Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21

’’مائدہ بیٹی! تم کس کے ساتھ آئی ہو؟‘‘ مائدہ کو دیکھ کر وہ دونوں ہی خوشگوار سی حیرت میں آگئی تھیں۔
’’مقتل گاہ تک کون چھوڑ گیا ٗ یہ اہم نہیں ہے ٗ مقتل گاہ تک ایک بار پھر خود سے ہی آ گئی ہوں ٗ یہ زیادہ اہم ہے۔‘‘ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ بولی تھی اور ساکت کھڑے شرمندگی سے نظر چراتے نوید عالم کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی۔
’’ماموں جان! میں پہلے بھی آپ کے سہارے آئی تھی آج بھی میرا سہارا آپ ہی ہیں کہ بیٹیاں والدین کی چھایا میں ہی سکھ پاتی ہیں۔‘‘ ان کا لرزتا ہوا ہاتھ اس کے سر پر آن ٹھہرا تھا۔
’’آپ میری چھایا ہیں ٗ اسی طرح اسجد عالم کی آنے والی اولاد کو بھی اپنے باپ کے سائے کی ضرورت ہو گی۔‘‘ ان کو خوشگوار سی حیرت ہوئی تھی کہ ایسی کوئی خوشخبری ان کے علم میں نہ تھی ٗ مگر دوسرے ہی پل وہ سب ہی اس کے واپس آ جانے کا سبب سمجھ گئے تھے اور بناء کہے بھی وہ جان گئے تھے کہ اس نے ایسا کیوں کہا ٗ اسی لئے انہوں نے بھیگی آنکھوں سے اسجد کا نمبر ڈائل کیا تھا۔
’’مائدہ نہ چاہتے ہوئے بھی لوٹ آئی ہے ٗ اس لئے تمہارے لئے کاشانہ عالم کے دروازے کھل گئے ہیں۔‘‘ بہت دنوں بعد باپ کی آواز سن کر اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’مگر میرے دل کے دروازے تم پر بند ہو چکے ہیں اس لئے اگر صرف مائدہ اور اپنی آنے والی اولاد کیلئے لوٹنا چاہو تو لوٹ آئو۔‘‘ انہوں نے فون بند کر دیا تھا اور وہ ہوا میں معلق رہ گیا تھا کہ خوشی کی خبر نے بھی اسے کوئی خوشی نہ دی تھی ٗ بلکہ ضمیر پر کچھ اور بوجھ آن پڑا تھا اور اسی بوجھ کے ساتھ اس نے آنسو پونچھ کر رختِ سفر باندھ لیا تھا کیونکہ وہ شاخ سے کٹ کر مر جھانے لگا تھا۔
٭٭٭
’’آپ صرف یہ بتایئے کہ مجھے لے جا رہے ہیں یا نہیں؟‘‘ وہ غصے میں تھی۔
’’مجھے لے جانے پر اعتراض نہیں ہے ٗ مگر تم رکو گی نہیں۔‘‘ وہ اس کے غصے سے پڑے سرخ چہرے کو دیکھ شوخی سے بولا تھا۔
’’تم سے ایک لمحے کی دوری برداشت نہیں ہوتی ٗ کجا کہ پوری ایک رات گزار لوں۔‘‘ اس نے واک آئوٹ کرتی حنین کی کلائی پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔
’’پلیز فلمی ڈائیلاگز نہ بولا کریں۔‘‘ اس کی بے باکی و حرکت گراں گزری تھی اور ہاتھ چھڑا کر فاصلے پر جاتی غصے سے بول اٹھی تھی ٗ اس کے لب اس کی جھنجھلاہٹ پر مسکرانے لگے تھے۔
’’آپ آفس بھی تو جاتے ہیں ناں ٗ آفس میں وقت گزر جاتا ہے ٗ میں میکے چلی جائوں گی تو قیامت آ جائے گی؟‘‘ اس کے انداز میں برہمی و جھنجھلاہٹ تھی کہ اس کی سادہ فطرت اس کی شدت پسند رومانوی فطرت سے خائف رہنے لگی تھی۔
’’تم کہو تو آفس بھی نہ جایا کروں کہ آفس جانے کو دل کس کافر کا کرتا ہے۔‘‘ اسے دیوار سے لگا کر دائیں بائیں ہاتھ ٹکاتے ہوئے گویا اسے اپنے حصار میں مقید کر لیا تھا۔
’’میں نے ایسا کچھ نہیں کہا سمجھے آپ؟‘‘ اس کے انداز پر روہانسی ہو گئی تھی۔
’’پھر کیا کہا تھا سمجھا دو ناں!‘‘ وہ اس کی حالت سے محظوظ ہوتا نظریں اس کے چہرے پر گاڑھے مسکرا رہا تھا اور وہ اب کچھ بھی کہہ ہی نہیں سکتی تھی ٗ حیا سے لب کچلنے لگی تھی کہ وہ دھیرے دھیرے اب اس سے بات کرنے لگی تھی ٗ بحث کرنے اور فرمائش بھی کرنے لگی تھی ٗ مگر اس کی شدتوں سے خائف ہو جاتی تھی کہ بہت چاہ کر بھی کم از کم اس کے جذبوں پر بند نہیں باندھ سکتی تھی ٗ اس کا دل ماہ کنعان کی جانب جھکنے لگا تھا ٗ مگر اس کے باوجود بھی کچھ ایسا تھا جو ان کے درمیان حائل تھا اور اسی کی تلاش میں وہ اس کی ہر جا‘ بے جامان لیتا تھا۔
٭٭٭
’’مائدہ! میں تم سے معافی…!‘‘ وہ اس کے کملائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر احساس ندامت میں گھرتا معذرت طلب کرنے لگا تھا۔
’’میں عزت نفس اور پندار لٹا کر بھی مقتل گاہ تک آ گئی ہوں اس لئے بہتر ہوگا کہ معافی کے قصے کو جانے دیں ٗ اسجد عالم! میں زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ کو معاف نہیں کروں گی۔‘‘ اس کا لہجہ جذبوں سے عاری و سرد تھا۔
’’معاف نہیں کر سکتیں تو پھر سزا ہی تجویز کر دو۔‘‘ اس کی آنکھیں بے بسی سے چھلک اٹھی تھیں کہ وہ برا نہیں تھا ٗ مگر غصے میں وہ برا بن گیا تھا اور اب نادم تھا۔
’’آپ کی سزا یہی ہے کہ آپ کو معافی نہیں ملے گی۔‘‘ اسجد نے اسے دیکھا تو اسے لگا کہ اس کے سامنے نرم خو مائدہ نہیں ایک پتھر دل مائدہ کھڑی ہے۔
’’شادی کی پہلی رات آپ نے مجھے یہاں سے دھتکار کر اٹھا دیا تھا ٗ مگر میں پھر یہاں تک آ گئی ہوں۔‘‘ وہ بیڈ کی جانب بڑھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
’’زمین سے اٹھتی خاک ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے جسم سے لپٹ جاتی ہے مگر وہی گرد روح کو نہیں چھوتی ٗ اسی طرح آپ جسم تو حاصل کر چکے مگر روح تک کبھی رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘‘ اس کا ایک ایک لفظ اسے زمین میں نیچے اور نیچے اتارتا جا رہا تھا۔
’’جبری استحقاق سے آپ ہمارے رشتے کی بنیاد رکھ چکے اور اب ہم مستقبل میں اس کی آبیاری کریں گے ٗ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی کہ آپ کے دل میں میرے لئے کوئی جگہ نہیں اور مجھے آپ بے دل کر چکے ٗ اس لئے زندگی کے کاسے میں جب تک سانسوں کے سکے گرتے رہیں گے ٗ ہم اس رشتے کو نبھاتے رہیں گے۔‘’‘ اس کا انداز ایسا تھا جیسے اخبار پڑھ رہی ہو اور اس نے اس کے بے تاثر چہرے سے نگاہ ہٹا لی تھی ٗ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ سب کچھ اس کے ہاتھ سے نکل گیا اب وہ کبھی مائدہ کے دل تو کیا نظر میں بھی اپنا مقام نہیں بنا سکتا کہ اس نے منفی عمل سے سب کچھ اپنے خلاف کر لیا تھا۔
٭٭٭
’’آجائو یار! رک ایسے گئی ہو جیسے میں شوہر نہیں تمہارا بوائے فرینڈ ہوں۔‘‘ اس کو یونیورسٹی گیٹ پر دیکھ کر وہ متحیر سی تھم گئی تھی اور اس نے دلکشی سے کہہ کر اس کو خفت سے دوچار کر دیا تھا کہ ماہ لاج کو بخار تھا ٗ اس لئے وہ ٹیسٹ دے کر تیسرے ہی پیریڈ میں چلی گئی تھی ٗ مگر اسے خیال نہیں آیا تھا کہ ڈرائیور کی جگہ وہ خود لینے آ جائے گا ٗ اسی لئے حیران ہوئی تھی۔
’’آپ لینے کیوں آ گئے ٗ ڈرائیور کو ہی بھیج دیتے۔‘‘ وہ عام سے انداز میں بولی تھی۔
’’عجیب عورت ہو یار! شوہر کی اتنی محبت پر فخر کرنے کے بجائے چڑ کر قدغنیں لگاتی رہتی ہو۔‘‘ وہ اسے چھیڑ رہا تھا ٗ اس نے لب چبانا شروع کر دیئے تھے۔
’’میں تمہارے آس پاس رہنے کے بہانے تلاشتا رہتا ہوں اور تم مجھ سے بچنے کے مواقع ڈھونڈتی رہتی ہو ٗ کسی دن جان سے جائو گی مسز!‘‘ ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتا دوسرے سے اس کے ماتھے پر جھولتی لٹ کو کھینچتا شوخی سے کہہ رہا تھا۔
’’پلیز! توجہ سے گاڑی چلائیں آپ کے ساتھ سفر کے دوران جان سولی پر اٹکی رہتی ہے ٗ آپ کی ڈرائیونگ پر توجہ ہی نہیں ہوتی۔‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح جھنجھلا گئی تھی ٗ مگر اس نے قہقہہ لگا کر گویا کہا تھا کہ میں اپنی روش سے نہیں ہٹنے والا وہ بڑی مہارت سے نہ صرف ڈرائیونگ کرتا تھا ٗ اس پر بھی نگاہ رکھتا اسے چھیڑتا رہتا تھا ٗ اسی لئے وہ اس کے ساتھ کہیں آنے جانے سے بھی گریزاں ہونے لگی تھی۔
’’اوہو… اپنی جان کی بڑی پرواہ ہے ٗ کبھی میرے بارے میں سوچ کر دیکھو کہ دن میں کتنی بار تمہارے ہاتھوں قتل ہوتا ہوں ٗ کبھی تمہارا قرب قتل کرتا ہے تو کبھی تمہاری دوری۔‘‘ وہ اسپیڈ کم کرتے ہوئے اسے بازو سے تھام کر اپنی طرف کھینچتا جسارتوں پر آمادہ تھا اور وہ تڑپ کر اس سے دور ہو گئی تھی۔
’’خبردار! جو آئندہ آپ مجھے لینے آئے۔‘‘ دہکتے چہرے کے ساتھ نظر چراتی منمنائی تھی ٗ گاڑی میں اس کا بے باک قہقہہ گونج اٹھا تھا۔
’’سوچ لو اس طرح کی قدغن لگائی تو میکے کیسے جائو گی؟‘‘ اس نے بے ساختہ اس کو دیکھا تھا جو اپنی ہی شرارت پر متبسم تھا ٗ اس کے دیکھنے پر آنکھ دبائی تھی ٗ تو وہ صحیح معنوں میں روہانسی ہو گئی تھی ٗ اوپر سے اس کی بے وقت کی راگنی شروع ہو گئی تھی۔
’’پھر رات کو خیرات ملے بند قبا کی
پھر لطف شب وصل کو دہرائو کسی دن‘‘
وہ گاڑی کاشانہ عالم کے باہر روکے ذومعنی لہجے میں شعر پڑھ رہا تھا ٗ اس کی نگاہ اس پر اٹھی تھی اور پھر جھک گئی تھی۔
’’فرار کیلئے مچلتیں اچھی لگ رہی ہو مسز! لیکن آج رات شب وصل کو دہرانے کا ارادہ ہے ٗ اس لئے فرار کی ہر راہ بند نہ کر دی تو ماہ کنعان عابدی نام نہیں۔‘‘ اس کا خمار آلود لہجہ اس کی پلکیں لرزا گیا تھا اور وہ خود کو بڑی مشکل سے سنبھالتی اس کے لبوں کی حدت سے دہک اٹھنے والی پیشانی دوپٹے سے مسلتی گاڑی سے اتری تھی اور وہ اس کی پر حجاب سی چال کو دیکھ کر مسرور سا مسکرا دیا تھا کہ اس نے اسے کاشانہ عالم چھوڑا تو تھا ساتھ میں یہ بھی باور کروا دیا تھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح ٹھہرے گی نہیں اور وہ بھی اس انداز میں کہ اس کے پاس انکار تو کیا بحث کی بھی گنجائش نہ رہی تھی وہ اس کے اندر داخل ہوتے ہی کچھ سوچ کر فیصل کے آفس کے راستے پر گاڑی ڈال گیا تھا ٗ کیونکہ اس سے ملے بھی کئی دن ہو گئے تھے دوران ڈرائیونگ اس کے لب مسکرا رہے تھے۔
٭٭٭
’’زرمین بیٹا! یہاں ایسے کیوں بیٹھی ہو؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ مہوش کچن سے پانی لینے آئی تھیں ٗ کھڑکی کھلی دیکھی تو بند کرنے لگی تھیں کہ لان میں نیم اندھیرے میں کرسی پر کسی کو بیٹھے دیکھ کر وہ پریشانی سے وہاں چلی آئی تھیں ٗ کیونکہ وہ دیکھتے ہی سمجھ گئی تھیں کہ وہ زرمین ہو گی اور زرمین ان کی آواز پر بری طرح چونکی اور انہیں دیکھنے لگی ٗ جن کی پریشانی اسے روتے دیکھ کر بڑھ گئی تھی ٗ وہ رات کے ڈیڑھ بجے اسے لان میں دیکھ کر ہی کم متفکر نہ تھیں مگر وہ کچھ نہیں بولی تھیں اور کرسی کھسکا کر اٹھ گئی تھی۔
’’زرمین چندا! کیا ہوا ہے ٗ کیوں رو رہی ہو؟‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام گئی تھیں اور لہجے میں ممتا سمو کر بولی تھیں اس کی ذہنی و قلبی حالت ابتری کا شکار تھی ٗ اسی سبب تو وہ کچھ نہ بولی تھی اور یکدم ان سے لپٹ کر جو اس نے رونا شروع کیاٗ تو وہ حق دق رہ گئی تھیں۔
’’زرمین! اس طرح کیوں رو رہی ہو ٗ بتائو مجھے ٗ کسی نے کچھ کہا ہے؟ فضیل سے کوئی بات ہوئی ہے؟‘‘ وہ اسے لئے لائونج میں آ گئی تھیں ٗ صوفے پر بٹھا کر پانی لاکر اسے پلایا تھا اور نہایت نرمی و شفقت سے استفسار کیا تھا۔
’’مما! فضیل مجھ سے ناراض ہیں ٗ میں نے انہیں ناراض کر دیا ہے ٗ اسی لئے وہ ناراضی و غصے میں ہم سے اتنی دور چلے گئے ہیں ٗ گزرے مہینوں میں انہوں نے ایک دفعہ بھی مجھ سے بات نہیں کی ٗ وہ مجھ سے بہت خفا ہیں۔‘‘ وہ خود سے لڑلڑ کر تھک گئی تھی ٗ اس لئے آج مہوش کے سامنے دل کھول کر رکھ دیا تھا اور وہ تو اس انکشاف پر حیران تھیں ٗ وہ دونوں بات نہیں کرتے تھے تو کیا ان کے سامنے اب تک ڈرامہ کرتے رہے تھے؟
’’سب کہتے ہیں کہ وہ آ جائیں گے ٗ لیکن میں جانتی ہوں وہ نہیں آئیں گے ٗ کیونکہ وہ مجھے سزا دینا چاہتے ہیں۔‘‘ زرمین سسک رہی تھی کہ وہ پوچھ بیٹھی تھیں۔
’’کس بات کی سزا؟ تم دونوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا ہے؟‘‘ وہ بہو کو دیکھ رہی تھیں جو بری طرح رو رہی تھی ٗ شکستہ و آزردہ لگ رہی تھی۔
’’مما! انہیں لگتا ہے جیسے میں نے انہیں دھوکا دیا ہے ٗ لیکن میرا یقین کریں مما! میں نے انہیں دھوکا نہیں دیا۔‘‘ وہ بلک رہی تھی ٗ وہ جی جان سے اس کی جانب متوجہ تھیں ٗ اسے اپنا ہوش نہ تھا اسی سبب قدموں کی چاپ سے انجان رہی تھی۔
’’تم کیا کہہ رہی ہو ٗ کیا کہنا چاہتی ہو ٗ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی بیٹا! میں تمہاری ماں ہوں ٗ بلا ڈر و جھجھک ہر بات کہہ دو۔‘‘ انہوں نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے شفقت سے اس کی ڈھارس بندھائی تھی۔
’’مما! مجھے ارحم اچھے لگتے تھے ٗ میں ان سے شادی کرنا چاہتی تھی۔‘‘ اس کا انکشاف انہیں ساکت کر گیا تھا اور اس نے لب بھینچ لئے تھے کہ حقیقت جانتا تھا مگر اس کے منہ سے سننا کتنا اذیت ناک عمل ٹھہرا تھا ٗ یہ کوئی اس سے پوچھتا جو اس سے دوچار تھا۔
’’لیکن جب گھر میں میری اور فضیل کی شادی کی بات چلی ٗ میں نے کسی پر اپنی پسندیدگی کو ظاہر نہیں کیا ٗ کیونکہ ابو کو مجھ پر بہت مان تھا ٗ وہ میں توڑ نہیں سکتی تھی ٗ شادی کیلئے میں ابو کیلئے اللہ کی رضا جان کر راضی ہو گئی تھی اور جب میں نے نکاح نامے پر سائن کئے ہر پسندیدگی بابل کی دہلیز پر ہی چھوڑ دی ٗ دل سے فضیل کی ہمراہی قبول کی ٗ لیکن جب میں فضیل کی منتظر تھی تب میں بہت ڈری ہوئی تھی ٗ کیونکہ مجھے اپنا آپ فضیل کا مجرم لگ رہا تھا۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور پریشان و حیران سی بیٹھیں مہوش کے قدموں کے پاس بیٹھ کر ان کی گود میں سر رکھے بولنے لگی تھی۔
’’مجھے لگ رہا تھا جیسے میں نے فضیل کو دھوکا دیا ہے ٗ پسند کسی اور کو کرتی ہوں ٗ شادی ان سے کر لی اور کبھی لگتا کہ جیسے ہی فضیل کو یہ بات پتہ چلے گی ٗ وہ مجھے غلط سمجھیں گے کہ یہ بات ان کیلئے قابل قبول نہیں ہو گی ٗ ان کی بیوی کی محبت کوئی اور تھا ٗ مگر مما! جو تھا صرف نکاح سے پہلے تک تھا ٗ نکاح کے بعد میں نے صرف فضیل کو سوچا ٗ میں نے کسی قسم کی خیانت نہیں کی، لیکن یہ بات میں فضیل کو بتا نہیں سکی، میرے خدشات کو فضیل ناجانے کیا سمجھے اور انہوں نے مجھے ایک بیوی کی طرح ٹریٹ نہیں کیا ٗ انہوں نے مجھے وقت دیا اور میں بھی وقتی طور پر مطمئن ہو گئی تھی ٗ وقت کے ساتھ میں نے خود کو فضیل سے جڑنے والے رشتے کیلئے ذہن و دل سے اپنانے ٗ قائم رکھنے کیلئے راضی کر لیا۔ لیکن فضیل تو وقت دے کر مجھے بھول گئے تھے ٗ مما! کہ میں ان کی کچھ لگتی بھی ہوں۔‘‘ وہ ان کے سامنے سے کترا رہی تھی جب ہی گود میں منہ چھپائے سسکتے ہوئے کہہ رہی تھی ٗ اس کا لفظ لفظ حیران کن تھا مگر ان کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے ٗ انہوں نے اسے اتنا ہی فیئر پایا تھا۔
’’اور جب وہ بھول گئے تھے تو میں کیسے یقین دلاتی کہ میں ان کی ہوں کہ میرے دل نے ان کیلئے دھڑکنا سکھ لیا ہے ٗ میں پہل کر نہیں سکتی تھی اور وہ کرنا نہیں چاہتے تھے ٗ میں مجبوری ٗ ڈر ٗ خدشات کا شکار تھی ٗ لیکن انہیں تو کوئی ڈر ٗ مجبوری اور خدشہ لاحق نہ تھا ٗ تو پھر کیوں انہوں نے مجھے سزا دی؟‘‘ اس نے سر اٹھا کر بھیگی ٗ نمناک سرخ آنکھوں سے انہیں دیکھا تھا۔
’’مما! اس دن جب ارحم کا ایکسیڈنٹ ہوا میں ان کیلئے پریشان تھی ٗ روئی تھی ان کی صحت یابی کیلئے دعا گو تھی میری ہر فکر ان کیلئے تھی ٗ مگر صرف اس لئے کہ وہ میرے کزن ہیں ٗ ارحم کی جگہ راحم یا فیصل ہوتے تب بھی میری حالت وہی ہوتی ٗ جو ارحم کے ایکسیڈنٹ کا سن کر تھی ٗ اس فکر کے پیچھے محبت نہیں تھی کہ میری محبت ٗ میرا سب کچھ تو نکاح کے بولوں کے ساتھ ہی فضیل بن گئے تھے۔‘‘ اس نے آنسو رگڑے تھے لب چبائے تھے گویا خود کو مزید کہنے سے روکا تھا یا کہنے کیلئے کمپوزڈ کیا تھا۔
’’مگر میری فکر کو فضیل نے غلط سمجھا ٗ مجھے دھوکے باز کہا ٗ آپ بتایئے مما! کہ شادی سے پہلے میں اگر کسی کو چاہتی بھی تھی تو کیا مجھے فضیل کو بتانا چاہیے تھا؟‘‘ انہوں نے اس کو دیکھتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی تھی۔
’’نہیں ناں! وہ بھی اس صورت میں کہ وہ صرف میری سوچ، میرا خیال تھے، جو فضیل سے رشتہ بننے کے بعد بدل گئے ٗ ان کو ذہن و دل سے نکال دیا اور جب میں نے شادی کے بعد ایک لمحے کیلئے بھی ان کے متعلق اس طرح نہیں سوچا کہ میں انہیں کیوں نہ پاسکی؟ وہ میرے کیوں نہ بنے؟ نہ انہیں اپنانے کا سوچا تو پھر میں دھوکے باز کیسے ہوئی؟ آپ بتایئے مما! جب میں نے ارحم کو سوچا ہی نہیں ٗ افسوس نہیں کیا تو میں دھوکے باز کیسے ہوئی؟ میں تو بس اپنے ماضی سے ہراساں تھی کہ غلط تو میں نے ماضی میں بھی نہیں کیا تھا ٗ ارحم میرے کزن تھے ٗ مجھے اچھے لگتے تھے ٗ دل و ذہن میں آتا کہ کاش کہ وہ میرے بن جائیں مگر ایسا نہیں ہوا ٗ جو شخص میرا بنا اسے سوچا ٗ اسے چاہا ٗ بس ڈرتی تھی کہ میرے ذہن و دل کی بات فضیل کو پتہ چلی تو وہ کیسا ری ایکٹ کریں گے؟ اور مما! میرے خدشات کچھ غلط تو نہ تھے جب ان پر یہ بات ظاہر ہوئی تو وہ مجھے جھوٹا ٗ دھوکے باز کہہ کر چلے گئے اور ایک دفعہ بھی مجھ سے رابطہ نہیں کیا ٗ آپ نے فون دیا تو لائن کاٹ دی ٗ میں نے ملایا تو کال ریسیو نہیں کی ٗ میری کسی میل کا جواب نہیں دیا ٗ آپ بتایئے ناں مما! کہاں غلطی ہوئی مجھ سے ٗ میں نے کب ماضی کی کسی محبت کے حصول کیلئے کسی قسم کی کوشش کی؟ کب میں ان سے ملی؟ کب چاہا کہ وہ میرے ہو جائیں؟ میرے ذہن و دل میں ایسا کچھ ہوتا تو میں شادی ہی کیوں کرتی؟ پرانی محبتوں کو ہی دل میں بسائے رکھنا ہوتا تو نئی محبتوں کو اپناتی کیوں؟ اور جب فضیل نے ڈائیورس کی بات کی ٗ مجھے فضیل سے نہیں ارحم سے محبت ہوتی تو میں فضیل سے کہہ دیتی ناں ٗ کہ وہ مجھے چھوڑ دیں اور دے دیں طلاق ٗ لیکن میں تو گزرے مہینوں میں خوفزدہ رہی ہوں ٗ ہر آہٹ پر دہلتی رہی ہوں کہ کہیں فضیل میری التجا کے باوجود میری ہر التجا کو ٹھکرا کر کہیں ڈائیورس پیپر نہ بھیج دیں۔ فضیل میرا سب سے مضبوط رشتہ ٗ میری محبت ٗ پسند سے دستبرداری قبول کر سکتی تھی ناں جب ہی کر گئی ٗ مجھے کوئی فرق بھی نہیں پڑا ٗ لیکن محبت سے زندگی سے دستبرداری قبول کرنا اتنا آسان بھی تو نہیں ہوتا ناں ٗ میں آسانی سے ان سے خود کو کیسے الگ کر لوں؟ لیکن ان کیلئے سب کچھ بہت آسان ہے مما! رات گیارہ بجے کے قریب میں نے انہیں فون کیا تھا ٗ انہوں نے پہلی دفعہ میری کال ریسیو کی اور میرے ہیلو کہنے سے پہلے ہی یہ کہہ کر فون رکھدیا کہ وہ جلد فیصلہ کر دیں گے ٗ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے مما! مجھے چھوڑنے کا فیصلہ ٗ اگر ایسا کیا انہوں نے تو میں مر جائوں گی ٗ آپ کہیں ان سے میں نے انہیں دھوکا نہیں دیا ہے ٗ میں صرف ان کی ہوں ٗ صرف ان سے محبت کرتی ہوں ٗ میں جھوٹ نہیں بول رہی ٗ آپ کو تو مجھ پر بھروسہ ہے ناں مما! یقین ہے ناں آپ کو مجھ پر کہ میں جھوٹ نہیں بولتی؟‘‘ وہ ان کا ہاتھ تھام گئی تھی ٗ جن کی نظریں سامنے کھڑے شخص پر کافی دیر سے جمی تھیں ٗ مگر وہ ان سے اب تک نظر نہیں ملا رہی تھی ٗ اس لئے چونکی تک نہیں تھی ٗ اس کے ہاتھ تھامنے پر مگر وہ چونک کر اس کی جانب متوجہ ہو گئی تھیں۔
’’مما! آپ فضیل کو سمجھائیں ناں ٗ ان سے کہیں میں جھوٹی نہیں ہوں ٗ میں نے انہیں دھوکا نہیں دیا ہے ٗ میرے دل میں صرف وہ ہیں ٗ وہ مجھے نہ چھوڑیں ٗ میں نے ان کی امانت میں خیانت نہیں کی ہے ٗ میں ان کی ہوں ٗ جب ان کی نہیں تھی تب بھی میں نے کچھ ایسا غلط نہیں کیا ٗ جو شریعت کے خلاف ہو یا جو امانت میں خیانت کا سبب ہو ٗ میری چھوٹی سی بھول کی ٗ میرے خدشات کی مجھے وہ اتنی بڑی سزا نہ دیں ٗ جان سے مار دیں لیکن رشتہ نہ توڑیں۔‘‘ وہ ان کی ٹانگوں سے لپٹ کر بری طرح بلکنے لگی تھی ٗ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انہوں نے ایک ناراض نظر بت بنے بیٹے پر ڈالی تھی ٗ وہ کچھ بولی نہ تھیں اور وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہ تھا انہوں نے اس کا سر اونچا کرنا چاہا تھا ٗ تب انہیں احساس ہوا تھا کہ وہ ہوش میں نہیں ہے اور جیسے ہی اس بات کا انہوں نے اظہار کیا تھا‘ وہ ہوش میں آتا اس کی طرف لپکا تھا۔
’’زرمین کو کچھ ہو گیا ناں فضیل! تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گی۔‘‘ اسے بیک سیٹ پر احتیاط سے لٹا کر وہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھال گیا تھا ٗ وہ زرمین کا سر گود میں رکھے ہوئے ناراضی و غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولی تھیں۔
’’آپ تو شاید پھر بھی مجھے معاف کر دیں مما! لیکن میں خود کو کبھی چاہ کر بھی معاف نہیں کر پائوں گا۔‘‘ اس نے دل گرفتگی سے کہتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی تھی اور ریش ڈرائیونگ کرتا گھر کے سب سے نزدیکی پرائیویٹ ہسپتال پہنچا تھا ٗ اس کا نروس بریک ڈائون ہوا تھا ٗ اس کی کنڈیشن مگر کافی بہتر تھی ٗ ڈاکٹرز کی کوشش اور ٹریٹمنٹ کے بعد تقریباً 3 گھنٹوں میں اسے آئی سی یو سے ایک پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا ٗ مہوش نے بیٹے کی اتری صورت دیکھی تھی اور فجر کی اذانوں کے بعد شوہر کو فون کرکے بلا لیا تھا اور فضیل کو زبردستی گھر بھیج دیا تھا کہ رات بھر وہی نہیں فضیل بھی پریشان رہا تھا۔
٭٭٭
’’ہیلو ٗ کنعان! اس وقت فون کیا سب خیر تو ہے؟‘‘
’’فیصل بھیا میں ہوں حنین‘‘ اس کی پریشانی تو حنین کی آواز نے بڑھا دی تھی جس کا اس نے اظہار بھی کیا تھا۔
’’سب خیریت ہے بھیا اور ماہ کنعان سو رہے ہیں میں نے تو صرف آپی سے بات کرنے کیلئے فون کیا ہے۔‘‘ اسے تسلی دے کر اصل مقصد بیان کیا تھا اور وہ بری طرح گڑبڑا گیا تھا۔
’’آپ بات کروا دیں گے ناں بھیا! کہ میں رات سے ہی آپی کے نمبر پر ٹرائی کر رہی ہوں وہ کال ریسیو نہیں کر رہیں کہ اتنی تو گہری نیند وہ سوتیں بھی نہیں ہیں اور اب تو وہ نماز کیلئے جاگی ہوں گی ٗ دیکھیں تو سہی کہ وہ میری کال ریسیو کیوں نہیں کر رہی ہیں؟‘‘ فیصل نے اس کے لہجے میں جھنجلاہٹ اور زرمین کیلئے محبت بھری فکر محسوس کی تھی اور وہ اسے جانتا ہی تھا اس لئے ایک دم سے کہہ نہیں سکتا تھا کہ اس کی فکر غلط نہیں اس کی زرمین آپی ہاسپٹل میں ہیں۔
’’تم پریشان نہ ہو حنین ٗ میں تھوڑی دیر میں خود تمہاری بات ٗ بھابی سے کرواتا ہوں۔‘‘ کچھ سوچ کر بولا تھا۔
’’یاد سے اور جلدی کروا دیجئے گا کہ نہ جانے کیوں رات سے دل آپی کیلئے پریشان ہے ٗ سونے لیٹی تو آپی کا خیال نیند کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ٗ رات طبیعت تو ٹھیک تھی ناں آپی کی؟‘‘ اس کی آواز بھرا گئی تھی اور فیصل کچھ ثانیے کیلئے ساکت رہ گیا تھا کہ اسے لگتا تھا کہ حنین کسی کی پرواہ نہیں کر سکتی ٗ جتنی محبت زرمین اس سے کرتی ہے اس کا وہ 10 فیصد حصہ بھی زرمین کیلئے دل میں چاہت نہیں رکھتی مگر آج احساس ہوا تھا کہ دل کے ناطے تو دوطرفہ ہوتے ہیں کہ اپنوں کی محبت اور اپنائیت دل پر اثر نہ کرے ایسا ناممکن ہوتا ہے۔
’’شی از فائن ٗ کچھ دیر میں بات کروا دوں گا ٗ بائے۔‘‘
وہ اور کچھ نہ کہے اس لئے اس نے فوراً ہی فون رکھ دیا تھا اور اس نے بے دلی سے موبائل بیڈ پر اچھالا اور کمرے میں چکرانے لگی ٗ سیل فون ماہ کنعان کے کاندھے سے ٹکرایا تھا اس کی آنکھ کھلی تھی اس نے جھنجلا کر کروٹ لی تھی اور اسے کمرے میں چکراتے دیکھ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔
’’واٹس دا پرابلم ٗ حنین! پوری رات تم نے اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی سونے نہیں دیا ٗ ڈسٹرب رکھا ہے۔‘‘ وہ کبھی لیٹ رہی تھی ٗ کبھی اٹھ کر کال ملا رہی تھی ایسے میں وہ کیسے سو سکتا تھا کہ اس نے لائٹس بھی آن رکھی تھیں اور رات بھر کی کوفت اس کے لہجے میں سما گئی تھی۔‘‘ میں نے آپ سے تو کچھ نہیں کہا تو آپ کیوں غصہ ہو رہے ہیں۔‘‘ رک کر اسے دیکھا اور آنسو گرنے لگے تھے کہ اس کا لہجہ بہت سخت تھا جبکہ وہ تو ہو ہی زود رنج رہی تھی۔
’’رات بھر تم نے پریشان رکھا ہے تو اب غصہ بھی نہ ہوں کہ جانتا ہوں کہ بات بھی کچھ نہیں ہے ٗ زرمین بھابی سو رہی ہوں گی ٗ اٹھیں گی تو تمہاری مسڈ کالز دیکھ کر کال بیک کر لیں گی۔‘‘ اسے گھورا تھا کہ وقت بے وقت کے اس کے آنسو اسے کوفت میں مبتلا کر دیتے تھے۔
’’ایسا کبھی نہیں ہوا ماہ کنعان! آپی میری کال فرسٹ بیل پر ریسیو کرتی ہیں اور میں تو انہیں رات ساڑھے 12 بجے سے کال کر رہی ہوں ٗ آپ سے کہا بھی تھا کہ مجھے آپی کے ہاں لے جائیں ٗ مگر آپ نے صاف منع کر دیا۔‘‘ وہ اسے ناراضی سے دیکھتی اپنی فکر کہہ رہی تھی۔
’’میں ہر دوسرے دن وقت بے وقت تمہاری آپی کے گھر نہیں جا سکتا‘ خود سوچو رات کے ایک بجے کسی کے گھر جانے کی کیا تک بنتی ہے۔‘‘ وہ تو گویا پھٹ ہی پڑا تھا کہ اس کی ضد پر ایک دفعہ لے گیا تھا تب ہی کتنی شرمندگی ہوئی تھی کہ وہ تو کاشانہ عالم بھی رات کے آدھی بجے جانے کو تیار رہتی تھی اسی لئے رات اس نے صاف انکار کیا تھا اور سونے لیٹ گیا تھا اور اس کی پریشانی کو محسوس کرکے بھی سوتا بنا رہا تھا کہ جاگنے کا اشارہ دیتا تو وہ ضد کرتی اس لئے اس نے پوری رات سوئی جاگی سی کیفیت میں گزاری تھی اسی لئے سر بری طرح درد کر رہا تھا۔
’’آپ یہ مت بھولا کریں کہ آپی ٗ کسی نہیں ہیں اور میں ہی بے وقوف ہوں جو آپ کے آسرے پر رہتی ہوں ٗ مگر آج سے نہیں رہوں گی ٗ جہاں ٗ جس وقت جانا ہوگا میں خود چلی جایا کروں گی کہ میں کسی کی بھی محتاج نہیں ہوں۔‘‘
بھیگی پلکوں میں بھرپور ناراضی سمو کر اسے دیکھا تھا جس کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔‘‘
تم یہ مت بھولا کرو کہ میں بھی کسی نہیں ہوں اور تم میری اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاسکتی ہو ٗ اکیلے نہ کسی کے بھی ساتھ ٗ انڈر اسٹینڈ!‘‘ گھورتے ہوئے واپس لیٹا ہی تھا کہ اس کا سیل بجنے لگا تھا اور فیصل کا نمبر دیکھ اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی کال اٹینڈ کی تھی کہ ذہن میں یہی آیا تھا کہ اس نے اتنی صبح کال کیوں کی؟ اور اس نے یہ فیصل سے پوچھا بھی تھا اور اس نے اسے حنین کی کال اور اپنے جواب کا بتانے کے بعد زرمین کے ہاسپٹل میں ہونے کا بتایا تھا وہ پریشانی سے اٹھ بیٹھا تھا اور نگاہ بے ساختہ ہی بری طرح روتی ہوئی حنین پر اٹھی تھی کہ یہی خیال آیا تھا کہ اس کی اٹینشنز غلط نہ تھیں ٗ ہاسپٹل کا پوچھ کر اس نے رابطہ منطقع کر دیا تھا۔
’’اب رونے کیوں لگیں ٗ یار! رات بھر ڈسٹرب رہا ہوں ناں اس لئے غصہ ہو گیا ٗ ایکسٹریملی سوری!‘‘ اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا تھا۔
’’میں بھی تو رات سے ڈسٹرب ہوں ٗ نہ جانے کیسے کیسے وہم مجھے ستا رہے ہیں اور آپ ٗ آپ نے مجھے تسلی دلاسہ دینے کے بجائے اپنی نیند پوری کی اور مجھ پر پھر بھی غصہ ہو رہے ہیں بلکہ آپ خود بتایئے کہ کوئی آپ کی کال فوراً ریسیو کرتا ہو وہ پوری رات کال کرنے پر بھی آپ کی کال ریسیو نہ کرے تو کیا آپ پریشان نہ ہوں گے؟‘‘ وہ رو رہی تھی۔
’’غلطی ہو گئی ٗ سوری! اور تم جلدی سے فریش ہو کر آ جائو پھر ہم خود تمہاری آپی کے ہاں چلیں گے اور ان سے خوب لڑائی کریں گے کہ انہوں نے کال ریسیو کیوں نہیں کی۔‘‘ وہ اس کا موڈ بدلنے کو ہلکے پھلکے انداز میں بولا تھا۔
’’رات نہیں لے گئے تھے اور اب اتنی صبح جانا آپ کو آکورڈ نہیں لگے لگا؟‘‘ وہ اس کے آنسو پونچھ رہا تھا اور وہ فاصلے پر ہوئی غصہ و خفگی سے بولی تھی۔
’’لگے گا کہ مجھے یہ سب پسند بھی نہیں ہے لیکن میں یہ سب تمہارے لئے کر رہا ہوں ٗ ایک دفعہ رات گئے گیا تھا آج سویرے سویرے جانے پر اعتراض نہیں ہے کہ میں ہر حال میں تمہاری خوشی چاہتا ہوں۔‘‘ وہ محبت سے کہہ رہا تھا۔
’’بات اس وقت میری خوشی کی نہیں ٗ پریشانی کی ہے اور جیسے رات ڈھل گئی ٗ صبح بھی باقی نہیں رہے گی ٗ آپ اپنی مرضی کے خلاف نہ کریں اور مجھے آفس جاتے ہوئے آپی کے ہاں چھوڑ دیجئے گا۔‘‘ اس کی انا آڑے آ گئی تھی اور اس نے لب بھینچ لئے تھے کہ وہ اس کیلئے کیا کچھ کر رہا تھا یہاں تک کہ اپنی مرضی و خوشی تک کو پس پشت ڈال دیتا تھا اور وہ تھی کہ انا کے حصار میں گھری اس کی فکر کے انداز سمجھ ہی نہیں پاتی تھی۔ اس کی محبت میں وہ بدل رہا تھا اور اس کی محبت اس پر اثر انداز تک نہیں ہو رہی تھی کہ وہ ایک لمحے کیلئے بھی انا اور اپنی ذات کے حصار سے نکلنے کو تیار نہ ہوتی تھی۔ نہ جانے زندگی کس طور پر گزرنی تھی؟
٭٭٭
’’آپی! آپ ٹھیک ہیں ناں؟‘‘ وہ برستی آنکھوں سے اس کا ہاتھ تھامے پوچھ رہی تھی کہ ماہ کنعان نے اسے راستے میں ہی بتا دیا تھا اور وہ اس سے کتنا لڑی تھی کہ اس کی آپی مصیبت میں تھیں اور وہ صرف اس کی وجہ سے اس کے پاس نہ تھی کہ وہ اس کو لے کر نہیں گیا تھا اس نے خاموشی سے اس کا ہر الزام اور طعنہ سنا تھا اور بڑی مشکل سے زرمین کا واسطہ دیکر اسے چپ کروا کر لایا تھا مگر وہ تو بیڈ پر لیٹی زرمین کو دیکھ کر ہی دھواں دھار روتی چلی گئی تھی۔
’’میں ٹھیک ہوں ہنی ٗ تم اس طرح رو کر مجھے تکلیف دے رہی ہو۔‘‘ وہ نقاہت زدہ لہجے میں بولی تھی اور اس نے سرعت سے آنسو پونچھ ڈالے تھے۔
’’آپی میں نہیں روئوں گی آپ جلدی سے ٹھیک ہو جایئے۔‘‘ اس نے زرمین کی پیشانی پر لب رکھے تھے۔
’’آپ لوگوں نے حنین کو کیوں بتا دیا ٗ میں ٹھیک ہوں ٗ فضول میں حنین کو اتنا پریشان کر دیا۔‘‘ وہ دھیمے سے کہہ رہی تھی کہ اسے اس وقت بھی اس کی فکر تھی۔
’’آپی ٗ آپ تکلیف میں تھیں میں کیسے انجان رہتی آپ کی طرح لمحے میں ٗ تو میں آپ کی تکلیف نہ جان سکی لیکن میں رات سے ہی ڈسٹرب تھی ٗ آپ کو کیا ہو گیا تھا؟‘‘ وہ اس کو سیب کاٹ کر دیتے ہوئے بولی تھی اور وہ اسے خاموش نگاہ سے دیکھ رہا تھا کہ اس نے اب تک اسے ناز برداریاں اٹھاتے دیکھا تھا کسی کی پرواہ کرتے پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا اور اس کے دل نے بھی عجب خواہش کر ڈالی تھی کہ وہ اس سے بڑھ کر اس کی فکر کرے ٗ کبھی اسے یوں سیب کاٹ کر دے کہ شادی کے بعد اس نے اب تک کچن میں ہی قدم نہ رکھا تھا اس کیلئے کچھ بنانا تو دور کی بات تھی کہ اس نے تو کبھی ٹرے سے چائے کا مگ اٹھا کر اس کی طرف نہیں بڑھایا تھا۔ سارا التفات ٗ محبت ٗ پرواہ سب اس کی جانب سے ہوتا تھا کہ وہ ناگواری بھلے اب ظاہر نہ کرتی تھی لیکن کبھی بے ساختہ اس کی مانند والہانہ انداز میں بڑھتی بھی نہیں تھی۔‘‘
آپی ٗ میں آپ کے پاس رکوں گی ٗ میں گھر نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ اس کی آواز پر خیال سے چونک کر باہر نکل آیا تھا۔
’’میں کہہ رہی ہوں ناں ٗ تم چلی جائو ٗ پھر آ جانا۔‘‘ وہ زرمین کے کہنے پر نہ چاہتے ہوئے بھی ہاسپٹل میں نہ ٹھہری تھی اور ماہ کنعان نے خود ہی اس سے کچھ پوچھے بنا اسے کاشانہ عالم ڈراپ کر دیا تھا۔
٭٭٭
’’کیا ہوا ہے؟ اتنا موڈ کیوں آف ہے؟‘‘ وہ اسے کاشانہ عالم چھوڑ کر فیصل کے گھر آ گیا تھا۔
’’تو رات بھر پریشان رہا اور مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔‘‘ غصہ سے بولا تھا۔
’’بھابی! کی طبیعت اچانک ہی خراب ہو گئی تھی ٗ مما نے تو گھر میں کسی کو بتایا ہی نہ تھا ٗ وہ تو گاڑی کی آواز اور قدرے شور پر سمیرا کی آنکھ کھلی تو میں مما اور فضیل بھائی کے ساتھ ہاسپٹل چلا گیا تھا۔‘‘
دھیمے سے تفصیل بتائی تھی۔
’’مجھے ایک کال کرتا میں بھی ہاسپٹل پہنچ جاتا۔‘‘ سنجیدگی سے اپنی خدمات پیش کی تھیں۔
’’تیرا خیال آیا تھا ٗ پھر سوچا تجھے پریشان نہ کروں کہ حنین بھی ڈسٹرب ہو جائے گی۔ خیر تو بیٹھ میں سمیرا سے چائے کا کہہ کر آتا ہوں۔‘‘ نرمی سے بات ہی ختم کردی تھی۔
’’نہیں ٗ چائے کا موڈ نہیں ہے کہ مجھے ابھی آفس پہنچنا ہے۔‘‘ رسٹ واچ پر نگاہ ڈالتا کھڑا ہو گیا تھا۔
’’خیر تو ہے ٗ کچھ پریشان لگ رہا ہے؟‘‘ اس کی عجلت فیصل کو پریشان کر گئی تھی۔
’’یار میٹنگ ہے میری ٗ مگر ذہن سے بالکل نکل گیا تھا ٗ ڈیلی گیشن واپس چلا گیا تو ڈیڈ نے اس بار مجھے نہیں چھوڑنا کہ وہ پہلے ہی مجھ پر غصے ہیں۔ ’’والٹ اور گاڑی کی چابی اٹھاتا ہوا بولا تھا۔
’’انکل! کیوں غصے ہیں؟ اب کیا کر دیا تو نے؟‘‘ اس کے ساتھ ڈرائنگ روم سے نکلتے ہوئے استفسار کر گیا تھا۔
’’وہی پرانا مسئلہ کہ میں ان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لوں۔‘‘ وہ چڑے ہوئے انداز میں بولا اور اسی وقت اس کا سیل بجنے لگا تھا۔
’’اوکے! میں ڈیڑھ بجے تک پہنچ جائوں گا۔‘‘ اس نے اپنی سیکریٹری سے کہا تھا جس نے بتایا تھا کہ ڈیلی گیشن کے ساتھ میٹنگ ذوالفقار عابدی نے ایک گھنٹہ آگے بڑھا دی تھی اور اس نے گونا گوں سکون کا سانس لیا تھا کہ وہ آدھے گھنٹے لیٹ ہو چکا تھا۔
’’جبکہ تو جانتا ہے کہ پاکستان میں سیاست کے نام پر جو چور بازاری کا بازار گرم ہے اس کا حصہ بننا ہی نہیں چاہتا۔‘‘ رابطہ منقطع کرکے بات وہیں سے جوڑی تھی جہاں منقطع کی تھی اور فیصل کی بات پر وہ اسے حیرانگی سے دیکھنے لگا تھا۔ ’’او بھائی ٗ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے ٗ کسی کو کیفر کردار تک پہنچانے میں زندگی کے انجام کو نہ پہنچ جائوں جبکہ جانتا ہے کہ جب سے تیری بھابی سے دل لگایا ہے موت سے ڈر لگنے لگا ہے۔‘‘
حیرت سے نکل کر اس کی بات کو مذاق میں اڑا گیا تھا۔
’’بکواس ٗ نہ کیا کر ٗ مریں تیرے دشمن۔‘‘ فیصل نے بری طرح ڈپٹا تھا۔
’’کاش! کبھی اتنی ہی بے قرار سی فکر تیری بھابی میرے لئے دکھائے شوخی سے آنکھ دبائی تھی۔‘‘
’’تجھ پر انکل صحیح ہی غصے رہنے لگے ہیں ٗ عام موضوع میں بھی موصوف عشق کا تڑکہ لگانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے پل پل بدلتے انداز سے خائف ہو کر بولا تھا اس نے بے ساختہ قہقہہ لگایا تھا۔
’’عشق کے بغیر زندگی ادھوری جو ہے میری جان!‘‘ گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا تھا۔
’’اب تو یہاں سے دفع ہو جا کہ رات بھر ہاسپٹل میں خوار ہوا ہوں ٗ کچھ دیر آرام کرکے ٗ بھابی کیلئے سوپ وغیرہ لیکر جائوں گا۔‘‘ اسے اس کی بے وقت کی راگنی بری طرح کھلی تھی اس لئے ناگواری سے کہا تھا۔
’’کہاں ابھی ہمارے دشمنوں کو مرنے کی دعائیں دی جا رہی تھیں اور اب ہم خود ہی دشمن لگنے لگے ہیں۔‘‘ فیصل کی سرخ آنکھوں میں دیکھ ذو معنی لہجے میں بولا تھا اور اس نے محض گھورنے پر اکتفا کیا تو اسے مزید گل افشانیاں کرنے کا موقع میسر آ گیا۔
’’ہمارا دشمن تو ایک زمانہ ہے میری جان! کہ دل تو یہی کرتا ہے صرف میں اور تیری بھابی ہوں اور کوئی نہ ہو۔‘‘
وہ حد درجے جھنجھلا گیا تھا۔
’’سخت چیپ ٗ گھٹیا انسان ہو گیا ہے تو ماہ! تو حنین جیسی معصوم لڑکی کو ڈیزرو کرتا ہی نہیں تھا تجھے تو ملنی چاہئے تھی تیری باتوں سی گھٹیا سہرینہ آفاق جیسی لڑکی۔‘‘ اس کی جھنجھلاہٹ سے وہ حظ اٹھاتا ہنسنے لگا تھا۔
’’ہائے ظالم ٗ کیا یاد دلا دیا! کہہ تو اب کر لوں اس سے شادی کہ وہ کل کی طرح آج بھی میرے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبی میرے پیچھے خوار ہو رہی ہے۔‘‘ وہ کہاں سیریس ہو سکتا تھا وہ بھی فیصل کے سامنے وہ بھی اس وقت جب وہ اس سے بات کرنے کے موڈ میں بھی نہ تھا۔
’’ہاں! کر لے تاکہ ہم تیرے قل کی بریانی کھانے آ جائیں کہ برات و جنازے کا کھانا تو ایک ساتھ ہی نمٹ جائے گا۔‘‘ وہ تپ کر لحاظ کئے بغیر بول گیا تھا۔
’’اوہ! یعنی تو یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ تیری بھابی کو پتا لگا میری شادی کا تو وہ مجھے جان سے مار دیگی تو اس کا مطلب تیری بھابی کی شدت محبت کی پیمائش کو میں سہرینہ کے جذبوں کو خوش آمدید کہنا شروع کر دوں۔‘‘ وہ اس کے لفظوں سے ہی بات کا مفہوم سمجھ کر معنی خیزی سے بولا تھا۔
’’بکواس نہ کر ٗ ایسی بات مذاق میں بھی نہیں کرنی چاہئے اور وہ سہرینہ ٹائپ کی لڑکیاں تیرے لائق بھی نہیں ہیں۔ جن کے جذبوں کی خود انہیں بھی خبر نہیں ہوتی۔‘‘ وہ یکدم سنجیدہ ہو گیا تھا۔
’’ارے میری جان! اتنا سنجیدہ نہ ہو کہ میں مذاق ہی کر رہا تھا کہ تو جانتا ہے سہرینہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ میرے نکاح کے بعد کس طرح کا اس نے سین کری ایٹ کیا تھا بھول گیا میں نے کیسا جواب دیا تھا اسے؟ میں اسے نوکرانی نہ بنائوں بیوی بنانا تو دور کی بات ہے۔‘‘ وہ نخوت سے کہتا چلا گیا تھا۔
’’سب یاد ہے ٗ بس تو اس سے دور ہی رہ کہ اس طرح کی لڑکیاں اکثر انتقام پر بھی اتر آتی ہیں اور اس شام تو نے اس کی انسلٹ بھی بہت کی تھی۔‘‘ وہ اس شام کا منظر یاد کرکے بولا تھا کہ وہ دونوں بیچ پر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھے تھے کہ وہ وہاں چلی آئی تھی اور اپنی محبت کا اقرار کرتی ٗ اسے بے وفا کہہ رہی تھی کہ کنعان نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور وہ حنین سے لاکھ درجے بہتر ہے اور اس کی تمام بکواس خاموشی سے سنتا کنعان اس کی اس بات پر ٹیمپر لوز کرتا اس کے منہ پر طمانچہ لگا گیا تھا اور وہ اول فول بکتی وہاں سے واک آئوٹ کر گئی تھی۔
’’میں نے وہی کیا تھا جس کے وہ لائق تھی کہ سہرینہ جیسی لڑکیاں مجھے کبھی پسند نہیں رہیں ٗ خیر اب میں چلتا ہوں تو بھی آرام کر لے۔‘‘ گھڑی پر نظر ڈالی اور ڈرائیونگ ڈور کھولتا بیٹھتا کہ اس کی بات پر چونک گیا۔
’’میری بات پر سوچنا ضرور ماہ! کہ رسک تو بہت بڑا ہوگا لیکن اگر تو کامیاب ہو گیا تو شاید پاکستان کی سیاست کی ہی قسمت بدل جائے۔‘‘ وہ اس کی فضول گفتگو میں بھی اس اہم موضوع کو یاد رکھے ہوئے تھا اور اپنے دیئے ہوئے مشورے پر اسے غور کرنے کا کہہ رہا تھا۔
’’تو نے کہہ دیا ٗ سمجھ لے میں نے کر لیا۔‘‘ وہ غور کرے بغیر کہتا گاڑی میں بیٹھ گیا تھا اور وہ ابھی سے اس کیلئے دعا گو ہو گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *