Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10
’’تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ٗ میرے بستر پر لیٹنے کی؟‘‘ وہ اس کی گرجدار آواز پر اٹھ بیٹھی۔
’’مجھے نیچے سونے کی عادت نہیں ہے ٗ میری کمر میں درد ہو جاتا ہے۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بولی۔
’’میں اس بات کا ذمے دار نہیں ہوں ٗ تم اس بیڈ کے علاوہ کہیں بھی سو سکتی ہو ٗ میں مجبوری میں تمہارا وجود اس کمرے میں تو برداشت کر سکتا ہوں ٗ مگر اپنے بیڈ پر ہرگز نہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں حقارت سی تھی۔
’’کیوں ٗ جب کمرے میں برداشت کر سکتے ہیں تو بیڈ پر کیوں نہیں؟ کیا آپ خوفزدہ ہیں کہ سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے؟‘‘ وہ نہایت طنز بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ٗ اتنانفس کا غلام نہیں ہوں ٗ جب کمرے میں رہ کر دوری قائم رکھ سکتا ہوں تو مجھے اس بات سے بھی فرق نہیں پڑے گا کہ تم صوفے پر سو رہی ہو یا مجھ سے فاصلے پر ایک بستر پر ٗ یاد رکھنا تمہیں چھونا میں نہیں چاہتا اور تمہیں بھی مجھے اکسانے کی ضرورت نہیں ہے ٗ تمہیں صرف نام دیا ہے دنیا دکھاوے کو ٗ میرا اور تمہارا رشتہ کتنا بے معنی ہے بہت جلد اندازہ ہوگا ٗ کیونکہ مجھے تمہارے ہونے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پہلے پڑا ہے اور نہ ہی آئندہ پڑے گا۔‘‘ وہ زہر میں ڈوبے نشتر اس کے وجود میں اتارتا اس کی عزت نفس و ذات کی دھجیاں بکھیر رہا تھا۔
’’ہاں تم نے میرے ساتھ کیلئے جو دن گن گن کے گزارے ہیں اور میرے قرب کی خواہش جو تمہیں میرے ساتھ بستر شیئر کرنے پر اکسا رہی ہے ٗ اس سلسلے میں ٗ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔‘‘ اس کی اتنی بڑی بات سن کر تو اس کا چہرہ آتشیں ہو گیا تھا اور بستر سے تو محسوس ہو رہا تھا کہ ایک آگ سی نکل رہی ہے جو اس کو اور اس کی نسوانیت و عزت نفس کو جلا کر خاکستر کر دے گی۔
’’مسٹر اسجد عالم! میں اتنے کمزور کردار کی لڑکی نہیں ہوں نہ ہی نفس کی غلام ٗ جو اپنے پندار و نسوانیت کو اپنے ہی پیروں تلے روند ڈالتی ہیں۔‘‘ اتنی بے عزتی پر آنسو اس کے رخساروں پر لڑھکنے لگے تھے اسے شرمندگی سی ہوئی تھی مگر اس کے بہتے آنسو اسے نہ جانے کیوں سکون دینے لگے تھے۔
’’مجھے اپنے یہاں ہونے اور اس بستر پر لیٹنے و بیٹھنے پر نہ ندامت ہے نہ شرمندگی کیونکہ آپ نے کہہ دیا کہ آپ نے صرف مجھے اپنا نام دیا ہے اور میں صرف اس گھر کی بہو بن کر رہوں گی ٗ آپ کی بیوی کبھی نہیں بنوں گی ٗ مگر آپ کے کہہ دینے سے حقیقت مٹے گی نہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسے آپ جھٹلا نہیں سکتے ٗ میں آپ کی بیوی ہوں ٗ اس گھر اس کمرے ٗ اس بستر اور یہاں تک کہ آپ پر بھی میرا حق ہے ٗ مگر جسے آپ تسلیم نہیں کرتے تو مجھے بھی زبردستی تسلیم کروانے کی نہ چاہ ہے اور نہ ہی ضرورت۔‘‘ وہ اپنے آنسو بے دردی سے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی بیڈ سے اتری تھی اور ایک کٹیلی نگاہ اس خوبرو شخص پر ڈالتی وہاں سے نکل کر ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی تھی اور یہاں آ کر وہ اتنا روئی تھی کہ اپنی پوری زندگی میں روئی نہ ہو گی ٗ اس دنیا میں یہ واحد شخص تھا جسے اس نے چاہا ٗ دعائوں میں مانگا اور خود کو اس کی امانت سمجھ کر سینت سینت کر رکھا ٗ مگر اسی شخص نے آج اسے اتنا بے عزت کیا تھا کہ وہ خود سے بھی نظر نہیں ملا پا رہی تھی اور اسجد کمرے کے وسط میں پشیمان سا کھڑا تھا کیونکہ غصے میں جو کچھ اسے کہا تھا وہ ہرگز بھی ڈیزرو نہیں کرتی تھی ٗ اس بے چاری کا تو کوئی قصور بھی نہیں تھا ٗ منگنی سے قبل یا فوراً بعد وہ اسے کچھ کہتا تو ممکن تھا کہ وہ منگنی ختم کروانے میں اس کی مدد کرتی مگر شادی سے ایک دن پہلے اس سے یہ سب کہنا غیر دانشمندی تھی اور مائدہ نے تو یہی سوچا تھا کہ یہ شادی اس طرح ٹوٹی تو اس کے گھر والوں پر ایک آفت سی آ جائے گی ٗ زمانے کے طعنے تشنے کیا کچھ اس کے بھائیوں اور والدین کو سننا پڑتا۔ اس نے یہ فیصلہ لے کر ایک اچھی بہن اور بیٹی ہونے کا ثبوت دیا تھا مگر اس سب میں اس کی ذات بری طرح متاثر ہو گئی تھی ٗ ابتداء اتنی بری ہوئی تھی کہ اس کی امید بھی دم توڑنے لگی تھی کیونکہ انجام اسے انتہائی خطرناک نظر آ رہا تھا۔
٭٭٭
’’حنین! جائو بیٹا شازمین کو اوپر راحم کے کمرے میں لے جائو۔‘‘ سحرش کے ساتھ باتیں کرتی حنین کو فریدہ نے مخاطب کرکے کہا تھا وہ ان دونوں کو رسموں کیلئے لے آئی تھیں اور دونوں نے مل کر خوب رنگ جمایا تھا اور شاندار طریقے اور ہلے گلے میں شازمین کا اس گھر میں استقبال ہوا تھا اور وہ دونوں اس کا بھاری کامدار لہنگا سنبھالتیں اسے راحم کے کمرے میں لے آئیں تھیں اور راحم کو اندر آتے دیکھ کر وہ فوراً دروازے کی طرف لپکی تھیں اور اندر آنے کا راستہ بلاک کرکے کھڑی ہو گئی تھیں۔
’’آپ اتنی آسانی سے اندر نہیں جا سکتے ٗ جیب خالی کرنا پڑے گی۔‘‘ حنین نے کہا تھا اور سحرش اس کی بھرپور تائید کر رہی تھی۔
’’ارے ٗ یہ کیا بات ہوئی اب مجھے اپنے کمرے میں جانے کا ٹکٹ دینا پڑے گا۔‘‘
’’یہی سمجھ لیں۔‘‘
’’اور یہ مت سمجھئے گا 10,15 روپے میں جان چھوٹ جائے گی ٗ پورے 20 ہزار لیں گے ٗ 10 میرے اور 10 سحرش کے۔‘‘ بے نیازی کی انتہا تھی اور وہ تو اتنے پیسے سن کر کرنٹ کھا کر رہ گیا۔
’’دماغ ٹھیک ہے تم دونوں کا ٗ زیادہ سے زیادہ 5 ہزار دے سکتا ہوں۔‘‘
’’ہمیں تو پورے 20 ہزار چاہئیں۔‘‘ وہ دونوں ایک زبان ہو گئی تھیں۔ بیڈ پر بیٹھی شازمین کے لبوں پر ان کی آوازوں سے مسکراہٹ کھل گئی اور اس نے ریلیکس کرنے کیلئے کمر بیڈ کے سرہانے سے ٹکالی کیونکہ وہ کل رات سے سوئی نہیں تھی ٗ تھکن سے اس کا بُراحال ہو رہا تھا۔
’’میں تو نہیں دینے والا۔‘‘ وہ صاف انکاری ہوا تھا۔
’’اور ہم بھی آپ کو اندر جانے نہیں دینے والے۔‘‘ کافی بحث و تکرار کے بعد راحم نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور دونوں کی طرف ایک ایک ڈبیہ بڑھائی جسے عجلت میں حنین نے کھولا ٗ جس میں ننھے ننھے ڈائمنڈ ٹاپس جگمگ جگمگ کر رہے تھے۔
’’اٹس سو بیوٹی فل۔‘‘
’’اب تو خوش ہو یا 10 ہزار ہی چاہئیں؟‘‘ وہ متبسم ہوا۔
’’یہ زیادہ اچھے ہیں راحم بھیا!‘‘ وہ دونوں کہتیں سامنے سے ہٹ گئی تھیں۔ ایسے ہی ٹاپس راحم نے مائدہ اور زرمین کیلئے بھی بنوائے تھے ٗ لیکن ابھی دیئے نہیں تھے ٗ ورنہ حنین نے شور کر دینا تھا کہ پہلے ان دونوں کو کیوں دیئے ٗ سارا سرپرائز ختم کر دیا ٗ وہ ان دونوں سے جان چھڑا کر کمرے میں آیا اور اس کی نگاہ سوئی ہوئی شازمین پر ٹھہر گئی ٗ اس کے حسن کی رعنائیاں اس کے دل کی دنیا تہہ و بالا کر گئی تھیں اور وہ چلتا ہوا ٗ عین اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا اور ہلکے سے اس کا حنائی ہاتھ تھام لیا اور اس کے ہاتھوں پر مہر محبت ثبت کی تو وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی ٗ نیند کے باعث پہلے تو کچھ سمجھی نہیں مگر اس کے شعر پڑھنے پر گڑبڑا کر سیدھی ہو گئی تھی۔
’’ہم ہیں مشتاق اور وہ ہیں بیزار
یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟‘‘
اس کا ہاتھ راحم کے ہاتھ میں تھا اور اس کی انگلیاں چوڑیوں کو حرکت دے رہی تھیں اور اس کی نظریں تھیں کہ اٹھ نہیں رہی تھیں۔
’’مجھے تم سے یہ امید تو نہ تھی شاز! کہ تم میرا انتظار کرنے کے بجائے سکون سے سو جائو گی۔‘‘لہجہ سنجیدہ تھا مگر آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی اور وہ کچھ نہیں بولی۔
’’تمہیں نیند مجھ سے زیادہ پیاری ہے؟‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے۔‘‘
’’پھر کیسی بات ہے؟‘‘ نگاہ میں شوخی اور لہجے میں تبسم سجائے وہ اسے نروس کرنے لگا۔
’’تھکن کی وجہ سے کمر ٹکائی تھی اور آنکھ لگ گئی۔‘‘
’’تم سوتے ہوئے بہت پیاری اور پرسکون لگ رہی تھیں۔‘‘
’’اب جانے بھی دیں۔‘‘ وہ اس کی ایک ہی تکرا رسے شرمندہ ہو رہی تھی۔
’’اچھا تم کہتی ہو تو جانے دیتا ہوں۔‘‘ وہ مسکرا رہا تھا اور اس نے سونے کا بریسلیٹ جس میں ننھے ننھے ڈائمنڈز جگر جگر کر رہے تھے بڑے پیار سے اس کی کلائی میں سجا دیا۔
’’خاموش کیوں ہو ٗ کچھ کہو گی نہیں؟‘‘ اس کا چہرہ اونچا کیا۔
’’وہ راحم! مجھے بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ وہ اتنی دیر بعد بولی بھی تو کیا ٗ وہ پہلے تو حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا ٗ پھر اس نے زبردست چھت پھاڑ قہقہہ لگایا۔
’’مجھے واقعی بھوک لگ رہی ہے راحم! میں نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘ وہ برامان گئی تھی۔
’’اچھا ٗ تم جا کر چینج کرو ٗ جب تک میں کچھ انتظام کرتا ہوں۔‘‘ وہ اثبات میں سر ہلا گئی تھی اور جیسے ہی کانوں کے جھمکے اتارنے کو ہاتھ بڑھایا تھا وہ اس کا ہاتھ تھام گیا۔
’’ابھی رہنے دو ٗ بہت اچھی لگ رہی ہو۔‘‘
’’نہیں راحم! یہ سب بہت ہیوی ہے ٗ میرا دم گھٹ رہا ہے۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولی تھی وہ اب اس بوجھ سے آزادی چاہتی تھی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ یہ دو لفظ کہہ کر وہ خود اس کی جیولری اتارنے لگا تو اس کی پلکیں عارضوں پر آ رکی تھیں اور راحم نے آہستگی سے ساری چوڑیاں اتار دی تھیں اور اب دوپٹے سے وہ پنیں نکال رہا تھا ٗ بھاری زرتار کامدانی دوپٹہ اس کے سر سے سرکایا تھا تو وہ جلدی سے بیڈ سے اتر گئی تھی اور وہ اس کے کانپتے وجود کو دیکھنے لگا تھا‘ دوپٹہ آدھا اس کے کاندھے پر اور آدھا بیڈ پر تھا جسے راحم نے پورا کھینچ لیا تھا۔
’’راحم! میں چینج کر لیتی ہوں۔‘‘ وہ اس کے مقابل کھڑا ہوا تھا تب اس کے لب لرزے تھے۔
’’ایک تو تمہیں بھوک بہت غلط وقت پر لگی ہے ٗ جائو فوراً ورنہ کہیں مجھے خود پر کنٹرول رکھنا مشکل ہو گیا تو کل مجھے کوسو گی کہ میں نے پیار کی بارش میں نہلایا مگر بھوک کا احساس نہیں کیا ٗ اب پہلی ہی شب ظالم شوہر کا ایوارڈ تو نہیں لے سکتا۔‘‘ وہ اپنے ازلی پیار بھرے غیر سنجیدہ انداز میں کہہ رہا تھا اور وہ اس کی سائیڈ سے نکلنے لگی تھی کہ اس کی کلائی تھام کر اسے اپنی جانب کھینچا تھا کہ وہ اس کے سینے سے آ لگی تھی۔
’’بہت پیاری لگی رہی ہو مسز راحم! تمہارا یہ سجا سنور اروپ دل کے ایوانوں پر سج گیا ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں جذبوں کی آنچ تھی اور اس نے بہت پیار سے اس کی صبیح پیشانی پر پہلی محبت کی مہر ثبت کی تھی۔
’’آپ بھی حیرت انگیز طور پر آج بہت اچھے لگ رہے ہیں۔‘‘ وہ خود کو چھڑاتی بھاگی تھی اور واش روم کے دروازے کے سامنے رک کر اسے دیکھتے ہوئے شرارت سے بولی تھی ٗ اسے وہاں بڑھتے دیکھ کر اس نے زبان چڑاتے ہوئے انگوٹھا دکھایا تھا اور اس کے وہاں پہنچنے تک وہ دروازہ بند کر گئی تھی۔
’’بھاگ لو جتنا مجھ سے بھاگ سکتی ہو ٗ مگر آنا تو تمہیں میرے ہی پاس ہے ٗ تمہاری ساری راہیں ٗ سارے راستے مجھ پر ہی تو آ کر رکتے ہیں۔‘‘ دروازے پر ہاتھ مارتے ہوئے اس نے تیز آواز میں کہا تھا۔
’’جناب! ہم راہ فرار اختیار نہیں کر رہے ٗ مگر انتظار کروانا اپنا حق سمجھتے ہیں ٗ آخر کو آپ نے ہماری نیند خراب کرنے کا ظلم کیا ہے۔‘‘ وہ دل کی دھڑکنیں سنبھالتی بولی تھی اور اس کا قہقہہ سن کر دھیمے سے مسکرا دی تھی۔
’’لے لو بدلہ ٗ میں بھی گن گن کر بدلے لوں گا ٗ میں نے تو صرف آج نیند اڑائی ہے اور تم نے تو برسوں سے میری نیند اڑائی ہوئی ہے۔‘‘ وہ کہتے ہوئے روم فریج کی جانب بڑھ گیا تھا اور جتنی دیر میں وہ چینج کرکے آئی تھی وہ کافی کچھ اس کیلئے نکال کر رکھ چکا تھا ٗ وہ مطمئن ہو گئی تھی ٗ راحم کے ساتھ کیلئے اس نے کتنی ہی دعائیں مانگیں تھیں رب کا شکر ادا کرکے اس نے جو کچھ کھا سکتی تھی کھایا تھا اور پھر وہ تھی اور راحم کی بے قراریاں اور پیار بھری جسارتیں اسے خود پر اور اپنی قسمت پر ناز ہونے لگا تھا وہ آج بہت خوش تھی بہت زیادہ۔
٭٭٭
’’خیریت تو ہے آج حنین عالم ٗ اتنی صبح صبح کیسے جاگ گئی ہیں؟‘‘ پیپرز ختم ہونے کے بعد وہ دن چڑھے تک سوتی رہتی تھی ٗ اس لئے اسجد کو تشویش ہوئی تھی۔
’’مابدولت کا آج یونیورسٹی میں فرسٹ ڈے ہے۔‘‘ جامعہ کراچی میں اس کا ایڈمیشن ہو گیا تھا اور وہ اسے خوشی خوشی بتا رہی تھی۔
’’گڈ یہ تو اچھی بات ہے اور مجھے امید ہے کہ تم یونیورسٹی میں بھی اپنی قابلیت کے جھنڈے ضرور گاڑو گی ٗ وش یو بیسٹ آف لک۔‘‘ اسجد کے لب و لہجے میں بڑے بھائیوں کا سامان تھا۔
’’تھینک یو اسجد بھائی!‘‘
’’اسجد! آفس جاتے ہوئے تم حنین کو ڈراپ کر دینا۔‘‘
’’ابو! میں آج تو کر دوں گا ٗ لیکن روز یہ ذمے داری نہیں اٹھا پائوں گا۔‘‘
’’جانتا ہوں کہ یونیورسٹی تمہارے آفس سے بالکل آئوٹ سائیڈ ہے ٗ اسی لئے میں نے ڈرائیور کی بات کر لی ہے جو نہ صرف حنین کو پک اینڈ ڈراپ کر لیا کرے گا بلکہ گھر کی خواتین کو بھی جہاں جانا ہوگا وہ اسی کے ساتھ چلی جایا کریں گی ٗ مگر ایک ہفتے تک حنین کو لانے لے جانے کی ذمے داری ہمیں اٹھانا پڑے گی کیونکہ ڈرائیور گیارہ ٗ بارہ تاریخ کو جوائن کرے گا۔‘‘ انہوں نے پوری تفصیل سے بیٹے کو آگاہ کیا تھا ٗ ڈرائیور تو پہلے بھی موجود تھا جو گائوں شفٹ ہو گیا تھا اس کے بعد انہیں کوئی قابل اعتماد نہیں لگا تھا وہ تو چند ہفتے قبل انہیں اپنا پرانا ڈرائیور نظر آ گیا جس سے انہوں نے بات کی تھی وہ خود تو کافی بوڑھا ہو گیا تھا ٗ اس لئے اس نے اپنے بیٹے کیلئے بات کی تھی اور چونکہ وہ ان کے فادر کا ڈرائیور تھا اس لئے وہ اس کے چال چلن اور طور طریقوں سے واقف تھے اس لئے اس کے بیٹے کو نوکری پر رکھ لیا تھا اور اس پر چیک رکھنے کیلئے ہی انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ پہلے انہیں آفس لانے لے جانے کی ذمے داری اٹھائے گا اور بعد میں حنین کی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ ڈیوٹی جوائن وہ کچھ دن بعد ہی کر سکتا تھا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے ابو! چھوڑ تو میں دیا کروں گا ٗ مگر واپسی میں، میں کیسے پک کر سکتا ہوں ٗ ہزار کام ہوتے ہیں۔‘‘
’’بیٹا! کچھ دن کی بات ہے ٗ ہمیں مینج کرنا ہی پڑے گا اور جس دن تم زیادہ بزی ہو گے میں پک کر لوں گا اور زیادہ ہی پرابلم ہوئی تو سحرش کے ساتھ حنین آ جائیں گی۔‘‘ یہی بات رات زرمین اور فضیل نے کہی تھی کیونکہ سحرش کو یونیورسٹی چھوڑنے کی ذمے داری فیصل نے بہ خوشی لے لی تھی کہ اس کا وہی روڈ تھا اور رہا مسئلہ واپسی کا تو فیاض نے اسے پک کر لینا تھا کہ وہ آج کل فارغ ہونے کی وجہ سے گھر پر ہی تھے ٗ فیاض پی ٹی سی ایل میں گورنمنٹ ملازم تھے اور چھ ماہ قبل ہی انہوں نے ریٹائر منٹ لی تھی۔
’’ابو! جب انکل فیاض سحرش کو پک کیا کریں گے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ٗ حنین ان کے ساتھ ہی آجایا کرے گی ٗ ویسے بھی انہیں اپنے گھر جانے کیلئے ہمارے ہی روڈ سے گزرنا پڑے گا۔‘‘
’’یہ بات رات زرمین نے کہی تھی ٗ مگر بیٹا! اب اچھا نہیں لگتا ٗ مانا کہ ہمارا گھر راستے میں پڑے گا مگر وہ حنین کو سڑک پر اتار کر تو نہیں جا سکتے ٗ انہیں روز گاڑی ٹرن کرکے گلی میں لانے اور پھر لے جانے کی مشقت اٹھانا پڑے گی اور اب اچھا نہیں لگتا کہ وہ ہماری وجہ سے اتنا پریشان ہوں۔‘‘ حنین کے سامنے جوس کا گلاس رکھتے ہوئے ساجدہ نے کہا تھا جبکہ جس کے متعلق باتیں ہو رہی تھیں وہ انجان بنی ناشتہ کر رہی تھی۔
’’حنین! لگتا ہے تمہارا سیل فون بج رہا ہے۔‘‘ مائدہ نے کہا تھا اور جبھی گھر کا پی ٹی سی ایل بھی بجنے لگا تھا۔
’’یہ اتنی صبح صبح کون فون کر رہا ہے؟‘‘ وہ اٹھنے لگی تھی۔
’’تم جوس ختم کرو ٗ میں دیکھ لیتی ہوں۔‘‘ ساجدہ نے ریسیور اٹھایا تھا ٗ دوسری طرف سحرش تھی۔
’’حنین بھی تیار ہے ٗ بس وہ اور اسجد نکلنے ہی لگے ہیں۔‘‘ سحرش کے پوچھنے پر بولی تھیں۔
’’اسجد بھائی کے ساتھ کیوں جائے گی ٗ میں نے اسی لئے تو فون کیا ہے کہ وہ ہمار انتظار کر لے ٗ ہم جاتے ہوئے اسے پک کر لیں گے۔‘‘
’’بیٹا! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ٗ حنین کو اسجد ڈراپ کر دے گا۔‘‘ وہ اس کے خلوص سے کہنے پر کہہ اٹھی تھیں اور اسی وقت اس نے فون فضیل کو تھما دیا تھا۔
’’کوئی پریشانی نہیں ہو گی ٗ جب فیصل ایک بہن کو چھوڑنے جا رہا ہے تو ساتھ ہی دوسری بہن کو بھی لے جائے گا اور ڈیڈی دونوں بیٹیوں کو پک کر لیں گے۔‘‘
’’لیکن بیٹا!‘‘
’’لیکن ویکن کچھ نہیں ٗ ابھی فون رکھتا ہوں ٗ آفس سے لیٹ ہو رہا ہوں ٗ انشاء اللہ بعد میں بات کروں گا۔‘‘ فضیل نے انہیں بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور انہوں نے آکر ان سب کو بتا دیا تھا۔
’’یاہو… اب میں اور سحرش ساتھ جائیں گے۔‘‘ اس نے خوشی سے نعرہ لگایا تھا۔
’’اچھا اب جائو ٗ بیگ لے آئو ٗ وہ لوگ آتے ہی ہوں گے۔‘‘ راشدہ کے کہنے پر وہ اپنے کمرے کی جانب دوڑی تھی اور کچھ ہی دیر میں فیصل نے انہیں یونیورسٹی گیٹ پر بہت ساری بیسٹ وشز کے ساتھ اتار دیا تھا اور وہ بھی ایک خفگی بھری نگاہ فیصل پر ڈالتی ان دونوں کے پیچھے بڑھی تھی اور فیصل نے مسکراتے ہوئے گاڑی بیک کر لی تھی ٗ یہ سوچ کر اسے منانا کون سا مشکل ہے۔
٭٭٭
’’السلام علیکم بھابی! آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘
’’آپ کے دوست کی مہربانی ہے۔‘‘ وہ نہایت تپے ہوئے لہجے میں بولی تو اس نے زبردست قہقہہ لگایا تھا۔
’’میں نے آپ کو کوئی جوک نہیں سنایا ہے۔‘‘ وہ برا مان کر بولی تھی۔
’’انداز کچھ ایسا ہی ہے۔‘‘ ماہ کنعان کے بے ساختہ کہنے پر وہ جھینپ گئی۔
’’لگ رہا ہے فیصل نے زبردستی آپ کا ایڈمیشن کروایا ہے۔‘‘
’’زبردستی کی نوبت ہی کب آنے دی انہوں نے ٗ سب کچھ کر لیا اور آج کہہ دیا کہ میں تیار ہو جائوں یونیورسٹی میں میرا فرسٹ ڈے ہے۔‘‘ وہ نیند کی بہت کچی تھی ٗ گھر میں کوئی کام وغیرہ بھی نہیں کرتی تھی ٗ اس لئے وہ صبح دیر سے ہی اٹھتی تھی ٗ کبھی فیصل کے شور کرنے پر اس کی آنکھ کھل جاتی تھی تو وہ فیصل کے بہت کہنے پر کھلتی بند ہوتی پلکوں سے ٹائی باندھ دیتی تھی ٗ وگرنہ تو اسے پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ فیصل کب آفس کیلئے نکل گیا اور آج تو اس نے سمیرا کو اسپیشلی الارم لگا کر اٹھایا تھا نیند خراب ہو گئی تھی مگر وہ اٹھی نہیں ٗ مگر وہ جب پیار سے اس پر جھکا اپنی محبت کے عملی مظاہرے پیش کر رہا تھا ٗ وہ اس پر خفگی بھری نگاہ ڈالتی اٹھ بیٹھی تھی اور جب اس نے تیار ہونے کیلئے کہا تو اس نے ڈیڈی کے ہاں جانے کا سوچ کر خوشی خوشی مرجنڈا کلر کا شیفون کا سوٹ نکال لیا تھا ٗ جس پر مروڑی اور دبکے کا نہایت نفیس کام بنا ہوا تھا ٗ مگر جسے فیصل نے اس کے ہاتھ سے لے لیا تھا اور پنک لائٹ سی ایمبرائیڈری والا سوٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا تھا اور وہ جوڈیڈی کے ہاں جانے کے خیال سے لپ اسٹک لگانے لگی تو اس نے منع کر دیا اور بال باندھنے کا کہتے ہوئے اسے بتایا کہ اس کا وہ یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروا چکا ہے اور وہ سحرش کے ساتھ یونیورسٹی جایا کرے گی ٗ وہ تو سن کر ہی حیران پریشان رہ گئی اور اس کے فیصلہ سنا دینے پر تو وہ بالکل رو دینے کو ہو گئی تھی ٗ مگر فیصل نے صاف کہہ دیا کہ وہ آج ہی نہیں ریگولر یونیورسٹی جائے گی‘ اس معاملے میں وہ اس کی بالکل نہیں سنے گا اور وہ شادی کے اتنے دن بعد فیصل کا پرانا روپ دیکھ کر ڈر سی گئی تھی ٗ اس کے کہے کے مطابق وہ اب یونیورسٹی میں تھی‘ ماہ کنعان بہن کو چھوڑنے آیا تھا ٗ مگر سمیرا کو دیکھ کر وہ اس تک چلا آیا اور سمیرا سے بات کرتے ہوئے اس کی نگاہ کچھ فاصلے پر کھڑی حنین پر پڑی ٗ وہ سحرش کو اشارہ کر رہی تھی تاکہ وہاں سے جاسکیں ٗ مگر اس کے دیکھنے پر وہ گڑ بڑا گئی ٗ اسی کی وجہ سے تو وہ وہاں آئی نہیں تھی۔ ماہ کنعان کی نگاہ اس پر ٹھہر گئی تھی ٗ بلیک پرنٹڈ کاٹن کے سوٹ میں اس کی اجلی رنگت بڑی نمایاں تھی۔
’’اور وہ خود ہی چھوڑ بھی گئے ہیں۔‘‘ سمیرا کی بات کے اختتام پر وہ اس پر سے نگاہ ہٹا کر اس سے اجازت لینے لگا۔
’’چلیں میرے یار سے تو بہت دل لگا لیا آپ نے ٗ اب کتابوں میں دل لگائیں۔‘‘ اس کے نروٹھے چہرے کو دیکھ کر ماہ کنعان شرارت سے بولا اور وہ تو بری طرح جھینپ گئی۔
’’آپ اپنے دوست سے کم نہیں ہیں۔‘‘ بے ساختہ ہی اس نے ایک اور قہقہہ لگایا تھا اور اس کے وہاں سے جاتے ہی وہ تینوں حنین کی طرف بڑھی تھیں ٗ جو شدید غصے کے زیر اثر آ چکی تھی۔
’’فرسٹ ڈے ہی کلاس میں لیٹ جائیں گے۔‘‘
’’ٹینشن کیوں لیتی ہو اورینٹل کلاس ہے اور ابھی شروع ہونے میں پورے 10 منٹ ہیں۔‘‘
’’کلاس شروع ہونے میں 10 منٹ ہیں اور ہمیں ابھی کلاس بھی ڈھونڈنی ہے۔‘‘ حنین تپ کر بولی تھی۔
’’لالہ جان نے ہماری کلاس دیکھ لی تھی ٗ ہمیں ڈھونڈنا نہیں پڑے گی۔‘‘ ماہ لاج نے مداخلت کی تھی۔
’’دیکھی لالہ جان نے اور ڈھونڈنی ہمیں نہیں پڑے گی ٗ واٹ آگڈ جوک‘‘ نہ جانے کیوں اسے غصہ آ رہا تھا۔
’’مجھے لالہ جان نے کلاس کی لوکیشن اور روم نمبر سمجھا دیا ہے۔‘‘ ماہ لاج براما نے بغیر بولی تھی ٗ کیونکہ رات ہی تو سحرش نے فون کرکے اس سے کہا تھا کہ حنین بھی اس کی کلاس فیلو ہے اور اگر اس سے دوستی کرنا ہے تو شروع میں اس کا مس بی ہیویئر اگنور کرنا پڑے گا اور یہی سب حنین کو بھی بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لاج کے ساتھ مس بی ہیو نہ کرے ٗ ماہ کنعان پر غصہ ہے بھی تو کم از کم لاج پر نہ نکالے اور یہ بات اس کی سمجھ میں آ گئی تھی اور اس نے سحرش سے کہا تھا کہ وہ لاج سے دوستی کر لے گی مگر ماہ کنعان کو دیکھ کر وہ رات کی کہی بات بھول گئی تھی ٗ لاج کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا تھا ٗ مگر دوسری کوئی بات نہیں کہی تھی ٗ وہ چاروں جس وقت کلاس کے باہر پہنچی تھیں ٗ دھک سے رہ گئی تھیں کیونکہ کلاس شروع ہو گئی تھی۔
’’مجھے ڈانٹ پڑی تو میں آئندہ تمہارے ساتھ نہیں آئوں گی۔‘‘ حنین نے سحرش کو دھمکایا تھا اور اسی نے اندر جانے کی اجازت لی تھی۔
’’آپ خواتین نے یہ مقولہ ضرور سنا ہوگا کہ فرسٹ امپریشن از لاسٹ امپریشن۔‘‘ ڈائس پر کھڑے عین العارفین نے تیکھے چتونوں سے ان کو دیکھا تھا اور وہ شرمندہ ہو گئی تھیں مگر کہا کچھ نہیں تھا اور دو دو کرکے دو سیٹوں پر بیٹھ گئی تھیں اور اتفاق سے انہیں دونوں سیٹیں تیسرے نمبر کی ملی تھیں۔
’’تم لوگ وہاں باتیں کرنے کھڑی نہیں ہوتیں تو اتنی شرمندگی نہیں اٹھانا پڑتی اور نہ ہی اتنے آخر کی سیٹ پر بیٹھنا پڑتا۔‘‘ وہ ہمیشہ فرسٹ سیٹ پر ہی بیٹھا کرتی تھی۔
’’آپس میں باتیں کرنے سے بہتر یہ ہوگا کہ آپ لوگ اپنا تعارف کروا دیں ٗ اسکول سے جو دوست بنتی ہیں اسے ہر جگہ ساتھ لٹکا کر پھرتی ہیں اور باتیں کرتے وقت نہ جگہ دیکھتی ہیں نہ ہی وقت۔‘‘ عین العارفین کا لہجہ بہت کچھ جتاتا ہوا تھا ٗ ماہ لاج کے بعد سمیرا تعارف کروانے کھڑی ہوئی تھی اور سمیرا فیصل کہتے کہتے اس نے سمیرا شاکر کہہ کر اپنا تعارف کروایا تھااور سحرش کے بیٹھتے ہی اسے کھڑا ہو جانا چاہئے تھا ٗ مگر وہ بیٹھی رہی تھی۔
’’محترمہ! وقت نہ ہو تو تعارف کروا دیں۔‘‘ عین العارفین کی خوبصورت آنکھیں اس پر جمی تھیں اور وہ جو بیٹھے بیٹھے بولی تھی اسے سن کر ساتھ بیٹھی سحرش کے ساتھ کلاس میں موجود اکا دکا اسٹوڈنٹس اور خود عین العارفین بھی متحیر رہ گیا تھا۔
’’میں اپنا تعارف کروانا ضروری نہیں سمجھتی۔‘‘
’’آپ کو ٹیچر سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے؟‘‘
’’مجھے ٹیچرز سے بات کرنے کی تمیز ہے ٗ مگر صرف ٹیچرز سے ٗ ان نام نہاد ٹیچرز کو میں اپنا تعارف نہیں دیتی جو فرسٹ ایئر کو فول بنانے کیلئے داڑھی مونچھ لگا کر آتے ہیں۔‘‘ وہ طنز سے کہتی اپنی سیٹ سے اٹھی تھی اور عین العارفین کے سمجھنے سے پہلے ہی وہ اس تک پہنچی تھی اور اس کے چہرے پر سجی نقلی داڑھی مونچھ نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرا دی تھی اور وہ تو ساکت سا کھڑا اس کی جرأت ملاحظہ کر رہا تھا ٗ جوابی کارروائی کے طور پر کچھ کہتا یا کرتا ایک ڈیسنٹ لیڈی روم میں داخل ہوئی تھیں ٗ جنہیں دیکھ کر قہقہوں پر نقب لگ گئی تھی اور وہ چند سینئر اسٹوڈنٹس جو عین العارفین کا ساتھ دینے کی غرض سے وہاں بیٹھے تھے ٗ میڈم عائشہ کو دیکھ کر فوراً ہی وہاں سے کھسک لئے تھے۔
’’تمہیں تو میں دیکھ لوں گا۔‘‘ وہ دھمکی دیتا ڈائس سے اترا تھا اور روم سے نکل گیا تھا اور وہ بھی اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی تھی پھر اسٹوڈنٹس اپنا تعارف کروانے لگے تھے ٗ حنین نے بھی اپنا تعارف کروا دیا تھا اور میڈم عائشہ بریفلی طور پر اپنے سبجیکٹ اکنامکس کی بابت لیکچر دے کر چلی گئی تھیں ٗ ان کے بعد آنے والے ٹیچرز نے بھی آج محض تعارف کی رسم ہی نبھائی تھی ٗ اسی طرح پہلا دن تھوڑی مصروفیات اور شرارتوں کے ساتھ گزر گیا تھا ٗ حنین کی حرکت پر ان تینوں نے ہی اس سے کہا تھا کہ اسے شک ہو بھی گیا تھا تو چپ رہنا چاہیے تھا مگر وہ کاندھے اچکا گئی تھی اس لئے وہ بھی چپ ہو گئی تھیں یہ سوچ کر کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا اور جس نے کیا جب اس کو فرق نہیں پڑتا تو پھر انہیں کیا ضرورت پڑی تھی پریشان ہونے کی؟
٭٭٭
’’بھابی! کھانے کو کچھ دے دیں ٗ بڑی بھوک لگی ہے۔‘‘ سمیرا یونیورسٹی سے آنے کے بعد کھانا کھائے بغیر سو گئی تھی ٗ فیصل آفس سے آیا تو وہ سو رہی تھی اس نے فریش ہو کر اسے اٹھانا چاہا تو ٗ وہ کمبل ہٹاتی اسے موقع دیئے بغیر واش روم میں چلی گئی تھی ٗ وہ اس کے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا ٗ مگر اسے کمرے میں دیکھ کر وہ بالوں سے ٹاول ہٹاتی الجھے گیلے بال کیچر میںجکڑتی روم سے نکل گئی اور وہ اس کی بچکانہ حرکتوں پر مسکراتا اس کے پیچھے ہی روم سے نکل آیا تھا۔
’’بھابی سے کیوں کہہ رہی ہو ٗ خود بھی کچھ کر لیا کرو۔‘‘ اس کے ناراض چہرے پر نظر ڈالی تھی اور وہ رخ پھیر گئی تھی۔
’’مجھے کچھ کرنا نہیں آتا۔‘‘ لہجے میں نروٹھا پن تھا۔
’’تم بیٹھو میں کھانا گرم کر دیتی ہوں۔‘‘
’’کھانا کھانے کو دل نہیں کر رہا۔‘‘
’’میں نے رول اور سموسے بنائے ہیں ٗ ساتھ میں کباب بھی تل دیتی ہوں۔‘‘ زرمین کے کہنے پر وہ ڈائننگ ٹیبل کی چیئر کھسکا کر بیٹھ گئی۔
’’نہیں یار! آج تو بہت مشکل ہے کل کا پروگرام رکھ لو۔‘‘ وہ کن انکھیوں سے اسے دیکھتا فون پر بات کر رہا تھا۔
’’یار! مینج کر لے بابر کل یو ایس اے جا رہا ہے ٗ اس لئے سارے دوست جمع ہو رہے ہیں ٗ اب تو نہیں آئے گا تو سب ہی فیل کریں گے ٗ تو ویسے بھی کافی ماہ سے دوستوں کے ساتھ اکٹھا نہیں ہوا۔‘‘ ماہ کنعان نے تفصیل بتاتے ہوئے اس پر زور ڈالا تھا۔
’’اوکے میں آ رہا ہوں ٗ جب تو نکلنے لگے تو مجھے فون کر دینا۔‘‘ اس نے بات ختم کرکے اسے دیکھا تھا جو بظاہر تو اس کی جانب متوجہ نہیں تھی مگر وہ جانتا تھا کہ وہ غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی اور اب اس کے جانے کا سوچ کر غصہ ہو رہی ہو گی (دل ہی دل میں)۔
’’سمیرا! میری چائے کمرے میں لے آنا۔‘‘
’’سوری ٗ اس وقت میں بزی ہوں۔‘‘ بے رخی سے کہتے ہوئے زرمین کے ہاتھ سے ٹرے لے لی تھی اور یوں شروع ہو گئی تھی جیسے اس سے ضروری کوئی کام ہی نہ ہو۔
’’فیصل! آپ سموسے…!‘‘ چائے دیتے ہوئے پوچھنا چاہا تھا۔
’’نہیں بھابی! دل نہیں کر رہا اور ابھی دوستوں کی طرف جا رہا ہوں ٗ ڈنر پر آپ لوگ میرا انتظار مت کیجئے گا ٗ میں لیٹ ہو جائوں گا۔‘‘ وہ احترام سے کہتا ڈائننگ ہال سے نکل گیا ٗ کمرے میں آکر کپڑے چینج کئے اور مہوش کو اپنے جانے کا بتا کر وہ پورچ کی جانب بڑھ گیا ٗ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے یاد آیا تھا کہ وہ سیل فون کمرے میں ہی بھول آیا ہے ٗ پلٹا تھا کہ سمیرا آتی دکھائی دی تھی اور سیل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی تھی۔
’’مجھے ڈیڈی کے پاس چھوڑ دیں۔‘‘
’’سمیرا! تمہیں پھر کبھی ماموں جان کے پاس لے جائوں گا ٗ اس وقت میں جلدی میں ہوں ٗ کنعان میرا انتظار کر رہا ہے۔‘‘
’’جب میں یو نی گئی ہوئی تھی مما کے پاس ڈیڈی کا فون آیا تھا وہ مجھے یاد کر رہے ہیں۔‘‘
’’لے جانے کا مسئلہ نہیں ہے ٗ واپسی میں مجھے بہت دیر ہو جائے گی ٗ تمہیں پک نہیں کر سکوں گا ٗ اس لئے ہم کل چلیں گے۔‘‘
’’مجھے ابھی جانا ہے ٗ آپ مجھے چھوڑ دیں ٗ میں وہیں رک جائوں گی۔‘‘
’’نو… تمہیں صبح جامعہ جانا ہے۔‘‘ وہ سختی سے کہتا گاڑی میں بیٹھنے لگا۔
’’آپ مجھے ابھی ڈیڈی کے پاس نہیں لے جائیں گے تو میں صبح کہیں نہیں جائوں گی۔‘‘ کار کے دروازے پر ہاتھ رکھے رکھے وہ پلٹا۔
’’جانتا ہوں ٗ یہ سارے بہانے نہ جانے کیلئے ہی ہو رہے ہیں ٗ مگر میں اس وقت جلدی میں ہوں ٗ آکر بات کروں گا۔‘‘ اس کے گلابی چہرے پر ایک برہم سی نگاہ ڈالتا وہ گاڑی میں بیٹھا اور یہ جا وہ جا اور وہ بھی پیر پٹختی اندر چلی گئی ٗ رات کھانا بھی نہیں کھایا ٗ کیونکہ بھوک نہیں تھی اوپر سے نیند بھی نہیں آ رہی تھی ٗ ٹی وی کے چینل بدلتی اکتا گئی تو کتاب اٹھا لی ٗ مگر کتاب میں بھی دل نہیں لگا۔
’’یہ فیصل پتہ نہیں کیسے رات گئے تک کتابیں پڑھ لیتے ہیں۔‘‘ کتاب بند کرتے ہوئے سوچا ٗ فیصل اس طرح پہلی بار کہیں گیا تھا اس لئے اسے خالی کمرہ کچھ زیادہ ہی عجیب لگ رہا تھا اور کروٹیں بدلتے فیصل کا انتظار کرتے کرتے ہی اس کی آنکھ لگ گئی تھی ٗ رات کے ڈھائی بجے وہ جس وقت کمرے میں داخل ہو اور وہ بیڈ کے عین وسط میں سو رہی تھی ٗ آس پاس اتنی جگہ نہیں تھی کہ وہ لیٹ جاتا اسی لئے دھیرے سے اسے سائیڈ میں کیا تھا کہ اس نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھول دی تھیں۔
’’آپ مجھے مت اٹھائیں ٗ میں بالکل نہیں جائوں گی۔‘‘ آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔
’’کہاں نہیں جائو گی؟‘‘ مسکراتے ہوئے آنکھوں پر سے اس کا ہاتھ ہٹایا تھا۔
’’مجھے پڑھنے کا بالکل شوق نہیں ہے فیصل! اب آپ میری نیند خراب نہ کریں ٗ پہلے ہی اتنی مشکل سے سوئی ہوں۔‘‘
’’بھئی! میں نے تمہاری نیند خراب کرنے کا حق حاصل کیا ہے مذاق کی بات نہیں ہے اور میرے بغیر تمہیں کہاں اتنی آسانی سے نیند آ سکتی تھی۔‘‘ ایک ہاتھ سر کے نیچے اور دوسرے ہاتھ کی کہنی بستر پر جمائے وہ قدرے اس پر جھکا کہہ رہا تھا۔
’’مجھے تنگ مت کریں ٗ میں آپ سے ناراض ہوں۔‘‘ خفگی سے کہتی اٹھنے لگی تھی جسے وہ ناکام بنا گیا تھا۔
’’ناراض ہو کر بہت اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ شرارت سے کہتے ہوئے وہ اس پر جھکا تھا اور اس کی خفگی اور غصے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسے اپنے پیار کی اوس میں بھگوتا چلا گیا تھا۔
٭٭٭
’’زرمین! میرے موزے نہیں مل رہے۔‘‘
’’سحرش! چائے نکال لینا ٗ مجھے فضیل بلا رہے ہیں۔‘‘ وہ عجلت میں کچن سے نکل کر روم میں آ گئی۔
’’موزے کہاں رکھ دیئے ٗ کب سے ڈھونڈ رہا ہوں۔‘‘
’’سوری فضیل! میں نکالنا بھول گئی تھی۔‘‘ شرمندگی سے کہتی الماری میں سے موزے نکال لائی ٗ جسے لیتے ہوئے فضیل نے ایک نظر اسے دیکھا ٗ بالوں کو جوڑے کی شکل میں بے ترتیب سا لپیٹا ہوا تھا ٗ کل کے پہنے ملگجے کپڑوں پر ایپرن باندھے پژمردہ چہرہ لئے وہ اس کے سامنے تھی۔
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ وہ اثبات میں سر ہلاتی مڑی تھی کہ وہ اس کی کلائی تھام گیا اور وہ تو دھک سے رہ گئی کہ اسے ایسی کوئی امید ہی کب تھی۔
’’تمہیں تو بخار ہو رہا ہے۔‘‘ کلائی چھوڑ کر پیشانی پر ہاتھ رکھا اور متفکر سا بولا۔
’’نہیں میں ٹھیک ہوں ٗ آپ کو کوئی کام تو نہیں ہے؟ مجھے کچن میں بہت سے کام ہیں۔‘‘
’’کام مما دیکھ لیں گی ٗ تمہیں بتانا تو چاہئے تھا۔‘‘
’’میری آنکھ آج دیر سے کھلی ہے فضیل! بس اس لئے ساری گڑ بڑ ہو گئی ٗ آپ جلدی سے تیار ہو کر آ جائیں ٗ میں آپ کیلئے آملیٹ بنا لیتی ہوں۔‘‘ وہ کیا کہہ رہا تھا اور وہ کیا کہہ رہی تھی۔
’’کہا نا مما دیکھ لیں گی ٗ تمہیں آرام…!‘‘
’’معمولی بخار ہے ٗ میں نے رات کو ٹیبلیٹ لے لی تھی ٗ آپ پریشان نہ ہوں۔‘‘
’’کیسے پریشان نہ ہوں؟ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے ٗ آپ آفس جاتے ہوئے لے جایئے گا۔‘‘ وہ کہتی ہوئی باہر نکل گئی ٗ ڈائننگ ہال میں سب ہی موجود تھے ٗ سحرش نے ٹیبل لگانے میں اس کی پوری مدد کی تھی جبکہ سمیرا آنکھوں میں نیند لئے ابھی ابھی ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی تھی۔
’’زرمین! اب تم بھی آ جائو بیٹا! صبح سے لگی ہوئی ہو۔‘‘ فیاض صاحب نے اسے آواز لگائی تھی۔
’’مجھے تو بے حد شرمندگی ہو رہی ہے ٗ صبح سے شام تک لگی رہتی ہے ٗ میری طبیعت ٹھیک ہی نہیں ہے چند دنوں سے ٗ میں بھی اس کی کوئی مدد نہیں کروا پاتی اور یہ دونوں تو ہیں ہی سدا کی نکمی۔‘‘ انہوں نے زرمین کو پیار سے دیکھتے ہوئے ان دونوں کو گھر کا تھا۔
’’مما! گھر کے کام تو کرنا ہی پڑتے ہیں اور یہ دونوں بھی جب وقت آئے گا کر لیا کریں گی۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے مگر تم بھی تھک جاتی ہو گی اور آج تو مجھے تمہاری طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘‘ ان کی شرمندگی کم نہیں ہو رہی تھی اور فضیل کی بات نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی۔
’’محترمہ کو تیز بخار ہے۔‘‘
’’آپ لوگ پریشان نہ ہوں ٗ میں دوائی لے چکی ہوں۔‘‘
’’بیٹا! تم آفس جانے سے پہلے بہو کو ڈاکٹر کے ہاں لے جانا۔‘‘ فیاض بولے۔
’’بیٹا! تم ہمیں بتاتیں تو سہی ٗ بیماری کی حالت میں کام کرتی رہیں۔‘‘
’’مما! اب خدانخواستہ سیریس بیمار نہیں ہوئی ٗ ٹیبلیٹ لے لی تھیں ٗ سوچا ٹھیک ہو جائوں گی۔‘‘ وہ ان سب سے زیادہ شرمندہ ہو رہی تھی۔
’’اچھا اب جلدی سے حلیہ ٹھیک کرکے آ جائو۔‘‘ سحرش نے اسے وہاں سے اٹھایا تھا۔
’’مما! میں آج چھٹی کر لیتی ہوں۔‘‘
’’نہیں ٗ ضرورت نہیں ہے ٗ تم دونوں جائو ٗ میں ہوں۔‘‘ ان کے کہنے پر وہ دونوں فیصل کے ساتھ نکل گئی تھیں ٗ مگر سمیرا کافی اپ سیٹ ہو گئی تھی ٗ دوپہر اور رات کا کھانا مہوش نے خود بنایا تھا ٗ صفائی کرنے ماسی آ گئی تھی ٗ زرمین کو انہوں نے کچھ کرنے نہیں دیا تھا۔
٭٭٭
یسریٰ! ایکسر سائز میں تمہیں پرابلم ہو رہی ہو تو میں نرس کا انتظام کر دیتا ہوں۔‘‘ وہ آفس سے جلدی نکلا تھا اور گھر جانے کے بجائے یہاں آ گیا۔
’’فی الحال تو ضرورت نہیں ہے ٗ بوا جی میری کافی ہیلپ کروا دیتی ہیں۔‘‘
’’یہ سب تکلیف تمہیں اپنی جذباتیت کی وجہ سے اٹھانا پڑ رہی ہے۔‘‘ وہ اس کے کاندھے سے لگی نیم دراز تھی اور اس کی انگلیاں اس کے ریشمی بالوں میں بڑی سرعت سے چل رہی تھیں۔
’’ہونے والی بات ہوتی ہے تو ہو کر رہتی ہے ٗ یہ بتایئے گھر میں سب کیسے ہیں؟‘‘
’’سب ٹھیک ہیں ٗ زرمین آئی ہوئی ہے اس کی طبیعت کچھ خراب ہے۔‘‘
’’کیا ہوا زرمین کو؟‘‘ وہ پریشان ہوئی تھی ٗ اسجد غائبانہ طور پر سب کا تعارف کروا چکا تھا۔
’’بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے فلو اور بخار ہے ٗ یہ بتائو تم نے کب تک ایسے ہی فارغ رہنے کا سوچا ہے؟‘‘
’’فارغ رہ رہ کر تو میں بھی تنگ آ گئی ہوں ٗ مگر کیا کروں؟ گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتی ٗ کتنے ماہ سے گھر کے باہر کی فضا نہیں دیکھی۔‘‘ وہ اداس ہو گئی تھی۔
’’اور اکیلا گھر بھی کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے ٗ خالہ کے گھر میں تو ہر وقت ہنگامہ بپا رہتا تھا ٗ وہ لوگ نہ جانے مجھے یاد بھی کرتے ہوں گے یا نہیں؟‘‘ وہ جیسے بھی تھے اس کے اپنے تھے اور ان کی یاد اس کی پلکیں نم کر گئی۔
’’جنہوں نے تمہیں پاس رکھ کر یاد نہیں رکھا دور جانے کے بعد کیا کریں گے۔‘‘ وہ تلخ ہوا تھا۔
’’وہ مجھے یاد کریں نہ کریں میں ان سب کو بہت مس کرتی ہوں ٗ بڑا دل کرتا ہے ان سب سے ملنے کا ٗ کیا آپ مجھے خالہ سے ملوانے لے جا سکتے ہیں؟‘‘ وہ بڑی آس سے پوچھ رہی تھی۔
’’میں ان لوگوں کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا ٗ اتنے دو غلے اور مکار لوگ میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھے۔‘‘
’’ایسے تو مت کہیں اسجد! وہ جیسے بھی ہیں میرے اپنے ہیں۔‘‘
’’تمہیں آنسو بہانے کی ضرورت نہیں ہے ٗ میں چاہتا تو نہیں ہوں ٗ ان لوگوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنا ٗ لیکن تمہاری خوشی کیلئے کسی دن لے چلوں گا۔‘‘ وہ آنسو پونچھتا ہوا بولا اور وہ خوش ہو گئی۔
’’تھینک یو اسجد! آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے جوش سے بولی اور وہ کچھ کہتا کہ اس کا سیل بجنے لگا ٗ اس نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھا اور گھر کا نمبر دیکھ کر کال ریسیو کر لی ٗ مگر مائدہ کی آواز سن کر ساری خوشگواریت لمحوں میں اڑن چھو ہو گئی۔
’’اسجد! میں مائدہ بات کر رہی ہوں۔‘‘
’’کیسے فون کیا؟‘‘
’’آپ کب تک آئیں گے؟‘‘
’’ابھی آفس میں ہوں ٗ فارغ ہوتا ہوں تو آ جائوں گا۔‘‘
’’لیکن ابو کہہ رہے ہیں آپ آفس سے نکل گئے ہیں۔‘‘
’’تم یہ بتائو کیسے فون کیا؟‘‘ اس کی بات پر غصہ تو آیا مگر یسریٰ کی وجہ سے آواز دھیمی ہی رکھی۔
’’مما کا کتنی ہی دفعہ فون آ چکا ہے ٗ آج ہم ان کے یہاں انوائٹ ہیں ٗ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
’’میں آدھے گھنٹے تک پہنچ رہا ہوں۔‘‘ راحم کی پروموشن ہوئی تھی ٗ اس لئے ان لوگوں نے ایک گیٹ ٹو گیدر رکھ لی تھی اور آفس جاتے ہوئے مائدہ نے اسے بتاتے ہوئے جلدی آنے کا کہا تھا ٗ مگر اس کے ذہن سے نکل گیا تھا۔
’’فون پر مائدہ تھی؟‘‘ وہ چونکا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’آپ کو مائدہ سے جھوٹ نہیں بولنا چاہئے تھا۔‘‘
’’پھر کیا سچ کہہ دیتا؟‘‘ اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’مجھے اپنا آپ مجرم لگتا ہے اسجد! کہ آپ کو میری وجہ سے اپنی بیوی اور پیرنٹس سے جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔‘‘
’’مائدہ میری بیوی ضرور ہے مگر اس کا نمبر دوسرا ہے اور تم سے تو دل کا معاملہ جوڑا ہے۔‘‘ وہ شوخ ہوا تھا مگر اسکی سنجیدگی ہنوز قائم رہی۔
’’وہ چاہے آپ کی دوسری بیوی ہے ٗ مگر اس کی جو حیثیت دنیا اور آپ کے پیرنٹس کی نظر میں ہے اس مقام تک میں کبھی نہیں پہنچ پائوں گی ٗ میرا شوہر مجھ سے ملنے کسی چور کی طرح آتا ہے اور یہ بات مجھے اذیت دے رہی ہے۔‘‘
’’یہ سب تمہاری وجہ سے ہے ٗ ورنہ میں تو شادی ہی کرنا نہیں چاہتا تھا ٗ تمہارے لئے اپنے گھر والوں کو چھوڑ رہا تھا۔‘‘
’’میں اپنے دل کو بسانے کیلئے آپ کے پیرنٹس کا دل نہیں اجاڑ سکتی تھی اور مائدہ… اس کا کیا قصور تھا جو آپ عین شادی پر اس سے شادی سے انکار کر دیتے؟ اس نے بھی تو کتنے ہی خواب سجائے ہوں گے۔‘‘
’’ایک تو مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی ٗ خود ہی تم نے یہ راستہ منتخب کیا ٗ مجھے اس راستے کا مسافر بنایا اور خود اذیت میں ہو اور مجھے بھی اذیت دے رہی ہو ٗ جانتی ہو نا تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ اس کے لہجے و چہرے پر بکھری اذیت وہ صاف محسوس کر سکتا تھا۔
’’میں بھی کیا کروں ٗ چاہتی ہوں آپ اپنوں کے ساتھ رہیں ٗ ہمیشہ خوش رہیں ٗ میری خوشی صرف آپ ہیں۔‘‘
’’اور میری خوش صرف تم ہو۔‘‘ وہ اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھے لفظوں پر زور دے کر بولا۔
’’جانتی ہوں ٗ اسی لئے خوش رہنے کی کوشش کرتی ہوں اسجد! مگر میں مکمل خوش ہونا چاہتی ہوں ٗ کیا ایسا نہیں ہو سکتا ہے جیسے میں نے آپ کی شادی ایکسیپٹ کر لی ہے آپ کے پیرنٹس اور مائدہ ہماری شادی ایکسیپٹ کرلیں؟‘‘ وہ اسے امید بھری سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
’’میں اپنے پیرنٹس سے بات کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ جب انہیں یہ پتہ لگے گا کہ میں نے تم سے نکاح کر لیا ہے تو وہ خود ہی مائدہ سے میری شادی ختم کر دیں گے ٗ مگر میں تمہاری ضد اور قسم کے آگے ہار گیا ٗ کیونکہ تم نے ہی تو کہا تھا کہ میں اس بات کو راز ہی رہنے دوں ٗ جب بتانے کا وقت تھا تم نے بتانے نہیں دیا اور اب کہتی ہو کہ وہ ہماری شادی ایکسیپٹ نہیں کر سکتے؟‘‘ اسجد سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ آخر چاہتی کیا ہے؟
’’اسجد! وہ بتانے کا بالکل بھی مناسب وقت نہیں تھا ٗ آپ کے فادر آپ سے تعلق ختم بھی کر سکتے تھے اور آپ شادی سے انکار کرتے تو آپ کے اور آپ کی پھپھو کے خاندان (سسرال) کی عزت خاک میں مل جاتی‘ مگر اب آپ طریقے سے اپنے پیرنٹس سے بات کر سکتے ہیں اور جب مائدہ کو میں نے آپ کی بیوی کے روپ میں برداشت کر لیا وہ بھی کر لے گی ٗ عورت کو ایک سائبان ہی تو چاہئے ہوتا ہے اور آپ ہم دونوں کا سائبان بن جائیں گے تو ہمیں پھر اور کچھ نہیں چاہئے ہوگا۔‘‘ وہ زندگی بھر ایک چھت کو ہی تو ترستی تھی ٗ ایسی چھت جہاں اپنے ہوں ٗ ان میں پیار ہو ٗ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوں ٗ اس کے اپنے تھے مگر اس کے وجود سے یکسر بیگانہ جہاں اسے ہر وقت یہ احساس دلایا گیا کہ یہ گھر اس کا نہیں ہے ٗ اس لئے اس نے ہمیشہ ایک گھر کا خواب دیکھا جو اسے ادھورا لگتا تھا ٗ اس لئے اس نے اتنی بڑی قربانی دی ٗ اسجد کو دوسری شادی کی اجازت دی ٗ اسجد اس سے ملنے روز آتا تھا مگر وہ چاہتی تھی کہ اسے اس کا جائز مقام طریقے سے ملے یوں چوری چھپے نہیں۔
’’اس وقت میں چلتا ہوں ٗ تم پریشان مت ہوا کرو ٗ میں نے تمہیں اپنا نام دیا ہے ٗ نکاح کیا ہے تم سے اور آج میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ بہت جلد تمہیں اپنے گھر لے چلوں گا ٗ تمہاری جائز حیثیت اور مقام کے ساتھ ۔بس تم رویا نہ کرو ٗ مجھے تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ وہ اس کے کاندھے تھامے جذباتی انداز میں کہتا اس کی پیشانی پر اپنے ہونٹوں کی مہر ثبت کرتا اسے ریلیکس رہنے کا کہتا گاڑی کی چابی اور موبائل سائیڈ ٹیبل سے اٹھاتا پھر آنے کا کہہ کر روم سے نکلا تھا ٗ بوا جی کو اس کی طبیعت و صحت کے متعلق چند ہدایات دی تھیں اور فلیٹ سے نکل آیا تھا ٗ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے مائدہ کا نمبر ملایا تھا۔
’’تم گھر والوں کے ساتھ اپنے گھر چلی جائو ٗ میں ایک گھنٹے تک وہاں پہنچ جائوں گا‘‘ اور جس وقت وہ گھر پہنچا تھا وہ لوگ چلے گئے تھے۔ اس نے تھکن مٹانے کیلئے شاور لیا تھا ٗ الیکٹرک کیٹل سے اپنے لئے چائے بنائی تھی اور چائے کے ساتھ سر درد کی ٹیبلیٹ لی تھی اس کا وہاں جانے کا دل نہیں تھا مگر مائدہ نے ان کے رشتے کی کمزوری اور تمام تلخیاں کمرے تک محدود رکھی تھیں ٗ اس لئے وہ بھی سب کے سامنے مائدہ سے نارمل بی ہیو ہی کرتا تھا ٗ اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ایک گھنٹے کا کہہ کر دو گھنٹے بعد وہاں پہنچ گیا تھا۔
٭٭٭
’’آپ لوگوں نے آنے میں اتنی دیر کر دی اور یہ اسجد بھائی کہاں ہیں’؟‘‘ شازمین ماں اور چچی سے ملتے ہوئے مائدہ کے گلے لگتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
’’اسجد کو آفس میں کچھ کام تھا ٗ وہ ختم کرکے آئیں گے۔‘‘ وہ سادگی سے کہتی سب سے ملنے لگی تھی اور ان کی فیملی کے علاوہ سحرش کی پوری فیملی بھی انوائیٹڈ تھی اور وہ لوگ کب کے آ گئے تھے۔
’’ارحم بھیا! دکھائی نہیں دے رہے۔‘‘ حنین کو سب سے پہلے وہ یاد آتا تھا۔
’’ابھی ٗ کچھ دیر پہلے ہی آیا ہے اوپر اپنے کمرے میں ہے۔‘‘ فریدہ نے بتایا تھا۔
’’فریش ہو کر آ جائے گا جب مل لینا۔‘‘ وہ جو اٹھنے لگی تھی واپس بیٹھ گئی۔
’’تم لوگوں کی اسٹڈی کیسی چل رہی ہے۔؟‘‘ مائدہ نے پوچھا۔
’’ایک دم بور۔‘‘ سمیرا بے زاری سے بولی۔
’’ابھی تو اسٹارٹ ہے ناں ٗ اس لئے لگ رہا ہوگا۔‘‘ مائدہ نے اندازہ لگایا تھا۔
’’اسٹارٹ کی وجہ سے نہیں اپیا! سمیرا کو پڑھنے کا شوق ہی نہیں ہے۔‘‘
’’ایسی بات تھی تو ایڈمیشن کیوں لیا؟‘‘
’’میں نے کب لیا ہے ٗ فیصل نے زبردستی کروایا ہے۔‘‘ اس نے سامنے صوفے پر بیٹھے فیصل پر خفگی بھری نگاہ ڈالی تھی وہ اس سے اب بھی خفا تھی ٗ مگر وہ اس کی سن کب رہا تھا ٗ روز اسے صبح 7 بجے اٹھا دیتا تھا ٗ سمیرا کے دیکھنے پر اس نے اسمائل پاس کی مگر وہ نگاہ پھیر گئی۔
’’تو اچھی بات ہے ناں ٗ انٹر کی ڈیمانڈ ہی کب ہے ٗ ماسٹرز نہیں تو کم از کم گریجویٹ تو کرنا ہی چاہئے اور جب فیصل بھیا خود تمہیں اجازت دے رہے ہیں ٗ تو پھر کیا مسئلہ ہے؟ تم تو خوش نصیب ہو اس لحاظ سے ٗ ورنہ تو شادی کے بعد لڑکیوں کو پڑھنے کی اجازت مل ہی نہیں پاتی۔‘‘ مائدہ سچائی سے بولی کیونکہ ہوتا بھی تو یہی ہے شادی سے پہلے تو وعدے کر لئے جاتے ہیں مگر شادی کے بعد سارے وعدے بھول جاتے ہیں۔
’’مجھے پڑھنے کا شوق نہیں ہے ٗ میں نے انٹر ہی اتنی مشکل سے کیا ہے جبکہ یونیورسٹی کی پڑھائی بہت ٹف ہے ٗ ریگولر جانا ہی اتنا مشکل ہے۔‘‘
’’چند دنوں میں یوزٹو ہو جائو گی ٗ ورنہ فیصل بھیا سے بات کرنا وہ تمہاری بات مان لیں گے۔‘‘ اس کے نروٹھے چہرے کو دیکھ کر نرمی سے شازمین نے کہا۔
’’فیصل اس سلسلے میں میری بالکل نہیں ماننے والے ٗ خیر اس قصے کو جانے دیں اور یہ بتائیں اسجد بھائی کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’اسجد بھائی آ گئے ہیں۔‘‘ حنین ان لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی تھی کیونکہ وہ باہر سے ہی آئی تھی‘ وہ سب اپنی گفتگو میں لگ گئیں۔
’’بچیوں آج صرف محفل جمائے رکھنے کا ارادہ ہے ٗ کھانا کھلانے کا ارادہ نہیں ہے؟‘‘ یوسف الحسن کے شگفتگی سے کہنے پر شازمین کے ساتھ وہ تینوں بھی اس کی مدد کروانے کے خیال سے اٹھ گئی تھیں جبکہ حنین‘ ارحم کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’اور سنائو بھئی! جناب کی اسٹڈی کیسی چل رہی ہے؟‘‘ وہ فضیل کو چھوڑ کر فوراً۔۔۔
