Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19

٭٭٭
’’نوید…!‘‘ وہ بے خبر سوتیں نہ جانے کس احساس کے تحت جاگی تھیں اور نوید عالم کو بیڈ کرائون سے ٹیک لگا پژمردہ گہری سوچ میں ڈوبے دیکھ کر اٹھ بیٹھی تھیں ٗ لائٹس آن کرنے کے بعد جب ان کے چہرے پر نظر کی تھی تو انہیں اپنا دل خون ہوتا محسوس ہوا تھا کہ ان کے چہرے پر آنسوئوں کی لکیریں سی بنی تھیں اور وہ اپنی عمر سے زیادہ بوڑھے لگے تھے۔
’’سب کچھ ختم ہو گیا راشدہ!‘‘ وہ ان کے ہاتھوں پر چہرے ٹکائے شدتوں سے رو پڑے تھے۔
’’مجھے میری اولاد نے کسی سے نظر ملانے کے لائق نہیں رکھا ٗ اپنی ہی نظروں سے گر گیا ہوں ٗ اسجد پر کتنا بھروسہ تھا ٗ کتنا مان تھا اس نے میرے سارے بھرم توڑ دیئے ٗ مجھے میری ہی اولاد نے رسوا کر دیا ٗ میری اپنی اولاد نے بھرے مجمع میں میرے تن پر سجی ریشمی قبا کھینچ لی ٗ مجھے برہنہ کر دیا ٗ مجھے کوئی چیز ٗ کوئی راستہ ایسا نظر نہیں آتا کہ جس سے میں اپنا وجود ڈھانپ لوں۔‘‘ وقت کی کیا ستم ظریفی تھی کہ آج وہ اس شخص کو روتے دیکھ رہی تھیں‘ جو ان کے آنسو پونچھتا آیا تھا اور آنسو پونچھنے والوں کے آنسو پونچھنا کس قدر تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا ہے ٗ یہ کوئی راشدہ عالم سے پوچھتا ٗ وہ ان کے گرتے آنسوئوں کے ساتھ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہی تھیں ٗ ان کو تسلی دینے کو ایک حرف نہ تھا وہ ہی نہیں ان کے ساتھ وہ خود شکست و ریخت کے مرحلے سے گزرنے لگی تھیں۔
’’اسجد نے جب کہا کہ وہ مائدہ سے شادی نہیں کرے گا ٗ میں نے سوچا کہہ رہا ہے لیکن جب شادی ہو گی تو میرا مان رکھے گا ٗ میرا سر کسی کے سامنے جھکنے نہ دے گا ٗ بھروسہ کیا اس پر اور اس نے دھوکا دیا ٗ میرے منہ پر طمانچہ دے مارا کہ کروائو میری شادی ٗ مجھے نہیں بسانا تو نہیں بسائوں گا۔ میں مائدہ سے کس طرح معافی مانگوں؟ یوسف اور فریدہ سے کس طرح نظر ملائوں؟ میں ٹوٹ گیا ہوں راشدہ! میری اولاد نے مجھے جیتے جی مار ڈالا ہے۔‘‘ ان کی ہچکیوں میں راشدہ کی سسکیاں بھی شامل ہو گئی تھیں۔
’’وہ بچی کتنا کچھ سہتی رہی ٗ اس کی بربادی کا ذمے دار صرف میں ہوں راشدہ! اس سے کہو جا کر وہ مجھے معاف کر دے اس نے معاف نہ کیا تو میں سکون سے جی تو کیا مر بھی نہیں پائوں گا۔‘‘ وہ اذیت میں تھے شادی اگر انہوں نے جبراً بھی کروائی تھی تو ایسی بھی کوئی قامت نہ ٹوٹی تھی کہ کتنے ہی لوگوں کی شادی ان کی مرضی کے خلاف ہو جاتی ہے ٗ مگر یوں تو کوئی نہیں کرتا ٗ جس طرح وہ کر گیا تھا۔ آگے زندگی نہ جانے کتنے امتحان لینے وال تھی ٗ وہ ایک فیصلہ کر چکی تھی اور وہ اپنے فیصلے میں تن تنہا کھڑی تھی ٗ اس کا موقف ٗ اس کے احساسات سب اگر سمجھ بھی رہے تھے تو اس کی طرح سوچ کر کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے تھے ٗ وہ آگے کا سوچ نہیں رہی تھی جبکہ ان سب کی نظریں مستقبل پر بھی جمی تھیں۔
٭٭٭
’’ممی! مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ٗ میں آپ کے بغیر نہیں رہ پائوں گی ٗ مجھے خود سے دور نہ کریں۔‘‘ وہ آنے والے وقت سے خوفزدہ تھی۔ ساجدہ مایوں کے زرد جوڑے میں سرسوں کا پھول لگتی بیٹی کو خود سے لپٹا گئی تھیں۔ ارحم کی منگنی میں اٹھایا کنعان کا قدم جب نوید عالم کے علم میں آیا تھا تو انہوں نے حنین کی ناراضگی اور وایلوں کی پرواہ کئے بغیر خود ہی رخصتی کی بات کی تھی ٗ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق کنعان نے پہلی فرصت میں والدین کو بھیج دیا تھا اور تیاریاں شروع ہی ہوئی تھیں کہ مائدہ اور اسجد والا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اس مشکل وقت سے نبرد آزمائی کے باوجود شادی کی جو تاریخ طے تھی ٗ اسی پر شادی ہو رہی تھی کہ نوید عالم نے شادی کی تاریخ کو منسوخ نہیں کیا تھا کہ انہیں اپنی زندگی کا کوئی بھروسہ نہ تھا اور وہ اپنی زندگی میں ہی حنین کے فرض سے سبکدوش ہو جانا چاہتے تھے اور مائدہ کی بے رنگ زندگی اور المیہ سے واقف حنین نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی کہ وہ اسجد کے مائدہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے واقف ہوتی خوفزدہ ہو گئی تھی اس لئے ہتھیار ڈال کر خود کو وقت کے دھارے پر بہنے کیلئے چھوڑ گئی تھی البتہ وہ آنے والے وقت سے خوفزدہ ضرور تھی۔
’’حنین میری جان! روئو نہیں ٗ تمہارے دور جانے کے احساس سے ہی میری سانس رک رہی ہے ٗ مگر یہی زمانے کی ریت ہے نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹیوں کو رخصت کرنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ اس کو خود سے لگائے بلک رہی تھیں۔
’’کیوں ہے ایسی ریت ممی! مجھے آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا ہے۔‘‘ وہ سسکی تھی۔
’’ایسے نہیں کہتے بیٹا! اللہ سب بہتر کرے گا ٗ تم آج ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہی ہو ٗ تمہاری ماں کی دعائیں ہمیشہ تم پر سایہ کئے رہیں گی ٗ لیکن ایک خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کرنے کیلئے تمہیں بھی کچھ قربانیاں دینی ہوں گی۔‘‘ وہ اپنے آنسو پونچھ گئی تھیں ٗ وہ جذباتیت دکھاتیں تو ممتا کا فرض کب پورا کرتیں؟
’’ماں باپ کے گھر گزاری جانے والی زندگی اور شوہر کے ساتھ شادی شدہ زندگی میں زمین آسمان کا سا فرق ہوتا ہے ٗ والدین اولاد کی پہاڑ برابر غلطی بھی معاف کرکے بھول جاتے ہیں اور شوہر اور اس سے وابستہ رشتے رائی کو بھی پہاڑ بنا دیتے ہیں ٗ عورت کو اپنا گھر بسانے ٗ سسرال میں جگہ بنانے ٗ شوہر کا دل جیتنے کیلئے اپنا پتہ پانی کرنا پڑتا ہے کہ ایک اچھی بیٹی ضروری نہیں ہوتا کہ اچھی بہو بھی بن جائے کہ کچھ رشتوں پر زندگی بھی وار دو تو وہ پرائے رہتے ہیں ٗ ان ہی پرائے رشتوں کو ایثار اور نیک عادات و فطرت سے تم نے اپنانا ہے ٗ اپنا ظرف بڑا رکھنا ہے ٗ لینے سے زیادہ دینا ہے۔‘‘ وہ نرمی سے اسے رشتوں کی نزاکتیں ان کی اونچ نیچ سمجھا رہی تھیں۔
’’یہ یاد رکھنا کہ اب شوہر کا گھر ہی تمہارے لئے سب کچھ ہوگا ٗ یہاں تم ایک مہمان کی حیثیت سے آیا کرو گی۔‘‘ وہ ماں کو غور سے سنتی یکدم بے یقینی سے تکنے لگی تھی۔
’’ممی! مجھے اتنا بھی پرایا نہ کریں کہ اپنے ہی گھر میں ٗ میں مہمان بن جائوں ٗ کیا شادی کے بعد اس گھر سیٗ آپ سب سے میرا تعلق ختم ہو جائے گا؟‘‘ وہ شکوہ کناں لہجے میں کہتی بلک اٹھی تھی۔
’’رشتے کبھی نہیں ٹوٹتے حنین! بس انہیں ان کے اصل مقام پر رکھنے کا ہنر آنا چاہئے اور بیٹی شادی کے بعد پرائی ہو جاتی ہے ٗ والدین اس کی ذمے داری اپنی خوشی اور رب کی رضا سے ایک ایسے شخص کو سونپ دیتے ہیں ٗ جو نکاح کے تین بولوں کے ذریعے سب کچھ بن جاتا ہے اور اب تم نے اس رشتے کو ہر رشتے سے اہم جاننا ہے ٗ سمجھنا ہے اس گھر کے دروازے تم پر ہمیشہ کھلے رہیں گے ٗ تم ہنسی خوشی آئو گی تو ہم مطمئن ہو کر تمہیں دل سے لگائیں گے ٗ مگر یہ یاد رکھنا بیٹا! کہ جس دن اللہ نہ کرے کہ تم اپنے شوہر سے لڑ کر آئیں ٗ اس گھر کے دروازے خود پر بند پائو گی۔‘‘ وہ اس کو ہر طرح کے حالات کیلئے تیار کر رہی تھیں اور وہ رونا بھول کر ماں کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
’’میں ان مائوں میں سے نہیں ہوں جو بیٹیوں کی ہر اچھی ٗ بری بات میں حمایت کرکے انہیں سر چڑھاتی ہیں اور خدا نخواستہ ان کی بربادی کا خود ہی موجب بن جاتی ہیں ٗ شادی شدہ لائف کے ہر مسئلے ٗ ہر قسم کے حالات سے تمہیں خود ہی نبرد آزمائی کرنا ہو گی ٗ کیسے بھی حالات ہوں ٗ شوہر کو نہیں چھوڑنا کہ مشرقی عورتیں گھر بنانے کیلئے خود کو وار دیتی ہیں اور تم نے بھی گھر بنانا ٗ بسانا ہے یاد رکھنا کہ شادی سے پہلے ایک مرد کی محبت اور اسی کے شوہر بن جانے کے بعد کی محبت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور تم بہت بچپنا دکھا چکیں ٗ کنعان کے ساتھ مس بی ہیو کر چکیں ٗ آگے تم نے ایسا کچھ نہیں کرنا ہے کہ تم اس کے دل سے اتر جائو کہ بیوی ایک دفعہ دل سے اتر جائے ٗ تو کبھی دوبارہ وہی مقام حاصل نہیں کر پاتی ٗ اس لئے تم نے شوہر کی عزت کرنی ہے ٗ اس سے محبت کرنی ہے ٗ اس کے دل میں مضبوط مقام بنانا ہے اور اس کیلئے تمہیں سمجھداری کا ثبوت دینا ہوگا ٗ اپنی ذات کو پس پشت ڈالنا ہوگا ٗ ضدیں چھوڑ کر اپنی منوانے کا خیال چھوڑ کر سر جھکانا سیکھنا ہوگا ٗ تمام میدان سر اٹھا کر نہیں جیتے جاتے کچھ جیتیں ایسی ہوتی ہیں ٗ جو نرمی سے ٗ جھک کر حاصل کرنی پڑتی ہیں۔‘‘ وہ بیٹی کی خود پسندی اور ’’میں‘‘ سے واقف تھیں ٗ اس لئے نرمی سے کچھ سختی سے اسے بہت کچھ سمجھا رہی تھیں اور اس نے آگے سے کچھ نہیں کہا تھا کہ مائدہ کی بے رنگ زندگی ہی اس کیلئے بہت بڑا سبق تھی ٗ مگر وہ اپنی ذات کو کہیں پاتال میں گرتا محسوس کر رہی تھی ٗ اسے لگ رہا تھا ٗ جیسے وہ کسی مقتل گاہ میں جا رہی ہو ٗ جہاں اس کی خودی ٗ اس کی انا اور اس کی ’’میں‘‘ ذبح کر دی جائے گی ٗ لفظ شادی اور لفظ شوہر نہیں اس سے وابستہ تمام لفظوں ٗ تمام رشتوں اور احساسات سے اسے چڑ اور بے زاری سی محسوس ہو رہی تھی ٗ اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا ٗ مگر کوئی اسے ایسی جائے پناہ نظر نہیں آ رہی تھی جہاں وہ اپنی ذات کی قبا اوڑھ کر پوشیدہ ہو جاتی ٗ راہ فرار نہ تھی اور دل میں ہزار وہم ٗ ہزار خدشے ٗ ہزارہا وہم لئے آنے والے وقت سے ہراساں تھی کہ اس کے تن پر خوبصورت آنکھوں کو خیرہ کرتی عروسی قبا سجا دی گئی تھی ٗ اس کا پور پور ایک ایسے شخص کیلئے سجایا جا رہا تھا ٗ جس کیلئے وہ اب تک کچھ اچھا نہیں سوچ سکی تھی کہ جب سوچنا چاہا تھا ٗ بدگمانیاں ہی بڑھتی تھیں ٗ نرم گرم جذبات نہ امڈ سکے تھے ٗ وہ بہت رقیق القلب ہو رہی تھی ٗ اس کی آنکھیں رہ رہ کر برس رہی تھیں اور وہ ڈیپ ریڈ کلر کے شرارے سوٹ میں روایتی دلہنوں کی طرح سجی ہر دیکھنے والی آنکھ کو ٹھٹھکا دے رہی تھی ٗ اس کے تیکھے نین نقش میک اپ نے دو آتشہ کر دیئے تھے ٗ اس پر اس کی سوگواری اس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھی ٗ ماہ کنعان کی نگاہ اس پر اٹھی تھی اور وہیں ٹھہری رہ گئی تھی مگر اوّل و آخر نگاہ نے تو پلٹنا ہی تھا مگر نگاہ کا ہر احساس ٗ ہر جذبہ اس کے چہرے پر ہی رہ گیا تھا اور وہ بلیک شیروانی میں روایتی دولہوں کی طرح کلاہ سر پر سجائے اپنی چارمنگ پرسنیلیٹی کے ساتھ خود اعتماد و سرمستی کے عالم میں اس کے پہلو میں کھڑا کتنے ہی دل دھڑکا گیا تھا کہ وہ دونوں ساتھ کھڑے بہت مکمل اور نظر لگ جانے کی حد تک پیارے لگ رہے تھے ٗ جہاں وہ خوش و با اعتماد تھا وہیں وہ اداس اور نروس تھی ٗ روش پر گلاب کی پتیاں بکھری تھیں ٗ اوپر سے بھی پتیاں الگ ان پر قربان ہو رہی تھیں اور اس کی گھبراہٹ محسوس کرکے وہ زیر لب مسکراتا اس کی حنائی سرخ کانچ کی چوڑیوں سے مزین کلائی تھام گیا تھا ٗ اس کی حرکت پر اس نے نگاہ اٹھائی تھی اور وہ دلفریبی سے مسکرایا تو اٹھی پلکوں اور عنابی لبوں کی ذو معنی مسکراہٹ کا حسین منظر کیمرے کی آنکھ میں مقید ہو گیا ٗ وہ دونوں ساتھ چلتے اسٹیج تک پہنچے تھے اور رسموں کا آغاز ہو گیا تھا ٗ ہر فرد اداس تھا کہ وہ تھی ہی سب کی لاڈلی رخصتی کے وقت وہ دھواں دھار روئی تھی اور سب کو رلا گئی تھی ٗ کیا ساجدہ ٗ کیا ارحم اور نوید عالم سب اس کو رخصت کرتے اس کے ساتھ رو رہے تھے ٗ نوید عالم اپنی سگی دو بیٹیوں کو رخصت کرتے اتنے اداس نہ تھے ٗ مگر بھائی کی نشانی جسے انہوں نے اولاد سے بڑھ کر چاہا تھا اس کی رخصتی کے منظر نے ان کی آنکھیں نم کر دی تھیں ٗ ساجدہ شوہر کی کمی شدتوں سے محسوس کرنے لگی تھیں اور وہ اپنوں کی دعائوں اور آنسوئوں تلے چھم چھم روتی ماہ کنعان عابدی کے ساتھ رخصت ہو گئی تھی۔
٭٭٭
’’مائدہ! رکو بات سنو میری۔‘‘ وہ رخصتی کے بعد واپسی کی تیاریوں میں تھے کہ اس کی نگاہ پارکنگ میں ارحم کی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑی مائدہ پر پڑی تھی ٗ جو سبز رنگ کے دیدہ زیب سوٹ میں نیچرل میک اپ کئے سوگوار سی بہت حسین لگ رہی تھی اور اس کے قدم خود بخود اس کی طرف اٹھنے لگے تھے ٗ وہ اپنے نام کی پکار پر اپنے خیالات سے چونکی اور اسے دیکھ کر ناگواری کی واضح لہر اس کی آنکھوں میں امڈ آئی۔
’’مائدہ! مجھے بات کرنی ہے تم سے ٗ پلیز!‘‘ وہ اس کے سامنے ملتجی ہوا تھا کہ اس کومل سی لڑکی کو وہ کس قدر تکلیف سے دوچار کر چکا تھا ٗ کیسی اذیت سے نواز چکا تھا ٗ اندازہ تھا ٗ شرمندگی تھی اور جو اس کی آنکھوں میں اترتے سہم اور آنسوئوں کے سبب بڑھ گئی تھی ٗ وہ بے اعتباری کا شکار تھی اور اس سے زیادہ باعث ندامت اس کیلئے کیا بات ہو سکتی تھی ٗ وہ لڑکی جس پر وہ تمام جائز اختیارات رکھتا تھا ٗ اپنے غلط انداز و عمل کے سبب اس پر اپنا اعتماد کھو چکا تھا وہ خود کو زمین میں گڑھتا محسوس کرنے لگا تھا۔
’’لیکن مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ہے ٗ آپ یوں میرے سامنے آکر مجھے مزید اذیتیں دے کر کانٹوں پر نہ گھسیٹیں۔‘‘ وہ رونا نہیں چاہتی تھی اس شخص کے سامنے جو اس کے سکون کا قاتل تھا ٗ مگر وہ بہت کمزور تھی ٗ اس کی فطرت کی نرمی و کوملتا ذرا سی توجہ پر ہی بکھری تھی اور وہ رہزن کے سامنے کھڑی بے بسی سے رو رہی تھی۔
’’مائدہ! میں بہت شرمندہ ہوں ٗ خدا کیلئے مجھے معاف…!‘‘ وہ اس کے بے بسی سے کاپنتے وجود سے نگاہ چراتا نہایت دکھ اور شرمندگی سے کہنے لگا تھا۔
’’میں آپ کو مر کر بھی معاف نہیں کروں گی اسجد عالم! آپ نے عرش سے مجھے فرش بنا دیا ہے۔‘‘ وہ رو رہی تھی اور وہ شرمندگی سے اسے دیکھتا دو قدم پیچھے ہو گیا تھا۔
’’اپنا وجود فرش کی قبا محسوس ہوتا ہے اور گرد آلود اندھیرے میں ڈوبی قبا آپ اپنی مردانگی کے ثبوت کیلئے استعمال کر چکے ٗ اب اس قبا کو اتار پھینکئے ٗ مجھے آپ سے ملنے والی ہر ذلت نہ چاہتے ہوئے بھی قبول ہے اور میں اپنی داغ داغ زندگی و ذات کے ساتھ بچھی رہوں گی ٗ اب میں اٹھ نہیں سکتی کیونکہ فرش ٗ کبھی عرش نہیں بنتا اور آپ نے مجھے فرش بنا دیا ٗ اب گزر جایئے ٗ نہ خود کو پریشان کریں ٗ نہ میری اذیتوں کو بڑھائیں ٗ فرش سے گزر کر عرش پر پہنچ جایئے اور جب اس عرش پر ملوں گی آپ سے تب آپ کا گریبان تھام کر سوال کروں گی ٗ پوچھوں گی آپ سے اپنا قصور؟ ابھی جایئے کہ ہر بات ٗ ہر کوشش اب بے کار جائے گی کہ اس مائدہ کو آپ نے روند ڈالا ہے ٗ جو رشتوں کیلئے ٗ ان کے احساسات کی خاطر جیا کرتی تھی ٗ گری ہوئی عمارت کی جو باقیات ہیں ناں… اسجد عالم! ان سے میں نے اپنا ایک نیا خاکہ تراشا ہے ٗ جس میں رشتوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں رہی کہ رشتوں کے نام پر مائدہ نے بہت ذلت سہہ لی ٗ بہت عزت کما لی ٗ اس لئے اب مجھے صرف نام نہاد رشتوں سے چھٹکارا چاہئے ٗ مجھے آپ سے طلاق چاہئے اسجد عالم!‘‘ اس نے آنسو رگڑے تھے پھر ساکت کھڑے اسجد عالم پر نگاہ کی تھی ٗ جسے وہ احساس دلائے بغیر ذلیل کئے بنا ندامت کے زیر اثر لے گئی تھی ٗ ایسی ندامت کہ وہ ختم بھی ہو جاتی تو اس کا احساس چمٹا رہ جانا تھا۔
’’میں تمہیں طلاق نہیں دینا چاہتا۔‘‘ وہ وہاں سے نکلنے لگی تھی کہ اس نے اپنی تمام ہمتیں مجتمع کرکے کہا تھا۔
’’میں یہ نہیں جانتی کہ آپ کیا چاہتے ہیں ٗ بات صرف اتنی ہے کہ میں مزید نام نہاد رشتے کو نہیں نبھا سکتی ٗ آپ طلاق دے دیں گے تو ٹھیک ورنہ یاد رکھئے گا کہ میرے پاس خلع کا آپشن ہے اور جسے میں سب کی مخالفت کے باوجود بھی استعمال کروں گی۔‘‘ وہ اس کی آواز پر تھمی اور پلٹے بنا سرد لہجے میں کہتی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی ٗ وہ شکستہ قدموں سے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا ٗ اپنی ذات کی شکست پر وہ جتنی آزردہ تھی اتنی ہی آزردگی اس نے اس کی شکست پر بھی محسوس کی تھی ٗ اپنی شکستگی سے تو جان چھڑا نہیں پا رہی تھی ٗ اس کی شکستگی کی اذیت سے بچنے کو رخ پھیر کر آنکھیں بند کر لی تھیں ٗ آنسو اس کے رخساروں پر گرتے چلے گئے تھے۔
٭٭٭
اس نے ماہ کنعان عابدی کی ہمراہی میں ’’ماہ ولاز‘‘ میں قدم رکھے تھے ٗ مسٹر اینڈ مسز عابدی رسماً اسے منہ دکھائی میں قیمتی تحفے دیتے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے ٗ اس کا استقبال ماہ لاج اور سمیرا نے ہی کیا تھا ٗ ماں باپ کا یوں چلے جانا وہ خود پر ضبط کے کڑے پہرے نہ بٹھاتا تو کچھ الٹا سیدھا کر بیٹھتا اور اس کی کیفیت سمجھتے ہوئے ہی فیصل نے بیوی کو اشارہ کیا تھا ٗ سمیرا جو خود پریشان تھی اسے لاج کے ہمراہ ماہ کنعان عابدی کے کمرے میں لے گئی تھی ٗ اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹا تھا کہ اس کے گھر میں بھی شادیاں ہوئی تھیں ٗ اس نے نئی دلہن کا اب تک شاندار استقبال اور نہ جانے کون کون سی رسمیں ہوتی دیکھی تھیں اور اس کا روکھا پھیکا سا استقبال ہوا تھا ٗ بنا کسی رسم کے اسے کمرے میں چھوڑ کر وہ دونوں ہی چلی گئی تھیں ٗ اس کی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ گرنے لگے تھے۔
’’ممی! جو لوگ میرا اچھا استقبال نہ کر سکے ٗ میری آمد پر خوشی کا جھوٹا تک اظہار نہ کر سکے ٗ کیا میں ان کیلئے کبھی اپنے دل میں جگہ بنا پائوں گی ٗ جنہوں نے میری پہلے ہی قدم پر تذلیل کی ٗ انہیں عزت دے پائوں گی؟‘‘ وہ روتے ہوئے ماں سے مخاطب ہوئی تھی۔
’’میں محبتوں کی نہیں عزتوں کی بھی عادی رہی ہوں ٗ بقول آپ کے ارحم بھیا! یہ شخص مجھے محبت دے گا‘ مگر کیا میں عزت اور مان کے بغیر رہ پائوں گی؟ جو شخص میرا اچھا استقبال نہ کروا سکا وہ مجھے محبتوں میں رنگ بھی دے تو کیا؟ کہ رنگ تو موسم کی پہلی بارش میں ہی نکل جاتے ہیں۔‘‘ اس نے سسکی لی تھی مگر وہ نہیں جانتی تھی اس کی سوچ کنعان کیلئے بہت غلط ہے ٗ وہ جب اسے نہ سمجھ سکی تھی ٗ اس کی محبت اس کی گہرائی تک کیسے پہنچ سکتی تھی کہ اس کی محبت پر تو عشق کا رنگ غالب تھا اور محبت کے رنگ اتنے کچے نہیں ہوتے کہ سال کی پہلی بارش کی نظر ہو جائیں ٗ تو پھر وہ تو اس کے عشق میں رنگا تھا اور اس کی کوری ذات کو اپنے عشق میں رنگ دینے والا تھا ٗ ایسا پکا ٗ مضبوط رنگ جو مرتے دم تک نہیں نکلتا ٗ انسان فنا ہو جاتا ہے ٗ مگر عشق کا رنگ نہیں دھلتا کہ عشق روح کی قبا ہوتا ہے اور عشق کی بند قبا چاہے بہت مشکل سے اپنی معراج تک جا کر کھلے ٗ مگر کھلتی ضرور ہے کہ عشق ایک جاوداں سفر ہے ٗ روح سے روح تک پہنچ ہی جاتا ہے ٗ بس اب دیکھنا یہ تھا کہ یہ عشق و روح کا سفر ٗ یہ عشق میں رنگ دینے کے مرحلے کب طے ہونے تھے؟ محبوب نے محب کے دل تک کب سفر کرنا تھا کہ ابتداء تو ہونے کو تھی ٗ عشق نے اپنی کمر کس لی تھی اور عاشق تو تھا ہی والہ و شیدا ٗ سب کچھ وارنے کو تیار ٗ قدموں میں ڈھیر کرنے کو راضی ٗ جھکنے کو تیار ٗ جھکانے سے برگشتہ ٗ ملن کو بے قرار ٗ تن من وارنے کو تیار و راضی ٗ وہ کتنی ہی خواہشیں دل میں جگائے ٗ آنکھوں میں مسرت و خمار لئے با اعتماد سرشاری سے لبریز چال چلتا اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا کہ یہ کمرہ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کیلئے اپنی پسند سے سجایا تھا ٗ بیڈ روم سیٹ سیاہ رنگ کا تھا ٗ دیوار پر پینٹ اور پردے وائٹ تھے ٗ بلیک فرشی کارپٹ جو وائٹ پھولوں سے مزین تھا ٗ کمرے کی دیواروں پر آویزاں ان کے نکاح کی سب سے حسین تصویریں ٗ ڈریسنگ ٹیبل کے عین سامنے والی دیوار پر لگا اس کا پورٹریٹ جو اتنا حسین تھا کہ دیکھنے والی ہر آنکھ کو ساکت کر دے ٗ بیڈ سے اٹھتی گلاب اور موتیے کی مہک ٗ کمرے کے ملگجے سے اندھیرے میں کھلی کھڑکی سے جھانکتی چاند کی نرم سی روشنی ہر چیز بہت مکمل تھی ٗ بہت حسین تھی ٗ اس کے احساسات ڈر و خوف کے ساتھ ساتھ عجیب سی لے اختیار کرنے لگے تھے کہ دروازہ کھل کر بند ہونے کی آواز نے رہی سہی کسر بھی پوری کر ڈالی تھی ٗ بیڈ سے ذرا فاصلے پر اس نے ٹھہر کر اسے دیکھا تھا ٗ جو گلاب کے پھولوں اور پتیوں میں گھری بیٹھی خود گلاب کا پھول لگ رہی تھی ٗ اس کے لرزتے وجود اور ارتعاش زدہ پلکوں کو دیکھ کر وہ دھیمے سے مسکاتا بیڈ کے سرہانے ٹک گیا تھا‘ اس نے آنکھیں سختی سے بند کر لی تھیں ٗ مگر نروسنس کا وہ عالم تھا کہ بند پلکوں پر بھی لرزاہٹ طاری تھی ٗ خوبصورت لب ڈارک سرخ لپ اسٹک سے سجے لرزتے ہوئے بڑے ہی قاتل لگ رہے تھے۔
’’سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کر دیکھتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو اس سے بات کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں‘‘
کمرے کے خوابناک ماحول میں اس کا گھمبیر لہجہ کیا گونجا اس کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بے تاب ہونے لگا ٗ اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’آج میں کتنا خوش ہوں ٗ خود کو کتنا مطمئن پا رہا ہوں لفظوں میں تو کیا اپنے کسی انداز سے بیان نہ کر سکوں گا ٗ تم تو وہ ہو جان کنعان! کہ جسے میں نے خود سے زیادہ سوچا ٗ محسوس کیا ٗ لگتا ہے کہ آج میرے پہلو میں تم نہیں‘ میری خواہشیں ٗ میرا جنون ٗ میرا عشق براجمان ہے۔‘‘ وہ گھمبیر لہجے میں اپنے جذبوں کا کچھ حصہ کہہ گیا تھا اور ایک ہاتھ ٗ ہاتھ میں تھامے دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے کے تیکھے نین نقش چھو رہا تھا اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولی تھیں ٗ دونوں کی نگاہیں ٹکرائی تھیں ٗ وہ بھیگی پلکیں جھکا گئی تھی اور وہ دلکشی سے مسکرا دیا تھا۔
’’یار! کہنے کو تو اتنا ہے کہ اگر تم سے اپنے جذبات ٗ محسوسات کہنے پر آئوں تو ایک عمر بیت جائے۔‘‘ وہ خمار آلود لہجے میں اظہار کی ابتداء کر گیا تھا۔
’’اپنی آخری سانس تک کیلئے تمہیں اپنا بنا لیا ہے ٗ آخری سانس تک کیلئے یہ ماہ کنعان عابدی بس صرف تمہارا کہ اب صرف تمہارے لئے ہی جئے گا ٗ زندگی میری نام تمہارے ٗ آج پورے کا پورا ماہ کنعان عابدی تمہارا۔‘‘ وہ بہت میٹھے جذبوں سے چور لہجے میں کہہ رہا تھا ٗ اسے اس سے مانگنے کے بجائے خود کو اسے سونپ دیا تھا اور وہ ڈر و خوف بھلائے حیرانگی سے اسے سن رہی تھی کہ جو وہ کہہ رہا تھا ٗ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ٗ مگر دل کی لے بھی عجیب ہی تھی۔
’’میں تمہیں تم سے نہیں مانگوں گا کہ میں نے صرف تمہارا بننا ہے ٗ کیونکہ تم تو میری اسی دن بن گئی تھیں ٗ جب تمہیں پہلی دفعہ دیکھا تھا ٗ جب پہلی دفعہ تمہیں چھوا تھا ٗ جب پہلی دفعہ تمہیں محسوس کیا تھا ٗ جب تمہیں اپنے نام کیا تھا ٗ تم تو صرف میری ہو اور میں تمہیں بس یہ یقین سونپنا چاہتا ہوں کہ میں صرف تمہارا ہوں ٗ میری ہر سانس صرف تمہارے نام ٗ یہ ماہ کنعان عابدی تمہارا ہوا حنین عابدی! اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اپنے کنعان کو دل میں رکھتی ہو ٗ نظر میں رکھتی ہو ٗ محبت بناتی ہو ٗ نفرت سمجھتی ہو کہ جذبہ کوئی بھی ہو ٗ احساس کوئی بھی ہو تم سوچو گی مجھے ہی کیونکہ تم میری ہو ٗ تم نے مجھے ہی سوچنا ہے اور میں بھی تمہارا ہوں ٗ میں نے بھی صرف تمہیں ہی سوچنا ہے ٗ میں تمہیں دل سے نکلنے نہ دوں گا اور تم کیا کرتی ہو ٗ یہ تمہارا کام ہے کہ مجھے اپنی حنین کی حفاظت خود کرنی ہو گی اور تمہیں اپنے ماہ کنعان کی حفاظت خود کرنی ہو گی۔‘‘ وہ عجب بہکے بہکے لہجے میں کہہ رہا تھا اور وہ کچھ کہنا ہی چاہتی تھی کہ اس کے ہاتھ کا لمس آنکھوں سے لبوں تک آ جانے پر محض سوچ کر ہی رہ گئی تھی اور اس نے اس کی جیولری اتارنی شروع کر دی تھی۔
’’یار! میں تو تمہاری ایک جھلک پر ہی مر مٹا تھا ٗ مزید میرے قتل کا سامان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ وہ اب کے دوستانہ انداز میں اس کو تیاری کے حوالے سے چھیڑ رہا تھا ٗ اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے کہ وہ اس کی بے تابیوں کی تاب نہ لا پا رہی تھی۔
’’اف… تمہارے یہ آنسو ٗ کسی دن اس کھاری ندیا میں ڈوب جائوں گا۔‘‘ وہ اس کے آنسو شوخی سے کہتا لبوں سے چن رہا تھا ٗ اس کا چہرہ شدت ضبط و جذبات سے تمتما اٹھا تھا ٗ وہ خاموش تھی اور صرف وہ خود نہیں بول رہا تھا ٗ اس کے جذبات ٗ اس کے محسوسات ہی نہیں ٗ اس کا لمس بھی بول رہا تھا ٗ وہ اس کی مرمریں کلائی سے چوڑیاں اتار رہا تھا اور اس کی جان پر بن آئی تھی۔
’’جس شام میں نے تمہاری نازک کلائی، مرمریں ہاتھوں کی خوبصورتی کو محسوس کیا تھا ٗ نگاہ سے چھوا تھا تب ہی سوچ لیا تھا کہ میں تمہیں رونمائی میں کنگن دوں گا۔‘‘ نہایت حسین سیاہ جڑائو کنگن اس کی دودھیا کلائی میں سج کر قیمتی ہو گئے تھے ٗ اس نے اپنے لب بے ساختگی میں کنگن پر رکھے تھے وہ چھوئی موئی سی ہوئی جا رہی تھی ٗ اس کی ساری توجہ اس کے ہاتھوں پر ہی مرکوز تھی ٗ وہ دھیرے دھیرے کنگن کو چھو رہا تھا کہ یکدم اس نے اسے مسکرا کر دیکھا تھا ٗ اس کی تو وہ حالت تھی کہ اب جان نکلی کہ تب نکلی! اس نے سرخ زرتار آنچل کو بڑی نرمی سے اس کے وجود سے کھینچ لیا تھا اور دراز ہو کر اس نے ساری لائٹس ہاتھ مار کر بجھا دی تھیں ٗ چاندکی نرم روشنی کمرے کی خوابناکی کو الگ ہی سحر عطا کرنے لگی تھی۔ اسے اپنے چہرے و گردن پر اس کی پر حدت سانسوں کی تپش محسوس ہونے لگی تھی ٗ اس نے لب کچلتے ہوئے آنکھیں میچ لی تھیں اور وہ اس کو اپنے سینے پر گرائے اس کا ہاتھ تھامے مخمور لہجے میں گویا ہوا تھا۔
’’اور جب کبھی بند قبا کھلنے لگتی جاناں!
اپنی آنکھوں کو تیرے حسن سے خیرہ کرتا
مجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
میں تیری زلف کے آنگن میں مہکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا‘‘
وہ دودھیا کلائی میں سجے کنگن کو انگلی سے جنبش دیتا لبوں سے چھوتا مخمور لہجے میں دل کی شدتوں سے کہہ رہا تھا ٗ اپنے حق کا استعمال کر رہا تھا اور وہ اس کے جذبوں اور جسارتوں پر بند نہ باندھ سکی تھی اور وہ کاش کی گردان کرتا ٗ بے نام سے بندھن میں الجھا سب سے مضبوط رشتے کی بنیاد رکھ چکا تھا ٗ وہ رشتہ جو نکاح کے تین بولوں سے شروع ہوا تھا ٗ وہ رشتہ جسے بہت اہمیت حاصل تھی ٗ وہ رشتہ جس میں بندھ کر دو انجان لوگ بہت اپنے بن جاتے تھے اور دو انجان و اجنبی دل کی ڈور سے بندھے ٗ حجاب و دوری کی قبا کھولتے ٗ قربت و ملن کی قبا اوڑھ گئے تھے۔
٭٭٭
اس کی آنکھ دروازے پر ہونے والی دستک پر کھلی تھی ٗ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ بیدار ہو چکا تھا مگر تکیہ منہ پر رکھے کسلمندی سے پڑا تھا کہ دستک کی آواز بلند ہوئی تھی اس نے غصہ سے سیدھے ہوتے ہوئے بیڈ کرائون سے ٹیک لگا لی تھی اور نظریں اسے تلاشنے لگی تھیں۔
مگر وہ وہاں ہوتی تو دکھائی دیتی اس نے سائیڈ ٹیبل سے سیل فون اٹھا کر گھر کا لینڈ لائن نمبر ڈائل کیا تھا۔
’’لالہ جان ٗ زرمین بھابی کا فون آیا تھا وہ لوگ ناشتہ لے کر 10 بجے تک پہنچ جائیں گے۔‘‘
کال لائونج میں بیٹھی ماہ لاج نے ریسیو کی تھی اور اس نے ملازمہ کو بھیجنے کا سبب بتایا تھا۔
’’اوکے ٗ تم ان سے فون کرکے کہہ دو کہ وہ گیارہ بجے تک آ جائیں۔‘‘ اس نے ایک نظر گھڑی پرڈالی تھی جو 9 بجا رہی تھی اور وہ موبائل بیڈ پر اچھالتا دوبارہ سونے کے موڈ میں تھا کہ آہٹ پر اس نے گردن گھمائی اور شاور لیکر نکلی نکھری نکھری حنین اس کی نیند اڑا گئی تھی اور وہ اس کی نگاہ خود پر جمے محسوس کر بے حد نروس ہو گئی تھی اور اس نے اسے اشارے سے بلایا تھا مگر وہ اس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔ اس لئے اس نے مسکراتے ہوئے اسے دھیمے سے پاس آنے کو کہا تھا مگر وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہ تھی اس کا چہرہ الگ تمتمانے لگا تھا۔ وہ اس کی گھبراہٹ سے محظوظ ہوتا اٹھ کر اس تک چلا آیا تھا۔
’’صبح بخیر جاناں!‘‘ اس نے گھمبیر لہجے میں کہہ کر اس کی نم پیشانی چوم لی تھی اور دروازے پر دستک ہوئی تھی وہ سخت بدمزہ ہوا تھا اور آگے بڑھ کر اس نے ڈور اوپن کر دیا تھا۔
’’کیا مصیبت ہے؟ جب ایک دفعہ کہہ دیا تھا کہ اب میں جب تک نہ کہوں ڈسٹرب نہ کرنا تو دروازہ بجانے کا کیا مطلب نکلتا ہے؟‘‘ وہ گھریلو ملازمہ ثریا کو گھور رہا تھا جو شرمندہ ہو گئی تھی کہ وہ تو مالکوں کے حکم کی غلام تھی لاج نے بھیجا تھا تو چلی آئی تھی اور اس کے غصہ سے خائف ہوتی منمنائی تھی۔
’’لاج بی بی نے بھیجا ہے صاحب ٗ وہ کہہ رہی تھیں کہ مہمان تھوڑی دیر تک آ جائیں گے کہ وہ گھر سے نکل چکے ہیں۔‘‘ وہ غصہ دبا گیا تھا۔
’’ٹھیک ہے! تم دو گلاس جوس لے آئو۔‘‘ وہ فوراً ہی پلٹ گئی تھی اور وہ جب دروازہ بند کرکے مڑا تھا وہ ہنوز اپنی سابقہ حالت میں تھی۔
’’حنین ٗ اتنی اداس اور خاموش کیوں ہو؟ کیا اپنی نئی زندگی سے خوش نہیں ہو؟‘‘ وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھے فکر مندی سے پوچھ رہا تھا اور وہ اس کو ناراض نظروں سے دیکھنے لگی تھی جیسے کہہ رہی ہو بہت جلدی خیال آ گیا اور اس نے اس کی بھیگی پلکوں میں دیکھا اور بولا۔
’’تمہارے گھر والے ناشتہ لیکر آنے والے ہیں ٗ تم تیار ہو جائو ٗ تمہارے جو گلے ہیں وہ آج شام تک دور کر دوں گا ٗ ناراض ہو ٗ خاموش ہو مگر ایسے بھی اچھی لگ رہی ہو کہ جان کنعان تم ہر روپ میں ہی اچھی لگتی ہو۔‘‘ نرمی و شائستگی سے کہتا اس کا گال تھپتھپا کر واش روم میں گھس گیا تھا وہ ڈریسنگ کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی اور نگاہ آئینہ میں نظر آتی اپنی تصویر پر پڑی تھی ٗ یہ تصویر ارحم اور لاج کی منگنی کے موقع پر لی گئی تھی ٗ وہ پلر سے ٹیک لگائے مسکرا رہی تھی اور پلکوں پر ٹھہری نمی نے اس تصویر کے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے اس نے نگاہ ہٹا کر بے دلی سے بالوں میں برش کیا تھا اور کیچر لگا دیا تھا اور زرمین کی بتائی ہوئی جیولری پہننے لگی تھی کہ زرمین نے نہ صرف اسے یہ بتایا تھا کہ وہ کونسا سوٹ پہنے گی جیولری وغیرہ بھی چوز کرکے دی تھی اور وہ زرمین کے کہنے پر عمل کرتی آنکھوں میں کاجل لگا کر لبوں پر لپ اسٹک لگانے لگی تھی ٗ وہ سادگی میں بھی گہرے اورنج رنگ کے ٹرائوزر سوٹ میں بڑی دلکش لگ رہی تھی سب ہی نے اس کی تعریف کی تھی ٗ زرمین نے اس کی خاموشی کو بری طرح محسوس کیا تھا اور وہ اس کا اظہار بھی کر بیٹھی تھی۔
’’خود کو مارنے کا طریقہ سیکھ رہی ہوں آپی کہ جب آپ کی سنی نہ جائے تو خاموشی ہی بہتر ہوتی ہے۔‘‘
وہ آزردگی سے کہتی اسے ٹھٹکا گئی تھی اور باہر کھڑا ماہ کنعان مضطرب ہو گیا تھا۔
’’ایسے کیوں کہہ رہی ہو؟ کنعان بھائی نے کچھ کہا تم سے؟‘‘ پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔
’’صرف انہوں نے ہی تو کہا کہ میرے پاس تو کچھ کہنے کو ہی نہیں ہے کہ مجھے تو زباں بندی کا حکم ملا ہے۔‘‘ اس کے آنسو گرنے لگے تھے۔
’’کیا کہہ رہی ہو مجھے سمجھ نہیں آ رہا ٗ کنعان بھائی کا رویہ کیسا تھا تمہارے ساتھ؟‘‘
’’آپی ٗ کسی کی محبت ٗ کسی کی نفرت کے درمیان میں سینڈوچ بن کر نہیں رہ سکتی اور جب مجھے عزت ہی نہ ملے تو محبت کا میں کیا کروں گی؟ یہاں میرے آنے سے کوئی خوش نہیں ہے ٗ رات میرا کیسا استقبال کیا گیا۔ صبح ناشتہ کی ٹیبل پر بھی گھر کے افراد موجود نہ تھے ٗ اوپر سے ممی کہتی ہیں کہ میں نے سب کی عزت کرنی ہے اپنی ’’میں‘‘ کو مارنا ہے ٗ ہاں! تو مار دیا ہے ناں میں نے ٗ میں جو اپنی ذات کے حصار میں رہنا چاہتی تھی میں اب کہیں نہیں ہوں ٗ میری مرضی کی اہمیت تو پہلے ہی نہ تھی اب تو میری کوئی وقعت نہیں رہ گئی ٗ میں حنین عالم سے حنین ماہ کنعان عابدی بن گئی ہوں ٗ لیکن جو میں بننا نہیں چاہتی تھی آپ بتائیں وہ بن کر کیا میں خوش ہو سکتی ہوں؟‘‘ وہ رو رہی تھی اور وہ لب بھینچے کھڑی تھی۔
’’تم کیوں اتنا خلاف ہو ہم لوگوں نے کوئی غلط فیصلہ نہیں لیا تمہارے لئے کنعان بھائی تم سے محبت کرتے ہیں ٗ خوش رہو گی تم ان کے ساتھ۔‘‘ نرمی سے اسے سمجھانا چاہا تھا۔
’’میں اپنے کئے غلط فیصلوں کے ساتھ بھی مطمئن رہتی ہوں اور آج آپ لوگوں کا صحیح فیصلہ بھی مجھے خوش نہیں کر پا رہا کہ خوشی تو انسان کے اندر سے پھوٹتی ہے اور میرے اندر خوشی کا احساس دم توڑ رہا ہے کیونکہ جب میری ذات دم توڑ رہی ہے تو خوشی کیوں نہ مجھ سے دامن چھڑائے؟‘‘ وہ ہاتھ چھڑا گئی تھی۔
’’آپ ممی سے کہہ دیجئے گا کہ میں کبھی ان کے داماد سے لڑ کر نہیں آئوں گی ٗ کبھی اپنی جانب سے کسی کو پریشان نہیں کروں گی ٗ صرف وہ کروں گی جو لوگ مجھ سے کروانا چاہیں گے ٗ ممی سے کہہ دیجئے گا کہ میرے سبب ان کی تربیت پر حرف نہیں آئے گا ٗ میں اپنی ’’میں‘‘ کو چھوڑ دوں گی ٗ کبھی قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹوں گی کہ مجھے تو لگتا ہی ایسا ہے کہ میں مقتل گاہ میں ذبح ہونے کو آئی ہوں۔‘‘ وہ اس سے بچنے کو اس کے سوال اور جواب سے بچنے کو اپنی بات کہہ کر واش روم میں گھس گئی تھی وہ وہیں سے پلٹ گیا تھا اور وہ ذہن و دل پر بوجھ لئے گھر لوٹ گئی تھی کہ وہ اس کے بہت قریب تھی وہ اس سے ہر بات کہتی تھی مگر سب کچھ جانتے ٗ سمجھتے بھی کچھ چیز مسنگ تھی اور اسے اسی مسنگ چیز کو ڈھونڈنا تھا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ ایسی کیا بات تھی کہ وہ اس طرح بی ہیو کر رہی تھی؟ مگر وہ ڈھونڈ نہیں پا رہی تھی تو اسے احساس ہوا تھا کہ جو لوگ کھلی کتاب کی طرح ہوتے ہیں وہ اسی طرح بند کتاب کی طرح گہرے بھی ہوتے ہیں ٗ جتنا اسے سمجھنا آسان تھا اس سے کہیں زیادہ مشکل اسے گہرائی سے سمجھنا تھا اور اسے احساس ہوا تھا کہ انسان دعوے تو کر سکتے ہیں ایک دوسرے کو جاننے سمجھنے کے جبکہ درحقیقت ایک انسان جتنا خود کو جانتا ہے دوسرے کو نہیں جان سکتا۔ جیسے وہ یکدم اس کیلئے کھلی کتاب سے پیچیدہ بند کتاب ہو گئی تھی۔
٭٭٭
’’مامی! آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں ٗ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ انہیں اپنی لاڈلی اداس لگ رہی تھی اور وہ اپنی پریشانی ارحم سے کہہ گئی تھیں اور وہ جسے سن نرمی سے بولا تھا۔
’’تم دیکھو ذرا اس کے چہرے کی طرف ذرا سی خوشی کی رمق تک نہیں ہے اس کے چہرے پر کتنی اداسی لگ رہی ہے اور اس کی یہ اداسی و خاموشی نکاح کے بعد سے ہے اور جب سے شادی کی ڈیٹ فائنل ہوئی تھی وہ مزید آزردہ نظر آ رہی تھی مگر میں اس کی آزردگی کو محسوس کرکے بھی انجان بن گئی اور اب تو ایسا لگ رہا ہے جیسے میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ کوئی ظلم کر ڈالا ہے ٗ اس کی یہ اداسی مجھے اندر ہی اندر کھا رہی ہے۔‘‘ وہ رو پڑی تھیں۔
’’حنین بہت زیادہ حساس ہے ٗ ہمیشہ اس کی ہر جائز ہی نہیں بے جا ضد کو بھی پورا کیا گیا ٗ ہر جگہ اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ٗ نکاح اس کی مرضی کے خلاف ہوا تو اسے لگا اس کی بات کی اہمیت نہیں ہے اور کنعان کے پیرنٹس کی لاتعلقی اس سے برداشت نہیں ہو رہی ٗ یہ اداسی اور خاموشی اللہ نہ کرے کسی دکھ یا پریشانی کے سبب نہیں ہے اس کی حساسیت کا موجب ہے ٗ دھیرے دھیرے وہ سمجھ جائے گی ٗ اس وقتی فیز سے نکل آئے گی اور یقین رکھیں مامی ٗ کنعان! ایسا کر لے گا وہ اس سے محبت کرتا ہے دل سے ٗ عزت سے ٗ اسے اپنایا ہے وہ ماحول کے ساتھ اسے ڈھال لے گا ٗ کچا ذہن ہے ٗ کچی عمر ہے وقت لگے گا مگر سیٹ ہو جائے گی کہ ہم پریشان تو تب ہوں نہ کہ جب اللہ نہ کرے اسے کوئی دکھ ٗ پریشانی ہو ٗ اس کے ذہن کی اخترائیں ہیں جو اسے اداس کر گئی ہیں کہ کنعان نے یہ کیوں کیا ٗ وہ کیوں کیا؟ نکاح ایسے کیا کیوں ہوا؟ ویسے کیوں نہیں ہوا؟ حساس لوگ اپنے لئے پرابلمز کری ایٹ کر لیتے ہیں اور حنین کی پرابلمز بھی بس اسی طرح کی ہیں ٗ آپ دیکھئے گا چند دنوں میں وہ نئے ماحول میں ڈھل کر اداسی بھول جائے گی۔‘‘ وہ اس کی فطرت کے پیش نظر بات کر رہا تھا۔
’’نہیں بھولے گی کہ باتیں اس کے ذہن سے کب نکلتی ہیں ٗ لکیر کو پیٹنے ٗ ٹینشن لینے کی عادت تو اس نے اپنے پاپا سے ہی ایڈاپ کی ہے ٗ اب وضاحت مانگنے والے نے تو مانگ لی دینے والا بھی تو راضی ہو۔‘‘ وہ اب بھی متفکر تھیں۔
’’آپ! ٹینشن نہ لیں وقت کے ساتھ سب بہتر ہو جائے گا۔ وہ انہیں نرمی سے ساتھ لگائے دلاسہ دے رہا تھا کہ وہ اپنے طور پر مطمئن تھا کہ وہ اپنے رشتوں کیلئے بہت حساس تھا اور مائدہ و حنین یہ وہ دو لوگ تھے جنہیں اس نے ہمیشہ خوش دیکھنا چاہا تھا مائدہ کیلئے وہ اپنی محبت اور حساس فطرت کے تحت مضطرب رہا تھا ٗ اسے لگتا تھا کہ وہ خوش نہیں ہے مگر مائدہ کچھ ریزرو نیچر لڑکی تھی دل کی بات ماں سے ہی نہیں کہتی تھی تو بھائی سے کیا کہتی ایسے میں اس کی نا آسودہ زندگی کے بعد وہ ہی چاہتا تھا کہ اس کی دوسری بہن بہت آسودہ زندگی گزارے اور جیسے وہ مائدہ کے بن کہے بھی اس کیلئے متفکر تھا اسی طرح حنین کی ہر اداسی کو جانتے سمجھتے ہوئے بھی مطمئن تھا کہ اس نے کنعان کی آنکھوں میں اس کیلئے سچی محبت دیکھی تھی اور اس پر اعتماد کر لیا تھا اور یہ تو وقت نے ہی ثابت کرنا تھا کہ اس کا اعتبار کردہ شخص اعتبار کے لائق تھا بھی کہ نہیں؟ کہ مائدہ کے معاملے میں انہوں نے اسجد پر اعتبار کیا تھا مگر وہ اعتبار کی دھجیاں ہی بکھیر گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *