Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22
’’شام میں تیار رہنا ٗ ہم شاپنگ پر چلیں گے۔‘‘ اسجد اس کے ہاتھوں سے بریف کیس لیتے ہوئے بولا تھا ٗ اس نے بڑی سعادت مندی سے ’’جی ٹھیک ہے۔‘‘ کہا اور آگے بڑھ گئی ٗ اسجد نے مڑ کر اسے دیکھا تھا اور جب تک دیکھتا رہا جب تک وہ دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے میں نہیں چلی گئی اور اس کے نظر آنا بند ہوتے ساتھ ہی وہ بوجھل ذہن و دل کے ساتھ آفس کیلئے نکل گیا ٗ بظاہر سب ٹھیک ہو گیا تھا ٗ اسجد اس کا خیال رکھنے لگا تھا اور وہ بھی بالکل نارمل تھی ٗ اس کی پرواہ کا جواب پرواہ سے دے رہی تھی ٗ اس سے بات کرتی تھی ٗ پہلے کی طرح اس کی ضروریات کا خیال رکھتی تھی ان دونوں کا نارمل انداز گھر والوں کو مطمئن کرنے کیلئے کافی تھا ٗ مگر اسجد غیر مطمئن تھا کہ وہ جانتا تھا کہ سب کچھ اتنا بھی نارمل نہیں جتنا وہ شو کر رہے تھے ٗ مائدہ بظاہر جتنی مطمئن نظر آتی تھی ٗ جتنا خود کو نارمل ظاہر کر رہی تھی ٗ درحقیقت ایسا تھا نہیں ان کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو کر بھی کچھ ٹھیک نہیں تھا کیونکہ ان کے رشتے میں معافی کی گنجائش نہیں رہی تھی اور وہ احساس جرم کے ساتھ نارمل نہیں ہو سکتا تھا اور وہ اسجد کو سزا دینے کی چاہ میں خود کو سزا دیتی اس سے زیادہ اذیت میں تھی ٗ اس لئے نارمل کچھ بھی نہیں تھا ٗ ہاں اسجد کے ذہن و دل میں سب کچھ مطمئن کر دینے کی چاہ اور خواہش جنم لے چکی تھی ٗ وہ اپنی ناپسندیدگی بھلائے ٗ انا کو پیچھے رکھے اس کی جانب ہر طرح کی پیشرفت کر رہا تھا اور اسی سلسلے کی ایک کڑی شاپنگ پر جا رہی تھی کہ اس نے دھیرے دھیرے اس کے آہنی خول کو چٹخانا تھا اور اس کیلئے اس نے لاشعوری و شعوری کوشش شروع کر دی تھی۔ وعدے کے مطابق وہ جس وقت گھر پہنچا دوپہر کے 4 بج رہے تھے ٗ گھر میں خاموشی تھی ٗ تینوں ہی بیٹیاں ایک ایک کرکے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئی تھیں ٗ وہ سست روی سے چلتا ٗ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا کمرے تک آیا تھا ٗ سائیڈ ٹیبل پر والٹ اور موبائل رکھتے ہوئے اس کی نگاہ سوئی ہوئی مائدہ پر اٹھی تھی ٗ اس کے گلابی چہرے پر آنسوئوں کے مٹے مٹے نشان اس کے روتے ہوئے سونے کے گواہ تھے ٗ وہ نہایت آہستگی سے اس کے پہلو میں ٹک گیا تھا ٗ جو کروٹ کے بل بے خبر سوتے ہوئے بھی قدرے مضطرب لگ رہی تھی۔
’’میرا جرم ناقابل معافی ہے مائدہ! میں نے تمہیں بہت دکھ دیئے ہیں ٗ اذیتوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلا ہے ٗ مگر میں اپنے کئے پر نادم ہوں ٗ معاف نہ کرو مجھے مگر سزا بھی نہ دو ٗ اذیتوں سے گزر رہا ہوں ٗ تو احساس ہوتا ہے کہ اذیت زدہ زندگی گزارنا بڑا کٹھن ہوتا ہے ٗ کسی کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ کر جیا نہیں جاتا ٗ ہر سانس آزار بن جاتا ہے ٗ مجھے اذیت سے آزاد کر دو۔‘‘ وہ اس کا مومی ہاتھ اپنے خوبصورت مردانہ ہاتھ میں لئے اس کے بہت قریب لیٹا تھا اور اس کے حسین چہرے پر ندامت بھری نگاہیں جمائے نہایت آہستہ گلو گیر لہجے میں کہتے ہوئے اس کی صبیح پیشانی پر لب رکھ دیئے تھے۔ یہ پہلا لمس تھا جو بے اختیار ذہن و دل کی آمادگی کے ساتھ اس کے ماتھے پر ایک داستان لکھ گیا تھا اور اس کی گہری نیند ٹوٹتی چلی گئی تھی ٗ اس نے بے اختیار چونک کر آنکھیں کھولیں ٗ وہ اس پر جھکا ہوا تھاٗ اس کی جانب ذہن و دل کی آمادگی سے متوجہ اور مہربان تھا اور وہ کسمسائی تھی ٗ وہ چونک کر اس کو دیکھنے لگا تھا ٗ وہ نہ شرمندہ ہوا تھا نہ ہی جھجک کر دور ہوا تھا ٗ بلکہ اس پر اپنا حصار مضبوطی سے کھینچ دیا تھا۔ وہ کچھ نہیں بولی تھی ٗ کیونکہ لبوں پر اس نے کب کے قفل ڈال دیئے تھے ٗ مگر اس کا دل رو اٹھا تھا۔
’’اسجد عالم! میں تمہارے لئے محض ایک چور لمحہ ہوں ٗ جسے تم تمام تر استحقاق کے باوجود چوروں کی طرح ہی حاصل کرو گے کہ میں تمہاری محبت تو کیا پسند بھی نہیں ٗ تم نے مجھے صرف طلب سمجھ لیا ہے اور طلب بس پوری ہونی چاہئے ٗ چاہے کیسے بھی ہو۔‘‘ وہ واش بیسن کے سامنے کھڑی چہرہ پانی سے ہی نہیں اپنے آنسوئوں سے بھی بھگو رہی تھی۔
’’تم کہتے ہو کہ تم نادم ہو ٗ معافی چاہتے ہو ٗ سب بھول کر میرے ساتھ ایک اچھی و نارمل ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہو مگر تمہارے قول و فعل میں کس قدر تضاد ہے ٗ مجھے واپس آئے آج ڈھائی ماہ ہو گئے ہیں اور تم نے اتنے عرصے میں آج پیش رفت بھی کی تو میرے عالم بے خبری میں ٗ تم اپنے قول میں سچے ہوتے تو یہ پیش رفت پہلے کرتے یا کم از کم میری آنکھوں میں دیکھتے اپنے قول کی سچائی کا یقین دلاتے ہوئے مجھ تک آتے ٗ مگر تم نے ثابت کر دیا کہ میں نہ کل کہیں تھی ٗ نہ آج ہوں۔ کل تمہیں اپنی محبت کی پرواہ تھی ٗ اس لئے مجھے دھتکارتے رہے ٗ جب تمہیں اپنی مردانگی کا خیال آیا تو مجھے گلے لگا گئے ٗ رشتے بچانا چاہے تو میرے واپس آنے پر مجھے قبول کر گئے ٗ جیت ہر جگہ ہر طرح صرف تمہارا مقدر بنی ہے اور تم نے میرے مقدر میں صرف رسوائیاں ٗ ذلتیں اور بدنصیبی لکھ دی ہے اور تم اس کے باوجود بھی کہتے ہو کہ میں تمہیں معاف کر دوں ٗ خود بتائو آج بھی تم مجھے عزت و مان دینے کو تیار نہیں ٗ تو میں تمہیں کیسے معاف کروں اسجد عالم! کیسے؟‘‘ وہ وہیں واش بیسن کے سامنے بیٹھتی چلی گئی تھی ٗ ہچکیوں سے اس کا پورا وجود لرز رہا تھا ٗ اسجد عالم کا اب ہر قول و فعل اسے بدگمان ہی کرتا تھا ٗ وگرنہ یہ سمجھنا اتنا مشکل بھی نہ تھا کہ اگر اسے چور لمحے کی ہی تلاش ہوتی تو ڈھائی ماہ میں ایسے کتنے ہی لمحے آئے تھے اور گزر گئے تھے اور وہ چوری کا ارادہ ہی رکھتا تو اس کے جاگ جانے پر شرمندہ ہو کر راہ فرار اختیار کر لیتا جبکہ اس نے ایسا نہیں کیا تھا ٗ کیونکہ وہ سچ میں مکمل سچائی اور حقیقت کے ساتھ ندامت اور معافی کی خواہش لئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا ٗ تب ہی اس کے جاگ جانے سے بھی اسے فرق نہیں پڑا تھا ٗ اس کے دل میں ٗ اس کی نیت میں کوئی چور نہ تھا ٗ مگر یہ بات اسے نہیں سمجھائی جا سکتی تھی ٗ جو محبت کی منزل کو راہ میں ہی کھو بیٹھی تھی اور سفر میں اس کے پیر بدگمانی سے اٹ گئے تھے ٗ اس کی مثال ایک خوبصورت و خوش رنگ مور کی سی تھی ٗ جو سر مستی کے عالم میں ناچتا ہے ٗ مگر جیسے ہی اپنے پیروں پر نظر پڑتی ہے ٗ ساری مستی بے بسی کی نظر ہو جاتی ہے اور اس مور کے ناچ میں دکھ و اذیت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ٗ وہ اپنے پیروں کو دیکھ کر اپنے خوش رنگ پنکھ بھلائے روتا چلا جاتا ہے ٗ جیسے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
٭٭٭
’’فضیل! میں تمہیں بہت زیادہ سمجھدار سمجھتی تھی ٗ ایسی بے وقوفی کی مجھے تم سے امید نہ تھی۔‘‘ وہ بیٹے پر خفا ہو رہی تھیں۔
’’مما ٗ آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں۔‘‘
’’تو میں تمہیں صحیح سمجھوں بھی تو کیسے؟ میں انجان تو نہ تھی کہ تم دونوں کے درمیان کیا چل رہا ہے ٗ تم دونوں میں بے تکلفی نہ تھی ٗ کہیں تم دونوں گئے نہیں ٗ مگر تم دونوں کے انداز ایسے تھے کہ میں مطمئن تھی ٗ زرمین کو نہیں جانتی تھی ٗ اس کے دل کی خبر نہ تھی ٗ مگر تمہیں جانتی تھی ٗ تمہارے دل کی خبر تھی ٗ اطمینان تھا مجھے کہ تمہاری محبت زرمین کا دل جیت لے گی ٗ اس کے انداز میں گریز محسوس کیا تھا ٗ تو تمہارے انداز میں نرمی پائی تھی ٗ تو پھر ایک دم تم اپنی فطرت کے خلاف کیسے چلے گئے؟ انہوں نے اس کا ہاتھ جھٹکا تھا اور درشتگی سے کہتی چلی گئی تھیں۔
’’صرف زرمین کی خوشی کے خیال سے جب تک مجھے لگا کہ وہ ہمارے رشتے کو نبھانے ٗ سمجھنے کیلئے وقت چاہتی ہے ٗ میں نے اسے وقت دیا ٗ بیوی نہیں دوست سمجھا ٗ کسی بہت اچھے دوست کی طرح اس کا خیال رکھا ٗ اس کو اس کی خوشیوں کو اہمیت دی اور جس دن یہ پتہ چلا کہ اس کے گریز کے پیچھے اس کی فیلنگز تھیں ٗ تو میں نے صرف اس کی خوشی کے خیال سے راہیں الگ کر لینی چاہئیں ٗ میں اس کو غلط نہیں سمجھ رہا تھا ٗ اس کے لفظ لفظ پر یقین ہے مجھے لیکن میں نے سوچا مما! زرمین کا حق ہے کہ وہ اپنی پسند کے شخص کے ساتھ زندگی بسر کرے اور وہ شخص میں نہیں تو مجھے اسے آزاد کر دینا چاہئے۔‘‘ وہ سرخ چہرے کے ساتھ کہتا چلا گیا تھا اور وہ اسے تاسف سے دیکھنے لگی تھیں۔
’’ایسا فیصلہ لینے والے تم ہوتے کون تھے؟ تم نے زرمین کی مرضی پوچھی تھی؟ صرف اتنا جان لینے کے بعد کہ وہ کسی کو پسند کرتی ہے ٗ تم نے راہیں الگ کر لینی چاہیں ٗ سارے فیصلے خود کرتے چلے گئے ٗ کیا تمہیں چند ماہ کے ساتھ میں ایک لمحے کیلئے بھی نہیں لگا تھا کہ وہ تمہارے رشتے کو قبول کر چکی ہے؟‘‘ وہ نہایت غصے میں تھیں۔
’’بار ہا لگا تھا مما! لیکن میں زرمین کو دھوکے باز نہیں سمجھ رہا تھا ٗ مجھے تو بس اس کی خوشی عزیز تھی ٗ اس لئے اپنے طور پر فیصلہ کرکے چلا گیا ٗ مگر میں غلط تھا کہ زرمین کو زندگی صرف اپنے لئے جینی ہوتی ٗ اپنی پسند کے مطابق جینی ہوتی تو وہ مجھ سے شادی کرتی ہی نہیں ٗ مجھ سے زرمین کو سمجھنے میں غلطی ہو گئی ٗ لیکن یقین کریں مما! میں یہاں سے گیا ہی اس لئے تھا کہ دیکھوں میں اس کے بغیر رہ سکتا ہوں یا نہیں ٗ مگر میں نہیں رہ سکا مما! جتنا اسے نظر انداز کیا ٗ اتنا اسے اپنے دل کے قریب پایا ٗ اس کو دور کر دینے کی شعوری کوشش اسے مجھ سے بہت قریب کر گئی۔ یقین کریں میں نے زرمین سے نکاح اپنی خوشی اور دل کی رضا سے کیا تھا ٗ اس نکاح کو زرمین کی خوشی کے مطابق قائم رکھنا چاہا ٗ اسی کی خوشی کے خیال سے ختم کرنا چاہا اور اسی کے بلانے پر صرف آٹھ ماہ بعد ہی لوٹ آیا ہوں ٗ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ہوں۔‘‘ وہ ماں کی گود میں سر رکھے بچوں کی طرح رونے لگا تھا۔
’’سب کچھ خود سے فرض نہیں کر لیتے بیٹا! کہ تم عورت کو نہیں جانتے ٗ عورت صرف ایک بار کسی کو اپنا بناتی ہے ٗ اگر محبت کر بھی لے تو مگر جس سے شرعی رشتے میں بندھتی ہے ٗ وہ محبت سے بڑھ کر عزت دے تو تن من سے صرف اس کی ہو جاتی ہے اور تم نے اسے عزت دی ٗ اس کی مرضی و خوشی کو اولیت دی ٗ اہمیت دی اور عورت اس انسان کو کبھی نہیں دھتکارتی ٗ جو اسے مان و عزت دیتا ہے۔‘‘ انہوں نے بیٹے کو کمپوزڈ ہو جانے کا موقع فراہم کرنے کے بعد کہا تھا۔
’’کچھ دیر میں زرمین ہاسپٹل سے آ جائے گی ٗ تم سارے گلے شکوے دور کر لینا اور اپنے دل سے ہر وہم و شک نکال دینا ٗ تم بہت خوش نصیب ہو کہ تمہارے نصیب میں زرمین جیسی سچی و نرم جذبات سے گندھی لڑکی آئی ہے اور اس کی قدر کرنا ٗ وہ ہر لحاظ سے تمہارے قابل ہے اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرا بیٹا ایک بہت اچھا انسان ہے کہ جو فیصلہ تم نے لیا کوئی نہیں لے سکتا ٗ مگر جو ہوا سو ہو گیا ٗ اب تم دونوں نے ہی سب سے بڑھ کر اپنے رشتے کی عزت کرنی ہے ٗ زرمین بھی کم خوش قسمت نہیں ہے کہ تم جیسے انسان تو لاکھوں میں ایک ہوتے ہیں ٗ اٹھو اور جا کر فریش ہو جائو ٗ میں ذرا جا کر انتظامات دیکھ لوں ٗ زرمین نے گھر اس خوبی سے سنبھالا ہے کہ ایک دن وہ یہاں نہیں تھی تو لگا کہ سب کچھ تلپٹ ہو گیا ہے۔‘‘ وہ بیٹے کا رخسار تھپکتیں اٹھ گئی تھیں اور وہ مسکرا دیا تھا ٗ زرمین کی اچھائی اس سے ہرگز بھی پوشیدہ نہیں تھی اور اب اس نے اچھی لڑکی کے ہر دکھ کا مداوا کرنا تھا ٗ جانے انجانے میں کئے ظلم کو محبت کی قبا اوڑھانی تھی ٗ اس لڑکی کو عزت و مان سے اپنی قربتیں عطا کرنی تھیں ٗ جس کی وہ حقدار تھی ٗ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنے دل میں موجود ہر جذبے کو ٗ چھپی ہوئی محبت کو سب کچھ اس پر آشکار کر دے گا ٗ اس کو بتا دے گا وہ اس کیلئے کتنی اہم ہے اور جو اہم ہوں ان کیلئے ایثار اور قربانی دینی پڑتی ہے اور وہ بھی صرف قربانی دینے جا رہا تھا ٗ مگر اللہ نے اس کے جذبے کی سچائی کے سبب صرف اس کا امتحان لے کر اسے اس کی محبت سونپ دی تھی ٗ وہ اس امتحان میں بھی سرخرو رہا تھا ٗ اس نے فریش ہو کر کسی کو کال کی تھی اور آرڈر دے کر وہ کمرے کا جائزہ لینے لگا تھا ٗ وہ اسے زرمین کے شایان شان سجانا چاہتا تھا ٗ وہ کسی قسم کی کمی نہیں چھوڑنا تھا اور اس کیلئے اس نے سب سے پہلے کچھ سال پہلے لیا گفٹ نکالا تھا اور اسے دیکھتے ہوئے دلکشی سے مسکرا دیا تھا۔
٭٭٭
’’آپ… آپ کب آئے؟‘‘ وہ روم میں داخل ہوئی تھی جو تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ٗ اس نے لائٹس آن کی تھیں اور کمرے کی سجاوٹ دیکھ کر متحیر سی کھڑی تھی ٗ جابجا بکھریں گلاب کی پتیاں ٗ مہکا مہکا کمرہ اس کو سب کچھ بہت اچھا لگا تھا ٗ اس نے آہٹ پر مڑ کر دیکھا تھا اور مسکراتے ہوئے فضیل کو دیکھ کر لپک کر اس تک پہنچی تھی۔
’’دو دن ہو گئے محترمہ! میں فیصلہ کرکے لوٹا تو محترمہ چند ماہ کی جدائی میں ہی ہاسپٹل کے دورے پر چل پڑنے کو تیار تھیں اور میں نے بھی آئو دیکھا نہ تائو ٗ تمہیں پہنچایا ہسپتال ٗ تھوڑا سا ہوا پریشان اور جب تم صحت یاب ہوئیں تو روپوش ہو گیا کہ سامنے دیکھ کر تمہاری جان نکل جاتی تو میرا کیا ہوتا ٗ میں تمہارے بن نہیں رہ سکتا زرمین!‘‘ وہ غیر سنجیدگی سے کہتا بات کے آخر تک سنجیدہ ہو گیا تھا۔
’’جھوٹ نہ بولیں ٗ میرے بنا نہ رہ سکتے تو مجھے چھوڑ کر ہی نہیں جاتے اور چلے گئے تھے تو رابطہ تو رکھتے ٗ سارے ہی سلسلے توڑ ڈالے تھے آپ نے ٗ کیوں اور کس بات کی سزا دے رہے تھے مجھے؟‘‘ اس نے ہاتھ تھاما تھا اور اس نے جھٹکے سے آزاد کروا کر نہایت غصے سے کہہ کر اسے گھورا تھا۔
’’زرمین! جو ہوا اسے بھول جائو ٗ سزا تمہیں ہی نہیں خود کو بھی دی ٗ بس یاد رکھو تو اتنا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ٗ آج سے نہیں برسوں پہلے سے جب محبت کے مفہوم سے بھی نا آشنا تھا تب سے ٗ مگر کبھی کہہ نہ سکا‘ شادی کی رات تمہارے گریز نے لب سی دیئے ٗ بعد میں پہل نہ کر سکا ٗ میں چاہتا تھا کہ پہل تم کرو ٗ کوئی ایک اشارہ دو‘ تم نے مجھ سے جڑے رشتے کو قبول کر لیا ہے ٗ مگر تم حیا کے سبب ایسا کر نہ سکیں ٗ حالات نے کروٹ لی اور میں دور چلا گیا ٗ مگر یہ یاد رکھنا کہ بدگمان ہو کر نہیں گیا تھا ٗ مجھے تم پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے ٗ بس یہ سمجھ لو کہ ہماری آزمائش تھی جو ختم ہوئی۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر اپنے ازلی نرم لہجے میں کہا تھا اور وہ رونے لگی تھی۔
’’آپ نے خود انتظار کرنے کی بات کی اور پلٹ کر میری طرف نہیں دیکھا ٗ تو میں خود سے کیسے کہتی کہ آپ کا انتظار ختم ہوا اور آپ نے تو مجھے طلاق دینے کی بات کی تھی ٗ اتنی ہی بری لگتی تھی ناں ٗ تو شادی ہی نہ کرتے ٗ یوں شادی کرکے ناکارہ شے کی طرح گھر میں کیوں رکھ چھوڑا تھا؟ اورپر سے بات کرتے ہیں محبت کی ٗ مجھ سے محبت ہوتی تو کہتے ناں ٗ آپ تو مجھے سزا دے رہے تھے جبکہ میرا قصور کیا تھا ٗ نکاح سے پہلے کسی کو بھی ٗ کچھ بھی سوچا ہو ٗ نکاح کے بعد تو صرف آپ کو سوچا ٗ آپ کو چاہا اور آپ ہی بدل گئے ٗ یہی تھی ناں آپ کی محبت؟‘‘ وہ سسکتے ہوئے شکوے کر رہی تھی۔
’’تم سے محبت ہی تو تھی جو تمہاری خوشی کی پرواہ میں وصل کے قریب جا کر بھی ہجر سمیٹ لائی ٗ بس تم خوش رہو ٗ تمہاری خوشی کے خیال سے تمہیں اپنایا نہیں اور اسی خوشی کے خیال سے تمہیں آزاد کر رہا تھا ٗ مگر اب میں جان گیا ہوں ٗ تمہاری خوشی صرف مجھ سے جڑی ہے اسی لئے میں لوٹ آیا اور اس رات میں نے مما اور تمہاری باتیں سنیں تو مجھے مزید احساس ہوا کہ میں انجان تھا ٗ تمہاری خوشی میں ہوں ٗ میں نے تمہیں ہرٹ کیا ہے جو چاہے سزا دے لو ٗ مگر یقین رکھو زرمین! میں تمہیں دھوکے باز نہیں سمجھتا ٗ نہ ہی تمہیں سزا دے رہا تھا۔‘‘ وہ اسے شانوں سے تھامے یقین سونپ رہا تھا۔
’’آئی ایم سوری فضیل! میں نے جانے انجانے میں آپ کو بہت تکلیف دی ہے ٗ مگر آپ بھی مجھ پر بھروسہ کریں کہ میری کل کی چاہت کوئی بھی ہو ٗ میری آج کی چاہت آپ ہیں ٗ میں نے ماضی میں ہی جینا ہوتا تو میری راہیں کٹھن نہ تھیں ٗ میں نے آپ کا ساتھ والدین کی ایماء اور رب کی رضا جان کر قبول کیا تھا اور میرا ایمان ہے کہ والدین اولاد کا برا نہیں چاہتے ٗ میرے والدین نے میرے لئے آپ کو چوز کیا اور آپ ہی میرا سب کچھ ہیں ٗ میں نے پوری زندگی صرف آپ کے ساتھ گزارنی ہے ٗ آئندہ مذاق میں بھی چھوڑنے کی بات مت کیجئے گا ٗ میں آپ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں۔‘‘ وہ روتے ہوئے کہتی اس کے شانے پر سر ٹکا گئی تھی۔
’’تم سے دور جا کر تو احساس ہوا کہ میں بھی تم بن ادھورا ہوں۔‘‘ وہ اس پر گھیرا ڈالتے ہوئے جذبوں سے چور لہجے میں بولا تھا اور اسے لئے بیڈ کی طرف بڑھ گیا تھا ٗ اسے بیڈ پر بٹھا کر اس نے سائیڈ ٹیبل سے باکس اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا تھا ٗ جسے اس نے کھولا ٗ ڈبے میں ایک بندیا تھی ٗ جس میں کتنے رنگ کے نگ جڑے ہوئے تھے ٗ اس کی نگاہ میں واضح ستائش چمکی تھی۔
’’تم اکثر ہمارے گھر آتی تھیں ٗ میں نے تمہیں ہمیشہ سیدھی مانگ کے ساتھ سادہ چوٹی بنائے دیکھا تھا اور میرا دل کرتا تھا کہ تمہاری سیدھی مانگ ٗ چمکتی پیشانی پر اپنی چاہت کا مانگ ٹیکا سجائوں ٗ سلیقے سے گوندھی چوٹی کے سارے بل کھول کر تمہاری حسین کالی زلفوں میں اپنا دل پرو دوں۔‘‘ وہ جذب کے عالم میں کہتا اظہار محبت کی منزل طے کر گیا تھا اور وہ حیا سے سمٹ کر رہ گئی تھی۔
٭٭٭
’’میری ہر بات سے اختلاف کرنا ٗ آپ ضروری کیوں سمجھتے ہیں۔‘‘ وہ نہایت غصہ سے بولی تھی۔
’’آواز ٗ آہستہ رکھو حنین! کہ میں تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم جیسے چاہو مجھ سے بات کرنے لگو۔‘‘ وہ اس کی بحث سے تو چڑا ہی ہوا تھا اس کے شائوٹ ہونے پر وہ بھی ضبط کھو بیٹھا تھا کہ کہاں کسی کی مجال تھی کہ اس کے سامنے ٹھہر بھی سکے اور کہاں وہ اپنی من مانی طبیعت کے ہاتھوں اس سے کافی بدتمیزی کر جاتی تھی جسے وہ اس کی محبت میں برداشت کر لیتا تھا مگر تھا تو انسان ہی صبر کا پیمانہ چھلک ہی گیا تھا اور اس کی آواز ذرا بلندکیا ہوئی تھی اس کے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا کہ آپ یوں غصہ ہونے لگے۔‘‘ وہ پہلی دفعہ اس پر ناراض ہوا تھا اسی لئے اس کے رونے میں شدت آ گئی تھی اور انداز بھی سہما ہوا تھا۔
’’تم کیا کچھ کہہ اور کر جاتی ہو ٗ تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے۔‘‘ اس کو روتے دیکھ بے بسی سی محسوس کرنے لگا تھا۔ آج ارحم اور لاج کی برات تھی اور اس کا وہی منگنی والا مسئلہ تھا کہ ساڑھی نہیں پہننی اور ارحم کی طرف سے شرکت کرنی ہے جبکہ وہ چاہتا تھا کہ وہ ساڑھی پہنے اور براتیوں کے استقبال کے وقت وہ اس کے ساتھ موجود ہو نہ وہ اس کی سن رہی تھی اور نہ ہی وہ اس کی مان رہا تھا اس لئے کافی بحث بھی ہو گئی تھی اور جس کا کوئی حل بھی نہیں نکلا تھا اور اس کے غصہ سے خائف ہوتی وہ وارڈ روب کی جانب بڑھی اور ہینگر سے ساڑھی گھسیٹ کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔
’’میں تمہارے آس پاس رہنے کے مواقع تلاشتا رہتا ہوں اور تم مجھ سے بچنے کے بہانے سوچتی رہتی ہو۔ میرے لئے تمہارے کوئی جذبات ہیں ہی نہیں تو کم از کم میرے جذبات کو سمجھ کر ان کی قدر کرنے کی ہی زحمت کر لو۔‘‘ جب وہ سلیقے سے ساڑھی اپنے متناسب سراپے پر سیٹ کرکے لوٹی تھی تو اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور متورم چہرہ آنسوئوں سے بھیگا ہوا تھا اور وہ جو اتنی دیر میں خود کو کمپوز کر چکا تھا اس کے روئے روئے چہرے کو دیکھ دکھ کی لہر سی اٹھی تھی اور وہ سرد لہجے میں کہتا چلا گیا تھا۔
’’آپ غصہ نہ کریں میں آپ کی پسند پر تیار ہو کر آپ کی ہی طرف سے شرکت کروں گی۔‘‘
وہ اس کو شانوں سے تھامے جھنجلا رہا تھا کہ وہ خائف لہجے میں بول کر حقیقی معنوں میں اسے غصہ دلا گئی تھی۔
’’تم عجیب عورت ہو ٗ توجہ محبت پر خوش ہونے کے بجائے چڑنے لگتی ہو ٗ اتنا ہی برا لگتا ہوں ناں تو کوئی فیصلہ کر لو۔‘‘ وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’محبت کی تم سے ٗ تم کو کھونے سے خائف رہا تو اپنی سی کوشش کرکے تمہیں حاصل کرنا چاہا ٗ اب میں اتنا بھی برا نہیں ہوں کہ تمہارے دل تو کیا نظر میں بھی نہ سما سکوں۔ مجھ سے کیوں اتنی خائف ہو؟ جو بھی سبب بے زاری کا ہے کہہ دو ٗ کہ روز روز کی چخ چخ سے میں تنگ آنے لگا ہوں کہ میں نے تمہارے ساتھ ایسی روکھی پھیکی زندگی نہیں گزارنی۔‘‘
وہ تیز لہجے میں کہتا چلا گیا تھا ٗ اس نے ماہ کنعان کی جانب دیکھا تھا اس کے خوبرو چہرے پر سایے لرزاں تھے اور وہ ہر خدشہ ٗ ہر وہم ٗ ہر ڈر کہنے کا تہیہ کرتی بولنے ہی لگی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی تھی ٗ اس نے لب بھینچ لئے تھے۔
’’اسی وقت جا کر ساڑھی کی جگہ کوئی بھی سوٹ پہن لو ٗ پھر میں تمہیں الحسن ہائوس چھوڑ آئوں گا۔‘‘ وہ کہہ کر دروازہ کھول گیا تھا ٗ ملازمہ تھی جو بیوٹیشن کے آ جانے کا سندیسہ لے کر آئی تھی ٗ وہ وہاں ٹھہرا نہیں تھا جبکہ اس نے لباس تبدیل نہیں کیا تھا ماہر بیوٹیشن نے اس کے تیکھے نین نقش کو مزید دلکش بنا دیا تھا ٗ اس کو دیکھ کر وہ ٹھٹکا ضرور تھا مگر بولا کچھ نہیں تھا اور تیار ہو کر باہر چلا آیا تھا اس نے ڈرائیونگ کرتے ماہ کنعان پر نظر ڈالی تھی وہ اپنی پرکشش شخصیت کے ساتھ ناراض و خفا خفا سا نہ جانے کیوں بہت اچھا لگ رہا تھا وہ اس کے چہرے کو دیکھتی اس کے خوبصورت ہاتھوں کو دیکھنے لگی تھی نہ جانے کیوں اس کے دل میں آئی تھی کہ وہ اس کے ہاتھوں کی تعریف کرے اور اس سے کہے کہ وہ سنجیدہ انداز میں بہت پرایا لگ رہا ہے کہ وہ تو اس کی بھرپور توجہ کی عادی ہو چکی ہے! اس کی نظر خود پر محسوس کرکے کنعان نے اس کی جانب دیکھا تھا۔
’’آئی ایم سوری!‘‘ اس کے نظر پھیر لینے پر وہ بھیگتی پلکوں سے بھرائے ہوئے لہجے میں منمنائی تھی اس کا پیر بریک پر جا پڑا تھا۔ ‘‘
میں آپ سے بھاگنے کے بہانے تلاش کیا کرتی تھی ٗ مگر میں اب ایسا نہیں کرتی ماہ کنعان!‘‘ وہ سسکتے ہوئے بولی کیا تھی اسے معتبر کر گئی تھی۔
’’کہ میں آپ کو ناپسند نہیں کرتی۔‘‘ وہ لب چبا کر کہتی اتنی معصوم و پیاری لگی تھی کہ وہ اسے بازو سے تھام کر اپنی طرف کھینچ گیا تھا۔
’’یعنی پھر محبت کرتی ہو۔‘‘ وہ اس کی اس حرکت کیلئے بالکل تیار نہ تھی سٹپٹا کر رہ گئی تھی اور اس کے منی خیز سوال پر اس کے لفظ اسے بھول گئے تھے ٗ وہ پہلی فرصت میں اُس سے دور ہوئی تھی۔
’’بہت ظالم ہو یار ٗ مجھے ناراض تک نہیں ہونے دیتی ہو۔‘‘ وہ اس کے پر حجاب سی سرخی سے سجے سوہنے مکھڑے کو دیکھ دلکشی سے بولا تھا جبکہ وہ آگے سے کچھ نہیں بولی تھی کہ اس کے جذبوں کے آگے وہ یونہی سرنگوں ہو جایا کرتی تھی کہ وہ اس سے بحث بھی کر لیتی تھی ٗ غصہ بھی دکھا لیتی تھی لیکن اس کے جذبوں پر بند نہیں باندھ سکتی تھی ٗ اس سے گریز برتتی تھی تو کبھی اس سے بچنے کو اس کے سینے میں ہی منہ چھپا لیا کرتی تھی۔
’’آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں ناں؟‘‘ کچھ دیر پہلے کی اس کی سرد مہری ہی تھی جو اسے سوال پر اکسا گئی تھی۔
’’نہیں…! کہ تم کہہ کر بھول گئی ہو مگر مجھے تمہاری فرمائش یاد ہے ٗ میں تم سے کبھی نہیں روٹھوں گا۔‘‘ ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ چونکا تھا اور اس کیلئے مخصوص نرمی سے بول گیا تھا۔ وہ پرحجاب سی مسکان مسکرا دی تھی۔ اس نے اسے الحسن ہائوس ڈراپ کیا تھا۔
’’آپ اندر نہیں آئیں گے؟‘‘ سرخ چہرے کے ساتھ ڈرائیونگ ڈور تھامے کھڑے بلیک ڈنر سوٹ میں نہایت باوقار و دلکش لگتے ماہ کنعان سے اس نے نرمی سے سوال کیا تھا۔
’’نہیں یار کہ میں نے ابھی وینیو پر پہنچ کر انتظامات بھی تو اوکے کرنے ہیں۔‘‘ دھیمے سے انکار کر گیا تھا۔
’’تھوڑی دیر کیلئے آ جائیں ٗ سہرا بندی کے بعد واپس چلے جایئے گا۔‘‘ وہ ساڑھی کا پلو سنبھالتی ہوئی بولی تھی اور وہ اس کے ہمقدم ہو گیا تھا کہ اسے انکار تو کر ہی نہیں سکتا تھا۔ الحسن ہائوس میں اس کے پہنچتے ہی رونق سی لگ گئی تھی ٗ اس کو ہنستے مسکراتے ٗ ارحم کے آگے پیچھے پھرتے دیکھ وہ مسکرا رہا تھا اس نے وینیو پر اپنی جگہ فیصل کو پہنچنے کیلئے فون پر کہہ دیا تھا اور مطمئن سا سرمہ لگائی اور سہرا بندی کی رسومات سے فارغ ہو کر جس وقت گاڑی میں آکر بیٹھا تھا پہلے سے اسے گاڑی میں براجمان دیکھ خوشگوار سی حیرت میں گھر گیا تھا۔
’’آپ نے میری خاطر سہرا بندی کی رسم میں شرکت کی تو میں آپ کی خاطر آپ کے ساتھ مل کر براتیوں کا استقبال تو کر ہی سکتی ہوں۔‘‘ وہ کچھ کہتا کہ وہ مسکراتی آنکھوں کے ساتھ بول پڑی تھی کہ چاہے کنعان اس سے بحث کرتا تھا مگر مانی اسی کی جاتی تھی اور جب وہ خاموشی سے اسے الحسن ہائوس لے آیا تھا تو وہ بھی خود ہی خاموشی سے مان کر اس کی محبت کو معتبر کر گئی تھی۔ ماہ کنعان نے اس کے شرمائے ہوئے من موہنے چہرے کو دیکھا تو اسے لگا تھا کہ اس کے جذبے اس پر اثر انداز ہونے لگے ہیں وہ دلکشی سے مسکرا دیا تھا۔
٭٭٭
’’بھیا! خدا کو مانیں یار! آج تو کم از کم اس فون اور ڈی آئی جی صاحب کا پیچھا چھوڑ دیں ٗ آپ نے تو انہیں محبوبہ ہی بنا لیا ہے جبکہ اصل محبوبہ آپ کا انتظار کرتی سوکھ رہی ہو گی۔‘‘ اس نے بڑی سہولت سے ارحم کے ہاتھ سے سیل فون جھپٹا تھا اور نہایت شوخی سے بولا تھا اور اس کے گھورنے پر بھی اسے ذرا فرق نہیں پڑا تھا۔
’’ٹھیک ہی تو بول رہا ہوں ٗ کمرے میں بھابی آپ کا انتظار کر رہی ہیں اور آپ یہاں ڈی آئی جی صاحب کے ساتھ سیاست و مجرم کو زیر بحث لائے ہوئے ہیں ٗ کم از کم آج کے دن تو دیوان غالب کو ذہن میں تازہ کیجئے ٗ رومینس کے بارے میں سوچئے ٗ رومینس…!‘‘
’’شٹ اپ راحم!‘‘ ارحم نے سرخ چہرے کے ساتھ چھوٹے بھائی کو ڈپٹا تھا ٗ مگر وہ بھی کافی ڈھیٹ واقع ہوا تھا ٗ قہقہہ لگا کر معنی خیز نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا تھا۔
’’راحم! شرافت سے میرا سیل فون واپس کرو ٗ ڈی آئی جی صاحب کو دس منٹ بعد میں نے کال بیک کرنی ہے۔‘‘ وہ اسے ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھتا اپنے مخصوص لہجے میں بولا تھا۔
’’آپ سے بات کرنا ہی فضول ہے ٗ اب آپ کو تو بھابی ہی سدھاریں گی۔‘‘ وہ تپ کر کہتا اس کا سیل واپس کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا اور اس نے ڈی آئی جی صاحب سے بات کرکے رابطہ منقطع ہی کیا تھا کہ فریدہ چلی آئی تھیں اور رات کے 2 بج جانے کے باوجود اسے تسلی سے لائونج میں صوفے پر بیٹھے دیکھ کر وہ تاسف میں مبتلا ہوتیں اسے شرمندہ کرنے اس کے سامنے آ رکی تھیں۔
’’سوری مما! بٹ کال امپورٹنٹ تھی ٗ آپ جا کر آرام کیجئے ٗ میں بس کمرے میں ہی جا رہا ہوں۔‘‘ وہ ماں کو غصے میں پاکر اپنے مخصوص سنجیدہ لہجے میں بولا تھا۔
’’ارحم! میں تمہاری ماں ہوں ٗ تمہاری نیچر سمجھتی ہوں ٗ وہ بچی نہیں جس نے منگنی کے بعد تمہارے حوالے سے کتنے خواب سجائے ہوں گے اور تم نے مگر اپنی مصروفیت و فطرت کو جواز بنا کر اس سے رابطہ نہ کیا ٗ مگر اب وقت و حیثیت بدل گئی ہے ٗ اب تم نے لاج کو وقت دینا ہے ٗ عزت ٗ محبت دینی ہے ٗ تمہاری تمام مصروفیات میں بھی سب سے اول لاج کو رہنا چاہئے ٗ تم نے میری بہو کو ذرا بھی کام کا بہانا کرکے اگنور کیا ٗ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ٗ اس لئے کچھ ماہ تو تم جاب کو بھول ہی جانا۔‘‘ وہ اس کو کڑے تیوروں سے ہدایت دی رہی تھیں کہ اس نے شادی کیلئے بہت مشکل سے حامی بھری تھی اور ابھی بھی بڑی ہی مشکل سے اس نے شادی کی تھی کیونکہ اسے ابھی بھی کچھ وقت چاہئے تھا ٗ مگر اس بار انہوں نے اس کی ایک نہ سنی تھی مگر اس کی مرضی و خوشی کے مطابق شادی ہوئی‘ بہت سادگی سے تھی ٗ ماہ لقا اور ذوالفقار عابدی جبکہ مہندی کرنا چاہ رہے تھے ٗ مگر وہ راضی نہیں ہوا تھا اور اس کے انکار کا جب ماہ لاج کو پتہ چلا تھا ٗ تو اس نے ڈوبتے دل کے ساتھ پیرنٹس کو سادگی سے شادی کیلئے راضی کر لیا تھا‘ شور ہنگامہ تو اسے بھی خاص پسند نہ تھا اور وہ ماں سے ڈانٹ کھاتا ٗ ان کی بہو کا خیال رکھنے کا وعدہ کرتا جس وقت اپنے کمرے میں داخل ہوا ٗ رات کے پونے تین بج رہے تھے ٗ وہ مگر کمرے میں قدم رکھتے ہی بری طرح ٹھٹھک گیا تھا کہ روم میں داخل ہوتے ہی کوئی چیز اس کے جوتے تلے آئی تھی ٗ اس نے پیر ہٹا کر دیکھا تھا ٗ وہ پازیب تھی اور اس کی نگاہ کمرے میں بچھے بیش قیمت قالین پر بکھرے زیورات اور چوڑیوںپر پھسلتی چلی گئی تھی ٗ اب اس نے پریشانی سے کسی کی تلاش میں نگاہ بیڈ ٗ صوفے اور کمرے میں دوڑائی تھی ٗ مگر اس کی تلاش تلاش ہی ثابت ہوئی ٗ نگاہ ناکام لوٹ آئی تھی اور اب تو اسے فکر و پریشانی نے آ گھیرا تھا ٗ اس نے چند قدم بڑھا کر واش روم کے دروازے پر دستک دی تھی ٗ مگر وہ ہلکے سے دبائو سے ہی کھل گیا تھا اور اب وہ ڈریسنگ روم چیک کر رہا تھا ٗ مگر یہاں بھی ناکامی ہوئی تھی ٗ وہ دوبارہ کمرے میں آیا تھا اور کچھ سوچ کر ٹیرس کی جانب کھلتے دروازے کی طرف بڑھا تھا اور دروازے میں ہی جم گیا تھا ٗ جسے وہ کب سے ڈھونڈ رہا تھا ٗ وہ ٹیرس کی چھت پر سیڑھیوں کی ریلنگ سے ٹیک لگائے گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی کیا تھی ٗ بری طرح سسک رہی تھی ٗ وہ لمحہ ضائع کئے بنا اس تک پہنچا ٗ عین اس کے سامنے دو زانو بیٹھ کر اس نے بڑی نرم سی فکر لہجے میں سموئے اسے پکارا تھا۔
’’ماہ لاج!‘‘ وہ بے طرح چونکی اور اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ٗ اس کا بے تحاشہ سرخ چہرہ ٗ لہو رنگ آنکھیں اس کے کافی دیر سے رونے کی چغلی کھا رہی تھیں ٗ وہ کچھ کہتا کہ وہ ذرا سا پیچھے کھسکی اور کھڑی ہو گئی ٗ وہ بھی کھڑا ہو گیا اور اسے دیکھنے لگا جو بلڈریڈ شرارے اور سبز کرتی میں ٗ مٹے مٹے میک اپ کے نشان اور متورم چہرے ٗ لرزتے ہچکیاں بھرتے سراپے کے ساتھ اس کے سامنے تھی ٗ اس کا زرتار عروسی آنچل اس کے قدموں میں ڈھیر ہوا پڑا تھا ٗ اس نے سب سے پہلے آنچل کو اپنے قدموں سے اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں سنبھالا اور اس کی جانب دیکھا جو وہاں سے نکلنے کو تھی وہ یکدم راہ میں آتا اس کی کلائی تھام گیا تھا ٗ اس نے کسی قدر ناگواری سے اسے دیکھا تھا اور ہاتھ چھڑانا چاہا تھا ٗ لیکن اس نے گرفت مضبوط کرکے اس کی سرخ شکوہ کناں پرنم آنکھوں میں جھانکا تھا۔
’’ایسی بھی کیا ناراضی کہ آپ نے میرے آنے کا انتظار بھی نہ کیا ٗ ہر آرائش بے دردی سے ختم کر ڈالی اور یہاں ٹھنڈے موسم میں کیوں آ بیٹھیں تھیں؟ آپ کو تو میرا انتظار کمرے میں کرنا چاہئے تھا۔‘‘ اس کے لہجے میں نرمی ٗ لبوں پر شکوہ اور آنکھوں میں مسکان تھی۔
’’میں آپ سے ناراض نہیں ہوں سمجھے آپ! اور میں کہیں بھی بیٹھوں آپ کو اس سے کیا ٗ آپ جایئے یہاں سے۔‘‘ وہ تڑخ کر بولی اور ایک جھٹکے سے کلائی آزاد کروا لی۔
’’اُف… اتنا غصہ… بندہ ناچیز سے ایسی بھی کیا خطا سرزد ہو گئی؟‘‘ وہ نرم سی شوخی سے کہتا اس کو متحیر کر گیا تھا کہ کہاں امید تھی ٗ اس کا لہجہ اتنا خوبصورت شوخ ہو سکتا ہے ٗ اس کی نظریں یکدم اسے بے حد کنفیوژ کر گئی تھیں اور وہ کچھ بھی کہے بغیر بڑی تیزی میں کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’ان تمام چیزوں کی اتنی ناقدری ٗ مما کو پتا چلا ناں تو کان پکڑوا کر سزا دیں گی کہ انہوں نے یہ سب آپ کیلئے کتنی چاہت سے لیا ہے۔‘‘ وہ صوفے پر آ بیٹھی تھی اور وہ کارپٹ پر بکھری جیولری اٹھاتا نہایت دوستانہ لہجے میں بولا تھا۔
’’آپ نے تو نہیں لیا تھا ناں ٗ تو آپ کو کس بات کی فکر؟‘‘ وہ جزبز ہوتی سوں سوں کرتی بولی تھی ٗ وہ اس کے خجل و گھبرائے انداز سے محظوظ ہوتا سمیٹی ہوئی جیولری اور چوڑیاں ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا صوفے پر عین اس کے برابر ٹک گیا تھا ٗ وہ جو اٹھنے لگی تھی ٗ اس کا ہاتھ تھام لیا تھا اور وہ اس کو ناگواری سے دیکھنے لگی تھی ٗ وہ مسکرا کر بولا تھا۔
’’آپ کیلئے ہر چیز مما نے پسند کی ہے کہ آپ کو بھی میرے لئے مما نے ہی پسند کیا ہے۔‘‘ اس نے اس کے ہاتھ پر یکدم الٹے ہاتھ کی گرفت کی تھی اور سیدھا ہاتھ شیروانی کی جیب میں ڈالا تھا۔
’’جانتی ہوں ٗ بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور مجھ سے آپ کو شادی نہیں کرنی تھی ناں تو صاف کہہ دیتے اپنی اور میری زندگی برباد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘ وہ روتے ہوئے کہتی اپنا ہاتھ چھڑاتی اس کے برابر سے اٹھی تھی اور وارڈ روب کھول کر ترتیب سے لٹکے ایک سے بڑھ کر ایک حسین سوٹ میں سے نسبتاً سادہ سوٹ لے کر واش روم میں گھس گئی تھی اور اس کیلئے سوچوں کے کئی در وا کر گئی تھی اسی لئے جب وہ بہت سارا رو چکنے کے بعد منہ دھو کر اور چینج کرکے آئی تھی تو وہ اس کو بازو سے تھام کر بیڈ پر بٹھاتا سوال کر گیا تھا۔
’’اتنی بدگمان کیوں ہیں آپ؟‘‘ نظر اس کے نم صبیح چہرے پر ٹکی تھی۔
’’تقریباً 8 ماہ ہماری منگنی رہی ٗ آپ نے کبھی خود سے رابطہ نہ کیا ٗ اگر سر راہ، سر محفل ٹکرا گئے تو مجھے یوں نظر انداز کر گئے جیسے میں آپ کی کچھ لگتی ہی نہیں ہوں ٗ شادی کیلئے انکار کرتے رہے اور شادی ہو گئی تو آپ کو جیسے فرق ہی نہیں پڑا ٗ ساری دنیا اہم ہے ایک میرے علاوہ۔ انتظار کر کرکے آپ کا تھک گئی اور آپ کہتے ہیں کہ بدگمان کیوں ہوں؟ تو آپ ہی بتایئے کہ کیا اب بھی بدگمان نہ ہوں؟ نہیں کرنی تھی مجھ سے شادی تو نہ کرتے‘ اس طرح تو احساس نہ دلائیں کہ آپ نے شادی کسی کے مجبور کرنے پر کی ہے؟‘‘ وہ اس کی حیران نگاہوں میں دیکھتی بولتے ہوئے یکدم چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی تھی۔
’’ماہ لاج! آپ غلط سوچ رہی ہیں ٗ باخدا آپ سے رابطہ کرنے یا شادی میں آنا کانی سے کام لینے کے پیچھے کوئی مجبوری یا ناپسندیدگی نہیں چھپی تھی ٗ آپ بے شک مما کی چوائس ہیں ٗ لیکن میں نے مما کی پسند کو اپنے لئے ہر لحاظ سے پرفیکٹ پاکر ہی اوکے کیا تھا ٗ میں مجبوری میں کیوں اتنا مضبوط بندھن جوڑنے لگا؟‘‘ وہ قدرے تاسف سے اسے دیکھتا اپنی مخصوص سنجیدگی سے بولا تھا۔
’’جھوٹ مت بولیں ٗ میں جانتی ہوں کہ آپ حنین کو کسی چیز کیلئے انکار نہیں کر سکتے اور آپ نے صرف اس کے مجبور کرنے پر مجھ سے شادی کی ہے ٗ ورنہ آپ کو مجھ میں ذرا دلچسپی نہیں۔‘‘ وہ چہرے پر سے ہاتھ ہٹاتی اس کو دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
’’آپ کیا بول رہی ہیں مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہا اور اس سارے قصے میں حنین کا کیا ذکر؟‘‘ وہ قدرے اچھنبے سے کہتا سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا تھا۔
’’صرف حنین کا ہی تو سب ذکر ہے۔ میں نے ہی اس کو اپنے دل کی بات بتا کر غلطی کی۔ اس نے میرے جذبات ایک ایسے سنگدل پتھر سے کہہ دیئے جو میرے جذبات کی قدر نہ کر سکا ٗ میں حنین کو اور آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ آپ کو میں نہیں پسند تھی ناں تو آپ کو حنین کے کہنے پر بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہئے تھی۔‘‘ اس کے سرخ متورم چہرے پر احساس زیاں اور احساس ذلت کا سا امتزاج جگہ بنا گیا تھا۔ وہ اسے خاموشی سے دیکھتا اس کے رویے اور الفاظ کو سمجھنے کا کوئی سرا ڈھونڈنے کی کوشش میں تھا کہ وہ اس کے پہلو سے اٹھ گئی تھی۔
مجھے اپنے جذبوں کی توہین گوارہ نہ تھی۔ اس لئے کبھی آپ سے کچھ نہیں کہا۔ حنین سے دوست سمجھ کر دل کی بات کہی اور وہ ایک راز، راز نہ رکھ سکی اور آپ خود کو کیا بہت مہان سمجھتے ہیں کہ دوست کے کہنے پر اپنی خوشیوں کو خود کو گروی رکھ دیا؟ خود بتایئے بنا چاہت کے ٗ بنا توجہ کے بھی زندگی گزرتی ہے؟‘‘ اس کی خاموشی نے اسے جتنی اذیت پہنچائی تھی آج وہ اپنا رنگ دکھلا رہی تھی۔
’’آپ کو کیسے خدشے لاحق ہیں میں سمجھ نہیں پا رہا ٗ ہاں اتنا کہوں گا حنین نے آپ کے بارے میں ٗ آپ کے دل کی بات کے بارے میں کہنا تو دور مجھ سے کبھی ذکر تک نہیں کیا۔‘‘ اس کا کہنا تھا کہ اس نے سسکتے ہوئے بہت چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا جس کے چہرے پر وہی نرم سا تاثر تھا جس نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔
’’آپ سے شادی میں نے حنین کے نہیں ٗ مما کے کہنے پر کی ہے کہ آپ کو میرے لئے مما نے پسند کیا تھا۔ حنین سے آپ نے کیا کہا اس نے مما سے کیا کہا میں اس سے لاعلم ہوں۔ میری زندگی میں کوئی تھی نہیں مجھے شادی مما کی پسند کی لڑکی سے ہی کرنی تھی۔ اس لئے مما کی پسند سے آپ سے شادی کر لی۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔‘‘ اس نے رونا بھول کر حیرانگی سے خود کو تکتی ماہ لاج کا ہاتھ پکڑا تھا اور وہ اسی حیرانگی کے عالم میں دوبارہ بیڈ پر آ بیٹھی تھی۔
’’کیونکہ میں اپنی فیلڈ میں نام بنانا چاہتا تھا۔ یہ میرا پروفیشن سے زیادہ میرا جنون میرا عشق ہے ٗمیں سوچتا تھا کہ شادی ہوئی تو میری توجہ اس پر کم نہیں ہو گی تو بھی مجھے توجہ کم کرنی ہی پڑے گی۔ بس اس لئے میں شادی سے اس کی ذمہ داریوں سے خائف رہا اور اپنے پیشن میں ڈوبا کبھی یہ سوچ، سمجھ نہ سکا کہ کوئی میری توجہ کا ٗ میرے اظہار ٗ میرے پیار کا منتظر ہے۔‘‘ اس کے خوبصورت لبوں پر مسکان آن ٹھہری تھی وہ جو اس کو دیکھتی توجہ سے سن رہی تھی یکدم نگاہ جھکا گئی تھی۔
’’آپ سے شادی نہ کرنے یا آپ سے منگنی کے بعد رابطہ نہ کرنے کے پیچھے صرف میرا پیشن تھا ٗ نہ کوئی اور وجہ۔ آپ کو بے شک پسند مما نے کیا ہے مگر میں آپ کو ناپسند نہیں کرتا ٗ اگر ایسا ہوتا تو میں شادی نہ کرتا کہ میں بہت اچھا ہوں مگر اتنا بھی نہیں کہ زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ صرف فرمانبرداری کی نذر کر دیتا۔‘‘ وہ اس کے حیا سے سرخ پڑتے چہرے کو دلچسپی سے دیکھتا معنی خیزی سے بولا تھا اور اس کی پیشانی عرق آلود ہو گئی تھی ٗ وہ بے چینی سے لب چبانے لگی تھی۔
’’آپ مجھے اپنے لئے ہر لحاظ سے پرفیکٹ لگی تھیں۔ اسی لئے آپ کو شریک سفر بنایا ہے اور مجھے سچ کہوں تو آپ سے محبت نہ پہلی ملاقات میں ہوئی نہ منگنی کے بعد ہاں مگر اب لگتا ہے کہ حق سے رو رو کر لڑتی اپنی معصوم شریک حیات سے مجھے محبت ہونے لگی ہے۔‘‘ اس کے انداز میں شوخی ٗ لبوں پر مسکان اور نگاہ میں سچائی تھی ٗ ماہ لاج سے وہ کئی بار ملا تھا مگر اس کیلئے کسی قسم کی فیلنگز محسوس نہ کی تھیں اور اب لگتا تھا کہ وہ ہر احساس پر ہی غالب آ گئی تھی۔
’’ہاں آپ پہلے کہہ دیتیں کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے تو شاید یہ محبت میرے دل میں بھی پہلے ہی جنم لے چکی ہوتی۔‘‘ وہ اسے شانوں سے تھام کر اپنے قریب کرتا سرگوشی میں بولا تھا اور وہ حیا سے کٹ کر رہ گئی تھی کہ اس کی خاموشی سے جتنی اذیت میں تھی اس کے انکار کا سن کر جو تکلیف ہوئی تھی بس اسی سب کی وجہ سے وہ اتنی جذباتی ہو گئی اس نے تو شادی سے بھی انکار کیا تھا لیکن ماہ کنعان نے اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیا تھا اور وہ ہزار خدشے اور بدگمانیاں لے کر جب اس کے سنگ رخصت ہو کر آئی اس کی سیج سجائے اس کی کئی گھنٹے منتظر رہی اور جب وہ نہ آیا تو اس کا صبر بکھرتا چلا گیا تھا مگر اس کا پہلے ہی موڑ پر اظہار کر دینا ان کے رشتے کیلئے اچھا ہی ثابت ہوا تھا۔ وہ بدگمانی کے حصار سے نکل آئی تھی اور اب حیا سے لب کچلتی اس کی مسکراتی نگاہوںسے بچنے، چھپنے کی راہ ڈھونڈ رہی تھی لیکن اس نے اس کی ساری راہیں مسدود کر دی تھیں اور بہت نرمی اور پیار سے بھرپور استحقاق کے ساتھ اپنے شرعی رشتے کی بنیاد رکھ دی تھی اور جن بنیادوں میں محبت ٗ عزت اور حقوق و فرائض کی ادائیگی کا احساس رکھا جائے وہ زندہ جاوید رہتی ہیں جنہیں ہلایا نہیں جا سکتا۔
٭٭٭
