Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08
’’تایا ابو! اب آپ مجھے گاڑی لے کر دیں گے ٗ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں نے انٹر میں پوزیشن لی تو آپ مجھے گاڑی دلا دیں گے اور میں نے تو پورے بورڈ میں فرسٹ پوزیشن لی ہے۔‘‘ حنین نے ان کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے فخریہ اپنا کارنامہ بیان کیا تھا۔
’’تمہیں ڈرائیونگ کب آتی ہے؟‘‘
’’تائی جان! اس کیلئے میں ٹریننگ سینٹر جوائن کر لوں گی ٗ آپ بتایئے تایا ابو! مجھے کار کب دلائیں گے؟‘‘ وہ ان کو جواب دے کر واپس نوید عالم کی جانب گھوم گئی تھی۔
’’جب تم کہو۔‘‘ انہوں نے اس کی اتنی بڑی خوشی کو خراب کرنا مناسب نہیں سمجھا اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
’’تایا ابو! ابھی شو روم چلیں؟‘‘ وہ جوش سے بولی تھی۔
’’اوہوں… میں نہیں جا سکوں گا ٗ تم اسجد کے ساتھ چلی جانا۔‘‘ انہوں نے نہ جانے کی معذرت کر لی۔
’’تایا ابو! میں ارحم بھیا کے ساتھ چلی جائوں؟‘‘ اس نے پوچھا تھا اور ان کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا ٗ انہوں نے حامی بھر لی اور وہ ارحم کو فون کرنے دوڑی اور یہ اس کی خوش نصیبی ہی تھی کہ ارحم گھر پر ہی تھا اور بالکل فارغ بھی۔ اس لئے وہ فوراً ہی راضی ہو گیا اور کچھ ہی دیر میں ارحم نے اسے پک کر لیا تھا۔
’’یو آر ویری لکی حنین! انٹر میں ٗ میں نے سیکنڈ پوزیشن لی تھی ٗ بٹ مجھے اتنا بڑا گفٹ کسی نے نہیں دیا تھا‘ پاپا نے بھی نہیں۔‘‘ وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولا۔
’’آپ نے سیکنڈ پوزیشن لی تھی ارحم بھیا! اور میں نے فرسٹ پوزیشن لی ہے۔‘‘ اس نے فخر سے بتایا تو وہ مسکرا دیا۔
’’اچھا تو فرسٹ پوزیشن ہولڈر مس حنین عالم! مجھ سے کیا گفٹ لیں گی؟‘‘
’’آپکا دل کرے کیونکہ گفٹ تو اپنی مرضی اور خوشی سے دیا جاتا ہے ٗ تایا ابو نے بھی گاڑی دینے کا مجھے خود سے وعدہ کیا تھا۔‘‘ وہ اس کی معلومات میں اضافہ کر رہی تھی۔
’’تو تم نے صرف گاڑی لینے کی وجہ سے دن رات محنت کی تھی؟‘‘
’’جی نہیں ٗ میں نے میٹرک میں بھی فرسٹ پوزیشن لی تھی ٗ بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ تایا ابو کے وعدے نے میرا مورال ہائی کر دیا تھا۔‘‘ وہ بہت خوش تھی اور اس کی خوشی انداز و چہرے سے عیاں تھی ٗ ارحم نے اسے کافی دن بعد اپنے اصلی روپ میں دیکھا تھا ٗ وگرنہ وہ پورے 15 دن ان کے ہاں رہی تھی ٗ مگر پتہ ہی نہیں چلا تھا کہ حنین ان کے ہاں آئی ہوئی ہے ٗ اس کا جوش اور ہنسی ماند سی تھی۔
’’تمہارے پاس سیل فون نہیں ہے اور اب تم یونیورسٹی میں ایڈمیشن لو گی تو اس کی ضرورت پڑے گی اس لئے میں تمہیں سیل فون گفٹ کر دیتا ہوں۔‘‘ وہ بڑی مہارت سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولا تھا۔
’’کیا…؟ سچ ارحم بھیا!‘‘ اس کے جوش سے پوچھنے پر اس نے محض سر ہلا کر مثبت جواب دیا تھا۔
’’سیل فون میں اپنی پسند سے لوں گی۔‘‘
’’اوکے ٗ جو چاہو لے لینا ٗ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تم کمپنی اور ماڈل جو چاہو لے سکتی ہو ٗ فی الحال تو یہ بتا دو گاڑی کون سی لینی ہے؟‘‘
’’کرولا لینی ہے ٗ ماڈل و اڈل کا مجھے پتہ نہیں ٗ اسی طرح سیل فون مجھے آپ فلپ والا دلا دیجئے گا ٗ ماڈل آپ خود دیکھ لیجئے گا۔‘‘ اس نے اپنی پسند بتائی بھی تھی اور نہیں بھی اور ساری ذمے داری اس پر ڈال دی تھی ٗ جسے اس نے بڑی ہی خوش اسلوبی سے نبھایا تھا اور اسی نے قابل اعتماد ڈرائیونگ انسٹیٹیوٹ میں اس کا ایڈمیشن کروا دیا ٗ وہ اس سب سے بے حد خوش تھی۔
٭٭٭
’’ابو! پلیز سمجھنے کی کوشش تو کریں۔‘‘
’’کیا سمجھنے کی کوشش کروں اسجد! میں اپنی بہن کو کھونا نہیں چاہتا ٗ سمجھنے کی مجھے نہیں تمہیں ضرورت ہے۔‘‘
’’آپ پھپھو سے بات تو کرکے دیکھیں ٗ میں مائدہ کو خوش نہیں رکھ پائوں گا ٗ میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
’’شرم آنی چاہئے ٗ باپ کے سامنے ایسی باتیں کرتے۔‘‘ نوید عالم کے لہجے میں سختی تھی۔
’’ابو! میں مائدہ سے شادی نہیں کر سکتا۔‘‘ وہ بے بسی سے بولا تھا۔
’’تمہاری شادی مائدہ سے ہی ہو گی اور اب میں کچھ نہیں سننا چاہتا۔‘‘ انہوں نے اپنی بات پر زور دے کر کہا۔
’’ابو! میں نے آپ کے کہنے بلکہ مجبور کرنے پر مائدہ سے منگنی کی ٗ شادی بھی کر لیتا ٗ مگر وہ لڑکی جس سے میں نے محبت کی وہ میری محبت میں معذور ہو گئی ہے اور میں اسے بے سہارا نہیں چھوڑ سکتا ٗ اسے میری ضرورت ہے ابو! مائدہ کو مجھ سے اچھے اور بہترین شخص کا ساتھ مل جائے گا ٗ مگر یسریٰ… وہ جو پہلے غربت کی چکی میں پس رہی تھی ٗ اب زندگی کا دائرہ اس پر مزید تنگ ہو گیا ہے۔ ابو! وہ ایک یتیم لڑکی ہے ٗ اس کا وجود اس کی خالہ کیلئے بوجھ بن گیا ہے اور اس کا ذمے دار کہیں نہ کہیں میں بھی ہوں۔‘‘ اس کے انداز میں قدرے بے چارگی سی تھی۔
’’تم کیسے ذمے دار ہو ٗ اسے معذور تم نے بنایا ہے؟‘‘ وہ چیخے تھے۔
’’ہاں ٗ اسے معذور میں نے بنایا ہے ٗ اس کا ایکسیڈنٹ میری گاڑی سے ہوا اور اب وہ چل نہیں سکتی ٗ یہ معذوری چند سالوں کی ہے یا عمر بھر کی ٗ مجھے نہیں پتہ ٗ مگر اسے اپنانا میں اپنے انسانی فرض کے ساتھ محبت کا فرض بھی سمجھتا ہوں۔‘‘ اسجد کے انداز میں سچائی اور اپنی کہی بات پر عمل کرنے کا عزم موجود تھا اور نوید عالم کے کہنے پر اس نے انہیں ایکسیڈنٹ کی روداد اپنے انداز میں کہہ سنائی تھی ٗ جیسے ارحم کو اس نے نہیں بتایا تھا کہ یسریٰ اس کی گاڑی کے سامنے خود آئی تھی ٗ یہ بات وہ باپ سے بھی چھپا گیا تھا ٗ مگر ارحم اس بات سے اب تک ناواقف ہی تھا کہ اس لڑکی کو اسجد جانتا ہے ٗ اس لئے ہی اس نے علاج پر پیسہ پانی کی طرح بہایا ہے ٗ وہ شادی کی مصروفیات میں بھی پابندی سے ہاسپٹل جاتا رہا تھا اور 3 دن قبل اسے ڈاکٹرز نے یہ کہہ کر ڈسچارج کیا تھا کہ اسے بیڈ ریسٹ کی ضروت ہے ٗ مکمل احتیاط اور ورزش کے ساتھ تھوڑی سی کوشش سے وہ پھر سے اپنے پیروں پر چل سکتی تھی ٗ مگر کب؟ یہ ابھی نہیں اس کی 2 سے 3 ماہ میں کنڈیشن دیکھنے کے بعد ہی بتانا پوسیبل تھا۔
’’تم نے یہ سب مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘ استفسار کیا تھا۔
’’میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اور اسی ٹینشن میں ٗ میں گھر آیا تھا اور حنین کے بحث کرنے پر فرسٹریشن میں اس پر ہاتھ اٹھا بیٹھا تھا۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے سانس خارج کی تھی۔
’’اور پھر زرمین کی شادی اتنی ارجنٹلی فکسڈ ہوئی کہ میں نے آپ سے ذکر نہیں کیا ٗ میں جتنا کر سکتا تھا ابو! میں نے کیا ٗ ہر طرح سے اس کا علاج کروایا ہے ٗ مگر وہ جو معذور ہوئی ہے تو صرف میری وجہ سے۔‘‘
’’تم اسے بہترین سے بہترین ڈاکٹر کو دکھائو ٗ پیسے کی تم فکر مت کرو ٗ مگر یہ خیال دل سے نکال دو کہ تمہاری اس سے شادی ہو گی ٗ میں اسے مالی طور پر سپورٹ کروں گا ٗ مگر جذباتی طور پر نہیں ٗ کیونکہ اسے سپورٹ کرنے کا مطلب ہوگا ٗ اپنی بہن سے بگاڑ پیدا کرنا۔‘‘
’’آپ پھپھو کو سچوایشن بتائیں گے تو وہ ضرور میری مجبوری سمجھیں گی۔‘‘
’’فریدہ میری اکلوتی بہن ہے اسجد! اور میں بیٹے کی خاطر اسے نہیں چھوڑ سکتا ٗ تمہاری شادی مائدہ سے ہی ہو گی اور اسی ماہ ہو گی۔‘‘ انہوں نے گویا کوئی بم اس کی سماعتوں پر پھوڑا تھا۔
’’لیکن ابو…!‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا تھا ٗ مگر وہ اسے بولنے کا موقع نہیں دے رہے تھے۔
’’لیکن ویکن کچھ نہیں اسجد! میں نے تمہارا مائدہ سے رشتہ جوڑا ہے اور تمہاری اس سے شادی بھی ہو گی ٗ تم اپنی خوشی اور اس لڑکی کے مفاد کی خاطر اپنی بہن کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہو؟ کیا تم نے سوچا ہے کہ تم مائدہ سے شادی نہیں کرو گے تو راحم ٗ شازمین سے شادی کر لے گا؟‘‘ وہ بیٹے سے سوال کر رہے تھے اور اس کے جواب دینے سے قبل خود ہی بولے تھے۔
’’کبھی نہیں کرے گا ٗ تمہاری وجہ سے نہ صرف رشتوں میں دراڑ آ جائے گی بلکہ میری بیٹی کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا ٗ کوئی ماں باپ ایسے نہیں ہوتے کہ بیٹی کو ذلیل کرنے والوں سے ہنس کر ملیں ٗ فریدہ اور یوسف بھی ایسا نہیں کر پائیں گے اور اس سب کے ذمے دار صرف تم ہو گے اور میں ایسا نہیں چاہتا۔ مائدہ سے شادی نہیں کرو گے تو میں تم سے ہر ایک تعلق ختم کر لوں گا ٗ تمہیں عاق کر دوں گا ٗ اپنی زندگی اور جائیداد سے۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے ٗ اس لڑکی کا علاج کروانا ہے یا نہیں؟ اگر ہاں ٗ تو مائدہ سے شادی کر لو۔‘‘ نوید عالم نے نیچر سے برخلاف ایک سخت فیصلہ لیا تھا۔
’’ٹھیک ہے ٗ مائدہ سے میں شادی کر لوں گا ٗ مگر اسے خوش نہ رکھ سکوں تو مجھے الزام مت دیجئے گا۔‘‘ وہ ایک نظر باپ پر ڈالتا وہاں سے ہٹ گیا اور نوید عالم نے ارجنٹ لی شادی کی تاریخ رکھ لی ٗ اسی ماہ کی گیارہ کو اسجد اور مائدہ اور راحم اور شازمین کی شادی تھی ٗ زرمین اور سمیرا کی طرح ان کی بھی شادی ایک ہی ہال میں ایک ہی دن ہونی تھی ٗ اسجد نے بالکل خاموشی اختیار کر لی تھی ٗ مگر وہ یسریٰ سے اب بھی کونٹیکٹ میں تھا ٗ اس نے یسریٰ کی دیکھ بھال کیلئے اس کے گھر میں ایک نرس رکھ چھوڑی تھی ٗ اس نے یسریٰ کو لیکن اپنی شادی کے بارے میں نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ جذبات میں آکر دوبارہ کوئی غلط قدم اٹھائے ٗ یسریٰ کی خالہ کو بھی اس نے ماہانہ 5 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا ٗ اس لئے وہ یسریٰ کو اپنے گھر میں رکھے ہوئے تھیں ٗ وگرنہ اس کا وجود پہلے ہی ان کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا تو اسے وہیل چیئر پر بٹھا کر وہ ہرگز بھی سر آنکھوں پر نہیں بٹھا سکتی تھیں ٗ مگر وہ ایک لالچی خاتون تھیں ٗ جب گھر بیٹھے اتنا پیسہ مل رہا تھا تو وہ خاموشی اختیار کر گئیں ٗ وگرنہ یسریٰ انہیں آج بھی ناپسند ہی تھی کہ بہن کے مرنے کے بعد اس کی بیٹی کی ذمے داری ان پر پڑ گئی تھی ٗ جسے انہوں نے محض بوجھ سمجھ کر گھر میں رکھ لیا کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
٭٭٭
’’اومائی گاڈ! یہ کیا ہو گیا مجھ سے۔‘‘ حنین کو گاڑی سیکھے بہت زیادہ دن نہیں ہوئے تھے ٗ مگر وہ آج کسی کو بھی بنا بتائے فرسٹ ٹائم اپنی گاڑی لے کر نکلی تھی اور تیزی سے ڈرائیو کرتے ہوئے وہ سامنے سے آتے بچے کو دیکھ نہیں سکی تھی اور جیسے ہی نظر پڑی تھی بریک لگاتے لگاتے بھی اتنی دیر ہو گئی تھی کہ وہ بچہ زخمی حالت میں بے سدھ پڑا تھا ٗ اس نے کار سے نکلتے ہوئے اس بچے کو ہلایا تھا ٗ مگر خون بہت تیزی سے بہہ رہا تھا اور وہ دس گیارہ سال کا مانگنے والا بچہ بے ہوش تھا ٗ لوگ جمع ہونے لگے تھے اور اس کی خوف کے مارے جان نکلنے لگی تھی۔
٭٭٭
’’یہ بچہ تو لگتا ہے مر گیا ہے۔‘‘ کسی کے کہنے پر وہ دھک سے رہ گئی۔
’’نہیں ٗ ایسا نہیں ہو سکتا ہے ٗ پلیز اسے ہاسپٹل لے چلیں ٗ ہو سکتا ہے یہ صرف بے ہوش ہو۔‘‘ خوف سے آواز کانپنے لگی تھی۔
’’جان لے کر کہتی ہو کہ ہو سکتا ہے بے ہوش ہو ٗ اندھوں کی طرح گاڑی کیوں چلا رہی تھیں؟‘‘ ایک عمر رسیدہ شخص نے غصے سے کہا تھا۔
’’پولیس کو بلانا چاہئے ہمیں ٗ یہ تو سیدھا سیدھا پولیس کیس ہے۔‘‘ ایک اور آواز آئی تھی اور وہ کھڑے ہوتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ مختلف آوازیں ایک ساتھ اس کو روکنے کو بڑھی تھیں۔
’’روکو اس کو ٗ یہ تو بھاگ رہی ہے۔‘‘
’’نہیں ٗ نہیں میں تو بس گاڑی سے اپنا فون لینے جا رہی ہوں۔‘‘
’’یہ جھوٹ بول رہی ہے ٗ کسی کی جان لے کر کتنی آسانی سے یہاں سے نکلنا چاہ رہی ہے۔‘‘ کسی کو بھی سڑک پر پڑے بچے کی فکر نہ تھی ٗ سب اس پر لعن طعن میں لگے ہوئے تھے اور وہ کچھ بھی کہہ رہی تھی تو وہ لوگ اس کی بات سنے بغیر کاٹے جا رہے تھے ٗ جبھی ایک جیپ کر آ رکی تھی اور ایک باوردی آفیسر کے ساتھ دو سپاہی بھی اس بھیڑ میں جگہ بناتے اس تک آ رکے۔
’’یہ سب میں نے جان کر نہیں کیا سر! یہ بچہ اچانک ہی سامنے آ گیا۔‘‘ وہ روتے ہوئے صفائی میں بولی۔
’’جا کر بچے کی نبض چیک کرو ٗ زندہ بھی ہے یا نہیں؟‘‘ آفیسر نے حول دار سے کہا۔
’’سر! بچے کی نبض رک رک کر چل رہی ہے ٗ ہمیں اسے ہاسپٹل لے کر چلنا چاہئے۔‘‘ آفیسر نے بچے کو پولیس جیپ میں ڈالنے کو کہا اور ساتھ ہی حنین کو بھی چلنے کو کہا۔
’’پلیز مجھے صرف ایک کال کر لینے دیجئے۔‘‘ لرزتے ہوئے منمنائی۔
’’جو کرنا ہے وہ پولیس اسٹیشن جا کر کرنا ٗ تمہارے پاس تو مجھے لگتا ہے ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہوگا ٗ امیر ماں باپ کی بگڑی ہوئی اولاد معلوم ہوتی ہو ٗ مگر جیل کی ہوا کھائو گی تو سارا گھمنڈ نکل جائے گا۔‘‘ ندیم ایک کرپٹ پولیس آفیسر تھا جو نہایت بھنورا صفت رکھتا تھا ٗ وہ خوبصورت حنین کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیتے ہوئے مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے بولا اور اس کی تو جیل کا نام سن کر ہی جان نکلنے لگی۔
’’پلیز! آپ مجھے پولیس اسٹیشن نہ لے جائیں ٗ وہ ارحم بھیا ٗ میرے ارحم بھیا کو آپ جانتے ہوں گے ٗ وہ ایس پی…!‘‘
’’زیادہ بک بک نہ کرو اور شرافت سے چلو ٗ ورنہ ہمیں زبردستی کرنا پڑے گی۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر درشت لہجے میں بولا اور جبھی ایک گاڑی کچھ دور جا کر ریورس ہو کر ان سے کچھ فاصلے پر آ رکی اور ماہ کنعان ڈرائیونگ ڈور کھول کر بڑی پھرتی میں حنین تک پہنچا۔
’’واٹ ہیپن حنین!‘‘ اس کی نظریں روتی ہوئی حنین پر جمی تھیں اور وہ اس کو کیا بتاتی ٗ اسے وہاں دیکھ کر اس کا خوف تو دو چند ہو گیا تھا ٗ جسے محسوس کرتے ہوئے وہ پولیس آفیسر کی طرف گھوما۔
’’آفیسر! کیا بات ہے؟ آپ نے انہیں کیوں روکا ہوا ہے؟ اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے پوچھا تھا اور وہ تو فوراً ہی مودب بن گیا تھا۔
’’ایکسیڈنٹ… آئی مین ان کی گاڑی سے بچہ بری طرح زخمی ہو گیا ہے ٗ بچے کا بچنا مشکل…!‘‘
’’آپ اسے فی الحال ہاسپٹل لے جائیں ٗ باقی بعد میں دیکھ لیں گے۔‘‘ ماہ کنعان نے کانپتی ہوئی حنین کو ایک نظر دیکھ کر آفیسر سے کہا اور اس کیلئے انکار کی گنجائش نہیں تھی کیونکہ ماہ کنعان کے فادر کا وہ منظور نظر تھا اور وہ ان کیلئے کتنے ہی غلط کام کر چکا تھا ٗ تو یہ تو بہت ہی آسان کام تھا ٗوہ خاموشی سے ماہ کنعان سے ہاتھ ملاتا پولیس جیپ کی طرف بڑھ گیا ٗ بھیڑ جو پولیس کو دیکھ کر ہی چھٹ گئی تھی ٗ اکا دکا لوگ بھی پولیس جیپ کے ساتھ وہاں سے نکل گئے تھے اور سنسان سڑک پر صرف وہ دونوں ہی رہ گئے تھے۔
’’حنین! آیئے میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘ آواز پر اس نے نگاہ اٹھائی اور وہ تو جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنے لگا تھا کہ وہ نگاہ جھکا گئی اور بڑی تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھی ٗ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس نے فرنٹ سیٹ پر پڑے سیل فون کو اٹھا کر اسجد کا نمبر ملایا تھا ٗ مگر نمبر آف جا رہا تھا تو اس نے ارحم کا نمبر ملایا تھا ٗ جو بزی تھا ٗ وہ نوید عالم کا نمبر ڈائل کر رہی تھی کہ چارج نہ ہونے کی وجہ سے موبائل آف ہو گیا ٗ اب گاڑی چلانے کی اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ٗ وہ اسٹیئرنگ پر سر ٹکائے بلکنے لگی ٗ ماہ کنعان اس کے جانے کے انتظار میں کھڑا تھا ٗ مگر گاڑی آگے بڑھتے نہ دیکھ کر اس کے قدم خود بخود اس کی طرف بڑھنے لگے ٗ شیشے سے اس نے حنین کو اسٹیئرنگ پر سر رکھے دیکھ کر شیشے پر دستک دی تھی اور اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’میں تمہاری ہیلپ کر سکتا ہوں۔‘‘ وہ ادھ کھلے شیشے سے جھانکتے ہوئے بولا۔
’’نہیں مجھے آپ کی مدد نہیں چاہئے۔ لہجے میں خوف کی آمیزش سی تھی اور وہ اسے دیکھنے لگا ٗ جو آنسو صاف کرتی گاڑی اسٹارٹ کرنا چاہ رہی تھی ٗ مگر ہاتھ پیروں میں واضح کپکپاہٹ سی اترتی اس کی اس کوشش کو ناکام بنانے لگی۔ اس نے کچھ سوچتے ہوئے جیب سے سیل فون نکالا۔
’’میں ماہ کنعان بات کر رہا ہوں ٗ فیصل سے بات کرایئے۔‘‘
’’فیصل تو شاور لے رہے ہیں ٗ آتے ہیں تو میں آپ کی بات کراتی ہوں۔‘‘
’’بھابی! فضیل گھر میں ہے تو میری اس سے بات کروا دیجئے ٗ لیکن ذرا جلدی۔‘‘ وہ بڑی عجلت میں سمیرا سے بولا اور وہ کمرے سے نکل کر فضیل کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ وہ اسے سیڑھیوں پر ہی مل گیا۔
’’فضیل بھائی! اچھا ہوا کہ آپ مجھے یہیں مل گئے۔‘‘
’’کوئی کام تھا؟‘‘
’’نہیں… وہ کنعان بھائی کا فون ہے ٗ وہ آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘ کہتے ہوئے سیل فون اس کی طرف بڑھایا جسے وہ حیرت سے تھامتا کان سے لگا گیا۔
’’ہیلو… کنعان! سب خیریت تو ہے کیسے یاد کیا؟‘‘ فضیل کے اتنا کہنے پر اس نے جلدی جلدی مختصراً اسے بات بتائی اور پہنچنے کا کہا۔
’’کنعان! میں بس پہنچ رہا ہوں ٗ بٹ اتنی دیر تم وہیں رہنا۔‘‘ کہتے ہوئے لائن کاٹی۔
’’فضیل! سب خیریت تو ہے؟‘‘ زرمین اس کے سامنے آتے ہوئے پوچھ رہی تھی اور اس نے زرمین کو ساتھ چلنے کا کہہ دیا۔
’’میرے ساتھ آئو زرمین!‘‘
’’بات کیا ہے آخر؟‘‘ وہ پریشان ہو گئی تھی۔
’’راستے میں بتاتا ہوں ٗ تم فی الحال جلدی سے آئو۔‘‘ سیل فون سمیرا کو دیتے ہوئے اسے آنے کا کہہ کر وہ پورچ کی طرف بڑھا اور اسی کے پیچھے حیران پریشان سی زرمین تھی۔
’’کہاں چلی گئی تھیں؟‘‘ آئینے کے سامنے کھڑے برش کرتے فیصل نے اندر آتی سمیرا سے پوچھا اور اس نے کنعان کے فون سے فضیل کے زرمین کو لئے عجلت میں نکل جانے تک کا اسے بتا دیا۔
’’ایسی کیا بات ہو سکتی ہے؟ ذرا فون دو مجھے ٗ میں کنعان سے پوچھوں تو سہی۔‘‘ پریشانی سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ سے سیل فون لے کر کنعان کا نمبر ملایا اور اس کے پوچھنے پر کنعان نے ساری تفصیل بتا دی۔
’’کنعان! جب تک بھائی بھابی وہاں پہنچ نہ جائیں ٗ تم وہیں رہنا۔‘‘
’’اوکے جناب! اور کوئی حکم؟‘‘ مودبانہ لہجے میں کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی حنین کو دیکھا جو اب تک رو رہی تھی اور گاڑی اس سے اسٹارٹ ہی نہیں ہو رہی تھی ٗ اس نے فیصل کی لائن ڈسکنیکٹ کی اور اس سے بولا۔
’’یو ڈونٹ وری ٗ میں نے فضیل کو فون کر دیا ہے وہ اور بھابی آ رہے ہیں۔‘‘ وہ قدرے جھک کر بولا تھا اور اس کی گیلی پلکیں اٹھی تھیں اور سوالیہ انداز میں نگاہیں اس پر رک گئی تھیں۔
’’آئی مین آپ کی زرمین آپی…!‘‘ اس نے بھابی کی وضاحت کی تھی اور اس کی آنکھوں اور چہرے پر اطمینان چھلک آیا تھا ٗ جسے وہ محض دیکھ کر ہی رہ گیا ٗ کچھ ہی دیر میں وہ لوگ آ گئے تھے ٗ زرمین بڑی تیزی سے فرنٹ ڈور کھول کر حنین کی گاڑی کی جانب بڑھی تھی ٗ فضیل اسے راستے میں تفصیل بتا چکا تھا ٗ حنین کی جیسے اس پر نظر پڑی تھی ٗ وہ ڈرائیونگ ڈور کھول کر گاڑی سے باہر آئی تھی اور زرمین کے سینے سے لگی بلک اٹھی تھی۔
’’حنین! چپ کر جائو ٗ ہم گھر چل رہے ہیں۔‘‘ آنسوئوں کی وجہ سے چیک جانے والے چند بال اس کے چہرے سے ہٹاتے ہوئے وہ بولی تھی۔
’’زرمین آپی! میں بہت ڈر گئی تھی ٗ وہ بچہ میری گاڑی کے سامنے خود ہی آ گیا تھا اور وہ انسپکٹر اور سب نے مجھ سے بہت تیز و گندے لہجے میں بات کی‘ وہ مجھے پولیس اسٹیشن لے جا رہے تھے۔‘‘ وہ ایک ہی سانس میں زرمین کو سب کچھ بتا دینا چاہتی تھی۔
’’اب بس چپ کر جائو ٗ ہم گھر چل کر بات کریں گے۔‘‘ اسے ٹوک کر ہوا سے اڑنے والیں اس کی دراز زلفیں کیچر میں صحیح سے جکڑی تھیں۔ کنعان جو فضیل سے ہاتھ ملا رہا تھا اس کی تمام توجہ وہ سمیٹ رہی تھی ٗ مگر وہ جان کر انجان بن گیا ٗ وگرنہ اس کی اڑتی زلفیں کیسے کیسے طوفان اس کے دل میں مچا رہی تھیں یہ بس وہی جانتا تھا۔
’’تھینکس مسٹر کنعان! کہ آپ نے میری حنین کی اتنی مدد کی۔‘‘ وہ اس کا شکریہ کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔
’’اٹس اوکے بھابی!‘‘ وہ مختصراً بولا اور وہ اسے لئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ فضیل کے کچھ کہنے پر رک گئی۔
’’حنین! کی گاڑی کو کیا ایسے ہی چھوڑ جائیں؟‘‘
’’ہاں اور کوئی آپشن بھی تو نہیں ہے۔‘‘
’’آپ آرام سے بے فکر ہو کر جائیں ٗ میرا ڈرائیور گاڑی آپ تک پہنچا دے گا۔‘‘ ماہ کنعان کے مداخلت کرنے پر وہ دونوں خاموش ہو گئے اور فضیل اس سے مصافحہ کرتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
’’آپ پریشان نہ ہوں ٗ میں تمام صورتحال معلوم کرکے آپ کو انفارم کر دوں گا۔‘‘ فضیل نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے زخمی ہو جانے والے بچے کی خیریت دریافت کی تھی ٗ تب اس نے فضیل کو تسلی دی تھی اور ان کے جانے کے بعد واپسی کی راہ لی تھی۔
٭٭٭
’’پلیز چچی! وہ پہلے ہی خوفزدہ ہے۔‘‘
’’زرمین! میں تو اس بچے کے بارے میں سوچ رہی ہوں ٗ وہ نہ جانے کیسا ہوگا۔‘‘ ان لوگوں کو کچھ ہی دیر بعد حنین کی غیر موجودگی کا پتہ چل گیا تھا ٗ اس کے سیل پر کانٹیکٹ کیا تھا ٗ مگر اس نے کال ریسیو نہیں کی تھی کیونکہ موبائل تو گاڑی میں تھا اور وہ سڑک پر لوگوں کے ہجوم میں پھنسی کھڑی تھی ٗ زرمین اور فضیل کے ساتھ اسے دیکھ کر وہ حیران پریشان رہ گئے تھے ٗ جب زرمین نے شازمین کو اسے کمرے میں لے جانے کا کہتے ہوئے ان لوگوں کو ساری تفصیل بتا دی تھی۔
’’آنٹی! پریشان نہ ہوں ٗ وہ بچہ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ فضیل بولا تھا۔
’’اور جو ہونے والی بات تھی وہ ہو گئی ہے ٗ اس لئے بات کو طول دینے سے کیا حاصل ہوگا؟‘‘ زرمین نے کہا تھا۔
’’مجھے تو اس لڑکی نے پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔‘‘
’’چچی! اب حنین بڑی ہو رہی ہے ٗ وہ دوسری لڑکیوں کی طرح اپنی مرضی سے کچھ کرنا چاہتی ہے تو پلیز اسے کرنے دیجئے۔‘‘
’’لیکن زرمین! وہ اس طرح گاڑی لے کر نکل گئی ٗ فیصل کا دوست وہاں نہ پہنچتا تو اسے پولیس اسٹیشن…!‘‘
’’جو ہوا نہیں ٗ وہ سوچئے بھی مت اور حنین نے اس طرح کیوں کیا یہی سوچا ہوگا اس نے کہ آپ لوگ اسے کبھی گاڑی لے کر نکلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے ناں ٗ ہم اسے کیسے اجازت دے سکتے ہیں؟ نہ اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے اور نہ ہی اسے ابھی گاڑی چلانی آئی ہے ٗ نوید نے اسے گاڑی اس لئے دلائی کہ اس کی خوشی ماند نہ پڑے ٗ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس طرح بغیر بتائے گاڑی لے کر گھر سے نکل جائے۔‘‘ راشدہ کو بھی اس کا یہ اقدام پسند نہیں آیا تھا۔
’’امی! میں اسے سمجھائوں گی ٗ مگر آپ لوگ بھی اسے سمجھنے کی کوشش کریں ٗ اسے اپنے فیصلوں کے مکمل نہیں تھوڑے تو اختیار سونپ دیں ٗ وگرنہ اسی طرح کی سچوایشن رہی تو یہ معمولی معمولی سے اختلافات کہیں بغاوت کا روپ نہ دھار لیں کیونکہ حنین کی طبیعت میں جہاں بچپنا ابھی تک ہے وہیں ضد اور ہٹ دھرمی بچپن ہی سے موجود ہے۔‘‘
’’اس کی یہی نرم گرم فطرت تو میں ماں ہو کر نہیں سمجھ پاتی ٗ کبھی تو اس کی حماقتوں پر سر پکڑتی ہوں تو کبھی اس کی من مانیوں پر سر پکڑ کر روتی ہوں۔‘‘
’’چچی! حنین کی طبیعت میں ضد ضرور ہے خود سری نہیں ہے ٗ پیار اور محبت سے سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ جاتی ہے۔‘‘
’’یہ بھی تم نے خوب کہی زرمین! کسی کی جان گئی اور اس کی ادا ٹھہری۔ میں ماں ہوں ٗ جیسے میری بیٹی کی تکلیف رلاتی ہے مجھے احساس ہے کہ وہ ماں جس کے بچے کو حنین نے زخمی کیا ہے وہ کس قدر اپنے بچے کیلئے پریشان ہو گی۔‘‘ ساجدہ کی پریشانی کم ہونے میں نہیں آ رہی تھی۔
’’ساجدہ! اب جانے بھی دو اور جاکر شکرانے کے نفل پڑھ لو۔‘‘
’’شکرانے کی نماز ادا کرنا تو میں بھی چاہتی ہوں کہ اللہ نے میری اولاد کو بہ حفاظت مجھ تک پہنچا دیا ٗ مگر اس ماں کی تکلیف کا احساس مجھے روک رہا ہے ٗ جسے میری بیٹی تکلیف دے کر آئی ہے۔‘‘
’’تم شکرانے کی نماز کے ساتھ ہی نماز حاجت ادا کرکے اس بچے کی صحت یابی کی دعا مانگ لینا ٗ اٹھو شاباش! پریشان ہونے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ وہ بہن کے کہنے پر آنسو دوپٹے میں جذب کرتیں اٹھ گئی تھیں۔
٭٭٭
’’ممی! آئی ایم سوری ٗ بٹ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گی۔‘‘
’’تم نے نہ صرف ہم سب گھر والوں کو پریشان کیا بلکہ تم نے کسی اور کو بھی تکلیف پہنچائی ہے۔‘‘
’’ممی! میں بہت شرمندہ ہوں ٗ میں نے سوچا تھا آپ سے پوچھوں گی تو آپ منع کر دیں گی ٗ اس لئے میں اس وقت گاڑی لے کر نکلی جب آپ سب سو رہے تھے ٗ لیکن ممی! اس ایکسیڈنٹ میں میری غلطی نہیں تھی ٗ وہ بچہ بہت اچانک میری گاڑی کے سامنے آ گیا تھا ٗ میں نے بریک لگانے کی پوری کوشش کی تھی ٗ مگر بچے کو اپنی گاڑی کے سامنے دیکھتے ہی میں خوفزدہ ہو گئی تھی اسی لئے وہ سب ہوا۔‘‘ وہ ماں کے سامنے شرمندہ سی بیٹھی تھی۔
’’مگر آپ پریشان نہ ہوں زرمین آپی بتا رہی تھیں کہ وہ بچہ بالکل ٹھیک ہے ٗ ورنہ اس کا سوچ کر تو مجھے رات بھر نیند ہی نہیں آئی تھی۔‘‘
’’اچھا اب اس قصے کو جانے دو ٗ لیکن آئندہ ایسی کوئی حرکت کی ناں تو میں تمہاری بہت پٹائی کروں گی۔‘‘ انہوں نے اپنی لاڈلی بیٹی کے ایک چپت لگائی تھی اور وہ ان کے کاندھے پر جھول گئی تھی۔
’’پرامس ممی! اب بالکل آپ کو تنگ نہیں کروں گی۔‘‘
’’ہمیشہ یہی کہتی ہو ٗ مگر عمل نہیں کرتیں۔‘‘ وہ اپنی اکلوتی بیٹی سے زیادہ دیر ناراض رہ ہی کب سکتی تھیں۔
’’سچی اب کروں گی ٗ پکا پرامس!‘‘ اس نے ہنستے ہوئے ماں کے گال پر بوسہ لیا تھا اور وہ بھی ہنس دی تھیں۔
٭٭٭
’’اسجد میں بہت بڑی مصیبت میں پھنسنے والی ہوں ٗ پلیز مجھے آکر بچا لیں۔‘‘ اسجد کی میٹنگ چل رہی تھی ٗ جس سے فارغ ہوتے ہی اس نے اپنا سیل فون اٹھایا تھا اور یسریٰ کی 20 سے 25 مسڈ کالز دیکھ کر اس نے متفکر ہوتے ہوئے اسے کال بیک کی تھی اور اس کا بھاری غمزدہ لہجہ اس کی فکر بڑھا گیا تھا۔
’’یسریٰ! رونے کے بجائے مجھے صاف صاف بات بتائو۔‘‘
’’میرا آج شام نکاح ہے اسجد!‘‘ اس کا انکشاف اسجد کی سماعتوں پر گویا کوئی دھماکہ کر گیا اور کچھ پل تو وہ کچھ کہہ ہی نہیں سکا ٗ پھر خود کو سنبھال کر ایسی بات بولا کہ یسریٰ اپنی راہ بدل لے ٗ مگر یسریٰ بھی اپنے عزائم کی پکی اور محبت کی سچی تھی کہ محبت پر جان وارنے پر ہر لحظہ تیار تھی۔
’’تمہاری شادی جہاں ہو رہی ہے ٗ وہیں کر لو۔‘‘
’’ایسی کوئی بات نہ کہیں اسجد! ورنہ میں مر جائوں گی۔‘‘
’’ہر وقت مارنے مرنے پر کیوں تل جاتی ہو ٗ مرنا تمہارے نزدیک اتنا ہی آسان ہے؟‘‘ وہ جو اس کے انکشاف پر دکھی تھا یکدم غصے میں آ گیا۔
’’میرے لئے زندگی آسان کب ثابت ہوئی جو موت آسانی سے مہربان ہو جاتی ٗ مرنے چلی تھی میں آپ کی محبت میں ٗ مگر صرف ٹانگیں گنوائی ہیں ٗ مگر ایسا ہر بار تو نہیں ہوگا۔‘‘
’’تم جذبات میں آکر کوئی غلط قدم نہیں اٹھائو گی۔‘‘
’’میں آپ کو پانے کیلئے سب کچھ کر سکتی ہوں ٗ کسی کی جان لینا پڑے ناں تو وہ بھی کر سکتی ہوں ٗ مگر میں آپ کو مجبور نہیں کر سکتی ٗ آپ چاہیں تو میری شادی روک سکتے ہیں ٗ چاہیں تو مجھے اپنا بھی سکتے ہیں ٗ مگر آپ ایسا کرنا ہی کب چاہتے ہیں؟‘‘
’’یسریٰ! تم مجھے غلط…!‘‘
’’غلط میں آپ کو نہیں سمجھ رہی ٗ آپ نے مجھے سمجھا تھا ٗ مجھے وقت گزاری کا ذریعہ سمجھا۔‘‘
’’یسریٰ! ایسی بات نہیں ہے۔‘‘
’’یہی بات ہے ٗ جب تک آپ کو بہتر لگا میرے ساتھ محبت کا ڈرامہ رچایا اور اب دل بھر گیا ہے تو اپنے والدین کے راضی نہ ہونے اور منگنی ہو جانے کی دہائیاں دے کر خود کو مجبور ظاہر کر رہے ہیں ٗ مجبور آپ کب ہیں ٗ مجبور تو میں آپ کی محبت میں اتنی ہو گئی کہ اپنے منہ سے خود کہا کہ آپ میرا رشتہ لے کر آئیں ٗ تف ہے مجھ پر اور میری محبت پر ٗ جس نے مجھے اتنا بے بس و کمزور کر دیا کہ میں اپنی ذات کا غرور آپ کے قدموں میں رکھ گئی۔‘‘
’’پلیز ٗ یسریٰ! ایسی باتیں خدا کیلئے نہ کرو۔‘‘
’’آپ ہی بتایئے پھر میں کیا کروں؟‘‘ اسی سے سوال پوچھ بیٹھی تھی۔
’’تم مجھے پوری بات تو بتائو کہ آخر تمہاری خالہ شادی کر کس سے رہی ہیں؟ ہو سکتا ہے وہی شخص تمہارے لئے پرفیکٹ ہو ٗ میں تو ابو کو راضی تک نہیں کر سکا۔‘‘ کہتے کہتے بے بسی و افسردگی اس پر طاری ہو گئی تھی۔
’’اسجد! وہ 60 سال کا بڈھا میرے لئے پرفیکٹ لگتا ہے آپ کو؟ جس نے خالہ کو اتنا پیسہ دے دیا ہے کہ وہ لالچ میں آکر میری اس سے شادی کر رہی ہیں ٗ وہ مجھے شادی کے بعد علاج کیلئے باہر لے جائے گا ٗ مگر میں ایسا کچھ نہیں چاہتی ٗ اس بڈھے سے شادی کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ میں تا عمر ایسی ہی اپاہج رہوں ٗ میرا آج شام اس سے نکاح ہے ٗ مگر اس سے نکاح پڑھوانے سے کہیں بہتر یہ ہے کہ میں زہر کھا لوں۔‘‘ اس کے لہجے میں قطعیت تھی جو اسجد کو ڈرا گئی کیونکہ وہ اس کا پاگل پن دیکھ چکا تھا۔
’’تم کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کرو گی یسریٰ!‘‘
’’میں تنگ آ گئی ہوں اپنی زندگی سے۔‘‘
’’تمہاری زندگی صرف تمہاری نہیں ہے ٗ مجھ سے محبت کرتی ہو ناں ٗ تو اپنے ساتھ کچھ غلط نہیں کرو گی ٗ میرا تم سے وعدہ ہے جو تم چاہو گی وہی ہوگا ٗ میں تمہاری شادی تمہاری مرضی کے خلاف نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ اسجد نے دل کی سچائی سے کہا کیونکہ نوید عالم راضی ہو جاتے تو وہ کب کا اسے اپنی زندگی میں شامل کر چکا ہوتا ٗ مگر باپ کی ضد کہئے یا حکم کے آگے وہ مجبور تھا اور اپنے دل اور یسریٰ کی ضد اور خوشی کے آگے بھی وہ مجبور ہو رہا تھا۔
٭٭٭
’’آپ کس طرح اپنی بھانجی کی شادی ایک عمر رسیدہ شخص سے کر سکتی ہیں؟‘‘ اسجد کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ان کو کیسے روکے ٗ جو اس کی کچھ سننا ہی نہیں چاہ رہی تھیں۔
’’اس کیلئے پرستان سے کوئی شہزادہ نہیں آنے والا ٗ یہ رشتہ ہی غنیمت ہے آج کل جہاں خوبصورت و خوب سیرت اور بے عیب لڑکیوں کے رشتے نہیں ہیں تو میں کہاں اپنی لنگڑی بھانجی کیلئے رشتے ڈھونڈتی پھروں گی؟‘‘ عارفہ کا لہجہ تند و سخت تھا۔
’’وہ صحت یاب ہو جائیں گی ڈاکٹرز پر امید ہیں ٗ وہ پھر سے اپنے پیروں پر چلنے لگیں گی۔‘‘ اسے ان کا یسریٰ کو منہ اٹھا کر لنگڑی کہہ دینا سخت برا لگا تھا۔
’’ہو سکتا ہے اور میں کہاں اتنی لینڈ لارڈ ہوں کہ اس کا علاج کروا سکوں ٗ صابر صاحب ٗ اس کا علاج بھی کروائیں گے ٗ وہ بہت امیر اور پیسے والے ہیں۔‘‘ عارفہ کی جیسے رال سی ٹپکنے لگی۔
’’نکاح کے فوراً بعد انہوں نے 5 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔‘‘ یہ رقم ہرگز بھی معمولی نہیں تھی ٗ صابر ان کے شوہر کے دور پرے کے رشتے دار تھے اور ایک دن اچانک ان کے ہاں چلے آئے تھے ٗ صابر کی بیوی عرصہ پہلے مر گئی تھی ٗ دونوں بیٹوں اور تینوں بیٹیوں کی وہ شادی کر چکے تھے اور فطرتاً رنگین مزاج تھے ٗ ایک بیوی کو طلاق دے چکے تھے ٗ جب یسریٰ کو دیکھا تو مانوں اس کے سادہ حسن پر دل ہار بیٹھے ٗ اکثر ان کے ہاں آنے لگے ٗ جب آتے لدے پھندے ہی آتے ٗ اس لئے عارفہ کو ان کی آمد کافی بھلی لگتی تھی اور اس دوران وہ یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ یسریٰ کی اس گھر میں معمولی سی بھی اہمیت نہیں ہے ٗ اس لئے بلا جھجک انہوں نے رشتہ ڈال دیا ٗ مگر عارفہ کا بیٹا بھڑک اٹھا اور اس رشتے کی اس نے بے حد مخالفت کی ٗ کیونکہ وہ یسریٰ سے شادی کرنا چاہتا تھا اور اس کی مخالفت پر نادر بھی حمایتی بن گئے ٗ اس لئے عارفہ نے کچھ دنوں کیلئے خاموشی اختیار کر لی ٗ کیونکہ وہ صابر سے اس عرصے میں کافی پیسہ وصول کر چکی تھیں ٗ مگر جب یسریٰ کو تمام صورتحال پتہ چلی تو اس نے اسجد سے رابطہ کیا اور اس کے بتانے پر کہ اس کی منگنی ہو چکی ہے اور وہ اس سے شادی نہیں کر سکتا ٗ وہ جو پہلے ہی حالات اور رشتوں کی ماری تھی ایک بڈھے سے شادی کرنے سے کہیں بہتر اس نے خود کشی کرنے کو سمجھا اور غصے و جذبات میں آ کر اس نے انتہائی قدم اٹھا لیا اور وہ بیساکھیوں کی محتاج ہو گئی ٗ ناظر نے یہ دیکھتے ہوئے اپنے قدم پیچھے ہٹا لئے اور جب صابر نے 5لاکھ نقد دینے کا وعدہ کیا تو عارفہ کے ساتھ نادر اور ناظر بھی اس رشتے کے حامی ہو گئے اور یسریٰ کے لاکھ انکار کرنے کے باوجود ان لوگوں نے اس کا رشتہ صابر سے طے کر دیا اور آج اس کا نکاح تھا۔
’’علاج کی آپ فکر نہ کریں ٗ اب تک میں نے علاج کروایا ہے ٗ آگے بھی…!‘‘
’’بہت مہربانی تمہاری ٗ مگر اب تمہارا کام ختم ہو گیا ٗ بہتر ہوگا تم ہمارے نجی معاملات میں دخل اندازی نہ کرو اور یہاں سے چلتے پھرتے نظر آئو۔‘‘ عارفہ نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لی تھیں ٗ ورنہ اس کے آگے بچھ بچھ جاتی تھیں ٗ کیونکہ وہ انہیں اچھی خاصی رقم دے رہا تھا ٗ وہ اس بات سے انجان تھیں کہ یسریٰ اور اسجد کا کوئی افیئر ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں کیونکہ ظاہر یہی کیا تھا اسجد نے کہ ایکسیڈنٹ اس کی غلطی سے ہوا تھا ٗ جس کا وہ کفارہ ادا کر رہا ہے اور بس۔
’’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کس طرح اس لڑکی کے اپنے ہیں ٗ جو اسے جان کر کھائی میں دھکیل رہے ہیں۔‘‘ اس کا ضبط جواب دینے لگا ٗ مگر وہ ان سے کوئی بدتمیزی کرکے بات نہیں خراب کرنا چاہ رہا تھا ٗ اس لئے ان کے بدتمیزی سے اکھڑ لہجے میں کہنے پر بھی رسانیت سے بولا۔
’’ہم جیسے بھی ہوں ٗ تمہیں کاہے کو اتنا درد اٹھ رہا ہے؟ شرافت سے یہاں سے چلے جائو ٗ فضول میں تماشہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے ٗ ہمارے مہمان آ گئے ہیں ٗ ان کے سامنے بکواس مت کرنا۔‘‘ صابر صاحب کو دو ہم عمر دوستوں اور قاضی کے ساتھ شوہر کو اندر لاتے دیکھ کر وہ دبے دبے انداز میں غرائی تھیں۔
’’مجھے آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے۔‘‘ نکاح خواں کے ساتھ بیٹھے بلیک تھری پیس میں کافی زیادہ عمر کے صابر کو دیکھ کر وہ نادر کے پاس آ رکا اور وہ بدنظمی پھیلنے کے ڈر سے وہاں سے اٹھ کر اس کے ساتھ آ گئے ٗ اس نے ہر طرح سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی ٗ مگر وہ بیوی کی زبان بول رہا تھا۔
’’اجی آپ کیا اس کے ساتھ بیٹھے باتیں بگھارتے رہو گے ٗ وہاں صابر صاحب اور قاضی انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی تھیں اور ایک زبردست گھوری اس پر ڈالی تھی ٗ ہر کوشش ناکام ہوتے دیکھ کر اس نے ایک فیصلہ لیا تھا اور اس کی بات ان دونوں میاں بیوی کو ششدر کر گئی تھی۔
’’ہوش میں تو ہو ٗ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’میں نے کوئی بہت مشکل بات تو نہیں کہہ دی جو آپ کو سمجھ نہیں آ رہی ٗ اس صابر نے آپ کو جتنا پیسہ دیا ہے میں دینے کو تیار ہوں ٗ اس کے علاوہ بھی کوئی شرط ہے تو بتا دیں ٗ مجھے ماننے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘ اسجد کا اطمینان قابل دید تھا اور وہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی شکل تک رہے تھے۔
’’تمہیں آخر اس سے اتنی ہمدردی کیوں ہے؟‘‘ عارفہ جو پہلے ہی حیران تھیں اب ان کا ماتھا بری طرح ٹھٹھک گیا کیونکہ ان بے وقوف لالچی لوگوں نے تو یہ بھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی کہ اسجد کو یسریٰ کے نکاح کا علم کیسے ہوا؟
’’میں ہمیشہ اپنے ضمیر کا مجرم بن کر نہیں رہنا چاہتا ٗ اس لئے مجھے اس لڑکی سے ہمدردی ہے اور آپ لوگوں کو اعتراض نہیں ہے تو میں ابھی نکاح کرنے کو تیار ہوں۔‘‘
’’اور اگر ہم انکار کر دیں‘‘ نادر نے اس کی جانب دیکھا۔
’’کوئی بات نہیں ٗ میں تو ویسے ہی ازراہ مروت کر رہا ہوں ٗ اگر آپ انکار کر دیں گے تو میں پھر پولیس کو بلائوں گا۔‘‘
’’پولیس کو کیوں بلائو گے؟‘‘ عارفہ چہک کر بولیں۔
’’اس لئے کہ آپ لوگ ایک مجبور بے سہارا لڑکی کی شادی بغیر اس کی مرضی کے اس سے دوگنا بڑے شخص سے کر رہے ہیں ٗ لڑکی راضی ہوتی تو اور کوئی بات تھی ٗ مگر اب آپ لوگ اریسٹ بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘ اسجد نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا تھا اور ان دونوں کی گھگی سی بندھ گئی تھی ٗ کیونکہ ایکسیڈنٹ کے بعد وہ لوگ جب ہاسپٹل گئے تھے ٗ وہاں پولیس موجود تھی اور اسجد سے بہت اچھے طریقے سے پیش آ رہی تھی ٗ جس سے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ ان کی جان پہچان اوپر تک ہے ٗ وہ لوگ تو یہی سمجھے تھے جبکہ بات کوئی اور تھی ٗ ارحم اس کا کزن اور اس کے ساتھ چند سپاہی تھے ٗ پولیس کا نام سن کر وہ دونوں دھیمے پڑ گئے ٗ انہیں تو پیسے سے مطلب تھا اور وہ پیسہ انہیں اسجد سے مل رہا تھا ٗ اس لئے انہوں نے لمحوں میں جا کر صابر کو فارغ کر دیا ٗ صابر جانے کو راضی نہ تھا ٗ بہت شور مچایا اور 2 لاکھ روپوں کا مطالبہ بھی کر دیا ٗ جو وہ گزرے 6 ماہ میں انہیں دے چکا تھا ٗ اسجد نے فوراً ہی مطلوبہ رقم کا چیک کاٹ کر ان کے حوالے کر دیا ٗ اس کے جاتے ہی نکاح خواں نے ان دونوں کا نکاح پڑھا دیا اور اسجد 5 لاکھ کا چیک کاٹ کر ان کے حوالے کرتا دستاویزی طور پر اس بات کا وعدہ لیتا کہ وہ لوگ یسریٰ سے کبھی رابطہ نہیں کریں گے ٗ اگر کوشش کی تو 7لاکھ کی رقم انہیں یکمشت ادا کرنی ہو گی ٗ وہ یسریٰ کو لئے ہمیشہ کیلئے اس آدھے کچے پکے مکان سے نکل آیا ٗ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس سے توقیرنے پوچھا۔
’’کہاں چلنا ہے؟‘‘ توقیر اس کا بچپن کا دوست تھا ٗ جس کو اس نے ایڈریس سمجھا کر فوراً پہنچنے کو کہا تھا ٗ یسریٰ سے اس کی اٹیچمنٹ اسی کے آفس میں ہوئی تھی ٗ کیونکہ یسریٰ اس کی سیکریٹری تھی وہاں دیکھا اور دونوں کو محبت ہو گئی اور اسجد کے کہنے پر ہی اس نے جاب چھوڑ دی تھی۔
’’جانا تو گھر ہی چاہتا ہوں ٗ مگر ابو نے سختی سے کہہ دیا ہے کہ میں نے کبھی ایسا قدم اٹھایا تو وہ مجھے عاق کر دیں گے اور تو جانتا ہے ابو جتنے نرم ہیں اس سے کہیں زیادہ سخت ہیں ٗ کبھی اپنی بات سے پھرتے نہیں ہیں اور نکاح کا سن کر اگر پھپھو نے قطع تعلقی کر لی تو ابو مجھے پھر تو کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘‘ وہ ساری بات اور مسئلے جان کر بھی ان مسئلوں میں خود کو صرف یسریٰ کی خاطر الجھا بیٹھا تھا کہ پوری دنیا میں ہزاروں لڑکیوں کو دیکھ کر صرف اسی کو اپنا بنانے کا خیال دل کی سرزمین پر محبت بن کر جگمگایا تھا اور وہ اس کو آزمائشوں کی نظر نہیں کر سکتا تھا جکہ آزمائشیں تو اب بھی تھیں ٗ مگر وہ مطمئن تھا ٗ یہ سوچ کر کہ اس نے محبت کو رسوا نہیں ہونے دیا ٗ جس وقت اس کی محبت کو اس کی ضرورت تھی ٗ اس نے قدم پیچھے نہیں ہٹائے تھے۔
’’دیکھ ایسی بات ہے نا تو تو فی الحال بھابی کو گھر مت لے جا ٗ اچانک جائے گا تو سب ہی کو صدمہ لگے گا اس لئے بعد میں کچھ وقت گزر جانے کے بعد انکل کو راضی کرنا اور وہ نہ ہوں تو پھر آنٹی کو راضی کرنے کی کوشش کرنا۔‘‘ توقیر نے مشورہ دیا تھا۔
’’وہ سب ٹھیک ہے توقیر! مگر اس وقت یسریٰ کو کہاں لے جائوں؟‘‘ اس کا انداز پرسوچ تھا جبکہ وہ بیک سیٹ پر سر جھکائے بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ٗ وہ کب یہ سب چاہتی تھی ٗ مگر اس نے 8 سال کی عمر سے ہی محرومیاں دیکھی تھیں ٗ جب سے اسجد اس کی زندگی میں آیا تھا ٗ مانو زندگی میں بہار آ گئی تھی اور جسے وہ خزاں میں بدلنے نہیں دینا چاہتی تھی اور اسجد کو وہ بھلا بھی نہیں پا رہی تھی اس نے اسجد کو مجبور خود غرضی میں نہیں اپنے حالات اور دل سے ہو کر کیا اور وہ اس کے ساتھ فیئر تھی اس لئے ہر طرح کی اچھی و بری سچوایشن سے نبردآزما ہونے کیلئے تیار تھی ٗ ان دونوں کی باتیں سن کر کچھ کہنا چاہتی تھی مگر پھر اس نے سوچا کہ اسجد خود فیصلہ کرے تاکہ وہ اس میں اس کا ساتھ دے سکے ٗ اس لئے بڑی خاموشی سے بیٹھی نیر بہا رہی تھی ٗ کیونکہ یہی ایک کام وہ بچپن سے بہت اچھے طریقے سے کرتی آئی تھی۔
’’رہائش کا مسئلہ ہے تو میرا اپارٹمنٹ ہے ٗ تم بھابی کو وہاں رکھ سکتے ہو۔‘‘ توقیر نے دوستانہ انداز میں آفر کی تھی۔
’’رہائش کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے توقیر! رہنے کیلئے جگہ تو کرائے پر بھی لی جا سکتی ہے مگر میں یسریٰ کو اکیلے کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟‘‘ اس نے اصل مسئلہ دوست کو بتایا۔
’’اس کی تو فکر نہ کر ٗ بوا جی ہیں ناں‘‘
’’میں سمجھا نہیں توقیر!‘‘ اس نے ڈرائیو کرتے توقیر کو دیکھا۔
’’سب سمجھ جائے گا ٗ تو فی الحال بھابی کو لے کر میرے اپارٹمنٹ پر چلا جا ٗ میں کچھ دیر میں بوا جی کو لے کر آ جاتا ہوں۔‘‘ توقیر نے پوری بات بنا بتائے اسے اپنے اپارٹمنٹ کے سامنے اتار کر چابی دی اور خود وہیں سے پلٹ گیا اور وہ یسریٰ کو لئے اپارٹمنٹ کے اندرونی حصے کی جانب بڑھنے لگا۔
٭٭٭
’’زبردست ٗ آج کیسے دوست کی یاد آ گئی؟‘‘ وہ جو سو رہا تھا اٹھتے ہوئے بولا۔
’’مجھے تو آ ہی گئی ٗ تجھے کون سی توفیق ہو جاتی ہے اور یہ بے ٹائم کا سونا کیوں منایا جا رہا ہے؟‘‘ سنڈے کے دن فیصل نے سمیرا کو اس کے ڈیڈی کی طرف چھوڑا اور خود کنعان کی طرف نکل آیا اور شام کے ساڑھے 6 بجے اسے سوتے دیکھ کر کچھ حیرت سی ہوئی تھی۔
’’کچھ کرنے کو نہیں تھا ٗ گھر میں بھی کوئی نہیں ہے ٗ ٹی وی دیکھتے دیکھتے آنکھ لگ گئی ٗ تو سنا بھابی کیسی ہیں؟ ساتھ لے آتا۔‘‘
’’انکل آنٹی آ جائیں تب لے آئوں گا ٗ ویسے بھی ماموں جان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ٗ اس لئے سمیرا اکثر وہیں ہوتی ہے ٗ کتنی ہی دعوتیں ہم نے اسی وجہ سے کینسل کر دیں کہ سمیرا میکے میں ہوتی ہے ٗ بس دعا کرو ماموں جان ٹھیک ہو جائیں۔‘‘
’’انکل کو بیماری کیا ہے؟‘‘
’’بلڈ کینسر… وہ بھی آخری اسٹیج پر ہے ٗ ڈاکٹرز نے تو جواب دے دیا ہے ٗ مگر کہتے ہیں ناں جب تک سانس ہے تب تک آس ہے ٗ بس اب تو آس ہی رہ گئی ہے۔‘‘ وہ دل گرفتہ ہو گیا اور اسے اس کیفیت سے نکالنے کو وہ بولا۔
’’یار! تو نے اب تک بتایا نہیں کہ تیری شادی ہو کیسے گئی؟‘‘
’’کیا مطلب کہ میری شادی کیسے ہو گئی؟‘‘ اس نے ابرو چڑھائے تھے۔
’’آئی مین سمیرا بھابھی! سے کیسے ہو گئی ٗ جہاں تک مجھے یاد ہے یہ تمہاری وہی کزن ہے جس کی حرکتوں سے تم نالاں رہتے تھے؟‘‘ وضاحت کرتے ہوئے بات بڑھائی تھی۔
’’تمہاری یاد داشت بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے اور سچائی بھی یہی ہے کہ مجھے سمیرا کی بچکانہ حرکتیں سخت ایری ٹیٹ کرتی تھیں اور اسے لے کر میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا ٗ مگر مامی جان کی وفات کے بعد ماموں جان سمیرا کے رشتے کو لے کر بہت پریشان تھے ٗ کیونکہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اور وہ اپنی زندگی میں ہی اکلوتی بیٹی کی شادی کر دینا چاہتے تھے جبکہ سمیرا اس وقت محض میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی ٗ مگر ماموں جان کی فکر کو دیکھتے ہوئے مما نے سمیرا کو اپنی بہو بنانے کا ارادہ کر لیا ٗ میں نے سمیرا سے شادی نہ کرنے کی مما سے بات کی تھی ٗ لیکن جب فضیل بھائی نے کہا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتے ہیں اور اسی سے شادی کریں گے تو میں نے مما اور ماموں کی خوشی کیلئے ہاں کر دی اور تو تو ویسے بھی جانتا ہے کہ میری زندگی میں کوئی لڑکی دور دور تک نہیں تھی ٗ اس لئے میں نے سمیرا سے شادی کی حامی بھر لی کیونکہ وہ ان میچورڈ تھی ٗ ساری عمر تو اسے ایسے نہیں رہنا تھا ٗ اس میں ابھی بھی بچپنا ہے ٗ دماغ سے کم جذباتی ہو کر دل سے زیادہ سوچتی ہے ٗ مگر اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ وہ جیسی بھی ہے میری بیوی ہے ٗ میں اپنے فیصلے اور اقدام سے خوش ہوں۔‘‘
’’صرف خوش ہے یا تجھے بھابی سے محبت و حبت ہو گئی ہے؟‘‘ اس کے سچائی سے کہنے پر کنعان شریر ہوا تھا۔
’’اوبو یسلی یار!! وہ بیوی ہے میری ٗ مجھے اس سے محبت بھی ہے۔‘‘
’’بیوی سے ضروری نہیں ہے کہ محبت بھی ہو ٗ لوگ ایسے ہی تو نہیں کہتے کہ میاں بیوی کا رشتہ محض ضرورت کا ہوتا ہے۔‘‘ ماہ کنعان نے اس کی بات قطع کرکے سنی ہوئی بات کہی تھی۔
’’لوگ کہتے ہیں تو ضرور اس میں سچائی ہو گی ٗ لیکن میں اس سچائی کا حصہ نہیں ہوں ٗ کیونکہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ٗ سمیرا جب تک میری کزن تھی اس کیلئے میں نے اس لحاظ سے اپنے دل میں سوفٹ کارنر محسوس نہیں کیا تھا ٗ کیونکہ میں شادی سے قبل کی محبت کا نہ قائل تھا اور نہ ہی ایسی واردات مجھ پر گزری ٗ لیکن جس دن اس کے جملہ حقوق میرے نام ہوئے ٗ میرے دل کی حالت بڑی عجیب تھی اور جب سولہ سنگھار کئے میرے کمرے میں موجود اس کے وجود پر میری نگاہ پڑی تھی تو یقین کر نہ کر ٗ مگر میرا دل اسی لمحے میرے سینے سے نکل کر اس کا ہو چلا تھا کہ میں تو سمیرا کو کب سے چاہ رہا تھا ٗ مگر اندازہ اب ہوا ہے ٗ سمیرا کو میں اس لئے سوچتا ہوں کہ وہ میری بیوی ہے ٗ اس کی پرواہ بھی اس لئے کرتا ہوں کہ یہ اس کا حق ہے ٗ مگر وہ میری ضرورت نہیں ہے ٗ وہ میری محبت ہے اور اس کا ثبوت اتنا ہی ہے کہ میں اس کی پرواہ دنیا دکھاوے کیلئے نہیں اپنے دل کی خوشی کیلئے کرتا ہوں ٗ کیونکہ میں اس کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں ٗ اگر وہ کوئی ضد کرتی ہے تو میں عام شوہروں کی طرح اسے جھڑکتا نہیں ہوں ٗ اس کی ضد پوری کرنا میرے اختیار میں ہوتا ہے تو کرتا ہوں ٗ ورنہ اسے پیار سے سمجھا لیتا ہوں ٗ وہ میرے کام کرتی ہے تو مجھے اچھا لگتا ہے مگر میں اسے حکم نہیں دیتا کہ وہ میرے کام کرے ٗ میں نے اس سے کبھی اپنے جوتے صاف کروانا تو دور اٹھوائے تک نہیں ٗ شادی سے پہلے میرے موزے کون دھوتا تھا مجھے نہیں پتہ ٗ مگر اب میں خود دھوتا ہوں ٗ کیونکہ مجھے نہیں پسند کہ سمیرا میرے موزے دھوئے ٗ میرے جوتوں کو ہاتھ لگائے ٗ میں اس سے سر دبوا لیتا ہوں ٗ مگر پائوں کبھی نہیں دبوائے۔‘‘
’’یہ تیری اچھی نیچر ہے ٗ کیا میں نے نہیں دیکھا کہ تو انجان عورتوں کو دیکھ کر کیسے نظریں جھکا لیتا ہے ٗ ان کا احترام کرتا ہے تو وہ تو پھر تیری بیوی ہے۔
