Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Last updated: 29 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid

’’تایا ابو مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’بیٹا! تو اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے؟ بلا جھجھک بات کریں۔‘‘
’’تایا ابو! میں جاب کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ حنین کی بات پر سب ہی اُسے بڑی حیرانگی سے دیکھنے لگے تھے کیونکہ کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ یہ سب کہے گی۔
’’حنین بیٹا! آپ جانتی بھی ہیں کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘
’’تایا ابو! میں جاب کرنا چاہتی ہوں اور یہ بات آپ سے میں نے بہت سوچ سمجھ کر کی ہے۔‘‘ حنین کی سنجیدگی پر ذرا برابر فرق نہیں پڑا تھا جبکہ وہ عموماً کافی غیر سنجیدہ ہی رہتی تھی اور اس کی سنجیدگی کی وجہ سے ہی نوید عالم کچھ متفکر ہوئے تھے۔
’’آپ کو جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پہلے آپ اپنی ایجوکیشن تو کمپلیٹ کر لیں۔‘‘
’’تایا ابو! میں ایک بزنس وومن بننا چاہتی ہوں۔‘‘
’’بیٹا! پہلے وومن تو بن جایئے ٗ بزنس وومن بننے کی بات تو بعد میں آتی ہے ٗ ابھی آپ کا انٹر تک کمپلیٹ نہیں ہوا اور آپ ہیں کہ بزنس وومن بننا چاہتی ہیں۔‘‘ نوید عالم کے لبوں پر بڑی شریر مسکراہٹ نے بڑی تیزی سے جگہ بنائی تھی۔
’’حنین! فضول باتیں بہت ہو گئیں ٗ اب اٹھو اور جا کر سوئو۔‘‘
’’ممی! میں فضول باتیں نہیں کر رہی ٗ آئی ایم سیریس۔‘‘ اسے ماں کا اس طرح بولنا پسند نہیں آیا تھا ٗ اوپر سے تایا کی مسکراہٹ بھی اس کا دل جلا رہی تھی۔
’’ساجدہ! آپ پلیز کچھ مت کہیں ٗ میں حنین سے بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’بھائی صاحب! اس کا تو دماغ خراب ہے ٗ نئے نئے خیالات اس کے دماغ میں آتے رہتے ہیں ٗ ڈھنگ سے گھر کا تو یہ کوئی کام کر نہیں سکتی ٗ چلی ہے جاب کرنے۔‘‘ نوید عالم کے اشارے پر وہ چپ کر گئیں تھیں۔
’’ممی! مجھے گھر کے کاموں سے ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے ٗ میں بزنس وومن بننا چاہتی ہوں اور پلیز تایا ابو! آپ مجھے آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دیں۔‘‘ حنین نے ماں اور تایا سے باری باری کہا تھا۔
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے کہ آپ آفس جوائن کریں ٗ لیکن ابھی یہ سب قبل از وقت ہوگا ٗ آپ پہلے اپنی ایجوکیشن کمپلیٹ کریں اس کے بعد میں آپ کو آفس جوائن کرنے سے نہیں روکوں گا۔‘‘
’’تایا ابو! بعد میں تو میں کروں گی ٗ لیکن آج کل میں فارغ ہوں تو میں آفس جوائن کرنا چاہتی ہوں ٗ تاکہ مجھے کچھ ایکسپیرئنس ہو جائے۔‘‘
’’حنین! جب بھائی صاحب نے کہا ہے کہ وہ تمہیں اجازت دے دیں گے تو پھر تم کیوں بحث کر رہی ہو؟‘‘ انہوں نے بیٹی کو گھورا تھا۔
’’ممی! میں بحث نہیں کر رہی۔‘‘
’’تو پھر بحث کرنا کس کو کہتے ہیں؟‘‘ اب کے انہوں نے اس کو ڈپٹا تھا۔
’’ساجدہ! ڈانٹ کیوں رہی ہو حنین کو؟ اگر بچی اپنے دل کی بات گھر والوں سے نہیں کرے گی تو پھر کس سے کرے گی؟‘‘ راشدہ نے مداخلت کی تھی۔
’’آپا بیگم! ہر وقت کی ضد اور بحث اچھی نہیں ہوتی اور جب حنین سے بھائی صاحب نے کہدیا ہے کہ جب وقت آئے گا تو اسے جاب کرنے کی اجازت مل جائے گی تو یہ کیوں خاموش نہیں ہو جاتی؟‘‘
’’جب حنین مجھ سے بات کر رہی ہیں تو آپ لوگوں کو بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اسے روتے دیکھ کر وہ سنجیدگی سے بولے تھے۔
’’آئی ایم سوری بھائی صاحب!‘‘ ساجدہ نے قدرے شرمندگی سے اپنے جیٹھ کو دیکھا تھا اور معذرت طلب کی تھی۔
’’حنین! رونے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا!‘‘
’’تایا ابو! مجھے معاف کر دیں ٗ میں آپ سے بحث نہیں کر رہی ٗ میں تو بس یہی چاہتی ہوں کہ آپ مجھے آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دیں۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *