Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05

’’شاز! بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ راحم اسے پرشوق نگاہوں سے تک رہا تھا۔
’’کیا مطلب… صرف پیاری لگ رہی ہوں؟ میں پیاری ہوں نہیں۔‘‘
’’تم کیا کچھ ہو ٗ میرے اس دل سے پوچھ کے دیکھو۔‘‘ اس کی شرارت سمجھتے ہوئے بھی وہ نہایت شرارت سے کہتا اس کا ہاتھ تھام کر سینے پر دائیں جانب لگا گیا تھا اور وہ بری طرح گھبرا گئی تھی۔
’’یہ کیا کر رہے ہیں راحم! کوئی دیکھ لے گا۔‘‘ وہ ہاتھ چھڑا رہی تھی ٗ مگر وہ اور زیادہ اس کے ہاتھ پر گرفت کرتا اس کے نزدیک بڑھ رہا تھا اور وہ پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے جا ٹکرائی تھی ٗ ڈر کے مارے چیخ بلند ہوتی کہ وہ اس کے منہ پر اپنی چوڑی ہتھیلی جما گیا تھا۔
’’اب بتانا شروع کروں کہ تم کتنی پیاری ٗ اچھی خوبصورت اور ساحرہ ہو کہ بری طرح مجھے اپنے سحر میں جکڑ چکی ہو۔‘‘ وہ وارفتگی سے کہتا اس کا دل دھڑکا گیا تھا ٗ وہ اس کے چہرے پر جھکا ہی تھا کہ دروازہ بری طرح دھکیل کر کوئی بولتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا اور وہ اس کی کلائی چھوڑ جلدی سے فاصلہ قائم کر گیا تھا۔
’’آپ… شازمین بجو کے روم میں کیا کر رہے ہیں؟‘‘ حنین اس کو دیکھ کر متحیر تھی۔ وہ خود کو سنبھال چکا تھا ٗ مگر شازمین خود کو کنٹرول نہ کر سکی تھی اور نگاہیں تھیں کہ زمین پر گڑی ہوئی تھیں ٗ وہ تو یہ سوچ کر ہی پسینہ پسینہ ہو رہی تھی کہ حنین کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کرتا؟
’’اوہ… سمجھی ٗ چوری چھپے ملنے آئے تھے نا ٗ جیسے فلموں میں ہیرو ٗ ہیروئن سے ملنے آتا ہے۔‘‘ اس نے قیاس آرائی کی تھی۔
’’اور تھوڑی ہی دیر میں ولن کی انٹری ہو جاتی ہے۔‘‘ وہ پہلے تو کچھ سمجھی نہیں ٗ مگر جیسے ہی راحم کی بات سمجھ آئی تھی وہ اس پر چڑھ دوڑی تھی۔
’’راحم بھیا! آپ مجھے ولن کہہ رہے ہیں؟ دیکھئے اب میں کیا کرتی ہوں ٗ پورا ولن کا رول پلے کروں گی‘ سب کو جا کر بتائوں گی کہ آپ بجو کے روم میں ان کا ہاتھ پکڑے کھڑے تھے۔‘‘ حنین کا جتاتا ہوا لہجہ شازمین کو سن کر گیا تھا۔
’’یار! مذاق کر رہا تھا میں اور تم نیچے جا کر بے شک سب کے سامنے کہہ دو ٗ مجھے تو ممانی جان نے شازمین کو بلانے بھیجا تھا۔‘‘
’’بلانے بھیجا تھا ٗ ہاتھ پکڑنے کیلئے تو نہیں۔‘‘
’’کیوں مروائو گی حنین! میری اچھی بہن نہیں ہو ٗ کسی سے…!‘‘
’’کچھ نہیں کہوں گی ٗ میں تو بس آپ کو ڈرا رہی تھی ٗ ولن کہا تھا نا آپ نے ٗ صرف اس لئے۔‘‘ وہ ان دونوں کی جان نکالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے ہوئے مزے سے ہنس رہی تھی۔
’’آپ نے مجھے یہ بھی بھلا دیا کہ بجو کے پاس کس کام سے آئی تھی۔‘‘ وہ کمرے میں جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی تھی۔
’’شاز…!‘‘
’’بات نہ کریں مجھ سے اور پلیز جائیں یہاں سے۔‘‘
’’اچھا اب روئو تو نہیں ٗ میں صرف تمہیں تنگ کر رہا تھا۔‘‘
’’آپ نے سوچا ہے حنین کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا ہوتا؟‘‘
’’کچھ نہیں ہوتا ٗ تم رونا بند کرو ٗ اتنی اچھی لگ رہی ہو ٗ کیوں آنسوئوں سے میک اپ کو دھو دینا چاہتی ہو؟‘‘ اس نے آنسو صاف کرنے کو ہاتھ بڑھایا تھا ٗ جسے جھٹکتی وہ اسے گھورتے ہوئے خود ہی کمرے سے نکل گئی تھی۔
٭٭٭
وہ سب انٹرینس پر گلاب کی پتیوں سے بھری پلیٹیں تھامے کھڑی تھیں ٗ جیسے ہی دولہا والے آئے تھے وہ الرٹ ہو گئی تھیں ٗ آگے آگے چلتے دولہوں کے ساتھ ان کے دوست اور پیچھے گھر کے افراد کے ساتھ دیگر اقارب ہال میں انٹر ہونے لگے تھے اور وہ پتیاں نچھاور کرتیں ان آنے والے مہمانوں کا استقبال کر رہی تھیں۔
’’ارحم بھیا! آپ دولہا کے دوست بن کر آئے ہیں ٗ اپنی خیر منایئے گا۔‘‘
’’کیوں بھئی! دولہا کے دوستوں کے ساتھ تم لوگ کون سی تخریب کاری کرنے کا پلان بنائے بیٹھی ہو؟‘‘ وہ شرارت سے حنین کو دیکھتا ہوا بولا تھا۔
’’وہ تو بعد میں ہی پتہ چلے گا ٗ کیوں شازمین بجو؟‘‘ اس نے ہنستے ہوئے سامنے کھڑی شازمین کی حامی چاہی تھی اور وہ محض مسکرا دی تھی اور اس کا یہ مسکراتا روپ راحم کے کیمرے میں مقید ہو گیا تھا ٗ فلیش کی روشنی پڑنے پر اس نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تھا اور راحم کے اسمائل پاس کرنے پر منہ پھیر کر کھڑی ہو گئی تھی ٗ جو اس بات کا اظہار تھا کہ وہ اس سے کچھ خفا ہے ٗ فیصل کے ساتھ کھڑے ماہ کنعان نے ایک نظر اس پر ڈالی تھی اور جو پلٹ کر آنے میں کافی وقت لگا گئی تھی۔ پنک کلر کے شرارے سوٹ میں ٗ سلور جیولری ٗ لائٹ پنک میک اپ کئے میچنگ چوڑیاں کلائیوں میں سجائے وہ مسکراتے ہوئے ارحم الحسن کو دیکھ رہی تھی ٗ اس نے ماہ کنعان کو آتے ہوئے دیکھا تھا ٗ مگر وہ اسے نظر انداز کر گئی تھی۔ اس کے ایک ہاتھ میں پلیٹ تھی اور دوسرے ہاتھ سے پتیاں نچھاور کر رہی تھی ٗ اس نے مٹھی میں پتیاں بھری تھیں ٗ ڈالنے کو ہاتھ بلند کیا تھا اس کی تصویر لینے کیلئے راحم نے اسے مخاطب کیا تھا وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی اور ہاتھ یونہی اٹھا کا اٹھا رہ گیا تھا ٗ ماہ کنعان آگے بڑھا تھا اور اس کا ہاتھ اس کے سینے سے ٹکرا گیا تھا ٗ اس کی مٹھی کھلی تھی اور پتیاں اس کے قدموں میں جاگری تھیں ٗ ٹکر اتنی زور سے ہوئی تھی کہ اس کی کتنی ہی چوڑیاں ٹوٹ کر ماہ کنعان کے قدموں میں ڈھیر ہو گئی تھیں ٗ دوسرے ہاتھ میں موجود کانچ کی پلیٹ اس کے ہاتھ سے یکبارگی چھوٹی تھی اور اس کے پائوں پر آ گری تھی ٗ اس کی چیخ بہت بے ساختہ تھی۔
’’ممی…!‘‘ سب ہی اسے پریشانی سے دیکھنے لگے تھے۔
’’آر یو اوکے؟‘‘ ارحم ٗ فضیل کے پہلو سے نکل کر اس تک پہنچا تھا۔
’’میں… میرا پائوں… ارحم بھیا! بہت تکلیف ہو رہی ہے۔‘‘ وہ ضبط کرتے ہوئے بولی تھی ٗ ارحم اس کا بازو تھامے اسے بھیڑ سے نکال کر کرسی تک لایا تھا اور قدرے جھک کر اس کے پائوں کا جائزہ لینے لگا تھا ٗ سلور نازک سی چپل میں مقید اس کے نازک پیر سے کانچ کا کوئی ٹکڑا چبھ جانے کے باعث لہو رس رہا تھا۔
’’مامی! میں حنین کو ہاسپٹل لے جاتا ہوں۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں ہے بھیا! میں نے فرسٹ ایڈ باکس منگوایا ہے ٗ بیڈیج ہی تو کرنی ہے۔‘‘ راحم بولا تھا جبھی ویٹر فرسٹ ایڈ باکس لئے چلا آیا تھا۔
’’حنین! رو نہیں ٗ ابھی میں بیڈیج کر دیتا ہوں۔‘‘ ارحم نے کہتے ہوئے اسے سہارا دے کر ٹیبل پر بٹھایا تھا اور خود کرسی پر بیٹھ کر بینڈیج کرنے لگا تھا۔
’’حنین! بس چپ کر جائو ٗ سارا کاجل پھیل گیا ہے۔‘‘ سب ہی متفکر سے وہیں کھڑے تھے ٗ فریدہ نے بمشکل اسے پانی پلا کر چپ کروایا تھا اور بیٹے سے بولی تھیں۔
’’ارحم! تم سب کو لے کر اندر جائو ٗ اتنا سیریس میٹر نہیں ہے۔‘‘
’’پھپھو! مجھے گھر جانا ہے۔‘‘
’’حنین! کیسی باتیں کر رہی ہو بیٹا!‘‘ ساجدہ نے اس کا بازو تھاما تھا۔
’’ممی! مجھے ابھی گھر جانا ہے۔‘‘ وہ ضدی لہجے میں بولی تھی۔
’’میں ایسا کرتا ہوں حنین کو گھر چھوڑ آتا ہوں ٗ زرمین صرف اس سے ناراض ہی تو ہو گی کہ یہ اس کی شادی اٹینڈ کئے بغیر چلی گئی ٗ چلو آئو حنین۔‘‘
’’ارحم بھیا! میں خود کب ایسے جانا چاہتی ہوں ٗ زرمین آپی کو تو میں ناراض کر ہی نہیں سکتی ٗ بٹ مجھ سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا ٗ بہت تکلیف ہو رہی ہے۔‘‘
’’حنین بیٹا! ہم سب ہیں نا تمہارا خیال رکھنے کیلئے اور تم کھڑی مت رہنا ٗ تم اپنی زرمین آپی کے ساتھ بیٹھ جانا اوکے!‘‘ راشدہ نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے پیار سے کہا تھا۔
’’اوکے ٗ آپ سب لوگ جائیں ٗ میں کچھ دیر میں آ جائوں گی۔‘‘ وہ زبردستی مسکرائی تھی ٗ ماہ کنعان ٗ فیصل کے ساتھ اسٹیج کی جانب چلا گیا تھا ٗ مگر اس کی ساری توجہ یہیں مرکوز تھی ٗ وہ اتنی دور سے بھی اسے روتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔
’’آپ سب جائیں ٗ میں تھوڑی دیر میں اسے لے کر آ جائوں گی۔‘‘ شازمین کے کہنے پر وہ سب آگے بڑھ گئے تھے ٗ سحرش کے ساتھ راحم بھی وہیں رک گیا تھا۔
’’یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے نہ میں تمہیں تصویر کھینچنے کیلئے مخاطب کرتا نہ ہی یہ سب کچھ ہوتا۔‘‘ راحم نے اس کے برابر والی چیئر گھسیٹی تھی۔
’’آپ کا قصور نہیں ہے راحم بھیا! ساری غلطی فیصل بھیا کے دوست کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی بڑی آنکھیں دے رکھی ہیں انہیں ٗ مگر ان کا استعمال نہیں کرتے ٗ کل مجھ سے ایسے ٹکرائے کہ میرا سر گھوم کر رہ گیا اور میری بندیا بھی گم ہو گئی اور آج میرا پائوں زخمی کیا اور میری ساری چوڑیاں ٹوٹ گئیں۔‘‘ ڈھیر ساری چوڑیوں میں سے چند ایک ہی بچی تھیں۔
’’حنین! تمہارے ہاتھ سے تو خون نکل رہا ہے۔‘‘ شازمین کی نظر اس کی کلائی پر پڑی تھی ٗ ٹوٹی چوڑیوں کے کانچ اس کی کلائی میں جگہ جگہ کھب سے گئے تھے۔
’’ہاں ٗ میرا ہاتھ اس فولاد کے آدمی سے ٹکرایا تھا۔‘‘ اس کے منہ بنا کر کہنے پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیئے تھے۔
’’مجھے یہاں تکلیف ہو رہی ہے اور آپ لوگ ہنس رہے ہیں۔‘‘ اسے کچھ نہ کہنا ہی ان لوگوں نے مناسب سمجھا تھا ٗ شازمین نے بڑی احتیاط سے چوڑیاں اتاری تھیں اور راحم نے اس کی کلائی کی بینڈیج کر دی تھی۔
٭٭٭
’’زرمین آپی! کتنی پیاری لگ رہی ہیں ٗ ہیں نا سحرش!‘‘ اپنا خیال ظاہر کرکے اس کی رائے پوچھی تھی۔
’’ہاں بھئی! آخر بھابی کس کی ہیں۔‘‘
’’تم بہت لکی ہو سحرش! کہ زرمین آپی تمہاری بھابی بن گئی ہیں ٗ آفٹر آل میری آپی دنیا کی بیسٹ آپی ہیں ٗ دیکھنا یہ تمہارا بھی کتنا خیال رکھیں گی ٗ شی از ویری کیئرنگ۔‘‘ حنین کے لہجے و انداز میں زرمین کیلئے اپنائیت اور محبت ہی محبت تھی۔ سرخ عروسی جوڑے میں روایتی دولہنوں کی طرح سولہ سنگھار کئے وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔
’’آپ کی آپی ہمارا خیال رکھیں گی تو ہی ہم کہہ سکیں گے کہ شی از ویری کیئرنگ۔‘‘ فضیل کے انداز میں شگفتگی و شرارت تھی۔
’’کیوں نہیں ٗ فضیل بھیا! آپی تو سب کا ہی بہت خیال رکھتی ہیں ٗ دیکھئے گا آپ کا بھی کتنا خیال رکھیں گی۔‘‘
’’آپ سفارش کر دو تو زیادہ رکھیں گی۔‘‘
’’آپی جعلی کاموں کے بہت خلاف ہیں ٗ انسان میں کوالٹی ہونی چاہئے ٗ جیسے کہ میں ٗ گھر میں آپی سب سے زیادہ میری پرواہ کرتی ہیں اور مجھے ہی سب سے زیادہ چاہتی ہیں۔‘‘ یہ سب کہتے ہوئے فخر سا اس کے چہرے پر در آیا تھا۔
’آپ کی آپی کی چاہتوں کی لسٹ میں میرا نام ہے یا…!‘‘ فضیل نے گردن ذرا سی ترچھی کرکے زرمین کو دیکھا تھا اور جان کر بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔
’’آئی ڈونٹ نو ٗ میں نے کبھی پوچھا نہیں۔‘‘ اس نے بے نیازی سے کاندھے اچکا دیئے تھے۔
’’شرافت سے بیٹھ جائو ٗ اولڈ پارٹی یہیں آ رہی ہے ٗ کیوں اپنا اچھا خاصا امیج خراب کرنے پر تلے ہو؟‘‘ ارحم نے مصنوعی خفگی دکھائی تھی ٗ حنین و سحرش ہنسنے لگی تھیں ٗ فریدہ اور راشدہ ہاتھوں میں سہرے لئے اسٹیج پر چڑھ گئی تھیں اور سات سہاگنوں کو دونوں سہرے باری باری لگانے لگی تھیں۔
’’اٹس امیزنگ پھپھو! یہ میرے بھی لگائیں ناں۔‘‘ حنین کی فرمائش پر وہ ہنس دی تھیں۔
’’اوہوں… یہ صرف سات سہاگنوں کے ہی لگایا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہتے ہوئے اپنے ہاتھ کا سہرا اسجد اور راحم کو دیتے ہوئے زرمین کو باندھنے کیلئے کہا تھا۔
’’پھپھو! ایسا کیوں ٗ اس کیلئے شادی شدہ ہونا کیوں ضروری ہے؟‘‘
’’بھئی! یہی رسم ہے۔‘‘
’’ساجدہ! بس اب تم بھی بیٹی کے سر پر سہرا سجا کر اسے رخصت کرنے کی تیاری کرو ٗ تمہاری لڑکی کو شوق بھی بہت ہے۔‘‘ کوئی دور پرے کی رشتہ دار خاتون نے مزے سے کہتے ہوئے قہقہہ لگایا تھا۔
’’واٹ ڈویو مین آنٹی! مجھے کوئی شوق ووق نہیں ہے ٗ پھپھو کا ایسا کرنا دلچسپ لگا تو کہہ دیا۔‘‘ حنین کو ناراض ہونے میں تو ویسے ہی لمحہ لگتا تھا اس وقت بھی وہ بری طرح خفا ہوتی ناگواری سے بولی تھی۔
’’ساجدہ! تمہاری بیٹی کی تو گز بھر کی زبان ہے ٗ میں نے تو ازراہ مذاق کہا تھا اور یہ تو انگریزی میں ٹرٹر ہی کرنے لگی۔‘‘ خاتون کو اس کا بولنا بری طرح کھلا تھا اور انہوں نے محفل کا خیال کئے بغیر جو منہ میں آیا کہہ دیا اور یہ اس سے کہاں برداشت ہو سکتا تھا کہ کوئی اسے برا کہے۔ وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ فریدہ اس کا بازو تھام گئی تھیں۔
’’پھپھو! یہ میرے بارے میں اس طرح کیسے…!‘‘
’’حنین! چپ کر جائو۔‘‘ ساجدہ نے اس کے نزدیک آتے ہوئے دبے دبے لفظوں میں اسے ڈپٹا تھا اور اس کی آنکھیں بہنے لگی تھیں۔
’’ممی! میں تو…!‘‘
’’مائدہ! اسے اسٹیج سے نیچے لے جائو۔‘‘ ساجدہ کے کہنے پر وہ آگے بڑھی تھی ٗ مگر اس نے جانے سے انکار کر دیا تھا۔
’’نہیں ٗ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے پیچھے ہوئی تھی اور ماہ کنعان سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی ٗ اسے خفگی بھری نگاہوں سے دیکھتی وہ آگے منہ کرکے کھڑی ہو گئی تھی اور وہ اس کے موتی بھرے نین کٹوروں کو دیکھ رہا تھا کہ اس کے پلٹ جانے پر اس کی پشت پر بکھرے سیاہ آبشار پر نگاہیں ٹھہر گئی تھیں ٗ دل میں آیا تھا کہ اس کی آنکھوں کے موتی ہونٹوں سے چنتے ہوئے اس کے دراز بالوں کی ملائمت کو اپنی انگلیوں کی پوروں پر محسوس کرے ٗ مگر وہ ایسا صرف سوچ ہی سکا تھا ٗ راشدہ نے اپنے ہاتھ کا سہرا فضیل اور ارحم کو دیا تھا جو وہ دونوں مل کر سمیرا کے سر پر سجانے لگے تھے ٗ اسجد نے زرمین کے اور ارحم نے سمیرا کے سر پر قرآن کا سایہ بنایا تھا اور وہ دونوں روتی دھوتیں اپنوں کی دعائوں اور آنسوئوں تلے رخصت ہو گئی تھیں۔
٭٭٭
دیگر رسموں کے بعد سمیرا کو فیصل کے روم میں پہنچا دیا گیا تھا ٗ سمیرا اس کمرے میں بارہا آئی تھی ٗ مگر اس کے کمرے کی آج چھب ہی نرالی تھی ٗ بیڈ کے وہ عین وسط میں گلاب کی پتیوں میں گھری بیٹھی تھی ٗ درو دیوار پر نظر دوڑاتے اس کی نگاہ ڈریسنگ کے شیشے میں نظر آتے اپنے وجود پر پڑی تھی ٗ اس نے اتنا ہار سنگھار زندگی میں پہلی دفعہ کیا تھا ٗ تقریبات میں وہ ہلکا پھلکا سا ہی تیار ہو کر جایا کرتی تھی اور آج سرخ عروسی جوڑے میں دولہن بنی وہ بہت زیادہ حسین لگ رہی تھی اور اس کی معصومیت اور کم عمری نے بھی اس کے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے ٗ وہ لہنگا سنبھالتی بیڈ سے اتر گئی تھی ٗ مگر کمرے کے باہر اسے آہٹ محسوس ہوئی تھی اور وہ دھڑکتے دل کو سنبھالتی واپس بیٹھ گئی تھی۔
’’فیصل بھائی!‘‘ اس نے اسے دل میں مخاطب کرنا چاہا تھا ٗ مگر نئے رشتے کا خیال آتے ہی لب دانتوں تلے دبا گئی تھی۔
’’یہ ہمیشہ مجھے ڈانٹتے ہی آئے ہیں ٗ لیکن آج…!‘‘ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا اور نگاہیں جھکتی چلی گئی تھیں ٗ فیصل مضبوط قدم اٹھاتا چلتا ہوا بیڈ تک آیا اور عین اس کے سامنے بیڈ پر ٹکتے ہوئے خاموشی سے اس کا جائزہ لینے لگا ٗ اس چہرے کو تو وہ اس کے بچپن سے ہی دیکھتا آ رہا تھا ٗ مگر اس کی سج دھج آج صرف اس کیلئے تھی ٗ اس کی آنکھوں میں پسندیدگی در آئی تھی ٗ اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اس قدر حسین لگے گی ٗ وہ استحقاق بھری نگاہوں سے اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھ رہا تھا اور لمحے خاموشی سے سرکتے جا رہے تھے ٗ اس نے بہت ڈرتے ڈرتے لرزتی پلکیں اٹھائی تھیں ٗ جو اس کی نگاہوں سے ٹکرائی تھیں ٗ وہ ان آنکھوں کا مفہوم بالکل نہ جان سکی تھی ٗ اسے لگا تھا کہ وہ شاید اسے غصے سے گھور رہا ہے۔
’’’آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ سچ اب تو میں آپ کے کمرے میں بھی بہت دن بلکہ مہینوں بعد آئی ہوں اور کسی چیز کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔‘‘ وہ بغیر سانس لئے جلدی جلدی کہہ رہی تھی اور وہ پہلے تو سمجھا نہیں ٗ حیرانگی سے اسے دیکھ اور سن رہا تھا ٗ مگر جیسے ہی سمجھ آیا اس نے زبردست قہقہہ لگایا تھا اور اس کی بڑی بڑی ساحر آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔
’’آ… آپ آپ ہنس بھی سکتے ہیں؟‘‘ وہ بہت بے یقین تھی ٗ اس نے اپنی سترہ سالہ زندگی میں سوائے ایک دو دفعہ کے اسے مسکراتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا اور کہاں اس کا قہقہہ ٗ وہ حیران نہ ہوتی تو کیا کرتی؟ اس نے تو فیصل کو ہمیشہ سنجیدہ اور غصہ کرتے ہی دیکھا تھا اور یہ اس کی بدقسمتی تھی یا نجانے خوش قسمتی ٗ ہمیشہ اس کے عتاب کا نشانہ وہی بنتی تھی۔ شرارت وہ اور سحرش مل کر کرتے تھے ٗ مگر فیصل کے آگے مجرم وہی بنتی تھی ٗ کتنی دفعہ تو اس نے فیصل سے کمرے میں آنے پر ڈانٹ کھائی تھی ٗ کیونکہ ایک دفعہ اس نے فیصل کی فائل پر پانی گرا دیا تھا اور ایک دفعہ اس کا خوبصورت مہنگا ترین شوپیس توڑ دیا تھا جو وہ لندن سے لے کر آیا تھا ٗ اس کے علاوہ بھی اس کے نت نئے کارناموں اور شرارتوں کی ایک لمبی فہرست تھی جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ فیصل سے ڈانٹ کھایا کرتی تھی۔
’’کیوں… کیا میرے ہنسنے پر پابندی ہے؟‘‘ اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا تھا اور اس نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔
’’مسز فیصل! آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ میں کیا کیا کر سکتا ہوں۔‘‘ معنی خیزی سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھ دیئے تھے۔
’’یہ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ ہاتھ چھڑا کر وہ کچھ فاصلے پر ہوئی تھی۔
’’کیا کر رہا ہوں؟‘‘ وہ انجان بنا تھا اور اس کے گھبرائے شرمائے انداز سے محظوظ ہوتے ہوئے شیروانی کی جیب سے ایک ڈبیہ نکالی تھی اور اس کے سامنے کرتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’کیسا ہے؟ خاص تمہاری پسند پر بنوایا ہے ٗ ہاتھ میں لے کر دیکھو۔‘‘ اس نے ہاتھ بڑھا کر ڈبیہ سے چین نکالی تھی ٗ گولڈ کی چین میں ڈائمنڈ کا نازک سا پینڈنٹ تھا اور اسے ڈائمنڈ پینڈنٹ بہت پسند تھے اور یہ تو تھا بھی بہت خوبصورت ٗ ہارٹ شیپ میں نگینوں سے بنا وائٹ روز ٗ اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
٭٭٭
زرمین کا دل بہت بری طرح گھبرا رہا تھا ٗ آنکھوں میں یادوں کی برات سی اترتی اسے بری طرح سہما رہی تھی ٗ وہ جو اتنے دنوں سے خود کو ریلیکس شو کر رہی تھی ٗ اسے لگتا تھا کہ وہ اس کے خیال اور یکطرفہ چاہت کی کسک بھلا کر فضیل کو اس کی جگہ دے دے گی ٗ مگر سجے سنورے روپ میں وہ کسی کی سیج سجائے بیٹھی تھی تو اصل حقیقت اس پر آشکار ہوئی تھی کہ یہ سب اتنا آسان بھی نہیں ہے ٗ جس شخص کے سپنے نوعمری میں پلکوں کی دہلیز پر سجائے تھے وہ ایسے تو اتنی آرام سے اپنا ٹھکانہ نہیں بدل سکتے تھے ٗ اس کا دل آنے والے وقت کا سوچ کر ہی سہمے جا رہا تھا ٗ ہاتھ پیر ٹھنڈے ہونے لگے تھے۔
’’اللہ جی! میری مدد کیجئے ٗ محبت کرنے میں بہت بے اختیار تھی ٗ ایک ایسے شخص کو چاہا جومیرا نہ تھا ٗ میری قسمت میں اسے لکھا ہی نہیں گیا تھا ٗ میں نے ایک ایسے شخص سے رشتہ جوڑا جسے میرے والدین نے تیری رضا سے میرے لئے منتخب کیا ٗ میں فضیل کے ساتھ بددیانتی نہیں کرنا چاہتی ٗ میں نے پورے خلوص سے اس رشتے کو تسلیم کیا تھا تو پھر میرا دل کیوں ڈوب رہا ہے؟ مجھے میرا اپنا آپ فضیل کا مجرم کیوں لگ رہا ہے؟ مجھے آنے والا وقت کیوں ڈرا رہا ہے؟ اس شخص کا خیال بھی دل میں نہیں لانا چاہتی ٗ مگر اس کا خیال ہے کہ دل و دماغ سے آ چمٹا ہے ٗ کہیں میں نے اتنا بڑا فیصلہ عجلت میں تو نہیں لیا؟ ایسا ہے تو میرے اللہ مجھے رسوا ہونے سے بچا لیجئے گا ٗ میری آپ سے صرف اتنی سی التجا ہے کہ میرے دل سے اس شخص کا ہر ایک خیال نکال کر صرف فضیل کا خیال ڈال دیجئے ٗ مجھے کمزور ہونے سے بچا لیجئے تاکہ فضیل کبھی یہ نہ جان سکیں کہ میں نے کبھی کسی اور سے محبت کی تھی ٗ میری وفائوں کو فضیل کے نام لکھ دیجئے ٗ جیسے آج میرا وجود…!‘‘ ڈور لاک لگنے کی آواز پر وہ خیال سے باہر آتی ٗ جلدی سے آنسو صاف کرتی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی۔
’’آداب عرض ہے مسز فضیل!‘‘ وہ بیڈ کے کنارے بیٹھتا ہوا مخاطب ہوا تھا اور اس کی پلکیں لرزنے لگی تھیں۔
’’جواباً وعلیکم السلام تو کہا ہی جا سکتا ہے۔‘‘ اس کی خاموشی پر وہ متبسم لہجے میں بولا تھا اور گھٹنوں پر رکھے اس کے حنائی ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ میں لے لیا تھا اور وہ باقاعدہ لرزنے لگی تھی۔
’’تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو؟ یار! میں تمہیں کھا نہیں جائوں گا ٗ مجھے تو تمہیں اپنی داستان محبت سنانی ہے ٗ تمہیں بتانا ہے کہ تم نے کس لمحے مجھے اپنا اسیر بنا لیا تھا ٗ میں تم سے کب ٗ کیسے محبت کر بیٹھا ٗ بہت کچھ تمہیں بتانا ہے ٗ اپنے جذبوں کی شدت تمہارے وجود میں انڈیلنی ہے ٗ تمہیں جذبۂ محبت سے آشنائی دینی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ جذبوں سے چور تھا۔
’’تم کچھ تو بولو ٗ کچھ ایسا کہ مجھے اظہار کی منزل طے کرنا آسان ٗ بہت آسان لگے ٗ اتنا کہ میں لمحوں میں وہ سب کہہ دوں جو کتنے سالوں سے کہنے کی چاہ میں کہہ نہ سکا۔‘‘ یکبارگی اسے زرمین کی خاموشی بری طرح کھلی تھی اور وہ اس کا ہاتھ دھیرے سے آزاد کرتا اس کے چہرے کو دیکھنے لگا تھا ٗ جہاں بے چینی ٗ گھبراہٹ اور خوف سا منڈلا رہا تھا۔
’’فضیل! آپ کہتے جایئے ٗ میں سن رہی ہوں۔‘‘ لہجہ کپکپا سا رہا تھا۔
’’کچھ کہو گی نہیں؟‘‘
’’میں… میں کیا کہوں؟ ہماری شادی اتنی جلدی میں ہوئی کہ میں آپ کے بارے میں کچھ بھی سوچ ہی نہیں سکی اور آپ کی بنا دی گئی۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے نظریں جھکائے جھکائے بولی تھی۔
’’کیا… تمہارے ساتھ زبردستی کی گئی ہے؟‘‘ سوال تھا کہ کوئی آبلہ جو اس کے چھلنی چھلنی دل میں آگ سی لگا گیا تھا۔
’’ایسی بات نہیں ہے فضیل! یہ شادی ٹوٹلی میری مرضی سے ہوئی ہے ٗ مجھے کچھ وقت ملتا تو میں اس رشتے سے خود کو روشناس کراتی ٗ لیکن اس سب سے پہلے ہی میں آپ کے جیون میں آ گئی ٗ اسی لئے کچھ گھبراہٹ سی ہے ٗ آپ کسی بدگمانی کو پلیز دل میں جگہ مت دیجئے۔‘‘ اس نے فضیل کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’آپ کو کچھ وقت چاہئے ٗ لیکن کتنا وقت؟ ایک ماہ ٗ 3 ماہ ٗ 6 ماہ؟‘‘ وہ کھڑا ہوتا ہوا شیروانی کے بٹن کھولنے لگا تھا اور وہ ہکا بکا سی رہ گئی تھی۔
’’میں نے ایسا تو نہیں کہا۔‘‘
’’کچھ باتیں کہنے کی نہیں ٗ محسوس کرنے کی ہوتی ہیں اور میں محسوس کرسکتا ہوں کہ تم اس رشتے کیلئے دل سے تو دور کی بات ٗ دماغ سے بھی راضی دکھائی نہیں دیتیں اور میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں۔‘‘
’’آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟‘‘
’’تم مجھے ایک دفعہ کہہ کر تو دیکھتیں کہ اتنی جلدی شادی تمہارا ذہن قبول نہیں کر پا رہا ٗ یہ شادی کینسل ہو جاتی ٗ مگر بگڑا تو اب بھی کچھ نہیں ہے۔‘‘ شیروانی اتار کر اس نے اپنی وارڈ روب کھولی تھی اور ہینگر میں ڈال کر الماری میں لٹکا دی تھی۔
’’رات بہت ہو گئی ہے زرمین! چینج کرکے سو جائو۔‘‘ اس نے ایزی سا شلوار قمیض نکالا تھا اور واش روم میں چلا گیا تھا جبکہ وہ تو ساکت بیٹھی رہ گئی تھی اور آنسو ٹپ ٹپ کرتے گالوں پر لڑھکتے جا رہے تھے ٗ اسے شاور لینے میں 15 سے 20 منٹ لگے ہوں گے ٗ ٹاول سے بال رگڑتا وہ روم میں داخل ہوا تھا اور اسے اب تک یوں ہی بیٹھے دیکھ کر حرکت کرتے ہاتھ پل بھر کو رکے تھے اور اسے روتا محسوس کرکے وہ ٹاول گلے میں ڈالتا اس تک آیا تھا۔
’’زرمین!‘‘ بیڈ کے کنارے ٹکتے ہوئے محض اس کا نام پکارا تھا کہ وہ اس کے کاندھے پر پیشانی ٹکاتی بلک اٹھی تھی اور وہ پریشان ہو گیا تھا۔
’’پلیز… ڈونٹ کرائے۔‘‘
’’آپ میرے بارے میں بہت غلط طریقے سے سوچ رہے ہیں۔‘‘ وہ سیدھی ہوتے ہوئے آنسو رگڑ رہی تھی۔
’’غلط میں نہیں ٗ تم سوچ رہی ہو یار! زندگی تو ہماری شروع ہوئی ہے ٗ ہمیں ابھی ایک ساتھ بہت سا وقت گزارنا ہے ٗ آج کی رات آخری تو نہیں ہے ٗ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں زرمین! اور میں محسوس کر سکتا ہوں کہ تم اس رشتے سے فی الحال خوفزدہ ہو اور میں تمہیں صرف اس خوف سے نکالنا چاہتا ہوں ٗ تمہاری طرف سے بدگمان نہیں ہوں ٗ میں قربت کے لمحوں کو ان چاہا احساس نہیں دینا چاہتا ٗ جو لمحے میری زندگی کا حاصل ہوں گے ٗ وہی لمحے تمہاری زندگی بھی بنیں ٗ بس اس کا انتظار کروں گا ٗ جس دن مجھے یہ احساس ہو گا کہ تم نے ہمارے رشتے کو قبول کر لیا ہے ٗ اسی دن پیار و محبت سے تمہاری طرف پیشرفت کروں گا ٗ اسی دن تمہاری رونمائی بھی دوں گا ٗ لیکن تمہیں صبح سب کو میرا دیا ہوا گفٹ دکھانا ہوگا ٗ اس لئے یہ پھول تمہیں دوست بنا کے دے رہا ہوں ٗ اسے قبول کرو اور آرام سے سو جائو۔‘‘ فضیل نہایت سنجیدگی سے کہتا سائیڈ ٹیبل پر رکھے بوکے میں سے ایک پنک روز نکال کر اس کی جانب بڑھا گیا تھا جسے وہ متحیر سی تھام گئی تھی۔
’’فضیل! میرے ان کہے کیسے سب کچھ جان گئے؟‘‘ سوچ کی پرواز بھٹکی تھی اور وہ سی کرکے رہ گئی تھی۔
’’زرمین! زندگی بالکل اسی گلاب کی مانند بہت خوبصورت ہے جس کی خوبصورتی کو بڑھانے میں کہیں نہ کہیں ان کانٹوں کا بھی ہاتھ ہے اور کہیں نہ کہیں اس کی خوبصورتی کو گہن لگانے میں بھی ٗ اکثر لوگ گلاب پسند تو کرتے ہیں ٗ مگر کانٹوں کے خوف سے چھونے سے ڈرتے ہیں ٗ مگر انسان اپنی ہی زندگی میں بے حد بے بس ہوتا ہے ٗ گلاب چھونے کی آرزو میں کانٹوں کو چھو بیٹھتا ہے ٗ آرزو ہمیشہ ناکام ہوتی ہے ٗ اس لئے انسان کو آرزو نہیں کرنی چاہئے ٗ زندگی کے گلاب کو چھوتے ہوئے یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ کانٹے بھی ساتھ ہی ہیں اور انگلیاں جن سے ٹکراتیں زخمی بھی ہو سکتی ہیں ٗ سختی و نرمی کا تو ازل سے ساتھ ہے ٗ جہاں سکھ ہے وہاں دکھ بھی ہے ٗ پھولوں کی نرمی وہی ہاتھ سہہ سکتے ہیں جو ان پھولوں کے کانٹوں سے کھیل کر سختی برداشت کر سکتے ہیں ٗ کیونکہ زخموں پر پھائے سختی سے نہیں نرمی سے رکھے جاتے ہیں۔‘‘ اس کی انگلی پر خون کا قطرہ بڑا نمایاں ہو رہا تھا اور وہ نہایت سنجیدگی سے ایک ایک بات کہتا اس کے دل میں در آنے والے سوالوں کا بھی بن کہے ہی جواب دے گیا تھا اور وہ اسے ایک نظر دیکھ کر بیڈ سے اتر گئی تھی۔
٭٭٭
’’حنین! تم لوگوں کے ساتھ نہیں آئی؟‘‘ مائدہ ٗ شازمین اور راحم ناشتہ لے کر آئے تھے ٗ وہ ان دونوں کو اپنے کمرے میں لے آئی تھی ٗ سمیرا اور سحرش بھی وہیں آ گئی تھیں۔
’’اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔‘‘
’’کیا ہوا ہے اسے؟‘‘
’’آپی! اسے فیور ہے اور بس ٗ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’وہ ضد تو آنے کی بہت کر رہی تھی ٗ مگر مامی نے منع کر دیا ٗ کیونکہ اس کے پائوں میں بھی تکلیف ہے اور رات ولیمے کا فنکشن ہے ٗ آرام نہیں کرے گی تو ریسپشن اٹینڈ کیسے کرے گی؟‘‘ مائدہ نے بتایا تھا۔
’’ہاں ٗ اسے یہ تسلی دے کر آئے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہی آئیں گی۔‘‘ یہ شازمین تھی۔
’’زرمین! اس قصے کو جانے دو اور یہ بتائو فضیل بھیا نے منہ دکھائی میں کیا دیا؟‘‘ مائدہ کے انداز میں شرارت تھی اور اس نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے کلی اٹھا کر ان لوگوں کے سامنے کر دی تھی۔
’’صرف یہ ادھ کھلا گلاب۔‘‘ شازمین کچھ متحیر تھی۔
’’بھیا مجھے اتنے کنجوس تو نہیں لگتے کہ انہوں نے آپ کو صرف ایک پھول پر ہی ٹرخا دیا ٗ وہ کوئی شاندار سابو کے شو کے ہی دے دیتے۔‘‘ سحرش بھی متحیر تھی۔
’’بھئی! یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ فضیل بھیا کو بھابی کے شایان شان کوئی گفٹ ملا ہی نہ ہو ٗ صرف اس لئے انہوں نے بھابی کو پھول دیا اور پھول تو جذبوں کی ترجمانی بہت خوبصورتی سے کرتے ہیں۔‘‘
’’اوہو… اتنی میننگ فل گفتگو تم کر رہی ہو ٗ کچھ یقین سا نہیں آیا۔‘‘ سمیرا پر سحرش نے ہنستے ہوئے چوٹ کی تھی۔
٭٭٭
’’جناب! یہ ایکسپیرینس بول رہا ہے ٗ بائے دا وے ٗ تمہیں منہ دکھائی میں کیا ملا؟‘‘ ان لوگوں کے براہ راست وار کرنے پر وہ کچھ جھینپ گئی تھی اور شرمیلی مسکراہٹ سے گلے میں پہنے چین لاکٹ کی طرف اشارہ کر دیا تھا اور ان چاروں نے ہی فیصل کی پسند کی تعریف کی تھی۔
’’یار سمیرا! ایک بات تو بتائو ٗ بھیا نے یہ تمہیں بس دے دیا تھا یا خود ہی تمہارے گلے میں پہنایا ہے؟‘‘
’’وہ انہوں نے خود ہی…! جبکہ میں نے کہا بھی تھا کہ میں پہن لوں گی ٗ مگر وہ نہیں مانے۔‘‘ سمیرا کے چہرے پر روشنی پھوٹی پڑ رہی تھی اور نگاہیں تھیں کہ لرزتی ہوئی عارضوں کو چھو رہی تھیں۔
’’اوہو…!‘‘ ان تینوں نے کورس میں اس کا ریکارڈ لگانا چاہا تھا ٗ مگر وہ اٹھ کر بھاگ لی تھی ٗ زرمین کے روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی اور فضیل سے ٹکرا گئی تھی۔
’’آئی ایم سوری ٗ فضیل بھیا!‘‘
’’اٹس اوکے ٗ بٹ اب بڑی ہو جائو ٗ تمہاری ان ہی حرکتوں سے فیصل چڑتا ہے ٗ یہ برقرار رہیں تو…!‘‘ فضیل نے ہنستے ہوئے چھیڑا تھا اور وہ اس کی بات سنے بغیر اثبات میں سرہلاتی سیڑھیاں اترنے لگی تھی ٗ سامنے سے آتے فیصل پر نگاہ پڑی تھی اور وہ سامنے دیکھنے کے چکر میں دو سیڑھیاں پھلانگ گئی تھی اور یہ تو اچھا تھا کہ فیصل نے کمال کی عجلت دکھا کر اسے گرنے سے بچا لیا تھا اور وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے بازو سے لگی کھڑی تھی اور آج اسے فیصل نے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا اور اس کے گلنار چہرے کو دیکھ کر لبوں پر تبسم بکھر گیا تھا اور یہ سارا منظر اوپر کھڑے فضیل نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس کے لبوں پر چھوٹے بھائی کی خوشیوں کیلئے دعا آ ٹھہری تھی اور وہ ان دونوں کی خوشگوار زندگی کی دعا دل ہی دل میں کرتا وہاں سے ہٹ گیا تھا اور فیصل اسے بازو سے تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا ٗ وہ جو اس کی ڈانٹ سننے کی منتظر تھی دھیرے سے ہنس دی تھی۔
٭٭٭
’’حنین! تم سارے فنکشنز میں سے آج سب سے زیادہ اچھی لگ رہی ہو۔‘‘
’’تھینک یو… اور میں صرف اچھی لگتی نہیں ہوں ٗ میں ہوں ہی اچھی۔‘‘ سحرش کے تعریف کرنے پر اس نے فخر سے فرضی کالر کھڑے کئے تھے۔
’’خوش فہمی ہے تمہاری۔‘‘
’’جلنے کی بو آ رہی ہے۔‘‘ اس نے ناک پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا اور وہ دونوں یکدم ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس دی تھیں۔
’’اب تمہارا پائوں کیسا ہے؟‘‘
’’زیادہ نہیں ٗ لیکن تکلیف ابھی بھی ہے اور تکلیف کی نسبت غصہ زیادہ ہے۔‘‘ وہ دونوں چلتی ہوئی ہال کے پرسکون ایریا میں آ گئی تھیں ٗ کیونکہ سحرش کو اپنی فرینڈ کو فون کرنا تھا اور وہ دونوں اسی لئے اسٹیج سے اتری تھیں ٗ ورنہ وہ تو پورے ٹائم زرمین کے برابر ہی بیٹھی رہی تھی ٗ سحرش کے کہنے پر ہی وہاں سے ہٹی تھی کیونکہ نزہت ان دونوں کی ہی اسکول فرینڈ تھی ٗ کسی بھی فنکشن میں نہیں آئی تھی ٗ لیکن صبح فون کرکے کہا تھا کہ وہ آج ضرور آئے گی ٗ اب نہیں آئی تھی تو وہ اس سے پوچھنا چاہ رہی تھیں کہ وہ آ بھی رہی ہے یا نہیں؟
’’غصہ کیوں آ رہا ہے؟ یار ہونے والی بات تھی ہو گئی۔‘‘
’’کیا ہونے والی بات تھی؟ کل میرا سارا میک اپ خراب ہو گیا ٗ میں ڈھنگ سے مووی بھی نہیں بنوا سکی اور آج صرف اس بینڈیج کی وجہ سے میں اتنے دل سے لائی ہوئی سلیپر نہیں پہن سکی ٗ کیونکہ میرے پائوں میں بینڈیج لگی ہوئی ہے اور سلیپر بہت نازک تھی ٗ جسے آج پہن نہ سکنے کا مجھے بے حد افسوس ہے۔‘‘
’’یار! یہ جو تم نے سلیپر پہنی ہوئی ہے یہ بھی بہت اچھی لگ رہی ہے۔‘‘
’’لگ رہی ہو گی ٗ مگر مجھے نہیں لگ رہی ٗ تم تو جانتی ہو کہ مجھے اسٹیپ اور اسٹریپ والی بے حد نازک سینڈلز اور سلیپرز اچھی لگتی ہیں اور آج مجھے ممی کی پورے پنجے کی سلیپر پہننی پڑی ہے۔‘‘
’’جانے بھی دو حنین! تم اپنے پیروں کو لے کر کچھ زیادہ ہی کانشس رہتی ہو۔‘‘
’’ہاں ٗ تو مجھے اپنے ہاتھ پائوں بے حد عزیز ہیں۔‘‘
’’وہ تو مجھے بھی ہیں ٗ تمہیں کوئی نرالے پسند نہیں ہیں ٗ مگر مجھے اپنے ہاتھ پائوں کے ساتھ ساتھ اپنی ہر ایک چیز پسند ہے ٗ اپنی آنکھیں ٗ اپنے ہونٹ۔‘‘
’’لیکن ٗ مجھے صرف اپنے ہاتھ پیروں کے علاوہ کوئی چیز پسند اور عزیز ہے تو وہ ہیں میری آنکھیں۔ یار! اکثر لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ہر لحاظ سے ٹپ ٹاپ ہوتے ہیں اور دکھائی بھی دیتے ہیں ٗ مگر ان کے پیروں کی طرف دیکھو تو شخصیت کی ملمعہ سازی کھل کر سامنے آ جاتی ہے ٗ اکثر خواتین پیروں اور ان کی سینڈلز کی طرف توجہ ہی نہیں دیتیں اور تم جانتی ہو کہ مجھے خوبصورت ہاتھ پیر کتنے اٹریکٹ کرتے ہیں ٗ بندہ خوبصورت نہ ہو مگر ہاتھ پیر اس کے خوبصورت ہوں۔‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘
’’میں یہ نہیں کہہ رہی کہ شکل کالی اور ہاتھ سفید ہوں ٗ یار! ہاتھ پیروں میں خوبصورتی و جاذبیت ہونی چاہئے ٗ نرم ملائم ٗ لانبی مخروطی انگلیاں۔‘‘
’’شاید ہم نزہت کو فون کرنے آئے تھے۔‘‘ وہ دونوں اس ٹاپک پر پہلے بھی بات کر چکی تھیں۔
’’ہاں ٗ تو ملا لو… میں کون سا منع کر رہی ہوں۔‘‘ اس کے بات کاٹنے پر چڑ گئی تھی۔
’’ویسے حنین! ایک بات ہے ٗ تم جو اپنے ہاتھ پیروں کی اتنی کیئر کرتی ہونا ٗ تو بالکل ٹھیک کرتی ہو ٗ مجھے بھی تمہارے دودھیا ہاتھ پیر بڑے ہی اچھے لگتے ہیں ٗ ویسے ایک بات ہے ٗ تمہیں لڑکیوں میں یہ کوالٹی اچھی لگتی ہے یا لڑکوں میں بھی؟‘‘ وہ نزاہت کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے کچھ سوچ کر پوچھ رہی تھی۔
’’او یسلی یار! دونوں میں ٗ کیونکہ خوبصورتی ٗ فیمیل یا میل سے منسوب تھوڑی ہے ٗ بس جو خوبصورت ہوتا ہے وہی آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔‘‘
’’تمہاری آنکھوں کو کوئی بھلا لگا؟‘‘
’’نہیں ٗ جس سینس میں تم پوچھ رہی ہو اس میں تو بالکل نہیں ہے۔‘‘
’’تم اپنے شوہر میں اپنی پسند کی جھلک دیکھنا چاہو گی؟‘‘
’’یہ شوہر بیچ میں کہاں سے آ گیا؟‘‘
’’آیا نہیں ہے ٗ آ سکتا ہے ٗ مگر اس وقت جسٹ ایک سوال ہے۔‘‘
’’ہاں ٗ تمہیں 10 ویں کلاس کی ارما یاد ہے؟‘‘
’’ارما… نہیں ٗ تم کس کی بات کر رہی ہو؟‘‘
’’یار! وہی جس کے ہاتھ بہت خوبصورت تھے۔‘‘
’’اور جن کی وجہ سے تم نے اس سے دوستی کی تھی۔‘‘
’’ہاں… وہی ارما۔‘‘
’’اس کا یہاں کیا ذکر؟‘‘
’’بات اتنی سی ہے کہ وہ لڑکی میری دوست بنی اور وہ بھی میرے پہل کرنے پر ٗ ورنہ تم تو جانتی ہو لڑکیاں مجھ سے دوستی خود کرتی تھیں ٗ میں نہیں۔‘‘ وہ پرانی باتیں یاد کرکے مسکرائی تھی۔
’’اور یہ بات تمہاری سمجھ میں آ جانی چاہئے کہ میں ایک لڑکی کی طرف اس کے ہاتھوں کی اٹریکشن کی وجہ سے دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتی ہوں ٗ تو میں یہ کیوں نہیں چاہوں گی کہ سو کالڈ میرا جو شوہر ہوگا ٗ اس کے ہاتھ پائوں خوبصورت ہوں ٗ مگر جہاں تک مردوں کے ہاتھ پیر خوبصورت ہونے کی بات ہے تو میں نے کبھی کسی مرد کو اتنے قریب سے نہیں دیکھا اور نہ ہی دور سے اس پر ریسرچ کی ہے۔ ہاں ممی کہتی ہیں کہ میرے پاپا کے ہاتھ پائوں بے حد خوبصورت تھے ٗ وہ ایک خوش شکل مردتھے ٗ لیکن ان کے ہاتھ پیروں میں الگ ہی جاذبیت تھی اور میں نے جتنی پاپا کی تصویریں دیکھی ہیں تو یہ میں نے بھی نوٹ کیا ہے ٗ بس پاپا کی تصویریں دیکھ کر ہی خیال آیا تھا کہ رئیلٹی میں پاپا کے ہاتھ کتنے خوبصورت ہوں گے ٗ بس اسی دن میں نے حقیقت میں اتنے خوبصورت و پرکشش ہاتھ پیر چاہنے کی تمنا کی تھی ٗ جو اب تک پوری نہیں ہوئی۔‘‘
’’یار! اگر تمہارے شوہر کے ہاتھ پیروں میں انوکھی جاذبیت و کشش نہ ہوئی تو…؟‘‘
’’تو کیا ٗ کچھ نہیں ہوگا ٗ ہاں ایک خلش سی رہ جائے گی۔‘‘
’’اس کا مطلب حنین عالم! کسی مرد کو اس کے پرکشش چہرے ٗ زبردست جاب، گڈریپوٹیشن جیسیخصوصیات کی بنا پر نہیں بلکہ اس کے پرکشش ہاتھ پیروں کی وجہ سے محبت کرے گی؟‘‘
’’مے بی۔‘‘ اس نے لاپرواہی سے کاندھے اچکا دیئے تھے اور اسے فون پر بزی دیکھ کر وہ پانی پی کر آنے کا اشارہ کرکے آگے بڑھی تھی کہ اسے کولڈ ڈرنک سرو کرتا ویٹر نظر آیا اور اس نے اشارے سے اسے بلا کر کولڈ ڈرنک سے بھرا گلاس اٹھا لیا تھا اور جیسے ہی وہ سحرش کی طرف بڑھنے لگی تھی کسی نے اسے بازو سے تھام کر اپنی جانب کھینچا تھا اور کولڈ ڈرنک کا گلاس اس کے اور نووارد کے کپڑوں کو گیلا کر تازمین بوس ہو گیا تھا۔
’’آپ… آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی میرا بازو تھامنے کی؟‘‘ ماہ کنعان کو دیکھ کر اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا تھا۔
’’حنین! میں آپ سے…!‘‘
’’اوہ یو شٹ اپ… آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں؟ مجھے تین دن سے پریشان کرکے رکھا ہوا ہے ٗ پہلے ٹکرائے اور میری بندیا گم گئی ٗ لیکن ارحم بھیا سے مجھے ہی ڈانٹ پڑی اور کل میری چوڑیاں توڑیں اور میرا پائوں صرف آپ کی وجہ سے زخمی ہوا اور آج میں آپ کی وجہ سے تکلیف میں ہوں اور اپنی پسند کی سینڈل بھی نہ پہن سکی اور ابھی اس طرح میرا بازو پکڑنے کا مطلب؟‘‘ اس کی زبان فراٹے بھر رہی تھی کہ ماہ کنعان نے اس کے پنکھڑی سے نازک لبوں پر انگلی رکھ دی تھی۔
’’تم بولتے ہوئے سانس نہیں لیتیں؟‘‘ اس کی پھٹی پھٹی نگاہوں میں جھانکا تھا۔ اس نے ماہ کنعان کی انگلی لبوں سے ہٹانا چاہی تھی مگر اس نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے ایسے جھٹکا دیا تھا کہ اس کی پشت ماہ کنعان کے سینے سے آ لگی تھی۔
’’تمہارا ہر الزام جھوٹا ہے ٗ مگر سر آنکھوں پر ٗ مگر اس طرح نان اسٹاپ بولتے ہوئے اپنے احمریں لبوں پر تو ترس کھایا ہوتا۔‘‘ اس نے سرگوشی کی تھی ٗ مگر وہ خود کو اس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش میں محض ہلکان ہی ہو رہی تھی اور ماہ کنعان نے اس کی پشت پر بکھرے سیاہ آبشار کو نرمی سے ایک سائیڈ پر کیا تھا۔
’’تمہارے یہ بال بہت خوبصورت ہیں ٗ سیاہ ریشمی…!‘‘ وہ بے خودی میں اس کی تعریف کر رہا تھا۔
’’پلیز لیو می!‘‘ اس کے ہونٹ کپکپائے تھے اور اس نے دایاں ہاتھ نرمی سے اس کے ہونٹوں پر رکھا تھا اور بائیں ہاتھ کی مدد سے اس کی کمر پر حصار باندھا تھا اور معمولی سا جھک کر اس نے حنین کی صراحی دار گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے تھے ٗ اس کی جسارتیں اور بڑھتیں کہ سحرش بولتے ہوئے وہاں آ رہی تھی جس کی وجہ سے اس نے حنین کے وجود کے گرد سے اپنا حصار ہٹاتے ہوئے فاصلہ قائم کر دیا تھا۔
’’تم یہاں کیوں آ کھڑی ہوئی تھیں؟ نزہت تم سے بات…!‘‘ وہ بولتی ہوئی آ رہی تھی ٗ مگر اس کے ساتھ کھڑے ماہ کنعان کو دیکھ کر بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔
’’آپ… کیسے ہیں؟‘‘ سلام کے بعد خیریت دریافت کی تھی۔
’’آئی ایم فائن۔‘‘ اس نے بات کرتے ہوئے حنین کو دیکھا تھا۔
’’ارے… تم رو رہی ہو ٗ کیا ہوا؟ کہیں پھر تمہاری اور کنعان بھائی کی ٹکر تو نہیں ہو گئی؟‘‘ وہ ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
’’کچھ ایسا ہی ہے اور اس بار غلطی میری تھی ٗ آئی ایکسپٹ دیم… بٹ نقصان تو میرا بھی ہوا ہے ٗ صرف ان کے نہیں میرے کپڑوں پر بھی کولڈ ڈرنک گری ہے۔‘‘ ماہ کنعان کے انداز و لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی اور وہ جو اس کی اتنی جرأت پر انگشت بدنداں تھی ٗ اتنے صاف جھوٹ پر نگاہ اٹھائی تھی اور اس کے مسکراہٹ اچھالنے پر وہ وہاں سے نکلنے لگی تھی اور سحرش اس کو وہاں سے جاتے دیکھ ماہ کنعان سے ایکسکیوز کرتی اس کے پیچھے بھاگی تھی اور جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا تھا۔
’’حنین! پلیز چپ کر جائو ٗ اس طرح روتے ہوئے سب کے درمیان جائو گی تو سب پریشان ہو جائیں گے ٗ اتنی معمولی سی بات کو بڑھانے سے فائدہ؟‘‘
’’معمولی سی بات؟ تم تم نہیں جانتیں سحرش! کہ فیصل بھیا کے دوست نے میرے ساتھ…!‘‘ وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے اس سے بولتی رک گئی تھی۔ کیونکہ اسے وہ سب بتانے میں جھجک سی آ گئی تھی۔
’’تم پاگل ہو حنین! ان کے ٹکرانے سے کولڈ ڈرنک گر گئی تو کیا ہوا ٗ جا کر کپڑے واش کر لو ٗ اس میں اتنا رونے والی کیا بات ہے؟‘‘
’’تم میری بات سمجھ نہیں رہیں سحر!‘‘ ماہ کنعان کو وہاں سے نکل کر آگے جاتے دیکھ کر وہ خاموش ہو گئی تھی۔
’’چھوڑو ان باتوں کو ٗ تم اس روم میں جا کر کپڑے واش کر لو ٗ اس طرح جائو گی تو سب پریشان ہوں گے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھامے واش روم پلس ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تھی۔
’’تم جائو حنین! میں ذرا مما کی بات سن لوں۔‘‘ وہ ڈریسنگ کے باہر سے ہی پلٹ گئی تھی اور وہ سحرش کو روکنے کیلئے پلٹی تھی ٗ مگر اس کے چلے جانے پر وہ یکدم دروازہ کھولتی اندر چلی گئی تھی اور اسے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ لیڈیز واش روم کے بجائے جینٹس واش روم میں داخل ہو گئی تھی۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *