Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12

’’شاباش ہے بھئی! 9 بجے کا کہہ کر 11 بجے آ رہا ہے۔‘‘
’’تمہاری بھابی کی وجہ سے لیٹ ہو گیا۔‘‘
’’ہاں جی جناب کی شادی کیا ہوئی مصروفیت ہی ختم نہیں ہو رہی۔‘‘
’’او، اب چپ کر جا ٗ یہ جذباتی جملے اپنی بھابی کے کہنے کیلئے ہی رہنے دے ٗ سمیرا سے مغز ماری کرکے آ رہا ہوں ٗ اب تو میرے پیچھے مت پڑ۔‘‘ وہ اسے ٹوکتا ریلیکس ہو کر نیم دراز ہو گیا۔
’’بات کیا ہے آخر اس دن بھابی سے یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی ٗ وہ بھی بری طرح تپی ہوئی تھیں اور تو بھی کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے ٗ آخر مسئلہ کیا ہے بھابی سے لڑائی ہو گئی ہے کیا؟‘‘ وہ روم فریج سے پیپسی کے کین نکالتے ہوئے بولا اور فیصل نے اسے ساری تفصیل کہہ سنائی۔
’’بھابی! آگے پڑھنا ہی نہیں چاہتیں تو تجھے ان کے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہئے۔‘‘
’’یار! تعلیم بے حد ضروری ہے ٗ وقت ضرورت جاب کیلئے، بچوں کی تعلیم ان کی اچھی پرورش کیلئے پیرنٹس کا ایجوکیٹڈ ہونا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ اس نے اپنا موقف بیان کیا ٗ جس سے وہ ایگری کرتا تھا۔
’’ہاں یہ تو نے ٹھیک کہا ٗ مگر بھابی مانیں ہیں تو تجھے ناکوں چنے نہ چبوا دیں ٗ 20 شرائط مجھے تو سوچ کر ہی ہول اٹھ رہے ہیں۔‘‘
’’ابے کچھ نہیں ہوتا ٗ اس کی سوکالڈ شرطیں اس کی طرح ہی بے وقوف ہوں گی تو پریشان نہ ہو۔‘‘ وہ پرسکون تھا ٗ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا سارا سکون و اطمینان درہم برہم ہونے والا تھا۔
’’تو مجھ سے صبح کون سی بات کرنے کو کہہ رہا تھا۔‘‘ وہ پیپسی کے گھونٹ بھر رہا تھا ٗ جب یاد آیا تو پوچھ بیٹھا۔
’’ہاں بات تو تھی مگر ختم ہو گئی ہے ٗ اس لئے جانے دے۔‘‘ وہ سی ڈیز چیک کرنے لگا تھا۔
’’بات کیا تھی کچھ پتہ بھی توچلے۔‘‘ اس نے فیصل کی دی ہوئی سی ڈی لگا کر میوزک سسٹم آن کر دیا۔
’’حنین نے تم لوگوں کے ساتھ آنے سے صاف انکار کر دیا تھا ٗ تجھے غصہ تو بہت آیا ہوگا۔‘‘ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے دونوں ہاتھ سر کی پشت سے ٹکاتے ہوئے اسے دیکھا جس کے چہرے کے زاویے یکدم ہی تن سے گئے۔
’’میں اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا ٗ نہ جانے خود کو کیا سمجھتی ہے ٗ ایک تھپڑ لگا کر سارے کس بل نکال دیتا ٗ مگر لاج کی وجہ سے برداشت کر گیا۔‘‘ وہ دوست کو ساری بات اور اس کی تفصیل سے آگاہ کرنے لگا۔
’’وہ لاج کے ساتھ کتنا مس بی ہیو کرتی رہی ہے ٗ میرے کسی بھی فعل کی لاج ذمے دار نہیں ہے ٗ لیکن اس نے فضول کے ری ایکشن سے مجھے لاج کی نظروں میں مشکوک کر دیا ہے ٗ لاج مجھے سوری کرنے کو کہہ رہی تھی ٗ مگر میری جوتی کو بھی غرض نہیں پڑی کسی سے معافی مانگنے کی۔‘‘ اسے نئے سرے سے غصے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
’’تو معافی نہیں مانگ سکتا یہ میں جانتا ہوں ٗ مگر غلطی بہرحال تجھ سے ہوئی ہے اور تو اس سے انکار نہیں کر سکتا۔‘‘ وہ اس کے غصے کو کسی خاطر میں نہیں لایا۔
’’غلطی ہو گئی تو کیا کروں؟ معافی مانگوں ٗ مگر وہ سننے کو تیار کب ہے؟‘‘
’’تو معافی مانگنے کو تیار ہے؟‘‘ فیصل نے تحیر سے اسے دیکھا تھا۔
’’ایسا چاہتا نہیں ہوں اور یہ میرے لئے مشکل بھی بہت ہے مگر لاج کیلئے ایسا کر لوں گا ٗ میں نہیں چاہتا کہ وہ کسی بھی بات کا ذکر لاج سے کرے اور اس سے کچھ بعید بھی نہیں ہے کہ وہ سب لاج سے کہہ دے۔‘‘
’’ایسا تو خوف کے پیش نظر کرنا چاہتا ہے۔‘‘
’’واٹ ربش فیصل! خوفزدہ اور میں… بچوں جیسی بات مت کر۔‘‘ وہ بری طرح بھڑکا۔
’’پھر بات کیا ہے آخر؟‘‘
’’یہی تو میں سمجھ نہیں پا رہا ٗ جو کر بیٹھا ہوں نہ اس کا سبب سمجھ پا رہا ہوں ٗ نہ ہی اپنی فیلنگز سمجھ پا رہا ہوں ٗ اس کو دیکھنا ٗ سوچنا دل کو اچھا لگ رہا ہے ٗ تو اس کی آنکھوں میں اپنے لئے غصہ اور بے اعتباری دیکھ کر دل کتنا زخمی ہوا ہے ٗ چاہوں بھی تو نہیں بتا سکتا ٗ لاج کا تو بہانہ ہے ٗ مگر میں اس کی آنکھوں سے بے اعتباری مٹانا چاہتا ہوں اور ایسا میرے معافی مانگ لینے سے ممکن ہے تو میں اس سے معافی مانگ لوں گا۔‘‘ وہ اس وقت اپنے سخت و سرد مہر روپ سے کافی ڈیفرنٹ لگ رہا تھا۔
’’اور اگر اس نے معاف نہیں کیا تو…؟‘‘ وہ نہ جانے کیا جاننا چاہتا تھا۔
’’تو میں کچھ کر بیٹھوں گا فیصل! لاج کی برتھ ڈے آنے والی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ وہ اس میں آئے اور وہ اگر نہیں آئی اور اس کا سرد بے مہر انداز نہیں بدلا تو میں ضرور کوئی ایکشن لوں گا۔‘‘ اس کے ماتھے کی سلوٹیں بڑھ گئی تھیں اور آنکھوں میں سرخی اترنے لگی تھی۔
’’پاگل پن کی باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اسے بری طرح لتاڑ کر رکھ دیا تھا۔
’’تیری وجہ سے خاموش رہا ہوں اب تک لیکن اب مزید نہیں۔‘‘ فیصلہ سنایا تھا۔
’’میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا وہ سب کرنے کو۔‘‘ گہرا طنز کیا تھا۔
’’مجھے آگے بھی کچھ کرنے سے مت روک۔ طنز محسوس کرکے کہا تھا۔
’’تو آخر کیا چاہتا ہے؟‘‘ وہ چڑ گیا تھا۔
’’پتہ نہیں ٗ بس اتنا معلوم ہے کہ تو نے مجھے بائونڈ کیا ہوا ہے۔‘‘ اس کو ناراضی و لاچاری سے دیکھا تھا۔
’’میں نے تجھے کوئی بائونڈ نہیں کیا ٗ جو تیرے دل و دماغ میں آئے وہ کر ٗ میں کیوں تجھے بائونڈ کروں گا؟‘‘
’’وہ تیری ریلیٹو ہے ورنہ یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہ بیٹھا ہوتا۔‘‘
’’اچھا تو یہ بھول جا کہ وہ میری کچھ لگتی ہے اور اپنے عزائم بتا ٗ مجھے بھی تو پتہ چلے کہ تو اب تک کیا کر چکا ہوتا یا اب کر سکتا ہے۔‘‘ فیصل نے اس کے عزائم جاننے کیلئے اسے اکسایا۔
’’یہ ابھی سوچا نہیں ہے ٗ بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ میرے خواب و خیالوں کا سب سے قیمتی سرمایہ بن گئی ہے اور جسے میں کھونا نہیں چاہتا اور پانے کیلئے ہر جائز ناجائز طریقے کو آزما لینا چاہوں گا۔‘‘
’’پانا کس سینس میں چاہتا ہے کچھ لمحوں کیلئے ٗ کچھ دنوں کیلئے ٗ کچھ مہنیوں ٗ سالوں یا پھر ساری زندگی کیلئے؟‘‘
’’زندگی کی آخری سانس تک کیلئے۔‘‘ اس نے محض یہ منہ سے نہیں کہا تھا اس بات کی گواہی اس کا دھڑکتا دل اور آنکھیں بھی دے رہی تھیں۔
’’وہ اگر کسی اور کی ہو گئی…؟‘‘
’’ناممکن… وہ صرف میری ہے۔‘‘
’’اس بات کا کیا ثبوت ہے؟‘‘
’’تو کیسا ثبوت چاہتا ہے؟‘
’’جس طرح کا ثبوت تو دے سکتا ہے۔‘‘
’’میں کل ہی مام اینڈ ڈیڈ کو اس کا رشتہ لے کر بھیج دوں گا۔‘‘
’’تو کچھ دیر پہلے تک اپنی فیلنگز سمجھنے سے قاصر تھا اور اب ایک دم اتنا بڑا دعویٰ اور فیصلہ…؟‘‘
’’میری فیلنگز مجھ پر اس پل ہی عیاں ہو گئی تھیں جب میں نے اسے فرسٹ ٹائم دیکھا تھا ٗ مگر آناکانی سے کام لے رہا تھا ٗ میں دل کی خواہش اور نفس کی تمنا میں امتیاز کرنا چاہتا تھا ٗ اسے جب جب دیکھا دل میں پیار بھری خواہش نے سر ابھارا ٗ اسے سوچا تو نفس سے نہیں دل سے مجبور ہو کر ٗ اس کا خیال بڑے پاکیزہ انداز میں من و دل کی دھرتی پر جگمگاتا ہے ٗ اسے اپنانے کا فیصلہ تو پہلی ہی نظر میں ہو گیا تھا۔‘‘
’’پھر مجھ سے کیوں چھپاتا رہا؟‘‘
’’تو نے خود ہی کہا تھا کہ میں اچھے سے سوچ لوں کہ کہیں یہ محض وقتی اٹریکشن نہ ہو، اور میں وقتی اٹریکشن میں تو اسے زندگی کا حصہ بنانے کا نہیں سوچ سکتا ٗ میں تو اسے اپنی زندگی بنانا چاہتا ہوں ٗ مگر سیدھے سادھے طریقے سے نہیں چاہتا ٗ میں اس کو قریب سے دیکھنا ٗ جاننا سمجھنا چاہتا ہوں ٗ مگر اس کی تو مجھے اجازت نہیں دے گا ٗ میں جانتا ہوں کہ وہ تیرے لئے سحرش کی ہی طرح ہے اور وہ تیری بہن ہے اس لئے ڈائریکٹ پرپوزل بھیجنے کی بات کی ہے ورنہ چند سال تک تو ایسا کرنا تو دور میں سوچتا بھی نہیں۔‘‘ کنعان نے اپنے جذبات ہی نہیں فیصلہ بھی اسے کہہ سنایا تھا۔
’’میں تیری بات کا مطلب نہیں سمجھا۔‘‘
’’مطلب صاف ہے میری جان! کہ میں پہلے اس سے دھواں دھار قسم کا عشق لڑانا چاہتا ہوں اور پھر دل کی لگی کو دل کا روگ بنا کر اس کیلئے تڑپنا چاہتا ہوں ٗ اسے اپنے لئے تڑپتے دیکھنے کے بعد اسے اپنانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ آنکھ دبا کر غیر سنجیدگی سے بولا تھا فیصل اسے ناگواری سے گھورنے لگا تھا۔
’’سالے گھور مت مجھے ٗ تیری وجہ سے ہی میں نے اب تک اس سے دل تو کیا ذہن کی بات بھی نہیں کی کہ جانتا ہوں اس سے زیادہ اعتراض تو تجھے ہونے لگے گا اسی لئے صبر کر رہا ہوں مگر جس دن صبر ختم ہوگا وہ صبر کے پھل کی صورت میری بانہوں میں ہو گی۔‘‘ اس کی شوخیاں ہی نہیں بے باکی بھی عروج پر تھی وہ سنجیدگی اور غیر سنجیدگی کے عجیب امتزاج کے ساتھ بول رہا تھا۔
’’بکواس کم کیا کر ٗ ماہ!‘‘ اسے سرخ ہو جانے والے چہرے کے ساتھ ڈپٹا تھا جبکہ وہ ڈھٹائی سے ہنسنے لگا تھا۔
’’اسے دیکھ کر دل کیسی کیسی خواہشات کو مچلتا ہے ٗ وہ آشکار کیا تو شاید اس سے پہلے حیا سے تو ہی دارفانی سے کوچ کر جائے۔‘‘ کنعان ہنستے ہوئے اس کے سرخ چہرے پر چوٹ کر رہا تھا۔
’’نہایت بے ہودہ انسان ہے تو کنعان!‘‘ اس نے تپ کر اسے کشن دے مارا تھا۔
’’پہچان لینے کا شکریہ سالے صاحب! مگر یاد رہے کہ ہماری نیا پار تو آپ نے ہی لگانی ہو گی۔‘‘ مہارت سے کشن کیچ کرکے اس پر جوابی حملہ کر دیا تھا۔
’’تو جانتا ہے نہ میں تیری گھٹیا حرکتوں میں تیرا ساتھ دوں گا اور نہ ہی وقت سے پہلے پرپوزل ڈالنے کی حمایت کروں گا ٗ جب مناسب وقت آئے گا تو مجھے اپنا سب سے بڑا سپورٹر پائے گا ٗ مجھ سے جو بن پڑا تیرے لئے کروں گا اس لئے تو اپنی گھٹیا حرکتوں اور چیپ گفتگو سے باز آ جا ورنہ مجھے سچ میں تیرا سالا بننا پڑے گا۔‘‘ سنجیدگی سے ایک ایک بات باور کراتا وہ اسی کی مانند غیرسنجیدہ ہو گیا تھا اور وہ ہنستے ہوئے کچھ کہنے لگا تھا کہ وہ جانے کیلئے کھڑا ہو گیا۔
’’میں جا رہا ہوں اور یاد رکھنا حنین کی فیملی بہت سادہ اور رکھ رکھائو والی ہے تیرا کوئی ایک الٹا قدم تجھے ان سب کی نظروں میں ناپسندیدہ بنا دے گا اور یہی میں نہیں چاہتا اسی لئے تجھے سمجھاتا رہتا ہوں۔‘‘ وہ اٹھا تھا اور سنجیدگی کا تاثر دیتا باہر نکل گیا تھا اس کے انداز میں کچھ ایسا تھا کہ وہ ٹھٹک گیا تھا۔
٭٭٭
’’میری طرف سے تو معذرت ٗ میں نہیں آ پائوں گی۔‘‘ اس کا کورا جواب ماہ لاج کے چہرے کو تاریک کر گیا تھا اور اس کے چہرے کو دیکھ کر وہ اسے تاسف سے دیکھنے لگی تھیں جسے کسی کا دل رکھنا نہیں آتا تھا ٗ رواداری اور دنیا نبھانے کا طریقہ نہیں آتا تھا۔
’’لیکن کیوں؟ اگر اجازت کا مسئلہ ہے تو میں تمہاری ممی سے بات کر لوں گی۔‘‘ وہ خود کو کمپوزڈ کرکے سوال داغنے کے سات تھی حل بھی پیش کر گئی تھی۔
’’مجھے پارٹیز وغیرہ میں جانا قطعاً پسند نہیں ہے اور تایا ابو کو بھی یہ سب ناپسند ہے وہ مجھے کبھی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ ویسے بھی میں خود ہی تمہارے گھر نہیں آنا چاہوں گی اسی لئے اجازت لینے کی کوشش بھی نہیں کروں گی۔‘‘ پہلے تو پھر بھی اس کا لہجہ کچھ نرم تھا اب کے وہ بے رخی سے ناک چڑھا کر بولی تھی اور پیپسی کا ٹین خالی کرکے ان لوگوں کو لائبریری جانے کا بتا کر کینٹین سے نکلتی چلی گئی تھی۔
’’آئی ایم سوری لاج! میں جانتی ہوں تم صرف میری وجہ سے حنین کا مس بی ہیویئر برداشت کر لیتی ہو۔‘‘ سحرش نہایت شرمندگی سے کہہ رہی تھی۔
’’حنین سے دوستی میں نے صرف اور صرف اس لئے کی کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ مجھ میں یا حنین میں سے تمہیں کسی ایک سے دوستی ختم کرنی پڑے ٗ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حنین دوستی کر لینے کے بعد بھی میرے ساتھ گزری تلخیوں کی کڑواہٹ نکالے گی۔‘‘ وہ نہایت متسفانہ لہجے میں بول رہی تھی۔
’’ایسی بات نہیں ہے کہ وہ کنعان بھائی کا غصہ تم پر نکال رہی ہے ٗ وہ بائے نیچر ہی ایسی ہے ٗ اسے کسی کا دل رکھنا نہیں آتا ٗ بلیومی کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہو گی ٗ دوستی پکی ہو گی تو تم ہی نہیں وہ بھی تمہیں سمجھنے لگے گی کہ وہ منہ پھٹ ضرور ہے مگر کسی کو ہرٹ نہیں کر سکتی ٗ خاص کر جان کرکے ٗ انجانے میں اپنی فطرت کے آگے مجبور ہو کر ہی بس وہ تمہارے ہی نہیں کسی کے بھی ساتھ مس بی ہیو کر جاتی ہے ٗ مگر احساس ہوتا ہے تو ازالے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے زیادہ نہیں تو سوری تو کر ہی لیتی ہے اور وہ احساس ہوتے ہی تم سے معذرت کر لے گی ٗ بس تم اسے کچھ وقت دے دو۔‘‘ سحرش اور اس کا ساتھ بچپن کا تھا ٗ حنین کی تمام تر نازک مزاجیوں کے باوجود اسے اپنی دوست بے حد عزیز تھی اور اسے لگا کہ اس کی دوسری دوست اس سے بدگمان ہو رہی ہے تو اس نے اس کی بھرپور طریقے سے وکالت کی تھی۔
’’سحرش ٹھیک کہہ رہی ہے ٗ حنین جیسی دکھتی ہے یا ظاہر ہوتی ہے وہ ایسی بالکل نہیں ہے کہ دل میں برائی رکھ کر تو وہ کسی سے بھی نہیں مل سکتی کہ اسے کنعان بھائی کی پر خاش تم سے نکالنی ہوتی تو وہ تم سے دوستی ہی نہ کرتی۔‘‘ سمیرا نے بھی دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے فوراً ہی اسے سپورٹ کیا تھا۔
’’اس کے مزاج کو میں بھی سمجھنے لگی ہوں ٗ لیکن یہ بات بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے کہ کوئی ہمارے عزیز سے اتنا بدگمان اور متنفر ہے کہ اس کی موجودگی کو برداشت کرنا تو دور کی بات اس کا نام تک سننا گوارا نہ کرے۔‘‘ وہ اداسی سے بول رہی تھی۔
’’مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ محض اچانک ٹکرا جانے کے سبب حنین میرے لالہ جان کو اتنا سخت ناپسند کرنے لگی ہے تو کیوں؟ کہ اچانک تو کسی سے بھی ٹکرایا جا سکتا ہے ایسے میں اتنی شدید ناپسندیدگی و ردعمل کا ظاہر کرنا میری تو سمجھ سے باہر ہے۔‘‘ وہ ہر بار الجھ جاتی تھی مگر اس کی الجھن کوئی بھی سلجھانے کے موڈمیں نہ تھا اور وہ دونوں خود اس کی طرح الجھن کا ہی شکار تھیں۔
’’حنین فطرتاً ہی نازک مزاج اور حساس طبیعت رکھتی ہے ٗ وہ معمولی سی بات کو بھی بھلا نہیں پاتی کہ اس کے اردگرد بسے لوگ صرف اس کی راحت کا سبب ہیں ایسے میں کوئی تکلیف پہنچا دیتا ہے تو اس کی حساس طبیعت پر نہ صرف گراں گزرتا ہے بلکہ وہ برداشت نہیں کر پاتی ٗ بات کچھ نہیں ہے بس مسئلہ حساسیت کا ہے ٗ کچھ عرصے میں وہ سب بھول جائے گی تو نارمل ہو جائے گی اور اس سارے عرصے میں تمہیں بھی سفر کرنا پڑے گا کہ میں نہ تمہارے لئے کچھ کر سکتی ہوں نہ اسے سمجھا سکتی ہوں کہ وہ کسی بھی بات پر قائل تو ہو جاتی ہے مگر مطمئن صرف اپنے دل و دماغ کے فیصلے کے بعد ہوتی ہے اور یہ بات حنین کی فطرت کی ہر مضبوطی و کمزوری اس کا ہر رشتہ جانتا ہے اسی لئے اسے اسی حساب سے ٹریٹ بھی کرتا ہے ٗ میں بھی اسے غلط مانتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتی سوائے اس کے کہ تم سے اس کے ہر برے رویے کی معذرت کر لوں۔‘‘ حنین اس کی بیسٹ فرینڈ تھی اسے بہت عزیز تھی اسے مکمل سپورٹ کر رہی تھی مگر ایسے کہ ماہ لاج ناراض نہ ہو کہ وہ بھی اس کی دوست تھی ٗ ماہ لاج یکدم ہی مسکرا دی۔
’’تم معذرت نہ کرو کہ اب وہ اچھی ہے ٗ بری ہے جیسی بھی ہے میری دوست ہے ٗ لالہ جان کی وجہ سے ہرٹ ہو جاتی ہوں کہ ان سے بہت محبت کرتی ہوں اور ان کے ذکر پر اس کا منہ بنانا مجھے تکلیف دیتا ہے ٗ لیکن مجھے رشتوں کو بیلنس کرنا آتا ہے میں انشاء اللہ دوست کی وجہ سے بھائی اور بھائی کی وجہ سے دوستی کے رشتے میں دراڑ نہ آنے دوں گی ٗ حنین کو دوست بنایا ہے تو اب دوستی نبھائوں گی بھی ٗ اسی لئے اس سارے ذکر کو جانے دو اور یہ سوچو کہ اپنی برتھ ڈے پارٹی میں ٗ میں اس کی شرکت کو کیسے یقینی بنائوں؟‘‘ وہ اداسی بھلا کر بشاشت سے کہتی ان دونوں کو ہی پرسکون کر گئی تھی۔
’’لیکن! مجھے نہیں لگتا کہ وہ آئے گی؟‘‘ سمیرا نے خیال ظاہر کیا تھا۔
’’اوہوں…! مجھے بھی یہی لگتا ہے اس لئے میری مانو تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ٗ اسے فورس بالکل مت کرو۔‘‘ سحرش اس کی ہمنوا بن گئی تھی۔
’’خیال ظاہر نہ کرو ٗ آئیڈیا سوچو کہ وہ کسی طرح میری برتھ ڈے پارٹی میں شریک ہو جائے۔‘‘ اس نے ان دونوں کو ہی گھور کر کہا تھا۔
’’اگر میں زرمین بھابی سے بات کروں تو کیسا رہے گا؟ کہ اگر وہ مان گئیں تو وہ خود ہی حنین کو منا لیں گی۔‘‘ سمیرا کا مشورہ ان دونوں کو ہی پسند آیا تھا اور وہ زرمین سے بات کرنے کا کہتی اٹھ گئی تھی کہ بریک ٹائم ختم ہو گیا تھا ان کی کلاس شروع ہونے والی تھی۔
٭٭٭
’’پلیز! زرمین بھابی! اس میں حرج ہی کیا ہے؟ ماہ لاج ہماری مشترکہ دوست ہے اور اس کی فیملی بھی کوئی انجان نہیں ہے ٗآپ تو جانتی ہی ہیں کہ لاج ٗ فیصل کے دوست کی بہن ہے ٗ میں فیصل کے ساتھ ان کے گھر بھی گئی ہوں ٗ آپ بات کریں گی تو نوید انکل حنین کو اجازت دے دیں گے۔‘‘ جب سمیرا نے اسے ساری بات بتائی تھی تو اس نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا تھا اور بڑے سبھائو سے نوید عالم کو ڈھال بنا کر حنین کے نہ جانے کا جواز پیش کر دیا تھا مگر وہ کہاں مانی تھی الٹا اسے قائل کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی جبکہ اسے بھی قائل نہ ہونا تھا کہ وہ ہر بات سے واقف تھی اور وہ حنین کو ہرگز بھی اس شخص کے گھر نہ بھیجتی جس کی بے باکی کی داستان اسے آج بھی مضطرب کر دیتی تھی۔
’’سمیرا! ابو نے ہم بہنوں کو اس طرح دوستوں کے گھر آنے جانے کی اجازت کبھی نہیں دی اور حنین کو تو وہ کبھی اکیلے کہیں جانے ہی نہیں دیتے۔‘‘
’’میرے اور سحرش کے ہوتے ہوئے وہ اکیلی کیسے ہو گی؟ کہ ویسے بھی پارٹی میں تو آپ نے بھی جانا ہے وہ ہماری پوری فیملی کو انوائٹ کرے گی۔‘‘ اس نے فوراً ہی زرمین کے جواز کو مسترد کر دیا تھا۔
’’وہ انوائٹ کرے گی جب کی جب سے دیکھی جائے گی کہ اگر ابو چاہیں گے تو اسے اجازت دے دیں گے۔‘‘ وہ بہت ضبط کا مظاہرہ کرتی بولی اور بات ہی ختم کرکے اٹھ گئی۔
’’بھابی! اصل میں بات انکل کی اجازت کی نہیں ہے ٗ حنین کی مرضی کی ہے کہ وہ جانے سے صاف انکار کر چکی ہے ٗ ہماری شادی میں جو کنعان بھائی اس سے ٹکرا گئے تھے اس کی وجہ سے وہ ان پر کچھ غصہ ہے اور وہ اپنا غصہ نہ چاہتے ہوئے بھی لاج پر نکال دیتی ہے اور آپ خود بتایئے! کہ کیا یہ سب صحیح ہے؟‘‘ وہ سمیرا کی بات پر پلٹی اور اسے دیکھنے لگی۔
’’لاج تو اس کے ساتھ فیئر ہے لیکن وہ لاج کے ساتھ اکثر روڈ بی ہیو کر جاتی ہے اور یہ بات تو انتہائی غلط ہے ناں کہ کسی کے کئے کی سزا کسی اور کو دی جائے اور ویسے بھی لاج ٹھیک ہی کہتی ہے کہ اچانک تو کسی سے بھی انسان ٹکرا سکتا ہے جب انسان کی غلطی نہ ہو اور پھر بھی معافی مانگ لے تو اس کے بعد آپ کا برا رویہ کیا معنی رکھتا ہے؟ حنین کا رویہ ہم میں سے کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہا ٗ کنعان بھائی جان کر تو نہیں ٹکرائے تھے جو وہ یوں ان پر غصہ ہے کہ جان کر ایسا کرتے تو اس کا غصہ کرنا بنتا تھا ٗ لیکن ان کے معافی مانگ لینے کے بعد بھی اس کا رویہ ہنوز ہے تو کیوں؟‘‘ سمیرا نے نہ صرف اپنے ذہن کی بلکہ ماہ لاج کی بھی کہی ہوئی ہر بات کہہ ڈالی تھی اور زرمین کیلئے سوچوں کے کئی در وا کر دیئے تھے۔
’’جو بات کسی کے علم میں نہیں ہے وہ تم سب کو خبر کرنے کیوں تُلی ہو؟‘ ارحم الحسن کا خائف لہجہ کانوں میں گونجا تھا اس نے سمیرا سے کہہ دیا تھا کہ وہ حنین کو سمجھائے گی اور تب سے وہ کمرے میں بند ان ہی سب باتوں کو سوچے جا رہی تھی۔
’’ارحم نے ٹھیک کہا تھا کہ جو ہو گیا وہ لوٹایا نہیں جا سکتا ٗ ہاں آگے احتیاط کی جا سکتی ہے تاکہ آئندہ ایسا کچھ نہ ہو اور نہ ہی کسی کو کسی بھی سبب کچھ بھی پتہ چلے اور اس کیلئے مجھے حنین کی برین واشنگ کرنی ہو گی کہ کہیں وہ اپنی ازلی بے وقوفی دکھاتے ہوئے لاج کو یا سحرش و سمیرا میں سے کسی کو کچھ نہ بتا دے کہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ منظر عام پر نہ ہی آئیں تو بہتر ہوتا ہے اور اس کیلئے مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا۔‘‘ وہ یک دم ہی فیصلے پر پہنچ گئی تھی۔
٭٭٭
’’میری ہنی کا موڈ کیوں آف ہے؟‘‘ اس نے سب گھر والوں کو شام کی چائے پیش کی تھی کہ اسی وقت ملازمہ اس کا سیل فون لئے چلی آئی تھی ٗ حنین کالنگ دیکھ کر وہ اپنا کپ لئے بڑی سرعت سے ’’ایکسکیوزمی‘‘ کہتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی ٗ سب نے تو اتنا محسوس نہیں کیا تھا مگر نہ جانے کیوں فیصل کو برا لگا تھا جبکہ اسے محض اندازہ ہی تھا کہ زرمین بھابی کے پاس حنین کا فون آیا ہوگا ٗ اسے چھوٹی سے چھوٹی بات کیلئے حنین کا زرمین کو فون کرنا بہت برا لگتا تھا ٗ مگر ہائے ری مجبوری! کہہ کچھ نہیں سکتا تھا اس نے ایک نظر بھائی پر ڈالی تھی ٗ جو سینڈوچ کھاتا مکمل طور پر سحرش کی جانب متوجہ تھا کہ وہ بھائی کو اپنی کوئی بات بتا رہی تھی جسے وہ دلچسپی سے سن رہا تھا ٗ اس نے ایک سانس خارج کی اور چائے کے سپ لینے لگا ٗ کمرے میں آتے ہی اس نے کال ریسیو کی تھی اور ہائے ہیلو کے درمیان ہی وہ اس کے خراب موڈ کی بو پا گئی تھی اس لئے نہایت پیار سے بولی تھی۔
’’لاج کی وجہ سے میرا موڈ آف ہے۔‘‘ اس نے فوراً ہی اس کی بات کی تصدیق کر دی تھی ٗ مگر وہ بے طرح چونک اٹھی تھی۔
’’کیوں… کیا نئی دوست سے جھگڑا ہو گیا ہے؟‘‘ وجہ جاننے کو نرمی سے استفسار کیا تھا۔
’’نہیں ٗ جھگڑا نہیں ہوا آپی! اس سنڈے کو اس کی برتھ ڈے ہے اور آج وہ انویٹیشن کارڈ لے کر گھر آئی تھی ٗ جب میں نے اسے منع کر دیا تھا کہ میں پارٹی اٹینڈ نہیں کروں گی تو وہ کیوں کارڈ لے کر گھر آئی؟‘‘ اس نے تپے تپے سے لہجے میں موڈ آف ہونے کی وجہ بتا دی تھی۔
’’تو تم نے کیوں منع کر دیا؟ وہ تمہاری دوست ہے تم اپنی دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں چلی جانا۔‘‘ وہ چونکہ سوچ چکی تھی فیصلہ لے چکی تھی اس لئے نار ملی کہہ گئی تھی جبکہ اسے کہاں امید تھی کہ زرمین اسے جانے کو کہے گی اس لئے وہ حیران ہوئی تھی اور حیرانگی سے نکلی تھی تو خفگی سے بولی تھی۔
’’آپی! آپ مجھے وہاں جانے کو کیسے کہہ سکتی ہیں وہ فیصل بھیا کے دوست کا گھر ہے ٗ وہ دوست جنہوں نے آپ کے ریسپشن میں میرے ساتھ کتنی غلط حرکت کی تھی۔‘‘ ان ساعتوں کا خیال ہی اس کو مضطرب کر گیا تھا ٗ گردن پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہونے لگی تھیں ٗ وہ سرخ پڑتی لب کچلنے لگی تھی ٗ جس دوپہر اس نے لاج کے بہت کہنے پر بھی ماہ کنعان کی وجہ سے ماہ لاج سے لفٹ نہیں لی تھی اس دوپہر اس نے روتے روتے ساری تفصیل زرمین کو بتا دی تھی مگر زرمین نے اس سے نہ کہا تھا نہ ظاہر کیا تھا کہ وہ اس بارے میں ارحم الحسن کے ذریعے جان گئی تھی اور تو اور اس نے سب کچھ ماہ کنعان کے منہ سے بھی سن لیا تھا مگر ہائے رے مجبوری! وہ چاہ کر بھی اس سلسلے میں کچھ کر نہیں سکی تھی۔
’’میں سب کچھ جاننے کے باوجود بھی ایسا کہہ رہی ہوں کیونکہ تم نے بریو بننا ہے کہ لڑکیوں کو اپنے معاملے میں خاص کر اپنی عزت کے معاملے میں بہت مضبوط ہونا چاہئے ٗ اتنا کہ کوئی انہیں غلط بات نہ کہہ سکے ٗ چھونا کوئی غلط حرکت کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔‘‘ وہ اس کیلئے مخصوص نرمی سے بول رہی تھی۔
’’لیکن آپی!‘‘ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس نے موقع نہ دیا۔
’’تم نے اس شخص سے یا کسی بھی مرد سے ہرگز بھی ڈرنا نہیں ہے ٗ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنی ہے ٗ تم اس شخص کے سامنے جائو مگر ایسے کہ وہ تمہاری طرف چاہ کر بھی پیشرفت نہ کر سکے کہ تم ڈرو گی ٗ کمزوری دکھائو گی تو وہ تمہیں تر نوالہ سمجھ کر تم پر حاوی ہونے کی کوشش کرے گا ٗ خود اعتمادی سے اس کا سامنا کرو گی تو وہ قدم تمہاری طرف چاہ کر بھی نہیں بڑھا سکے گا۔‘‘ وہ اسے نہایت نرمی سے ایک ایک بات سمجھا رہی تھی۔
’’لیکن آپی! مجھے بہت ڈر لگتا ہے ٗ وہ اچھے انسان نہیں ہیں ٗ انہوں نے مجھے پھر پریشان کیا تو؟‘‘ وہ کچھ سمجھی تھی ٗ کچھ نہیں سمجھی تھی مگر جب بولی تھی تو ہزار خدشے اور خوف عیاں ہو گیا تھا۔
’’وہ تمہیں اب پریشان نہیں کریں گے بالفرض کریں تو تم نے ان سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ انہیں ان کی اوقات بتانی ہے کہ لڑکیاں اگر ڈریں تو مرد انہیں مزید ڈراتے ہیں جبکہ لڑکیوں کو ڈرنے کی بجائے اپنی عزت کی حفاظت کرنی آنی چاہئے۔‘‘ اب وہ اسے کافی کچھ ڈھکے چھپے انداز میں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’آپی! مجھے آپ کی باتیں سمجھ نہیں آ رہیں ٗ میں نے لاج کے گھر جانا ہی نہیں ہے تو آپ کو اتنا سب کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔‘‘ وہ قدرے اکتائے ہوئے ناسمجھ انداز میں بولی تھی۔
’’ضرورت ہے تب ہی کہہ رہی ہوں ٗ تم نے میری باتوں پر غور کرنا ہے اور عمل بھی کرنا ہے اور تم پارٹی میں بھی جا رہی ہو کہ میں نہیں چاہتی اس سب کا کسی کو بھی پتہ چلے جبکہ تمہارا ری ایکشن سب کو تشویش میں مبتلا کر رہا ہے ٗ اس لئے تم نے سب کچھ بھول کر ایک دم نارملی بی ہیو کرنا ہے۔‘‘ زرمین کو اس کی معصومیت پر پیار سا آیا تھا اور اب کے وہ اسے مزید نرمی سے آسان لفظوں میں سمجھا رہی تھی اس کا انداز یسا تھا کہ بات اس کی سمجھ میں آ جائے اور اس کے ذہن پر بھی کوئی برا اثر نہ پڑے۔
’’اوکے! آپ کے کہنے پر چلی جائوں گی ٗ کسی سے اب کچھ کہوں گی بھی نہیں ٗ نہ ہی خود کو کسی کے بھی سامنے کمزور پڑنے دوں گی۔‘‘ ایک گھنٹے کی مغز ماری کے بعد اس کا جواب اسے کچھ پرسکون کر گیا تھا۔
’’مگر اتنا یاد رکھئے گا آپی! کہ وہ مجھے نہیں پسند ٗ اب انہوں نے کوئی غلط حرکت کی تو اس کی ذمے دار آپ ہوں گی کہ آپ کے کہنے پر ہی میں ان کے گھر جائوں گی۔‘‘ اس کا ہر بات کی ذمے داری اس پر ڈال دینا اسے مضطرب کر گیا تھا کہ وہ خود یہ سب نہیں چاہتی تھی بہت سوچ کر کڑے دل سے فیصلہ لیا تھا۔
’’شاید… وہاں حنین کو جانے کیلئے راضی کرنے کا میرا فیصلہ درست نہیں ہے۔‘‘ اس نے اضطراب اور بے چینی سے ٹہلتے ہوئے با آواز بلند خود کلامی کی تھی۔
’’نہیں ٗ تمہارا فیصلہ بالکل درست ہے۔‘‘ فضیل کی آواز پر وہ چونکی۔
’’آئی ایم سوری زرمین! مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اب تک حنین سے فون پر بات کر رہی ہو گی ٗ میں نے تمہاری گفتگو کا محض آخری حصہ ہی سنا ہے اور اس کیلئے معذرت خواہ ہوں ٗ مگر سن لیا ہے ٗ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ تم نے ایک صحیح فیصلہ بروقت لیا ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں یکدم ناراضی اترتے دیکھ کر اس نے جلدی سے وضاحت دی تھی اور ساتھ ہی اپنا مشورہ بھی دے ڈالا تھا اور وہ اتنی پریشان و الجھی ہوئی تھی کہ اس سے اپنا مسئلہ شیئر کر گئی تھی ٗ اس نے زرمین کو بغور دیکھا تھا ٗ سی گرین کاٹن کے پرنٹڈ سوٹ میں وہ تمام تر سادگیوں کے ساتھ الجھی سی اس کے سامنے تھی۔
’’جو ہوا ہرگز بھی ہونا نہیں چاہئے تھا زرمین! مگر جو ہو گیا اسے بدل نہیں سکتے مگر سچائی سے کہوں تو جو فیصلہ تم نے لیا ہے اس میں تم ڈر اور وسوسے کا شکار ہو ٗ مگر میں ذہن و دل سے مطمئن ہو کر تمہارے فیصلے کی حمایت کر رہا ہوں۔‘‘ اس کی خوبصورت آنکھوں میں الجھن و اضطراب کی لکیریں گہری ہونے لگی تھیں۔
’’حنین ہمیشہ سے میرے لئے سحرش کی طرح ہی ہے اور اگر اس شخص کو میں برا پاتا تو سب سے پہلے میں سحرش کی حفاظت کیلئے حکمت عملی تیار کرتا مگر میں ایسا نہیں کر رہا کیونکہ اس شخص کو بدنیت و بدفطرت نہیں پایا کبھی اور جب سحرش کو اس کے گھر جانے یا اس کے سامنے آنے سے نہیں روک رہا تو کوئی تو وجہ گی ناں؟ تو بس تم اسی بات کو سوچ کر مطمئن ہو جائو کہ میں سحرش کو کسی غلط جگہ نہیں بھیج سکتا ور جب میں اپنی بہن کو نہیں بھیج سکتا تو تمہیں کیسے اجازت دوں گا یا حمایت کروں گا کہ تم ایک غلط جگہ اپنی بہن کو جانے دو؟ کہ تمہاری بہن میری بھی بہن ہے اور یقین رکھنا کہ جیسا میں کبھی سحرش کا برا نہیں چاہ سکتا ٗ حنین کا بھی برا چاہ ہی نہیں سکتا کہ سحرش اس لئے عزیز و قابل احترام ہے کہ وہ میری بہن ہے اور حنین اس لئے کہ وہ تمہاری بہن ہے اور ہم جب ایک ہیں تو ہمارے رشتے ٗ ہمارے احساسات کیسے الگ ہو سکتے ہیں؟‘‘ اس کا وہی ازلی نرم ٹھہرا ہوا لہجہ تھا جو زرمین کی ہر الجھن ہر بے چینی کو ختم کرتا چلا گیا تھا۔
’’تھینکس، فضیل! آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ نے میری کتنی بڑی پرابلم کوسالو کر دیا ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر اطمینان جھلکنے لگا تھا اور لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی اور سادگی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھتا فضیل یکدم ہارٹ بیٹ مس کر گیا تھا کہ اس کا گلابی چہرہ کھل کر گلاب کی طرح مہک اٹھا تھا اور وہ مہک اسے اپنی جانب کھینچنے لگی تھی۔
’’حنین! میرے لئے مجھ سے زیادہ اہم ہے ٗ اس کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں ہوتے ٗ اس کی خوشی مجھے اپنی خوشی سے بڑھ کر عزیز ہے اور میں جانتی ہوں کہ جو ہوا اس کے ننھے ذہن پر ضرب لگا گیا ہے وہ ظاہر نہ کرے مگر میں محسوس کر سکتی ہوں کہ وہ جب سے ہی مضطرب ہے اور میں چاہتی تھی کہ وہ ہر ٹینشن سے آزاد ہو جائے مگر میں اپنی ٹینشن کے چلتے اسے ٹینشن فری نہیں کر پا رہی تھی ٗ لینے کو فیصلہ لے لیا تھا مگر ہزار ہا خوف کے سائے میرے گرد منڈلا رہے تھے مگر اب آپ کا ساتھ میرے لئے بہت بڑی ڈھارس ہے ٗ آپ نے مجھے ٹینشن فری کر دیا ہے اور اب میں انشاء اللہ حنین کو اس فیز سے نکال لوں گی۔‘‘ وہ اس کی بدلتی کیفیت سے انجان حنین کیلئے اپنے جذبات بیان کرتی اسے تشکر سے دیکھ رہی تھی اس کے مسکرانے پر وہ دھیمے سے جوابی مسکراہٹ اچھالتا پلٹ گیا تھا ٗ ان کی شادی کو تقریباً تین ماہ ہو گئے تھے ٗ اجنبیت بھلے نہ تھی مگر دوریاں اور فاصلے ان کے درمیان ہنوز تھے ٗ اس نے اگر اسے وقت دیا تھا تو اپنی بات ٗ اپنے فیصلے پر قائم بھی تھا اور وہ تھی کہ سب کیلئے سایہ دار شجر ثابت ہونے والی اس کیلئے تو دھوپ بھی ثابت نہیں ہو رہی تھی ٗ اس کا خیال رکھتی تھی ٗ اس کی پرواہ کرتی ٗ کھانے پینے ٗ کپڑوں اور ہر چیز کا دھیان رکھتی تھی ٗ اس سے ہر کسی کی بات کر لیتی تھی ٗ اب تو بلا جھجھک ہر موضوع پر عام سے انداز میں بات کر لیتی تھی ٗ بات نہیں ہوتی تھی تو ان دونوں کی ٗ ان کی خواہشات و ضروریات کی ٗ رشتے کے تقاضے اور محبت کی۔ وہ جس طرح انجان بنتی تھی وہ الجھ جاتا تھا لیکن اس سے کوئی سوال نہیں کرتا تھا ٗ وہ انجان تو پہلے بھی نہیں رہنا چاہتا تھا اور وقت کے گزرتے انجان بنے رہنا جذبات کو جھٹکنا ٗ جذبوں پر بندھ باندھنا بہت مشکل لگتا تھا مگر وہ اس کی خوشی کیلئے ان ساری مشکلات سے نبرد آزمائی کر رہا تھا کہ اس کی سوچ یہی تھی کہ اجنبیت کی دیوار گر گئی ہے ٗ وقت کے چلتے دوریاں بھی سمٹ جائیں گی اور وہ جو اسے انجان سمجھ رہا تھا وہ اتنی بھی انجان نہ تھی کہ اس کی نگاہ کا اٹھنا ٗ پھر ٹھہرنا اس کا دل دھڑکا دیا کرتا تھا مگر دھڑکنوںکا ساز الگ ہی تان اٹھاتا تو وہ گھبرا جاتی تھی کہ وہ شخص جو کچی عمر میں نگاہ میں سمایا تھا ٗ دل میں ٹھہرا تھا ٗ دعا بن کر لبوں کی سدا بنا تھا وہ نصیب نہ تھا ٗ نہ ملا تھا ٗ نہ ملنے کی امید تھی لیکن دل کا کیا کرتی کہ اب ہر دعا میں اسے دل سے نکل جانے کی التجا کرتی ٗ اسے بھول جانے کی کوشش میں آج کل شدتوں سے یاد کر رہی تھی اور اسی لئے اس کی محبت اور اس کی طلب کو نظر انداز کر رہی تھی کہ وہ بٹے ہوئے دل ٗ کبیدہ ذہن کے ساتھ اس کے جیون میں شامل تو ہو گئی تھی ٗ اس کی بننا نہیں چاہتی تھی کہ اس پیارے سے سادہ شخص کے ساتھ وہ جو نا انصافی کر چکی تھی مزید نہیں کرنا چاہتی تھی کسی اور کو دل میں بسا کر جیون میں شامل ہونا اس کی مجبوری تھی ٗ مگر اب وہ اس مجبوری کو توڑ کر ذہن و دل کی پوری آمادگی سے اس شخص کی بننا چاہتی تھی لیکن یہ سب اتنا آسان بھی نہ تھا وہ روز ٹوٹنے اور جڑنے کے مرحلے سے گزرتی ٗ خود کو فضیل کا مجرم پاتی ٗ معافی کی آس میں جی رہی تھی ٗ کب پرانی محبت دل سے نکلتی اور فضیل کی محبت سما جاتی؟
٭٭٭
’’تھینکس فارکمنگ حنین! میں بتا نہیں سکتی کہ تمہیں اپنی برتھ ڈے پارٹی میں دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے۔‘‘ وہ حنین سے والہانہ انداز میں ملی تھی اس کی خوشی اس کے چہرے و انداز سے ہی عیاں ہو رہی تھی۔
’’میں صرف زرمین آپی کے مجبور کرنے پر آئی ہوں کہ میں ان کی کسی بات سے چاہوں بھی تو انکار نہیں کر سکتی۔‘‘ اس کے چہرے پر کوئی خوشی نہ تھی ایک عجیب سا ہی تاثر تھا جبکہ وہ مسکرا دی تھی۔
’’میرے لئے تمہارا آ جانا ہی کافی ہے ٗ وجہ چاہے کچھ بھی ہو ہاں یہ ضرور ہے کہ زرمین بھابی سے جب ملوں گی تب ان کا دل سے شکریہ ادا کروں گی۔‘‘ وہ اس کا مومی ہاتھ اپنے خوبصورت ہاتھ میں تھامے گرمجوشی سے بولی تھی۔
’’زرمین آپی! کو فضیل بھیا کے ساتھ ان کے دوست کی ویڈنگ اینی ورسری میں جانا تھا ورنہ وہ بھی آتیں۔‘‘ وہ اس کی محبت کے جواب میں دھیمے سے بولی تھی۔
’’اوہوں!… بھابی نے صبح ہی مجھے فون کرکے وش کیا تھا اور آنے سے معذرت کر لی تھی ٗ آئو میں تمہیں اپنے پیرنٹس سے ملواتی ہوں۔‘‘ وہ مسکرائی تھی اور اس کا ہاتھ تھامے اپنے پیرنٹس کی جانب بڑھ گئی تھی ٗ اسے ماہ لقا سے مل کر بالکل بھی خوشی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے بلیک نیٹ کی ساڑھی پر گہرے گلے کا سلیو لیس بلائوز پہنا ہوا تھا اور نیٹ کی سیاہ ساڑھی سے ان کا جھلکتا سفید دودھیا جسم دعوت نظارہ دے رہا تھا اسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی کہ اکثر خواتین نے اسی قسم کی ڈریسنگ کی ہوئی تھی مکس گیدرنگ تھی ہنستے مسکراتے کپلز اس کو یکدم ہی بے چینی ہونے لگی تھی اور وہ جانے کا سوچنے لگی تھی کہ سمیرا اور سحرش آ گئی تھیں اور اتنے اجنبی لوگوں میں ان دونوں کو دیکھ کر اسے گونا گوں سکون کا احساس ہوا تھا۔
’’بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ حنین نے سمیرا کی دل سے تعریف کی تھی وہ مہرون رنگ کی اسٹائلش ساڑھی میں لائٹ سے میک اپ اور ڈائمنڈ جیولری میں لگ ہی بہت اچھی رہی تھی اور وہ لاشعوری طور پر اس کا موازنہ وہاں ہنستی مسکراتی عورتوں سے کرنے لگی تھی کہ اس نے ان سب کے برعکس ساڑھی کو بہت سلیقے سے پہنا ہوا تھا اور اس کے ذہن میں جو کھچڑی پک رہی تھی اس نے سمیرا کے استفسار پر کہہ ڈالی تھی۔
’’ہر انسان کا اپنا لائف اسٹائل ہوتا ہے ٗ اپنی پسند ہوتی ہے۔‘‘ سمیرا دھیمی سی مسکان کے ساتھ بولی تھی اور وہ تینوں ہی ماہ لاج کے ساتھ آتے عین العارفین کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھیں اور ماہ لاج نے اس کا یہ کہہ کر تعارف کروایا تھا کہ وہ اس کے اکلوتے ماموں کا اکلوتا بیٹا ہے۔
’’یہ تمہارے کزن ہیں ٗ یہ تم نے اس دن کیوں نہیں بتایا تھا؟‘‘ سحرش نے سوال کیا تھا۔
’’اس دن موقع نہیں ملا تھا اور بعد میں عارفین بھائی یونی بھی نہیں آئے کہ مجھے بتانے یا تعارف کروانے کا خیال آتا۔‘‘ عین العارفین کے فادر ہارٹ سرجری کیلئے باہر گئے ہوئے تھے اور وہ ان کے ساتھ ہی گیا تھا اس کی واپسی دو دن قبل ہی ہوئی تھی۔
’’اتنے سارے اسٹوڈنٹس میں صرف آپ نے ہی کیسے جج کر لیا تھا کہ میں فول بنا رہا ہوں؟‘‘ اس کی نگاہ حنین کے چہرے پر ٹھہری ہوئی تھی۔
’’جب آپ پلاننگ کر رہے تھے تو میں نے آپ کی باتیں سن لی تھیں۔‘‘ اس نے دھیمے سے کہا تھا کہ ماہ کنعان کی وجہ سے وہ سب سے الگ کھڑی ہو گئی تھی اس لئے ان کی باتیں سن لینے کے سبب ان کی پلاننگ سے آگاہ ہو گئی تھی۔ اس کے سچائی سے بتانے پر وہ اس کو گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ لاج کی کسی بات پر اس کی جانب متوجہ ہو گیا تھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے ہٹ گیا تھا اور اس کے جاتے ہی اس کو گونا گوں سکون کا احساس ہوا تھا کہ وہ اس کی نگاہیں خود پر جمی محسوس کرکے ان کمفرٹ فیل کر رہی تھی۔ ماہ لاج کو سب کو ہی کمپنی دینی تھی اس لئے وہ وقتاً فوقتاً ان کو جوائن کر رہی تھی جو ساتھ کھڑیں دنیا جہان کی باتیں کر رہی تھیں۔ مردانہ قہقہے پر اس نے چونک کر سر اٹھایا تھا اور اتفاق سے اسی پل سہرینہ کی بات پر قہقہہ لگاتے ماہ کنعان کی نگاہ بھی اٹھی تھی اور جہاں اس کی اٹھی نگاہ میں ناگواری اور ڈر آن سمائے تھے اس کی آنکھیں خوشگوار حیرت سے پھیلتیں شوق کا ایک جہان آباد کر بیٹھی تھیں اور وہ اردگرد کا ہوش بھلائے 20 ٗ 25 قدموں کے فاصلے پر موجود حنین عالم کا جائزہ لینے لگا تھا ٗ فیروزی ایئر لائن فراک ٗ چوڑی دار پاجامے پر ہائی ہیل ٗ بالوں کی پونی ٹیل بنائے ٗ ایک ہاتھ میں فیروزی چوڑیاں ٗ دوسرے میں گھڑی باندھے ٗ کانوں ننھے ننھے سوٹ کے ہم رنگ آویزے اور گلے میں لاکٹ پہنے میک اپ کے نام پر کاجل اور لپ گلوز لگائے تمام تر سادگیوں ٗ چہرے پر نو عمری کا بانکپن لئے وہ اسے مبہوت کر گئی تھی۔
’’ہے… کنعان! کہاں کھو گئے بھئی؟‘‘ سہرینہ نے اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا تھا اور بے تکلفی سے شانے پر رکھ دیا تھا اس کی پلٹتی نگاہ یکدم رکی رہ گئی تھی اور ناگواری پہلے سے کہیں گنا بڑھ گئی تھی۔
’’ایکسکیوزمی…!‘‘ وہ بڑی عجلت میں اپنے ڈیڈ سے باتیں کرتے فیصل کی جانب بڑھا تھا جبکہ وہ پیچ و تاب کھاتی رہ گئی تھی۔
’’اس شخص کی ساری بے اعتنائی ایک دن نکال نہ دی تو میرا نام بھی سہرینہ فاروق نہیں۔‘‘ اس کی پشت پر نگاہ جمائے کلس کر سوچا تھا۔
’’تو نے بتایا کیوں نہیں کہ حنین بھی آئی ہے؟‘‘ وہ دوست سے خفگی سے بولا تھا۔
’’میں سمجھا نہیں…‘‘ اسے گھورا اور کچھ فاصلے پر سمیرا کے ساتھ کھڑی حنین کی طرف اشارہ کیا جسے دیکھ وہ بھی حیران ہوا تھا۔
’’حنین میرے ساتھ نہیں آئی ٗ مجھے تو اس کی موجودگی ہی اچھنبے کا باعث لگ رہی ہے۔‘‘ وہ الجھا الجھا سا بولا تھا۔
’’اوہوں… یقین تو مجھے بھی نہیں آ رہا ٗ مگر خوشی بہت ہو رہی ہے اور آج میں اس سے اپنے سابقہ تمام رویوں و حرکات کی معافی طلب کر لوں گا۔‘‘ وہ دلکشی سے مسکرایا تھا۔
’’ہرگز نہیں ٗ تو اس سے بات بھی نہیں کرے گا۔‘‘ اس نے سختی سے اسے ٹوک دیا تھا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا تھا۔
’’وہ یہاں یقینا کسی کے فورس کرنے پر آئی ہو گی اس لئے بہتر ہوگا کہ تو اس سے کوئی بات نہ کرے۔‘‘ وہ کچھ کہتا کہ ماہ لاج چلی آئی تھی۔
’’السلام علیکم! فیصل لالہ! کیسے ہیں آپ؟‘‘ وہ صرف اس کو دیکھ سلام دعا کیلئے ہی آئی تھی۔
’’وعلیکم السلام! میں ٹھیک ہوں۔‘‘ مسکرا کر کہا تھا اور اسے برتھ ڈے وش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا پریزنٹ بھی دے دیا تھا جسے وہ تھینکس کہہ کر تھام گئی تھی۔
’’کیا حنین اکیلی آئی ہے؟‘‘ دوست کی بے چینی محسوس کر رہا تھا اس لئے پوچھ لیا تھا۔
’’جی ٗ حنین کے بھائی (اسجد) اس کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں ٗ سچ کہوں مجھے تو ابھی تک اس کے آنے کا یقین نہیں آ رہا۔‘‘ وہ دونوں ہی اس کی آخری بات پر چونک اٹھے تھے۔
’’ارے ٗ وہ کیوں بھئی؟‘‘ خوشی دلی سے استفسار کیا تھا اس کی ماہ لاج سے کافی حد تک بے تکلفی تھی کہ وہ ماہ کنعان کی طرح ہی اس کی عزت کرتی تھی اور وہ اسے سحرش کی طرح ٹریٹ کرتا تھا اور اس نے بھی مختصراً ساری بات اس کے گوش گزار کی تھی اس کا مقصد ماہ کنعان کو بتانا تھا وہ لب بھینچے کھڑا تھا اس کے چہرے پر اشتعال کا رنگ آ رہا تھا ٗ جا رہا تھا۔
’’سنا تو نے وہ یوں ہی مجھے ذلیل کر رہی ہے ٗ اس دن کتنی شدت سے اس نے لفٹ لینے سے انکار کر دیا ٗ مجھے دیکھ کر چہرے کا رنگ یوں اڑتا ہے جیسے میں اسے کھا جائوں گا۔‘‘ ماہ کنعان دبے دبے انداز میں غرا رہا تھا ٗ فیصل اسے غصے سے ٹہلتے دیکھ رہا تھا کہ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں آ گیا تھا ناچار اسے بھی آنا پڑا تھا۔
’’غصہ نہ کر کہ بہرحال جو تو کر چکا ہے اس کے بعد اس کا ڈرنا یا ناپسندیدگی کچھ ایسی غلط بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ سچائی و سنجیدگی سے بولا اور بیڈ پر نیم دراز ہو گیا جبکہ وہ اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
’’میں اپنی غلطی مان رہا ہوں ٗ معافی بھی مانگنے کی کوشش کر چکا اور اب بھی معافی مانگنے کو تیار ہوں اس کے علاوہ کیا کروں؟ فیصل! اپنے کئے پر شرمندگی ہے مگر اپنی تذلیل بہرحال برداشت نہیں کر سکتا اور وہ بے اعتباری دکھا کر مجھے ذلیل کر رہی ہے اور یہ تو میں ہرگز نہیں چاہوں گا کہ بات لاج کے علم میں آئے کہ جو کر چکا ہوں وہ کیوں کر گیا اس کیلئے میں خود سے ہی روز سوال کرتا لڑ رہا ہوں ٗ مگر بہرحال مجھے اپنی نیک نامی بہت عزیز ہے اور جس طرح کا اس کا بی ہیویئر ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ غصے میں کچھ کر بیٹھا تو تو مجھے کوئی الزام نہ دینا کہ تیری بھی ساری ہمدردیاں اسی کے ساتھ ہیں ٗ وہ معصوم ٗ بے قصور لگتی ہے اور میں جلاد قصور وار۔‘‘ اس کی خوبصورت آنکھیں لہو رنگ ہو گئی تھیں ٗ ماتھے پر رگیں ابھر آئی تھیں ٗ وہ اسے گھورتا خونخوار لہجے میں بول رہا تھا اس نے فوراً ہی مسکین سی شکل بنا لی تھی۔
’’تو تو سارا غصہ مجھ پر کیوں نکال رہا ہے ٗ میرا کیا قصور ہے؟ اب میں تجھے تیری غلطیاں بھی نہ بتائوں؟‘‘ وہ اسے جانتا تھا کہ اشتعال نکال دینے کے بعد وہ پرسکون ہو جائے گا اس لئے وہ اس کے غصہ دکھانے سے ہرگز بھی متاثر نہ ہوا اور اسے گھور کر ٹی وی آن کر لیا۔
’’قصور کے بچے… تو جیسے اس کی سائیڈ لیتا مجھے بہت غلط ثابت کرنے پر تل جاتا ہے ناں ٗ کسی دن میرے ہاتھوں ضائع ہو جائے گا۔‘‘ بیڈ سے تکیہ اٹھا کر اسے مارا تھا اور بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر پائوں پھیلا لئے تھے۔
’’تو مجھے اس کی سائیڈ لینے پر مجبور کرتا ہے ٗ تجھے جانتا ہوں اسی لئے تجھے کچھ نہ کہا نہ سرزنش کی کہ تیرے عمل پر میں خود حیران ہوں ٗ مگر جب میں کہہ رہا ہوں کہ سب بھول جا ٗ وہ جو بھی ری ایکشن دے رہی ہے اس کو مت فیل کر کہ وہ حق پر ہے ٗ تو یوں ری ایکٹ کرکے اس کے ری ایکشنز میں اضافہ کر رہا ہے ٗ تو نظر انداز کر وہ بھی بھول جائے گی ٗ مگر نہیں ٗ تجھ پر تو اب عشق کا بھوت سوار ہونے لگا ہے ٗ اسے دیکھ کر تیری آنکھوں میں جو جذبے ابھرتے ہیں ٗ فاصلے پر ہونے کے باوجود میں محسوس کر گیا تھا ٗ لیکن کہیں تیری یہی بے اختیاریاں تیرے اور اس کیلئے مسائل کھڑے نہ کر دیں ٗ اس لئے اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا سیکھو۔‘‘ چینل پر چینل بدلتا وہ اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا۔
’’اسے دیکھ کر وہی تو نہیں ہوتا میرے یار!‘‘ وہ اس سے کسی عقل کی بات کی توقع کر رہا تھا، شرارت سے کہنے پر قدرے ناراضی سے اس کی طرف دیکھا تھا اور اس کے آنکھ دبانے پر اسے بھی غصہ آ گیا تھا کہ وہ اسے جو سمجھا رہا تھا وہ اسے سمجھنے کو ہی تیار نہ تھا۔
’’اب تو نے کوئی چھچھوری حرکت کی ناں تو وہ تو نہیں میں تجھے جان سے ضرور مار دوں گا۔‘‘ فیصل نے اسے گھورا اور ریموٹ دیوار پر مارتا اٹھ کھڑا ہوا مگر کمرے سے جا نہیں سکا تھا کہ اس نے قہقہہ لگا کر اس کے غصے کو ہوا دی تھی مگر ہاتھ تھام کر اسے جانے روک گیا تھا۔
’’سالے صاحب! جب اتنا غصہ دکھا رہے ہیں تو بہن صاحبہ کتنا دکھائیں گی؟‘‘ وہ جتنا غصے میں آ رہا تھا وہ اتنی ہی شوخی دکھا رہا تھا۔
’’پلیز ماہ! تو یہ چیپ حرکتیں اور باتیں ترک کر دے تو مجھے بہت عزیز ہے اور میں تجھے بہت زیادہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور اگر تو ایسی ہی حرکتیں و باتیں کرتا رہا تو میں تجھے سپورٹ نہیں کر پائوں گا۔‘‘ وہ فی الحال اپنی فیلنگز کو کوئی حتمی نام نہیں دے پا رہا تھا جبکہ وہ اس کی تمام فیلنگز کو نہ صرف محسوس کر گیا تھا بلکہ اس کیلئے پریشان بھی ہو رہا تھا اور وہ اس کی نئی بات پر متحیر ہو کر کچھ کہتا کہ دروازے پر دستک ہوئی تھی ٗ ملازمہ تھی جو ماہ لاج کا پیغام لے کر آئی تھی۔ اس نے آنے کا کہا تھا اور اپنی کہی بات کے برعکس اس نے کوٹ اتار کر دور اچھالا اور جوتے اتارنے لگا۔
’’واٹ ہیپن؟ لاج کیک کاٹنے کیلئے تمہارا ویٹ کر رہی ہے اور تم…!‘‘ وہ قدرے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھتا متحیر سا بولا تھا۔
’’تم چلے جائو ٗ میرا موڈ نہیں ہے۔‘‘ عام سے لہجے میں کہہ کر واکنگ چیئر پر جا بیٹھا تھا۔
’’اب کیا مصیبت آ گئی ہے؟‘‘ وہ بے حد چڑ چکا تھا۔
’’مصیبت تو آئی ہوئی ہے اسی لئے میرا یہاں رہنا ہی ٹھیک ہے کہ اس مصیبت کو گلے لگانا مجھے ضرور اچھا لگے گا مگر نہ وہ مصیبت میرے گلے لگنے کو تیار ہو گی اور نہ ہی یہ تجھ سے برداشت ہو گا۔‘‘وہ معنی خیزی سے بول رہا تھا۔
’’اب تو نے بکواس کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ وہ غرا کر بولا تھا اس نے کن اکھیوں سے اس کا سرخ چہرہ دیکھا تھا۔
’’تجھے مجھ پر بھروسہ نہیں ہے ٗ تجھے یقین ہے کہ میں ضرور کوئی الٹی حرکت کروں گا تو میں نہیں جاتا ٗ اس کے باوجود کہ اس محفل کا حصہ بننے کو میرا دل شدتوں سے تیار و بے قرار ہے جس محفل کو اس کی آمد نے ہی چار چاند لگا دیئے ہیں۔‘‘ اس نے جذباتی انداز میں کہہ کر بے چارگی سے ٹھنڈی آہ بھری تھی۔
’’میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ تجھ پر تو خود سے زیادہ بھروسہ ہے اور تجھ پر میرا یقین اتنی سی بات پر نہیں ٹوٹ سکتا۔‘‘ اسے ناگواری سے گھورا اور کمرے سے نکل گیا اور وہ جو اس کو ستانے کیلئے فضول باتیں کر گیا تھا اس کے ناراض ہو کر چلے جانے سے اس کی ساری شرارت و شوخی ہوا ہو گئی وہ اٹھا ٗ پیر میں لیدر کی۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *