Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07

’’فضیل! سیل فون دیجئے گا ذرا ٗ مجھے ایک کال کرنی ہے۔‘‘ وہ کمرے میں آتے ہی اس سے بولی اور اس نے خاموشی سے جیب سے فون نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
’’تھینکس! آپ چاہیں تو چینج کرکے سو جائیں ٗ مجھے کچھ ٹائم لگے گا۔‘‘
’’کوئی بات ہوئی ہے زرمین! آج تم مجھے کافی ڈسٹرب لگ رہی تھیں؟‘‘
’’فضیل! بات آپ کو بتانے کی ہوئی تو ضرور بتائوں گی۔‘‘
’’میں تم سے کچھ پوچھ نہیں رہا۔‘‘
’’لیکن میں آپ کو ضرور بتاتی ٗ مگر بات مجھ سے جڑی ہوئی نہیں ہے ٗ اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتی ٗ آپ ڈسٹرب نہ ہوں ٗ اس لئے بالکنی میں جا کر بات کر لیتی ہوں۔‘‘
’’کمرے میں ہی رہ کر بات کر لو ٗ میں اسٹڈی میں ہوں۔‘‘ وہ اسے موقع دیئے بغیر وہاں سے ہٹ گیا‘ ڈور بند کرتے ہوئے اس نے اتنا ہی سنا۔
’’ارحم! میں زرمین بول رہی ہوں‘‘ اور وہ توجہ دیئے بغیر دروازہ بند کر گیا۔
’’زرمین! تم فضول میں پریشان ہو رہی ہو۔‘‘
’’ارحم! آپ مجھے سب کچھ بتا کیوں نہیں دیتے ٗ سحرش سے میری بات ہوئی تھی کہ آپ نے حنین کو مجھے کچھ بھی بتانے سے منع کیا ہے ٗ ایسی کیا بات ہے کہ آپ نہیں چاہتے کہ مجھے پتہ چلے؟‘‘ زرمین نے شازمین سے پوچھا تھا کہ گھر میں کوئی بات ہوئی ہے ٗ جسے لے کر حنین پریشان ہے ٗ تب اس نے کہا تھا کہ حنین کی ولیمہ کی شب سے طبیعت خراب ہے اور اسی لئے ارحم اسے گھر لے گئے تھے ٗ اتفاق سے یہ باتیں کرتے سحرش نے سن لیا ٗ تب اس نے ساری باتیں زرمین کو بتا دی تھیں اور اس نے ارحم سے وہیں پوچھا تھا تب اس نے کہا تھا کہ وہ گھر جا کر فون کرے گا ٗ مگر اس نے فون کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی اسے کال کر لی تھی اور اس کو ارحم نے وہ سب کچھ جو اسے حنین نے بتایا تھا کہہ سنایا۔
’’آپ نے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا؟ یہ فیصل کی کن لوگوں سے دوستی ہے اور اس کی اتنی ہمت کہ وہ ہمارے گھر تک آ گیا؟‘‘ وہ تو سن کر ہی شاک ہو گئی تھی۔
’’اسی لئے جب سے وہ آیا تھا ٗ حنین اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی ٗ اتنا کچھ ہو گیا اور مجھے حنین نے بتایا تک نہیں۔‘‘ وہ صدمے کی سی کیفیت میں آ گئی تھی۔
’’میں نے منع کیا تھا اور پلیز! تم اس سے ذکر مت کرنا ٗ جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔‘‘
’’آپ اتنے آرام سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جو ہونا تھا ہو گیا۔‘‘
’’زرمین! ہائپر ہونے کی ضرورت نہیں ہے ٗ کنعان برا شخص نہیں ہے ٗ جس سوسائٹی سے اس کا تعلق ہے ٗ وہاں یہ سب باتیں عام ہیں ٗ مگر وہ ان برائیوں سے دور ہے ٗ جو کچھ اس نے کیا ٗ وہ سب اس نے سوچ کر نہیں کیا اس کی نیت میں کھوٹ ہوتا تو وہ حنین کو بعد میں نقصان پہنچا سکتا تھا۔‘‘ ارحم نے اسے واش روم کا احوال بھی کہہ سنایا۔
’’زرمین! میں جانتا ہوں بات معمولی نہیں ہے ٗ مگر خاموشی تو ہمیں ہی اختیار کرنا ہو گی ٗ جتنا پھیلائیں گے اتنا ہی نقصان ہوگا ٗ حنین اس کے بعد کچھ خوفزدہ ہے ٗ مگر وہ دھیرے دھیرے اس سے باہر آ جائے گی۔‘‘
’’تب آئے گی کہ جب وہ شخص اس کے سامنے نہیں آئے گا ٗ اس نے حنین کی ہیلپ کی ٗ مگر اس سے پہلے اس نے جو کیا ٗ وہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ٗ آپ نے سوچا ہے اس سب کا حنین کے دل و دماغ پر کیا اثر ہوگا‘ ہمارے گھر کا ماحول بہت محتاط ہے اور حنین کو تو ہم نے کبھی موویز وغیرہ بھی دیکھنے نہیں دیں کہ لاڈ پیار کی وجہ سے اس میں بچپنا ہے اور وہ کسی بھی چیز کا غلط اثر لے سکتی ہے ٗ امی اور چچی نے ہم دونوں بہنوں کا اتنا خیال نہیں رکھا جتنا حنین کا رکھتی ہیں اور یہ سب آپ سے ہرگز بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا تو خود ہی بتائو میں کیا کروں؟ کنعان سے میں نے باز پرس کی تھی ٗ وہ شرمندہ ہے ٗ ایکسکیوز کر رہا ہے ٗ تو اس کے بعد کچھ کہنے کی گنجائش ہی کہاں بچتی ہے؟ مگر تم کو جو لگتا ہے وہ بتا دو ٗ میں اسے ویسے ہی ٹریٹ کر لوں گا۔‘‘ ارحم کے لہجے میں سنجیدگی تھی اور وہ صوفے سے اٹھ کر بیڈ پر نیم دراز ہو گیا جبکہ وہ تو کھڑے سے بیٹھنا بھی بھول گئی تھی۔
’’آپ کچھ مت کریں ٗ میں خود ہی فیصل سے بات کروں گی۔‘‘
’’دماغ خراب ہو گیا ہے ٗ جو بات کسی کو نہیں پتہ کیوں سب کو خبر کر دینے پر تلی ہو؟‘‘ اسے زرمین پر غصہ آنے لگا تھا۔
’’بات کرنا ضروری ہے ارحم! کہ بات صرف حنین کی نہیں ہے ٗ گھر میں اور بھی لڑکیاں ہیں اور وہ تو ہمارے ہاں بڑے دھڑلے سے آتا ہے اور میں نہیں چاہوں گی کہ وہ شخص کبھی بھی کچھ بھی ایسا ویسا سحرش…ٖ!‘‘
’’تم اس وقت بات نہیں سمجھو گی ٗ سوچ سمجھ کر صبح فون کرنا اور وہ شخص اتنا بھی برا نہیں ہے ٗ تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس نے شرمندگی ظاہر کی اور میں اس کے ایکسکیوز کو قبول کرکے بیٹھ گیا ٗ میں نے ماہ کنعان کی فیملی اور اس کے بارے میں پوری انویسٹی گیشن کی ہے ٗ ہائی سوسائٹی سے بی لانگ کرنے کے باوجود اس کی کوئی گرل فرینڈ تک نہیں ہے ٗ شراب تو دور ٗ وہ سگریٹ بھی نہیں پیتا ٗ اس لئے مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا کہ اس نے حنین کو کیوں پریشان کیا؟‘‘
’’آپ کچھ بھی کہیں ارحم! مگر میں اب اس شخص کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی اور میں اس مسئلے کو سالو ضرور کروں گی ٗ آپ بے فکر رہیں ٗ حنین کا نام تک نہیں آئے گا ٗ اس کی عزت مجھے اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہے ٗ میں اب فون رکھتی ہوں ٗ کچھ سوچ کر کل فون کروں گی۔‘‘ لائن ڈسکنیکٹ ہو گئی تھی ٗ مگر وہ کتنی ہی دیر ساکت سی وہاں کھڑی رہی تھی۔
’’زرمین! آر یو اوکے؟‘‘ وہ اسے کھڑے دیکھ کر پریشان ہوا اور وہ چونکتی اسے دیکھنے لگی اور پھر نفی میں سر ہلاتی وہاں سے ہٹ گئی ٗ مگر ارحم کی بتائی بات نے اس کی نیند ہی اڑا دی تھی اور وہ بے چینی سے کروٹیں پر کروٹیں بدلتی فضیل کو پریشان کر گئی ٗ مگر اس نے اس سے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا۔
٭٭٭
’’فضیل! ایک بات پوچھوں؟‘‘ وہ شادی کے بعد آج آفس جانے کیلئے تیار ہو رہا تھا جب وہ اس کے سامنے آ رکی تھی۔
’’ہاں ٗ پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟‘‘ پرفیوم اسپرے کرتے ہوئے اسے دیکھا اور اس نے جو کچھ پوچھا ٗ اس کی تو اسے ہرگز بھی توقع نہیں تھی۔
’’فیصل کے دوست ماہ کنعان کس قسم کے انسان ہیں؟‘‘
’’میں تمہاری بات کا مطلب نہیں سمجھا ٗ تم کیا پوچھنا چاہ رہی ہو؟‘‘
’’صرف اتنا کہ ماہ کنعان بائے نیچر اور بائے کیریکٹر کیسے ہیں؟ پلیز یہ مت پوچھئے گا کہ میں کیوں پوچھ رہی ہوں؟‘‘ اس نے پہلے ہی حفاظتی بند باندھ لئے تاکہ وہ اس سب کے پوچھنے کی وجہ نہ پوچھ لے۔
’’بہت اچھا انسان ہے ٗ فیصل کی اور کنعان کی دوستی اسکول سے ہے اور وہ ہمارے گھر بھی اکثر آتا رہا ہے جبکہ فیصل سے وہ دو سال سینئر تھا ٗ مگر ان کی دوستی پھر بھی ہوئی اور اب تک قائم ہے جبکہ ہمارا تعلق مڈل کلاس فیملی سے ہے اور کنعان ہائی سوسائٹی و سیاست دان گھرانے سے تعلق رکھتا ہے ٗ مگر آج تک کبھی کنعان کے بارے میں کچھ بھی ایسا ویسا سننے کو نہیں ملا ٗ ہائی کلاس سوسائٹی کی برائیاں اس میں میرا خیال ہے بالکل نہیں ہیں ٗ ورنہ تم تو جانتی ہو زرمین کہ جس طبقے سے وہ تعلق رکھتا ہے ٗ وہاں برائیاں ٗ کبھی برائیاں سمجھیں ہی نہیں جاتیں جبکہ کنعان کی تو کوئی گرل فرینڈ بھی نہیں ہے۔‘‘
’’یہ آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں فضیل؟‘‘
’’میری آبزرویشن ہی یہی ہے اور اخبار وغیرہ میں بھی کبھی اس کا اسکینڈل نہیں بنا ٗ تم خود سوچو ٗ آج کل تو ایکٹرز سے زیادہ سیاست دانوں کے اسکینڈلز سننے میں آتے ہیں ٗ مگر کبھی کنعان کے بارے میں ایسا کچھ بھی نہیں چھپا ٗ تو شاید نہیں یقینا کوئی نہ کوئی کہیں نہ کہیں تو اس میں اچھائی ہو گی۔‘‘ وہ پوچھنے کا سبب جانے بغیر بھی پوری سچائی سے کہہ رہا تھا ٗ مگر اس کی الجھن تھی کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھی۔
’’فضیل! سیاست سے تو اس کے فادر وابستہ ہیں ٗ وہ خود تو نہیں۔‘‘ وہ ٹینشن میں بچکانہ بات کر گئی تھی۔
’’وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ کنعان کے فادر کے کتنے ہی اسکینڈلز منظر عام پر آ چکے ہیں ٗ جن میں سے کچھ میں سچائی ہے تو کچھ ان کی اپوزیشن پارٹی کی سازش ٗ مگر ہر اسکینڈل جھوٹا نہیں ہے ٗ اس کی ممی ٗ سینیٹ کی ممبر رہ چکی ہیں اور وہ خود براہ راست سیاست کا ابھی حصہ نہیں ہے ٗ مگر مستقبل قریب میں امکانات تو ہیں اور کنعان کے فادر کے مخالفین ان کے وارث کو سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے ہی اس کے خلاف پروپیگنڈہ کر سکتے ہیں ٗ تاکہ اس کا امیج اتنا خراب ہو کہ وہ قدم ہی نہ رکھ سکے اور کنعان کے خلاف پروپیگنڈہ بھی ہوا ہے ٗ مگر اس انداز میں نہیں اور صاف بات تو یہ ہے کہ زرمین کہ اگر وہ برا ہے ٗ اچھا ہے تو ہمیں فرق نہیں پڑتا ٗ وہ فیصل کا دوست ہے ٗ اس کے ساتھ اور اس کی فیملی کے ساتھ فیئر ہے ٗ تو بس ٹھیک ہے ٗ وہ نجی زندگی میں کیسا ہے یہ ہمارا پرابلم نہیں ہے ٗ کیونکہ ظاہری طور پر جو نظر آتا ہے وہ بعض اوقات صحیح نہیں ہوتا اور جو چھپا ہوا ہو ضروری نہیں کہ وہ غلط ہی ہو۔‘‘ اس کو دیر ہو رہی تھی ٗ اس لئے اس نے بات ختم کر دی۔
’’مگر تم کیوں پوچھ…!‘‘
’’ویسے ہی پوچھ رہی تھی ٗ میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ وہ فیصل کے دوست کیسے بنے ٗ کیونکہ ایسے لوگوں کی نہ دشمنی اچھی ہوتی ہے اور نہ ہی دوستی۔‘‘
’’تمہیں شاید ٗ کل تمہارے گھر کنعان کا جانا پسند نہیں آیا۔‘‘ وہ ٹائی باندھنے لگا۔
’’ہاں ٗ شاید۔‘‘ اس کے نیم اقرار پر وہ محض اسے دیکھ کر رہ گیا ٗ وہ اس سے پوچھنا تو بہت کچھ چاہ رہا تھا ٗ مگر یہ سوچ کر نہیں پوچھا کہ بتانے والی بات ہوتی تو وہ خود بتا دیتی اور اس کی نیچر میں فورس نہیں تھا ٗ وہ کسی کو بھی کسی بھی بات کیلئے مجبور نہیں کرتا تھا ٗ سیدھے سادھے طریقے سے کام کرنا اسے پسند تھا نہ وہ دوسروں کی لائف میں فضول انٹرسٹ لیتا تھا نہ ہی یہ اس کی نیچر تھی اسی لئے وہ ہر حال میں مطمئن رہتا تھا۔
٭٭٭
’’زرمین آپی! ہم لوگ پکنک پر جا رہے ہیں ٗ آپ بھی ساتھ چلیں گی ٗ بہت مزہ آئے گا۔‘‘ حنین سب کے ساتھ ان کے گھر آ گئی تھی اور آج راحم نے آفس سے چھٹی کی تھی اس لئے وہ بضد ہو گئی کہ پکنک پر چلا جائے اور فریدہ کے کہنے پر راحم اور مائدہ راضی ہو گئے ٗ جبھی اس نے زرمین کو فون کیا ٗ کیونکہ وہ اس کے بغیر کوئی پروگرام نہیں بناتی تھی۔
’’کون کون جا رہا ہے؟‘‘
’’بس میں، راحم بھیا اور مائدہ اپیا ٗ اگر آپ جائیں گی تو شازمین بجو کو بھی لے لیں گے۔‘‘
’’تم لوگ ایسا کرنا شازمین کو ساتھ ضرور لے جانا ٗ کبھی کبھی تو باہر نکلنے کا موقع ملتا ہے ٗ مگر میرا جانا پوسیبل نہیں ہے۔‘‘
’’لیکن کیوں آپی! آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا ٗ کیا آپ میری اتنی سی بات نہیں مان سکتیں؟‘‘
’’حنین! میں تم سب لوگوں کے ساتھ ضرور چلتی ٗ لیکن فضیل شادی کے بعد آج ہی آفس گئے ہیں تو میں کیسے جا سکتی ہوں؟‘‘
’’آفس تو فضیل بھیا گئے ہیں ٗ آپ تو گھر ہی میں ہیں ناں تو پھر ہمارے ساتھ چلیں۔‘‘ اس کی بچکانہ بات پر وہ مسکرا دی تھی۔
’’آج پوسیبل نہیں ہے ٗ نیکسٹ ٹائم میں تمہارے ساتھ ضرور چلوں گی۔‘‘
’’شادی کے بعد آپ بدل گئی ہیں زرمین آپی! پہلے تو میرے کہنے سے بھی پہلے میری بات مان جاتی تھیں اور اب میرے اتنا کہنے پر بھی…!‘‘
’’حنین! تم سمجھ نہیں رہی ہو ٗ میں تمہاری خوشی کی خاطر تمہارے ساتھ چل سکتی ہوں ٗ مگر کیا تم یہ چاہو گی کہ میں اداس رہوں اور پکنک انجوائے نہ کر سکوں؟‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی ٗ آپ اداس کیوں ہوں گی؟‘‘
’’میں اس لئے اداس ہوں گی کہ فضیل میرے ساتھ نہیں ہوں گے۔‘‘ فضیل کھلے دروازے سے اندر آتا ہوا چونک اٹھا ٗ زرمین کی دروازے کی طرف پشت تھی ٗ اس لئے وہ فضیل کو دیکھ نہیں سکی تھی۔
’’آفٹر آل فضیل میرے ہسبینڈ ہیں اور میں ان کے ساتھ پکنک پر جانا چاہوں گی تاکہ پکنک انجوائے کر سکوں۔‘‘
’’آپ اکیلے ہمارے ساتھ جائیں گی تو پکنک انجوائے نہیں کر سکتیں اور فضیل بھیا مجھ سے زیادہ اہم ہو گئے؟‘‘
’’تم سے زیادہ میرے لئے کوئی اہم ہو ہی نہیں سکتا ٗ بٹ تم ٗ تم ہو اور فضیل ٗ فضیل ہیں نہ تم فضیل کی جگہ لے سکتی ہو اور نہ ہی وہ تمہاری۔‘‘
’’میں فون رکھ رہی ہوں ٗ آپ سے مجھے بات نہیں کرنی ٗ فضیل بھیا ٗ فضیل بھیا ٗ کوئی اور بات نہیں کر سکتیں ٗ صاف بتا دیں کہ آپ چل رہی ہیں یا نہیں؟‘‘
’’حنین! ناراض تو نہ ہو۔‘‘
’’ہاں ٗ یا نہیں؟ مجھے دوسری کوئی بات نہیں سننی۔‘‘ اس کے لہجے میں خفگی تھی۔
’’تم لوگ جائو گے کب تک؟‘‘
’’ابھی شاید 4 بج رہے ہیں ٗ 6 بجے تک جائیں گے ٗ کیونکہ ہم لوگوں کا لیٹ نائٹ آنے کا ارادہ ہے۔‘‘
’’جا کہاں رہے ہو؟‘‘
’’سی ویو جائیں گے ٗ میکڈونلڈ سے زبردست سا ڈنر کریں گے اور خوب مستی اور شور بھی ٗ ممی کو ساتھ نہیں لے جائیں گے ٗ اسی لئے تو شازمین بجو سے میں نے پوچھا نہیں ٗ وہ مجھے ممی کی کار بن کاپی لگتی ہیں۔‘‘ وہ اس کے پوچھنے پر خوش ہو گئی تھی کیونکہ اسے لگا تھا کہ وہ چل رہی ہے۔
’’بری بات حنین!‘‘
’’سوری آپی! فون رکھتی ہوں ٗ آپ جلدی سے آ جایئے ٗ میں فون کرکے شازمین بجو کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کر لیتی ہوں ٗ خدا حافظ!‘‘ اس نے زرمین کی سنے بغیر جلدی جلدی کہہ کر لائن ڈسکنیکٹ کر دی۔
’’او مائی گاڈ! یہ حنین کی بچی بھی ناں ٗ سمجھ رہی ہے میں ساتھ جا رہی ہوں ٗ اب فون کرکے منع کروں گی تو ہرٹ بھی ہو گی اور مجھ سے ناراض بھی ٗ ایسا کرتی ہوں فضیل سے پوچھ لیتی ہوں ٗ انہوں نے منع کیا تو پھر کچھ سوچوں گی کہ حنین کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔‘‘ وہ با آواز خود سے باتیں کرتی فضیل کا نمبر ملانے لگی ٗ وہ اب تک کمرے میں اس کی موجودگی سے لاعلم تھی اور فضیل کا سیل وائبریشن پر تھا ٗ اس لئے بیل کی آواز سنائی نہیں دی تھی ٗ اس نے سیل کان سے لگا لیا ٗ زرمین نے سلام کرکے خیر خیریت دریافت کی اور اصل موضوع پر آ گئی۔
’’فضیل! کچھ دیر پہلے حنین کا فون آیا تھا ٗ وہ لوگ پکنک پر جا رہے ہیں ٗ اگر آپ کہیں تو میں ان کے ساتھ چلی جائوں ٗ کیونکہ میری باتوں سے حنین سمجھی کہ میں راضی ہو گئی ہوں اور اب منع کروں گی تو وہ خفا ہو گی۔‘‘
’’زرمین! تم حنین کو منع کر دو ٗ تم پکنک پر نہیں جا رہی ہو۔‘‘
’’آپ… آپ کب آئے؟‘‘ آواز سے اسے محسوس ہوا کہ بہت قریب سے آ رہی ہے ٗ پلٹی اور اسے دیکھ کر حیران رہ گئی۔
’’میں جب آیا تم فون پر حنین کے ساتھ بزی تھیں۔‘‘
’’آئی ایم سوری ٗ مجھے پتہ ہی نہیں چلا ٗ پانی لائوں آپ کیلئے؟‘‘
’’پانی کی ضرورت نہیں ہے اور چائے کیلئے میں سحرش سے کہہ چکا ہوں ٗ تم یہ بتائو کہ کہہ کیا رہی تھیں؟‘‘ تو اس نے حنین سے فون پر ہوئی بات دہرا دی۔
’’تم ان لوگوں کے ساتھ چلی جائو۔‘‘
’’میں جا کر کیا کروں گا اور ویسے بھی کچھ تھک گیا ہوں۔‘‘
’’آپ نہیں جا رہے تو میں منع کر دیتی ہوں ٗ آپ کے بغیر میں بھی جا کر کیا کروں گی اور میں بھی تو صرف حنین کی وجہ سے ہی جانا چاہ رہی ہوں۔‘‘
’’تم حنین کو ناراض نہیں کر سکتیں زرمین! اور میں تمہیں کبھی ناراض کرنا نہیں چاہوں گا۔‘‘ وہ بڑی گہری نظروں سے اس کے تیکھے نین نقش دیکھ رہا تھا اور آج پہلی بار زرمین کے دل نے ایک ہارٹ بیٹ مس کی تھی۔
’’تم تیار ہو جائو ٗ میں کچھ دیر آرام کرلوں اور ہاں! تم فون کرکے جگہ صحیح سے پوچھ لینا ٗ ہم خود سے چلے جائیں گے ٗ ورنہ لمبا چکر پڑے گا۔‘‘ وہ اس کے سرخ ہو جانے والے چہرے سے نگاہ ہٹاتا بیڈ پر دراز ہوتا کہہ رہا تھا اور وہ ایک نگاہ اس پر ڈالتی اس کے کہے پر عمل کرنے لگی تھی ٗ اس نے سحرش کو راضی کر لیا تھا ٗ سمیرا سے بھی پوچھا تھا مگر اس نے منع کر دیا تھا ٗ کیونکہ وہ آج صبح ہی اپنے فادر کے ہاں گئی تھی اور فیصل اس وقت آفس میں تھا ٗ فضیل تو سائیٹ پر گیا ہوا تھا کام ختم کرکے وہ گھر آ گیا تھا ٗ اس لئے وہ ان کے پروگرام کا حصہ بن گیا تھا ٗ جاتے ہوئے فضیل نے شازمین کو بھی پک کر لیا تھا کیونکہ اگر راحم اسے پک کرتا تو لمبا چکر پڑتا ٗ کیونکہ ان کے گھر سے ’’کاشانہ عالم‘‘ بہ نسبت فضیل لوگوں کے گھر کے کچھ دور تھا ٗ نوجوان پارٹی نے بڑوں کو بھی شامل کرنا چاہا تھا ٗ مگر وہ پہلو بچا گئے تھے ٗ اس لئے یہ ساتوں ہی سی ویو چلے آئے تھے اور انجوائے کر رہے تھے۔
٭٭٭
’’کنعان یار! بتا ناں بات کیا ہے جو تو اتنا ڈسٹرب ہے؟‘‘
’’فیصل! مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں تجھ سے کیسے کہوں؟‘‘
’’سوچ نہیں اور جو دل میں ہے کہہ دے ٗ کل تو کس قدر اپ سیٹ لگ رہا تھا ٗ اتنا فرسٹریٹ کبھی میں نے تجھے نہیں دیکھا ٗ اسی لئے میں نے تجھے نہ چاہتے ہوئے بھی صرف تیرے خیال سے تجھے جانے کی اجازت دی ٗ مگر تجھے نوید انکل اور ڈیڈی کی وجہ سے رکنا پڑا اور میں محسوس کر سکتا تھا کہ تو کتنا اپ سیٹ تھا ٗ مگر کیوں ٗ یہ سمجھ نہیں پایا تھا ٗ پلیز! کہہ دے جو تیرے دل میں ہے اور تجھے پریشان کر رہا ہے۔‘‘ کل کے کنعان کے رویے کی وجہ سے وہ آفس سے گھر آیا تھا اور چینج کرکے اس سے کانٹیکٹ کیا تھا اور اس کے کہنے پر کنعان نے اسے گھر سے پک کر لیا تھا اور وہ سی ویو آ گئے تھے ٗ یہاں وہ اکثر آ جاتے تھے اور آج بھی اپنی مخصوص جگہ پر اونچے سے پتھروں پر قدرے پُرسکون جگہ پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
’’فیصل! میں تجھ سے سب شیئر تو کر لوں ٗ مگر مجھے تیری ناراضی کی پرواہ ہے ٗ میں تجھے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور مجھے لگتا ہے کہ تو میری بات سن کر مجھ پر ضرور خفا ہو گا اور تو میرا واحد بہترین ایسا دوست ہے جسے میں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا۔‘‘ ماہ کنعان اس سے نظر چرائے کہہ رہا تھا۔
’’کنعان! میں نے تجھ پر خود سے زیادہ بھروسہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تو غلط کر ہی نہیں سکتا ٗ مگر تو انسان ہے ناں تو غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ٗ اگر کچھ غلط کر بیٹھا ہے تو کہہ دے مجھ سے ٗ میری دوستی میں اتنا ظرف ہے کہ میں تیری غلطی کیا گناہ بھی نظر انداز کر سکتا ہوں اور تو اتنا یقین اپنے ساتھ ضرور رکھنا کنعان! کہ میں خود سے ناراض ہو سکتا ہوں ٗ مگر تجھ سے نہیں۔ ہم نے زندگی کا بہت سا وقت ساتھ گزارا ہے ٗ ہم دونوں تو ایک دوسرے کیلئے مانند کھلی کتاب ہیں تو پھر مجھ سے کیسا پردہ؟‘‘
’’میں پردہ رکھنا نہیں چاہتا ٗ بس مجھے لگتا ہے کہ میں نے کچھ غلط کیا ہے۔‘‘
’’غلطی سدھاری جا سکتی ہے۔‘‘
’’کہی ہوئی بات اور کیا ہوا عمل کبھی لوٹایا نہیں جا سکتا فیصل!‘‘
’’آئندہ کیلئے بچا تو جا سکتا ہے؟‘‘
’’وہی تو مجھ سے نہیں ہو رہا ٗ مجھے نجانے کیا ہو گیا ہے فیصل! کہ میں اپنے معیار سے ہی گر گیا ہوں۔‘‘ اس نے سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا اور وہ کسی نتیجے پر پہنچتے ہوئے بولا تھا۔
’’کسی لڑکی کا چکر ہے؟ کیا تجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے؟‘‘
’’ہاں ٗ لیکن محبت کی مجھے خبر نہیں ہے ٗ اس نے مجھے بہت بے بس کر دیا ہے ٗ اتنا فیصل! کہ لڑکیوں کو اہمیت نہ دینے والا ایک فاصلہ رکھ کر ملنے والا کنعان لمحوں میں فاصلے مٹا دینا چاہتا تھا ٗ کیا تو یہ سوچ سکتا ہے فیصل! کہ میں کسی لڑکی کو بازو سے تھام کر اپنے نزدیک کروں گا ٗ اتنا کہ اس کی دھڑکن صاف سن سکوں ٗ اس کے گداز لبوں کو چھو کر گردن چوم لوں ٗ اس کے بالوں کی نرماہٹ پوروں پر محسوس کروں ٗ اس کے حسن کی تعریف کروں؟‘‘ وہ نگاہ جھکائے بول رہا تھا اور وہ تو حیران ہی ہوتا جا رہا تھا ٗ کیونکہ ان دونوں کی ہی کوئی گرل فرینڈ نہیں تھی ٗ کلاس فیلوز سے ہائے ہیلو ضرور تھی ٗ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
’’تو مجھے کھل کر ساری بات بتا ٗ اس طرح مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا اور یہ لڑکی ہے کون اور تجھے ملی کہاں؟‘‘
’’تیری مہندی میں فرسٹ ٹائم اچانک ٹکرا گیا تھا اور اس پر نظر کیا پڑی ٗ ہٹنے سے ہی انکاری ہو گئی ٗ میں نے لڑکیوں کو کبھی غور سے نہیں دیکھا ٗ دیکھا بھی تو اہمیت نہ دی ٗ مگر وہ چہرہ اہمیت منوانا جانتا تھا شاید اسی لیے مجھے اپنے سحر میں جکڑ گیا۔‘‘ وہ اس لمحے کے سحر میں کھونے لگا۔
’’اس کی آنکھیں ٗ ہونٹ ٗ مژگاں اور اس پر جگمگاتا روشن سیاہ تل ٗ میں کس کس کی بات کروں ٗ اس لمحے میں اپنا وجود بھول گیا تھا ٗ یاد تھا تو اس کا پیشانی مسلنا ٗ پلکوں پر موتیوں کا آٹکنا اور ہلتے احمریں لب ٗ میں اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا ٗ کسی پکار پر سحر ٹوٹا تھا اور میں سمجھا تھا کہ ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گیا ٗ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سحر تو مجھ پر طاری ہونے کو ہے۔‘‘ دھیمے لہجے میں کنعان بالاخر اپنے ذہن و دل کی ہر کیفیت اسے بتانے لگا تھا۔
’’وہ لڈی ڈالتی ٗ آگے پیچھے جاتی ٗ دھیمے دھیمے مسکاتی اپنی لہراتی چوٹی اور نین کٹوروں میں میرا دل پیوست کر گئی ٗ اس کی ہنسی نے دل میں جلترنگ بجا دی ٗ اس لمحے احساس ہوا کہ سینے میں میرے بھی دل تھا جو اس ساحرہ کی آنکھوں ٗ لبوں ٗ لہراتی چوٹی یا اس کے جوبن میں اٹک گیا۔‘‘ وہ مہندی کی شب کے سحر میں جکڑا ہوا تھا اور فیصل اسے حیرانگی سے تک رہا تھا اور اسے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ وہاں ہو کر بھی نہیں ہے کہ وہ تو خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا۔
’’اس کا ہاتھ میرے سینے سے ٹکرایا تو عجیب سا سحر مجھ پر طاری ہو گیا ٗ اس کی چھون ٗ اس کا لمس ٗ قرب کی خواہش جگا گیا اور جب وہ پیچھے ہوتے ہوئے مجھ سے ٹکراتے ہوئے بچی تو اس کی بھوری آنکھوں میں مچلتے آنسو ہونٹوں سے چن لینے کی خواہش دل میں در آئی ٗ وہ پلٹی تو اس کے سیاہ ریشمی بالوں کی نرماہٹ محسوس کرنے کی حسرت انگلیوں میں مچلنے لگی۔‘‘ وہ اب برات کی شب کے سحر میں جکڑ گیا تھا اس کی خوبصورت آنکھوں میں کتنے ہی جذبے ہلکورے لے رہے تھے جن کو محسوس کرتے ہوئے فیصل نے نگاہ چرا سی لی تھی کہ وہ اس کی حسین آنکھوں میں کوئی سپنہ بکھرتے دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا اور جتنی شدت اس کی آنکھوں میں تھی وہ نہ جانے کس خیال کے تحت سہم سا گیا تھا۔
’’اس نے جب خوبصورت ہاتھ پیروں کی بات کی تو خود اپنے ہاتھوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا کہ کتنے ہی لوگوں نے میرے ہاتھ پیروں کی تعریف کی تھی ٗ جسے اہمیت ہی نہیں دی تھی ٗ اس وقت وہ اہمیت کے حامل لگنے لگے۔‘‘ کنعان اپنے سرخ و سپید ہاتھوں کو بڑی وارفتگی سے تک رہا تھا اس کا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ خود اس کے نہیں اس کے محبوب کے ہاتھ ہوں۔
’’اسے جانے سے روکنے کیلئے آواز دے سکتا تھا ٗ مگر نجانے کیوں اس کا بازو تھام لیا ٗ جسے وہ جھٹکے سے آزاد کراتی نجانے کیا کچھ کہنے لگی ٗ میں تو بس اس کے ہلتے لب دیکھ رہا تھا۔ میری نگاہ تو اس کی آنکھوں پر تھی ٗ گردن پر جگمگاتے تل پر تھی ٗ بولنے کے ساتھ اس کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا اور میں نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ دی ٗ کتنی حیرانگی در آئی تھی ان بھوری آنکھوں میں اور وہ وہاں سے بھاگنے کو تھی کہ میں نے اسے بازو سے تھام کر اپنی طرف ایسے کھینچا تھا کہ اس کی پشت میرے سینے سے آ لگی تھی ٗ اس کے بال مجھے چھو رہے تھے ٗ میرے چہرے پر اپنا حضار باندھ رہے تھے اور میں نے انہیں نرمی سے ایک سائیڈ پر کیا تھا ٗ اس کی دودھیا گلابی صراحی دار گردن اور اس پر چمکتا سیاہ تل میری نگاہوں میں آ گیا تھا اور جس پر میں نے اپنے لب رکھ دیئے تھے ٗ وہ مچل کر میرا حصار توڑ کر نکلی تھی ٗ اس کے چہرے کا رنگ اناری ہو چلا تھا اور بھوری آنکھوں میں آنسوئوں کی آمیزش کے ساتھ حیرانگی ٗ خوف ٗ بے چینی و بے یقینی کیا کچھ نہیں لکھا تھا ٗ اس کا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا اور ہونٹ کپکپا رہے تھے۔‘‘ ان فسوں خیز لمحات کا منظر اس کی آنکھوں میں روشن کیا ہوا تھا اس کے لبوں پر مسکان مچل اٹھی تھی۔
’’وہ تو سحرش کے آ جانے کی وجہ سے میں اس سے کچھ کہہ نہ سکا ٗ وگرنہ کم از کم جس مقصد سے روکا تھا یعنی سوری تو کر لیتا ٗ میں وہاں سے ہٹ گیا تھا اور واش روم میں کوٹ پر گری کولڈ ڈرنک صاف کرنے گیا تھا کہ وہ وہاں چلی آئی تھی ٗ مجھے دیکھ کر بھونچکا رہ گئی تھی ٗ وہ جو غلطی سے جینٹس واش روم میں چلی آئی تھی مجھے دیکھ کر چیخنا چاہتی تھی مگر اس کی کوشش کو میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ناکام بنا دیا تھا اور اسے بڑی احتیاط سے وہاں سے نکالا تھا کہ اسے وہاں میرے ساتھ دیکھ کر لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع نہ مل سکے۔‘‘ وہ اپنی تمام تر بے خودی کے باوجود بھی اس کیلئے فکر مند تھا ٗ اس کی عزت کا ہی پاس تھا جو وہ خود پر پہرے لگا گیا تھا وگرنہ اسے باہر جانے سے روکنے کو جب اپنی طرف کھینچا تھا تو اس کے جسم سے اٹھتی مسحور کن مہک اسے اپنی طرف کھینچنے لگی تھی اور دل اس کے قرب کو مچل اٹھا تھا اگر وہ خود ہی سے اُسے فاصلے پر نہ کرتا تو اس کا ہی نہیں اپنا بھی ناقابل تلافی نقصان کر بیٹھتا۔
’’ارحم نے جب مجھ سے اس سب کے بارے میں پوچھا تو مجھے ایک شرمندگی نے آ گھیرا تھا اور اسی لئے میں تمہارے ساتھ دعوت میں جانا نہیں چاہ رہا تھا ٗ مگر اس خیال سے چلا گیا کہ میں اس سے ایکسکیوز کر لوں گا ٗ مگر وہ میری موجودگی کی وجہ سے اپنوں کے درمیان آنے سے کترا رہی تھی اور یہ بات میری شرمندگی بڑھا گئی تھی ٗ اسی لئے میں وہاں سے آ جانا چاہتا تھا اور جس وقت میں کپڑے واش کرنے گیا تھا میں جان کر نہیں غلطی سے اس کے ہی روم میں چلا گیا تھا ٗ چاندنی میں دھلا اس کا نازک تراشیدہ پیکر بستر پر محو استراحت تھا ٗ وہ مجھے اپنی جانب کھینچ رہی تھی ٗ اس سے پہلے میں بہکتا کہ لمحوں میں اس کے کمرے سے نکل آیا تھا اور جس وقت وہ محفل کا حصہ بنی تھی ٗ میں جان کر اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا ٗ مگر جب مجھ سے سب نے انسسٹ کیا کہ اب میں ہی کوئی شعر سنائوں گا تو میری نگاہ اٹھی تھی اور اس کے مرمریں سے دودھیا گلابی نازک ہاتھوں پر ٹھہر گئی تھی اور میرے لب بے ساختہ ہی شعر پڑھنے لگے تھے (کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا ٗ تو بڑے چائو سے بڑے مان کے ساتھ ٗ مجھے اپنی مرمریں کلائی میں پہنا کرتی) تو جانتا ہے فیصل! کہ شاعری سے مجھے کبھی بھی شغف نہیں رہا ٗ میں نے تو کبھی پوری غزل بھی نہ پڑھی ہو گی ٗ یہ نظم میں نے کب پڑھی اور مجھے کیسے یاد رہی ٗ آئی ڈونٹ بلیو دس ٗ میں خود اپنے آپ پر حیران ہوں کہ اس کی ایک جھلک نے مجھے کیا سے کیا بنا دیا ہے ٗ اس کا تصور کروں تو مجھے شرمندگی سی ہوتی ہے کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ مگر میں خود کو بہت مجبور پاتا ہوں ٗ اس کا چہرہ ٗ اس کی آنکھیں ٗ اس کے ہونٹ ٗ اس کا ایک ایک انداز میرے دل اور آنکھوں میں ٹھہر سا گیا ہے ٗ مجھے جو کبھی اپنے بارے میں یاد نہیں رہتا کہ میں نے صبح کیا کیا ٗ کیا پہنا ٗ کب ہنسا ٗ مگر اس کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ پہلی ملاقات پر وہ کیا پہنے ہوئے تھی ٗ کس بات پر اور کب ہنسی تھی ٗ خفا ہوتی ہے تو اظہار کیسے کرتی ہے ٗ روتے ہوئے کیسی لگتی ہے ٗ آنسو کیسے پونچھتی ہے ٗ ہوا سے چہرے پر بکھر آنے والی زلف کو کس طرح کان کے پیچھے اڑستی ہے ٗ کوئی بات نہ کہنی ہو اور کہہ دے تو کیسے لب دانتوں تلے دبا جاتی ہے ٗ میں کیا کیا بتائوں فیصل! اور تو کیا کیا سنے گا؟ مجھے تو اس نے پاگل کر دیا ہے۔‘‘ وہ ایک ایک بات اپنے جذبات، مکمل سچائی کیساتھ اس سے کہہ گیا تھا جو ہمیشہ سے اس کے ہر راز کا امین تھا۔
تو ہی بتا فیصل! کہ یہ محبت ہے یا میں بھی عام مردوں کی طرح نفس کا غلام ہو چلا ہوں؟ مگر باخدا فیصل! اس کے بارے میں غلط انداز سے میں نے نہیں سوچا ٗ میری آنکھوں میں اس کیلئے کچھ بھی کیوں نہ در آیا ہو ٗ مگر غلاظت نہیں۔‘‘ اس نے لہروں پر نظر جمائے اپنی بات سے بتائی تھی اور اپنی اچھی نیت کا یقین دلانے کیلئے اس کی طرف دیکھا تھا جو کچھ منجمد سا اسے سن رہا تھا ٗ اس کی موجودگی میں اتنا سب کچھ ہو گیا تھا اور وہ لاعلم ہی رہا تھا۔
’’تم اب کیا چاہتے ہو؟ تمہاری نیت اگر صاف ہے تو تم نے کیا سوچا ہے ٗ تم اسے اپنانا چاہتے ہو یا نہیں؟‘‘ خود کو سنبھالتے ہوئے بہت دیر بعد بولا تھا۔
’’یہ مجھے نہیں پتہ کہ میں کیا چاہتا ہوں؟ جو ہوا میں تو وہ بھی نہیں چاہتا تھا ٗ مگر سب کیسے ہو گیا ٗ میں سمجھ نہیں پا رہا۔‘‘ اس کی بے یقینی کم ہونے میں نہیں آ رہی تھی اور ایک بڑا سا سوالیہ نشان اس کے ذہن و دل سے چپک کر رہ گیا تھا اور جس کا جواب وہ گزرے دنوں میں نہیں پا سکا تھا ٗ اب فیصل کوئی جواب دے دیتا تو اور بات تھی ورنہ اس نے توکوشش کر دیکھی تھی۔
’’کنعان! تمہیں کچھ دن اپنا جائزہ لینا چاہئے ٗ جو کچھ تم ابھی اس کے بارے میں فیل کر رہے ہو ٗ یہ فیلنگ کتنا عرصہ رہتی ہے ٗ اس کے بعد ہی کوئی حل نکالا جا سکتا ہے ٗ کیونکہ جو کچھ تم نے بتایا ٗ یہ عوامل محبت کے بھی ہو سکتے ہیں اور اٹریکشن کے بھی ٗ محبت کر بیٹھے ہو تو کوئی برائی نہیں ہے ٗ مگر صرف اٹریکٹ ہوئے ہو تو تمہیں اپنے قدم پیچھے ہٹانا ہوں گے کیونکہ میں اس میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا ٗ ہاں تم سیریس ہوئے تو مجھ سے جیسی بھی ہیلپ تمہیں درکار ہو گی وہ تمہیں ضرور ملے گی۔‘‘ فیصل نے فیصلہ کن لہجے میں کہا تھا۔
’’یہی تو میں سمجھ نہیں پا رہا فیصل! کہ جو کچھ ہوا اس کے پیچھے کون سے جذبے چھپے تھے؟ میں نے کتنے ہی ممالک میں اسٹے کیا ہے ٗ ایک سے ایک حسین لڑکی میری نگاہ سے گزری ٗ تنہائی کے بھی بے شمار مواقع آئے ٗ مگر کبھی نہ میں نے کسی لڑکی کا ہاتھ تھاما اور نہ ہی اس کے آنسو پونچھ لینے کی خواہش جاگی اور کہاں میں اتنا آگے بڑھ گیا۔‘‘ وہ خود اپنے جذبوں پر یا اپنی بے باکیوں پر بے یقینی کا شکار تھا۔
’’میں اسے جانتا نہ ہوتا ناں کنعان! تو شاید یہی کہہ دیتا کہ اس نے تجھے اپنے نازو انداز سے وہ سب کرنے پر مجبور کیا ہوگا ٗ مگر اس کی زندگی ٗ اس کے طور طریقے ٗ اس کا کردار سب ہی کچھ میرے سامنے ہے ٗ تو میں تو اس پر کوئی الزام رکھ ہی نہیں سکتا ٗ قصور تو تیرے ہی نکلتے ہیں ٗ تو نے جذبوں کے حصار میں بہہ کر کیا یا اٹریکشن اتنی تھی کہ تو خود کو روک نہ سکا ٗ مگر جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے ٗ اب تجھے خود کو روکنا ہوگا ٗ صرف تیری ہی نہیں اس کی نیک نامی کا بھی سوال ہے ٗ تو تو مرد ہو کر بچ نکلے گا اور وہ… فضول میں ماری جائے گی اور سچ بات تو یہ ہے کنعان! کہ تو نے جو کچھ مجھے بتایا صرف تیرا دوست ہو کر دیکھوں تو میں تجھے سمجھا سکتا ہوں ٗ روک سکتا ہوں ٗ تجھے جسٹی فائی بھی کر سکتا ہوں ٗ مگر اس کے حوالے سے سوچوں تو مجھے تجھ پر غصہ بھی آئے گا اور سارے قصور مجھے تیرے ہی لگیں گے کیونکہ یہ بھی سچائی ہے کہ مجھے اس سب میں اس کا رول نظر نہیں آتا۔‘‘
’’تو مجھے بتا ناں میں کیا کروں ٗ کیسے اس سے ایکسکیوز کروں؟‘‘
’’رہنے دے ٗ اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ٗ خاموشی اختیار کر اور اپنے اوپر گہری نظر رکھ ٗ تب ہی فیصلہ ہوگا کہ تو کیا چاہتا ہے؟ اگر میں تجھ سے اور تیرے کردار سے واقف نہ ہوتا تو میں تجھے ضرور غلط ٹھہراتا ٗ مگر ایسا میں چاہ کر بھی نہیں کر پا رہا ٗ اسی لئے میرا مشورہ ہے کہ تو اپنی فیلنگز کو سمجھنے کی کوشش کر ٗ تو ابھی سمجھ نہیں پا رہا ٗ مگر حقیقت یہی ہے کہ تجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔‘‘
’’اگر بات یہی ہوئی تو؟‘‘ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔
’’ابھی سے کچھ مت کہہ اور نہ ہی مجھے زیادہ خیال آرائی کرنے دے ٗ خود کو وقت دے ٗ ہر چیز وقت کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے ٗ کیونکہ یہ اٹریکشن ہوئی تو میرا اور تیرا کچھ نہیں جائے گا ٗ اس معصوم کی زندگی خراب ہو جائے گی ٗ اس لئے زیادہ مت سوچ ٗ ریلیکس ہو جا ٗ جو ہونا تھا ہو گیا ٗ آگے بس کوشش کرنا کہ ایسی غلطی نہ ہو اور مجھے یقین ہے کہ تو اب اپنی غلطی دہرائے گا نہیں۔‘‘ فیصل نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور اس نے ایک لمبی سانس خارج کرتے ہوئے لب بھینچ کر کاندھے پر رکھے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ یہ یقین دلانے کیلئے رکھ دیا تھا کہ وہ اس کا یقین ٹوٹنے نہیں دے گا۔
٭٭٭
’’آپ نے مجھے کیوں روکا فضیل! میں اس شخص کی جان…!‘‘
’’اسٹاپ اٹ زرمین! کیا ہو گیا ہے تمہیں ٗ یہ وقت اور جگہ ان باتوں کیلئے غیر مناسب ہے ٗ کول ڈائون ٗ تمہارے جا کر کچھ کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ وہ دونوں ٹہلتے ہوئے ان سب سے الگ ہو گئے تھے ٗ چلتے چلتے تھک گئے تو وہ دونوں پتھروں پر ٹک گئے ٗ اپنی باتیں کر رہے تھے کہ انہیں دھیمے دھیمے انداز میں کسی کے باتیں کرنے کی آواز آنے لگی تھی اور تھوڑی ہی دیر بعد فضیل نے کہا تھا کہ یہ فیصل کی آواز ہے اور وہ دونوں وہاں سے اٹھے تھے ٗ کچھ آگے بڑھے تھے کہ کنعان بولنا شروع ہو چکا تھا اور اس کی باتیں سن کر وہ فضیل کا ہاتھ تھام گئی تھی اور اشارے سے چپ رہنے کو کہا تھا اور جیسے جیسے وہ کنعان کی باتیں سن رہے تھے ٗ فضیل متحیر جبکہ اس کو غصہ آنے لگا تھا اور وہ نہایت غصے میں بپھری اس کی جانب بڑھ رہی تھی کہ وہ اس کو روک گیا تھا اور اسے بازو سے تھامے اس جگہ سے لے آیا تھا اور اب وہ اس سے الجھ رہی تھی۔
’’کیسے کچھ نہیں ہوگا ٗ میں اسے آئینہ دکھائوں گی۔‘‘
’’ہو گا کیا اس سے؟ جو کچھ ہو چکا ہے وہ پلٹا یا نہیں جا سکتا۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی فضیل! ہمیں اس سے جواب طلبی تو کرنی ہی چاہئے اور یہ فیصل ٗ یہ کتنے آرام سے وہ سب سن رہے تھے ٗ اس نے جو بکواس کی وہ میری بہن کیلئے کی ناں ٗ اس لئے ٗ وہاں سحرش بھی تو موجود تھی ٗ اگر یہ سب اس نے سحرش کے ساتھ کیا ہوتا تب بھی وہ اتنے ہی مطمئن ہوتے اور آپ بھی؟‘‘
’’فار گاڈسیک ٗ زرمین! اس سب میں سحرش کو کیوں بیچ میں لا رہی ہو؟‘‘
’’اس لئے تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ جس شخص پر آپ کو اور آپ کے بھائی کو بہت یقین ہے وہ اس کے لائق نہیں ہے ٗ فیملی فنکشن میں ہرایرے غیرے کو نہیں بلا لیتے۔‘‘ اس کا پارہ تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا ٗ مگر وہاں حنین اور شازمین کو آتے دیکھ وہ بات ادھوری چھوڑ گئی تھی۔
’’زرمین آپی! ہم کب سے آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں ٗ کیا یہاں سے جانے کا ارادہ نہیں ہے؟‘‘ وہ سامنے آتے ہوئے بولی تھی۔
’’ہم لوگ بس آ ہی رہے تھے۔‘‘ زرمین کے بجائے فضیل نے کہا اور وہ ان کے ساتھ ہی آگے بڑھ گئے ٗ اب ان لوگوں کا ارادہ میکڈونلڈ جانے کا تھا ٗ مگر زرمین بری طرح ڈسٹرب ہو چکی تھی ٗ وہ نہ ان لوگوں کے مذاق کا حصہ بنی تھی اور کھانا بھی برائے نام ہی کھایا تھا ٗ اسے تو کنعان سے زیادہ فیصل پر غصہ آ رہا تھا اور فضیل پر بھی ٗ اس لئے اس نے فضیل سے گھر آکر بھی کوئی بات نہیں کی تھی اور اس نے بھی اسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
٭٭٭
’’فیصل! آپ مجھے معاف نہیں کر سکتے ٗ میں شرمندہ ہوں آپ سے؟‘‘ وہ تین دن سے سمیرا سے بات نہیں کر رہا تھا ٗ وہ اپنے ڈیڈی کے ہاں چلی گئی تھی ٗ وہاں 2 دن رہی ٗ اس نے ایک دفعہ بھی اسے فون تک نہیں کیا اور اسے لینے بھی نہیں گیا ٗ اس کی طبیعت کچھ خراب تھی ٗ اس لئے مہوش اسے ڈاکٹر کو دکھا کر گھر لے آئی تھیں جبکہ اس کی ناراضی ہنوز برقرار تھی۔
’’تمہاری طبیعت کیسی ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو اور بخار کی شدت سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر وہ کچھ نرم لہجے میں پوچھنے لگا۔
’’میں بالکل ٹھیک نہیں ہوں فیصل! آپ کی ناراضی کے خیال سے میں سو تک نہیں سکی ٗ آئی ایم سوری! وہ بندیا دیکھ کر میں نے بہت برا ری ایکٹ کیا تھا ٗ آپ کو جانے کیا کچھ کہا ٗ میں ویسا آپ کے بارے میں بالکل نہیں سوچتی ٗ وہ تو بس میں اسے دیکھ کر ڈر گئی تھی ٗ اس لئے وہ سب کہا ٗ بٹ میں آپ سے شرمندہ ہوں۔‘‘ وہ بیڈ پر اس کے پائوں کے پاس بیٹھی روتے ہوئے ہاتھ تھام گئی تھی۔
’’تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے سمیرا! اتنی سی بات کو تم نے اتنا بڑھا دیا اور جب میں تم سے کہہ رہا تھا کہ جو بات کرنی ہے کمرے میں رہ کر کرو ٗ تو تم کمرے سے کیوں نکلیں؟‘‘ اس کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔
’’آئندہ ایسا نہیں کروں گی فیصل! بٹ میں کیا کرتی ٗ مجھے ایسی سچوایشن کو ہینڈل کرنا نہیں آتا ٗ میرا نقصان معمولی ہو یا بہت بڑا ٗ میں تو دوڑ کر ڈیڈی کے پاس چلی جاتی تھی اور وہ ہر طرح کی سچوایشن ہینڈل کر لیتے تھے ٗ اس وقت بھی مجھے پہلا خیال ڈیڈی کا آیا تھا ٗ میں سب ڈیڈی کو بتا کر آپ کو ڈی گریڈ کرنا نہیں چاہتی تھی ٗ مجھے تو یہی لگا کہ میں ان کو بتائوں گی تو وہ ہمیشہ کی طرح سچوایشن ہینڈل کر لیں گے اور آپ نے بھی مجھے کچھ ٹھیک سے نہیں بتایا تھا ٗ اگر آپ مجھے تسلی بخش جواب دے دیتے تو مجھے ڈیڈی کا خیال نہیں آتا۔‘‘ وہ اپنی مجبوری کہے یا کمزوری ٗ اسے بتا رہی تھی۔
’’دیکھو سمیرا! تم سچوایشن کو خود ہینڈل کرنا سیکھو اور مجھے تم پر غصہ صرف اس لئے آیا کہ جب میں نے کہا کہ وہ بندیا حنین کی ہے اور مجھے ملی تھی ٗ مگر دینا مجھے یاد نہیں رہا تو تمہیں میری بات پر یقین کرنا چاہئے تھا ٗ مگر تم نے میری بات جھٹلائی اور مجھے لگا کہ تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے ٗ تم مجھ پر شک کر رہی ہو۔‘‘
’’میں آپ پر شک کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘
’’پھر وہ سب کیا تھا سمیرا! اگر تم شک نہیں کر رہی تھیں تو تمہیں اگنور کر دینا چاہئے تھا ٗ مگر تم نے بات بھابی تک پہنچا دی۔‘‘ وہ اپنے پیر سمیٹتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے قدرے برہمی سے بولا تھا۔
’’آئی ایم سوری!‘‘ اس کا ہاتھ ہاتھ لیتے ہوئے وہ نم زدہ لہجے میں بولی تھی۔
’’تمہیں ابھی بھی بہت تیز بخار ہے ٗ ٹیبلٹس لے لی ہیں؟‘‘ وہ فکر مندی سے بولا تھا۔
’’وہ سب چھوڑیں اور پہلے یہ بتائیں آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے ناں؟‘‘ اس کی ایک ہی رٹ تھی اور اس نے بایاں ہاتھ اس کے گال پر رکھا تھا جبکہ دایاں اس کے ہاتھ میں تھا۔
’’میں تم سے ناراض نہیں تھا ٗ مجھے تم نے ہرٹ کیا تھا اور میں چاہتا تھا کہ اس کا بات کا تمہیں احساس ہو ٗ تاکہ تم جذبات میں آئندہ ایسا کچھ نہ کرو ٗ ہم میاں بیوی ہیں سمیرا! اور ہماری آپسی محبت اور خفگیاں ہمارے تک ہی محدود رہنی چاہئیں ٗ کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میری اور میری بیوی کی ذات وجۂ موضوع بنے ٗ میں ایک دم پرفیکٹ نہیں ہوں ٗ مجھ میں بہت سی خامیاں ہیں ٗ جو صرف مجھ کو پتہ ہیں یا اب تم ان کی واقف کار ہو اور میں چاہتا ہوں کہ میری کوئی خامی تمہیں ایریٹیٹ کرے تو تم مجھ سے شیئر کرو ٗ نہ کہ تم اس کا زمانے بھر میں اشتہار لگا دو ٗ کیونکہ ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں دونوں ہی ہوتی ہیں ٗ مگر اس کی ہر خوبی و خامی زمانے کے علم میں نہیں ہوتی ٗ کچھ باتیں انسان کی ذات تک محدود رہتی ہیں اور رہنی بھی چاہئیں کیونکہ جب انسان کھلی کتاب بن جاتے ہیں تو ان کی ذات اشتہار بن جاتی ہے اور جس کو پڑھنا اور اپنے کمنٹس دینا لوگ فرض عین سمجھتے ہیں اور کوئی میری اور میری بیوی کی ذات میں ایک حد تک دلچسپی لے تو ٹھیک ہے ٗ مگر حد سے تجاوز کرے تو مجھے یہ بات برداشت نہیں ہو سکتی ٗ تم اور میں اب ایک ہیں ٗ میری تعریف تمہاری تعریف اور تمہاری برائی یعنی میری برائی، اور کوئی تمہیں کچھ کہے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ کوئی مجھے کچھ کہہ رہا ہے اور ہم دونوں کو ہی اس سے بچنا ہے ٗ اب ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا راز بھی ہیں اور پردہ بھی۔ راز کو راز کس طرح رکھنا ہے اور پردہ کس وقت سب کے سامنے کھولنا ہے ٗ یہ ہم پر منحصر ہے ٗ ہم کیوں لوگوں کو موقع دیں کہ وہ جب چاہیں ہماری ذات سے پردہ اٹھا لیں اور جھانک کر ہم کو دیکھ لیں؟ اب اٹھو ٗ جا کر منہ دھو کر آئو ٗ میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔‘‘ اس نے اس کا گال تھپتھپایا تھا اور وہ اٹھ گئی تھی جبکہ فیصل نے کتاب دوبارہ اٹھا لی تھی تاکہ اس کے تیار ہونے تک وہ باقی صفحات پڑھ لے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *