Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14

’’ماموں جان! آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ سب خیریت تو ہے؟‘‘ وہ کل سے ہی بے حد ڈسٹرب تھے انہوں نے اس حل کیلئے ماہ کنعان کے فادر سے بھی رابطہ کیا تھا اور ان سے بات کرکے تو ان کی پریشانی دوگنی ہو گئی تھی اور اب اسی کے خاتمے کیلئے انہوں نے بہت سوچنے کے بعد ایک فیصلہ لیتے ہوئے ارحم الحسن کو بلا لیا تھا اور وہ تو ان کے پژمردہ سے چہرے کو ہی دیکھ کر متفکر ہو گیا تھا۔ انہوں نے خود کو کمپوزڈ کیا اور دھیمے دھیمے اس کا آنا اور بدتمیزی سے دھمکی تک سب کہہ سنایا تھا۔
’’وہ شخص آپ کے آفس میں آکر اتنی بدتمیزی کرکے چلا گیا اور آپ مجھے اب بتا رہے ہیں؟‘‘ وہ تو غصے سے ہی کھول اٹھا تھا۔
’’میں تو کل سے ہی بہت پریشان ہوں ٗ اس کے فادر سے بھی ملا تھا آج ٗ وہ بھی اس رشتے کے سخت مخالف ہیں ٗ مگر وہ شخص بضد ہے ٗ ایک گھنٹہ پہلے جواب کیلئے مجھے فون بھی کیا تھا میرے انکار کو وہ اہمیت دینے کو تیار ہی نہیں ہے ٗ وہ دوسرے آپشن کی بات کر رہا تھا اور اسی لئے میں پریشان ہوں کہ اس کی دوسری راہ اتنی بھی سیدھی نہیں ہو گی۔‘‘ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں مضطرب سے بول رہے تھے۔
’’آپ اس کی دھمکی سے ڈر گئے ہیں؟‘‘ غصہ کنٹرول کرتے ہوئے بولا تھا۔
’’ہاں! کہ میں اپنی عزت سے ڈرتا ہوں کہ اس نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس کا کچھ نہیں جائے گا بدنامی ہمارے خاندان کی ہو گی کہ لڑکیوں کی عزت تو آبگینوں کی طرح ہوتی ہے۔‘‘ ان کی درست بات سن کر وہ سوچ میں ڈوب گیا تھا۔
’’آپ پریشان نہ ہوں میں کرتا ہوں کچھ ٗ ذوالفقار عابدی اور فیصل سے بات کرتا ہوں کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے؟‘‘ وہ تو اس کے کارنامے بھی جانتا تھا اس لئے گہری سوچ میں ڈوبا پریشانی سے بولا تھا۔
’’ذوالفقار عابدی سے بات کر چکا ہوں وہ بیٹے کی ضد پوری نہیں کرنا چاہتے اور فیصل سے کیا بات کرو گے وہ تو خود یہی سب چاہتا ہے۔‘‘ وہ ناسمجھی و سوالیہ نگاہوں سے نوید عالم کو دیکھنے لگا تھا۔
’’زرمین کو اس کا پرپوزل فیصل نے ہی دیا تھا ٗ میرے انکار پر اس نے خود مجھ سے بات کی تھی ٗ دوست کی وہ مکمل گارنٹی دینے کو تیار تھا اسی لئے میں سوچ میں پڑ گیا تھا لیکن اس کا آفس آکر بدتمیزی کرنا اور دھمکی دینا اور ذوالفقار عابدی کا صاف انکار اب اس سب کو دیکھتے ہوئے تم خود بتائو کہ میں کیسے اس شادی کیلئے ہاں کروں کہ شادی تو دو خاندانوں کے رابطے و رشتے کا نام ہے ٗ اب نہ خاندان ہمارے جوڑ کا ہے کہ شادی برابر والوں میں کرنی چاہئے اور نہ لڑکا ہماری حنین کے جوڑ کا ہے کہ وہ کم عمر‘ نا سمجھ ہے ٗ وہ اس سے عمر میں بڑا ہے ٗ غصے کا تیز ٗ بدتمیز انسان ہے اور ایسے شخص کے ہاتھوں میں اپنی بیٹی کا ہاتھ کیسے دوں جسے بڑوں سے بات تک کرنے کی تمیز نہیں ہے؟‘‘ وہ کافی پریشان تھے ان کے ساتھ وہ بھی پریشان ہو اٹھا تھا۔
’’اس کی بدتمیزی اور اس کے پیرنٹس کی مخالفت سے قطع نظر ہو کر دیکھا جائے تو اس شخص میں ایسی کوئی برائی نہیں ہے کہ شادی کے بارے میں سوچا نہ جا سکے۔‘‘ وہ اس کو کچھ غصے سے دیکھنے لگے تھے۔
’’تم سمجھ کیوں نہیں رہے کہ شادی کیلئے سوچا جائے تو کس بنیاد پر کہ اس کے پیرنٹس راضی نہیں ہیں۔ ایسے کیسے اس شخص کی ضد پوری کرنے کیلئے میں حنین کو اس کی بیوی اور ایک ان چاہی بہو بنا دوں؟ حنین جنہوں نے صرف محبتیں سمیٹیں اسے ان چاہا بہو کا درجہ ملا تو کیا وہ خوش رہ پائیں گی؟ حنین مجھے بہت عزیز ہیں ٗ ان کی خوشی مجھے بہت عزیز ہے انہیں تکلیف میں دیکھ ہی نہیں سکتا ٗ شادی اول تو میں ابھی ان کی کرنا نہیں چاہتا کہ جب بھی کروں گا ایسے لوگوں میں جو حنین کو چاہت و عزت دیں اور یہاں تو مجھے یہی دھڑکا لگا رہے گا کہ اس کی ضد ٗ غصہ ختم ہوا تو وہ کیا کرے گا؟ کہ مجھے یہی لگتا ہے کہ وہ شخص ایسا صرف کل کی بے عزتی کا بدلہ لینے کیلئے چاہ رہا ہے کہ اس کی سوچ مثبت ہوتی ٗ وہ حنین کیلئے کوئی سو فٹ کارنر ذہن و دل میں محسوس کرتا تو عزت و نرمی سے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کرتا اس کے رویے میں لچک نہیں ہٹ دھرمی ہے اور میں ایک ہٹ دھرم ٗ اگر یسیومین سے اپنی حنین کی شادی کرنا تو دور سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘ وہ اسے ناگواری سے دیکھتے درشتگی سے اپنے فیصلے سے آگاہ کر رہے تھے اور وہ الجھ گیا تھا کہ وہ جب ہر فیصلہ کر چکے تھے ساری حقیقت ان کے سامنے تھی ٗ نقصان اور فائدے ان کے سامنے تھے تو وہ اس سے کیا چاہتے تھے؟ اس کو بلانے ٗ سب بتانے کا کیا مقصد تھا اور کچھ ہی دیر وہ اس سے ہر بات شیئر کرنے کا مقصد بتا گئے تھے اسے لگا تھا کہ اس کے سر پر آسمان آگرا ہے ٗ پیروں تلے سے زمین سرک گئی ہے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھتا خود کو ہوا میں معلق محسوس کرنے لگا تھا ٗ وہ اسے قائل کرنے کو کیا کچھ کہہ رہے تھے وہ کہاں سن رہا تھا کہ وہ تو ان کی گزشتہ بات کے زیر اثر صدمے کی سی کیفیت میں کھڑا تھا۔
’’میں نے یہ فیصلہ بہت مشکل سے لیا ہے ارحم! صرف و صرف اپنی بیٹی کی خوشی اور عزت کیلئے کہ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی اور حل ہی نہیں ہے ٗ ایسا نہیں ہے کہ میں اس شخص سے یا اس کے باپ کی امارت و طاقت سے ڈرا ہوں کہ ڈر مجھے اپنی عزت کے جانے کا لگا ہے ٗ حنین کے ساتھ اللہ نہ کرے کسی قسم کی اونچ نیچ ہو گئی تو میں روز قیامت جاوید کو کیا جواب دوں گا؟‘‘ وہ بھیگی آنکھوں سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ گئے تھے اس نے چونک کر انہیں دیکھا تھا اس کا سکتہ گویا ٹوٹا تھا اس نے لب بھینچ لئے تھے کہ وہ جو کہہ گئے تھے ٗ جو چاہ رہے تھے اس کے بعد وہ کچھ کہنے ٗ سوچنے کے قابل بھی نہیں بچا تھا۔
’’میرے فیصلے کی لاج رکھ لو ارحم بیٹا! میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔‘‘ ان کے الفاظ ان کا عمل اس کے مردہ احساس کو گویا زندہ کر گئے اس نے بہت تڑپ کر ان کے ہاتھ تھامے تھے۔
’’ماموں جان! خدارا ایسا نہ کریں کہ میں آپ کی فیلنگز سمجھ رہا ہوں لیکن میں آپ کے فیصلے کا مان نہیں رکھ پائوں گا ٗ میں آپ کے فیصلے میں آپ کا ساتھ نہیں دے پائوں گا۔‘‘ وہ ان کے ہاتھ تھامے دلگرفتگی و شکستگی سے کہہ رہا تھا۔
’’مجھے اندازہ تھا کہ تم نہیں مانو گے ٗ لیکن اس وقت بات تمہاری سوچ ٗ تمہارے احساسات کی نہیں ہے کہ بات جب عزت و غیرت پر بن آتی ہے تو سوچنا ٗ سوچ کر فیصلہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ میں اس وقت بہت لاچار و بے بس ہوں ٗ میری لاچاری کو ایک لمحے کے لیے سوچو کہ میں اس وقت کتنا بے بس ہوں کہ بیٹی کا باپ ہو کر خود تمہارے آگے جھکا ہوں ٗ دست سوال بلند کر رہا ہوں ٗ خدارا… ارحم! انکار نہ کرو کہ میرے خاندان کی عزت اب بس تمہارے ہی ہاتھوں میں ہے۔‘‘ ان کے آنسو گرنے لگے تھے جو اس کے دل پر نمی چھوڑتے جا رہے تھے ٗ اس کی سرخ آنکھیں یکبارگی اپنی بے بسی پرنم ہو گئی تھیں۔
’’ماموں جان! پلیز مجھے مجبور نہ کریں کہ میں ایسا کر ہی نہیں سکتا کہ خدا گواہ ہے کہ میں نے حنین کو مائدہ سے بڑھ کر سمجھا ہے ٗ اسے بہن سے زیادہ بیٹی کی نگاہ سے دیکھا اس کی پرواہ کی ٗ وہ مجھے خود سے بڑھ کر عزیز ہے اور میں اس کیلئے اپنی سوچ اور نگاہ کا زاویہ نہیں بدل سکتا کہ میں ایسا کرتے ہوئے اندر سے مر جائوں گا ٗ مجھے ایسے کسی فیصلے کو ماننے پر مجبور نہ کریں کہ میں جیتے جی مر جائوں۔‘‘ وہ ان کے ہاتھ چھوڑتا میکانکی انداز میں پیچھے ہو رہا تھا ٗ شدت ضبط سے اس کا چہرہ لہو رنگ ہو گیا تھا ٗ آنکھیں بے اختیار سی بہہ رہی تھیں اوروہ ان سے نظر چراتا باہر نکلا تھا ٗ بڑی تیزی میں باہر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ لان میں ایک آواز نے اس کا تعاقب کیا۔
’’ارحم بھیا!‘‘ اس کے قدم تھمے ٗ اسے وقت کی گردش رکتی محسوس ہوئی تھی جس پل وہ اس کے سامنے آئی تھی ٗ وہ اس سے کچھ کہہ رہی تھی شاید اسے برتھ ڈے وش کر رہی تھی۔ مگر اس نے سنا کب؟ وہ سنے کو ان سنا کرتا بڑی تیزی میں باہر کی جانب بڑھا تھا وہ اسے آواز دینے لگی تھی مگر وہ رکے بغیر بہت تیزی میں وہاں سے نکلتا چلا گیا کہ کچھ دیر اور ٹھہرتا تو اس کے ضبط کا دامن چھوٹ جاتا جو گاڑی میں بیٹھتے ہی چھوٹ گیا تھا ٗ اسٹیئرنگ پر سر ٹکائے وہ آنسو بہائے گیا اور جیسے ہی تھوڑا خود کو پرسکون محسوس کیا تھا گاڑی اسٹارٹ کی تھی مگر اس کا ذہن اس قدر ڈسٹرب تھا کہ اسپیڈ کم کر لینے کے باوجود وہ ڈرائیونگ نہیں کر پا رہا تھا اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا ٗ ذہنی کرب کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دھیمی رفتار کے باوجود موڑ کا ٹتے ہوئے کنٹرول نہیں کر سکا تھا ٗ بیلنس آئوٹ ہوا تھا اور گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی تھی ٗ ڈرائیور کے گاڑی روکتے ہی وہ عجلت میں اتری اور حادثے کا شکار آلٹو تک پہنچی اور ڈرائیونگ سیٹ پر ارحم الحسن کو دیکھ اس کے دل کو گہری ضرب لگی تھی وہ میکانکی انداز میں اس کی مدد کو بڑھی تھی اور ڈرائیور کی مدد سے بے سدھ ارحم الحسن کو ہاسپٹل لے گئی تھی اور راستے میں ہی اس نے فیصل کا نمبر ڈائل کیا تھا کہ وہ ارحم الحسن کے گھر میں کسی کا نمبر نہیں جانتی تھی جبکہ حنین کا نمبر ہی آف تھا اس لئے پہلا خیال ہی اسے فیصل کا آیا تھا۔
’’فیصل لالہ! وہ ارحم الحسن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔‘‘ لائونج میں بیٹھا وہ ٹی وی دیکھ رہا تھا جب اس کے پاس ہی پڑا سیل فون گنگنانے لگا تھا اس نے اٹھا کر دیکھا ’’لٹل سسٹر لاج‘‘ موبائل کی اسکرین پر بلنک کر رہا تھا ٗ اس نے سیل فون واپس رکھ دیا کہ فیصل کچھ دیر قبل ہی سمیرا کو میکے سے لینے گیا تھا اور جاتے ہوئے سیل فون لے جانا بھول گیا تھا ٗ مگر سیل فون متواتر بجنے لگا تو اس نے کچھ سوچ کر کال ریسیو کی تھی ٗ اس کے کال ریسیو کرتے ہی وہ پریشانی سے سلام دعا کے بغیر کہہ گئی تھی کہ اس کے خون کہاں سے نکل رہا تھا یہ وہ اندازہ نہیں لگا پائی تھی مگر اس کا خوبصورت چہرہ اور گریبان لہو رنگ ہوتے جا رہے تھے اور اسی ٹینشن میں وہ آداب بھول گئی تھی اور وہ تو بیٹھے سے کھڑا ہو گیا تھا اور اس سے ہاسپٹل کا ایڈریس پوچھ کر وہ عجلت میں باہر بڑھا تھا ٗ سب ہی ہاسپٹل ایک کے بعد ایک پریشان سے پہنچ گئے تھے اور اس کی سلامتی کیلئے دعا گو تھے کہ اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا تھا ٗ پیشانی پر گہرا زخم آیا تھا ٗ کانچ کے ٹکڑے اس کی گردن اور دائیں شانے میں کھب گئے تھے ٗ ڈرائیونگ ڈور کھل جانے کے سبب اس کا بایاں ہاتھ سڑک پر رگڑتا چلا گیا تھا اس لئے وہ زیادہ زخمی ہوا تھا۔ سب ہی پریشان تھے ٗ مگر وہ اسے بروقت ہاسپٹل لے آئی تھی اس لئے خون زیادہ نہیں بہا تھا اس کی جان محفوظ رہی تھی کچھ گھنٹوں بعدہی اسے آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں منتقل کر دیا گیا تھا سب اس کے اردگرد پریشانی سے کھڑے تھے اور فضیل نے اس کے پاس ہی بیڈ پر ٹکتے ہوئے اس کی خیریت دریافت کی تھی کہ وہ چیخ پڑا تھا۔
’’کچھ نہیں ہوا ہے مجھے ٗ میرے سر پر آپ سب سوار مت رہیں ٗ مجھے اکیلا چھوڑیں۔‘‘
فضیل اس کو حیرانگی سے دیکھنے پر مجبور ہو گیا تھا وہ موت کے منہ سے نکل کر آیا تھا ٗ اسے گہرے زخم لگے تھے مگر اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تک نہ تھے البتہ اس کی آنکھوں میں اذیت کی ایک عجب ہی داستان رقم تھی جو اسے بے چین کرنے کا سبب بن گئی تھی۔
’’ارحم! سب ٹھیک ہے؟ تم…‘‘ وہ نہایت نرمی سے مخاطب ہوا تھا کہ وہ اس کی تکلیف محسوس کر گیا تھا اب بس تکلیف اور اس کا سبب جاننا چاہ رہا تھا لیکن آندھی طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوتی حنین کے سبب اس کے لفظ ادھورے رہ گئے تھے۔
’’ارحم بھیا!‘‘ وہ لپک کر اس تک پہنچی تھی اس نے اپنی آنکھیں ہی بند کر لی تھیں اور اس کی یہ حرکت اس کے سرہانے کھڑے فضیل سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی وہ متحیر سا اس کی بند آنکھیں دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتی اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی تھی۔
’’ارحم بھیا! آنکھیں کھولیں پلیز! کیا ہو گیا ہے آپ کو ٗ بات کریں مجھ سے۔‘‘ وہ بلک رہی تھی اس کے اعصاب کشیدہ ہو گئے تھے اس نے اس کے ہاتھ بے دردی سے جھٹکے تھے۔ نگاہ اس کے متورم چہرے تک گئی تھی اور کوئی سخت جملہ اس کے لبوں سے ادا نہیں ہو پایا تھا ٗ وہ بھیگی پلکوں میں تحیر لئے اس کے زخمی چہرے کو دیکھنے لگی تھی اور وہ اس کی آنکھوں کی بے یقینی کی تاب نہ لاتے ہوئے فضیل کو التجائیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا تھا وہ بھی متحیر تو ہوا تھا کہ اس کی اہمیت جانتا تھا مگر حیرت کے باوجود اس کی التجا کو سمجھتے ہوئے اسے زبردستی باہر لے گیا تھا۔
’’میں آپ کو معاف نہیں کروں گا ماموں جان!‘‘ اس نے تڑپتے ہوئے بے چینی سے تکیے پر سر پٹخا تھا اس کے آنسو بند آنکھوں سے موتیوں کی طرح گرنے لگے تھے۔
٭٭٭
’’اسے بستر پر لیٹے کئی ساعتیں گزر گئی تھیں ٗ مگر نیند تھی کہ مہربان ہو کر نہیں دے رہی تھی ٗ ایک اسی شخص کا خیال ذہن و دل پر دستک دیتا نیند کی راہیں مسدود کئے ہوئے تھا کہ اس کے ذہن کی اسکرین پر اس کا زخمی چہرہ ٗ لہو لہو ہاتھ لہرانے لگے تھے ٗ وہ بے قراری سے اٹھ بیٹھی تھی۔ اس کی برتھ ڈے کی شام اس کا بے دھیانی سے دیکھنا بھی جیسے کمال کر گیا تھا اس کی احترام دیتیں نگاہیں اس کے دل میں اتر گئی تھیں ٗ اس کا نرم خوبصورت سنجیدہ لہجہ دل کی سرزمین پر محبت کا شت کر گیا تھا ٗ اس کے بعد اس نے اسے بار ہا سوچا تھا ٗ اس کے عکس سے محو گفتگو رہی تھی اور آج اس کا ٹکرانا تو اس کا دل سینے میں پھڑپھڑا کر رہ گیا تھا اسے تکلیف میں دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں ٗ دل رونے لگا تھا ٗ ذہن و دل سے صدا بلند ہوئی تھی کہ وہ اس شخص کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ٗ اس کو کھونے کا تصور ہی اس کیلئے سوہان روح ہو گا۔
’’میرے پیارے اللہ جی! اس شخص کو صحت دے جو میری دھڑکنوں میں آن بسا ہے اور اس کے دل میں میری محبت ڈال کر اس شخص کو میرا نصیب بنا دے۔‘‘ وہ مصلے پر بیٹھی زندگی میں پہلی دفعہ بہت دل سے کسی کی صحت یابی کی دعا کر رہی تھی اسے اپنے لئے آخری سانس تک کیلئے طلب کر رہی تھی ٗ اس کی آنکھوں سے موتی گر رہے تھے ٗ آغاز میں جذبوں کا یہ عالم تھا تو انتہا کہاں جا کر ہونی تھی؟ آنسو دوپٹے میں جذب کئے اور بستر پر لیٹ گئی ٗ بند آنکھوں کے پیچھے اس کا عکس لہرایا اس کے لب مسکائے اور اسے سوچتے سوچتے سوئی تو خوابوں میں اسے ہمسفر بنا لیا۔ کیا دعا مانگ لینے سے؟ خوابوں میں ساتھ چلنے سے؟ محبت مل جایا کرتی ہے؟ دل کا لکھا ٗ دل کی چاہت ٗ قسمت بن جایا کرتی ہے؟ وہ اس احساس سے ماورا ہو کر اپنے نئے جذبوں اور خوشنما احساسات میں مگن تھی کہ آغاز سفر میں حقیقت نہیں کھلتی ٗ کھلنے بھی لگے تو ملن اور وصل کی خواہش آنکھیں چرا لینے پر مجبور کر دیتی ہے اور وہ بھی ہر دوسرے احساس سے ماورا ہو کر محبت کی وادیوں کا سفر کر رہی تھی۔ ان وادیوں کا سفر جو دیکھنے میں حسین مگر اتنی ہی سخت اور خار دار نکلتیں ہیں کہ جس سے وجود ہی نہیں روح و دل بھی پاش پاش ہو جائیں اور نہ جانے اس کے نصیب میں پاش پاش ہونا لکھا تھا یا محبت کی قبا میں سمٹ کر دو جہان پا لینا؟
٭٭٭
’’فضیل! ارحم کو کیا ہوا ہے ٗ وہ ٹھیک تو ہیں ناں؟‘‘ وہ روم میں داخل ہوا تو وہ جائے نماز تہہ کر رہی تھی ٗ آہٹ پر متوجہ ہوئی اور بے قراری سے اس کی طرف بڑھی اور وہ اس کا سرخ متورم چہرہ دیکھ کر اپنی ازلی سادگی سے بولا تھا۔
’’وہ ٹھیک ہے ٗ خدا کا شکر ہے اس نے ارحم کو کسی شدید قسم کے نقصان سے محفوظ رکھا ہے۔‘‘ اس کا نرم لہجہ پھوار کی طرح تھا ٗ اس کا جلتا وجود ٗ شعلوں میں گھرا دل کچھ پر سکون ہوا تھا۔
’’تھینک گاڈ! کہ وہ ٹھیک ہیں ٗ ورنہ میں تو بہت بری طرح ڈر گئی تھی ٗ انہیں کچھ ہو نہ جائے یہ خیال بھی سوہان روح تھا۔‘‘ وہ اس کے چوڑے سینے پر سر ٹکائے بلکتے ہوئے کہہ رہی تھی اور وہ ہوا میں معلق رہ گیا تھا۔ اس کے لہجے کی تڑپ ٗ اس کا بلکنا اس کے ذہن میں کئی خدشات و سوال ابھار گیا تھا۔
’’ڈونٹ وری زرمین! کہانا وہ ٹھیک ہے ٗ تمہیں میری بات پر یقین نہیں آ رہا تو ہم ابھی الحسن ہائوس چلتے ہیں ٗ تم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا اور اس کی خیریت بھی پوچھ لینا۔‘‘ وہ ذہنی کشمکش کے برعکس نرمی سے تسلی دیتے لہجے میں بولا تھا اور اسے خود سے الگ کیا تھا اور اس کے تمام احساسات جاگ اٹھے تھے وہ بڑی تیزی سے چار قدم پیچھے لے گئی تھی وہ اسے دیکھ رہا تھا جس کی سرخ نم آنکھوں میں عجب سا تاثر تھا ٗ اپنی بے اختیاری پر شرمندگی ٗ ڈر… وہ یکدم ہی نظر چرا گئی تھی اور اسے شادی کی شب کا اس کا گھبرایا ٗ خوفزدہ سا روپ یاد آنے لگا تھا اور اس کی باتیں۔
’’شادی اتنی ارجنٹلی ہوئی کہ میں خود کو نئے رشتے کیلئے راضی نہ کر سکی۔‘‘ کانوں میں اگر اس کی کہی باتوں کی گونج تھی تو آنکھیں اس کے سرخ چہرے پر جمی تھیں ٗ وہ لرزتے ہاتھوں سے اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔
’’زرمین اب تک خود کو ہمارے رشتے کیلئے راضی نہ کر سکی تو صرف اس لئے کہ اسے مجھ سے محبت ہو ہی نہیں سکتی کہ یہ تو محبت کر چکی۔‘‘ یہ احساس کتنا اذیت ناک تھا اس کو اپنی رگیں کٹتیں محسوس ہو رہی تھیں ٗ سانس لینا دشوار ہو رہا تھا اس کی آنکھوں میں لہو اترنے لگا تھا ٗ وہ وہاں سے اس کے سامنے سے فی الوقت ہٹ جانا چاہتا تھا ٗ اسی لئے پلٹا تھا کہ دھڑام کی آواز پر واپس رخ موڑا اور لمحہ ضائع کئے بنا اس تک پہنچا جو اپنے اعصاب پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈال چکی تھی اور اب بے سدھ کارپٹ پر گری تھی وہ اس تک پہنچا اسے پریشانی سے بستر پر منتقل کیا اور ہوش میں لانے کی تدبیر کرنے لگا۔
’’فضیل! آئی ایم سوری ٗ میں آپ کو دھوکا نہیں دینا چاہتی تھی ٗ مگر میں قسمت کے آگے مجبور ٗ بے بس ہو گئی تھی۔‘‘ وہ نیم بے ہوشی میں بڑبڑائی تھی ٗ اس نے لب بھینچتے ہوئے اس کی سرد پیشانی سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
’’میں اس کیلئے شاید تمہیں کبھی معاف نہ کر پائوں۔‘‘ اس کے آزردہ متورم چہرے کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا اور ڈاکٹر کو کال ملانے لگا۔
٭٭٭
’’مما کی جان! کچھ کہو تو بات کیا ہے؟ کیوں اتنے مضطرب ہو؟ وہ ماں کی آواز پر چونکا جبکہ اس کی سرخ آنکھیں انہیں تڑپا گئی تھیں۔
’’زندگی میں کچھ موڑ ایسے آتے ہیں کہ انسان ایسے فیصلے لینے پر مجبور ہو جاتا ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔‘‘ اسے لگا تھا کہ اس کی ماں اس کی کسی تکلیف سے انجان نہیں۔
’’حنین کیلئے تمہارے جذبات سے آگاہ ہوں اسی لئے نہیں چاہتی تھی کہ بھائی صاحب حنین اور تمہاری شادی کی بات کریں ٗ مگر انہوں نے ایسا بہت مجبور ہو کر کیا ہے اپنے ماموں جان کی بات رکھ لو۔‘‘ فریدہ کا لہجہ شیریں و سنجیدہ تھا۔
’’پلیز مما! خدارا چپ کر جائیں ٗ اس کیلئے اپنے احترام و جذبات کے مطالب نہیں بدل سکتا ٗ آپ سب کیوں مجھے برزخ میں اتار دینا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ چیخ پڑا تھا۔
’’تمہارے جذبات کچھ بھی رہے ہوں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حنین سے شرعاً تمہارا نکاح جائز ہے۔‘‘ بھتیجی کی محبت میں وہ بیٹے کو نظر انداز کر گئی تھیں اور وہ مٹھیاں بھینچے اپنا ضبط آزما رہا تھا ٗ بیٹے کی سرخ رنگت ٗ پھڑکتی رگیں دیکھ کر انہیں شرمندگی کا احساس ہوا تھا کہ وہ سب اس کیلئے اسے مجبور کر رہے تھے جس کیلئے وہ خود راضی نہ تھے اور اسی وقت ارحم کا سیل بجنے لگا ناچار انہوں نے ہی اٹھایا تھا ٗ نوید عالم نے جو کچھ کہا تھا اسے سن کر ان کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی تھی اور یہی کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا ٗ اس نے پریشانی سے گھڑی کی جانب دیکھا تھا جو 4 بجا رہی تھی۔
’’آپ فکر مند نہ ہوں ٗ حنین کو کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ وہ اپنی حالت بھلائے باہر کی طرف دوڑا تھا کہ یہ بات پریشان کن تھی کہ حنین اب تک گھر نہیں پہنچی تھی ٗ اس وقت وہ یہ بھی فراموش کر گیا تھا کہ رات کو ہی نہیں کچھ دیر پہلے بھی اس نے برتھ ڈے وش کرنے کو فون کیا تو اس نے کال تک ریسیو نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کی خراب طبیعت کا سن کر حال احوال دریافت کیا تھا کہ نوید عالم کے فیصلے نے اسے حنین سے خائف کر ڈالا تھا جبکہ اس کا کوئی قصور بھی نہ تھا۔
٭٭٭
’’آ… آپ…!‘‘ گاڑی رکی تھی اور اس کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی ڈرائیور گاڑی سے اترا تھا اور بیک ڈور کھول کر جو شخص اس کے برابر آن بیٹھا تھا اسے دیکھ کر تو اسے خوف سے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہونے لگا تھا جبکہ وہ اس کے حسین چہرے کو تکتا دو ٹوک انداز میں بلا توقف کے بول اٹھا تھا۔
’’حنین عالم! میں تم سے محبت کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کی آنکھیں حیرت و استعجاب سے پھیل گئی تھیں۔
’’ایسے مت یکھو! ورنہ میں خود پر اختیار کھو دوں گا۔‘‘ وہ اس کے بہت نزدیک موجود اس کو تک رہی تھی گویا اس کے جذبات بھڑکا گئی تھی اس کا بہکا بہکا انداز اس کے وجود میں سنسنی سی دوڑا گیا تھا اس نے گردن موڑی اور ڈور اوپن کرنا چاہا مگر اس نے اس کے بینڈیج ہوئے ہاتھ پر اپنا مردانہ ہاتھ رکھ دیا۔
’’پپ… پلیز! مجھے جانے دیں۔‘‘ کتنے ہی خدشات ذہن و دل میں ابھرے تو وہ بے بسی سے سسک اٹھی۔
’’میں تمہیں نہ خوفزدہ کرنا چاہتا ہوں نہ خود سے بدگمان ٗ اس لئے میری ہر بات غور سے سن لو کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں خوف و بے اعتباری دیکھ کر دھیمے سے بولا تھا جبکہ وہ اب ہچکیوں سے رو رہی تھی اور وہ بھی یکدم ہی اشتعال میں آ گیا تھا۔
’’یوں گاڑی روک کر آج صرف یہ باور کروانے کو ملا ہوں کہ تمہارے تایا نے اگر تمہاری شادی مجھ سے نہیں کی تو میں زبردستی تمہیں کورٹ تک لے جائوں گا اور یہ بات اب تم نے سمجھ کر اپنے گھر والوں کو سمجھانی ہے کہ یہ یاد رکھنا حنین عالم! کہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں ٗ مطلب کچھ بھی…!‘‘ وہ اس کا بازو گرفت میں لئے نہایت سختی سے بولا تھا۔
’’آپ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ مجھے آپ سے شادی کرنی ہی نہیں ہے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتی چیخی تھی اور پھر دروازہ کھولنا چاہا تھا۔
’’مجھے چیلنج مت کرنا حنین عالم! تم مجھے جانتی نہیں ہو کہ اب تک تمہاری بدتمیزی تمہاری محبت میں برداشت کرتا رہا ٗ یہاں تک کہ تھپڑ بھی بھول گیا وگرنہ کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ میرے سامنے ٹھہر سکے۔‘‘ بازو ایسے کھینچا تھا وہ ایک جھٹکے سے اس کے سینے سے آ لگی تھی ٗ اس کی آنکھوں میں سراسیمگی سی اتری تھی ٗ مگر وہ اس کی دگرگوں حالت کو بھی نظر انداز کر گیا۔
’’تمہارے سامنے کم بخت دل کیا جھکا میں پوری ذات سے تمہارا غلام بن گیا ٗ تمہارے عشق میں پاگل ہو رہا ہوں اور میرے پاگل پن کو تمہارا گریز کس قدر بڑھا دیتا ہے یہ تمہیں اندازہ نہیں ہے اس لئے اپنے اور میرے لئے خسارے نہ چنو حنین عالم! اور اس عشق کے غلام کی غلامی اختیار کر لو کہ میں نہیں چاہتا کہ میں عشق کے ہاتھوں کچھ غلط کر بیٹھوں۔‘‘ وہ اس کے حصار میں مچلی تھی اور اس نے جذبات کی رو میں بہکتے ہوئے اس کی پیشانی چوم لی تھی۔
’’بچی نہیں ہو کہ اب اس سے زیادہ کچھ سمجھائوں امید ہے کہ تم اپنے گھر والوں کو منا لو گی کہ تم نہ کر سکیں ایسا تو میرے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔‘‘ اس نے ایک نظر اس کے لرزتے وجود اور کانپتے لبوں پر ڈالی اور گاڑی سے اتر کر لمبے ڈگ بھرتا نکلتا چلا گیا اور اسی وقت وہاں ارحم کی گاڑی رکی تھی اور وہ ارحم کے سینے سے لگی یوں روئی تھی کہ ارحم کو اپنا لہو پانی ہوتا محسوس ہونے لگا تھا ٗ مگر وہ اسے چپ کروانے کی ہمت خود میں نہیں پا رہا تھا کہ اس نے ماہ کنعان کی گاڑی دیکھی تھی اس کی دگرگوں حالت اس کے سامنے تھی اور وہ ایک ایسا فیصلہ لے گیا تھا جس نے اس کی روح جسم سے کھینچ ڈالی تھی۔
’’کیوں کیا تو نے وہ سب؟‘‘ وہ بڑی فرصت سے نیم دراز مووی دیکھ رہا تھا کہ جھٹکے سے دروازہ کھلا تھا اور وہ اس کے متوجہ ہوتے ہی اشتعال سے پوچھ گیا تھا۔
’’کیا کیا ہے میں نے؟‘‘ وہ سابقہ حالت میں ہی انجان لہجے میں بولتا اس کے غصے کے گراف کو انتہائی بلندیوں پر لے گیا تھا۔
’’جان کر انجان بنا تو میں تجھے جان سے مار دوں گا۔‘‘ وہ دھاڑا تھا۔
’’جب تو خود جانتا ہے تو مجھ سے کیوں پوچھ رہا ہے؟‘‘ اس کا اطمینان ہنوز تھا کیونکہ اس کو پورا یقین تھا کہ کسی نے تمام تر استحقاق سے ٹھیک ٹھاک قسم کی اس سے جواب طلبی کی تو وہ فیصل فیاض ہی ہوگا۔
’’میں تجھ سے وجہ پوچھ رہا ہوں یہ نہیں پوچھ رہا کہ تو نے کیا کیا ہے؟ تیرے کارنامے دیکھ بھی چکا تھا اب سن بھی چکا ہوں۔‘‘ وہ فیصل کو اس قدر اشتعال میں پہلی فعہ دیکھ رہا تھا پھر بھی سنجیدہ نہیں ہوا تھا۔
’’تو تو وجہ بھی جانتا ہے۔ محبت کرتا ہوں اس سے ٗ اس کو پانے کیلئے کچھ تو کروں گا ہی ناں!‘‘ اس کے ماتھے پر کوئی شکن نہ تھی اور اطمینان بھی قابل دید تھا۔
’’محبت! ایسے پائی جاتی ہے محبت ٗ ڈنڈے و طاقت کے زور پر ٗ زبردستی کی ملاقات کے ذریعے۔‘‘ وہ ملامت بھری نگاہوں سے اسے یکھنے لگا تھا۔
’’میں ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا ٗ مگر مجھے مجبور کر دیا گیا ٗ نوید عالم ہی نہیں مام ڈیڈ نے بھی اپنا انکار جوتے کی طرح میرے منہ پر دے مارا اور تو بھی جانتا ہے کہ جو کچھ ہے وہ میری جانب سے ہے کہ جن جہانوں کی میں سیر کو نکلا ہوا ہوں جس کا ساتھ خیالوں میں لئے ہوائوں میں پرواز کر رہا ہوں وہ ان سب کی الف ٗ ب بھی نہیں سمجھتی ٗ تو ایسے میں تو خود بتا کیا کرتا میں؟‘‘ وہ یکدم ہی آزردہ نظر آنے لگا تھا۔
’’اگر وہ میرے احساسات کو سمجھتی تو میں کسی کے انکار کو اہمیت ہی نہیں دیتا اور اس کو کیسے اپنے احساسات بتائوں جو مجھے دیکھ کر ہی ہراساں ہو جاتی ہے۔‘‘ وہ آزردہ نظر آنے لگا تھا اور وہ مدھم پڑ گیا تھا۔
’’اور تیری آج دوپہر کی حرکت نے اسے مزید ہراساں کر دیا ہے کہ جب کہ تو چاہتا تو نرمی سے ٗ توجہ و پیار کے ذریعے اپنا خراب ہو جانے والا امیج بہتر کر سکتا تھا کہ اس کا ذہن و دل تو کورے کاغذ کی مانند ہیں تو اس پر ہر اس، ناپسندیدگی اور چاہے تو محبت بھی لکھ سکتا ہے۔ مگر تو ہر کام ٹیڑھے انداز میں کرنے کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ تو نے جلد بازی میں اپنے لئے مسائل کھڑے کر لئے ہیں۔‘‘ وہ اس کے آزردہ لہجے کو دیکھ کر اشتعال بھول کر اب اس کے ساتھ اس کیلئے پریشان ہو رہا تھا۔
’’مجھے یہ برداشت ہی نہیں ہو سکا تھا کہ وہ اپنی تکلیف کا احساس بھلائے ارحم الحسن کیلئے گفٹ لینے کیلئے خوار ہوتی پھر رہی تھی ٗ اس کی محبت میں ذلت کا احساس تو بھلا دیا میں نے فیصل ٗ ورنہ اس کے تھپڑ کا ایسا جواب دیتا کہ کبھی کوئی لڑکی میرے جیسے آدمی پر ہاتھ اٹھانا تو دور سوچتی بھی نہیں۔‘‘ اس کی آنکھیں یکدم لہو رنگ ہو گئی تھیں ٗ ماتھے پر سبز رگیں الگ ابھر آئی تھیں۔
’’مگر میں اسے کھو دینے کا احساس ذہن سے نکال نہیں پایا کہ اسے ارحم کیلئے خوار ہوتے دیکھ کر میرے اندر بہت بے چینی در آئی تھی اس لئے میں بے سوچے سمجھے نوید عالم کے دفتر پہنچ گیا کہ اس وقت میرے دل میں یہی تھا کہ مجھے اسے پانا ہے اس سے قبل کہ میری محبت کی راہ میں کوئی ارحم الحسن ولن بن کر کھڑا ہو جائے۔‘‘ وہ اپنے جذبات کی شدت اس سے بیان کرتا چلا گیا تھا۔ ’’اُف میرے خدا ٗ تو اتنا کچھ محض ایک خدشے کی بنیاد پر کر گیا…‘‘
’’خدشہ نہ کہہ فیصل ٗ کہ جس طرح وہ اس کی طرف لپکتی ہے ٗ ہر اچھے برے وقت میں اسے ہی پکارتی ہے مجھے یقین ہے ان دونوں کے بیچ محبت اپنے پر پھیلا چکی ہے۔‘‘ وہ اذیت سے مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔
’’واٹ ربش!‘‘ ناگواری سے اسے مزید بکواس کرنے سے روکا تھا وہ کچھ کہتا کہ اس نے موقع ہی نہیں دیا۔
’’ان دونوں کے رشتے کو کبھی شک کی نگاہ سے نہ دیکھنا ماہ! کہ جتنی محبت لاج تجھ سے کرتی ہے ٗ جتنی عزت سحرش میری کرتی ہے۔ اتنی ہی پرواہ حنین اپنے ارحم بھیا کی کرتی ہے۔‘‘ وہ اسے تاسف سے دیکھتا بولا تھا۔
’’تیری کسی بات کو جھٹلا نہیں سکتا مگر میرا دل! اس دل کا کیا کروں ٗ جو بے اختیار ہو چلا ہے ٗ اسے ہوا بھی چھو جائے تو میرا دل تڑپنے لگتا ہے تو پھر وہ تو ایک جیتا جاگتا انسان ہے۔ میرے لئے کچھ کر فیصل ورنہ میں کچھ غلط کر بیٹھوں گا۔‘‘ وہ آزردگی سے کہتا بیڈ پر گرسا گیا تھا اور وہ اس کی تکلیف محسوس کرتا نوید عالم سے پھر بات کرنے کا وعدہ کر گیا تھا کہ نہیں جانتا تھا کہ جب گھر پہنچے گا ایک قیامت اس کی منتظر ہو گی اور اپنی ماں کیلئے اسے خاموشی نہ چاہتے ہوئے بھی اختیار کرنی پڑے گی۔
٭٭٭
نوید عالم کے کہنے پر قاضی صاحب نے ایجاب و قبول کیلئے تمہید باندھی ہی تھی کہ کوئی آندھی طوفان کی طرح وہاں داخل ہوا تھا اسے دیکھ کر ناگواری و خوف کے ملے جلے تاثرات وہاں موجود لوگوں کے چہروں پر ظاہر ہونے لگے تھے۔
’’یہ کیا حرکت ہے ماہ کنعان عابدی! ریوالور نیچے کر لو۔‘‘ اس نے غصے سے ریوالور نوید عالم کی کنپٹی پر رکھی تھی تو ارحم غصے سے چیخ اٹھا تھا اور اس نے بھی لمحہ ضائع کئے بنا اپنا گھونگھٹ الٹ دیا تھا اور پستول دیکھ کر اس کی جان ہوا ہونے لگی تھی جبکہ اس پر بے اختیاری سی اتری تھی کہ سرخ جوڑے میں لائٹ میک اپ سونے کا بھاری زیور اور سرخ انگارہ لپ اسٹک لگائے وہ اسے بے خود کر گئی تھی اور اسی کا فائدہ اٹھا کر ارحم الحسن نے ریوالور اس کے ہاتھ سے جھپٹ لی تھی۔
’’اس میں چھ گولیاں ہیں چھ کی چھ میرے سینے میں اتار دو ارحم الحسن! کہ آج میں یہاں سے زندہ گیا تو حنین عالم کو اپنے نام کروا کر ہی جائوں گا کہ اسے میرا بننے سے صرف میری موت روک سکتی ہے۔‘‘ ارحم الحسن نے ریوالور کا رخ اس کی طرف کیا وہ تو سینہ تان کر اس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ ارحم نے اس کی جذبے لٹاتیں سیاہ آنکھوں میں دیکھا تھا اور اس کا ہاتھ بے ساختہ نیچے ہو گیا تھا کہ اس شخص کی آنکھوں میں اسے سچائی نظر آئی تھی اسی لئے اس نے اس کی حمایت کی تھی ٗ مگر نوید عالم نے اس کی نہیں سنی تھی اور اسے اس نہج پر لے گئے تھے جہاں اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا ٗ اس کی شکستگی سی محسوس کرتے ہوئے ماہ کنعان نے اس کے ہاتھ سے ریوالور جھپٹی اور اس پر نگاہ جمائے خاموش تماشائی بنے فیصل نے فاصلہ طے کیا مگر اتنی دیر ہوئی تھی کہ گولی اس کے سینے پر نہیں اس کے کاندھے کے پار ہو گئی تھی ٗ فیصل تو اس کی رگ رگ سے واقف تھا اس کے چہرے سے ہی اس کا اگلا قدم سمجھ گیا تھا اور اس کی مداخلت ہی تھی کہ گولی اس کے سینے کے پار نہ ہوئی تھی۔
پاگل ہو گیا ہے؟‘‘ کتنی ہی چیخیں گولی کی آواز کے ساتھ بلند ہوئی تھیں اور وہ تڑپ کر اس کے نزدیک پہنچا تھا مگر وہ فاصلے پر ہو گیا تھا۔
’’ہاں تیری محبت اور اس لڑکی کے عشق میں پاگل ہو گیا ہوں۔‘‘ وہ چیخا تھا ٗ وہ سب بے بسی و حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے۔
’’تو مجھے کیسے اتنا بڑا دھوکا دے سکتا ہے فیصل! کیسے تو میری محبت کو مجھ سے دور کرنے کیلئے سجائی محفل میں شریک ہو گیا؟ کیسے تو نے مجھے لاعلم رکھا؟ اب تک میں دھیرج و صبر دکھاتا رہا ٗ اپنی طاقت کا زور نہیں دکھایا تو صرف اس لئے کہ اسے تو نے اپنی بہن کہا تھا ٗ تیری محبت میں اپنی محبت سے دست بردار تک ہونے کو تیار تھا اور تو نے کیا کیا ٗ مجھے کچھ بتانا ضروری نہیں سمجھا ٗ اگر میں اس وقت تیرے گھر نہ جاتا تو اس سب سے انجان رہتا ٗ تو نے یہ کیسے گوارا کر لیا کہ تیرے یار کی محبت تیری آنکھوں کے سامنے کسی اور کی بننے جا رہی تھی ٗ یہ تھی تیری دوستی؟‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جبکہ کاندھے سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔
’’مجھے تیرا خیال تھا لیکن مما کی قسم نے مجھے باندھ دیا کہ تو میرے لئے مجھ سے زیادہ اہم ہے ماہ! لیکن مما سے زیادہ نہیں۔‘‘ فیصل کو اس نے اب بھی اپنے قریب آنے نہیں دیا تھا تو وہ ضبط سے اس کی طرح تکلیف سے گزرتے ہوئے بھیگے لہجے میں بولا تھا۔
’’فیصل ٹھیک کہہ رہا ہے کنعان! اسے کچھ بھی تمہیں بتانے سے میں نے منع کیا تھا اور اس نے میری بات مان تو لی مگر مجھ سے جب سے ہی ناراض ہے ٗ اپنے دوست کی محبت پر شک نہ کرو اور یہ وقت گلے شکوے کرنے کا نہیں ہے تمہارے بہت خون نکل رہا ہے ٗ ہاسپٹل…!‘‘ مہوش خود کو سنبھالتیں اس تک آئی تھیں۔
’’یہ بہت معمولی ہے میرے لئے کیونکہ جو میرے ساتھ ہونے جا رہا تھا یہ سب تو میری جان لے چلا تھا۔‘‘ اس کی آنکھوں کا کرب فیصل کے دل میں اتر گیا تھا۔
’’میں اس وقت یہاں سے جا رہا ہوں مگر یاد رکھئے گا حنین کو صرف میرا بننا ہے اس کے عشق میں جان لے بھی سکتا ہوں اور دے بھی سکتا ہوں۔‘‘ وہ فریدہ سے لگ کر کھڑی روتی ہوئی حنین پر ایک نظر ڈالتا نوید عالم کو بہت کچھ باور کراتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔
٭٭٭
’’جتنا دکھ اس کے نکاح کی خبر سن کر نہیں ہوا تھا اتنا یہ سوچ کر ہوا تھا کہ تو نے مجھے کچھ نہ بتایا ٗ یار ہے تو میرا اور تو ہی میرے خلاف جا کر پرایوں میں جا ملا۔‘‘ اس کا خون بہت بہہ گیا تھا کچھ دیر قبل ہی وہ اسے گھر لے کر آیا تھا اور اس کے ایکسکیوز کرنے پر کہتا چلا گیا تھا۔
’’وہ پرائے نہیں میرے اپنے تھے کنعان! اور ان کے روٹھ جانے کا ڈر تھا تو دل کو یہ تسلی تھی کہ جب تجھے میری مجبوری پتہ چلے گی تو تو اپنے یار کو معاف کر دے گا۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’مگر آج جو تو نے اپنے ساتھ کیا اس کیلئے میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پائوں گا ٗ خود پر گولی چلا دی ٗ کچھ ہو جاتا تجھے تو…؟‘‘ وہ یکدم آزردگی سے ہنس دیا۔
’’وہ سب تیرے اپنے تھے اس لئے وہاں موجود کسی بھی شخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔‘‘ پژمردگی سے بولا تھا۔
’’پھر خود کو کیسے پہنچا گیا ٗ جانتا ہے ناں تجھے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ وہ اسے ڈانٹ رہا تھا۔
’’دل میں بسنے والے دونوں ہی اجنبی بنے تھے تو اپنے دل کو کیوں دھڑکنے کیلئے چھوڑتا وہ تو تو نے بروقت مداخلت کر دی ورنہ ابھی بیٹھا میرا قل پڑھ رہا ہوتا۔‘‘ شکستگی سے ہنسا تھا۔
’’بکواس نہ کر ٗ آدھی جان تیری حرکتوں نے نکال دی ٗ اب باقی جان کیا لفظوں کی مار سے نکال دے گا؟‘‘ وہ اشتعال سے بولا تھا۔
’’آئی ایم سوری فیصل! مگر اس کا کسی اور کا بن جانے کا خیال ہی میرے لئے سوہان روح ہے جبکہ تو جانتا ہے ناں کہ اس دن وہ ٹائی صرف اس لئے لینا چاہی تھی کہ مجھے گوارہ نہ تھا کہ اس کی نگاہ کالمس جس میں بسا تھا وہ کسی اور کے گلے میں سج جاتی ٗ اسی لئے میں اتنا اوور ری ایکٹ کر گیا ٗ اس کو کھونے کے ڈر سے ہی اس کے ڈرائیور کو دھمکا کر اس سے زبردستی ملاقات کی ٗ کیوں کسی کو میرے جذبے نظر نہیں آ رہے؟ کیوں حنین کے دل تک میری محبت نہیں پہنچ رہی؟ کیوں میرا کوئی بھی عمل حنین کے دل کے دروازے میرے لئے نہیں کھول رہا؟ اس کیلئے جان دینے چلا تھا اور اس کی نگاہ میں میرے لئے ترحم تک نہ تھا ٗ وہ کیوں میرے لئے اتنی بے حس ہو گئی ہے؟‘‘ وہ جذبوں کے زیر اثر آنکھوں میں حزن و ملال لئے بول رہا تھا اور آج وہ آگے سے کچھ نہیں بولا تھا کہ محبت تو احساس ہے جو خود بہ خود دل کی سرزمین پر جنم لیتا ہے اس کے دل کی دھرتی محبت سے نم ہو گئی تھی اس کے دل کی کھیتی اب تک سوکھی تھی تو کوئی کیا کرتا کہ محبت جبراً تو نہیں کروائی جا سکتی!
٭٭٭
فضیل آج کل نہایت اذیت میں تھا کہ اس سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ اس کی محبت اس کی بیوی کے ذہن و دل پر کسی اور کا بسیرا تھا اور وہ کسی اور کوئی نہیں اس کا جگری یار اس کی محبتوں کا امین ارحم الحسن تھا وہ ایسے نقصان سے دو چار تھا کہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا اور اسی تڑپ سے گزرتے ہوئے وہ ایک سخت فیصلہ لے گیا تھا اور زرمین کو جیسے ہی اس کے فیصلے سے آگاہی ملی تھی وہ تڑپ اٹھی تھی ٗ اس پیارے سے شخص سے دور جانے کا خیال ہی اس کیلئے سوہان روح تھا کہ وہ اپنی سادگی ٗ نیک فطرت اور محبت کے ساتھ اس کے دل میں اتر گیا تھا اور وہ اس سے اپنے جذبات بانٹنے کا سوچ رہی تھی کہ وہ خود ساختہ فاصلوں میں جدائیاں لا رہا تھا۔
’’فضیل…!‘‘ آپ پلیز کہیں نہ جائیں۔‘‘ وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی وہ موقع نہیں دے رہا تھا کچھ گھنٹوں بعد اس کی فلائٹ تھی اور وہ ناراض ماں کو منا کر کمرے سے نکلا تھا کہ وہ اس کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی جس سے بچنے کو وہ گھر میں ہی مشکل سے کچھ گھنٹے رہ رہا تھا۔
’’میں باہر جا کر ڈائیورس پیپر بھیج دوں گا۔‘‘ وہ اس کو جانے سے روک رہی تھی اور وہ اسے اپنی زندگی سے ہی نکال دینا چاہتا تھا۔
’’کیوں کر رہے ہیں ایسا فضیل؟‘‘ وہ تڑپ اٹھی تھی اور وہ اس کی تڑپ پر تڑپ اٹھا تھا۔
’’تم مجھے اگر پہلے سب بتا دیتیں تو یوں جبراً میرے ساتھ رہنا نہ پڑتا ٗ خیر دیر تو اب بھی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ اس کے ذہن میں نہ جانے کیا چل رہا تھا کہ ضبط سے کہہ اٹھا تھا۔
’’لیکن مجھے افسوس رہے گا کہ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ٗ مجھے دھوکا دیا ٗ میرے جذبات کی توہین کی۔‘‘ اس کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔
’’فضیل! میں نے تو آپ سے سچ ٗ جھوٹ کچھ کہا ہی نہیں۔‘‘ مہربان سے شخص کی سنگدلی پر وہ سسک اٹھی تھی۔
’’یہی میرے لئے زیادہ اذیت ناک ہے ٗ تمہارا خاموشی میں لپٹا دھوکا و جھوٹ میری رگیں کاٹ گیا ہے زرمین! کہ باخدا تم مجھے اپنے دل کی ہر بات بتاتیں تو میں ظرف کا مظاہرہ کرتا۔‘‘ وہ جان کر اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا کہ اس چہرے پر وہ اداسی نہیں دیکھ سکتا تھا۔
’’میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں ٗ میں تمہاری چوائس نہیں ہوں اور تمہیں اپنی چوائس کے شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے اسی لئے میں اپنے حق سے دستبردار ہو جائوں گا کیونکہ زبردستی تمہیں اپنے ساتھ باندھنا ہوتا تو آج ہمارے درمیان اتنے فاصلے نہ ہوتے ٗ ہم آج بھی اجنبی نہ ہوتے۔‘‘ اس نے نظر اٹھائی تھی آنسوئوں سے بھیگے دھواں دھواں ہوتے متورم چہرے پر ڈالی تھی اس کی چمکتی مانگ پر اس کی نگاہ ٹھہری تھی دل تھم گیا تھا ٗ مگر وہ دل کی آواز و خواہش دل ہی میں دباتا اس کو روتا چھوڑ کر گھر سے ہی نہیں ملک سے ہی باہر چلا گیا تھا۔
٭٭٭
ذوالفقا عابدی کو جیسے ہی بیٹے کے کارنامے کا پتہ چلا تھا وہ ناچار اس کی شادی حنین سے کرنے کو راضی ہو گئے تھے مگر ماہ لقا کو انہوں نے بڑی مشکل سے راضی کیا تھا کیونکہ کنعان ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس نے جس طرح خود کو گولی مارنے سے گریز نہ کیا تھا وہ حقیقتاً پریشان ہو گئے تھے کہ اس کی ضدی و حاکمیت پسندی سے واقف تھے ٗ ان کے دونوں بچوں کی تربیت و پرورش ان کی اسٹیپ مدر زرمینہ عابدی نے کی تھی جو صوم و صلوٰۃ کی پابند و حافظ قرآن تھیں وہ دونوں بچپن سے اپنی سگی دادی سے زیادہ زرمینہ عابدی کے قریب رہے تھے اور ان کی تربیت و پرورش ہی تھی کہ ماہ لاج اور ماہ کنعان برائیوں کے درمیان رہ کر بھی اچھے رہے تھے ان میں ڈھل نہ سکے تھے کہ اچھی تربیت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
٭٭٭
’’ارحم بھیا! میری کوئی بھی نہیں سن رہا۔‘‘ وہ کائوچ پر اداس سی بیٹھی تھی۔
’’تمہاری کوئی نہیں سن رہا تو تم سب کی سن لو۔‘‘ وہ اس کا نفس آشنا تھا چند لفظوں سے ہی اس کا سارا موقف سمجھ گیا تھا اس لئے نرمی سے بولا تھا کہ جو فیصلہ لیا گیا تھا اس پر اسی نے اسے راضی کرنا تھا۔
’’دس از ناٹ فیئر ارحم بھیا! آپ سب لوگ میرے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں ٗ مجھے یہ تک نہیں بتایا کہ میرا نکاح کس سے ہو رہا ہے اور زبردستی دلہن بنا دیا اور اب میری شادی فیصل بھیا کے دوست کے ساتھ کی جا رہی ہے۔‘‘ اس کے آنسو گرنے لگے تھے اس نے نگاہ چرالی تھی کہ اگر وہ انجان رہی تھی تو اسے ساری زندگی انجان رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ وہ اس کی طرح تکلیف سے نہ گزرے۔ ارحم سے نکاح کا اس سے چھپایا گیا تھا کنعان سے شادی کی بات چلی تو وہ اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتے تھے کہ ماہ کنعان کے پیرنٹس اس کا پرپوزل لے کر آئے تھے اور اس لئے وہ اس کا دماغ کھانے پہنچ گئی تھی کہ کنعان سے شادی کا خیال ہی اس کیلئے سوہان روح تھا۔
’’ابھی صرف نکاح ہو رہا ہے اور حنین! زیادہ سوچنے یا الجھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم تمہارے لئے کوئی غلط فیصلہ نہیں لیں گے۔‘‘ وہ نرمی سے بولا تھا۔
’’اور غلط فیصلہ کیسا ہوتا ہے ارحم بھیا!‘‘ وہ خفگی سے کہتی اسے چونکا گئی۔
’’وہ بالکل بھی اچھے انسان نہیں ہیں اور آپ لوگوں نے ایک خراب انسان کو میرے لئے چوز کر لیا ہے پھر بھی کہتے ہیں کہ غلط فیصلہ نہیں لیں گے جبکہ آپ سب جانتے ہیں ٗ جانتے ہیں آپ وہ کتنے برے انسان ہیں ٗ مجھے برے لگتے ہیں ٗ ان سے خوف آتا ہے مجھے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے تھے۔
’’کنعان کا اب تک تمہارے سامنے صرف منفی کردار و عمل سامنے آیا ہے اس لئے تم اسے غلط ماننے میں حق بجانب ہو۔‘‘ اس کو پلکیں جھپکاتے دیکھ کر وہ نہایت نرمی سے کہنے لگا تھا۔
’’لیکن سچائی سے مجموعی جائزہ لیا جائے تو وہ برا انسان نہیں ہے ٗ سی لئے ہم نے اس کے پرپوزل کو تمہارے لئے قبول کر لیا ہے کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے ٗ تم خوش رہو گی اس کے ساتھ۔‘‘ وہ قائل کر لینے کیلئے بہت ٹھہرے ہوئے لہجے میں بہت طریقے سے ایک ایک لفظ بہت سوچ سمجھ کر بول رہا تھا۔
’’آپ سمجھ کیوں نہیں رہے کہ مجھے ان سے شادی نہیں کرنی ٗ وہ مجھے نہیں پسند۔‘‘ وہ جھنجلا کر بولی تھی وہ اس کو دیکھنے لگا اس کا حسین چہرہ غصے سے دہکنے لگا تھا اور اس کے چہرے پر ماہ کنعان کیلئے واضح ناپسندیدگی پھیلی تھی ٗ مگر ان سب کی مجبوری یہ تھی کہ وہ اس کی پسند کا خیال نہیں کر سکتے تھے کہ ماہ کنعان نے ان سب کو بے بس کر دیا تھا یہ اور بات تھی کہ نوید عالم ہی نہیں اس نے بھی ہر طرح سے تسلی کے بعد ہی پرپوزل ایکسپٹ کیا تھا مگر اس کا صاف انکار وہ ہارنے لگا تھا مگر بے بس تھا اس لئے اس نے کچھ سوچ کر پینترا بدلا تھا۔
’’وہ شخص نہیں پسند تو صرف اس لئے شادی کر لو کہ میں ایسا چاہتا ہوں۔‘‘ اسے اس کے مان جانے کی امید تھی کہ اس کی بات نے اسے رونا ہی بھلا دیا تھا وہ بے یقینی و نا سمجھی سے اس کے چہرے کو تکنے لگی تھی۔
’’جب میں خوش نہیں ہوں گی تب آپ کو پتہ لگے گا کہ آپ نے اپنی خاطر مجھ سے کتنا غلط فیصلہ کروایا ہے۔‘‘ وہ اٹھی اور اس کے کمرے سے نکل گئی جبکہ وہ ساکت بیٹھا رہ گیا تھا۔
٭٭٭
ساڑھی میں مائدہ بے حد حسین لگ رہی تھی ٗ اسجد کی نگاہ ٹھٹھک گئی تھی ٗ مگر دوسرے ہی پل وہ نگاہ کا زاویہ بدلتا گاڑی میں بیٹھ گیا تو اسے بھی اس کی تقلید کرنی پڑی تھی۔
’’یہ شخص کبھی میرا نہیں ہو سکتا ٗ میں اس کی صرف لمحاتی توجہ حاصل کر سکتی ہوں ٗ کبھی دل میں جگہ نہیں بنا سکتی۔‘‘ مائدہ کم مائیگی کے احساس میں ڈوبی سوچ رہی تھی کہ وہ پچھلے کچھ دنوں سے اس کی نگاہ کا ٹھٹھکنا‘ ٹھٹھک کر ٹھہرنا اور پھر پلٹ جانا محسوس کر رہی تھی مگر جب وہ کوئی پیشرفت کرنے کو تیار نہ تھا تو وہ تو مر کر بھی پہل نہیں کر سکتی تھی ٗ اس کا دل آندھیوں کی زد پر تھا مگر وہ بھرم رکھنے کو سر محفل مسکراتی پھر رہی تھی۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *