Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20

’’پلیز یسریٰ! اسے چپ کروائو ٗ اس کی آواز میرے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہی ہے۔‘‘ وہ اس کی شکل دیکھتی لب کچلتی روتی ہوئی ننھی حسنیٰ کو لئے کمرے سے نکل گئی تھی اور آدھے گھنٹے بعد اسے سلا کر بواجی کے حوالے کرکے ٗ وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی ٗ تو وہ کھڑکی میں کھڑا سگریٹ پھونک رہا تھا ٗ اسے حیرت ہوئی تھی کہ ایسا فرسٹ ٹائم دیکھا تھا تو حیرت بے جا نہ تھی۔
’’اسجد! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ حیرت کو سائیڈ میں رکھتی نرمی سے پوچھ رہی تھی۔
’’دھیرے دھیرے میرے ہاتھوں سے سب کچھ نکلتا جا رہا ہے ٗ رشتے ریت کی مانند ہاتھوں سے پھسلتے جا رہے ہیں۔‘‘ وہ آزردگی سے کہتا فضا میں دھواں آزاد کر گیا تھا۔
’’ابو نے تو کیا امی نے بھی میرے سلام کا جواب تک نہیں دیا ٗ شازمین الگ ناراض ہے کہ راحم اس سے خفا ہے ٗ میں نے شازمین کے بیٹے کو پیسے دینے چاہے تو وہ اس نے اٹھا کر پھینک دیئے ٗ اپنی خوشگوار ازدواجی زندگی میں آنے والی دشواریوں کا وہ مجھے سبب سمجھتی ہے اور وہ کچھ غلط تو نہیں سمجھتی ناں ٗ میں ہوں ہی برا ٗ مجھے رشتے نبھانے نہیں آئے ان کی عزت نہیں کر سکا میں۔‘‘ وہ اس سے لپٹ کر رو پڑا تھا۔
’’اور اس سب کی ذمے دار صرف میں ہوں ٗ میری خود غرضی نے آپ کو یہ دن دکھایا ہے۔‘‘ وہ اس کو بیڈ پر بٹھاتی اسے پانی پلانے کے بعد نیچے کارپٹ پر اس کے پیروں میں بیٹھ گئی تھی۔
’’لیکن میں بہت مجبور تھی اسجد! آپ کو کھونے کا حوصلہ ہی نہیں تھا مجھ میں ٗ اس لئے میں نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ شادی کر لیں ٗ لیکن میں غلط تھی اسجد! اور آپ صحیح تھے ٗ آپ نے صحیح کہا تھا کہ اتنے لوگوں کی زندگی برباد ہونے سے بہتر ہے کہ ہمارے دل اجڑ جائیں ٗ لیکن میں اس کیلئے آمادہ نہ ہو سکی ٗ آپ کی محبت مجھے آپ سے دور ہونے کا حوصلہ نہیں دیتی تھی ٗ آپ کے دور جانے کا خیال میری سانسیں چھیننے لگتا تھا اور آپ کو پا لیا میں نے‘ مگر ہمارے ملن میں کتنی آہیں تھیں ٗ کتنے دل کتنے رشتے ٹوٹے تھے اور ان میں سے کسی کی ایک آہ ہمیں لگ گئی ٗ ہم بہت کچھ پا کر بھی ادھورے ہیں کہ ہمارے پاس رشتے نہیں ہیں ٗ اپنوں کا ساتھ ان کا مان نہیں ہے ٗ دیر ہو گئی ہے اسجد! بہت دیر… مگر کوئی روزن ابھی بھی ضرور کھلا ہوگا ٗ اسی کے ذریعے آپ اپنے رشتوں تک پلٹ جائیں ٗ میں آپ کے بغیر مر مر کر جی لوں گی ٗ بس آپ لوٹ جائیں اپنوں میں ٗ مجھے چھوڑ دیں اسجد!‘‘ وہ رو رہی تھی ٗ بلک رہی تھی ٗ وہ اپنی ہر تکلیف بھلا کر ٗ مائدہ کے لفظوں اور نگاہ سے اتری دل میں اذیت کو فراموش کئے ناگواری و غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’میں نے آپ سے آپ کے رشتے چھیننا کبھی نہیں چاہے تھے ٗ اسی لئے آپ سے کہا تھا کہ آپ مائدہ سے شادی کر لیں ٗ مجھے لگا تھا کہ وہ کمپرومائز کر لے گی ٗ مگر وہ نہیں کر سکتی تو آپ اسے مجبور نہ کریں کہ وہ آپ کی خاندانی بیوی ہے ٗ آپ کے ابو کی پسند ہے ٗ آپ اسے کیسے بھی کرکے ساتھ رہنے کو راضی کر لیں ٗ اس سے کہہ دیں کہ آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔‘‘ وہ کہہ رہی تھی اس نے اسے بازو سے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا اور ہچکیاں بھرتی یسریٰ کے رخسار پر گھما کر ایک طمانچہ لگایا تھا۔
’’بکواس بند کرو اپنی ٗ ہر بات کہہ دینا تمہارے لئے کتنا آسان ہوتا ہے ٗ جان وار بھی دیتی ہو اور کھینچ بھی لیتی ہو ٗ اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہو تم؟‘‘ وہ اس پر چلاتے ہوئے اسے کھینچ کر خود سے لگا گیا تھا ٗ اس کے رونے میں شدت آ گئی تھی ٗ جب وہ ہاسپٹل سے بہت غصے میں گھر پہنچا تھا تو اس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی نوید عالم بھی آ گئے تھے اور انہوں نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گھر سے نکال دیا تھا ٗ اس سے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ آئندہ انہیں اپنی شکل بھی نہ دکھائے اور وہ اس وقت تو یسریٰ سے چھپا گیا تھا مگر کب تک کہ وہ گھنٹہ دو گھنٹہ بعد ہی اس کے بہت اصرار پر بھی ٹھہرے بغیر چلا جاتا تھا اور اب دو دن ٗ دو راتوں سے ساتھ تھا ٗ وہ سوال کر رہی تھی اور اس نے ڈپٹ کر غصہ دکھا کر خاموش کرا دیا تھا کہ وہاں ارحم الحسن کا آنا اس کی باتیں اسے کچھ نہ کچھ سمجھا گئی تھیں اور اس کے اصرار پر اس نے کہہ دیا تھا کہ گھر میں اس کی شادی کا پتہ چل گیا ہے ٗ مائدہ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے اور نوید عالم نے اسے گھر سے نکال دیا ہے ٗ وہ اس کو اپنے کارنامے کو چھپا کر باقی ہر بات سچائی سے بتا گیا تھا ٗ وہ اس کے ساتھ ساتھ دکھی تھی ٗ مگر اس کیلئے کچھ کر نہیں پا رہی تھی اس نے جب کہا تھا کہ وہ مائدہ سے ملے گی تو اس نے سختی سے منع کر دیا تھا ٗ یہاں تک کہ اپنے پیرنٹس سے بھی اسے کسی قسم کا رابطہ کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
’’اسجد! یہ میرے لئے آپ کیلئے بہت مشکل ہے ٗ مگر اب یہی مناسب رہے گا۔‘‘ وہ اس سے الگ ہوتی بولی تھی۔
’’اب بکواس کی ناں تو جان سے مار دوں گا۔‘‘ اب کے وہ غصے سے پھنکارا تھا۔
’’اتنے لوگوں کی زندگی میری وجہ سے برباد ہو رہی ہے ٗ کتنے لوگ میری وجہ سے ناخوش ہیں ٗ مجھے تو مر ہی جانا چاہئے۔‘‘ وہ ہچکیاں لے رہی تھی۔
’’سب کچھ بہت مشکل ہو گیا ہے اور اس کا سبب میری ذات ہے ٗ تمہارا لینا دینا نہیں ہے ٗ میں ہی بہت کمزور تھا ٗ جو اپنی محبت نہ منوا سکا یا پھر کم از کم شادی کے بعد تو تمہیں ابو کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیتا ٗ مگر میں نے کچھ نہیں کیا ٗ تمہارے ساتھ نا انصافی کی اور مائدہ… اس کو بھی پریشان کیا ٗ اذیت دی ٗ وہ سب کچھ بہت پہلے جان گئی تھی ٗ اس کو منا لیتا ٗ تم دونوں کو ساتھ رکھ لیتا ٗ مگر میں نے سب کچھ تہس نہس کر دیا ٗ معاملات بہت بگڑ چکے ہیں ٗ کسی طرح قابو میں نہیں آ رہے کہ مائدہ کو طلاق چاہئے اور میں چاہوں بھی تو ایسا نہیں کر سکتا اور جب میں اسے نہیں چھوڑ سکتا ٗ تمہیں کیسے چھوڑ دوں ٗ جو لہو بن کر میری سانسوں میں گردش کر رہی ہے۔‘‘ وہ اپنا بھرم رکھنے کو اپنا ضبط آزماتا جھوٹ بول رہا تھا ٗ مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ مائدہ سے جڑے معاملات کے علاوہ اس کا ایک ایک لفظ سچا تھا اور سچائی اور اس کی محبت اس کی آنکھوں میں لکھی تھی۔
’’اسجد مجھے بتایئے آپ نے ایسا کیا کیا ہے جو آپ اتنا پریشان ہیں ٗ نادم ہیں ٗ آپ کی آنکھوں میں اس وقت ہر جذبے پر ندامت غالب نظر آ رہی ہے ٗ بتایئے مجھے کیا چھپا رہے ہیں؟‘‘ وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام گئی تھی اور وہ نظر چراتا اس کے سامنے سے ہی ہٹ گیا تھا۔
’’اسجد! میں اور آپ الگ تو نہیں ہیں ناں ٗ بتایئے مجھے کیا بات ہے؟ آپ نے مائدہ سے کیا کہا ہے؟ جب وہ پہلے سے جانتی تھی تو اس وقت کی بجائے اب طلاق کا مطالبہ کیوں کر رہی ہے؟‘‘ وہ اس کی شرٹ پشت سے دبوچ کر اسے روکتی اس کے سامنے کئی سوال لے کر کھڑی ہو گئی تھی۔
’’اب ہر بات بھی تمہیں نہیں بتا سکتا۔‘‘ وہ چیخ کر بولا تھا اور وہ اس کو دیکھنے لگی تھی ٗ وہ غصے کا تیز تھا اور وہ اس پر بھی اچھے برے موڈ پر اپنا غصہ عیاں کر چکا تھا ٗ مگر وہ اس وقت غصے میں نہ تھا ٗ جھلاہٹ و بے بسی کا شکار محسوس ہو رہا تھا۔
’’بات کہہ دینے سے شیئر کر لینے سے مسئلوں کا حل نکل آتا ہے اور مجھ پر یقین رکھیں اسجد! میں آپ کا یقین ٹوٹنے نہیں دوں گی ٗ ہر اچھے و برے وقت میں ٗ آپ کی اچھائی و برائی میں آپ مجھے ہم قدم اور رہنما پائیں گے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے نرمی سے کہتی بھیگی آنکھوں سے مسکرائی تھی۔
’’ہمقدم… رہنما! اور ڈائیورس کی جو بات کر رہی تھیں؟‘‘ اس کے سوالوں سے بچنے کو اس نے خود کو کمپوزڈ کرکے سوال داغا تھا۔
’’کیسے کی تھی آپ تصور میں بھی نہیں لا سکتے ٗ مگر میں مجبور ہوں اسجد! کہ میں آپ کو خوش رکھنا چاہتی ہوں ٗ آپ کو اپنے رشتوں کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں ٗ میں نہیں چاہتی کہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی آپ کو پچھتاوا ہو کہ آپ نے مجھے چنا ٗ اس لئے سب آپ سے بچھڑ گئے ٗ والدین ناراض ہو گئے ٗ بہن کا گھر خراب ہو گیا ہے ٗ میں اپنے اسجد کو رشتوں کا مقروض نہیں بنانا چاہتی ٗ اس لئے یہی بہتر لگا کہ میں آپ کو اپنی محبت سے آزاد کر دوں۔‘‘ وہ ٹھہر ٹھہر کر کہتی اس کو چونکا گئی تھی۔
’’کیا تم سے کسی نے کچھ کہا ہے؟ کیا تم نے پھر میری کوئی کال ریسیو کی ہے؟‘‘ وہ اس کو اب غصے سے دیکھ رہا تھا کہ اس نے زرمین کی کال ریسیو کرنے کے بعد ہی تو اسے اپنی قسم دے کر شادی کیلئے مجبور کیا تھا اور اب نیا مطالبہ!
’’آج جب آپ حنین کے ولیمے میں چلے گئے ٗ اس کے بعد یہاں راحم الحسن آئے تھے۔‘‘ وہ اس کو بری طرح ٹھٹھکا گئی تھی ٗ الحسن ہائوس کے مکینوں میں وہ واحد تھا ٗ جو اس سے کلام تک نہیں کر رہا تھا ٗ باقی تین افراد نے تو خوش اخلاقی و اعلیٰ ظرفی کی مثال قائم کی تھی۔
’’کیا… راحم یہاں آیا تھا؟‘‘ وہ حیرت سے بولا تھا اور وہ تفصیل بتانے لگی تھی۔
’’جی ٗ انہوں نے کہا تھا کہ وہ شازمین کے شوہر اور مائدہ کے بھائی ہیں ٗ اپنے تعارف کے بعد انہوں نے کہا کہ میں آپ کی زندگی سے خود ہی چلی جائوں ٗ اگر میں آپ کو چھوڑ کر نہیں گئی اور آپ نے مائدہ کو چھوڑ دیا ٗ تو وہ شازمین کو ڈائیورس دے دیں گے ٗ میں نے اسی لئے آپ سے کہا کہ آپ مجھے چھوڑ دیں ٗ میری وجہ سے شازمین کا گھر خراب ہو ٗ یہ مجھے گوارا نہیں کہ اتنے لوگوں کی ناپسندیدگی کے باوجود آپ کو پاکر بھی نا خوش ہوں کہ ہماری خوشیاں تمام عمر ادھوری رہیں گی اس لئے بہتر ہے کہ ہم اپنی آدھی ادھوری خوشیوں کیلئے مائدہ اور شازمین کی مکمل خوشیاں نہ چھینیں ٗ اس سارے قصے میں شازمین بے قصور ہے اور اس کے ساتھ کوئی نا انصافی ہو گئی تو میں تمام عمر خود کو معاف نہیں کر پائوں گی۔‘‘ وہ حیرت سے بت بن گیا تھا ٗ اس نے روتے ہوئے نہ صرف تفصیل بتائی تھی بلکہ اپنے فیصلے سے بھی آگاہ کیا تھا۔
’’تم پریشان نہ ہو ٗ کچھ نہیں ہوگا۔ میں پھپھو کو جانتا ہوں وہ شازمین کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دیں گی اور راحم بھی ایسا کبھی نہیں کرے گا کہ وہ شازمین سے محبت کرتا ہے۔‘‘ وہ حیرانگی سے نکلتا اس کو ہی نہیں خود کو بھی پریشان کن سوچوں سے بچانے کیلئے مثبت سمت دیکھ رہا تھا۔
’’وہ بہت غصے میں تھے اسجد! وہ جو اس دن آئے تھے ان کے برعکس کہ انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا تھا اور راحم الحسن کا بس چلتا تو وہ مجھے آپ کی زندگی سے لمحہ ضائع کئے بنا نکال دیتے ٗ اس سارے مسئلے میں ٗ میں ہی فساد کی جڑ ہوں ٗ اس لئے آپ مجھے ہی چھوڑ دیں۔‘‘
’’بکواس بند کرو یسریٰ! اور یاد رکھنا کہ تمہیں چھوڑ دیا تب بھی مائدہ کے ساتھ میری زندگی شروع نہیں ہو سکتی کہ وہ میرے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی ٗ وہ میرے لئے اتنی اہم ہے بھی نہیں کہ اس کیلئے تمہیں چھوڑ دوں۔‘‘ وہ اسے گھورتا کمرے سے ہی نکل گیا تھا اور وہ بیڈ پر گرتی رو پڑی تھی۔
٭٭٭
’’میں اس شخص کیلئے اتنی زیادہ غیر اہم ہوں کہ شادی کی تقریبات میں سامنے پر بھی اس نے نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا مجھے۔‘‘ وہ بستر پر دراز آزردگی سے سوچ رہی تھی کیونکہ وہ تو کسی خوشبو جیسی بات اور دل میں اتر جانے والی نگاہ کی منتظر تھی ٗ مگر اس کا انتظار ٗ انتظار ہی بنا اس کا منہ چڑاتا اسے دکھ سے دو چار کر رہا تھا کہ برتھ ڈے پارٹی میں حادثے کے بعد جو آنے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی اس نے پورا نہ کیا تھا ٗ اس کے اکلوتے بھائی کی شادی تھی اس نے ایک ایک چیز بڑی شاندار لی تھی جو اس پر سج کر اور حسین ہو گئی تھی ٗ مگر اس کی تیاری بطور خاص جس شخص کیلئے تھی اس کے سوا سب ہی نے اس کی تعریف کی تھی ٗ اس سنگدل کی ماں نے بلائیں لی تھیں ٗ کتنے ہی نوٹ اس پر سے وارے تھے اور وہ خوش فہم ہو گئی تھی کہ آج تو وہ اسے سراہے گا ٗ مگر وہ تو سنجیدگی سے کبھی اس کے ساتھ تو کبھی اس کے ساتھ کھڑا باتیں بنا رہا تھا ٗ یہ نہ تھا کہ دونوں کا سامنا ہی نہ ہوا ہو ٗ مایوں کی شب وہ اسٹیج پر آیا تھا ٗ تو وہ بھائی کے پہلو میں بیٹھی اسے تنگ کر رہی تھی ٗ ہنس رہی تھی ٗ دونوں کی ساتھ پکچرز بنی تھیں ٗ مگر مجال ہے جو اس نے کچھ کہا ہو یا باقی سب سے ہٹ کر کسی خاص نظر سے دیکھا ہو اور ولیمے کی شب تو وہ مہوش کے پیچھے بھاگتی اس سے ٹکرا گئی تھی ٗ گجرے اس کے قدموں میں گر گئے تھے اور وہ سادگی سے اٹھا کر انہیں اسے پکڑاتا نکلتا چلا گیا تھا ٗ جب سے ہی اسے رونا آ رہا تھا کہ وہ کوئی عام سی آرام سے نظر انداز کر دینے والی بھی نہ تھی کہ اس کی خوبصورتی اپنی مثال آپ تھی ٗ اوپر سے ان کے درمیان جڑا رشتہ کسی شرارت اور سرگوشی کا متقاضی تھا‘ مگر لگتا تھا جیسے وہ جذبات سے عاری ہو ٗ محض ’’سوری‘‘ کہہ کر گجرے پکڑاتا اس کے برابر سے نکلتا چلا گیا تھا اور وہ جو پوری محفل میں ضبط کرتی رہی تھی ٗ گھر آ کر ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے تھے ٗ ساری آرائش اس نے بے دردی سے نوچ ڈالی تھی اور تکیے میں منہ دیئے سسکنے لگی تھی۔
’’کہیں حنین نے اپنی جذباتیت میں ہر بات ارحم سے کہہ تو نہیں دی؟‘‘ وہ نئی سوچ پر گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
’’حنین تو ان سے کچھ چھپاتی بھی نہیں ٗ اس نے انہیں بتا دیا ہو اور انہوں نے منگنی صرف حنین کے کہنے پر کی ہو کہ وہ حنین کی کوئی بات ٹالتے بھی تو نہیں۔‘‘ وہ لب کچلتے ہوئے بے چینی سے سوچ رہی تھی۔
’’نہیں ٗ کوئی اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کسی کیلئے کیسے لے سکتا ہے؟‘‘ اس نے سر کو ہلاتے ہوئے اپنی ہی سوچ کی نفی کی تھی۔
’’لیکن جن سے محبت کی جائے ٗ ان کی خوشی کا خیال رکھا جائے تو کیا چھوٹا فیصلہ اور کیا بڑا۔‘‘ دماغ نے نیا پوائنٹ اٹھایا تھا۔
’’لالہ جان سے شادی کا فیصلہ اس نے بھی تو صرف ارحم کیلئے کیا ٗ تو پھر ارحم اس کیلئے کیوں مجھ سے رشتہ نہیں جوڑ سکتے۔‘‘ وہ خود سے سوال جواب کا کھیل کھیل رہی تھی ٗ الجھتی پریشان ہو رہی تھی۔
’’تو کیا حنین اور ارحم ایک دوسرے سے…!‘‘ وہ یکدم ہی لب کا کونا دانتوں تلے کچل گئی تھی ٗ ہونٹ کے کنارے سے خون رسنے لگا تھا کہ یہ خیال ہی اس کیلئے سوہان روح تھا کجا کہ وہ اس خیال کو ذہن سے نکال کر لبوں تک لاتی۔
’’نہیں وہ حنین سے محبت نہیں کرتے ٗ ایسا ہوتا تو ان کے درمیان تو کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی۔‘‘ وہ اٹھ کر ٹہلنے لگی تھی اپنی سوچ کی شدت سے نفی کرنے لگی تھی۔
’’ارحم! حنین سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی مجھ سے لالہ جان ٗ ان کے انداز میں ٗ پیار میں نرمی و شائستگی اور پاکیزگی ٹپکتی ہے۔‘‘ وہ اپنے ذہن میں کتنے ہی مناظر کو لاکر تجزیہ کرتی زیر لب بولی تھی۔
’’اس دن جب حنین نے مجھ سے لالہ جان کی وجہ سے لفٹ نہیں لی تھی ٗ تب ان کی آنکھیں دیکھی تھیں میں نے کتنی صاف تھیں ٗ آئینے کی طرح شفاف… اور حنین… اس نے تو خود مجھ سے کہا تھا کہ…!‘‘ وہ ٹھہر کر اس کی کہی بات سوچنے لگی تھی۔
’’یہ میرے پاپا کی تصویر ہے اور میرے ارحم بھیا ٗ میرے پاپا سے بہت ملتے ہیں ٗ جب میں بہت چھوٹی تھی تب میرے پاپا مجھے چھوڑ گئے تھے ٗ ارحم بھیا مجھ سے تقریباً گیارہ سال بڑے ہیں ٗ مجھے دھیرے دھیرے ان میں اپنے پاپا کی شباہت محسوس ہونے لگی اور میں ان کے قریب ہو گئی ٗ مجھ سے وابستہ میرا ہر رشتہ میرے لئے بہت اہم ہے ٗ میرے اپنوں نے مجھے میری سوچ سے بڑھ کر چاہت دی ہے ٗ مجھے کبھی پھولوں کی چھڑی سے بھی نہیں چھوا گیا اور جیسے بیٹیاں ماں سے بڑھ کر باپ کے نزدیک ہوتی ہیں ٗ میں تایا ابو کے قریب ہوتی چلی گئی تھی ٗ اپنے پاپا جیسے نظر آنے والے ارحم بھیا تو میری کل کائنات ہیں اور شاید وہ میرے لئے ممی ٗ تایا ابو اور زرمین آپی سے بڑھ کر اہم ہیں کہ ممی بھی ایک ہیں ٗ تایا ابو بھی مگر ارحم بھیا تو میرے لئے تین ہیں ٗ میرے پاپا ٗ میرے بھیا اور میرے دوست اور میں جو بات ایک باپ سے نہیں کہہ سکتی ٗ بھائی سے کہہ دیتی ہوں اور جو بھائی سے نہیں کہہ سکتی وہ دوست سے کہہ جاتی ہوں کہ وہ ایک شخص میرے لئے چاہت و عزت کا شجر و سائبان ہے ٗ وہ جب سے پنڈی گئے ہیں ٗ میں بہت اداس ہوں ٗ دعا کرتی ہوں ان کا ٹرانسفر یہاں کراچی ہو جائے ٗ تم بھی دعا کرنا لاج! کہ وہ واپس آ جائیں اور زندگی میں چاہے مجھ سے ہر کوئی روٹھ جائے ٗ ارحم بھیا نہیں ٗ اسی لئے صرف ان کو منانے کو ان کی بات کا مان رکھنے کو میں نے نکاح کیا ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ کہیں میں ارحم بھیا کا مان نہ توڑ دوں ٗ اس لئے دعا کرنا میں نئے رشتے کو ایکسپٹ کر لوں کہ خود ٹوٹ بھی جائوں گی تو ارحم بھیا کا مان نہ ٹوٹنے دوںگی۔‘‘ اس کا بھیگا لہجہ اس کے کانوں میں کیا گونجا تھا ٗ وہ اپنی سوچ پر شرمندہ ہو گئی تھی اور خود کو ڈپٹنے لگی تھی۔
’’آئی ایم سوری حنین! میں لمحے بھر کو اپنی سوچ کے ساتھ بھٹک گئی تھی ٗ ایکسٹریملی سوری ٗ بٹ اگر ارحم نے مجھ سے منگنی صرف تمہارے کہنے پر کی ہے ٗ تو میں رشتہ توڑ دوں گی۔‘‘ اس نے آنسو پونچھتے ہوئے سوچا تھا کہ دل تکلیف سے بھر گیا تھا ٗ وہ شخص اپنی تمام تر بے اعتنائیوں اور سنجیدگی کے ساتھ اس کے دل میں اتر گیا تھا اور وہ اس کے سنجیدہ رویے کو سوچتی پریشان ہوتی رات آنکھوں میں ہی کاٹ گئی تھی۔
٭٭٭
’’تمہاری یہ اداسی اور خاموشی میری سمجھ سے باہر ہے حنین!‘‘ وہ گہری سنجیدگی سے بولا تھا کہ بے شک وہ کچھ نہ کچھ خود سمجھ رہا تھا ٗ کچھ باتیں سننے کے سبب جان گیا تھا ٗ مگر منہ اٹھا کر کہہ تو نہیں سکتا تھا ٗ اس لئے اسے کھوجنا چاہا تھا ٗ آیا وہ اسے کیا بتاتی ہے؟ بتاتی بھی ہے یا نہیں؟
’’میں اداس نہیں ہوں۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میں کہتی جیولری اتارنے لگی تھی ٗ یہ اس نے کل سے اب تک پہلا مکمل جملہ اپنے منہ سے کمرے کی فضا میں آزاد کیا تھا۔
’’تم اداس نہیں ہو ٗ لیکن پھر مجھے اداس کیوں لگ رہی ہو؟‘‘ ہلکے پھلکے انداز میں بولا تھا۔
’’دیکھو حنین! بات کہنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں ٗ تمہیں کوئی بات پریشان کر رہی ہے تو کہہ دو۔‘‘ وہ نرمی سے اسے بولنے کو اکسا رہا تھا۔
’’میرے کل کے اور آج کے موڈ میں اور رویے میں ذرا بھی فرق نہیں ہے اور جو بات آپ کو کل محسوس نہیں ہوئی ٗ اس کو آج محسوس کرکے اس کا حل نکالنے کا کوئی مطلب نہیں نکلتا۔‘‘ وہ بھرائے ہوئے لہجے میں کہتی ٗ آنسو بہاتی اٹھی تھی کہ وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس بٹھا گیا تھا۔
’’ہر بات کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے اور اسی لئے میں نے کل کی رات ضائع نہیں کی کہ گلے شکوے تو عمر بھر دور کئے جا سکتے ہیںٗ مٹانے کو فاصلے بھی بعد میں مٹائے جا سکتے تھے ٗ مگر خوبصورت وقت تو نکل جاتا کہ زندگی میں کتنی ہی صبحیں ٗ کتنی ہی راتیں آئیں ٗ کل کی رات اور آج کی صبح ہر رات و صبح پر بھاری ہی رہے گی اور میں کل کی رات گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ تمہارے انداز میں اداسی تھی ٗ جھجک تھی ٗ ڈر تھا ٗ لیکن اس کے سب کے باوجود بے زاری و غصہ نہ تھا ٗ لاتعلقی تھی مگر خود سپردگی بھی تھی ٗ کچھ پوزیٹیو تھا ٗ کچھ نیگٹیو تھا میں نے اگر پوزیٹیو پہلو پر نظر رکھی تو کیا غلط کیا؟ بات کرکے پریشانی تو آج بھی دور ہو سکتی ہے ٗ لیکن کل کی رات مس کر دیتے تو عمر بھر تشنگی محسوس کرتے۔‘‘ وہ خود اعتماد و بولڈ تھا اور اپنی بولڈنس کا ثبوت دیتا اس کے ماتھے پر شبنم کے قطرے نمودار کر گیا تھا اور اس کی ذومعنی گفتگو سے اس کے چہرے کی رنگت تمتما اٹھی تھی۔
’’خاموشی محسوسی کی تھی میں نے تمہاری ٗ مگر مجھے یقین تھا کہ تم کچھ بول ہی نہیں پائو گی کہ ہاں بول سکتی ہو تو ہوں میں تمہارے سامنے ٗ بولو کیا بولنا ہے؟ دو سزا کیا دینی ہے؟ کہ بات تمہاری بات کو اہمیت نہ دینے کی نہ تھی وقت کو اہمیت دینے کی تھی ٗ میں نے تو رات ہی کہہ دیا تھا کہ تم میری ہوئیں ٗ میں تمہارا ہوا ٗ تم مجھے اس طرح خاموش ٗ شرمائی لجائی اچھی لگیں میں اس پر فدا ٗ تم آج یوں اچھی نہیں لگ رہیں ٗ تو اس فیز سے نکالنے کو کوشاں‘ میں اپنی حنین کو اپنے انداز میں دیکھنا ٗ رکھنا چاہتا ہوں اور اب یہ تم پر ہے کہ تم اپنے ماہ کنعان کو کیسے رکھو ٗ اداس تو میں بھی ہوں کہ تم اداس ہو ٗ میں بول اس لئے رہا ہوں تاکہ تمہاری خاموشی ٹوٹے ٗ جب میں تمہارے لئے اتنا کچھ کر رہا ہوں تو کیا تم میرے لئے کچھ نہیں کرو گی؟ میں بھی تو تمہارے منہ سے اپنے لئے کچھ سننا چاہتا ہوں ٗ آج تک تم نے تو میرا نام بھی پیار و حق سے اپنے احمریں لبوں سے ادا نہیں کیا۔‘‘ وہ دھیمے دھیمے گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے چہرے پر حجاب سی قوس و قزح بکھرا گیا تھا۔
’’کہو ناں کچھ حنین! میرے کان تمہاری آواز سننے کے منتظر ہیں ٗ میری تعریف نہ سہی ٗ برائی سہی ٗ میری برائی نہ سہی ٗ اپنی اداسی کا سبب ہی بتا دو کہ تم میرے لئے اتنی اہم ہو حنین! کہ میں تمہارے لئے تمہاری خوشی کیلئے خود کو اپنی ذات کو بھول سکتا ہوں ٗ تم بس مجھ پر اعتبار تو کرکے دیکھو۔‘‘ وہ دلکشی سے کہتا اس کا ہاتھ تھام گیا تھا اور اس کے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’مجھے نہیں پتہ کچھ ٗ نہیں سمجھ آ رہا کچھ بھی ٗ سب خوش ہیں ٗ مطمئن ہیں ٗ لیکن میںخوش نہیں ہو پا رہی ٗ پتہ نہیں کیسی بے اطمینانی میرے اندر کنڈلی مار کر بیٹھ گئی ہے کہ میں مطمئن نہیں ہو پا رہی۔‘‘ وہ بری طرح رو رہی تھی۔
’’اس ناخوشی و نامطمئن ہونے والے احساس کے پیچھے کوئی وجہ ہو گی ٗ وہ کہو مجھ سے اپنے احساسات ٗ خیالات شیئر کرو ٗ یقین کرو حنین! ہم الگ نہیں ہیں ٗ میاں بیوی کو قرآن حکیم میں ایک دوسرے کا لباس (قبا) کہا گیا ہے اور جب اتنا قریبی رشتہ ہے ٗ جب کوئی پردہ ہے ہی نہیں تو خیالات‘ محسوسات بانٹنے میں کیسا تردد؟ کیسی جھجک ٗ کیسا ڈر؟‘‘ وہ اس کے رونے سے خائف ہوا تھا ٗ مگر جب بولا تھا تو نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہ وہ اس کو غیر تحفظات کا شکار پا رہا تھا اور نرمی سے اس کے تمام بے یقین و پریشان کن احساسات جان کر ختم کر دینا چاہتا تھا۔
’’میں نہیں کہہ پا رہی ٗ آپ پر یقین بھی نہیں کر پا رہی ٗ آپ کے بارے میں سوچ بھی نہیں پا رہی۔‘‘ وہ بے بسی سے کہتی اسے سن کر گئی تھی ٗ اتنی چاہت کے بعد ایسا رسپانس اس کے شعور ٗ لاشعور میں کہیں بھی نہیں تھا ٗ اس کے رخسار پر رکھا ہاتھ بے جان ٗ بے روح ہو کر اپنے مقام پر آن ٹھہرا تھا ٗ بائیں ہاتھ میں موجود حنائی ہتھیلی یکدم چھوٹ گئی تھی۔
’’ٹھیک ہے تو فیصلہ کر لو کہ زندگی کس طور گزارنی ہے یہ تو طے ہے کہ خوشی کا احساس انسان کو اپنے اندر سے ہی نکالنا ہوتا ہے اور جب انسان خوش ہونا ہی نہ چاہے تو اداسی یوں ہی خوشی کے بے کراں لمحوں میں ٹھہر جایا کرتی ہے ٗ اب یہ تم پر ڈپینڈ کرتا ہے کہ تم خوشی ڈھونڈتی ہو یا میری خوشی کو بھی ماند کر دیتی ہو۔‘‘ وہ اس کے سامنے سے اٹھ گیا تھا۔
٭٭٭
’’مما پلیز! آپ لوگ کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں؟ کم از کم آپ تو میرے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘ وہ طلاق لینے پر بضد تھی اور وہ سب اس کیلئے پریشان ٗ اس کی زندگی سے ہراساں ٗ کیونکہ ایسا ہوا تو وہ پہاڑ سی زندگی اکیلے کیسے گزارے گی؟
’’میں تمہارے محسوسات سمجھ رہی ہوں ٗ تمہیں حق بجانب مانتی ہوں ٗ لیکن جو سزا تم اسجد کیلئے منتخب کر رہی ہو ٗ وہ صرف اس کیلئے نہیں خود تمہاری لئے بھی سزا ہے ٗ زندگی کیسے گزارو گی؟‘‘ وہ روتی ہوئی بیٹی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں دبا گئی تھیں۔
’’مما! جیسے اب تک گزاری ٗ مگر میں اب آگے ذلت نہیں چاہتی ٗ کیوں آپ مجھے اس قفس میں بھیج کر میرا دم گھوٹ دینا چاہتی ہیں؟‘‘ اس کی لاچاری پر وہ دہل اٹھی تھیں۔
’’ایسے نہ دیکھیں کہ اس شخص کی ہمراہی میری جان لے لے گی ٗ ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے مجبور نہ کریں۔‘‘ وہ روتی ہوئی اٹھی تھی مگر چند قدم ہی چلی تھی کہ آنکھوں کے نیچے ایسا ندھیرا آیا تھا کہ لہرا کر کارپٹ پر جا گری تھی۔
٭٭٭
’’فری! کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ مائدہ جب سے الحسن ہائوس آئی تھی ٗ وہ سب ہی پریشان تھے مگر آج فریدہ ہر دن سے زیادہ مضطرب تھیں ٗ گہری سوچ میں مستغرق تھیں کہ شوہر کی آواز پر انہیں دیکھنے لگی تھیں۔
’’مائدہ کو لے کر پریشان ہوں یوسف! وہ اپنے فیصلے سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں ٗ وہ غلط نہیں ہے اسجد نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا ہے ٗ وہ حق بجانب ہے لیکن کیسا بھی ہے اسجد اس کا شوہر ہے۔‘‘ آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر گر رہے تھے۔
’’مائدہ نے کمال کا ضبط دکھایا ہے فری! جتنا وہ سہہ گئی کوئی نہیں سہہ سکتا ٗ اس نے ہم سب کیلئے ایثار کا مظاہرہ کیا ٗ کمپرومائز کی راہ پر چلی اور جب شوہر ہی اس کا نہیں تو وہ جو فیصلہ لے رہی ہے ٗ درست ہے ٗ نا آسودہ زندگی گزارنے سے بہتر ہے راستے الگ ہو جائیں کہ بہتری کی دوسری راہ ڈھونڈی جا سکتی ہے۔‘‘ وہ اشارتاً جو کہہ گئے تھے اسے سمجھتے ہی وہ مضطرب ہو گئی تھیں۔
’’یہ ممکن نہیں ہو گا ٗ طلاق کے بعد مائدہ دوسری شادی کیلئے کسی قیمت پر راضی نہیں ہو گی اور دوسری راہ ڈھونڈنے سے بہتر ہے کہ اس راہ کو سنوارا جائے ٗ اسجد شرمندہ ہے ٗ معافی مانگ رہا ہے ٗ تو ہمیں گنجائش نکالنی چاہئے ٗ اسی میں مائدہ کی بھلائی ہے کہ ہر صورت ٗ ہر طریقے میں نقصان مائدہ کا ہے ٗ اگر اس کا نقصان دونوں صورتوں میں نہ ہوتا تو میں کبھی اسے اسجد سے کمپرومائز کا نہ کہتی کہ اس میں نقصان کی بھرپائی کے آثار موجود ہیں۔‘‘ وہ گہری سوچ کے بعد بولی تھیں ٗ کیونکہ ہر پہلو پر سوچ چکی تھیں۔
’’اور اب تو مائدہ کے پاس کوئی آپشن بچا بھی نہیں ہے کہ اس نے اپنی راہیں الگ کر لیں تو سوچیں آنے والے بچے کا کیا مستقبل ہوگا؟‘‘ اصل پریشانی والی بات تو یہی تھی کہ اس کے قدموں میں بیڑیاں پڑ چکی تھیں۔ اسے اس خبر نے ساکت کر دیا تھا اور وہ اضطراب سمیٹ لائی تھیں کہ آگے کنواں ٗ پیچھے کھائی ٗ بچائو کا کوئی راستہ نہ تھا۔
’’یہ بات ہے پریشانی والی ٗ لیکن مائدہ کو جبراً رشتے نبھانے کیلئے نہ کہا جائے تو بہتر ہے ٗ اس لئے میں اپنی بیٹی کے فیصلے میں اس کے ساتھ ہوں ٗ اس کی مزید ناقدری نہیں چاہتا ٗ اپنی بیٹی کو اس کی اولاد کو ہر طرح سے سپورٹ کروں گا۔‘‘ ان کا لہجہ ٹھوس تھا۔
’’یوسف! میں کب کہہ رہی ہوں کہ ہم اسے سپورٹ نہیں کریں گے۔ لیکن باپ کی کمی کوئی پوری نہیں کرسکتا ٗ مائدہ کی زندگی آگے اور کٹھن ہو جائے گی ٗ میں چاہتی ہوں آپ اسے سمجھائیں ٗ مجھ سے تو وہ بحث کر رہی ہے ٗ اپنی بات پر ڈٹی ہے ٗ آپ سے کچھ نہ کہہ پائے گی ٗ کچھ لچک آ جائے گی اس کے فیصلے میں۔‘‘ وہ شوہر کو آس سے دیکھ رہی تھیں۔
’’یعنی میں اسے مجبور کروں ٗ اموشنلی بلیک میل کروں ٗ وہ بھی اس شخص کیلئے جو اسے یہاں سے لے جانے تک نہیں آیا ٗ بھائی صاحب نے گھر سے نکالا تو خاموشی سے نکل کر اپنی من چاہی بیوی اور بیٹی کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کرنے لگا ٗ اس بے حد ناقدرے شخص کیلئے اپنی بیٹی کو مجبور کروں؟ تو یہ مجھ سے نہیں ہوگا فریدہ! وہ رہے اپنی زندگی میں خوش ٗ مائدہ کوئی لاوارث نہیں ہے ٗ نہ مجھے وہ اتنی بھاری ہے کہ اسے اس سب کے باوجود اس کے گھر روانہ کر دوں۔‘‘ وہ غصے میں آ گئے تھے اور وہ خائف ہو گئی تھیں ٗ وہ بہت نرم مزاج ٗ برد بار انسان تھے ٗ غصہ کم ہی کرتے تھے مگر جب کرتے تھے ان کی جان پر بن آتی تھی کہ غصہ نہ کرنے والا غصہ کرے تو سمجھ نہیں آتا اسے کیسے قابو کیا جائے؟ کیسے غصے سے باز رکھا جائے؟
’’اسجد آیا تھا ٗ شرمندہ ہے ٗ مائدہ کو ساتھ رکھنا چاہتا ہے ٗ لیکن مائدہ نے اس سے بات ہی نہیں کی ٗ وہ طلاق چاہتی ہے ٗ وہ دینا نہیں چاہتا۔‘‘ وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولی تھیں۔
’’ایسا واقعی میں وہ چاہتا ہے تو وہ کوشش کرے ٗ بیوی کو منا کر ساتھ لے جائے ٗ ورنہ میں اپنی بیٹی کے فیصلے میں اس کا ساتھ دوں گا۔‘‘ وہ کڑے لہجے میں انہیں باور کروا رہے تھے۔
’’دیکھو فری! صرف بھائی صاحب کا منہ دیکھ کر میں خاموش ہوں ورنہ اسجد کا وہ حال کرتا کہ اسے پتہ چلتا مائدہ لاوارث نہ تھی جو اس نے یوں اس کو تکالیف دیں۔‘‘ وہ اداس ہو گئے تھے۔
’’مجھے اپنی بیٹی بہت عزیز ہے ٗ اسی لئے صرف اس کی خوشی کیلئے اسجد کے ساتھ نرمی سے پیش آیا کہ وہ میری بیٹی کا شوہر ہے ٗ میں چاہتا ہوں کہ یہ رشتہ قائم رہے ٗ اگر ایسا نہ ہوا تو یا تو تم اپنے بھائی کو کھو دو گی یا بھائی صاحب بیٹے کو کھو دیں گے اور بھائی صاحب کو میں نے ہمیشہ اپنے بڑے بھائی ٗ اپنے باپ کی جگہ رکھا ہے ٗ انہیں شرمندہ نہیں دیکھ سکتا ٗ نہ چاہتا ہوں کہ ان سے ہم یا اسجد دور ہوں ٗ مگر اس کیلئے اسجد کو کچھ کرنا ہوگا ٗ ہم سب کے اچھا کرنے ٗ سوچنے سے کچھ نہیں ہوگا ٗ اسجد ہی تمام معاملات کو تمام رشتوں کو سلجھا کر ایک ڈوری میں باندھ سکتا ہے کہ دو شادیاں کرنا ٗ دو بیویوں کو رکھنا مشکل ہے ناممکن نہیں ٗ ظرف و حوصلہ اسجد کو بڑا کرنا ہوگا اور ایسا نہیں کرتا تو باپ سے ہی نہیں آنے والی اولاد سے بھی محروم ہو جائے گا۔‘‘ وہ حقیقت بیان کر گئے تھے کہ کرنا تو اسجد نے ہی تھا۔
٭٭٭
’’مجھے معاف کر دیں امی! میں بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ وہ ماں کے سامنے رو پڑا تھا کہ اتنے لوگوں کی نفرت وہ سہہ نہیں پا رہا تھا۔
’’مت کہو مجھے ماں ٗ تم نے اپنی مردانگی کے زعم میں ٗ میری پرورش کو بدنما داغ لگا دیا ہے ٗ کسی کے سامنے نظریں ملانے کے قابل نہیں چھوڑا۔‘‘ وہ بھی رونے لگی تھیں۔
’’مائدہ سے صرف ایک بار میری بات کروا دیں ٗ میں اس کے پیر پکڑ کر معافی مانگ لوں گا ٗ اس سے کہیں وہ مجھے جو چاہے سزا دے لے ٗ بس طلاق کا خیال ذہن سے نکال دے ٗ ایسا ہوا تو ابو بالکل ٹوٹ جائیں گے ٗ میں ابو کو مزید اذیت نہیں دینا چاہتا ٗ میں مائدہ کے ساتھ کئے ہر ظلم کا ازالہ کروں گا ٗ اس کو عزت و مان بھری زندگی دوں گا ٗ میں چاہتا تو نہیں لیکن اگر آپ سب اور مائدہ چاہے گی تو میں یسریٰ کو چھوڑ دوں گا کہ میں اپنی خوشی کیلئے آپ سب کو بہت اذیتیں دے چکا ٗ مگر اب نہیں ٗ اپنی زندگی کی پہلی و آخری خوشی کو اپنی زندگی سے بے دخل کر دوں گا ٗ میں نادم ہوں ہر حال میں اپنے کئے کا ازالہ چاہتا ہوں اور اس کیلئے مجھے مائدہ کا ہر فیصلہ ٗ ہر سزا قبول ہے۔‘‘ وہ روتے ہوئے کہتا اپنی بات مکمل کرکے آنسو پونچھتا راشدہ کو ساکت چھوڑ کر نکلتا چلا گیا تھا کہ وہ برا نہیں تھا بس حالات ایسے ہوئے کہ وہ برا بن گیا ٗ مگر وہ جو کر چکا تھا اس کے بعد شرمندہ تھا ٗ اذیت میں تھا اور اس کے ازالے کی بھی راہ اس نے سوچ لی تھی جبکہ یہ بھی جانتا تھا ٗ یہ وہ نہیں کر پائے گا کہ ایسا کر گیا تو جیتے جی مر جائے گا ٗ یسریٰ اس کی محبت تھی ٗ مگر وہ زندہ اب بھی کون سا تھا ٗ تل تل مر رہا تھا ٗ ایک ایک سے نظریں چرائے پھر رہا تھا اور روز کے مرنے سے ٗ روز کے رونے سے کہیں بہتر یہ تھا کہ ایک دفعہ ہی جان کنی کے مرحلے سے گزر جاتا ٗ خود پر فاتحہ پڑھ کر ایک ہی دن رو لیتا ٗ نوید عالم کے کمرے کے باہر وہ دیوار سے چپکا کھڑا تھا اور اسجد بہت تیزی سے نکلا تھا وگرنہ اس کو ضرور دیکھ لیتا ٗ مگر وہ اس کے فیصلے پر حیران ہی نہیں دکھی بھی تھا ٗ وہ ایسا کچھ کرتا یہ ان میں سے کسی کو گوارہ نہ تھا ٗ وہ بہن سے بات کرنے کا ارادہ باندھتا باہر کے باہر ہی پلٹ گیا تھا۔
٭٭٭
’’دیکھو مائدہ! ہم سب تمہارے بارے میں غلط نہیں سوچ رہے ٗ زندگی میں کتنی جگہ انسان کو کمپرومائز کرنا پڑتا ہے ٗ تم نے ہم سب کے خیال سے اتنا سیکری فائز کیا ٗ تو اب تھوڑا سا کمپرئومائز بھی کر لو بیٹا! کہ یہ خوشیوں کیلئے ضروری ہے۔‘‘ ارحم نہایت نرمی سے کہہ رہا تھا اور اس کے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’مائدہ! ہم سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں ٗ تمہاری پریشانی سمجھ رہے ہیں ٗ دکھ کا اندازہ ہے اور ہم سب کی تکلیف کے احساس سے تم اور زیادہ دکھی ہو ٗ تمہارے لئے تو میں اکیلا پریشان ہوں ٗ لیکن تم تو ہم سب کیلئے پریشان ہو اور میں تم سے فورس نہیں کر رہا بس اتنا چاہتا ہوں کہ اپنے رویے میں لچک لائو ٗ اسجد نے غلط کیا ہے ٗ وہ تمہارا مجرم ہے لیکن معاف کر دینا ہی مناسب ہے کیونکہ سزا دینے سے کیا حاصل ہوگا؟ دکھ و تکلیفیں بڑھیں گی ٗ رشتوں میں دوریاں آئیں گی اور کیا تم کبھی یہ برداشت کر پائوں گی کہ تمہاری وجہ سے کوئی ہرٹ ہو؟‘‘ وہ ناصحانہ انداز اپنائے ہوئے تھا جس میں نرمی و شفقت کا عنصر نمایاں تھا۔
’’میں جانتا ہوں کہ تم نے تو کبھی کسی چڑیا کے بچے کو بھی نقصان نہیں پہنچایا ٗ اسجد نے مگر تمہارا بہت نقصان کر دیا ہے ٗ اعتبار ایک دفعہ ٹوٹ جائے تو پھر نہیں کیا جاتا ٗ لیکن وہ تمہیں اعتبار سونپنا چاہتا ہے ٗ تمہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے اور ہر غلطی کے ازالے کیلئے وہ اپنی بیوی کو چھوڑنے تک کیلئے راضی ہے۔‘‘ وہ بھیگی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’وہ کاشانہ عالم لوٹنا چاہتا ہے ٗ ماموں جان سے معافی مانگ رہا ہے ٗ اس کیلئے وہ بیوی کو طلاق دینے کو بھی راضی ہو گیا ہے ٗ اب تم بتائو اگر اس نے بیوی کو چھوڑ دیا تو کیا تم کبھی گلٹ سے باہر آ سکو گی؟ اس کی بیٹی اور تمہاری اولاد کا مستقبل کیا ہوگا؟ اتنے لوگوں کی زندگی خراب ہونے سے کیا بہتر یہ نہیں ہے کہ تم صرف ایک موقع اور اسجد کو دے دو؟ اس کو معاف کرکے بھروسہ کر لو۔‘‘ وہ اس کے یکدم کھڑے ہو جانے پر چپ ہو کر اسے دیکھنے لگا تھا۔
’’میں نہ اسجد عالم کو معاف کرنا چاہتی ہوں ٗ نہ لوٹنا چاہتی ہوں ٗ آپ سب کیلئے اس کڑوے زہر کو پی لوں گی ٗ لیکن آپ لوگ یہ یاد رکھئے گا کہ اس سب سے میں راضی نہیں ہوں۔‘‘ وہ نکلتی چلی گئی تھی اور وہ ساکت بیٹھا رہ گیا تھا اس کے ذہن میں کئی سوال سر اٹھانے لگے تھے ٗ اس کا اٹل فیصلہ انہیں پریشان کر رہا تھا کہ وہ اس کی حساس نرم فطرت سے واقف تھے۔
’’مما! پلیز آپ کو تو مائدہ نے بتایا ہوگا ناں کہ ایسی کیا بات ہے کہ وہ کوئی گنجائش نہیں نکال پا رہی؟ آج مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میرے سامنے نرم خو ٗ نرم فطرت مائدہ نہیں بیٹھی ٗ مجھے لگا کہ ہم نے مائدہ کو کھو دیا ہے۔‘‘ وہ ماں کے سامنے ہر الجھن کہہ گیا تھا۔
’’تم تو جانتے ہو ناں کہ بات شیئر نہیں کرتی وہ۔‘‘ انہوں نے بمشکل کہا تھا۔
’’مما! آج احساس ہوا کہ کچھ نہیں ٗ بہت کچھ غلط ہے ٗ اس لئے ہمیں مائدہ کے فیصلے کو قبول کر لینا چاہئے۔‘‘ وہ پرسوچ انداز میں کہہ رہا تھا اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی ٗ مائدہ کا زرد دھواں دھواں بے تاثر چہرہ ٗ گیلی مضطرب آنکھیں اس کے ذہن و دل میں ترازو ہو گئی تھیں۔
’’اندازہ ہے کہ بات بڑی ہے ٗ اسی لئے وہ کمپرومائز کی راہ نہیں منتخب کرنا چاہتی لیکن یہ راہ منتخب کرنا دشوار تو ہے مگر ناگزیر بھی ہے ٗ اس لئے میں چاہتی ہوں کہ وہ لوٹ جائے ٗ میں اس کے اور اس کی اولادکے مستقبل سے خوفزدہ ہوں اور کرنا اسے ہی کمپرومائز ہے ٗ تو ہم اسے وہ راہ کیوں نہ دکھائیں ٗ جہاں اس کا نقصان کم سے کم ہو کہ جتنا نقصان ہونا تھا ہو گیا۔‘‘ انہوں نے دونوں کی باتیں سنی تھیں ٗ وہ اس کے جبراً راضی ہو جانے پر بھی مطمئن ہو گئی تھیں ٗ کیونکہ وہ آگے تک سوچ رہی تھیں۔
٭٭٭
’’یار حنین پلیز! پردے تو برابر کر دو ٗ سورج کی تپش سیدھی میرے منہ پر پڑ رہی ہے‘‘ چہرے پر پڑنے والی تپش نے اس کی نیند میں خلل ڈالا تھا اور اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی حنین سے کہا اور تکیہ منہ پر رکھ لیا۔ ’’ساری لائٹس آن کرنے کے باوجود مجھے اندھیرا محسوس ہو رہا تھا اس لئے پردے ہٹائے ہیں۔‘‘ وہ بالوں کو اٹھا کر پونی لگاتے ہوئے لاپرواہی سے بولی تھی۔
’’تو صبح ہی صبح تمہیں اٹھنے کی ٗ روشنی کی ضرورت کیا پڑ گئی ٗ مجھے سخت نیند آ رہی ہے ٗ لائٹس آف کرکے ٗ پردے ڈالو ٗ مجھے روشنی بری لگ رہی ہے۔‘‘ وہ کچھ جھنجلائے ہوئے انداز میں بولا تھا۔
’’یونیورسٹی جا رہی ہوں ٗ اب اندھیرے میں تو تیار نہیں ہو سکتی ناں ٗ آپ منہ پر تکیہ رکھ کر سو جائیں۔‘‘ وہ جو اس کے لہجوں کو سمجھنے لگا تھا اس کے لہجے میں چھپی ناراضی کو محسوس کرکے یکدم سیدھا ہوا تھا اور اسے دیکھا تھا جو اسٹول پر بیٹھی سلیپر کے اسٹریپ لگا رہی تھی ٗ پنک کاٹن ایمبرائیٹڈ سوٹ میں وہ نکھری نکھری لگ رہی تھی ٗ دوپٹہ سے بے نیاز سراپا اس کی آنکھیں قربت کی جوت جگا بیٹھی تھیں۔
’’تیار ہی ہو رہی تھیں ناں ٗ تو اس کیلئے ایک لائٹ آن کر لیتیں موتیاں تو چن نہیں رہی تھیں کہ پورے کمرے کو روشنی میں نہلا کر میری نیند خراب کر دی۔‘‘ اس کے چہرے پر ناراضی سی پا کر وہ مسرور سا چھیڑتا اس تک پہنچا تھا۔‘‘
میںنے آپ کی نیند خراب نہیں کی ہے ٗ آپ خود ہی جاگ گئے ہیں اور میں آپ کو صاف بتا رہی ہوں اس روم کی کلر سکیمنگ چینج کروالیں ورنہ روزانہ ہی ایسا ہوا کرے گا اور آپ نے مجھے اس بات کا الزام دیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ وہ بیویوں کے سے انداز میں کمر پر ہاتھ جمائے کہتی اسے بہت اپنی اور دلکش لگی تھی۔
’’اپنی حنین پر میں اپنی جان وار سکتا ہوں ٗ اتنی سی نیند کی قربانی تو کوئی معنی نہیں رکھتی۔‘‘ وہ مغمور لہجے میں کہتا اسے اپنے حصار میں باندھ گیا تھا اور اس کی تو جیسے ساری تیزی و طراری اڑن چھو ہو گئی تھی اور اس کی جسارتوں پر وہ روہانسی ہی تو ہو گئی تھی کیونکہ اتنے عرصے میں پہلی دفعہ ہوا تھا کہ وہ جاگ رہی تھی اور وہ سو رہا تھا اس لئے اسے کچھ عجیب لگا تھا اور اس نے لاشعوری کوشش سے اسے جگا دیا تھا اور وہ جاگا تھا تو اس کی جان پر بن آئی تھی۔
’’پلیز لیو می! مجھے یونیورسٹی سے دیر ہو رہی ہے۔‘‘ وہ اس کے حصار میں گھری منمنائی تھی۔
’’آج جانے کی ضد نہ کرو
کہ دل ابھی بھرا نہیں…‘‘
وہ اس کے کان کی لو چومتا دھیمے سے گنگنایا تھا۔‘‘
’’میں اتنے دن بعد جار رہی ہوں ٗ لیٹ ہو گئی تو ڈانٹ پڑے گی۔ پلیز جانے دیجئے ناں؟‘‘ وہ اپنی سنا رہا تھا اور وہ اپنی کہہ رہی تھی ٗ وہ اس کے حصار میں بندھا تھا اور وہ یونیورسٹی کو سوچ رہی تھی مگر اس کا ارادہ اس کی سننے کا نہیں تھا کہ دروازہ بجا تھا جہاں وہ بری طرح جھنجھلایا تھا اس نے تو اس غیبی امداد پر سکون کا سانس لیا تھا کہ وہ اسے اپنی گرفت سے ایک جسارت کے بعد آزاد کر گیا تھا۔
’’کیا مسئلہ ہے صبح ہی صبح کیوں نازل ہو گئی ہو؟‘‘
دروازاہ کھولتے ہی ساری جھنجلاہٹ غصہ میں ملازمہ پر انڈیلی تھی۔
’’لاج بی بی ٗ چھوٹی بیگم صاحبہ کا ناشتہ پر انتظار کر رہی ہیں۔‘‘ ثریا بے چاری منمنا کر بولی تھی۔
’’ثریا ٗ آپ جا کر لاج سے کہو کہ میں آ رہی ہوں۔‘‘ اس نے استری اسٹینڈ سے دوپٹہ اٹھاتے ہوئے آواز لگای تھی ٗ ماہ لاج تو روزانہ ہی یونیورسٹی جا رہی تھی البتہ وہ شادی کے بعد آج پہلی دفعہ جا رہی تھی ٗ ساری بات رات کو ہی طے ہو گئی تھی اس لئے وہ ساڑھے 7 بجے تک بھی ڈائننگ ہال میں نہیں پہنچی تھی تو ماہ لاج نے مجبوراً ملازمہ کو اسے بلانے بھیجا تھا۔ وہ اسے دوپٹہ شانوں پر سیٹ کرتے دیکھ رہا تھا اس نے عادت کے مطابق آخری بار آئینے میں اپنا جائزہ لیا اور مطمئن سی پلٹی تو وہ اس کے سامنے آن ٹھہرا۔
’’پلیز ماہ کنعان! آپ کوئی فضول حرکت نہیں کریں گے کہ مجھے دیر ہو رہی ہے ٗ لاج میرا ویٹ کر رہی ہے۔‘‘ وہ اس کے یکدم سامنے آ جانے پر اسے خائف نگاہوں سے دیکھتی خفگی سے بولی تھی اور وہ مسکرا دیا تھا۔
’’میری نیند خراب کرنے کی کچھ تو سزا ملے گی ناں؟‘‘ وہ متبسم سا اسے گہری نظروں سے دیکھتا چھیڑ رہا تھا۔
’’میری توبہ جو کبھی آپ کو جگایا۔‘‘ اس نے بھرپور ناراضی سے کہا تھا اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی۔ ’’مگر آپ نے اس کمرے کی کلر اسکیمنگ…‘‘
’’میں چینج نہیں کروائوں گا کہ یار مجھے یہی کلر اسکیمنگ پسند ہے اور تمہیں جگانے سے منع کب کیا میں نے ٗ روز اٹھایا کرو۔‘‘ اس نے آنکھ دبائی تھی وہ سرخ پڑ گئی تھی۔
’’بلیک کلر آپ کو کچھ زیادہ ہی پسند نہیں ہے۔‘‘ جھنجلا کر نروس سی بول پڑی تھی۔
’’ایسی بھی بات نہیں ہے ڈیئر کہ میرا ماننا تو یہ ہے کہ خواب گاہ کی کلر اسکیمنگ اس طرح کی ہونی چاہئے کہ روشنی کا گزر کم سے کم ہو کیونکہ اس طرح صبح کی کرن اور چاند کی روشنی بہت اٹریکٹ کرتی ہے کہ اگر کمرے کے اندر پہلے ہی سے روشنی کا گزر ہو گا تو نہ صبح کی پہلی کرن متاثر کن ہو گی اور نہ ہی چمکتے چاند کی روشنی بھلی معلوم ہو گی۔‘‘ وہ بہکے بہکے انداز میں بولا تھا اور وہ فاصلہ قائم کرتی بھاگنے کو پر تولنے لگی تھی کہ اس نے متبسم انداز میں اس کی تعریف کی تھی۔
٭٭٭
’’بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ وہ گلابی کاٹن کے سوٹ میں نکھری نکھری اس کے دل میں اتری جا رہی تھی اور وہ اس کی تعریف پر جھینپتی کمرے سے ہی نکل آئی تھی ٗ کل ہی وہ ہنی مون ٹرپ سے لوٹے تھے اور آج وہ جامعہ جانے کیلئے تیار تھی ٗ اس کا موڈ آف نہ ہو ٗ اس لئے اس نے کچھ نہیں کہا تھا ٗ ڈائننگ ہال میں اس کا پہلا ٹاکرا ماہ لقا سے ہوا تھا جو ایک سیمینار میں جانے کے سبب جلدی اٹھی تھیں ٗ اس کے سلام کے جواب میں ان کا سرد انداز اس کی کانچ سی آنکھوں میں نمی بھر گیا تھا ٗ ماں کنعان نے بھی ماہ کی سرد مہری صاف محسوس کی تھی ٗ مگر کچھ نہیں بولا تھا مگر اس کی نم پلکیں اسے ڈسٹرب کر گئی تھیں۔
’’مام کے رویے کو لے کر پریشان نہ ہو ٗ کچھ دنوں تک سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ ماں کی بے رخی کے ازالے کو ماہ لاج نرمی سے بولی تھی اور وہ بدقت تمام مسکرا دی تھی ٗ وہ ان دونوں کو جامعہ چھوڑ کر آفس چلا گیا تھا ٗ چونکہ شادی کے بعد پہلی دفعہ گیا تھا اس لئے اس کا دل ہی نہیں لگا تھا اور اسی لئے وہ 4 بجے ہی گھر چلا آیا تھا اور اب حیرانگی سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔
’’ہاتھ ہی تو ملانے کو بڑھایا تھا کون سا تمہیں گلے لگا لیا تھا ٗ جو تم وہاں سے بھاگ آئیں اور اب ٹسوے بہا رہی ہو۔‘‘ ماہ لقا اس پر بگڑ رہی تھیں کہ ان کے بزنس پارٹنر وحید عثمانی سے اس کا لابی میں ٹاکرا ہو گیا تھا‘ جنہوں نے پنک کاٹن کے سوٹ میں بے حد حسین حنین میں فوراً ہی دلچسپی دکھائی تھی اور انہوں نے مسکرا کر تعارف کروایا تھا ٗ مگر ان کے مصافحے کو بڑھے ہاتھ کو وہ نظر انداز کرتی وہاں سے چلی گئی تھی اور وہ اب وحید عثمانی کے سامنے ہونے والی سبکی کا احساس اس پر انڈیل رہی تھیں۔
’’آنٹی! وہ انکل کتنی عجیب نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور میں ان سے ہاتھ کیوں ملاتی ٗ جب میں مردوں سے ہاتھ ملاتی ہی نہیں۔‘‘ وہ ان کے غصے سے خائف ہوتی روتے ہوئے منمنائی تھی۔
’’او یو شٹ اپ… زیادہ پارسا بننے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ غصے سے آئوٹ ہوتیں اسے پیچھے کی جانب دھکیل گئی تھیں ٗ کنعان نے اسے بروقت سہارا دے کر گرنے سے بچا لیا تھا اور اس کے چہرے کی سرخی صاف ظاہر کر رہی تھی کہ اس نے سب کچھ سن لیا ہے۔
’’مام! میں کسی کو بھی حنین سے اس طرح بات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘ اس کا لہجہ سرد تھا وہ کنعان کو دیکھے بنا وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔
’’اجازت… مائی فٹ!‘‘ وہ بیٹے کو خونخوار نگاہوں سے گھورتیں وہاں ٹھہری نہ تھیں اور جس وقت وہ غصے کو قابو کرتا کمرے میں پہنچا وہ بیڈ پر چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو رہی تھی۔
’’مام کی طرف سے میں تم سے معافی چاہتا ہوں ٗ پرامس وہ اب تم سے اس طرح بات نہیں کریں گی۔‘‘ وہ اس کے برابر ٹکتا اس کے ہاتھ تھام گیا تھا۔
’’صبح آنٹی نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا اور ابھی کتنی بری طرح سے ڈانٹا جبکہ میری کوئی غلطی بھی نہیں تھی۔‘‘ اس کے رونے میں شدت آ گئی تھی۔
’’وہ میری بڑی ہیں مجھے ڈانٹنے کا حق رکھتی ہیں مگر جب میری غلطی ہو ٗ ان کا رویہ مجھے ہرٹ کر رہا ہے۔‘‘ وہ دکھ سے کہہ رہی تھی اس نے نرمی سے اسے خود سے لگا لیا تھا۔
’’رویہ تو تمہارا مجھے بھی ہرٹ کر رہا ہے اور تمہیں مام کی ناراضی کی تو پرواہ ہے میری پرواہ نہیں ہے۔‘‘ اس کا لہجہ بوجھل ہو گیا تھا کہ وہ بہت مسرور تھا اسے اپنی چاہتوں کی اوس میں بھگو رہا تھا ٗ مگر اس کی اداس سی خاموشی و سرد انداز اسے بے چین بھی رکھے ہوئے تھے۔
’’تمہارے لئے تو صرف میری چاہتیں کافی ہونی چاہئیں اور جب میں تم سے خوش ہوں ٗ تو باقی سب کی ناراضی کی اہمیت ہی نہیں رہ جاتی ٗ اس لئے سب کو بھول کر صرف مجھے یاد رکھو۔‘‘ اس کا لہجہ جذبوں سے مہک رہا تھا ٗ وہ بے ساختہ ہی اس سے دور ہو گئی تھی۔
’’جس طرح تم مجھ سے ایک دم فاصلے پر چلی جاتی ہو ٗ تمہاری اس ادا پر میں تم سے ناراض بھی ہو سکتا ہوں۔‘‘ وہ اس کے حیا سے لرزتے سراپے کو ایک بار پھر قریب کر گیا تھا۔
’’مجھے کسی روٹھے ہوئے کو منانا نہیں آتا ٗ کیونکہ ارحم بھیا اور زرمین آپی مجھ سے کبھی روٹھے ہی نہیں ٗ میں ہی ان سے ناراض ہوتی تھی اور وہ منا لیتے تھے۔‘‘ وہ اس کے سینے سے لگی منمنائی تھی اور فسوں خیز لمحات میں کسی کا ذکر اسے گراں گزرا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *