Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18

’’اسجد! آخر تم نے سوچا ہوا کیا ہے؟ یہ روز روز تم آفس سے جاتے کہاں ہو؟‘‘ نوید عالم کی بات پر وہ گڑبڑا گیا تھا۔
’’روز کہاں ابو! بس کبھی کبھار دوستوں کی طرف چلا جاتا ہوں۔‘‘ ان کی خشمگیں نگاہیں خود پر جمیں محسوس کرتے ہوئے دھیمے سے کہا تھا کہ خاموش بھی نہیں رہ سکتا تھا۔
’’توقیر کے علاوہ تمہارا کوئی دوست نہیں ہے اور توقیر بھی کچھ ماہ قبل لاہور شفٹ ہو گیا ہے ٗ تو اب یہ نیا دوست کون ہے ٗ منہ سے بتائو گے یا میں کچھ کہوں؟‘‘ اسے اندازہ ہوا تھا کہ وہ اس کی طرف سے اتنے بھی غافل نہ تھے۔
’’ابو! انسان کی کئی مصروفیات ٗ کئی دوست ہوتے ہیں ٗ اب ہر بات ٗ ہر دوست کی تفصیل تو آپ لوگوں کو نہیں دے سکتا۔‘‘ خفت اور دل کا چور چھپانے کو اس نے خفگی و دبے دبے غصے کا سہارا لیا تھا۔
’’تفصیل ہمیں جاننی بھی نہیں ہے ٗ مگر تم یہ مت بھولو کہ تم کوئی چھڑے چھانٹ نہیں ہو ٗ شادی شدہ مرد ہو ٗ اپنی ذمے داریوں کو سمجھو ٗ شادی کو ڈیڑھ سال ہونے کو ہے اور مجال ہے جو ہم نے تمہیں مائدہ بیٹی کو کہیں لے جاتے دیکھا ہو یا اس سے گھر میں ہی سیدھے منہ بات کرتے دیکھ لیا ہو۔‘‘ وہ درشتگی سے کہتے اسے بے طرح چونکا گئے تھے اور اسے رات کی گفتگو یاد آنے لگی تھی کہ مائدہ کو میکے لے کر جانا تھا ٗ مگر وہ بھول گیا تھا اور رات گئے جب وہ اپنی من چاہی بیوی کے ساتھ وقت گزار کر لوٹا تھا ٗ اسے بیٹھے بیٹھے صوفے پر سوتے دیکھ کر شرمندہ ہو گیا تھا کہ اس کی تیاری سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ جانے کو تیار تھی اور انتظار کرتے کرتے ہی سو گئی تھی ٗ وہ تھی بھی گھر میں اکیلی نوید عالم کے کسی جاننے والے کے ہاں شادی تھی ٗ جانا بہت ضروری تھا اس لئے وہ سب وہاں چلے گئے تھے اور اس نے فیور ہونے کی وجہ سے معذرت کی تھی اور راشدہ کی تسلی کیلئے کہ وہ اسے اکیلے چھوڑ کر جانا نہیں چاہتی تھیں ٗ اس لئے اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ الحسن ہائوس چلی جائے گی ٗ اسجد مگر بھول گیا تھا اور فون پر یاد دلانے کے باوجود وہ دیر سے لوٹا تھا کہ اسے اطمینان تھا گھر میں کوئی نہیں ہے اس لئے وہ جواب طلبی سے بچ جائے گا ٗ مگر اپنی اس قدر ناقدری پر وہ ضبط کھو بیٹھی تھی ٗ وہ ہمیشہ کی طرح غصے میں بھی شائستگی کا دامن تھامے رہی تھی اور وہ جو ماں باپ کے ڈر سے آواز نیچی ہی رکھتا تھا ٗ غصے میں آپے سے باہر ہی ہو گیا تھا نہ صرف اس کو اس کی اوقات بتائی تھی بلکہ غصے میں اس کے اپنا قصور پوچھنے کے جرم میں ہاتھ تک اٹھا لیا تھا اور اسے یہی لگا تھا کہ مائدہ نے ہی ان سے کچھ کہہ دیا ہے ٗ جو وہ جواب طلبی کر رہے ہیں ٗ یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ٗ اس کی ساری بکواس ان دونوں میاں بیوی نے اپنے کانوں سے سنی تھی ٗ جہاں اس کی کم ظرفی و بدنصیبی پر غصہ و افسوس ہوا تھا ٗ وہیں مائدہ کا مقام ان کے ذہن و دل میں اور بلند ہو گیا تھا ٗ وہ تو اسی وقت جواب طلبی کرتے کہ راشدہ انہیں زبردستی کمرے میں لے گئی تھیں ٗ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ جس عزت نفس کی حفاظت اور مقام کیلئے وہ ڈیڑھ سال سے اذیت میں تھی ٗ وہ بڑھ جائے اس کا بھرم چکنا چور ہو جائے۔
’’آپ سے مائدہ نے کچھ کہا ہے؟‘‘ لہجے سے زیادہ اس کی نگاہوں میں اشتعال تھا۔
’’اس نے کچھ کہنا ہی ہوتا تو ڈیڑھ سال سے مشق ستم نہ بن رہی ہوتی ٗ ہم سب نے محسوس کیا ٗ دیکھا مگر آنکھوں کے ہوتے ہوئے اس امید پر اندھے بن گئے کہ تم اس لڑکی کو فراموش کرکے ایک دن بیوی کو چاہت سے اپنا لو گے ٗ مگر ہمیں اندازہ بھی نہ تھا کہ تم اس حد تک بھی مائدہ بیٹی کے ساتھ برا کر سکتے ہو۔‘‘ راشدہ نے بھی غصے و ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
’’کیا برا کر رہا ہوں میں آپ کی لاڈلی بہو کے ساتھ؟ اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہوں ٗ اسے کس چیز کی کمی ہے؟‘‘ وہ ادب ملحوظ رکھتے ہوئے ماں سے بولا تھا ٗ ورنہ غصہ تو اتنا آ رہا تھا کہ اگر سامنے اصل فساد کی جڑ ہوتی تو وہ آج تو کچھ کر ہی ڈالتا۔
’’عزت اور محبت کی کمی ہے اسجد! مائدہ دنیاوی آسائشات پر مرنے والی لڑکی نہیں ہے ٗ بیوی ہے تمہاری ٗ اسے چاہت و خلوص تو کیا دیتے اس کے بنیادی و ازدواجی حقوق سے ہی تم نے محروم کر رکھا ہے۔‘‘ اس کے غصے کو محسوس کرتیں وہ بھی اشتعال میں آ گئی تھیں کہ رات سے ہی وہ پریشان تھیں ٗ مائدہ کی تکلیف کا احساس انہیں بے چین کئے ہوئے تھا اسی لئے وہ نرمی کا دامن چھوڑ گئی تھیں اور وہ… اس کا تو غصے سے برا حال ہونے لگا تھا ٗ اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں ٗ اسے مائدہ سے ایسی امید نہیں تھی کہ وہ ان کے آپسی تعلقات کی کمیاں ٗ محرومیاں سب سے کہہ دے گی ٗ اس نے ماں سے بے ساختہ ہی نظریں چرائی تھیں ان کی ملامتی نگاہیں اسی پر جمی تھیں۔
’’اور آفرین ہے اس بچی پر جس نے اف تک نہ کیا ٗ نہ رویے سے نہ انداز اور نہ ہی زبان سے کبھی کچھ کہا نہ اظہار کیا۔‘‘ ان کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی تھی۔
’’اس نے کچھ نہیں کہا تو آپ لوگوں پر نعوذ باللہ وحی نازل ہو گئی ہے؟ ہمارے آپسی تعلقات کیسے ہیں یہ آپ لوگوں کو کیسے پتہ چلا؟‘‘ وہ اپنی خجالت و شرمندگی مٹانے کو غصے کا اظہار کر رہا تھا۔
’’رویے بہت کچھ سمجھا دیتے ہیں اسجد! مگر ہم نے آنکھوں دیکھی مکھی نگلی ٗ تم پر بھروسہ کیا ٗ تم سے آس لگائی جو ان کے مفہوم و مطالب بھی نہیں جانتا ٗ مگر ہم تمہیں بہت کچھ سمجھا چکے ٗ بہت ڈھیل دے چکے فیصلہ کر لو آج ابھی اسی وقت کہ تم نے مائدہ کے ساتھ زندگی گزارنی ہے یا نہیں؟‘‘ وہ غصے سے پھنکارے تھے۔
’’یہ سوال بہت جلد نہیں پوچھ لیا آپ نے؟‘‘ اس نے طنز سے ہنکارا بھرا تھا۔
’’میں اب تک مجبوری میں آدھے ادھورے نام نہاد رشتے نبھاتا رہا ہوں جبکہ مائدہ سے مجھے نہ کل دلچسپی تھی ٗ نہ آج ہے اور نہ ہی میرا ارادہ ہے ٗ فیصلہ لیکن میں نے نہیں آپ نے کرنا ہے کہ شادی زبردستی کروائی تھی اب اس کو خود ہی انجام دے دیں گے تو اچھا ہوگا۔‘‘ وہ ہر لحاظ بالائے طاق رکھتا صاف گوئی کی انتہائوں کو پہنچا ہوا تھا۔
’’ہاں کرنا تو مجھے ہی کچھ پڑے گا ٗ مگر تم اس غلط فہمی میں مت رہنا کہ تم مائدہ بیٹی کی زندگی برباد کرکے اس لڑکی کو جسے چاہتے ہو آباد کر لو گے ٗ مائدہ سے نہیں اس گھر سے ٗ ہم سب سے تمہارا رشتہ ختم ہوگا ٗ تمہیں میں عاق کر دوں گا کہ اس گھر کی بہو صرف مائدہ ہے اور میری آخری سانس تک وہی رہے گی۔‘‘ وہ کف اڑا رہے تھے اور وہ مارے تذلیل و اہانت کے سلگ اٹھا تھا جبکہ وہ ایک قہر آلود نگاہ اس پر ڈالتے وہاں سے نکلتے چلے گئے تھے۔
’’امی! آپ ابو سے کہہ دیجئے گا انہوں نے جو کرنا ہے کر لیں کہ میں مائدہ کو نہیں اپنانے والا اور مجھے ضرورت بھی نہیں ہے میں جسے چاہتا تھا شادی کر چکا ہوں اور مجھ میں اتنا دم ہے کہ یہاں سے نکل کر نوید عالم کے عاق کر دینے پر نہ خود بھوکا مروں گا نہ بیوی اور بیٹی کو ماروں گا۔‘‘ جبکہ وہ اس کی باتوں میں ہونے والے انکشاف پر ہی اٹک گئی تھیں۔
’’مائدہ سے شادی سے 2 ماہ قبل میں نے یسریٰ سے شادی کر لی تھی ٗ اب تو میری ایک 2 ماہ کی بیٹی بھی ہے ٗ بتا دیجئے گا ابو کو اور وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے تو میں یہاں سے ہمیشہ کیلئے چلا جائوں گا ٗ مگر ان کی لاڈلی بھتیجی و بہو کو اب آزاد تو کسی صورت میں نہیں کروں گا اور جتنی تذلیل اس کے سبب میری ہوئی ہے سود سمیت بدلہ نہ لیا تو میرا نام بھی اسجد عالم نہیں۔‘‘ وہ انکشاف کے صدمے سے نہ نکلی تھیں کہ اس کی دھمکی ٗ آنکھوں سے نکلتے شعلے وہ یکدم ہی دہل گئی تھیں۔
’’تم یہ ہمیشہ یاد رکھنا اسجد! مائدہ تم باپ بیٹے کی ضد و غصے میں بے قصور ہی پس رہی ہے ٗ وہ معصوم سیدھی بچی اس نے ہم سے ایک لفظ نہیں کہا ٗ ہم نے ساری حقیقت اپنے کانوں…!‘‘ وہ کہہ رہی تھیں مگر وہ رکا کب ٗ گھر سے ہی نکل گیا تھا اور ماں کو ساری حقیقت بتا چکا تھا ٗ اس لئے اب اسے کسی بات کا ڈر بھی نہ تھا کہ وہ فیصلہ بھی کر چکا تھا ٗ یسریٰ کے ساتھ مستقل رہنے اور مائدہ کو اذیت بھری نا آسودہ زندگی دینے کا فیصلہ ٗ اس لئے وہ رات گھر نہیں آیا تھا ٗ دوسرے دن ماں کے فون کرنے پر وہ منہ بنائے جس وقت گھر میں داخل ہوا تھا ٗ گھر میں صرف حنین اور مائدہ ہی تھیں وہ دونوں بہنیں اور نوید عالم کچھ گھنٹے قبل ہی اپنی خالہ کی میت میں نوابشاہ چلے گئے تھے۔ مجبوراً اسے ہی کال کرکے گھر پہنچنے کو کہا تھا کہ انہیں واپسی میں دیر بھی ہو سکتی تھی۔ ایسے میں مائدہ اور حنین گھر میں اکیلے نہیں رہ سکتی تھیں ٗ راشدہ نے تقریباً دن کے ڈھائی بجے اسے فون کیا تھا ٗ مگر وہ رات کے 9 بجے گھر میں داخل ہوا تھا۔ مائدہ آنے والے بے رحم وقت سے انجان اپنی سادگی اور معصومیت کے ساتھ اس کے سامنے تھی۔
’’کھانا لے آئوں آپ کیلئے؟‘‘ اس کے پاس گھر کی چابی تھی ٗ وہ لاک کھول کر کب آیا تھا وہ اس لئے انجان تھی کہ وہ حنین کے کمرے میں تھی ٗ دونوں نے مل کر انڈین مووی ’’من‘‘ دیکھی تھی جو مائدہ کی پسندیدہ فلم تھی جو وہ کئی بار دیکھ چکی تھی ٗ مگر جیسے اس کا دل ہی نہیں بھرتا تھا ٗ سچی ٗ بے لوث محبت اس کے دل کی محرومیوں کو بڑھا دیتی تھی ٗ مگر وہ اپنی زندگی سے مایوس نہ تھی کہ اس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ رکھا تھا اور اللہ نے ہی اس کی زندگی میں مزید مشکلات رکھی تھیں کہ کچھ لوگ بہت بانصیب بھی ہوں تو آزمائش کی بھٹی سے گزرتے ہیں۔
اپنے خیالوں میں گم اسجد آواز پر چونکا اور اسے دیکھ کر اسے اپنی کل کی بے عزتی ٗ ماں باپ کی نگاہوں میں ناچتی نفرت و حقارت یاد آئی تھی۔ اس کی آنکھیں یکدم ہی سرخ ہوئی تھیں۔
’’تم نے امی ابو سے کیا بکواس کی ہے؟‘‘ کڑے تیوروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ٗ وہ پریشان ہوئی تھی کہ کسی بھی بات کا اس کے فرشتوں کو بھی پتہ نہ تھا کہ کل لنچ ٹائم میں راحم اسے گھر لے گیا تھا اور آج چھوڑ گیا تھا وہ زیادہ تر میکے بھائیوں کے آسرے پر ہی جایا کرتی تھی ٗ وہی لانے لے جانے کی ذمے داری اٹھائے ہوئے تھے ٗ انہیں برا لگتا بھی تھا تو وہ بہن کا منہ دیکھ کر خاموش رہتے تھے اور ان کی خاموشی میں فریدہ کا سارا ہاتھ تھا کہ وہ کچھ نہ جانتے ہوئے بھی اپنی ممتا کے محسوسات کے ساتھ اس کے بھرم رکھنے کے مشن میں نہ صرف خود شامل ہوئی تھیں ٗ شوہر اور بیٹوں کو بھی کر لیا تھا۔
’’نہیں ٗ میں نے تو بڑی مامی اور ماموں جان سے کچھ نہیں کہا ٗ مگر میں سمجھی نہیں کہ آپ بات کس بارے میں کر رہے ہیں؟‘‘ وہ اس کے لہجے و گھورتی آنکھوں سے خائف ہوتی دھیمے لہجے میں بولی تھی۔
’’شٹ اپ مائدہ! بہت بن چکیں تم معصوم مگر مزید نادان و انجان بننے کی کوشش کی تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔‘‘ وہ اس کے قریب آتے ہوئے دھاڑا تھا ٗ وہ بے ساختہ لرز کر کچھ قدم دور ہوئی تھی ٗ اس کی آنکھوں سے نکلتے شعلے ٗ لبوں سے اگلتے انگارے اس کا چہرہ زرد کر گئے تھے کہ وہ پرسوں رات کی بے عزتی بھولی نہیں تھی ٗ زندگی کا پہلا تھپڑ اس بے صبر اور سنگدل شخص کے ہاتھوں کھا چکی تھی اور گھر میں کسی بڑے کا نہ ہونا اس کے اوسان خطا کر دینے کو کافی تھا ٗ وہ اس بے حس ٗ غصیلے شخص سے کچھ کچھ واقف ہو ہی گئی تھی ٗ وہ غصے میں تو کچھ سوچتا ہی نہ تھا کہ اپنے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں اشتعال کی نظر کر دیتا تھا۔
’’جواب دو مجھے تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ہمارے آپسی تعلقات کی نوعیت ابو اور امی کو بتانے کی؟‘‘ اس نے لرزتی ہوئی مائدہ کا بازو جکڑا تھا اس کی چیخ کیا نکلی تھی ٗ اس کا اشتعال دگنا ہو گیا تھا۔
’’میں نے سچ میں کسی سے کچھ نہیں کہا ٗ آپ میرا ہاتھ چھوڑیں ٗ مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔‘‘ رخساروں پر موتی گرنے لگے تھے اور وہ منمنائی تھی کیونکہ اس کی انگلیاں اسے اپنے بازو میں گڑھتی محسوس ہو رہی تھیں ٗ اس کی گرفت اشتعال آمیز و جارحانہ تھی۔
’’جھوٹ بولو گی تو یہیں کھڑے کھڑے زمین میں گاڑھ دوں گا۔‘‘ وہ نفرت سے کہہ اٹھا تھا۔
’’بنتی تو کتنی بھولی اور ایثار پسند ٗ مشرقی عورت ہو اور جب تمہاری مشرقیت اور بھرم رکھنے کی ادائیں کہاں مر گئی تھیں جب تم ہمارے ازدواجی تعلقات کی نوعیت ابو کو بتا رہی تھیں؟‘‘ حقارت سے کہتے ہوئے اشتعال آمیز تاثرات کے ساتھ اس کے بازو کو جھٹکا دیا تھا۔
’’پہلے ہی کہا تھا ناں میں نے تو ٗ کہ میری قربت کی خواہش ہے تو مجھ سے کہو ٗ یہ چور دروازے تلاش کرکے سر عام اشتہار لگا کر تم ثابت کیا کرنا چاہتی ہو؟‘‘ الزامات کی بھی کوئی انتہا تھی ٗ وہ کھڑے کھڑے اسے ذلت کے پاتال میں اتار گیا تھا۔
’’زبان سنبھال کر بات کریں اسجد! میں کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی میں نے چور دروازے ڈھونڈے ہیں ٗ اللہ گواہ ہے آپ کے پیرنٹس تو کیا میں نے کبھی اپنے پیرنٹس کو بھی کچھ نہیں بتایا کہ میں اتنی بے حیا نہیں ہوں کہ اتنی گھٹیا باتیں اپنے بزرگوں سے کرتی پھروں ٗ آپ اپنے دماغ کا علاج کروائیں ٗ الزامات کی، خوش فہمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے اپنا بازو آزاد کرواتی شدتوں سے روتی کہہ رہی تھی ٗ آج تو اس نے ڈیڑھ سالوں میں کی توہین کو تین سے ضرب دے کر اسے اتنا ذلیل کر ڈالا تھا کہ اس کے وجود میں کانٹے اگ آئے تھے اور وہ چیخ پڑی تھی ٗ غصے سے اسے دیکھ رہی تھی جو اس قابل تھا ہی نہیں کہ وہ اپنے سچے جذبات اس کے نام کرتی اس کے دل میں موجود اس کی محبت پھڑپھڑانے لگی تھی ٗ آزادی کی التجا کرنے لگی کہ محبت بھی اتنی ذلت کہاں سہہ پاتی ہے۔
’’مجھے آپ کی قربت کی خواہش کبھی نہیں رہی اور آپ کو یہ خوش فہمی لاحق ہوئی بھی تو کیسے ٗ بتایئے مجھے کب میں آپ کے آگے بن ٹھن کے پھری؟ کب آپ کو اپنی ادائوں سے لبھایا؟ آپ نے اگر مجھے دھتکار دیا تو میں نے بھی آپ کو پانے ٗ حاصل کرنے کی کوشش نہ کی کہ مجھے اپنی عزت نفس اور انا دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر عزیز ہے اور میں اپنے مقام سے نہیں گر سکتی ٗ آپ مجھے اپنی طرح گرا ہوا نہ سمجھیں کہ جب میں نے اپنے جائز مطالبات کیلئے آپ کے آگے آواز بلند نہ کی تو چور دروازے ڈھونڈنے کی بھی مجھے کوئی ضرورت نہیں ٗ اگر میں آپ کیلئے غیر اہم ہوں تو آپ بھی میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ٗ آپ اگر مجھے بیوی نہیں سمجھتے تو مجھے بھی آپ کو زبردستی اپنا شوہر بنانے کی کوئی ضرورت نہیں میں یہاں صرف اپنے پیرنٹس کیلئے ہوں ان کو دکھ سے بچانے کیلئے مجبوری کے آدھے ادھورے رشتے نبھا رہی ہوں ٗ لیکن اب مزید نہیں کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے ٗ میں اب یہاں آپ کے ساتھ آدھے ادھورے رشتے جوڑ کر نہیں رہوں گی ٗ چلی جائوں گی میں یہاں سے۔‘‘ وہ رو رہی تھی ٗ سسک رہی تھی ٗ بے تاثر نگاہوں سے اس کے لہو رنگ چہرے کو دیکھ رہی تھی ٗ یکدم وہاں سے جانے کو پلٹی تھی وہ وہاں سے اس شخص کے سامنے سے اس کی نفرت و حقارت بھری تذلیل چھلکاتی نگاہوں سے دور چلی جانا چاہتی تھی۔
’’تم یہاں سے جانا تو دور سوچ بھی نہیں سکتیں کہ میں تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا۔‘‘ اس نے اس کی گلابی چوڑیوں سے سجی دودھیا نرم کلائی تھام کر اسے اپنی اور کھینچا تھا اور اس کی سرخ نمناک آنکھوں میں جھانکتا کہہ رہا تھا۔
’’تم نے نہیں کہا کچھ ٗ میں نے نہیں بتایا کچھ ٗ ان لوگوں کو کیسے معلوم ہوا؟ اور یہ سلسلہ آگے بڑھے مجھ پر میری مردانگی پر سوال اٹھیں ٗ اس سے پہلے ہی مجھے اس سارے قصے کو ختم کرنا ہوگا۔‘‘ اس کا سرد لہجہ اس کے وجود میں سنسنی سی دوڑا گیا تھا اس نے چند قدم پیچھے لے کر اس سے فاصلہ قائم کیا تھا ٗ کلائی آزاد کروانا چاہی تھی مگر اس کی گرفت بھی بلا کی مضبوط تھی اور اس کی نازک گلابی کانچ کی چوڑیاں اس کی گرفت کی نظر ہونے لگی تھیں۔
’’نہ خواہش تمہیں ہے ٗ نہ کوئی آرزو میرے دل میں پنپ رہی ہے ٗ مگر وہ کہتے ہیں ناں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے ٗ وقت حسین ہے ٗ رات بھی خوبصورت ہے ٗ تم بھی جواں ہو حسیں ہو ٗ کچھ میں بھی تو اس معصوم حسن کے جلوے دیکھ لوں ٗ کچھ اپنے کمالات دیکھ لوں کہ قربتیں ضروری تو نہیں ناں کہ ہمیشہ من چاہی ہوں۔‘‘ وہ اس کے لفظوں پر غور کرتی اس کی جسارتوں پر بند باندھتی ٗ لرزتی ٗ سسکتی اپنی پوری جان لگا کر اپنی کلائی آزاد کرواتی دروازے کی طرف بڑھی تھی کہ اس نے اسے بازو سے تھام کر بیڈ کی طرف دھکیل دیا تھا ٗ وہ اوندھے منہ بیڈ پر گری تھی ٗ مگر اس کی حسیات بڑی تیزی سے کام کر رہی تھیں ٗ وہ لمحے کے ہزار ویں حصے میں سیدھی ہوئی تھی اور اس کو دیکھنے لگی تھی ٗ جس نے شرٹ کے بٹن کھولے بنا دونوں ہاتھوں سے شرٹ کی بٹن پٹیوں کو یوں کھینچا تھا کہ سارے بٹن ٹوٹ کر بکھر گئے تھے اور اس نے شرٹ اتار کر صوفے پر اچھال دی تھی ٗ وہ اس کے تیوروں سے خوفزدہ ہوتی بیڈ سے اتری تھی۔
’’دل میں تمہارے لئے جگہ نہیں تو کیا ہوا مائدہ! تمہیں اپنے پہلو میں تو جگہ دے ہی سکتا ہوں کہ بات اب مردانگی تک جا پہنچی ہے اور کیا پتہ تم ادائیں دکھائو تو میں تم پر تمہارے اس سادہ حسن پر دل بھی وار دوں۔‘‘ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ لگ رہا تھا ٗ اس پر خود کو برتر ثابت کرنے کی دھن سوار ہو گئی تھی ٗ وہ اپنے معیار اور اخلاقیات سے نیچے گر گیا تھا اور وہ خود کو پاتال میں دھنستا محسوس کرنے لگی تھی ٗ اس کی مضبوط گرفت میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی رہائی کیلئے فریاد کناں ہو گئی تھی۔
’’پلیز اسجد! آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ٗ چھوڑ دیں مجھے ٗ جانے دیں خدا کیلئے ٗ میں مر جائوں گی ٗ یوں میری تذلیل نہ کریں ٗ میری نسوانیت تار تار نہ کریں۔‘‘ وہ رو رہی تھی ٗ سسک رہی تھی ٗ مگر وہ جیسے آنکھوں کے ہوتے اندھا ہو گیا تھا ٗ اس کی بے بسی اس کی تڑپ نہیں دیکھ سکتا تھا ٗ کانوں کے ہوتے بہرہ ہو گیا تھا کہ اس کی فریاد اس کا بلکنا ٗ التجائیں کرنا کچھ بھی اس کے کانوں تک نہیں جا رہا تھا کہ اس کے تمام احساسات ہی فی الوقت مردہ ہو چکے تھے ٗ اس کو صرف اپنی مردانگی ثابت کرنی تھی اور اس سب میں وہ اس کانچ سی حساس لڑکی کو پتھر بنا گیا تھا اس کی سسکیاں دم توڑنے لگی تھیں اور پھڑ پھڑاتی محبت دم آخر کو پہنچ کر جان کنی کے سخت مرحلے سے گزرنے لگی تھی ٗ محبت پر چڑھی حسین قبا بدنما ہو گئی تھی ٗ تار تار ہو گئی تھی ٗ روح بے قبا ہو گئی تھی اور اس تار تار قبا سے اس کے آنسو پھسلتے جا رہے تھے کہ جسم کی بے قبائی تو سب دیکھ لیتے ہیں مگر روح سے قبا چھین بھی لی جائے تو سب انجان ہی رہتے ہیں کہ روح کی بے قبائی دیکھنے کو حساس دل ٗ شفاف آنکھیں چاہئے ہوتی ہیں اور بھرے شہر میں اجنبیوں اور اپنوں کے جھمگٹے میں اس کو کوئی ایسا نظر نہیں آتا تھا ٗ جو اس کی روح کو قبا عطا کرکے پھر سے زندہ کر دیتا۔
ہم نے تو تصور بھی نہ کیا تھا جاناں!
کہ جب احساسات کی بند قبا کھلنے لگے گی
ہم اند رسے فنا ہو جائیں گے
جسم پر تو سجی ہو گی اطلس و کمخواب کی قبا
مگر روح بے قبا ہو جائے گی
ہمارے احساسات ٗ ہمارے جذبات جاناں
ہماری زیست ٗ ہماری خواہشات جاناں
روح کی بے قبائی پر خون روتی ہیں
اس طرح کھلتی ہے محبت کی بند قبا جاناں
تو کبھی نہ کھلتی بند قبا جاناں!
ہم حبس و نفرت کی سیاہ قباہی پہنے رہتے
روح تو نہ ہوتی بے قبا جاناں!
کبھی نہ ملتی احساس کو قبا جاناں
کبھی نہ کھلتی احساس کی بند قبا جاناں!!
٭٭٭
’’پاپا! میں مائدہ… مجھے آپ کی ضرورت ہے پلیز آپ مجھے آکر لے جائیں۔‘‘ اس کی بھیگی درد میں ڈوبی آواز ڈرائیونگ کرتے یوسف الحسن کو پریشان کر گئی تھی اور انہوں نے جیسے ہی گاڑی بیک کی تھی ٗ فریدہ انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی تھیں۔
’’مائدہ کا فون تھا ٗ کچھ پریشان لگ رہی تھی اور رو بھی بہت رہی تھی۔‘‘ انہوں نے دھیمے سے کہا تھا اور وہ مضطرب ہو گئی تھیں۔
’’مائدہ نے آپ سے کچھ تو کہا ہوگا؟‘‘ ان کا دل تو کل سے ہی گھبرا رہا تھا اور بار بار نجانے کیوں بیٹی کا ہی خیال آ رہا تھا اور مجبوری سی مجبوری تھی کہ وہ خالہ کی فوتگی میں نواب شاہ گئی ہوئی تھیں ٗ اس لئے بیٹی سے رابطہ بھی نہ کر سکی تھیں اور راستے میں ہی تھیں کہ ان کی گھبراہٹ کا سبب مل گیا تھا۔
’’نہیں اس نے کچھ نہیں کہا اس کی آواز بہت بھاری ہو رہی تھی ٗ جیسے وہ روتی رہی ہو۔ میرا دل بیٹھ رہا ہے کہ نجانے کیا ہو گیا ہے بھائی صاحب اور بھابی بھی گھر میں نہ تھے ٗ آج کل حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں آپ بس دعا کریں کہ ہماری بیٹی خیریت سے ہو۔‘‘ وہ دونوں ہی پریشان اور دل میں ہزار خدشے لئے جس پل کاشانہ عالم پہنچے وہ لوگ انہیں دیکھ کر پریشان ہو گئے تھے کہ ان کی گاڑیاں آگے پیچھے ہی تو نوابشاہ سے کراچی پہنچی تھیں۔
’’مائدہ کہاں ہے بھابی؟‘‘ انہوں نے چھوٹتے ہی راشدہ سے پوچھا تھا۔
’’کچھ دیر پہلے ہی ہم پہنچے ہیں ٗ مائدہ سے تو ملے بھی نہیں ہیں ٗ اپنے کمرے میں ہو گی ٗ تم آرام سے بیٹھو! میں حنین سے کہہ کر بلوا لیتی ہوں اسے یہیں پر۔‘‘ راشدہ سادگی سے بتاتے ہوئے حنین کو دیکھ کر بولی تھیں ٗ مگر انہوں نے حنین کو روکا تھا اور کھڑی ہو گئی تھیں۔
’’میں خود دیکھ لیتی ہوں۔‘‘ اب تو وہ تینوں بھی پریشان ہو گئے تھے۔
’’بات کیا ہے فریدہ! سب خیریت تو ہے؟‘‘ نوید عالم پریشانی سے پوچھ رہے تھے تب انہوں نے مائدہ کے فون کا بتایا اور مائدہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں اور راشدہ بھی ان کے پیچھے ہی حیران پریشان سی بڑھی تھیں اور باقی رہ جانے والے یوسف الحسن اور نوید عالم کی نگاہیں حنین پر جم گئی تھیں کہ گھر میں وہی تو تھی ٗ مگر اس نے نگاہیں چرائیں اور وہاں سے نکل گئی۔ فریدہ نے دروازے پر دستک دی تھی اور کوئی جواب نہ پاکر آواز لگائی تھی ٗ ماں کی آواز سن کر اس نے دروازہ کھولا تھا ٗ ماں کے سینے سے لگی جو رونا شروع ہوئی تھی ان دونوں کی ہی جان نکال لے گئی تھی۔
’’مائدہ! میری جان! کیا ہوا ہے ٗ کیوں اس طرح رو رہی ہو ٗ بتائو مما کو؟‘‘ وہ بہت مشکل سے پوچھ رہی تھیں کمرے کی حالت بھی ابتر تھی اور وہ یوں ٹوٹی بکھری لگ رہی تھی کہ فریدہ کا کلیجہ منہ کو آنے لگا تھا۔
’’مما! پلیز مجھے یہاں سے لے جائیں۔‘‘ وہ سسکیوں کے درمیان بولی تھی وہ بھابی کو دیکھنے لگی تھیں کہ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھیں اور راشدہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی بہت کچھ سمجھ رہی تھیں ٗ اس لئے ان کی پریشانی فریدہ سے سوا تھی کہ ان کے اندازے فی الحال معمولی تھے اور جس نہج پر جا کر وہ سوچ رہی تھیں ٗ قدموں تلے سے زمین سرکتی محسوس ہو رہی تھی۔
’’مائدہ بیٹا! رو نہیں اور تسلی سے بتائو کہ بات کیا ہے؟ کیا اسجد سے جھگڑا ہوا ہے؟ اس نے کہا تم سے کچھ؟‘‘ وہ اس کے چہرے پر آئے نم بالوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے بولی تھیں۔
’’مما! اس شخص نے کچھ نہیں بہت کچھ کہا ٗ میری ذات کا غرور چھین لیا ٗ میں مر رہی ہوں مما! اس کمرے میں مجھے اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا ہے ٗ مگر میں یہاں مرنا نہیں چاہتی ٗ مجھے یہاں سے لے جائیں ٗ مجھے یہاں مرنے سے بچا لیں مما!‘‘ وہ بولی نہیں تھی اپنی اذیت کا کچھ حصہ بیان کرتی ان دونوں کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لے گئی تھی اور وہ یوں بکھر کر تڑپ تڑپ کر روئی تھی کہ سنگدل سے سنگدل بے مہر سے بے مہر پتھر کا سینہ شق ہو جاتا اور وہ تو پھر ماں تھیں ٗ اس کو خود سے لگائے رونے لگی تھیں ٗ راشدہ نے اگر دیوار کا سہارا نہ لیا ہوتا تو وہ پورے قد سے نیچے آ گرتیں یہ اور بات تھی کہ وہ اپنی نظروں سے ہی گر گئی تھیں اور وہ ماں کے سینے سے لگی روتے بلکتے اپنے حواس کھونے لگی تھی ٗ ان دونوں کے ہی اس کے بے ہوش وجود کو دیکھ کر ہاتھ پائوں پھول گئے تھے اور وہ سب ہی ہاسپٹل کے کاریڈور میں پریشانی سے کھڑے تھے اور اس کی زندگی کیلئے دعا گو تھے ٗ جو زندہ رہنے کی ہر آس ٗ ہر چاہت کو ہی رات کی سیاہی میں دفنا چکی تھی ٗ اس کے اعصاب بکھر گئے تھے اس کا نروس بریک ڈائون ہوا تھا ٗ گیارہ گھنٹوں سے وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی ٗ سب اس کی حالت سے پریشان اس کا سبب جاننا چاہتے تھے اور راشدہ نے روتے ہوئے خون ہوتے دل ٗ مٹی میں مل جانے والی تربیت کی تکلیف کو بھلائے اس باوقار و انا پسند ٗ بھرم رکھتے رکھتے بکھر جانے والی لڑکی کا بھرم سب کے سامنے رکھ لیا تھا ٗ اس کی ذات کو تشہیر سے بچا لیا تھا ٗ اسجد اپنے عمل پر نادم نہ تھا ٗ وہ خود کو غلط نہیں سمجھ رہا تھا ٗ مگر جب اسے مائدہ کے ہاسپٹل میں ہونے کا پتہ چلا تھا ٗ ندامت کا احساس اس کے ہر احساس پر حاوی ہو گیا تھا اور اسی کے زیر اثر اس نے اپنا بھرم بھی تو رکھنا تھا ٗ ہاسپٹل پہنچا تھا ٗ نوید عالم نے کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر اس پر ہاتھ اٹھایا تھا اور وہاں سے دفع ہو جانے کو کہا تھا ٗ اس کی ندامت پر ہونے والی بے عزتی حاوی ہو گئی تھی اور وہ وہاں ٹھہرا نہ تھا اس کو دیکھ کر فریدہ اور یوسف الحسن نے کسی قسم کا ری ایکشن ظاہر نہیں کیا تھا کہ ان کی حسیات تو بیٹی کی جانب مرکوز تھیں ٗ ان کا تو رواں رواں اس کی صحت یابی کیلئے دعا گو تھا ٗ گیارہ گھنٹے چوبیس گھنٹوں میں منتقل ہو گئے تھے ٗ ارحم الحسن بھی پنڈی سے آ گیا تھا اور ان سب کی دعائیں ہی تھیں کہ روح کے مردہ ہو جانے کے باوجود اس کے وجود میں زندگی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی موت کو شکست دے گئی تھی کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
٭٭٭
’’مما! اس سب کی ذمے دار صرف آپ ہیں ٗ آپ سے کتنی بار کہا تھا ناں میں نے کہ مائدہ کچھ پریشان لگتی ہے ٗ وہ شادی کے بعد خوش نہیں ہے ٗ اس نے ہنسنا مسکرانا چھوڑ دیا ہے ٗ وہ اداس رہنے لگی ہے ٗ مگر آپ نے میرا وہم کہہ کر ٹال دیا ٗ نہ آپ نے خود بات کی نہ مجھے کرنے دی ٗ اسجد نے میری بہن کی زندگی تباہ کر دی اور میں اب کسی کا بھی منہ دیکھ کر خاموش نہیں رہوں گا ٗ اسجد کو جواب دینا ہوگا کہ اس نے جب شادی کی ہوئی تھی تو مائدہ سے شادی کیوں کی؟ کیوں میری بہن کو موت کے دہانے تک لے گیا اور باخدا میری بہن کو کچھ ہوا تو میں اسجد کو جان سے مار دوں گا۔‘‘ وہ بہن کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھا تھا کہ وہ شخص رشتوں سے محبت کرنے ان کا احترام کرنے والا تھا ٗ خود سے وابستہ کسی بھی انسان کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا اور مائدہ کیلئے تو وہ پریشان رہا تھا ٗ ماں سے اپنی پریشانی بانٹی بھی تھی ٗ خود مائدہ سے پوچھا تھا مگر کہیں سے بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تھی ٗ اب انکشاف ہوا تھا کہ مائدہ سے شادی سے پہلے اس نے شادی کی ہوئی تھی ٗ اس کی ایک بیٹی بھی ہے اور یہی انکشاف مائدہ کو موت کے دہانے تک لے گیا۔ راشدہ کے علم میں یہ بات تھی مگر انہیں کیا پتہ تھا کہ جو بات وہ کسی کے سامنے کہہ نہیں پا رہیں ٗ وہ سب کو نہ صرف بتائیں گی بلکہ اس کے ذریعے ہی کتنے لوگوں کا بھرم رہ جائے گا۔
’’پلیز ارحم! کچھ الٹا سیدھا مت کر بیٹھنا کیوں کہ میں پہلے ہی پریشان ہوں۔‘‘ ماں کو روتے دیکھ کر وہ نرم پڑ گیا تھا۔
’’آئی ایم سوری مما! بٹ مائدہ کی حالت مجھ سے نہیں دیکھی جاتی ٗ اس کے ہم سب مجرم ہیں ٗ وہ دکھی تھی ٗ پریشان تھی اور ہم سب اپنی زندگی میں مگن رہے۔‘‘ اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
’’میں اپنی زندگی میں مگن نہیں تھی ٗ مائدہ نے مجھ سے کچھ نہیں کہا تھا ٗ میرے پوچھنے پر بھی نہیں ٗ اس نے مجھ سے صرف اتنا کہا تھا (مما! آپ کے محسوسات غلط نہیں ہیں ٗ میں خوش نہیں ہوں ٗ لیکن میں خدا کی ذات سے مایوس نہیں ہوں ٗ مجھے یقین ہے کہ میری زندگی سہل ہو جائے گی اور جب مجھے یقین ہے تو کیوں میں اشتہار لگا کر سب کی ہمدردیاں سمیٹوں کہ مجھے اپنی انا بہت عزیز ہے ٗ کوئی مجھ سے سوال کرے ٗ یہ مجھے نہیں پسند اور بتانے سے تکلیف راحت تو نہیں بنے گی ناں ٗ اس لئے میرا بھرم قائم رہنے دیں ٗ نہ آپ سوال کریں نہ کوئی اور… ارحم بھیا سے بھی کہہ دیں کہ میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں اور میرے نصیب میں خوشیاں ہوں گی تو وہ بھی مل جائیں گی کہ مکمل جہان تو کسی کو بھی نہیں ملتا) اور بس اسی لئے میں خاموش رہی ٗ تمہیں بھی رہنے کو کہا کہ مائدہ بہت حساس لڑکی ہے ٗ اپنی عزت نفس اور وقار اسے ہمیشہ عزیز رہا ٗ اسجد کا رویہ ٹھیک نہیں تھا ٗ توجہ ٗ محبت کچھ نہیں دیا اس نے ٗ مگر وہ سہہ گئی مگر یہ نہ سہہ سکی کہ اس کا شوہر ہی اس کا نہیں ہے۔‘‘ وہ بیٹے کے کاندھے سے لگیں بری طرح رو رہی تھیں ٗ وہ احساس جو وہ کبھی بیٹے سے تو کیا شوہر سے بھی نہیں کہہ سکتی تھیں ٗ وہی احساس ان کو خون کے آنسو لا رہا تھا ٗ بیٹی کی ناقدری پر وہ تڑپ رہی تھیں ٗ مگر کہہ نہیں سکتی تھیں۔
٭٭٭
’’تڑاخ…!‘‘ اسجد تو اس کو اپنے فلیٹ پر دیکھ کر ہی حیران تھا کہ اس کے عمل پر ساکت رہ گیا تھا۔
’’تھپڑ میں نے تمہیں مائدہ کا بھائی بن کر نہیں مارا ہے کہ اس کا بھائی بن کر تم سے جواب طلبی کرنے پر آئوں ٗ تو تمہیں جان سے ہی مار دوں۔‘‘ وہ بہت اذیت زدہ لہجے میں کہتا اس کو ہی نہیں یسریٰ کو بھی ششدر کر گیا تھا۔
’’تم پر کتنا بھروسہ کیا تھا اسجد! اور تم نے ہم سب کا بھروسہ توڑ دیا۔‘‘ کہتے ہوئے نگاہ یسریٰ پر پڑی تھی۔
’’یہی لڑکی تھی ناں جس کا ایکسیڈنٹ تمہاری گاڑی سے ہوا تھا ٗ تم اس کیلئے کتنا پریشان تھے ٗ میرے ذہن میں کتنے ہی سوال اٹھے تھے ٗ مگر تم پر شک نہیں کیا۔‘‘ وہ اس پر سے نگاہ ہٹا گیا تھا ٗ جو دو ماہ کی بچی گود میں لئے ساکت و شرمندہ سی کھڑی تھی۔
’’اتنا تو با اختیار تھا ناں کہ اپنی اپروچ کے ذریعے تمہاری انکوائری کروا لیتا ٗ مگر میں نے کچھ نہیں کیا ٗ تمہاری زبان پر بھروسہ کیا جبکہ اگر تم مجھ سے کہتے ناں اسجد! کہ یہ لڑکی تمہاری محبت ہے ٗ تمہاری محبت میں جان دینے چلی تھی ٗ تو میں خود تمہاری اس سے شادی کرواتا ٗ لیکن تم نے ہم سب سے جھوٹ بولا ٗ ہمیں دھوکا دیا ٗ ہماری بچی کی زندگی برباد کر دی ٗ اس سے محبت تھی ٗ شادی بھی کر لی تھی تو کیوں کی مائدہ سے شادی؟ اور شادی کر لی تھی تو کیا کمی تھی اس میں جو اسے خوش نہ رکھ سکے؟ تم پہلے انسان تو نہ تھے ناں جس نے دو شادیاں کی تھیں تو پھر کیوں میری بہن کو اس نہج تک لے گئے؟ اور ہم آج کتنے بے بس ہیں کہ کچھ نہیں کر سکتے ٗ تمہیں بددعا نہیں دے سکتے ٗ ماموں جان سے جواب طلبی نہیں کر سکتے ٗ تم نے اپنی کمزوری سے رشتوں کو سوال بنا دیا ہے ٗ تم اتنا سب کچھ کرکے بھی یہاں مطمئن سی خوشگوار زندگی گزار رہے ہو ٗ موت سے لڑ کر تو میری بہن آئی ہے ٗ نظریں تمہارے والدین چراتے پھر رہے ہیں ٗ ماموں جان کتنے دکھی ہیں ٗ تمہارے کئے کی معافی وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کر مانگ رہے ہیں اور تم اپنی زندگی میں مگن ہو۔‘‘ ارحم الحسن کا لہجہ بھیگا ہوا تھا اور وہ صحیح معنوں میں آج خود کو زمین میں گڑھتا محسوس کر رہا تھا ٗ ان سب کی اعلیٰ ظرفی نے اسے کتنا حقیر بنا دیا تھا ٗ وہ ارحم کو دیکھ رہا تھا جو اس وقت بھی اس تک اس لئے نہیں پہنچا تھا کہ اس نے اس کی بہن کو تکلیف پہنچائی تھی ٗ اس لئے آیا تھا کہ وہ خود اپنے کئے کی معافی مانگے تاکہ اس کے پیرنٹس کو کسی سے معافی نہ مانگنی پڑے۔
’’تمہارے کئے کسی بھی عمل میں ماموں جان اور بڑی مامی کا قصور نہیں ہے ٗ اس لئے یہاں چھپ کر بیٹھنے سے بہتر ہے کہ سب کا سامنا کرو ٗ زندگی کا فیصلہ کر لو ٗ میں نہیں چاہتا کہ تمہاری وجہ سے ماموں جان معافی مانگیں کہ تم بے حس ہو گئے ہو ٗ ہم میں ابھی انسانیت بھی باقی ہے اور رشتوں کا احترام بھی۔‘‘ وہ ایک غصہ و نفرت بھری نگاہ اس پر ڈالتا جیسے آیا تھا ٗ ویسے ہی چلا گیا تھا اور اسے لگا تھا کہ وہ خود سے اب کبھی نظر نہیں ملا پائے گا ٗ اسے احساس جرم ہو گیا تھا اور جس نے اب اسے ساری عمر ہی بے چین رکھنا تھا کہ ٗ کہی ہوئی بات اور کیا ہوا عمل لوٹایا نہیں جا سکتا تھا۔
٭٭٭
’’آپ لوگ کیوں ہر دوسرے دن میری ذات کی پنچایت لگا کر بیٹھ جاتے ہیں؟‘‘ دھیمے لہجے میں نپا تلا بولنے والی مائدہ شعلہ جوالہ بنی ان دونوں کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی ٗ محض پندرہ دنوں میں وہ بالکل ہی نچڑ کر رہ گئی تھی۔ زرد چہرہ ٗ آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ حلقے اس کو دیکھ کر راشدہ کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ تین دن بعد جب ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو کر الحسن ہائوس آئی تھی ٗ اس کے بعد اس نے کاشانہ عالم کے کسی مکین سے سامنا نہیں کیا تھا ٗ یہاں تک کہ حنین کو بھی اپنے سامنے سے دفع ہو جانے کو کہہ دیا تھا اور ذرا ذرا سی بات پر منہ پھلا لینے والی حنین نے ایک لفظ نہیں کہا تھا وہ اپنے دل میں اسجد کیلئے نفرت محسوس کرنے لگی تھی۔
’’میں تم سے بہت شرمندہ ہوں مائدہ! ہو سکے تو ہمیں معاف کر دینا۔‘‘ وہ رو رہی تھیں۔
’’آپ لوگوں کی شرمندگی میرے دکھوں کا مداوا نہیں بن سکتی ٗ میرا کھویا مان ٗ میری ذات کا غرور نہیں لوٹا سکتی ٗ تو مجھے کیا ضرورت ایسی شرمندگی کی؟ مجھے نہیں چاہئے آپ کی شرمندگی اور نہیں کرنا مجھے کسی کو بھی معاف‘ آپ اور ماموں جان ہی میری بربادی کے ذمے دار ہیں ٗ آپ لوگوں نے ہی جانتے بوجھتے میری شادی اس شخص سے کروائی جو مجھ سے شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا اور میں آپ کو اور ماموں جان کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘ شائستگی کی اعلیٰ مثال مائدہ اس وقت بدتمیزی کا نمونہ لگ رہی تھی ٗ الحسن ہائوس کے در و دیوار بھی اس کے تیز لہجے پر حیران تھے کہ وہ بھی تو اس کے نرم میٹھے لہجے کے عادی تھے۔
’’تمیز سے بات کرو مائدہ! حالات کچھ بھی کیوں نہ ہوں ہم تمہیں اپنے سے بڑوں کی توہین کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔‘‘ وہ بیٹی کی حالت سمجھتی تھیں ٗ اس کے باوجود سختی سے سرزنش کر گئی تھیں ٗ راشدہ کا دھواں دھواں چہرہ انہیں شرمندہ کر گیا تھا اور وہ لوگ ان کے اور نوید عالم کے سبب ہی تو خاموش تھے کہ وہ کیسے بھی حالات میں بڑے بھائی اور بھابی کو شرمندہ یا بے عزت ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھیں ٗ اس لئے وہ لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اعلیٰ ظرفی دکھا گئے تھے۔ نم آنکھوں سے جب ہاتھ جوڑ کر نوید عالم نے ان دونوں میاں بیوی سے معافی مانگی تھی ٗ تو یوسف الحسن بہت تڑپ کر ان کے ہاتھ تھام گئے تھے ٗ کیونکہ وہ نوید عالم کی بہت عزت کرتے تھے۔
’’اس کو کچھ نہ کہو فریدہ! یہ حق بجانب ہے ٗ مگر خدا گواہ ہے مائدہ بیٹا! میرے علم میں جب بات آئی تو بہت دیر ہو چکی تھی ٗ عین شادی کے دنوں میں شادی کینسل ہو جانے کے ڈر سے خاموش رہی ٗ سوچا تھا کہ شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا ٗ لیکن کیا پتہ تھا کہ اسجد اتنا کم ظرف ثابت ہو گا ٗ اس پر بھروسہ کیا اور اس نے ہماری پرورش کو ہی گالی بنا دیا ٗ ہم نے مگر تمہارا برا کبھی نہیں چاہا تھا ٗ نوید بھی تم سے شرمندہ ہیں انہوں نے تمہیں کبھی زرمین سے کم نہیں سمجھا ٗ تمہارے بارے میں اچھا سوچتے سوچتے تمہارے ساتھ ہم سب ہی برا کر گئے ٗ ہم سب تمہارے مجرم ہیں ٗ ہو سکے تو معاف کر دینا اور اتنا یاد رکھنا کہ اب تم جو فیصلہ لو گی ٗ میں تمہارے ساتھ ہوں گی ٗ تمہارا ہر فیصلہ ہمیں قبول ہو گا اور یہ شک کبھی دل میں نہ لانا کہ اسجد کی شادی کا ہم میں سے کسی کو علم تھا ٗ ہم سب کو ہی اسجد نے بے وقوف بنایا ٗ دھوکا دیا۔‘‘ وہ بیٹے کی وجہ سے شرمندہ تھیں ٗ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے تھے ٗ جنہیں وہ تڑپ کر تھام گئی تھی۔
’’مامی! آپ کو میں نے کبھی مما سے کم نہیں سمجھا ٗ تھوڑی دیر پہلے جو بکواس کی اس کیلئے مجھے معاف کر دیں ٗ سارے قصے میں آپ سب کا کوئی قصور نہیں ہے۔‘‘ وہ روتے ہوئے ان کے ہاتھ تھامے کہتی اپنی اچھی تربیت اور نیک فطرت کا ثبوت دے گئی تھی۔
’’بیٹا تو وہ میرا ہی ہے ناں اور اولاد والدین کا سر یوں ہی جھکا دیتی ہے ٗ تربیت کو گالی بنا دیتی ہے۔‘‘ ان کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔
’’بات صرف تربیت کی نہیں ہوتی ٗ فطرت کی بھی ہوتی ہے بھابی! والدین تو اولاد کو ہمیشہ سیدھے راستے پر چلاتے ہیں ٗ مگر اولاد ماں باپ کی انگلی تھامے سیدھے راستے پر چلتے ہوئے بھی بھٹک جائے تو والدین کا کیا قصور؟‘‘ فریدہ نے نم لہجے میں ان کی ڈھارس بندھائی تھی ٗ انہیں شرمندگی کے حصار سے نکالنا چاہا تھا۔
’’قصور جس کا ہے میں اس کو سزا دینے پر قادر نہیں ہوں ٗ لیکن میں اسے معاف بھی نہیں کر سکتی ہوں ٗ آپ کہہ دیجئے گا اسجد عالم سے جا کر کہ مجھے ڈائیورس چاہئے۔‘‘ پتھرائے ہوئے انداز میں کہتی وہ ان دونوں پر ہی کوئی قیامت ڈھا گئی تھی۔
’’مائدہ! یہ تم کیا کہہ رہی ہو بیٹا!‘‘ وہ مائدہ کے زرد چہرے اور بے تاثر آنکھوں میں دیکھ رہی تھیں۔
’’جو آپ نے سنا مما! میں اس شخص کا حوالہ اپنی ذات سے مٹا دینا چاہتی ہوں ٗ جس نے میری ذات کو تنکے سے بھی ہلکا کر دیا۔‘‘ وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر رو رہی تھی۔
’’تم ابھی غصے میں ہو ٗ بعد میں اس موضوع پر بات کریں گے کہ رشتے مذاق نہیں ہوتے ٗ ہم اسجد کو برا کہہ رہے ہیں کہ اس نے برائی ثابت کی ہے ٗ مگر اس سب کے باوجود ایسا فیصلہ نہ لو وہ جیسا بھی ہے تمہارا شوہر ہے۔‘‘ وہ ان مائوں میں سے نہ تھیں جو ذرا ذرا سی بات پر شہ دے کر اولاد کو سر چڑھاتی ہیں ٗ معاملہ کچھ بھی تھا انہیں اس کا فیصلہ غلط لگا تھا ٗ اس لئے پہلے ہی موڑ پر باور بھی کرا دیا تھا۔
’’انہوں نے مجھے کبھی بیوی نہیں سمجھا ٗ انہوں نے شادی کے ڈیڑھ سال تک میری توہین کی ٗ مجھے یہ باور کروایا کہ میں ان کی بیوی نہیں صرف اس گھر کی بہو ہوں اور میں نے آپ سب کیلئے ٗ آپ سب کو دکھ سے بچانے کیلئے ٗ اپنا بھرم بچانے کو ہر تذلیل سہی ٗ سب کچھ برداشت کر لیا ٗ ہر الزام ٗ ہر کڑوی بات سہہ گئی ٗ مگر اب ایک لمحہ ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی ٗ جنہوں نے میرے سچے جذبات کو پامال کر دیا ٗ مجھے اب کسی کیلئے بھی کمپرومائز نہیں کرنا ٗ مجھے ڈائیورس چاہئے۔‘‘ وہ بہت مشکل سے کہہ رہی تھی کہ عزت نفس کی خاطر اس نے کیا کچھ سہا تھا ٗ حرف شکایت لب سے ادا نہ کرنے والی آگے عذاب سے بچنے کو تفصیلات بیان کر رہی تھی اور ایسا کرتے ہوئے بھی تکلیف میں تھی ٗ خود کو کسی سے نظر ملانے کے قابل نہ سمجھ رہی تھی ٗ اس لئے ان دونوں سے نگاہ چرائے رو رہی تھی۔
’’مائدہ…!‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر بیٹی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا ٗ چہرہ تھامنا چاہا تھا ٗ مگر وہ فاصلے پر ہو گئی تھی۔
’’مما! میں بہت تکلیف میں ہوں ٗ لفظوں سے کھیلنا مجھے نہیں آتا ٗ نہ ہی میں اظہار کے ہنر سے واقف ہوں ٗ مگر آپ میری مثال اس پرندے کی سی سمجھ لیں ٗ جس کے پر کاٹ دیئے جاتے ہیں اور وہ قفس کے پنجرے میں پڑا اڑنے کی آس میں پھڑپھڑا کر رہ جاتا ہے اور ایک دن آتا ہے کہ وہ اس پنجرے میں اپنی جان دے دیتا ہے ٗ مگر میں اس پنجرے میں پھر سے نہیں جانا چاہتی ٗ وہاں جا کر میں پھڑپھڑا بھی نہ سکوں گی اور آپ لوگ مجھ سے پھڑپھڑانے ٗ تڑپنے کا حق نہ چھینیں۔‘‘ وہ شدت ضبط سے کانپ رہی تھی اپنی ذات کو سوالیہ نشان بنے دیکھ کر اذیت میں تھی۔
’’اسجد عالم بے شک میرے شوہر ہیں ٗ لیکن انہوں نے مجھے بیوی نہیں سمجھا ٗ انہوں نے صرف اپنی مردانگی کو ثابت کیا حق ہی حاصل کرنا ہوتا تو ڈیڑھ سالوں میں حاصل کر چکے ہوتے ٗ انہوں نے اپنی توہین کا بدلہ لیا ہے مجھ سے اور بس… اس وقت میری جگہ کوئی اور ہوتا تب بھی انہوں نے یہی کرنا تھا کیونکہ انہوں نے تو اپنی مردانگی کو سوالیہ نشان بننے سے بچانا تھا اور خود کو بچاتے وہ مجھے ایک سوال بنا گئے اور میں پھڑپھڑا تو سکتی ہوں مگر کچھ کر نہیں سکتی کہ وہ دنیا کی نظر میں میرے شوہر ہیں ٗ مگر میرے احساسات ٗ میرے جذبات کے وہ قاتل ہیں‘ انہوں نے مجھے بری طرح توڑ ڈالا ہے ٗ انہوں نے اپنا حق ٗ حق کی طرح حاصل نہیں کیا ٗ زور زبردستی اپنی مردانگی کی دھاک بٹھائی ہے اور ایک ایسے شخص نے جس نے مجھے عزت نہ دی ٗ قدم قدم پر مجھے ذلیل کیا ٗ مجھے میری ہی نظروں سے گرا دیا ٗ اس کے ساتھ میں نہیں رہ سکتی ٗ آپ لوگ مجھ پر ایک احسان کر دیں ٗ مجھے اس شخص سے طلاق دلوا دیں ٗ میری روح مردہ ہو گئی ہے ٗ یہ حوالہ مجھے جیتے جی ما رہا ہے ٗ مجھے قفس سے رہائی دلوا دیں ٗ مجھے پل پل مرنے سے بچا لیں۔‘‘ وہ دوڑتی ہوئی وہاں سے نکل گئی تھی اور ان دونوں کی تو وہ حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ٗ وہ ایک دوسرے سے نظر چرائے کھڑی تھیں کہ کچھ حقیقتیں بہت تلخ ہوتی ہیں ٗ اندر تک مار دیتی ہی ٗ جیسے وہ مر گئی تھی اور وہ مرنے کے مرحلے سے گزر رہی تھیں۔
٭٭٭
’’راحم! میں یہاں سے کہیں نہیں جائوں گی ٗ یہ میرا گھر ہے ٗ آپ اسجد بھائی کے کئے کی سزا دینے کو مجھے میرے ہی گھر سے نہیں نکال سکتے۔‘‘ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ٗ راحم آفس ٹیم کے ساتھ نیویارک گیا ہوا تھا‘ آج ہی اس کی واپسی ہوئی تھی ٗ بات جیسے ہی اس کے علم میں آئی تھی اس کا سارا غصہ شازمین پر اترا تھا اور اس نے گھر سے جانے کو کہہ دیا تھا اور وہ حیرانگی سے نکلی تھی تو غصے و ناراضی سے انکاری ہو گئی تھی۔
’’بکواس بند کرو اور میرے سامنے سے چلی جائو شازمین! ورنہ میں غصے میں کچھ کر بیٹھوں گا۔‘‘ وہ چیخ کر بولا تھا۔
’’پلیز راحم! اس سارے قصے میں میرا کیا قصور ہے ٗ جو آپ میرے ساتھ ایسے پیش آ رہے ہیں؟‘‘ شازمین جان لٹانے والے شوہر کا ظالمانہ روپ دیکھ کر تڑپ اٹھی تھی۔
’’قصور تو تمہارا بھی ہے ٗ دھوکا تو تم نے بھی دیا ہے کہ تم بھی جانتی ہو گی ناں کہ اسجد بھائی ٗ مائدہ میں انٹرسٹڈ نہیں ہیں لیکن تم نے سچائی ہم سے چھپائی۔‘‘ وہ اس کو غصے سے گھور رہا تھا۔
’’مجھے یہ سب صرف ایک دن پہلے پتہ چلا تھا ٗ مگر میں یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ شادی کر چکے ہیں۔‘‘ اس نے روتے ہوئے صفائی دینا چاہی تھی۔
’’ایک دن ہو یا ایک سال ٗ جب سچائی پتہ چلی تھی ٗ ہمیں جب ہی سب بتا دینا چاہئے تھا ٗ مگر تم نے اپنے بھائی کا خیال کیا اور میری بہن کی تم سب نے مل کر زندگی تباہ کر دی اور اب میں تمہیں ایک لمحے کیلئے اپنے گھر میں برداشت نہیں کروں گا ٗ ابھی اسی وقت اپنے گھر چلی جائو ٗ تمہارا بھائی اس لڑکی کو چھوڑ دے گا اور میری بہن کو عزت سے اپنے ساتھ لے جائے گا ٗ اس کے بعد ہی تم اس گھر میں واپس آ سکو گی ٗ ورنہ میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔‘‘ وہ تڑپ کر اس کو دیکھنے لگی تھی ٗ اس سے پہلے کہ کچھ کہتی کہ اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے نکال باہر کیا تھا۔
’’راحم! میری بات سنیں ٗ مجھے گھر سے نہ نکالیں ٗ میں مر جائوں گی ٗ اسجد بھائی کی غلطی کی سزا مجھے مت دیں پلیز ٗ دروازہ کھولیں۔‘‘ وہ روتے ہوئے کہتی دروازہ پیٹ رہی تھی ٗ اس کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا ٗ مگر مائدہ کا زرد چہرہ ٗ اداس آنکھیں یاد آتے ہی وہ خود کو حق بجانب سمجھنے لگا تھا۔
’’شازمین! کیا ہوا ہے؟‘‘ ارحم کہیں جانے کے ارادے سے اپنے کمرے سے نکلا تھا اس کو دیکھ کر اس تک چلا آیا تھا۔
’’ارحم بھیا! راحم مجھے گھر سے نکال رہے ہیں۔‘‘ اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
’’وہ پاگل ہو گیا ہے اور کچھ نہیں ٗ مگر تم پریشان نہ ہو ٗ ہم سب کے ہوتے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔‘‘ اس نے روتی ہوئی شازمین کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی و شفقت سے اسے دلاسا دیا تھا۔
’’وہ بہت غصے میں ہیں ارحم بھیا! مجھے طلاق دینے کی بات کر رہے ہیں۔‘‘ وہ سہارا پا کر بکھری تھی اور وہ تو دھک سے ہی رہ گیا تھا ٗ غصے سے کھولتے ہوئے اس نے دروازہ پیٹ ڈالا تھا۔
’’راحم! دروازہ کھولو۔‘‘ وہ جو سمجھ رہا تھا شازمین ہے ارحم کی آواز سن کر لمحہ ضائع کئے بنا دروازہ کھول گیا تھا۔
’’کیا تماشا لگایا ہوا ہے تم نے ٗ کہا تھا ناں میں نے تم سے کہ اس سارے قصے سے تم شازمین کو دور رکھنا ٗ تو پھر کیوں اسے گھسیٹ رہے ہو؟‘‘ وہ اس پر بری طرح برس رہا تھا حقیقت جان کر بھی اس نے یہی بکواس کی تھی اور اس نے راحم کو بہت نرمی و پیار سے غصہ نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے رشتوں کی اہمیت سمجھائی تھی اور اسے لگا تھا کہ اس کو بات سمجھ آ گئی ٗ مگر وہ غلطی پر تھا کہ جو وہ اس سے کہہ کر آیا تھا ٗ کمرے میں آکر اسی پر عمل کرتے ہوئے اسے گھر سے جانے کو کہہ دیا تھا۔
’’لینا دینا ہو یا نہیں مگر میں فیصلہ کر چکا ہوں ٗ اپنی بہن کو دیکھیں گے تب انہیں پتہ چلے گا کہ ایک بہن کی بربادی ایک بھائی کو کتنا بے سکون کر دیتی ہے اور جب وہ میری بہن کو کوئی خوشی نہ دے سکے تو مجھے کیا ضرورت پڑی ہے جو ان کی بہن کو خوش رکھوں؟‘‘ وہ ارحم کے احترام میں آواز نیچی کرکے بول رہا تھا ٗ وگرنہ غصہ تو اتنا تھا کہ بس چلتا تو دنیا کو آگ لگا دیتا۔
’’تم اسجد کی بہن کو نہیں اپنی بیوی کا خیال کرتے ہوئے اس کو خوش رکھتے رہے ہو اور آگے بھی رکھو گے۔‘‘ اس کو غصے سے گھورا تھا۔
’’میں فیصلہ لے چکا ہوں بھائی! جس سے ایک انچ نہیں ہٹوں گا۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *