Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13
’’ڈیڈ! میں شادی کرنے کا فیصلہ کر چکا ہوں۔‘‘ رات پارٹی دیر تک چلی تھی اسی لئے وہ دونوں میاں بیوی دیر سے اٹھے تھے کیونکہ آفس جانے کا موڈ نہ تھا جبکہ وہ بھی عادت کے برخلاف لنچ ٹائم میں سو کر اٹھا تھا اور ڈائننگ ٹیبل پر ان دونوں کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رات بھر جاگنے کے بعد جو فیصلہ لیا تھا اس سے انہیں آگاہ کر دیا تھا۔
’’ڈیٹس گریٹ! لڑکی کون ہے؟‘‘ ماہ لقا نے خوش دلی سے پوچھا تھا۔
’’مام! رات پارٹی میں آپ لاج کی فرینڈ حنین سے تو ملی ہی ہوں گی ٗ میں اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اپنے لئے جوس نکالتے ہوئے بولتا ان دونوں کے سر پر آسمان ہی تو گرا گیا تھا۔
’’واٹ…؟ وہ اٹھارہویں صدی کا ماڈل ٗ وہ میری بہو بنے گی… نو… وے۔‘‘ وہ حقارت سے بولی تھیں۔
’’مام! میں آپ سے مشورہ نہیں کر رہا ٗ آپ کو اپنی پسند ٗ اپنے فیصلے سے آگاہ کر رہا ہوں۔‘‘ ماں کا انداز برا لگا تھا اس لئے چبا چبا کر بولا تھا۔
’’تمہاری پسند کو ہو کیا گیا ہے؟ ہمارے سرکل میں ایک سے ایک لڑکیاں موجود ہیں اور تم ایک غریب گھرانے کی لڑکی کو لائف پارٹنر بنانے کا سوچ رہے ہو جبکہ ہم سہرینہ کو تمہارے لئے پرفیکٹ سمجھتے ہیں۔‘‘ بیٹے کے تاثرات سے خائف ہوتے ذوالفقار عابدی ٹھنڈے لہجے میں بولے تھے۔
’’ڈیڈی مجھے سہرینہ تو کیا اپنے سرکل میں سے کوئی بھی لڑکی نہیں پسند ٗ میں حنین سے شادی کا فیصلہ کر چکا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنی پسند مجھ پر لاگو کرنے کے بجائے میری پسند کو فوقیت دیتے ہوئے میرا پرپوزل جہاں میں چاہتا ہوں لے جائیں گے۔‘‘ وہ باپ سے زیادہ سرد لہجے میں بولا اور سلائس کے بائٹ لینے لگا۔
’’ہم ایک غریب خاندان کی لڑکی کو اپنی بہو نہیں بنا سکتے۔‘‘ انہوں نے بیٹے کو گھورتے ہوئے صاف انکار کر دیا۔
’’مام! وہ بزنس مین نوید عالم کی بھتیجی ہے ٗ کسی غریب خاندان سے اس کا تعلق نہیں ہے۔‘‘ نہایت ناگواری سے کہا گیا تھا۔
’’نوید عالم کون سا بڑے بزنس مین ہیں؟‘‘ یہ ذوالفقار عابدی تھے۔
’’اونہہ… آفس کی عمارت کھڑی کر لینے سے کوئی بزنس مین نہیں بن جاتا مائی سن! یہ جو گلی گلی میں مختلف آئٹمز کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں ان کے مالکان بھی خود کو بزنس مین ہی کہتے ہیں ٗ ہمارا اپنا بزنس ہے ٗ کریانے کی دکان ہے اور اپنا بزنس ہے ٗ بزنس مین ہیں ٗ بزنس مین مائی فٹ!‘‘ ماہ لقا نہایت درشتگی اور حقارت سے بولی تھیں۔
’’مام! اگر وہ امیر ہے یا غریب ہے ٗ اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا کہ وہ جیسی ہے مجھے قبول ہے ٗ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور میرا یہ فیصلہ کسی قیمت پر نہیں بدلے گا ٗ میں آپ لوگوں کے یا اس کے گھر والوں اور خود اس کے بھی کسی اعتراض و انکار کو اہمیت نہیں دوں گا۔‘‘ وہ ناشتہ ادھورا چھوڑ کر اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکلتا چلا گیا اور وہ دونوں ہی غصے سے پیچ و تاب کھاتے رہ گئے۔
٭٭٭
’’فیصل! رات کنعان بھائی کچھ زیادہ ہی حنین کو لے کر پریشان نہیں ہو گئے تھے؟‘‘ چھٹی کا دن تھا وہ دیر سے سو کر اٹھا تھا ناشتہ تو سب کے ساتھ کیا تھا مگر اس کے کہنے پر وہ اس کیلئے دوبارہ چائے لے کر آئی تھی وہی دینے کے بعد بولتی اس کو چونکا گئی تھی اور اس نے گہری سانس خارج کی تھی کہ اسے یقین تھا کہ جو بات ان سب نے پریشانی میں محسوس نہ کی تھی پرسکون ہونے کے بعد سوچنے پر مجبور ہو جائیں گی اور اس کے یقین کے مطابق وہ سوال کئے اب جواب کی منتظر تھی۔
’’اوہو… بس وہ مہمان تھی ان کی ٗ ان کا پریشان ہونا فطری تھا کہ لاج کس قدر پریشان تھی ٗ رونے تک لگی تھی اس کی شرمندگی ہی ختم نہیں ہو رہی تھی جبکہ اس سب میں اس کا کوئی قصور نہ تھا۔‘‘ اس کی توجہ بٹانے کو اس نے جان کر لاج کی پریشانی کو ہائی لائٹ کیا تھا۔
’’پریشان ہونے میں اور بہت زیادہ پریشان ہو جانے میں واضح فرق ہوتا ہے اور اگر وہ اس کیلئے پریشان ہو بھی رہے تھے تو انہیں اسے بازوئوں میں اٹھا کر اپنے کمرے تک نہیں لے جانا چاہئے تھا۔‘‘ وہ ناگواری و صاف گوئی سے بولی تھی اور اس کی یہ حرکت تو خود فیصل کو نہیں بھائی تھی مگر اس نے دکھائی اتنی عجلت تھی کہ وہ سمجھا ہی نہیں تھا اور سمجھ بھی جاتا تو ایک کام ہو جانے کے بعد کر بھی کیا سکتا تھا؟ اور وہ اس کو کیا کہے کیا نہیں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس کو اس الجھن سے بجتے فون نے بچا لیا تھا ٗ وہ دونوں ہی رنگ ٹون سے ہی سمجھ گئے تھے کہ کس کی کال ہے اور وہ قدرے ناراضی سے اس کو دیکھتی وارڈ روب کھول کر کھڑی ہو گئی تھی۔
’’تجھ سے کچھ بات کرنی ہے ٗ گھر آ جا۔‘‘ وہ چھوٹتے ہی بولا تھا۔
’’بات کیا ہے؟‘‘ وہ الجھ گیا تھا۔
’’فون پر نہیں کر سکتا ٗ یہ بتا کتنی دیر میں آئے گا؟‘‘ وہاں سنجیدگی کا عالم ہنوز تھا۔
’’ایسی کیا بات ہے جو تو فون پر نہیں کر سکتا؟‘‘ وہ محض حیران ہی نہیں پریشان بھی ہو گیا تھا۔
’’تو عورتوں کی طرح پیچھے نہ پڑ جایا کر ٗ سیدھے طریقے سے کہہ آرہا ہے یا نہیں؟‘‘ وہ تپ چکا تھا۔
’’ایسا کر تو آ جا ٗ میرے سر میں درد ہے ٗ کچھ آرام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے اس کی ناراضی محسوس کرکے ہتھیار ڈالے تھے۔
’’اوکے ٗ آدھے گھنٹے میں پہنچ جائوں گا۔‘‘ اس نے فوراً ہی حامی بھر کر رابطہ منقطع کر دیا تھا ٗ سیل فون سائیڈ پر رکھتے ہوئے وہ چونک اٹھا کہ وہ بگڑے تیوروں کے ساتھ بیڈ پر واپس آ بیٹھی تھی۔
’’ایک ہی دن چھٹی کا ہوتا ہے وہ بھی آپ اپنے دوست کے ساتھ برباد کر دیتے ہیں۔‘‘ اس کا موڈ بری طرح آف ہو گیا تھا کیونکہ کچھ دیر پہلے اس نے میکے جانے کا کہا تھا تو اس نے سر درد کا بہانہ کرکے معذرت کر لی تھی۔
’’اب تم میرے واحد دوست سے بھی جیلس ہو گی ٗ اس سے ملنے جلنے پر پابندی لگائو گی؟‘‘ اس کا خراب موڈ بحال کرنے کو اس نے شرارت سے اسے چھیڑا تھا۔
’’اگر آپ کے ماننے، عمل کرنے کی امید ہو تو ایسا بھی کر لوں کہ آپ کا دوست مجھے اپنی سوکن لگنے لگا ہے ٗ مجھ سے زیادہ وقت تو آپ اپنے دوست کے ساتھ گزارتے ہیں۔‘‘ اس کا غصہ ناراضی میں ڈھل گیا تھا اور اس کے گلے ختم ہونے کے بجائے بڑھ رہے تھے۔ اس کی بچکانہ سی سوچ اور بات پر فیصل نے بے ساختہ قہقہہ لگایا تھا۔
’’تمہاری سوتن آتا ہی ہوگا ٗ اس لئے باقی گلے بعد میں کر لینا ٗ کھانا کھانا ہے تو لے آئو کہ بعد میں اکیلے کھائو گی تو ہزار شکوے کرو گی۔‘‘ اس کا ہاتھ تھام کر نہایت پیار بھرے لہجے میں بولا تھا۔
’’روز بھی اکیلے کھاتی ہوں ناں ٗ آج بھی کھا لوں گی ٗ آپ کریں اپنی محبوبہ کا انتظار اور گزاریں چھٹی اس کے ساتھ ٗ میں ڈیڈی کے گھر جا رہی ہوں۔‘‘ ہاتھ چھڑا کر ناراضی سے کہتی بیڈ سے اترتی کہ وہ اس کا بازو تھام کر اسے اپنی جانب کھینچ گیا تھا۔
’’اوہو… تو لگتا ہے مسز کو مجھ سے محبت ہو گئی ہے جو یوں پوزیسیو ہوا جا رہا ہے۔‘‘ اسے خود پر گرائے اس کی کمر پر حصار باندھے شرارت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مخمور لہجے میں گویا ہوا تھا اور اس کی قربت اس کے حواس سلب کر گئی تھی ٗ ساری ناراضی ٗ تمام گلے کہیں جا سوئے تھے ٗ دھڑکنیں اور جذبے جاگ اٹھے تھے اور اسے کنفیوژ و حیاء سے مخمور پاکر وہ دلکشی سے مسکراتا جسارتوں پر آمادہ ہوا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی تھی اس نے بدمزہ ہو کر گرفت ڈھیلی کی تھی۔ وہ سرعت سے اس کے حصار سے نکلتی اتھل پتھل سانسوں کے ہمراہ دروازے کی جانب بڑھی تھی اور خود کو کمپوزڈ کرکے دروازہ کھول دیا تھا۔
’’فیصل بھیا سے کہو کہ کنعان بھائی آئے ہیں۔‘‘ سحرش پیغام دے کر پلٹ گئی تھی۔ فیصل نے اسے دیکھا جو سرخ چہرے کے ساتھ کافی سنجیدہ نظر آنے لگی تھی۔
’’میں ڈیڈی کے پاس جا رہی ہوں ٗ فرصت ملے تو لینے آ جایئے گا۔‘‘ اس نے جاتی ہوئی سمیرا کا ہاتھ پکڑا تھا۔
’’یار! کل آفس سے آکر لے جائوں گا کہ کنعان کا کچھ بھروسہ نہیں ہے کہ وہ کتنی دیر ٹھہرے یا آئوٹنگ کا پروگرام رکھ لے۔‘‘ اس کے خفا خفا چہرے کو دیکھا تھا کہ اس کا موڈ ٹھیک سے بحال بھی نہیں کر پایا تھا کہ موڈ پہلے سے زیادہ خراب ہو گیا تھا۔
’’آئی ڈونٹ کیئر… مجھے آج ہی جانا ہے ٗ آج نہیں تو آپ کل آفس سے آتے ہوئے پک کر لیجئے گا۔‘‘ بازو آزاد کروا کے سنجیدگی سے بولی تھی۔
’’تمہاری یونی سے چھٹی ہو جائے گی ٗ وعدہ کل لے جائوں گا اور پکا پرامس نیکسٹ سنڈے صرف تمہارے ساتھ گزاروں گا۔‘‘ اس کو منانا چاہا تھا مگر جیسے وہ بھی اپنی بات پر بری طرح اڑ گئی تھی۔
’’آپ میری شرائط بھول گئے کہ آپ چاہتے ہیںکہ میں آگے پڑھوں تو آپ مجھے ڈیڈی کے ہاں جب میں چاہوں گی لے کر جائیں گے نہ کبھی روکیں گے نہ انکار کریں گے۔‘‘ اس نے جو 20 شرائط کہی تھیں ان میں سے وقتاً فوقتاً جتنی بتائی تھیں ان میں یہ شرط سرفہرست تھی۔
’’اوکے ٗ تم چلی جائو ٗ میں پک نہ کر سکا تو صبح ماموں جان کے گھر سے ہی ڈائریکٹ تمہیں یونی چھوڑ دوں گا ٗ اپنا بیگ احتیاطاً لے جائو۔‘‘ وہ کہہ کر اس کے بگڑے زاویے دیکھے بنا کمرے سے ہی نکل گیا تھا اور وہ غصے سے بری طرح کھول کر رہ گئی تھی کہ پڑھائی اور کنعان دو ایسے معاملات اور لوگ تھے جن میں اس کی ایک نہیں چلتی تھی اس کے علاوہ اسے اس سے کوئی شکایت نہ تھی کہ وہ اس کی سوچ سے بڑھ کر محبت کرنے اور خیال رکھنے والا شوہر ثابت ہو رہا تھا۔
٭٭٭
’’میں حنین سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ چند باتوں کے بعد اس نے اصل مدعا سامنے رکھا تھا۔
’’واٹ…؟‘‘ وہ حیرت سے چلایا تھا۔
’’تیری حیرت سمجھ نہیں پا رہا کہ میری فیلنگز تیرے سامنے ہیں۔‘‘ وہ بے تکلفی سے بیڈ پر دراز تھا کہ وہ کنعان کو اپنے روم میں لے آیا تھا مگر اسے اچھا نہیں لگا تھا کہ اب وہ کمرہ صرف اس کا نہیں اس کی بیوی کا بھی تھا ٗ ڈریسنگ پر سجی کاسمیٹک کی اشیاء اور سائیڈ ٹیبل کے ساتھ ساتھ دیواروں پر آویزاں ان کی شادی تصویریں ٗ اسے وہاں ٹھہرنا آ کورڈ فیل ہو رہا تھا اس لئے اس کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ باہر جانے کی بجائے وہ اسے گیسٹ روم میں لے آیا تھا۔
’’تیری فیلنگز محسوس کر رہا تھا اندازہ تھا کہ تو بہت جلد یہ فیصلہ لے گا مگر میں نے تجھے نوید انکل کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا اس لئے ایک دم اچانک یہ بات مجھے حیرت میں ڈال گئی ہے۔‘‘ وہ بھی صاف گوئی سے بولا تھا۔
’’کل شام تو نے کہا تھا کہ میری بے خودی میرا کچھ بگاڑے نہ بگاڑے اس کیلئے مسائل کھڑے کر سکتی ہے اور جس طرح وہ مجھے دیکھ کر خوف کا شکار ہوتی خود کو تکلیف پہنچا گئی رات بھر سوچ کر میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اپنا پرپوزل اسے بھیج دوں۔‘‘ اس نے بات مکمل کرکے ٹی وی آن کیا تھا اور ایک چینل لگا کر پیپسی کا ٹن کھولنے لگا تھا۔
’’زندگی بھر کے معاملے لمحوں میں نہیں ہوتے۔‘‘ اس کے ہاتھ سے پیپسی کا ٹن لے لیا تھا جو اپنے لئے دوسرا ٹن کھول رہا تھا۔
’’دل کے معاملے لمحوں میں ہی ہوتے ہیں اور جب میرا دل فیصلہ کر چکا ہے کہ حنین عالم کو میرا بننا ہے تو لمحوں اور سالوں سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘ گھونٹ بھر کر اس کو دیکھا تھا جو کافی سنجیدہ نظر آ رہا تھا۔
’’مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے ٗ چٹانوں سے بڑھ کر مضبوط محبت ٗ جو خود بکھر کر اپنی کرنیں چار سو پھیلاتی ہے ٗ لمحے لمحے میں وہ میرے دل میں مضبوط سے مضبوط بنیادوں پر اپنی خاص جگہ بناتی جا رہی ہے۔ جب وہ سامنے ہوتی ہے اسے قریب کرنے کی خواہش دل میں مچلتی ہے ٗ سامنے نہیں ہوتی تو اس کا احساس چار سو میرے اردگرد پھیل جاتا ہے ٗ اس کی ہر جھلک مجھے محبت سے عشق کا سفر کروا دیتی ہے ٗ میں اسے پا لینا چاہتا ہوں ٗ لمحے دو لمحے کیلئے نہیں اپنی آخری سانس تک کیلئے اور اسی لئے چاہتا ہوں کہ تو نوید عالم سے میری شادی کی بات کر۔‘‘ وہ جذبوں سے چور لہجے میں کہتا اسے اپنے ایک نئے ہی روپ سے آشنائی دے گیا تھا۔
’’تو نے انکل آنٹی سے بات کر لی کہ ان کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔‘‘ وہ اس کے لہجے ٗ انداز ٗ چہرے اور آنکھوںسے جذبے اور ان کی سچائی کو محسوس کرکے کسی نتیجے پر پہنچ گیا تھا۔
’’مام ٗ ڈیڈ کو اعتراض ہے بٹ میں ان کو منا لوں گا۔‘‘ وہ پر یقین لہجے میں بولا تھا۔
’’تو انکل آنٹی کو راضی کر لے جب تو مجھے مثبت جواب دے گا اس کے اگلے ہی دن میں خود نوید انکل سے بات کروں گا۔‘‘ وہ بھی جیسے تیار ہی بیٹھا تھا۔
’’اوکے ٗ بٹ ایسا کر کہ فی الحال تو بھابی کے ذہن میں یہ بات ڈال دے تاکہ کوئی بھی سبب انکار کا نہ بنے۔‘‘ اس کے ہاتھ سے پیپسی کا ٹن چھین کر اس کے گھورنے کی پرواہ کئے بنا وہ منہ سے لگا گیا تھا۔
’’آئیڈیا برا نہیں ہے ٗ مگر بھابی تجھے پسند نہیں کرتیں ٗ ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ مجھ پر تجھ سے ملنے پر پابندی لگا دیتیں۔‘‘ مزے سے بتایا تھا وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا تھا اور اس نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کا کارنامہ زرمین و فضیل نے اپنے کانوں سے بیچ پر سنا تھا۔
’’اب ازالہ ہی تو کرنا چاہتا ہوں ٗ اسے چھونے کا پرمٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ کہاں زیادہ دیر شرمندہ رہ سکتا تھا ٗ شرمندگی کے حصار سے نکل کر پٹری سے اترا تھا اور اس کی تنبیہہ کرتی نگاہوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فضول ہانکنے لگا تھا اس کی بکواس بند کروانے کو اسے کشن مارنا پڑا تھا مگر وہ بھی ماہ کنعان تھا ہنستے ہوئے کیچ کر گیا تھا اور ہنوز شوخی پر آمادہ تھا۔
’’سچ میرے اختیار میں ہو ناں ٗ ابھی اسی وقت اس کی تمام تر ناگواریوں اور خوف کے باوجود اسے اپنی سانسوں سے زیادہ قریب کر لوں۔‘‘ اس کے قیامت سے سراپے کو سوچ کر ہی اس پر بے خودی طاری ہونے لگی تھی۔
’’کنعان! واٹ ربش…!‘‘ فیصل نے اس کی بے باکی پر ناگواری ظاہر کی تھی اور وہ قہقہہ لگا گیا تھا ٗ مزید بکواس کرتا کہ اس کا سیل فون بجنے لگا تھا ٗ روشن ہوتی اسکرین پر ان کے مشترکہ دوست بابر کا نام جگمگا رہا تھا۔
’’اوکے سوئیٹ ہارٹ ٗ تم نعمان کو بھی بلا لو ٗ میں اور فیصل بھی آ رہے ہیں۔‘‘ بابر یوکے جا رہا تھا مگر کچھ ناگزیر وجوہات کے سبب نہیں جا سکا تھا اس لئے پرسوں اس کی فلائٹ دوبارہ کنفرم ہو گئی تھی وہی بتایا تھا تو اس نے ساتھ مل بیٹھنے کا پروگرام رکھ لیا تھا۔
’’میرے سر میں درد ہے کنعان! میرا موڈ آج صرف آرام کا تھا پہلے تو خود نازل ہو گیا اور اب باہر جانے کا خود ہی پروگرام سیٹ کر بیٹھا ٗ میری طرف سے تو معذرت۔‘‘ فیصل کا موڈ آف ہو چکا تھا ٗ وہ بے طرح چونک اٹھا۔
’’کہیں بھابی سے تو جھگڑا نہیں کر بیٹھا؟‘‘ وہ پریشان ہوا تھا۔
’’نہیں ٗ بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ہنوز سنجیدگی سے بولا تھا۔
’’اویار! تو پھر کیا مسئلہ ہے دوستوں کے ساتھ وقت گزارے گا ناں ٗ تو طبیعت سنبھل جائے گی ٗ ویسے کہے تو سر دبا دوں تیرا؟‘‘ وہ سنجیدہ ہو گیا تھا کہ فیصل اسے اتنا ہی عزیز تھا۔
’’ابے نہیں یار! پین کلر لیا تھا ٗ مگر تیری گھٹیا گفتگو نے سارا اثر زائل کر دیا۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔
’’پین کلر لیا تھا یا میری بھابی کو زحمت دی تھی۔‘‘ اس کی شرارت بھانپ کر وہ بھی شوخ ہوا تھا اور وہ بری طرح جھینپ گیا تھا۔
’’شادی کے بعد بھی تیرا بیبا پن نہیں گیا۔‘‘ اس کے سرخ چہرے کو دیکھ کر ایک بے باک قہقہہ لگا کر جملہ کسا تھا ٗ جواباً وہ اسے محض گھور کر رہ گیا تھا اور وہ جانے کو اٹھا تو اسے بھی ناچار تقلید کرنا پڑی تھی۔
٭٭٭
’’بھابی! آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘ اس کا ہاتھ بٹانے کو کل وقتی ملازمہ رکھ لی گئی تھی اس کے باوجود وہ زیادہ تر کام خود ہی کیا کرتی تھی کہ اسے کام کرنے کی عادت بھی تھی اور اسے گھر داری کا شوق بھی تھا اس سب میں وہ سکون محسوس کیا کرتی تھی۔ اس نے رات کے کھانے کے بعد سب کو چائے دی تھی اور ملازمہ سے کچن صاف کروا کر وہ اپنے اور فضیل کیلئے ٹرے میں دودھ رکھے کچن سے نکلی ہی تھی کہ فیصل کی آواز پر چونک کر اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’جی… کہئے!‘‘ وہ سادگی سے بولی تھی۔
’’بات کچھ ایسی ہے کہ یوں کھڑے کھڑے نہیں ہو پائے گی ٗ آپ بزی ہیں تو میں بعد میں بات کر لوں گا۔‘‘ اس کے ہاتھ میں ٹرے دیکھ کر وہ بولا تھا۔ وہ حیران تو ہوئی مگر ظاہر کئے بنا اس نے ملازمہ کو آواز دی تھی۔
’’بشیراں…! یہ ٹرے میرے کمرے میں لے جائو۔‘‘ ٹرے ملازمہ کو دیتی وہ ڈائننگ ٹیبل کے آگے سے چیئر گھسیٹ کر اس پر بیٹھ گئی تھی اور وہ بھی آ بیٹھا تھا۔
’’بھابی! آپ کنعان کو تو جانتی ہیں ناں؟‘‘ اس نے تمہید باندھنا چاہی تھی اور اس کے چہرے پر در آنے والی ناگواری دیکھ کر اس نے سوچا تھا کہ بات نہ کرے مگر جس طرح وہ اتائولا ہو رہا تھا اس کے بعد وہ ناچار اس کی ناگواری کے باوجود کہہ گیا۔
’’کنعان! حنین سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر حیرت اور اس کے بعد ناپسندیدگی کا تاثر بکھر گیا تھا۔
’’آپ اپنے دوست سے صاف کہہ دیں کہ وہ ایسا خیال ہی اپنے ذہن سے نکال دیں۔‘‘ وہ درشتگی سے بولی تھی۔
’’بھابی! اس میں حرج ہی کیا ہے ٗ کنعان ایک اچھا انسان ہے ٗ اچھی فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں اپنے عزیز دوست کیلئے ناپسندیدگی و ناگواری دیکھتے ہوئے بھی دھیمے سے بولا تھا۔
’’وہ کتنے اچھے ہیں ٗ یہ آپ کو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور جہاں تک فیملی کی بات ہے ابو ایک سیاستدان گھرانے میں کبھی حنین کی شادی نہیں کریں گے۔‘‘ اس نے نفرت سے ہنکارا بھرا تھا اور صاف انکار کرنے کے ساتھ باپ کے کئے جانے والے متوقع فیصلے سے بھی آگاہ کیا تھا۔
’’پرپوزل دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘ وہ سادہ دھیمے مزاج کی زرمین کا آتشی روپ دیکھ کر حیران نہیں ہوا تھا کہ اس کی حنین کیلئے مخصوص جذباتیت سے واقف تھا۔
’’پلیز… فیصل! جو بات نہیں ہو سکتی اس کا ذکر بھی کیوں کیا جائے کہ وہ شخص جب مجھے اپنی بہن کیلئے پسند ہی نہیں ہے تو میں ابو تک پرپوزل کو کیوں پہنچائوں گی کہ یہ بھی جانتی ہوں کہ ابو گریجوایشن سے پہلے حنین کی شادی نہیں کریں گے اور اس کی شادی ہماری ہی طرح کی فیملی میں کریں گے کہ اپر ہائی کلاس خاص کر سیاست دان گھرانے میں حنین کی شادی کا وہ تصور بھی نہیں کریں گے۔‘‘ اسے جیسے ہی اپنے رویے کی بدصورتی کا احساس ہوا تھا وہ لہجے کی ٹون بدل گئی تھی ٗ مگر موقف اس کا اب بھی وہی تھا۔
’’آپ کی ناپسندیدگی بھی بجا ہے بھابی! لیکن وہ نہ صرف اپنے کئے پر شرمندہ ہے بلکہ حنین کو عزت سے اپنانے کیلئے بھی تیار ہے کہ وہ اس سے محبت کرنے لگا ہے۔‘‘ وہ احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہی اس سے بات کر رہا تھا۔
’’آپ ایک دفعہ نوید انکل سے بات کرکے تو دیکھیں کہ وہ حنین کیلئے بہت فیئر اور سنسیئر ہے۔‘‘ اس نے بھرپور انداز میں دوست کے جذبوں کی وکالت کی تھی۔
’’میں مانتا ہوں کہ جو اس نے کیا وہ بالکل بھی مناسب نہ تھا ٗ مگر وہ میرا بہت پرانا اور قریبی دوست ہے اس کو جانتا ہوں اس میں کوئی اخلاقی برائی نہیں ہے ٗ اس کا کردار آئینے کی طرح شفاف ہے ٗ سچے جذبوں کے ساتھ وہ حنین کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہے اس کا ارادہ اور نیت پاک صاف ہیں ٗ اس لئے میں آپ سے یہی کہوں گا کہ آپ سوچیں ٗ اسے پرکھیں اور پھر کوئی فیصلہ لیں کہ آپ لوگوں کو اس کی طرف سے جس طرح کی گارنٹی کی ضرورت ہو گی وہ میں دوں گا ٗ وہ اور میں الگ نہیں ہیں ٗ اگر آپ اسے بے اعتباری کے کٹہرے میں کھڑا کریں گی تو مجھے اپنی ذات کٹہرے میں محسوس ہو گی اس لئے آپ اسے اس کے مزاج و کردار کے نہیں میرے مزاج و کردار کے آئینے میں پرکھیں ٗ رہ گئی بات اس کے کردار کی تو اس پر مجھے خود سے بڑھ کر بھروسہ ہے۔ باخدا حنین کی جگہ سحرش ہوتی تو میں آنکھ بند کرکے فیصلہ لیتا کہ وہ اتنا ہی اچھا ہے کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہو سکتا ہے ٗ اس سے رشتہ جوڑنے میں فخر محسوس ہو سکتا ہے ٗ کنعان میرا دوست ٗ میری جان ٗ میرا فخر ہے بھابی! آگے آپ لوگوں کا فیصلہ۔‘‘ وہ زرمین کیلئے سوچوں کے در وا کرتا نکلتا چلا گیا تھا۔
٭٭٭
’’مامی! نے تمہیں کتنی مشکل سے اجازت دی ہے حنین! اور ہمیں آئے ایک گھنٹہ ہونے والا ہے ٗ تمہیں جو لینا ہے اب بس لے لو۔‘‘ مائدہ کوفت سے بولی تھی کہ وہ اس کی خاطر اس کے ساتھ شاپنگ مال آ تو گئی تھی مگر اب پچھتا رہی تھی کہ وہ اسے ایک گھنٹے سے خوار کروا رہی تھی۔
’’اب پسند نہیں آ رہا کچھ تو کیا کروں؟‘‘ وہ خود جھنجھلا کر بولی تھی کہ وہ گزشتہ ہفتے سے بیڈ ریسٹ پر تھی یونیورسٹی بھی نہیں جا رہی تھی ٗ آج بھی تکلیف کے باوجود صرف ارحم الحسن کی وجہ سے خوار ہو رہی تھی کہ کل اس کی برتھ ڈے ہے اور اس کیلئے گفٹ لینے آئی تھی۔
’’دیکھو حنین! تم ایک ہفتے سے بیڈ ریسٹ پر ہو اور جو ایک ہفتے میں ریکوری ہوئی ہے وہ یوں چلتے رہنے سے برباد ہو کر رہ جائے گی ٗ تم ارحم بھیا کیلئے گفٹ صحت یاب ہو جانے کے بعد لے لینا۔ ابھی واپس گھر چلتے ہیں۔‘‘ وہ اس کے خوبصورت چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ کر بولی تھی۔
’’میں ممی کی ڈانٹ کھا کر ٗ تایا ابو سے اجازت لے کر صرف ارحم بھیا کیلئے گفٹ لینے آئی ہوں اور لئے بغیر نہیں جائوں گی کہ اتنے دن سے بھی تو تکلیف برداشت کر رہی ہوں ٗ کچھ تکلیف ارحم بھیا کیلئے برداشت کر لوں گی تو کچھ نہیں بگڑے گا۔‘‘ مستقل چلنے سے تکلیف کا احساس بڑھنے لگا تھا وہ رک کر سانس ہموار کرکے بولی تھی اور گلاس ڈور دھکیلتی اندر داخل ہو گئی تھی ٗ فیصل نے اسے دیکھا تھا جس کا چہرہ نہ جانے کس احساس سے دہک رہا تھا اور وہ لب بھینچے کھڑا تھا ٗ مائدہ اسے دیکھ کر آگے بڑھتی رک گئی تھی اور اس سے سلام دعا کرکے جس وقت شاپ میں داخل ہوئی تھی وہ ٹائی کارنر پر کھڑی بہت دلجمعی سے ٹائیاں دیکھ رہی تھی۔ اس کے سرد تاثرات دیکھ کر فیصل چاہتا تھا کہ وہ اس شاپ میں داخل نہ ہوں مگر اس کے انٹر ہو جانے پر اسے بھی تقلید کرنی پڑی تھی۔
’’وہ شخص اس کیلئے اتنا اہم ہے کہ اسے اپنی تکلیف کا احساس ہی نہیں ہے ٗ اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔‘‘ وہ اس سے تھوڑے فاصلے پر اسی کائونٹر پر ٹھہرا گردن موڑے اسے دیکھتا سوچ رہا تھا جو ایک کے بعد ایک خوبصورت اور مہنگی ٹائی ریجیکٹ کرتی جا رہی تھی کہ اس نے شیلف پر رکھا اپنا ہاتھ کمر پر رکھا تھا اور لب کا کونا دانتوں تلے دبایا تھا لمحے بھر کو اس کا چہرہ تاریک ہوا تھا اور وہ دوسرے ہاتھ کے اشارے سے ایک ٹائی دکھانے کو کہنے لگی تھی ٗ کچھ دیر قبل اسی ٹائی پر ماہ کنعان کی نگاہ بھی ٹھہری تھی اور اب وہ چمکتی آنکھوں سے اسی ٹائی کو دیکھتی نکالنے کو کہہ رہی تھی۔
’’پلیز! شومی آ ڈیٹ ٹائی!‘‘ وہ چند قدم بڑھا کر بالکل اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی۔ شاپ کیپر نے ٹائی نکال کر اس کی طرف بڑھائی تھی اس نے ہاتھ بڑھایا تھا وہ تھامتی کہ ماہ کنعان نے اچک لی تھی اور گہری سنجیدگی سے شاپ کیپر سے بولا تھا۔
’’پلیز!! اسے پیک کر دیں۔‘‘ نیوی بلیو سلک کی ٹائی جس پر بلیک ڈاٹس تھے بلاشبہ وہ شاپ کی قیمتی ٹائیوں میں سے تھی ٗ اس نے اپنا ہاتھ سرعت سے پیچھے کرکے گردن موڑ کر دیکھا تھا اور اسے دیکھ کر ہمیشہ کا ناگوار تاثر آنکھوں و چہرے پر بکھر گیا تھا اور وہ لاشعوری طور پر چند قدم پیچھے ہو گئی تھی۔
’’کچھ آیا پسند؟‘‘ خاموش کھڑی مائدہ نے اس سے پوچھا تھا اور اس نے ماہ کنعان کے ہاتھ میں موجود ٹائی کی طرف اشارہ ہی نہیں کیا تھا بولی بھی تھی۔
’’وہ ٹائی پسند آئی تھی ٗ میں نے ہی نکلوائی تھی اپیا! جسے وہ پیک کرنے کو کہہ رہے ہیں۔‘‘ اس کا منہ بن چکا تھا ٗ فیصل حیرانگی و خاموشی سے دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔
’’تو تم دوسری پسند کر لو۔‘‘ اس نے سادہ ساحل پیش کیا تھا جو اسے پسند نہیں آیا تھا۔
’’میں کیوں دوسری پسند کروں؟ جبکہ میں پسند کر چکی ہوں۔‘‘ وہ کہہ کر شاپ کیپر سے ویسی ہی دوسری ٹائی نکالنے کو کہنے لگی تھی وہ مائدہ کے پیچھے سے نکلتی دوسری طرف کھڑی ہو گئی تھی۔
’’سوری میم! اٹس اونلی ون پیس۔‘‘ سیلز مین شائستگی سے کہہ گیا تھا۔
’’دیکھئے میم! میں مانتا ہوں یہ آپ نے ہی نکلوائی تھی مگر جب سر نے پیمنٹ کی تو میں سمجھا آپ ان کے ساتھ ہیں۔‘‘ وہ بحث کر رہی تھی تب وہ بے چارگی سے بولا تھا۔
’’میں اور ان کے ساتھ… واٹ ربش! آپ مجھے یہ ٹائی دیں ٗ میں پیمنٹ کر دیتی ہوں۔‘‘ ناگواری و قدرے غصے سے بولی تھی کہ مائدہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا تھا اور تنبیہہ کرتی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس نے اب کے آواز دھیمی کرکے ہینڈ بیگ سے پیسے نکال کر کائونٹر پر رکھ دیئے تھے۔
’’سوری میم! بٹ یہ ٹائی سیل ہو چکی ہے ٗ آپ کوئی دوسری یکھ لیں۔‘‘ اس نے ماہ کنعان کے ہاتھ سے ٹائی لی تھی اس کا ارادہ پیک کرنے کا تھا مگر اس نے ہاتھ بڑھا کر وہ کھینچ لی۔
’’یہ میں نے نکلوائی تھی ٗ اس لئے یہ میری ہے ٗ پیمنٹ دی ہے میں نے ٗ میں یہی ٹائی لوں گی۔‘‘ وہ نخوت سے بول رہی تھی شاپ کیپر برا پھنسا تھا کہ کائونٹر پر دونوں ہی پیسے رکھ چکے تھے اور اس کے کہنے پر بھی دونوں میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کو وہ دینے کو تیار نہ تھا ٗ مائدہ اسے سمجھا رہی تھی مگر وہ سمجھنے کو تیار نہ تھی اس کے برعکس اس کے سرد خطرناک تیور دیکھ کر وہ خاموش ہی کھڑا تھا اس کی ضد اور الجھنا فیصل کی سمجھ سے باہر تھا کہ وہ اس کی پسند سے واقف تھا کہ وہ ڈاٹس والی ٹائی یوز نہیں کرتا تھا سیلف لائننگ یا پلین ٹائیز کو ہی پریفر کرتا تھا تو وہ اس وقت آنکھوں میں غصہ لئے کیوں ضد کر رہا تھا؟ اس نے ٹائی کو تہہ لگا کر بیگ میں ڈالنا چاہا تھا کہ اس نے چند قدموں کی دوری کو ختم کیا تھا اور اس کے عین سامنے ٹھہر گیا تھا جو دو قدم پیچھے ہوتے ہی شیلف سے جا لگی تھی۔
’’مس حنین عالم! یہ ٹائی میں نے پسند کی اور اس کی پیمنٹ بھی کر دی اور میں اپنی پسند و حق چھوڑا نہیں کرتا۔‘‘ اس کا لہجہ انتہائی سرد تھا ٗ آنکھیں لہو سمیٹ لائی تھیں اور اس کی تو بولتی ہی بند ہو چکی تھی۔
’’اپیا! یہ جھوٹ بول رہے ہیں ٗ یہ ٹائی میں نے پسند کرکے شیلف سے نکلوائی تھی ٗ زبردستی پیسے تھما کر اس پر اپنا حق جتانے لگے جبکہ یہ ٹائی میں نے کتنی دیر کی خواری کے بعد ارحم بھیا کیلئے پسند کی تھی ٗ مجھے ارحم بھیا کیلئے بس یہی ٹائی چاہئے۔‘‘ وہ سامنے سے ہٹا تھا اس کے آنسو گرے تھے اور مائدہ کے اس تک آتے ہی وہ روتے ہوئے بولنے لگی تھی اور وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا تھا جس کی ساحرانہ بھیگی پلکیں حسرت سے اس ٹائی پر جمی تھیں اس کا غصہ ایک دم ہی بڑھا تھا اور اس کی نگاہ اس کے حسین چہرے سے ہوتی سامنے ڈور کے ساتھ کھڑے شخص پر پڑی تھی جو لائٹر جیب میں رکھ رہا تھا ٗ اس کے قدم لاشعوری طور پر اس شخص کی طرف بڑھے اور اس سے لائٹر طلب کیا واپس مڑ کر اس تک آیا جو ایک ٹائی نہ ملنے پر اپنے قیمتی آنسو بہا رہی تھی اور اس کا دل تو کر رہا تھا کہ ایسی ایک تو کیا ہزار ٹائیاں اس کے قدموں میں ڈھیر کر دے ٗ مگر ذہن و دل میں اٹھتی کشمکش ٗ شک و حسد کی آگ ساری دلی خواہشات کو خاکستر کرنے لگی تھی اور خود جلتے جلتے اس نے اس کے عین سامنے رک کر ٹائی اس کی بھیگی پلکوں کے سامنے لہرائی تھی اور اس کے ہی کیا کسی کے بھی سمجھنے سے پہلے ہی اسے شعلہ دکھا دیا تھا۔
’’جو چیز میری نہ ہو سکے میں اسے کسی اور کے بھی قابل نہیں چھوڑتا ٗ آپ ٹائی تو نہ لے سکیں اس کی راکھ اپنے ارحم بھیا کیلئے لے سکتی ہیں کہ میں کچرا جمع نہیں کیا کرتا ٗ مجھے صرف خوبصورت چیزیں ہی پسند ہیں۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں بغور جھانکتا کہہ رہا تھا کہ حیرانگی نے دوسرا تاثر ہی اسے بھلا دیا تھا اور وہ اتنی ششدر اور صدمے کی سی کیفیت میں تھی کہ اس کے قہقہے پر اس کا سکتہ ٹوٹا تھا اور ’’تڑاخ‘‘ کی آواز خاموشی میں گونج اٹھی تھی۔ وہ جو جلتی ہوئی ٹائی کو جوتوں تلے مسل رہا تھا اس کی حرکت پر وہی نہیں فیصل اور مائدہ بھی ساکت رہ گئے تھے ٗ مائدہ نے بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھا تھا اور فیصل اس کی حرکت پر انگشت بدنداں تھا اور وہ خود بھی تو حیران سی کھڑی تھی کہ اتنے دنوں کی فرسٹریشن یوں ظاہر ہو گی کب سوچا تھا اور وہ جس پر وہ دسیوں لوگوں کے سامنے ہاتھ اٹھا چکی تھی ٗ اتنی تذلیل پر انگارہ ہی تو بن گیا تھا ٗ وہ اس کی تیز سرخ نگاہوں سے خائف ہوتی اور کچھ اپنی حرکت پر نادم و ہراساں ہوتی پیچھے ہوئی تھی کہ وہ ہاتھ بڑھا کر اس کی دودھیا کلائی تھام گیا تھا وہ بے ساختہ ہی چیخی تھی ٗ تماشائی بنا فیصل آگے بڑھا تھا۔
’’فیصل! تو بیچ میں نہیں آئے گا ٗ تیرا منہ دیکھ کر بھی آج میں چپ نہیں رہوں گا۔‘‘ سرد لہجے میں اس پر اپنا ارادہ ظاہر کیا تھا اور اس کی کلائی پر گرفت کچھ اور سخت کی تھی کہ وہ چھڑانے کی کوشش کرنے کے ساتھ مدد کیلئے مائدہ کو پکار رہی تھی ٗ وہ تو اس ساری افتاد پر ہی پریشان تھی اور اسے وہ کلائی سے تھامے شاپ سے باہر نکلا تھا وہ اس کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی گھسیٹتی جا رہی تھی ساتھ ہی ہیلپ کیلئے اس کو پکار بیٹھی تھی ٗ جس سے حسد محسوس کرکے وہ ٗ وہ سب کر گیا تھا اور اس کے منہ سے ’’ارحم بھیا‘‘ نکلنا تھا اس کی گرفت مزید سخت سے سخت تر ہو گئی تھی بے ساختہ ہی وہ چیخی تھی اسے لگا تھا کہ ہڈی ٹوٹ گئی ہے وہ درد سے بلبلا اٹھی تھی کہ اس کے گھسیٹنے سے تو اس کی کمر کا درد بھی مزید جاگ اٹھا تھا۔
’’فیصل بھائی! پلیز اپنے دوست کو روکیں۔‘‘ اس کے تیور مائدہ کو بھی ڈرا گئے تھے وہ اس کے پیچھے لپکتی فیصل سے مدد طلب کر گئی تھی۔
’’کنعان! چھوڑو اس کا ہاتھ ٗ کیوں تماشا بنا رہے ہو؟‘‘ وہ اس کا بازو تھام کر روکتا دبے دبے انداز میں غرایا تھا ٗ مگر اپنی بات کا اثر نہ ہوتے دیکھ کر خود ہی اس کا ہاتھ آزاد کروانا چاہا تھا مگر اس کی گرفت بھی بلا کی مضبوط تھی۔
’’پاگل مت بنو کنعان! حنین کا ہاتھ چھوڑو ٗ میں اس کی طرف سے تم سے سوری کر لیتا ہوں۔‘‘ کوشش ترک کرکے باقاعدہ فیصل نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔
’’ہاتھ چھوڑیں میرا ٗ میری درد سے جان نکل جائے گی ٗ میں آپ کی شکایت ارحم بھیا سے کروں گی ٗ وہ آپ کو اریسٹ کر لیں گے۔‘‘ وہ درد سے بلکتی کہہ رہی تھی اس کے اعصاب مزید کشیدگی سمیٹنے لگے تھے ٗ لیکن فیصل کی حرکت پر وہ دھیما پڑا تھا اس کے ہاتھ پر اس کی گرفت کمزور ہوئی تھی کہ پھر اس نے یکدم ایک جھٹکے سے کلائی آزاد کر دی تھی وہ کراہتی ہوئی ماربل کے صاف چمکتے فرش پر گری تھی۔ وہ کسی کو بھی دیکھے بنا نہایت طیش کے ساتھ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا اور وہ چاہ کر بھی اس کے پیچھے نہیں گیا تھا کہ اس کی نگاہ فرش پر پھیلتے خون پر پڑ گئی تھی ٗ خون اس کے ماتھے سے بہہ رہا تھا اور وہ بے ہوش ہو چکی تھی ٗ فیصل ہی مائدہ کے ساتھ اسے ہاسپٹل لے گیا تھا ٗ مائدہ نے گھر فون کرکے اسجد اور نوید عالم کو بلا لیا تھا کہ اس کے ماتھے پر تین ٹانکے آئے تھے اور دائیں ہاتھ کی کلائی کی ہڈی فریکچر ہو گئی تھی ٗ مائدہ تو مائدہ جو ہوا تھا فیصل بھی حیران و پریشان تھا اور اس کی حالت کے سبب اسے ماہ کنعان پر غصہ آنے لگا تھا اسی لئے اس نے چاہ کر بھی اس سے رابطہ نہیں کیا تھا کہ جو آج تماشہ اس نے لگایا تھا وہ فیصل جیسے سادہ ٗ رکھ رکھائو والے شخص کے اعصاب پر دبائو ڈال گیا تھا اسے اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہو رہا تھا ٗ گھر لوٹا تھا تو اس کی کال آنے لگی تھی اس نے غصے سے سیل فون ہی دیوار پر دے مارا تھا ٗ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ اسے حقیقتاً اس پر غصہ ہے۔
٭٭٭
’’آپ مجھے صرف اتنا بتایئے کہ آپ میرا پرپوزل لے جا رہے ہیں ٗ ابھی اسی وقت یا نہیں؟‘‘ وہ مال سے گھر جانے کی بجائے آفس آ گیا تھا وہ جو اس کے آکر اہم میٹنگ کینسل کروا دینے پر ہی کچھ غصہ تھے اس کی فرمائش کے بعد حکمیہ لہجے پر کھول اٹھے تھے۔
’’نہیں ٗ ہم اس لڑکی کو اپنے خاندان کی بہو نہیں بنا سکتے ٗ اس کا اور ہمارا کوئی میل نہیں ہے۔‘‘ وہ درشتگی سے انکار کر گئے تھے۔
’’شادی تو میری اسی سے ہو گی آپ نے انکار کر دیا ٗ اپنا پرپوزل خود لے کر جائوں گا ٗ انہوں نے بھی انکار کیا تو مجھے کورٹ میرج سے کوئی نہیں روک سکے گا ٗ نہ میرا باپ ٗ نہ اس کا تایا اور نہ ہی وہ خود۔‘‘ اٹل فیصلہ ان کے گوش گزار کیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا سامنے آتی ہر چیز کو ٹھوکر پر اڑاتا وہ باپ کے آفس سے نکلا تھا اور نوید عالم کے آفس پہنچ گیا تھا وہ جو مائدہ کی فون کال کے بعد بڑی عجلت میں آفس سے نکلنے کو تھے کہ وہ آندھی طوفان کی طرح گارڈ اور پھر ریسپشنسٹ و پیون کے روکنے کے باوجود ڈور دھکیلتا ان کے آفس میں داخل ہوا تھا وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
’’سر! ہم نے انہیں بہت روکنا چاہا ٗ مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور زبردستی آفس میں گھس آئے۔‘‘ گارڈ اپنی صفائی میں ڈرتے ڈرتے بولا تھا اور انہوں نے ان سب کو جانے کو کہا تھا اور اس کو مخاطب کیا تھا۔
’’کنعان! ہیو آ سیٹ پلیز۔‘‘ وہ حیرانگی کو پرے رکھ کر آداب میزبانی نبھا رہے تھے کہ اس سے انجان نہ تھے شادی میں ملے تھے اور جب وہ چوتھی کی شام گھر آیا تھا تب تو کافی اچھے سے اس سے بات ہوئی تھی ٗ اس کی فیملی اور اس کا بیک گرائونڈ ان کے علم میں آیا تھا کہ وہ اسے اس سے قبل فیصل کے دوست کی حیثیت سے سرسری سا جانتے ہی تھے۔
’’میں آپ کی بھتیجی حنین عالم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ بنا تمہید باندھے اصل بات کہی تھی وہ متحیر سے اسے دیکھنے لگے تھے اس کا بدتمیزی سے اپنے آپ میں آنا انہیں پسند نہیں آیا تھا مگر ناپسندیدگی ظاہر نہ کی تھی اور وہ تو ایک الگ ہی داستان سناتا آفس کی چھت ان کے سر پر گرا گیا تھا۔
’’فیصل کے ذریعے تمہارا پرپوزل ہمیں ملا تھا اور چونکہ ہمارا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے اس لئے ہم نے اب تک اقرار نہیں کیا تھا ٗ لیکن آج یوں اتنی بدتمیزی سے آفس میں آکر اتنے نازک مسئلے پر اتنے برے انداز میں بات کرنے کا کیا مقصد نکلتا ہے؟‘‘ نوید عالم غصے میں آ چکے تھے کہ وہ مزاج اور پسند کے برخلاف بات کو برداشت نہیں کیا کرتے تھے ٗ جتنے نرم مزاج تھے اس سے بڑھ کر سخت مزاج بھی تھے۔
’’میں آپ کے کسی انکار کو نہیں مانتا۔‘‘ وہ ان کے غصے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے برہم ہوا تھا۔
’’مجھے ہر حال میں حنین سے شادی کرنی ہے ٗ آپ صرف یہ بتایئے کہ میں کب برات لے کر آئوں؟‘‘ وہ بہت اہم اور بڑے موضوع کو بہت لائٹ لی ڈسکس کر رہا تھا۔
’’مسٹر ماہ کنعان عابدی! بہتر ہوگا کہ تم میرے آفس سے چلے جائو کہ میں اپنی بیٹی کی شادی ہرگز بھی تم سے نہیں کروں گا کہ مجھے اب تک صرف تمہارے بیک گرائونڈ پر اعتراض تھا مگر آج کے تمہارے تیور ہر الجھن سلجھا گئے ہیں ٗ میں جو فیصلہ ہی نہیں کر پا رہا تھا اب نتیجے پر پہنچ گیا ہوں کہ مجھے تمہارا پرپوزل منظور نہیں ہے۔‘‘ وہ اشتعال کو بمشکل کنٹرول کرتے دبے دبے غصے سے بولے تھے۔
’’اور مجھے آپ کا انکار قبول نہیں ہے ٗ یاد رکھئے گا نوید عالم! کہ میں یہاں اپنے باپ کی مخالفت کے باوجود کھڑا ہوں ٗ جب میں اپنے والدین کے انکار کو قابل اہمیت نہیں گردان رہا تو آپ کے انکار کو میں کس قدر اہمیت دوں گا آپ خود سمجھدار ہیں۔‘‘ وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سختی اور رعونت سے کہتا ان کو مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کر گیا تھا۔
’’فی الوقت چلتا ہوں ٗ کل آئوں گا جواب لینے اور مجھے مثبت ہی جواب درکار ہوگا۔‘‘ سختی سے کہتا پلٹا تھا کہ انہوں نے جارحانہ انداز میں اس کے کوٹ کی آستین کھینچ کر اسے اپنی طرف موڑنا چاہا تھا۔
’’تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟‘‘ وہ غصے سے کف اڑا رہے تھے۔
’’ہاں! کیونکہ مجھے کسی بھی قیمت پر حنین عالم سے شادی کرنی ہے ٗ آپ اور میرے پیرنٹس نہیں مانے تو مجھے کوئی دوسرا آپشن یوز کرنا پڑے گا اور ایسی صورت میں کہ جب آپ کی بھتیجی بھی اس سب کیلئے راضی نہیں ہے ٗ نہ ہو گی تو میرا اٹھایا دوسرا قدم زبردستی و جبر پر ہی مبنی ہو گا اور میں تو بس یہی چاہوں گا کہ آپ مجھے جبر پر مجبور نہ کریں۔‘‘ وہ سرخ آنکھوں سے اپنے عزائم بتاتا وہاں ٹھہرا نہ تھا جس طرح آندھی طوفان کی طرح آیا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا مگر جاتے جاتے ان کا سکون درہم برہم کرتا ان کو پریشانی و اضطراب کے حوالے کر گیا تھا۔
٭٭٭
