسم شروع ہو جائے گی جبکہ تم نے ابھی لڈی بھی ڈالنی ہو گی۔‘‘ شازمین کے کہنے پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ اسٹیج کی جانب بڑھ گئی تھی۔
’’یار! میں بہت آکورڈ فیل کر رہا ہوں ٗ یہ خالص تمہارا گھریلو فنکشن ہے ٗ مجھے نہیں آنا چاہئے تھا۔‘‘
’’اب میری مہندی کا فنکشن بزنس پارٹی کی طرح فارمل نہیں ہو سکتا تھا اور زیادہ ہنگامہ اس لئے ہے کہ فضیل بھائی کی بھی آج ہی مہندی ہے۔‘‘
’’تمہاری ہونے والی مسز اور بھابی کیا دونوں بہنیں ہیں؟ مجھے یاد ہے تمہاری تو سمیرا سے…!‘‘
’’ارے نہیں یارٖ میری شادی سمیرا سے ہی ہو رہی ہے۔‘‘
’’تو پھر ایک ساتھ مہندی کا فنکشن…؟‘‘
’’ہاں ٗ لمبی کہانی ہے ٗ کبھی فرصت میں سنائوں گا ٗ تو بتا لاج کو ساتھ کیوں نہیں لایا؟‘‘
’’لاج کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ٗ ممکن ہو سکا تو کل ساتھ لے آئوں گا۔‘‘
’’تھینک گاڈ! کہ تم کل آ رہے ہو ٗ ورنہ تو میں سمجھا تھا کہ تم کل نہیں آئو گے۔‘‘
’’تو میرا دوست ہے اور دوست کی زندگی کے اتنے بڑے دن میں نہ آئوں ٗ اب اتنا بھی بے مروت نہیں ہوں۔‘‘ ماہ کنعان نے کچھ خفگی دکھائی تھی ٗ فیصل نے مسکراتے ہوئے ہاتھ کا مکا سا بنا کر اس کے سینے پر ہلکے سے مارا تھا اور جبھی اس کے ہاتھ میں کچھ چبھ سا گیا تھا۔
’’کیا یار! سینے میں سوئیاں چبھو کر گھر سے نکلا ہے؟‘‘ کہتے ہوئے اس کی نگاہ شرٹ کے بٹن کے ساتھ الجھی ہوئی گولڈن چین پر پڑی تھی ٗ ہاتھ بڑھا کر نکالا تھا اور ہاتھ میں خوبصورت سی بندیا آ گئی تھی۔
’’یہ یقینا ان ہی خاتون کی ہے جو مجھ سے ٹکرا گئی تھیں۔‘‘ اس کے دیکھنے پر وہ جلدی سے بولا تھا کہ کہیں وہ کچھ ایسا ویسا نہ سوچ لے۔
’’خدا کو مان یار! وہ لڑکی تجھے خاتون نظر آ رہی تھی؟‘‘
’’پلیز فیصل! چینج دا ٹاپک۔‘‘ وہ قدرے بے زاری سے بولا تھا اور فیصل کے سیل فون پر فضیل کا میسج آیا تھا کہ وہ اسٹیج کی طرف آ جائے اس لئے وہ ماہ کنعان کو لئے وہیں چلا آیا تھا ٗ جہاں سمیرا اور زرمین گھونگھٹ ڈالے بیٹھی تھیں اور ان سے فاصلے پر ایک جانب لڑکیاں اور دوسری جانب لڑکے براجمان تھے ٗ فضیل نے ماہ کنعان سے مصافحہ کیا تھا اور فیاض صاحب سے ملنے کے بعد وہ فیصل کے برابر ہی بیٹھ گیا تھا۔ لڑکے اور لڑکیاں بھی اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے ٗ نوجوان پارٹی کے ساتھ بڑے بھی براجمان تھے ٗ پھر دونوں ٹیموں کے درمیان گانے کا مقابلہ شروع ہوا ٗ کنعان نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تھا اور نظریں غصے سے گھورتی حنین پر ٹھہر گئی تھیں جو اس کے دیکھنے پر گڑبڑا کر نگاہ کا زوایہ بدل گئی تھی اس کے لبوں پر مسکان مچل اٹھی تھی مگر دوسرے ہی پل رنگ ٹون نے توجہ کیا سمیٹی تھی اس کی مسکراہٹ بھی سمٹ گئی تھی۔
’’میں ابھی آتا ہوں ٗ کال آ رہی ہے۔‘‘ وہ جیب سے موبائل نکالتا ہوا بولا تھا اور شور ہنگامے سے ذرا پرسکون جگہ پر چلا گیا تھا۔
’’فریدہ! میرا خیال ہے اب رسم کر لینی چاہئے۔‘‘ راشدہ نے ہال میں سے اٹھ کر آکر نوید عالم کے کہنے پر سلسلہ موسیقی موقوف کروا دیا تھا اور فریدہ سے رسم شروع کرنے کا کہا تھا لیکن ان دونوں نے رسم سے پہلے لڈی ڈالنے کی ضد کی تھی جو مان لی گئی تھی کہ فریدہ بچیوں کی خوشی کو ماند نہیں پڑنے دینا چاہتی تھیں۔ ان دونوں نے لڈی ڈالنے کیلئے اپنی اپنی پوزیشن سنبھال لی تھی اور ان کے ایک اشارے پر گانا شروع ہو گیا تھا۔
ماہ کنعان آفیشل کال کرکے جب لوٹا تھا تو ساکت رہ گیا تھا ٗ اس کی نگاہ نے حنین کے خوبصورت چہرے سے ہٹنے سے انکار کر دیا تھا ٗ وہ دھیمے دھیمے مسکاتی ٗ دھیرے دھیرے گھومتی ٗ آگے پیچھے جاتی ٗ ہاتھوں میں موجود اسٹک کو جنبش دیتی حنین کو ٹک ٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ٗ اس کا دل تھا کہ اس کی شرمیلی مسکراہٹ ٗ لہراتی چوٹی ٗ ہلتے آویزوں اور شرارتی نینوں میں اٹک اٹک سا جا رہا تھا ٗ وہ نظر چراتا تو بھی کہاں تک؟ اس کی سیاہ نگاہیں اس ساحرہ کے سحر میں جکڑتی جا رہی تھیں۔
گانا تو چل رہا تھا مگر یکدم ہی حنین اسٹیپ بھول گئی تھی ٗ سحرش اسے اشارے کر رہی تھی ٗ مگر اسے بالکل یاد نہیں آ رہا تھا وہ ایک دم اسٹل کھڑی ہو گئی تھی اور بس ہنسے جا رہی تھی۔
’’میں بھول گئی ہوں ٗ آگے کیا کروں؟‘‘ وہ بری طرح ہنستے ہوئے بولی تھی ٗ وہ اسے غصے سے گھورنے لگی تھی ٗ ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا اور وہ شرمندہ نظر آنے لگی تھی ٗ مگر حنین کاندھے اچکا کر وہیں کھڑی رہی تھیں ٗ فریدہ نے ہی آگے بڑھ کر سحرش کو کاندھے سے لگایا تھا کیونکہ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
’’زبردست بھئی! تم دونوں نے تو کمال کر دیا۔‘‘
’’آنٹی! اتنی پریکٹس کی تھی ہم نے اور یہ بھول گئی ٗ میں اشارے بھی کر رہی تھی کہ جیسے میں کر رہی ہوں ٗ ویسے کر لو ٗ مگر یہ تو ہنسے جا رہی تھی۔‘‘ سحرش کو بہت غصہ آ رہا تھا۔
’یار! سوری ٗ بٹ جب میں کرتے کرتے اسٹیپ بھول گئی تو میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں اپنی ہنسی بالکل کنٹرول نہیں کر سکی ٗ ویری سوری۔‘‘ ہنستے ہنستے اس کا چہرہ لہو رنگ ہو گیا تھا اور آنکھوں میں موتی چمک آئے تھے اور فریدہ ان دونوں کو لئے اسٹیج کی جانب بڑھ گئی تھیں اور ماہ کنعان ایک سانس بھر کر رہ گیا تھا۔
’’تو جناب ماہ کنعان! آج آپ پر حسن کا جادو چل ہی گیا اور آپ بے دل ہو گئے۔‘‘ اندر سے آواز آئی تھی اور وہ سر جھٹکتا ٗ آواز کو اگنور کرتا فیصل کی جانب بڑھ گیا تھا ٗ جہاں اس کی رسم حنا چل رہی تھی ٗ ہنسی مذاق، شور شرابے اور ہنگامے کے ساتھ خوشگوار ماحول میں رسم حنا اختتام کو پہنچی تھی۔
٭٭٭
