Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03
’’امی! حنین اپنے کمرے میں نہیں ہے۔‘‘
زرمین اس کا کھانا لے کر گئی تھی ٗ مگر وہ کمرے میں نہیں تھی ٗ اس نے نیچے آ کر بتا دیا تھا۔
’’واٹ… یہ آپ کیا کہہ رہی ہو زرمین بیٹا! ٹھیک سے دیکھنا تھا ٗ وہ وہیں ہوں گی ٗ جا کہاں سکتی ہیں حنین؟‘‘
’’ابو! میں نے پورا کمرہ ٗ واش روم ٗ اسٹڈی ہر ایک جگہ دیکھا ٗ مگر وہ کہیں نہیں ہے۔‘‘ زرمین پریشانی سے بولی تھی اور اس کے بعد حنین کو گھر کے کونے کونے میں ڈھونڈا گیا ٗ مگر وہ گھر میں ہوتی تو ملتی۔
’’ابو! مین گیٹ کھلا ہوا ہے ٗ شاید وہ کہیں چلی گئی ہے۔‘‘ اسجد نے باہر سے اندر آتے ہوئے کہا تھا۔
’’اتنی رات میں وہ کہاں جا سکتی ہے؟ اسے تو ڈھنگ سے راستے بھی نہیں پتہ۔‘‘ ساجدہ روتے ہوئے صوفے پر ڈھے سی گئی تھیں ٗ یہی کچھ حال راشدہ کا بھی تھا۔
’’ہو سکتا ہے وہ پھپھو کی طرف چلی گئی ہو ٗ ہمیں پھپھو کے ہاں کال کرکے پوچھنا چاہئے۔‘‘ شازمین نے مشورہ دیا تھا۔
’’ہاں ٗ شاید ہو سکتا ہے وہ وہیں چلی گئی ہو ٗ مگر ڈائریکٹ کچھ مت پوچھنا ٗ ورنہ پھپھو پریشان ہو جائیں گی۔‘‘ اسجد نے اس کی بات کی حمایت کرتے ہوئے ساتھ ہی ہدایت بھی کی تھی ٗ شازمین پی ٹی سی ایل سے پھپھو کے گھر کا نمبر ملانے لگی تھی ٗ وہ ٹینشن میں یہ بھی بھول گئی تھی کہ جب سے اس کی منگنی ہوئی تھی وہ نہ وہاں جاتی تھی نہ ہی خود سے فون کرتی تھی۔
’’ہیلو! میں شازمین بات کر رہی ہوں۔‘‘ کال ریسیو ہوتے ہی وہ بولی تھی۔
’’زہے نصیب…! آج کیسے میری یاد آ گئی؟‘‘ راحم کا خوشگوار لہجہ اس کے کانوں میں گونجا تھا۔
’’پھپھو ہیں گھر میں؟ مجھے پھپھو سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’پھپھو کے بیٹے سے بات نہیں کر سکتیں؟‘‘ شرارت سے پوچھا گیا تھا۔
’’پلیز…! پھپھو کو فون دے دیں۔‘‘ وہ ملتجی ہوئی تھی اور اس کی بھرائی ہوائی آواز اسے پریشان کر گئی تھی۔
’’شاز! سب خیریت تو ہے؟‘‘
’’حنین…!‘‘ اس کی آواز حلق میں پھنس گئی تھی اور وہ اسجد کی ہدایت بھی بھول گئی تھی۔
’’حنین…! کیا ہوا حنین کو؟ کچھ تو بولو شازمین!‘‘
’’وہ حنین پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے۔‘‘
’’کیا… کب… مگر تم پریشان نہ ہو ٗ میں ارحم بھیا سے بات کرتا ہوں۔‘‘ راحم کے کہنے پر اس نے ریسیور مزید کچھ بھی کہے بغیر کریڈل پر ڈال دیا تھا۔
’’وہ وہاں نہیں گئی ٗ راحم کہہ رہے تھے کہ وہ ارحم بھیا سے بات کریں گے۔‘‘ شازمین نے اتنا ہی کہا تھا کہ نوید عالم ارحم کا نمبر ڈائل کرنے لگے تھے اور اس سے بات کرکے وہ مطمئن ہو گئے تھے۔
’’آپ لوگ پریشان نہ ہوں ٗ حنین ٗ ارحم کے ساتھ ہے۔‘‘
’’ارحم کے ساتھ… وہ ارحم کو کہاں مل گئی؟‘‘
’’یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ اور ارحم کہہ رہا تھا کہ وہ گھر نہیں آنا چاہتی ٗ اس لئے وہ اسے اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔‘‘
’’بھائی صاحب! مجھے ابھی فریدہ کے گھر جانا ہے۔‘‘ ساجدہ درمیان میں کہہ اٹھی تھیں اور وہ دونوں نوید عالم کے ساتھ فریدہ کے ہاں جانے کیلئے نکل گئی تھیں ٗ بہنوں کی وجہ سے اسجد گھر پر ہی رک گیا تھا اور وہ تینوں جس وقت وہاں پہنچے تھے سب ہی گھر والے لائونج میں موجود تھے اور حنین ٗ فریدہ کے برابر صوفے پر ان کی گود میں سر رکھے بیٹھی تھی۔
٭٭٭
’’حنین! کہاں چلی گئی تھیں بیٹا؟ سب کتنا پریشان ہو گئے تھے۔‘‘ فریدہ اسے دیکھتے ہی بولی تھیں کیونکہ راحم نے انہیں بتا دیا تھا اور وہ راشدہ سے بات بھی کر چکی تھیں۔
’’پھپھو! وہاں مجھ سے کوئی محبت نہیں کرتا ٗ اس لئے میں آپ کے پاس آ گئی ہوں۔‘‘ وہ ان کے سینے سے لگتے ہوئے بولی تھی اور ان کے تو خاک بھی پلے نہیں پڑا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی۔
’’ارحم! یہ تمہیں کہاں سے ملی؟ اور یہ سب کیا کہہ رہی ہے؟‘‘
’’مما! مجھے خود اس کی باتیں سمجھ نہیں آ رہیں ٗ میں تو ماموں جان سے ملنے کیلئے جا رہا تھا ٗ گلی میں گاڑی مڑی تو ایک لڑکی کے چیخنے کی آواز پر میں نے ڈرائیور سے کہہ کر گاڑی رکوائی ٗ مجھے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہاں یہ حنین ہو گی ٗ یہ بے وقوف لڑکی بے سوچے سمجھے اتنی رات میں گھر سے اکیلی نکل آئی اور اسے اکیلے دیکھ کر لڑکے تنگ کرنے لگے ٗ وہ تو اچھا ہوا میں وہاں وقت پر پہنچ گیا ٗ ورنہ نجانے کیا ہوتا؟ آپ پوچھیں اس سے کہ اس طرح اتنی رات کو یہ گھر سے نکلی ہی کیوں؟ اوپر سے وہاں سڑک پر جمی کھڑی تھی کہ گھر نہیں جائوں گی ٗ اس لئے اسے میں یہاں لے کر آیا ہوں۔‘‘ وہ کیپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
’’پھپھو! اب میں وہاں کبھی نہیں جائوں گی ٗ وہاں کسی کو میری پرواہ نہیں ہے ٗ ممی مجھے ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں اور تائی جان بھی ٗ ممی نے مجھے صبح تھپڑ مارا اور اسجد بھائی نے میری بہت انسلٹ کی ٗ مجھے اپنے کمرے سے دفع ہوجانے کو کہا ٗ مجھے طمانچہ مارا اور کمرے سے دھکے مار کر نکال دیا۔‘‘
’’مگر کیوں بیٹا؟‘‘ وہ تو اتنا سب سن کر ہی حیران رہ گئی تھیں۔
’’میں آفس جوائن کرنا چاہتی ہوں پھپھو! اور تایا ابو نے مجھے اجازت بھی دے دی تھی ٗ مگر اسجد بھائی نے منع کر دیا اور مجھ پر غصہ کرتے ہوئے وہ آج صبح ناشتہ کئے بغیر چلے گئے ٗ جس پر ممی نے مجھے مارا اور بہت برا بھلا کہا اور جب اسجد بھائی آفس سے آئے تب میں ان کے کمرے میں بات کرنے گئی تھی ٗ مگر انہوں نے مجھے بہت بے عزت کیا ٗ ممی نے اس پر بھی ان ہی کی سائیڈ لی ٗ وہ میری ممی نہیں ہیں ٗ وہ مجھ سے پیار بھی نہیں کرتیں ٗ اب میں ان سے بالکل بات نہیں کروں گی ٗ وہاں اب کبھی نہیں جائوں گی ٗ آپ تو محبت کرتی ہیں ناں مجھ سے پھپھو! مجھے اپنے گھر میں رکھ لیں گی؟‘‘ فریدہ نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔
’’چپ کر جائو بیٹا! میں سب سے بات کروں گی اور اسجد…!‘‘
’’ان کا تو آپ نام بھی مت لیں ٗ وہ بہت برے ہیں ٗ انہوں نے میرا بازو اتنی زور سے پکڑا تھا کہ مجھے ابھی تک درد ہو رہا ہے ٗ انہی کی وجہ سے میں نے گھر چھوڑا ہے۔‘‘
’’حنین بیٹا! آپ کو گھر سے لیکن اس طرح نہیں نکلنا چاہئے تھا ٗ آپ کو کچھ ہو جاتا تو؟‘‘
’’اس سب کے ذمہ دار وہی ہیں اور انہی کی وجہ سے تایا ابو مجھے گاڑی نہیں دلاتے ٗ مجھے سیکھنے بھی نہیں دیتے ٗ اگر میرے پاس گاڑی ہوتی تو میں آرام سے آپ کے پاس آ جاتی‘ نہ مجھے رکشے کیلئے اسٹاپ تک جانا پڑتا اور نہ ہی وہ لڑکے مجھے تنگ کرتے ٗ وہ میرے ساتھ بہت بدتمیزی کر رہے تھے پھپھو!‘‘ اس نے روتے ہوئے بتایا تھا۔
’’مائدہ! حنین کیلئے پانی لے آئو۔‘‘ راحم کے کہنے پر وہ باہر نکل گئی تھی اور وہ کچھ ہی دیر میں پانی لے کر آئی تھی ٗ فریدہ نے اسے پانی پلایا۔
’’بس چپ کر جائو ٗ اب بالکل نہیں رونا۔‘‘ انہوں نے اس کے آنسو صاف کئے تھے اور اس نے ان کی گود میں سر رکھ دیا تھا۔
’’پھپھو! میں اسجد بھائی سے اب بالکل بات نہیں کروں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ مجھے بالکل زرمین آپی اور شازمین بجو کی طرح سمجھتے ہیں ٗ مگر وہ جھوٹ بولتے ہیں ٗ انہوں نے کبھی شازمین بجو پر ہاتھ نہیں اٹھایا ٗ کبھی زرمین آپی کو نہیں ڈانٹا ٗ مگر مجھے ہر وقت ڈانٹتے رہتے ہیں اور آج تو انہوں نے…‘‘
’’تم چپ کر جائو بس ٗ میں اسجد کو بہت ڈانٹوں گی۔‘‘
’’ماریئے گا بھی پھپھو! کیونکہ انہوں نے مجھے یہاں میرے چہرے پر ہٹ کیا ہے۔‘‘ وہ سیدھی ہوئی تھی جبھی اس کی نگاہ راحم کے ساتھ آتے نوید عالم پر پڑی تھی۔
’’پھپھو! یہ سب یہاں کیوں آئے ہیں؟ میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں جائوں گی۔‘‘ اس نے فریدہ کا بازو دبوچ لیا تھا۔
’’مائدہ بیٹا! بہن کو اپنے کمرے میں لے جائو۔‘‘ کب سے خاموش بیٹھے یوسف الحسن نے مائدہ کو مخاطب کرکے کہا تھا اور وہ حنین کو اپنے ساتھ لے گئی تھی ٗ ساجدہ بری طرح رو رہی تھیں۔
’’مامی! پلیز رویئے نہیں ٗ وہ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ ارحم نے انہیں شانوں سے تھامتے ہوئے صوفے پر لا بٹھایا تھا۔
’’اگر اسے کچھ ہو جاتا تو میں تو جیتے جی مر جاتی۔‘‘ اس نے راحم کو پانی لانے کا اشارہ کیا تھا اور ان کے برابر بیٹھ گیا تھا۔
’’اتنی سی بات پر وہ بغیر سوچے سمجھے گھر سے نکل گئی ٗ اگر وہ تمہیں نہ ملتی بلکہ غلط ہاتھوں میں پہنچ جاتی تو میں کیا کرتی؟ میری تو بس یہی ایک بیٹی ہے جس کی خاطر میں جی رہی ہوں۔‘‘
’’پانی پی لیں مامی! اور کچھ بھی مت سوچیں ٗ بچپنا بہت ہے اس میں اور کوئی بات نہیں ہے ٗ ہم سب مل کر سمجھائیں گے تو سمجھ جائے گی۔‘‘ ارحم نے زبردستی انہیں پانی پلایا تھا۔
’’ماموں جان! آپ کیوں پریشان بیٹھے ہیں؟ میں نے کہا ناں وہ بالکل ٹھیک ہے ٗ وہ مجھے آپ کے گھر کے نزدیکی اسٹاپ پر ہی مل گئی تھی۔‘‘ وہ تفصیل انہیں بتانے لگا تھا۔ وہ ابھی تک یونیفارم میں تھا اور تھکن اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔
’’بھائی صاحب! ایسا کیا ہوا تھا کہ حنین نے انتہائی قدم اٹھایا؟ آج ارحم اگر وہاں نہ پہنچتا تو نجانے کیا ہو جاتا۔‘‘
’’مما! جو ہوا نہیں ہے اسے سوچ کر کیوں پریشان ہوں اور ماموں جان پہلے ہی ڈسٹرب ہیں ٗ آپ کی ایسی باتیں انہیں مزید پریشان کریں گی۔‘‘ راحم نے مداخلت کی تھی۔
’’لیکن بات تو یہ ہے ناں کہ حنین نے ایسا کیوں کیا؟ اور اسجد نے اس پر ہاتھ کیوں اٹھایا؟‘‘ یوسف الحسن بھی بولے تھے۔
’’بھیا جی! اسجد بیٹے کا بھی قصور نہیں ہے ٗ حنین کی ہی ساری غلطی تھی ٗ اس نے بڑے بھائی سے کتنی بدتمیزی کی ٗ مگر اسے اس بات کا احساس نہیں ہے۔‘‘ ساجدہ نے اسجد کی حمایت کی تھی۔
’’بدتمیزی کی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اسجد اس پر ہاتھ اٹھاتا؟ وہ اگر غلطی پر بھی تھی تو اسجد کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔‘‘ فریدہ صاف گوئی سے بولی تھیں۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ جس کے بارے میں کہہ رہی ہیں وہ صرف بھتیجا نہیں ٗ ہونے والا داماد بھی ہے۔ انہوں نے تو وہی کہا جو ٹھیک لگا۔
’’فریدہ! تم کچھ نہیں جانتیں ٗ اس لئے ایسے کہہ رہی ہو۔‘‘ ساجدہ نے انہیں وقتاً فوقتاً ہونے والی تمام بحث و لڑائیاں کہہ سنائی تھیں۔
’’نوکری کرنے کا خناس نجانے کہاں سے سما گیا ہے اور حق کی بات کرتی ہے ٗ یہ نہیں جانتی کہ اس کا تو کچھ ہے ہی نہیں۔‘‘ وہ دکھ سے بولی تھیں۔
’’پلیز ساجدہ! فضول باتیں نہیں کریں۔‘‘ نوید عالم انہیں ٹوک گئے تھے۔
’’فضول باتیں… بھائی صاحب! آپ نے کیا کچھ نہیںکیا اس کیلئے اور آج وہ آپ کے ہی خلاف ہو گئی ہے ٗ کون سے حصے کی بات کرتی ہے؟ اس کے باپ کا ہے ہی کیا؟‘‘ دوپٹے میں آنسو جذب کرتے ہوئے وہ نوید عالم کو دیکھنے لگی تھیں۔
’’چپ کر جائو ساجدہ! تمہاری ایسی ہی باتوں نے اس کے دل میں غبار بھر دیا ہے ٗ میں نے کبھی اس میں اور پنی بچیوں میں فرق نہیں کیا۔‘‘ راشدہ نے انہیں کچھ کہنے سے روکنا چاہا تھا ٗ مگر وہ بات کاٹ کر دوبارہ بولی تھیں۔
’’فرق آپ لوگوں نے نہیں ٗ خود اس نے پیدا کیا ہے۔‘‘
’’اس میں کس کا قصور ہے بھابی! اگر حنین خود اس فرق کو پیدا کر رہی ہے تو اس کی وجہ ہو گی اور آپ ماں ہو کر اسے سمجھنے کے بجائے الٹا اس پر لعن طعن کرتی رہتی ہیں۔ مائنڈ مت کیجئے گا بھابی! مگر سچائی یہی ہے ٗ حنین میں بچپنا بہت ہے اور ابھی اس کی عمر ہی کتنی ہے 16 سال اور آپ اتنی سی عمر میںاسے میچور دیکھنا چاہتی ہیں ٗ آپ اسے زرمین کی طرح کھانے پکانے میں ماہر ٗ شازمین کی طرح سلائی میں ماہر اور مائدہ کی طرح صفائی پسند بنا دینا چاہتی ہیں ٗ آپ اسے حنین ہی رہنے دیں ٗ کھانا بنانا وہ نہیں چاہتی تو مت بنوائیں اس سے ٗ کتنی ہی عورتوں کو کھانا بنانا نہیں آتا ٗ ایک ہماری حنین کو بھی نہیں آئے گا تو کون سی قیامت آ جائے گی؟ آپ اسے ایک ایک کی مثالیں دے کر اسے کبھی زرمین کے جیسا تو کبھی مائدہ کے جیسا بننے کا مشورہ دے کر اسے خود سے دور کر رہی ہیں ٗ اس کی نیچر ڈیفرنٹ ہے اور ہمیں اسے اس کے حساب سے ہی ٹریٹ کرنا چاہئے ٗ بچہ اگر ناجائز ضد کر رہا ہو تو اسے پیار سے روکا جائے تو بچہ مان لیتا ہے ٗ مگر سختی کی جائے تو اس کی ضد بڑھ جاتی ہے اور یہ والدین کے ہی ہاتھوں میں ہوتا ہے کہ وہ بچوں کو کس طرح کچھ برا کرنے سے روکیں۔ میں مانتی ہوں کہ حنین نے آپ سب کے ساتھ بہت بدتمیزی کی ٗ مگر اسے پیار سے سمجھایا جاتا تو وہ مان جاتی ٗ مگر بات آپ لوگوں کے سخت رویے کی وجہ سے بڑھی ٗ پہلے آپ نے اور بعد میں اسجد نے اس پر ہاتھ اٹھایا ٗ اسجد کے ناشتہ کئے بغیر جانے کا ذمہ دار اسے ٹھہرایا گیا ٗ ٹھیک ہے سبب وہی تھی ٗ مگر یہ اسے جتانا ضروری نہیں تھا اور اس نے غصے میں جو قدم اٹھایا ٗ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہو جاتا اس کے نتیجے میں تو کون ذمہ دار ہوتا؟ کیونکہ اسے اتنی عقل نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہی ہے‘ اسے ڈانٹا مارا گیا تو اس نے سوچا کوئی اس سے محبت نہیں کرتا‘ اس لئے وہ میرے پاس آنا چاہ رہی تھی ٗ یعنی وہ محبت و توجہ چاہتی ہے۔ بچپن سے اس کے بہت لاڈ اٹھائے گئے ہیں اب ہم اس کے ایک دم پیچھے پڑ جائیں گے تو وہ ہم سے ہی بدظن ہو گی ٗ جب سے وہ میرے پاس آئی تھی بس اسجد کی برائی کر رہی تھی ٗ ایسا نہیں ہے کہ وہ اسجد کو کچھ غلط کہہ رہی تھی ٗ اس نے یہی کہا کہ وہ اسے بہن کہتا ہے سمجھتا نہیں جبکہ سچائی یہ نہیں ہے ٗ ہم سب نے دیکھا ہے اسجد اس کی کتنی پرواہ کرتا ہے اور بات یہی ہے ٗ اسجد کے اندر شدت پسندی بہت ہے ٗ وہ اس کی پرواہ کرتا ہے ٗ مگر جب کسی بھی بات کی مخالفت پر آتا ہے تو بے انتہا سختی سے کام لیتا ہے اور وہ یہ سب برداشت نہیں کر پاتی۔ اسجد کی حرکت سے وہ بے طرح ہرٹ ہوئی ہے ٗ میں اسجد کو جانتی ہوں اس نے غصے میں جانے کو ضرور کہا ہوگا ٗ مگر ہاتھ پکڑ کر نکالا نہیں ہوگا ٗ مگر وہ برملا کہہ رہی ہے کہ اسجد نے اسے کمرے سے نکالا ٗ تو ایسا نہیں ہے کہ وہ اس پر بہتان باندھ رہی ہے ٗ اسجد کے انداز سے اسے ایسا لگا ہوگا تو اس نے وہی کہہ دیا ٗ ہم سب کو اسے سمجھنے کی ضرورت ہے ٗ محبت و اپنائیت سے اسے سمجھایا جائے گا تو وہ مان جائے گی اور ظرف تو ہم سب کو ہی بڑا رکھنا ہوگا ٗ کیونکہ وہ تو ہے ہی سب سے چھوٹی ٗ اسے اہمیت دیں گے تو ہی بات بنے گی ورنہ بہت مشکل ہو جائے گی۔‘‘ فریدہ نے لمحوں میں حنین کے ساتھ سب ہی کی کمزوریاں بھی کھول کر رکھ دی تھیں۔
’’یہ بات مجھے بھی لگتی ہے۔ یہی میں بھی ساجدہ کو سمجھاتا ہوں ٗ اسی لئے میں نے حنین کو آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ میں حنین کو اچھی طرح سے سمجھتا ہوں ٗ وہ 2، 3دن آفس جاتیں اور ان کا شوق ختم… اور یہی بات میں اسجد کو بھی سمجھانا چاہ رہا تھا ٗ مگر اسجد سے میں کھل کر بات نہیں کر سکا اور حنین نے خود جا کر اس سے بات کر لی اوروہ سب ہو گیا ٗ ورنہ نوبت کبھی بھی یہاں تک نہ پہنچتی۔‘‘ نوید عالم نے ان کی بات کی حمایت میں ہی بات آگے بڑھاتے ہوئے اپنے دل کی بات سامنے رکھ دی تھی۔
’’چلیں بھئی! اب تو جو ہونا تھا ہو گیا ہے ٗ چل کر ہم سب کھانا کھا لیتے ہیں ٗ بڑی ہی بھوک لگی ہے ٗ مائدہ بیٹی! جا کر دستر خوان سجائو ٗ ہم سب آ رہے ہیں۔‘‘ یوسف الحسن نے بات مزید آگے نکلنے سے پہلے ہی اسے ختم کر دینا چاہا تھا۔
’’ہاں مائدہ بیٹا! آپ کے ہاتھ کا کھانا کھائے ہوئے دن بھی بڑے ہو گئے ہیں اور بھوک بھی زبردست لگی ہوئی ہے ٗ آج تو ہم سب ہی سیر ہو کر اپنی بیٹی کے ہاتھ کا کھانا کھائیں گے۔‘‘ نوید عالم کے پیار بھرے انداز پر وہ مسکراتے ہوئے پلٹ گئی تھی۔
’’میں چینج کرکے آتا ہوں ٗ بھوک تو مجھے بھی واقعی لگی ہوئی ہے۔‘‘ ارحم اٹھتے ہوئے بولا تھا۔
’’میں جا کر مائدہ کی مدد کر دیتا ہوں ٗ یہاں تو سارے ہی بھوکے جمع ہیں۔‘‘ راحم مذاق سے کہتا ہوا کچن کی طرف بڑھ گیا تھا۔ مائدہ نے ڈائننگ ٹیبل پر کھانا چننے کے بعد اپنے اور حنین کیلئے ٹرے میں کھانا رکھا تھا اور ان سب کو کھانے کیلئے بلا لائی تھی۔
’’جائو بیٹا! حنین کیلئے کھانا لے جائو ٗ آپ بھی اسی کے ساتھ کھا لینا ٗ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہو گی خود لے لیں گے۔‘‘ نوید عالم چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولے تھے اور وہ اثبات میں سر ہلاتی وہاں سے ہٹ گئی تھی ٗ پھر بڑے ہی خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا اور کھانے کے بعد چائے کا دور چل رہا تھا ٗ جب زرمین کی شادی کی بات فریدہ نے کر دی تھی اور اس موضوع پر کافی ہی دیر بات چلتی رہی تھی۔
٭٭٭
’’اسجد بھائی! کھانا کھا لیں۔‘‘ اس نے صبح سے ہی کچھ نہیں کھایا تھا ٗ اس لئے زرمین سے ابھی آنے کا کہہ کر وہ چینج کرنے چلا گیا تھا۔ کیونکہ وہ خود کو بہت تھکا ہوا محسوس کر رہا تھا ٗ اس لئے ایسے ہی بیڈ پر نیم دراز تھا ٗ یسریٰ کی ٹینشن کی وجہ سے وہ حنین کے ساتھ اتنی سختی سے پیش آیا تھا ٗ مگر حنین کا ردعمل اسے دکھ سے دوچار کرتے ہوئے اس کی ٹینشن کو مزید بڑھانے کا سبب بن گیا تھا۔
’’ابو وغیرہ کیا ابھی تک پھپھو کے ہاں سے نہیں آئے؟‘‘
’’راحم کا فون آیا تھا کہ وہ لوگ کھانا کھا کر آئیں گے ٗ اس لئے ہم لوگ کھانا کھا لیں۔‘‘ زرمین اپنی چیئر پر بیٹھتے ہوئے بتانے لگی تھی ٗ راحم کا فون اسی نے اٹینڈ کیا تھا۔
’’حنین کیسی ہے ٗ وہ ٹھیک تو ہے؟‘‘
’’وہ ٹھیک ہے ٗ ارحم کو وہ اپنے ہی اسٹاپ پر مل گئی تھی۔‘‘ زرمین اس کی فکر مندی ختم کرنے کیلئے راحم سے ہونے والی گفتگو بتانے لگی تھی۔
’’تھینک گاڈ کہ وہ ارحم کو مل گئی تھی ٗ وگرنہ اس کی جذباتیت نجانے کیا رنگ لاتی۔‘‘ وہ کہتے ہوئے نوالہ منہ میں رکھ گیا تھا۔
’’اسجد بھائی! آپ کو حنین پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے تھا۔‘‘
’’وہ سب ٹینشن میں ہو گیا ٗ ایسا تو کبھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا ٗ اسی لئے میں نے اس وقت حنین کو جانے کو کہا تھا ٗ کیونکہ میں اپنی فرسٹریشن اس پر نہیں نکالنا چاہتا تھا ٗ مگر وہ ضدی لڑکی…‘‘ اس کے ہنکار ابھرنے پر شازمین بولی تھی۔
’’جو ہونا تھا وہ ہو گیا ٗ لیکن حنین کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔‘‘
’’اب کیا کہہ سکتے ہیں ٗ یہ تو ہم میں سے کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ غصے میں گھر سے ہی نکل جائے گی۔‘‘ زرمین قدرے افسوس سے کہہ رہی تھی۔
’’بھائی! آپ کچھ ڈسٹرب لگ رہے ہیں ٗ کیا کوئی پریشانی والی بات ہے؟‘‘
’’ہاں… تھی ایک پرابلم ٗ مگر اب وہ سالو ہو چکی ہے ٗ یو ڈونٹ وری۔‘‘ وہ نیپکن سے منہ اور ہاتھ صاف کرتا چیئر کھسکا کر اٹھ گیا تھا۔
’’زرمین! چائے مجھے کمرے میں دے دینا۔‘‘
’’پتہ نہیں کیا بات ہے جو اسجد بھائی ہم سے چھپا رہے ہیں۔‘‘
’’ہو سکتا ہے بات ایسی ہو جو وہ بتا نہ سکتے ہوں اور وہ جب کہہ رہے تھے کہ مسئلہ حل ہو چکا ہے تو تمہیں فضول کی سوچیں پالنے کی ضرورت نہیں ہے اور اب فوراً اٹھو ٗ جا کر چائے بنائو اور مجھے بھی کمرے میں ہی دے دینا ٗ طبیعت کچھ بوجھل سی ہو رہی ہے ٗ برتن صبح دھولوں گی ٗ تم صرف چائے بنا لینا۔‘‘ وہ چھوٹی بہن کو ہدایت کرتی اٹھ گئی تھی اور شازمین نے چائے چڑھا کر برتن دھونے شروع کر دیئے تھے اور جتنی دیر میں چائے بنی تھی برتن بھی دھل گئے تھے اور وہ اسجد کو چائے دے کر دو کپ ٹرے میں رکھے زرمین کے کمرے میں آ گئی تھی۔
’’زرمین آپی! سر میں بہت درد ہو رہا ہے تو میں دبا دوں؟‘‘ زرمین سیدھے ہاتھ سے ماتھا اور کنپٹی مسل رہی تھی ٗ تو اسے فکر سی ہونے لگی تھی۔
’’نہیں ٗ اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ بیٹھتے ہوئے کپ اٹھانے لگی تھی۔
’’آپ حنین کے بارے میں سوچ رہی ہیں؟‘‘
’’اوہوں! اس بے وقوف سے مجھے اتنی بڑی غلطی کی توقع نہیں تھی ٗ پتہ نہیں فضول سوچیں کہاں سے اس کے دماغ میں آ جاتی ہیں۔‘‘ وہ اس کی بات کی نفی نہ کرتے ہوئے اسی موضوع کو کھول بیٹھی تھی۔
’’لیکن ارحم بھیا… وہ یہاں کیا کر رہے تھے؟‘‘
’’اب بے وقوفوں والی باتیں تو نہ کرو ٗ ظاہر ہے وہ ہمارے ہی گھر آ رہے ہوں گے۔‘‘ اس کے چڑنے پر وہ کچھ خفیف سی ہو گئی تھی۔
’’میرا یہ مطلب تھوڑی تھا ٗ آپ یہ بتایئے آپی! کہ آپ حنین کو لے کر پریشان ہیں یا کوئی اور بات ہے؟‘‘
’’کیسی باتیں کر رہی ہو شازمین! ظاہر ہے میں حنین کو ہی لے کر پریشان ہوں ٗ اس کی حرکت نے ہم سب کو ہی پریشان کر دیا ہے۔‘‘
’’مگر وہ خیریت سے ہے ٗ اس لئے آپ کو ریلکس ہو جانا چاہئے۔ آپ کہیں فضیل بھائی کے بارے میں تو نہیں سوچ رہیں؟‘‘ وہ ایکسائیٹڈ ہو گئی تھی اور تکیہ گود میں رکھتے ہوئے شریر نگاہوں سے بہن کو دیکھنے لگی تھی۔
’’میں ان کے بارے میں کیوں سوچوں گی؟‘‘ وہ کچھ خفا ہوئی تھی ٗ مگر جس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ فل فارم میں آ چکی تھی۔
’’کیوں بھئی! آپ کیوں فضیل بھائی کے بارے میں نہیں سوچیں گی ٗ آفٹر آل وہ آپ کے ہونے والے شوہر ہیں ٗ آپ کو تو اب ان کے خواب دیکھنے کی اجازت ہے۔‘‘
’’فضول باتیں نہ کرو شازمین! میرے سر میں پہلے ہی درد ہو رہا ہے۔‘‘
’’یہ بتایئے نا آپ کو وہ لگتے کیسے ہیں؟‘‘
’’جیسے ہیں ویسے ہی لگتے ہیں ٗ اب اٹھو یہاں سے۔‘‘
’’کیا آپی! اب مجھ سے بھی چھپائیں گی؟ بتایئے ناں ٗ آپ کو فضیل بھائی کیسے لگتے ہیں؟ آپ کی ان سے بہت جلد شادی ہونے والی ہے ٗ شاید اسی ماہ…!‘‘
’’شازمین! کیوں دماغ خراب کر رہی ہو؟‘‘
’’آپ مجھے جب تک نہیں بتائیں گی کہ آپ کو بھائی پسند ہیں یا نہیں ٗ تو میں یہاں سے ہلوں گی بھی نہیں۔‘‘ وہ اس کا روڈ انداز نظر انداز کرتے ہوئے پھیل کر بیٹھ گئی تھی۔
’’میں نے فضیل کے بارے میں اس طرح کبھی نہیں سوچا تھا۔‘‘
’’کیا وہ آپ کو ناپسند ہیں؟‘‘
’’میں نے ایسا نہیں کہا ٗ فضیل کی فیملی سے ہماری فیملی کے بہت اچھے تعلقات ہیں ٗ فضیل کے بارے میں لیکن میں نے یہ گمان کبھی نہیں کیا تھا۔‘‘
’’کیا آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں؟‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر بولی تھی اور وہ دھک سے رہ گئی تھی اور دل کا چور چھپانے کیلئے خفگی سے بولی تھی۔
’’بس اپنی ہی ہانکے جایا کرو ٗ میں نے ایسا کب کہا؟‘‘
’’وہ مجھے ایسا لگا تو میں نے کہہ دیا ٗ کیونکہ آپ جب سے ہی مضطرب لگ رہی ہیں ٗ جب سے فضیل بھائی کا آپ کیلئے رشتہ آیا ہے۔‘‘ اس کا انداز پر سوچ تھا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے ٗ فضیل کو میرے لئے میرے پیرنٹس نے چنا ہے اور مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘ وہ صاف گوئی سے کہہ رہی تھی ٗ کیونکہ حقیقت بھی یہی تھی ٗ اس کے دل میں کوئی اور تھا بھی تو وہ اسے اپنے دل میں ہی دفن کر دینے کا فیصلہ کر چکی تھی ٗ کیونکہ وہ ان بیٹیوں میں سے نہیں تھی جو والدین کی عزت خراب کرنے کا سب بنتی ہیں ٗ اس کا شمار تو ان بیٹیوں میں ہوتا تھا جو والدین کے فیصلوں کے احترام میں اپنی بڑی سے بڑی خوشی بھی تیاگ دیتی ہیں اور ان کا حکم عبادت سمجھ کر مانتیں اور پورا کرتی ہیں۔
’’یہ بات تو میں محسوس کر ہی سکتی ہوں ٗ جس دن مہوش آنٹی اور انکل شگن کیلئے آئے تھے ٗ امی نے آپ کو اسی دن بتایا اور ایک ماہ میں شادی کی بات ہو رہی ہے نہ آپ سے کسی نے کچھ پوچھا اور نہ ہی آپ نے خود کچھ کہا۔‘‘ وہ بہن کی فرمانبرداری سے واقف تھی۔
’’شازمین! تم کیسی باتیں کر رہی ہو ٗ اب امی ٗ ابو فیصلے مجھ سے پوچھ کر کریں گے؟ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے اور کچھ نہیں ٗ ورنہ 3 ماہ قبل راحم سے تمہاری منگنی کرتے وقت کب پوچھا گیا تھا اور تو اور اسجد بھائی سے بھی نہیں پوچھا گیا۔ ہمارے پیرنٹس ہمارے لئے جو فیصلے کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہیں ٗ انہوں نے ہم سے زیادہ دنیا دیکھی ہے ٗ ہم ان کے فیصلوں کو کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟‘‘
’’ہماری زندگی کے اتنے بڑے فیصلے کرتے وقت ہماری رائے تو لی جا سکتی ہے؟‘‘
’’یہ بات تمہیں راحم سے منگنی کے وقت کرنی چاہئے تھی ٗ ویسے کیا تمہیں راحم سے رشتے پر اعتراض ہے؟‘‘
’’میں نے یہ کب کہا ٗ میں اس رشتے سے بہت خوش ہوں ٗ کیا آپ نہیں جانتیں کہ میں اور راحم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ٗ تو اعتراض کیوں کرتی میں؟ میرے تو دل کی خواہش پوری ہو گئی ہے۔‘‘
’’یہی بات ہے ٗ پیرنٹس اپنے بچوں کے بارے میں کبھی غلط نہیں سوچتے ٗ تم نے انہیں کچھ نہیں بتایا ٗ مگر وہ بغیر جانے بھی تمہارے دل کی بات جان گئے اور جہاں تک میری بات ہے ٗ میں اس رشتے کو نہ پسند کرتی ہوں اور نہ میں اس رشتے کے خلاف ہوں ٗ کیونکہ یہ میرے پیرنٹس کا فیصلہ ہے جس کا میں احترام کروں گی۔‘‘ وہ نہایت سچائی سے کہہ رہی تھی۔
’’آپ سے تو مجھے یہی امید تھی ٗ مگر میں نے یہ ذکر اس لئے کیا کہ مجھے لگتا ہے کہ شاید آپ کسی کو پسند کرتی ہیں اور ابو کے فیصلے کا احترام کرنے کیلئے چپ ہیں اور آپی! ایسی بات ہے تو آپ اپنے ساتھ زیادتی کر رہی ہیں ٗ کیونکہ آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ اپنی پسند سے اپنے پیرنٹس کو آگاہ کریں۔‘‘
’’لیکن… میں ایسا نہیں سمجھتی اور تم جیسا سوچ رہی ہو ویسا تو بالکل نہیں ہے ٗ اگر ایسی کوئی بات ہوتی بھی تو میں کبھی ابو سے تو کیا امی سے بھی نہ کہتی ٗ کیونکہ میرا یہ ایمان ہے کہ پیرنٹس بچوں کا برا کبھی نہیں چاہتے اور ابو نے میرے لئے فضیل کو پسند کیا ہے تو یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے ابو سے کروایا ہے ٗ اب میں اپنی پسند بتا بھی دوں تو کیا فائدہ؟ مجھے ملے گا تو وہی جو میرے نصیب میں ہے ٗ اس سے بس اتنا ہوگا کہ میرے والدین کا مان جو وہ مجھ پر رکھتے ہیں ٗ ٹوٹ جائے گا اور جو میں کبھی نہیں چاہوں گی۔‘‘ زرمین کو وہ بس دیکھ کر رہ گئی تھی ٗ جو آنکھوں کی نمی چھپانے کی کوشش میں چہرہ کچھ جھکا گئی تھی اور انگلیوں کی پوروں میں آنسو جذب کرنے لگی تھی۔
’’آپی! آپ محبت کرتی ہیں ناں ارح…‘‘
’’پلیز شازمین! یہ بات کبھی نہ کرنا ٗ وہ میرا ایک ایسا خواب ہے جو کبھی تعبیر نہیں پائے گا اور یہ ذکر میری ذات کا مان بکھیر دے گا اور کیا تم اپنی آپی کو بکھرتا ہوا دیکھنا چاہتی ہو؟‘‘ وہ جلدی سے نفی میں سر ہلا گئی تھی اور وہ وہاں سے اٹھ گئی تھی اور جتنے آنسو اس نے شازمین کے سامنے روک لئے تھے اس سے کہیں زیادہ واش روم میں آکر شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بہا دیئے تھے۔
٭٭٭
’’بھائی صاحب! پھر آپ نے زرمین بیٹی کی شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے؟‘‘
’’میں کیا کہہ سکتا ہوں ٗ آپ خواتین مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کر لیں ٗ تیاریاں بھی تو آپ لوگوں نے ہی کرنی ہوں گی ٗ ہاں جو کام ہمارے کرنے کے ہیں ٗ وہ ہم لوگ کر لیں گے۔‘‘
’’میں تو یہی کہوں گا کہ اللہ کا نام لے کر شادی کی تاریخ مقرر کر دینی چاہئے ٗ پھر آگے ہماری زرمین بیٹی کا نصیب ٗ لڑکا اور فیملی دونوں ہی دیکھے بھالے ہیں ٗ سوچ بچار کرنے سے کیا فائدہ؟‘‘ یوسف الحسن چائے کے سپ لیتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
’’بھیا جی! بیٹیوں کی شادی میں سو بکھیڑے ہوتے ہیں ٗ 25,20 دنوں میں سب کیسے منیج ہوگا؟‘‘ راشدہ اتنی جلد بازی کے خلاف ہی تھیں۔
’’سب منیج ہو جائے گا بھابی بیگم! اور آپ اکیلی نہیں ہیں ٗ ہم سب بھی تو ہیں ٗ ہم سب مل کر ذمہ داریاں بانٹ لیں گے۔‘‘
’’یوسف بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ٗ بس بھائی صاحب! اللہ کا نام لے کر ہاں کر دیں ٗ اللہ تعالیٰ ہماری زرمین کے نصیب سے سب اچھا ہی کرے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے بھئی…! جیسے آپ سب کی مرضی ہو۔‘‘ نوید عالم کو اور کیا چاہئے تھا ٗ جب ان کی بیٹی کو اتنے دعائیں دینے والے اور آگے بڑھ کر کام کرنے والے موجود تھے تو وہ کیوں خود کو ہلکان کرتے اور زرمین کی شادی انہیں آج نہیں تو کل ٗ کرنی ہی تھی ٗ اس لئے انہوں نے اپنی رضا مندی دے دی تھی۔
’’میں ابھی فون کرکے مہوش سے کہہ دیتی ہوں ٗ تاکہ وہ کل ہی تاریخ لینے آ جائے۔‘‘
’’اتنی جلدی کیا ہے ٗ صبح فون کر لینا۔‘‘
’’نہیں ٗ بھابی بیگم! نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہئے ٗ جائو فریدہ! فون کر لو اور تم اٹھو راحم! اور دوڑ کر مٹھائی لے آئو ٗ تاکہ ہم سب منہ میٹھا تو کر لیں۔‘‘ یوسف الحسن کے کہنے پر راحم فوراً ہی اٹھ گیا تھا اور فریدہ کے کہنے پر مائدہ وائرلیس فون لینے چلی گئی تھی۔
’’ہاں بھئی… مہوش! کیسی ہو؟‘‘ سلام دعا کے بعد فریدہ نے دوست کی خیریت دریافت کی تھی۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں ٗ مگر فریدہ تو کسی کام کی نہیں ہے یار!‘‘ وہ دونوں بچپن کی سہیلیاں تھیں اور بے تکلفی بھی اسی لحاظ سے تھی۔
’’کیوں بھئی! ایسا کیا کام کہہ دیا تھا تم نے جو میں نے نہیں کیا؟ بھول گئیں… اپنے فضیل کی بات میں نے کیسے منٹوں میں طے کروا دی ٗ ورنہ جوتے ہی گھستی رہتیں ٗ بھائی صاحب نے اتنی جلدی ہاں نہیں کہنی تھی ٗ وہ تو میں ہی بیچ میں تھی جو مہینوں کا کام دنوں میں کروا دیا۔‘‘ انہوں نے دوست کو شرمندہ کرنا چاہا تھا۔
’’چلو بھئی! اب انتظار کی گھڑیاں شروع ہوتی ہیں ٗ یہ محترمہ گھنٹہ 2 گھنٹے سے پہلے فون نہیں رکھنے والیں۔‘‘ یوسف الحسن کی بات پر سب ہی مسکرا دیئے تھے۔
’’یار! کہہ تو تو ٹھیک ہی رہی ہے ٗ مگر یہ مت بھول کہ صرف تو ہی نہیں ٗ میں بھی نوید بھائی صاحب کی بہن ہوں ٗ میں ڈائریکٹ ان کے آگے دست سوال بلند کرتی تو وہ مجھے خالی ہاتھ نہ لوٹاتے ٗ زرمین میری بھی تو بیٹی ہے ٗ حق رکھتی ہوں اس پر۔‘‘ مہوش حق سے بولی تھیں ٗ کیونکہ نوید عالم نے فریدہ اور مہوش میں کبھی فرق نہیں کیا تھا۔
’’تو ہمیں کون سا انکار ہے کہ تم حق نہیں رکھتیں ٗ تمہارا حق تسلیم کرتے ہیں ٗ جبھی تو سوچنے کا ٹائم بھی نہیں لیا اور بات طے کر دی۔‘‘
’’تم نے بھائی صاحب سے بات کی کہ میں اسی ماہ کی کوئی تاریخ رکھنا چاہ رہی ہوں؟‘‘
’’بات کی تھی میں نے ٗ مگر بھائی صاحب اتنی جلدی پر کچھ معترض ہیں۔‘‘
’’تم نے بات منوانے کی کوشش تو کی ہوتی۔‘‘
’’تجھے کیا لگتا ہے میں نے کچھ نہیں کیا ٗ ہر طرح سے کوشش کی ٗ مگر بھابی بیگم بھی راضی نہ ہوئیں۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرا رہی تھیں۔
’’تمہاری ماں ٗ کبھی بڑی نہیں ہو گی ٗ اب دوست کو ستائیں گی اور پھر خوب اس کا مذاق بنا کر ہنسیں گی ٗ وہ خفا ہو جائے گی تو پھر دوڑیں دوڑیں اسے منانے جائیں گی۔‘‘ یوسف الحسن بیوی کو پیار سے دیکھتے ہوئے بیٹے سے بولے تھے کیونکہ سہولت سے جائیں یا ایمرجنسی میں وہ ہی تو انہیں 27 سالوں سے لے جا رہے تھے ٗ ارحم محض مسکرا دیا تھا ٗ کیونکہ وہ بھی اپنی مما کے اس خوبصورت روپ سے بہ خوبی واقف تھا۔ وہ ایک زندہ دل ہنسنے ہنسانے والی خاتون تھیں ٗ کسی کو ناراض تو دیکھ ہی نہیں سکتیں۔
’’تجھ سے کچھ نہیں ہوگا ٗ میں کل ہی بھائی صاحب کے گھر جائوں گی اور دیکھنا تاریخ لے کر ہی لوٹوں گی۔‘‘ مہوش کے لہجے میں وہ مان بول رہا تھا جو نوید عالم نے انہیں سونپا تھا اور وہ برملا کہتی تھیں کہ ان کا ایک نہیں دو بھائی ہیں۔
’’ٹھیک ہے ٗ تو کل بھائی صاحب کے گھر پوری تیاری کے ساتھ آ جا ٗ پھر ہم دونوں مل کر انہیں منا لیں گے۔‘‘ انہوں نے مہوش کا مان بڑھانے کیلئے اسے سچائی نہیں بتائی تھی۔
’’اور یہ بتا بھیا صاحب سے سمیرا کی شادی کی کیا ڈیٹ لی ہے؟‘‘
’’اس ماہ کی 24 کی مایوں ٗ 25 کی برات اور 26 کا ولیمہ جبکہ فیاض کہہ رہے تھے ولیمہ کچھ دن کے گیپ سے رکھ لیتے ہیں ٗ مگر بھیا صاحب نے اس کیلئے منع کر دیا۔‘‘
’’ٹھیک ہے ٗ تو کل بھائی صاحب کے گھر آ جا اور ایسا کرنا بھیا صاحب کو بھی لے کر آنا ٗ تاکہ دونوں بچیوں کی تاریخ ساتھ ہی طے کر لیں۔‘‘
’’ہاں! یہی ٹھیک رہے گا ٗ بس اللہ کرے بھائی صاحب (نوید عالم) مان جائیں ٗ کیونکہ بھیا صاحب (شاکر) اپنی ہی زندگی میں فضیل کے سر پر سہرا سجا دیکھنا چاہتے ہیں کہ فضیل کو بھیا صاحب نے ہمیشہ بیٹوں کی طرح ہی سمجھا ہے۔‘‘ وہ کچھ اداس ہو گئی تھیں۔
’’پریشان نہ ہو مہوش! اللہ سب بہتر کرے گا اور دیکھنا بھیا صاحب کو بھی کچھ نہیں ہوگا ٗ وہ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔
’’آمین…!‘‘ ان دونوں نے ایک ساتھ دل سے کہا تھا۔
’’اچھا اب میں فون رکھتی ہوں ٗ کل بھائی صاحب کے گھر ملاقات ہو گی اور بیٹا پوری تیاری سے آنا ٗ ہم لڑکی والے ہیں ٗ تاریخ دینے میں کچھ تو نخرے دکھائیں گے۔‘‘
’’تیرے نخرے سر آنکھوں پر ٗ مگر یاد رکھنا ٗ تم لڑکی کی پھپھو ہی نہیں ٗ تم لڑکے کی بھی اکلوتی خالہ ہو۔‘‘ انہوں نے فریدہ کو کچھ یاد دلانا چاہا تھا۔
’’یاد ہے مجھے ٗ نیگ لینے کا وقت آیا تو بھولوں گی نہیں اور میرے دو دو بھتیجوں کی شادی ہے ٗ نیگ بھی اسی حساب سے لوں گی ٗ یاد رکھنا۔‘‘ فریدہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد فون رکھ دیا تھا۔
’’بھائی صاحب! وہ کل آ رہی ہے ٗ تاریخ لینے۔‘‘
’’آپ کی باتیں ہم سن چکے ہیں ٗ بات مختصر نہیں کر سکتی تھیں؟‘‘
’’آپ بھی کیسی باتیں کرتے ہیں یوسف! مجھ سے ہاں ہاں ٗ جی جی کرکے باتیں نہیں ہوتیں ٗ بات سے بات خود ہی نکل جاتی ہے۔‘‘ وہ کچھ خفا ہوئی تھیں۔
’’اچھا بھئی! ہمیں اب اجازت دو ٗ کافی وقت گزر گیا ہے ٗ بچیاں بھی گھر میں پریشان ہو رہی ہوں گی اور اب تو کل کے انتظامات کرنے کی بھی فکر ہے۔‘‘ راشدہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی تھیں۔
’’کل کی تو آپ فکر ہی نہ کریں بھابی بیگم! سب کام اچھے سے ہو جائیں گے ٗ صبح ہی فریدہ وہاں آپ کی مدد کو پہنچ جائے گی۔‘‘ یوسف الحسن کی اپنائیت پر وہ مسکرا دی تھیں اور وہ لوگ اجازت لے کر چلے گئے تھے۔
٭٭٭
’’حنین ابھی سو کر نہیں اٹھی۔‘‘
’’مما! اسے اٹھانے گئی تھی ٗ مگر اسے توبہت تیز بخار ہے۔‘‘ ڈائننگ ٹیبل پر بریک فاسٹ کیلئے سب ہی موجود تھے ٗ حنین کا ہی انتظار ہو رہا تھا۔
’’کیا…؟ تم ایسا کرو ڈاکٹر کو فون کر دو ٗ آپ سب ناشتہ کر لیں ٗ آپ لوگوں کو دیر ہو رہی ہے ٗ میں جا کر دیکھتی ہوں۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھیں۔
’’مما! میں آپ کے ساتھ چل کر…!‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں ہے راحم! تم ناشتہ کرو اور آفس جائو ٗ میں ہوں ناں ٗ دیکھ لوں گی۔‘‘ وہ عجلت میں مائدہ کے روم کی طرف بڑھی تھیں ٗ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تھا جو بری طرح جل رہی تھی۔
’’حنین بیٹا! آنکھیں کھولو۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے پیار سے بولی تھیں۔
’’مما! ڈاکٹر سکینہ آ گئی ہیں۔‘‘ ڈاکٹر سکینہ ان کی ہی لائن میں 3 بنگلے چھوڑ کر چوتھے بنگلے میں رہتی تھیں اور اس وقت وہ ہسپتال جانے کیلئے ہی نکل رہی تھیں ٗ اس لئے فوراً ہی وہاں چلی آئی تھیں۔
’’السلام علیکم مسز یوسف! کیسی ہیں آپ؟‘‘ ڈاکٹر سکینہ خوشدلی سے خیر خیریت دریافت کر رہی تھیں۔
’’اللہ کا شکر ہے ٗ بھتیجی ہے میری حنین‘‘ وہ اس کو چیک کر رہی تھیں ٗ جب انہوں نے اس کا تعارف کروایا تھا۔
’’پریشان نہ ہوں مسز یوسف! بخار کچھ ہی دیر میں اتر جائے گا۔‘‘ پرسکرپشن انہیں دیتے ہوئے وہ بولی تھیں۔ وہ جو جانے کیلئے اجازت طلب کرنے لگی تھیں مائدہ ان کیلئے چائے لے آئی تھی۔
’’مائدہ! اس تکلف کی کیا ضرورت تھی ٗ میں ابھی ناشتہ کرکے ہی آئی ہوں۔‘‘
’’چلیں تھوڑی سی پی لیں ٗ میں زیادہ بری چائے نہیں بناتی۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے ٹرے ڈاکٹر سکینہ کے آگے کی تھی۔
’’میں نے آپ کی بھتیجی کو پہلے کبھی نہیں دیکھا ٗ کیا یہ کسی دوسرے شہر میں رہتی ہیں؟‘‘
’’ارے نہیں بیٹا! آپ نے شازمین کی تصویر دیکھی ہے ناں ٗ یہ انہی کے ساتھ رہتی ہے ٗ شازمین میرے بڑے بھائی کی اور حنین چھوٹے بھائی کی بیٹی ہے ٗ جس کی کافی برس پہلے ڈیتھ ہو گئی تھی۔‘‘ وہ کچھ اداس ہو گئی تھیں۔
’’شازمین وہی ہے نا جو آپ کی ہونے والی بہو ہے؟‘‘ وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی تھیں۔
’’مائدہ کی انگیجمنٹ جس سے ہوئی ہے وہ ان کے کیا لگتے ہیں؟‘‘
’’اسجد میرے بڑے بھائی کا بیٹا ہے ٗ حنین کا فرسٹ کزن۔ آپ سنائو گھر میں سب کیسے ہیں؟ نجمہ کافی دنوں سے نظر نہیں آئیں ٗ طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ انہوں نے سکینہ کی ساس کا پوچھا تھا ٗ وہ ڈیڑھ سال قبل ہی نجمہ کی بہو بن کر آئی تھی۔
’’امی جان خیریت سے ہیں ٗ مگر آج کل آسیہ کے گھر گئی ہوئی ہیں ٗ اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ اس نے نند کا نام لیا تھا جس کی آٹھ ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔
’’اب میں چلوں گی ٗ مجھے ہسپتال جانا ہے ٗ ان کی طبیعت کچھ ہی دیر میں سنبھل جائے گی ٗ کوئی پریشانی والی بات ہو تو میرے سیل پر مجھ سے کونٹیکٹ کر لیجئے گا۔‘‘ ڈاکٹر سکینہ نے مسکراتے ہوئے اجازت طلب کی تھی۔
’’ممی… ممی!‘‘ وہ نیم غنودگی میں ماں کو پکار رہی تھی ٗ فریدہ اس کے سرہانے بیٹھیں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھیں ٗ تقریباً 20 سے 25 منٹ بعد اس نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا تھا۔
’’تھینکس گاڈ… بیٹا! کہ تم نے آنکھیں تو کھولیں ٗ میں تو ڈر ہی گئی تھی ٗ اب کیسا فیل کر رہی ہو؟‘‘ وہ ٹاول بائول میں ڈالتے ہوئے اس کے زرد چہرے کو دیکھنے لگی تھیں۔
’’پھپھو! مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ اس نے رات مائدہ کے بہت کہنے پر بھی 4,2 لقمے ہی کھائے تھے۔
’’تم جا کر منہ ہاتھ دھو ٗ میں تمہارے لئے جوس لے کر آتی ہوں۔‘‘ وہ اتنا ہی بولی تھیں کہ مائدہ اس کیلئے جوس لے کر خود ہی آ گئی تھی۔
’’مائدہ! جا کر حنین اور میرے لئے ناشتہ لے آئو۔‘‘ وہ جوس کی ٹرے لیتے ہوئے بولی تھیں۔
’’راحم اور ارحم چلے گئے؟‘‘ خیال آنے پر پوچھا تھا۔
’’جی مما! دونوں چلے گئے ہیں اور پاپا پوچھ رہے ہیں کہ آپ ماموں جان کے ہاں کب تک جائیں گی؟ کیونکہ انہیں اپنے دوست کی طرف جانا ہے۔‘‘ وہ جاتے ہوئے پلٹ آئی تھی اور حنین واش روم کے ڈور کے پاس ہی رک گئی تھی۔
’’پھپھو! میں وہاں نہیں جائوں گی ٗ کیا آپ مجھے اپنے گھر میں نہیں رکھ…‘‘
’’تم فریش ہو کر آ جائو ٗ تو زبردست قسم کی نیوز سنائوں گی اور بے فکر رہو ٗ میں اب تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی۔‘‘ اسے کھڑے دیکھ تسلی دی تھی اور وہ واش روم میں چلی گئی تھی۔
’’بالکل پاگل ہے یہ لڑکی۔‘‘ وہ ایک سانس بھر کر رہ گئی تھیں۔
’’پاپا سے کیا کہوں ٗ آپ جائیں گی یا نہیں؟‘‘
’’ان سے کہہ دو گیارہ بجے تک جائوں گی ٗ اگر انہیں جلدی جانا ہو تو چلے جائیں ٗ میں ٹیکسی سے چلی جائوں گی۔‘‘ کمبل تہہ کرتے ہوئے جواب دیا تھا۔
’’مائدہ اپیا! آپ نے آملیٹ بہت مزے کا بنایا ہے ٗ بالکل زرمین آپی…!‘‘ وہ جان کر ادھوری بات چھوڑ گئی تھی۔
’’تم نے بالکل ٹھیک کہا ٗ زرمین کے ہاتھ میں ذائقہ بہت ہے ٗ وہ تو مجھ سے بھی زیادہ ذائقہ دار کھانا بناتی ہے۔‘‘ مائدہ نے اس کی ادھوری بات کو بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھایا تھا۔
’’پلیز مائدہ اپیا! مجھے ان لوگوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی ہے۔‘‘ اس نے خفگی کے اظہار کیلئے آدھا کھایا ہوا سلائس پلیٹ میں واپس رکھ دیا تھا اور منہ پھلا کر بیٹھ گئی تھی۔
’’ناشتہ تو پورا کر لو۔‘‘
’’بس پھپھو! میرا پیٹ بھر گیا ہے۔‘‘
’’تم زرمین سے کیوں ناراض ہو ٗ کیا زرمین نے بھی تمہیں ڈانٹا ہے؟‘‘
’’نہیں ٗ زرمین آپی تو بہت اچھی ہیں ٗ وہ ہمیشہ میری سائیڈ لیتی ہیں۔‘‘ وہ منہ پھلائے پھلائے ہی زرمین کی تعریف میں کہہ اٹھی تھی۔
’’مگر شازمین بجو ٗ وہ بہت گندی ہیں ٗ وہ کبھی میری سائیڈ نہیں لیتیں ٗ وہ تو ممی کی طرح یہ کرو یہ نہ کرو، کی گردان ہی کرتی رہتی ہیں۔‘‘
’’اچھا ٗ شازمین ایسی لگتی تو نہیں ہے ٗ لاسٹ ٹائم میں نے فون پر جب اس سے بات کی تھی تمہاری بہت تعریف کر رہی تھی۔‘‘ مائدہ کے انداز میں کچھ حیرت سی تھی جبکہ وہ چونک گئی تھی۔
’’شازمین بجو… اور میری تعریف کریں ناممکن ٗ وہ تو مجھے زرمین اپیا کی بہن نہیں ٗ ممی کی چیلی لگتی ہیں۔‘‘
’’واٹ چیلی… حنین!‘‘ مائدہ بے تحاشہ ہنس رہی تھی۔
’’مجھے ایگزیکٹ تو نہیں پتا ٗ بٹ جو ممی کہتی ہیں وہ وہی کہتی ہیں اس لئے وہ ممی کی چیلی ہیں۔
’’حنین! لڑکیوں کو دیر تک نہیں سونا چاہئے ٗ حنین! دوپٹے کو سلیقے سے اوڑھ کر رکھنا چاہئے ٗ حنین! یہ ٗ حنین! وہ۔‘‘ اس نے شازمین کی اور ساجدہ کی نقل اتارتے ہوئے برا سا منہ بنایا تھا۔
’’بھابی جو کہتی ہیں تمہارے بھلے کیلئے ہی تو کہتی ہیں۔‘‘ انہوں نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’بھلے کیلئے نہیں کہتیں ٗ ہر وقت بس میرے پیچھے پڑی رہتی ہیں ٗ کوئی موقع جانے نہیں دیتیں ٗ تایا ابو کے کاندھے پر پیار سے بانہیں ڈالتی ہوں تو غصے سے گھورنے لگتی ہیں ٗ کیا وہ میرے ابو نہیں ہیں؟ میں ان سے پیار نہیں کر سکتی ٗ کوئی فرمائش نہیں کر سکتی؟ مگر ممی کہتی ہیں مجھے ایسی حرکتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ میں اب بڑی ہو گئی ہوں ٗ مگر پھپھو! کیا جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو ہمیں اپنے پیرنٹس سے محبت نہیں کرنی چاہئے؟ ممی کو جب کبھی پیار سے کس کر لیتی ہوں تو بھی مجھے ڈانٹنے لگتی ہیں ٗ انہیں بس مجھے ڈانٹنے کا موقع چاہئے ہوتا ہے۔‘‘ بات کرتے ہوئے خود بخود آنسو بہنے لگے تھے۔
’’حنین! بھابی تم سے بہت محبت کرتی ہیں۔‘‘
’’نہیں ٗ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتیں ٗ ہر وقت ڈانٹتی تو رہتی ہیں اور کل تو مجھے انہوں نے مارا بھی۔‘‘
’’صرف اس لئے کہ وہ تم سے محبت کرتی ہیں ٗ تمہیں ایک دم پرفیکٹ دیکھنا چاہتی ہیں ٗ کیونکہ جب کوئی تمہاری تعریف کرے گا تو ان کو خوشی ہو گی اور تمہاری چھوٹی چھوٹی شرارتیں انہیں بھی پسند ہیں ٗ لیکن اس کے باوجود وہ تمہیں ٹوکتی ہیں تو صرف اس لئے کہ تم کچھ میچور ہو جائو ٗ کیونکہ انسان ہر وقت تو ہنسی مذاق نہیں کر سکتا اور کوئی تمہیں دیکھ کر یہ کہے کہ تم انٹر کی اسٹوڈنٹ ہو کر بچوں والی حرکتیں کرتی ہو تو وہ یہ نہیں سننا چاہتیں ٗ کبھی کبھی لاڈ سے باپ کے کاندھے سے لگ جانا ٗ ماں کا چہرہ چوم لینا ٗ بہت اچھا ہے ٗ مگر ہر وقت یا کسی کے سامنے یہ سب کرنا ٗ ہمارے امیج پر بعض اوقات برا اثر ڈال سکتا ہے ٗ کیونکہ ہر انسان اپنے انداز سے سوچتا ہے ٗ وہ تمہاری ایسی پیار بھری ادا کو پوزیٹو بھی لے سکتا ہے اور نیگٹیو بھی اور ہمیں تو ایسی کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارا تاثر ہمیشہ مثبت ہی پڑے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھامے پیار سے سمجھا رہی تھیں۔
’’تمہیں پتا ہے حنین! کہ جب کبھی مجھے رات میں ڈر لگتا ہے یا نیند نہیں آ رہی ہوتی تو مما کو میں اپنے کمرے میں بلا لیتی ہوں اور مما کے بازو پر سر رکھ کر ان کا ہاتھ تھام کر سو جاتی ہوں ٗ اگر میں روز روز ایسا کروں گی تو ڈر پوک مشہور ہوجائوں گی۔‘‘ آخری بات کہہ کر مائدہ ہنستے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’یہی تو ممی بھی کہتی ہیں ٗ مجھے روز ہی رات کو سوتے میں ڈر لگتا ہے اور میں اپنے کمرے سے ممی کے کمرے میں آ جاتی ہوں تو ممی کہتی ہیں میں اکیلے سونے کی عادت ڈالوں ورنہ سب مجھے ڈر پوک کہیں گے اور اس بات کا شازمین بجو تو بہت ہی مذاق بناتی ہیں ٗ مگر مجھے اکیلے میں ڈر لگتا ہے تو کیا کروں؟‘‘ وہ کچھ بے بسی سے مائدہ کو دیکھنے لگی تھی۔
’’میری طرح بریو بنو یار! مجھے زیادہ ڈر لگتا ہے کبھی ٗ تو میں آنکھیں سختی سے میچ کر آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیتی ہوں اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب سو جاتی ہوں مگر روز مما کو پریشان نہیں کرتی۔‘‘
’’اچھا… اب میں بھی ایسا ہی کروں گی اپیا! کیونکہ مما کو میں پریشان نہیں کرنا چاہتی ٗ میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں۔‘‘
’’وہ بھی تم سے بہت پیار کرتی ہیں اور کتنا تمہارا خیال رکھتی ہیں ٗ سچ کہوں ناں حنین! تو کبھی کبھی مجھے تم سے جیلسی فیل ہوتی ہے اور میں سوچتی ہوں کہ کاش مامی میری مما ہوتیں۔‘‘
’’آپ… ایسا سوچتی ہیں؟ پھپھو بھی تو آپ سے کتنا پیار کرتی ہیں؟‘‘
’’مما مجھے واقعی بہت پیار کرتی ہیں ٗ لیکن اتنا نہیں جتنا مامی تم سے کرتی ہیں ٗ تمہیں ماموں اور ممانی جان بھی بہت پیار کرتے ہیں ٗ مما اور پاپا کو ہر وقت تمہاری فکر لگی رہتی ہے ٗ زرمین اور شازمین کو تمہارا کتنا خیال رہتا ہے ٗتم بہت لکی ہو حنین! مجھ سے بھی زیادہ ٗ کیونکہ تم تینوں فیملیز میں سب سے چھوٹی ہو ٗ اس لئے ہر کسی کو تمہاری فکر رہتی ہے ٗ سب تم سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘
’’یہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اپیا! سب میرا بہت خیال رکھتے ہیں ٗ لیکن میری رائے اہمیت نہیں رکھتی ٗ کچھ کبھی کہنا چاہتی ہوں تو چھوٹا کہہ کر کبھی ممی تو کبھی تائی جان چپ کروا دیتی ہیں۔ اب دیکھیں میں آفس جوائن کرنا چاہتی ہوں ٗ تایا ابو تو راضی بھی ہو گئے ٗ مگر ممی… وہ کہتی رہتی ہیں کہ میں ابھی بچی ہوں ٗ اتنی بڑی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی اور اسجد بھائی… انہیں تو میری ہر بات پر اعتراض ہوتا ہے ٗ تو وہ یہاں کیوں پیچھے رہتے؟‘‘ فریدہ نے اس کی ذات کا درست تجزیہ کیا تھا کہ وہ ان سب کی محبتوں کی اس قدر عادی ہو گئی تھی کہ ذرا سی کمی اسے ان سب سے ہی بدگمان کر دیتی تھی۔
’’اسجد اگر تمہیں کسی بات سے منع کرتا ہے تو وہ تمہارا خیال بھی تو رکھتا ہے ٗ آئس کریم ٗ چاکلیٹ ٗ کتابیں جو تم منگواتی ہو یا جو تمہیں پسند ہے وہ تمہارے کہنے سے تو کبھی بغیر کہے تم۔
