Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16
ماہ کنعان نے اسے ڈنر پر لے جانے کی بات تھی تاکہ مل بیٹھے تو کچھ اسے جانے اور اس کے گلے بھی دور کر دے کہ جس قدر وہ بدگمان تھی وہ یہ سب ضروری سمجھتا تھا۔ اس کا حنین کے ساتھ ایک شرعی رشتہ قائم ہو چکا تھا اس لئے اسے اتنی تو چھوٹ مل ہی سکتی تھی ٗ مگر اس نے تو سنتے ہی انکار کر دیا تھا لیکن اس کی ایک بھی نہیں چل سکی تھی اور وہ ہزار خدشوں اور تمام تر خوف کے ساتھ اس کے ہمراہ شہر کے مہنگے ترین ہوٹل میں آ گئی تھی ٗ جہاں اس نے ٹیبل بک کروائی ہوئی تھی اور وہ بہت خوش تھا اور اسے امید تھی کہ آج کی ملاقات خوشگوار ہی نہیں ان کی زندگی کیلئے ٹرننگ پوائنٹ بھی ثابت ہو گی۔
’’وہ مسرور تھا اور وہ تو مارے باندھے ہی آئی تھی پورے راستے کچھ نہیں بولی تھی ٗ اس کا خوف محسوس کرکے وہ ہلکی پھلکی سی گفتگو کا آغاز کر چکا تھا یہ اور بات تھی کہ وہ ہوں ٗ ہاں کے علاوہ کچھ نہیں کہہ رہی تھی نہ ہی اس کی طرف دیکھ رہی تھی اور سنبھل کر ڈور کی طرف ہوئی بیٹھی تھی ٗ اس کی حرکت پر وہ محض مسکرا دیا تھا کہ اس نے سوچ لیا تھا کہ آج وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا کہ وہ مزید ڈر کا ٗ غیر تحفظات کا شکار ہو۔ سفر تمام ہوا تھا کہ اور دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے وہ بلیک تھری پیس میں شاندار ہی لگ رہا تھا تو اس کے سامنے پر حجاب سی گھبراہٹ لئے سیاہ ٹرائوزر سوٹ جس پر ریڈ ریشم کے دھاگے اور اسٹون کی کڑھائی کا کام نہایت خیرہ کن تھا اور لائٹ سے میک اپ اور جیولری میں اس کی شہابی رنگت کھلی جا رہی تھی ٗ وہ نو عمری و دوشیزگی کا بانکپن و جوبن لئے اس کو بے خود کر رہی تھی ٗ وہ یک ٹک اسے تکتا اس کے چہرے کے نقوش ازبر کر رہا تھا ٗ ہوا سے اٹھکیلیاں کرتے اس کے سیاہ ریشمی بال چہرے پر سایہ سا کرنے لگتے تھے اس کی انگلیوں کی جنبش سے کان کا آویزا ہلا تھا اور قیمتی اسٹون کی سنہری چمک اس کے چہرے پر بکھر گئی تھی اور اس کی گہری نظروں سے وہ موم کی گڑیا سی لڑکی پگھلنے لگی تھی ٗ اسے اپنی بے اختیاری کا احساس تب ہوا تھا جب ٹیبل کی شفاف سطح پر پانی کی بوندیں گری تھیں وہ کنفیوژ سی نیر بہا رہی تھی کہ وہ اتنی باہمت تھی ہی نہیں کہ مزے سے اس کے عین سامنے بیٹھی رہتی ٗ اس نے خود کو سرزنش کی تھی اور اس کی لرزتی پلکوں سے گرتے موتی ہتھیلی آگے کرتے ہوئے اس میں جمع کر لئے تھے۔
’’حنین! تمہارے آنسو تمہاری ہی مانند قیمتی ہیں انہیں یوں نہ بہائو۔‘‘ اس کا لہجہ آنچ دیتا ہوا تھا۔
’’پلیز ! مجھے میرے گھر ڈراپ کر دیں۔‘‘ 45 منٹ کے ساتھ میں یہ پہلا جملہ تھا جو اس کے پنکھڑی سے لبوں سے آزاد ہوتا اسے سخت بدمزہ کر گیا تھا۔
’’اوکے ٗ بٹ کچھ کھا تو لیں ناں ٗ سچ بڑی بھوک لگی ہے کہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے کے خیال سے میں نے لنچ نہیں کیا تھا۔‘‘ وہ اپنے جذبوں کو اندر دباتادوستانہ انداز میں بولا تھا ٗ اس نے نگاہ اٹھائی تھی سیاہ آنکھیں سمندر کا سا منظر پیش کر رہی تھیں اور نہ جانے کب کب کے پڑھے شعر اسے یاد آنے لگے تھے۔
’’تمہیں پوئٹری پسند ہے؟‘‘ سنبھل کر پوچھا تھا اس نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔ اس نے گہرا سانس کھینچتے ہوئے ویٹر کو اشارہ کیا تھا اور وہ تو کچھ کھانے کو تو کیا بتانے کو بھی راضی نہ ہوئی تو اس نے اپنی پسند و مرضی کا کھانا آرڈر کر دیا تھا۔
’’میرا پسندیدہ رنگ سیاہ ہے ٗ تمہیں کون سا رنگ پسند ہے؟‘‘ وہ خود کو اپنی نگاہ کو قابو میں رکھے دوستانہ انداز میں پوچھ رہا تھا کہ اس کی گھبراہٹ اور ڈر کم کرنے کیلئے کچھ تو کرنا ہی تھا ناں۔
’’مجھے تو سارے ہی رنگ پسند ہیں لیکن میرا موسٹ فیوریٹ کلر نیوی بلیو ہے۔‘‘ وہ دھیمے دھیمے بولی تھی کہ اس میں اعتماد کی کمی نہ تھی بس ماہ کنعان کے سامنے اس کا سارا اعتماد ہی ہوا ہو جاتا تھا کہ محترم کارنامے ہی ایسے انجام دے چکے تھے اور اب ان کی ایک نگاہ بھی کافی تھی۔
’’سوئیٹس میں تو میری جان ہے۔‘‘ اس نے اپنی پسندیدہ ڈش بتائی تھی اور اس کے جواب کا منتظر تھا وہ یکدم ہی آنکھوں میں مسکان لئے بولنے لگی تھی اور اس طرح اپنائیت سے بنا جھجھکے ڈرے بولتی اسے بہت پیاری اور اپنی اپنی لگی تھی اور اسے دوستانہ ماحول میں اس کے ساتھ بات کرنا ٗ کھانا کھانا بہت اچھا لگ رہا تھا کچھ وہ اسے اپنے بارے میں بتا رہا تھا کچھ اس کی پسند نا پسند سے آگاہ ہو رہا تھا یہ تو جانتا ہی تھا کہ وہ بہت باتونی ہے آج صحیح معنوں میں یہ اس پر منکشف بھی ہو گیا تھا کہ وہ اپنی ہر بات کا کافی لمبا جواب دے رہی تھی اس کے سادہ دوستانہ انداز پر وہ یہ بھی فراموش کر گئی تھی کہ وہ اسے ناپسند کرتی تھی یا غیر تحفظات کا شکار تھی ویسے بھی اس کی ساری توجہ کھانے پر تھی اور وہ اس کو ایک ساتھ کھاتے اور بولتے متحیر سا دیکھ رہا تھا مگر سن اس کو محویت سے ہی رہا تھا۔
’’تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟‘‘ وہ کہاں اتنی دیر غیر سنجیدہ و غیر اہم فضول لایعنی باتیں کر سکتا تھا‘ وہ بھی اس انسان سے جو اس کی محبت ہو ٗ جس کے ساتھ اس کی پہلی ڈیٹ ہو ٗ جو عین سامنے موجود اس کے جذبات بھڑکانے کا سبب ہو ٗ اس کی رومانی فطرت کو اجاگر کرنے کا موجد ہو اس کے ساتھ غیر رومانوی گفتگو کرنا اس جیسے شخص کا حوصلہ نہ تھا مگر اس نے یہ حوصلہ بھی کافی دیر بہر حال دکھا ہی دیا تھا اور وہ چاہ کر یکدم ہی پٹری سے اترتا اپنے مزاج کے مطابق بات نہیں کر سکتا تھا سامنے موجود اس لڑکی کو بڑی مشکل سے خود سے بات کرنے پر آمادہ کیا تھا اس لئے بہت لحاظ کرتے ہوئے محض ایک سادہ سا سوال ہی کر ڈالا تھا۔
’’کی ہے ناں ٗ ممی سے ٗ تایا ابو سے ٗ ارحم بھیا اور زرمین آپی سے۔‘‘ وہ زور و شور سے ’’کی ہے ناں‘‘ بولنے کے بعد پوری لسٹ ہی لے بیٹھی تھی جس میں اس نے تمام رشتے داروں سے لے کر ڈرائیور و ملازمین تک کے نام گنوا دیئے تھے اور وہ اس کو چاہ کر بھی ٹوک نہیں پایا تھا کہ اس کے چہرے اور آنکھوں سے سچی خوشی چھلکی پڑ رہی تھی ٗ اس کی آنکھیں مسکراتے ہوئے اتنی حسین لگ رہی تھیں کہ وہ ان آنکھوں میں ڈوب ڈوب کر ابھرنے اور ابھر ابھر کر ڈوبنے لگا تھا۔
’’تمہاری اتنی بڑی لسٹ میں تمہیں نہیں لگتا کہ کچھ کمی ہے؟‘‘ متبسم سا پوچھ رہا تھا کہ اس نے اس کا نام نہیں لیا تھا۔
’’ہاں! وہ میری باربی ڈول اس سے بھی بہت محبت ہے مجھے اور ارحم بھیا کہتے ہیں کہ میں بالکل باربی ڈول کی طرح ہوں ٗ بس وہ بولتی نہیں ہے اور میں چپ نہیں ہوتی۔‘‘ وہ تر نت نقرئی ہنسی کے درمیان بولی تھی اور اس کا دھڑکتا دل آرزو کرنے لگا تھا کہ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی معصوم محبتوں میں اسے بھی شامل کر لے۔
’’تم اپنی لسٹ میں میرا نام شامل نہیں کر سکتیں؟‘‘ وہ شخص جو ہزاروں دلوں کی دھڑکن تھا جس کی ایک نگاہ التفات کی لڑکیاں منتظر رہتی تھیں جن میں سہرینہ آفاق سرفہرست تھی ٗ جو بزنس ٹائیکون آفاق سروردی کی اکلوتی بیٹی ٗ کروڑوں کی اکیلی وارث تھی ٗ کنعان پر اپنی جان چھڑکتی تھی مگر اسے کنعان نے کبھی لفٹ ہی نہیں کرائی تھی ٗ اس کے جھکائو کو محسوس کرکے بھی انتہائی ریزرو اور انجان بنا رہا تھا جبکہ اس کی یہ بے نیازی اور خود پرستی سہرینہ کے دل میں آگ لگا دیتی تھی اور جب اس کا نکاح حنین سے ہو رہا ہے یہ بات اس کے علم میں آئی تھی وہ کنعان کے سامنے ہزار سوال اور اپنی محبت کا کاسہ بلند کئے آن کھڑی ہوئی تھی اور وہ اس کی محبت کو یہ کہہ کر ٹھکرا گیا تھا کہ ’’اس نے محبت حنین سے کی ہے اور اسی سے شادی کر رہا ہے۔‘‘ اس کا یہ جواب سہرینہ کے اندر حسد اور غصہ بھر گیا تھا مگر وہ کر کچھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ محترم پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتے تھے ٗ ہزاروں لڑکیوں کو نو لفٹ کا بورڈ دکھانے والا ٗ ہر سچی و جھوٹی محبت کو بے آس و نامراد چھوڑ دینے والا ماہ کنعان عابدی بڑی آس سے اس چھوٹی سی لڑکی سے پوچھ رہا تھا جس کی مسکراہٹ نہ جانے کیوں سمٹ گئی تھی ٗ اور وہ نگاہ چرائے لب چبانے لگی تھی اور اسکا جواب جانتے ہوئے بھی اسے شدید دکھ نے آ گھیرا تھا کہ وہ چند ماہ میں ہی اس کیلئے بہت اہم ہو گئی تھی اور جس کو اپنی نگاہ میں دل میں رکھا جاتا ہے اس کی نگاہ میں رہنے ٗ دل میں بسنے کی خواہش دل کب کر بیٹھتا ہے یہ جان پانا ناممکنات میں سے تھا۔ اس کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے اس نے ایک ہنکارا بھرا اور ایک نگاہ اس کے شرمندہ سے چہرے پر ڈالتے ہوئے جیب سے ایک مخملی ڈبیا نکالی۔
‘‘میری بڑی آرزو تھی کہ میں تمہیں اپنے روبرو بٹھا کر تمہارے ہاتھوں کی تعریف کروں اور منگنی نہ ہوئی تھی اس لئے نکاح کے بعد انگوٹھی ہی گفٹ کر دوں۔‘‘ وہ نرمی سے گھمبیر لہجے میں کہہ رہا تھا اور وہ نروس ہو چکی تھی اور جب اس نے ہاتھ بڑھانے کو کہا تھا تب وہ کنفیوژ سی منمنائی تھی۔
’’مم… میں خود پہن لوں گی۔‘‘ وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی ہاتھ گود میں رکھے اضطراری حالت میں آپس میں مسل رہی تھی۔
’’تم ہاتھ آگے کرو ٗ کھا نہیں جائوں گا۔‘‘ وہ خراب موڈ کے ساتھ بولا تھا اس نے اسے دیکھا جو غصے میں لگا اور اس نے ڈر کر ہاتھ جلدی سے آگے کر دیا اس کی معصومیت پر اس کے اعصاب ڈھیلے پڑتے چلے گئے اور اس نے اس کا دودھیا نرم و نازک ہاتھ نرمی سے تھاما اور بڑے پیار سے اس کی نازک مخروطی انگلی میں دیدہ زیب انگوٹھی سجاد دی۔ وائٹ ڈائمنڈ کی ہارٹ شیپ رنگ اس کے ہاتھ کی دلکشی اور اپنی قیمت بڑھا گئی تھی اس نے اب تک اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ٗ وہ اس کے ذرا سے لمس پر سرخ پڑ گئی تھی ٗ پیشانی عرق آلود ہو گئی تھی اور اس نے ہاتھ کھینچنا چاہا تھا مگر اس کی گرفت اتنی بھی کمزور نہ تھی اس نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بے باکی کا ثبوت دے ہی گیا تھا۔ اس کے ہاتھ کی پشت پر لب رکھے تھے وہ جی جان سے کانپتی گھبرا کر کھڑی ہو گئی تھی تو اس نے مسکرا کر ذو معنی نگاہوں سے اس کے حیا آلود چہرے کو دیکھا اور کھڑا ہو گیا۔
’’تم میرے ذرا سے لمس سے کانپ کانپ جاتی ہو کبھی جو تم پر چاہتوں کی بارش کرنے پر آیا تو کیا کرو گی مسز؟‘‘ وہ اس کے سامنے رکتا مخمور لہجے میں بولا تھا اور اس پر تو لرزہ طاری ہو گیا تھا۔
’’کچھ دنوں بعد سڈنی جا رہا ہوں ٗ واپس آکر رخصتی کی بات کروں گا کیوں کہ چار سال انتظار نہیں کر سکتا ہوں۔‘‘ نرمی سے اس کے رخسار کو چھوتے ہوئے ذومعنی لہجے میں بولا تھا اور وہ جسے سمجھے بنا بڑی جلدی میں اس سے پہلے ہی آگے بڑھ گئی تھی۔
’’تم کتنا ہی بھاگ لو تمہارے سارے راستے آکر رکنے مجھ پر ہی ہیں۔‘‘ وہ اس کے ہم قدم ہوتا بولا تھا وہ اپنے بہت قریب اس کی آواز پاکر اچھلی تھی اور لڑکھڑا کر گرتی کہ وہ تھام گیا تھا۔
’’تم بہت اہم ہو میرے لئے حنین! تمہیں جب تک زندہ ہوں گرنے نہ دوں گا ٗ جہاں تمہارے قدم لڑکھڑائے تم مجھے مضبوط سہارے کی طرح اپنے آس پاس ٗ اپنے ہم قدم پائو گی۔‘‘ وہ دلکشی سے اس کی ساحرانہ آنکھوں میں دیکھتا کہہ رہا تھا اور اس کا لہجہ اس کی آنکھوں کی طرح سچا اور شفاف تھا اس کے کورے من میں ٗ کورے دل میں اترتا چلا گیا تھا۔
٭٭٭
میں نے تمہیں ایسا کوئی حق نہیں دیا ہے کہ تم مجھ سے کسی بھی سلسلے میں جواب طلبی کرو۔‘‘ اسجد نے اس کے ہاتھ سے جھمکا جھپٹا اور نہایت تلخی سے بولا گیا تھا گویا نرم خو مائدہ کو غصہ دلا گیا تھا۔
٭٭٭
’’آپ کے نہ ماننے سے میرے حقوق کم نہیں ہو جائیں گے اسجد عالم! اور یہ جاننے کا مجھے پورا حق ہے کہ یہ جھمکا کس کا ہے؟ کیونکہ میں آپ کی بیوی ہوں۔‘‘ وہ قدرے ناگواری سے بولی تھی کہ آج جب اس کی جیب سے جھمکا ملا تھا تو وہ اندر تک ٹوٹ گئی تھی کہ چاہے وہ اسے اگنور کر رہا تھا مگر اسے یہ امید نہ تھی کہ وہ اس کا حق کہیں اور لٹارہا تھا اور یہ سوچ ہی تکلیف دہ تھی اس لئے وہ جواب طلبی کرنے کھڑی ہو گئی تھی مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ کوشش اس کے سارے بھرم توڑ ڈالے گی۔
’’اول شب ہی تمہیں باور کروا دیا تھا میں نے کہ تم مائدہ یوسف الحسن اس گھر کی صرف بہو ہو میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے ٗ میں تمہیں بیوی نہیں مانتا کہ جسے دل سے اپنانا چاہا تھا اسے بیوی بنا چکا اور ایک بیوی کے ہوتے ہوئے مجھے دوسری بیوی کی نہ چاہ ہے نہ ضرورت۔‘‘ اس کے انکشاف پر صحیح معنوں میں زمین اس کے پیروں سے کھسکتی چلی گئی تھی وہ دھواں دھواں چہرے کے ساتھ بے یقین نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو بے رحمی سے مزید کہہ اٹھا تھا۔
’’ایسے بے یقینی سے کیا دیکھ رہی ہو ٗ میں نے تمہیں شادی سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا ٗ تم پر تو مشرقی بیٹی بننے کا بھوت سوار تھا تو بھگتو ٗ مجھ سے کیا شکوہ کر رہی ہو ٗ کیوں سوال کر رہی ہو؟ یاد رکھو تم میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں ٗ جب چاہو اس زبردستی کے نام نہاد رشتے سے آزادی حاصل کر لو۔‘‘ وہ انتہائی سنگدل و بے رحم شخص تھا اس پھول سی لڑکی کے نرم و نازک احساسات کی ذرا پرواہ نہ کی تھی انہیں بکھیر کر رکھ دیا تھا۔
’’ٹھیک ہے ٗ آپ مجھے طلاق دے دیں۔‘‘ اس کا لہجہ سرد تھا وہ اس کے سرخ چہرے اور بھیگی پلکوں کو دیکھنے لگا تھا اس کے لہجے میں انداز میں کوئی نرمی نہ تھی اسے امید نہ تھی کہ وہ ایسی بات کرے گی اور اس کے بعد کا اگلا قدم اس کے دماغ کو ٹھکانے لگا گیا تھا۔ اس نے بازو سے پکڑا کر اسے باہر جانے سے روکا تھا۔
’’مسٹر اسجد عالم! آپ کو ایسا کوئی حق نہیں ہے کہ آپ مجھے روکیں۔‘‘ وہ جھٹکے سے بازو آزاد کروا گئی تھی ٗ اس نے لب بھینچ لئے تھے۔
’’آپ کو جب مجھ سے شادی نہیں کرنی تھی تو نہ کرتے ٗ مجبوری میں کر لی مگر نبھا نہیں سکتے اس لئے آپ جو فیصلہ چند سالوں بعد لیں گے آج ہی لے لیں اور مجھے طلاق دے دیں۔‘‘ اس کا انداز بے لچک تھا۔
’’میں نے صرف ابو کی وجہ سے شادی کی اور ابو کی ہی وجہ سے تمہیں طلاق نہیں دے سکتا۔‘‘ وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تھا وہ بے ساختہ ہنس دی تھی مگر اس کی ہنسی میں ٹوٹے کانچ کی کرچیوں کی سی کھنک تھی۔
’’آپ نہ مجھے اپنا سکتے ہیں نہ چھوڑ سکتے ہیں ٗ نہ میں آپ کو مجبور کر سکتی ہوں مگر اتنا یاد رکھیں آپ کہ مجبور صرف میں نہیں آپ بھی ہیں ٗ اگر میں اپنے والدین کی وجہ سے مجبور ہوں تو یہی مجبوری آپ کو بھی لاحق ہے اور جب میں اپنی مجبوریوں کو نبھا رہی ہوں تو آپ بھی نبھانا سیکھئے کیونکہ میں روز روز اپنی بے عزتی نہیں کروائوں گی۔
’’وہ آنسو گڑتی سخت لہجے میں بہت کچھ باور کرواتی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی اور اس نے غصے سے پیچ و تاب کھاتے ہوئے لب بھینچ لئے تھے کہ اس کا انداز اسے سخت برا لگا تھا مگر کہہ نہیں سکا تھا وہ اسے طلاق کی محض دھمکی دے سکتا تھا مگر طلاق دے نہیں سکتا تھا کہ اسے بائونڈ کرنے کیلئے نوید عالم نے اپنی جائیداد میں سے اسجد کے حصے میں سے 75 فیصد حصہ مائدہ کے نام کر دیا تھا اس لئے وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگا تھا۔
٭٭٭
’’تمہیں اپنے ارحم بھیا کی شادی کا خیال ایک دم کیسے آ گیا؟ کہیں کوئی لڑکی تو اپنے بھیا کیلئے پسند نہیں کر لی؟‘‘ جب سے لاج نے اپنے دل کی بات کی تھی وہ روز ان سے بات کرنے کا سوچ رہی تھی ٗ رات راحم‘ شازمین کو میکے سے لینے گیا تو اسے بھی ساتھ لے آیا تھا اسی لئے آج اس نے ہمت کرکے ارحم الحسن کی شادی کا ذکر نکال لیا تھا۔
’’جی پھپھو! وہ لاج ہے ناں ٗ میں چاہتی ہوں کہ ارحم بھیا کی اس سے شادی ہو جائے۔‘‘ وہ جوش سے بول اٹھی تھی جبکہ وہ بری طرح ٹھٹک گئی تھیں۔
’’یہ خیال آیا کیسے تمہیں؟‘‘ الجھ کر پوچھا تھا اور وہ پہلے تو گڑبڑائی اور پھر انہیں راز میں شامل کرنے کا سوچتی بولی۔
’’میں اگر ایک راز آپ کے ساتھ شیئر کروں گی تو آپ کسی سے ٗ خاص کر ارحم بھیا سے تو نہیں کہیں گی؟‘‘ وہ الجھن کے باوجود اقرار کر گئی تھیں اور اس نے لاج کے دل کی بات سے انہیں آگاہ کر دیا تھا۔
’’لاج! اچھی ہے ناں پھپھو؟‘‘ وہ ان کی خاموشی سمجھ نہیں پائی تھی اس لئے لاج کی تعریف کرنے لگی تھی۔
’’ماہ لاج! مجھے بھی بہت پسند ہے۔‘‘ وہ دھیمے سے کہنے لگی تھیں کہ وہ جوش سے ان سے لپٹ گئی۔
’’او تھینک یو سو مچ پھپھو ٗ آپ بہت اچھی ہیں ٗ ہم کل ہی لاج کے گھر جائیں گے۔‘‘ وہ خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ منصوبہ بندی کرنے لگی تھی۔
’’ہم پرپوزل لیکر جائیں گے ٗ مگر تم ماہ لاج سے بات کرو ٗ تاکہ وہ اپنے پیرنٹس سے بات کر کے انہیں راضی کر لے ٗ کیونکہ ان کے اور ہمارے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے ٗ اگر ان کی جانب سے انکار ہوا تو فضول میں تمہارے لئے مسئلے مسائل ہوں گے کہ تم اس گھر کی بہو ہو۔‘‘ وہ دھیمے سے کہہ رہی تھیں۔
’’میں آپ کی بات نہیں سمجھی پھپھو اور اسٹیٹس میں تو فرق ہے مگر میری شادی بھی تو…‘‘ وہ یکدم لب دانتوں تلے دبا گئی تھی نہ جانے کیوں وہ اس موضوع و حوالے پر بات کرنا نہیں چاہتی تھی ٗ اس کے سرخ پڑ جانے والے چہرے کو دیکھ وہ نرمی سے مسکرا دی تھیں۔
’’اسٹیٹس میں فرق تھا اسی لئے تو بھائی صاحب نے انکار کر دیا تھا مگر قسمت میں لکھا تھا اس لئے تمہارا نکاح کنعان سے ہو گیا اور بہت جلد رخصتی بھی ہو جائے گی۔‘‘ انہوں نے پیار سے کہہ کر نرمی سے چھیڑا تھا اس کا چہرہ یکدم ہی جھک گیا تھا۔
’’پلیز پھپھو! میں آپ سے کچھ اور بات کر رہی تھی۔‘‘ اس کے منمنانے پر وہ ہنس دی تھیں۔
’’تم لاج سے بات کرو ٗ اس کے گھر والوں کو اعتراض نہیں ہوگا تو میں ارحم سے بات کروں گی…‘‘ اور اس نے جب فریدہ کی بات لاج تک پہنچائی تھی تو اس کی بات اسے متحیر کرنے کے ساتھ ناگواری میں بھی مبتلا کر گئی تھی۔
’’پلیز! حنین ٗ تم میری دوست ہو ٗ میرے لئے اتنا سا نہیں کر سکتیں؟ اور لالہ جان! کوئی غیر تھوڑی ہیں ٗ تم ان کی منکوحہ ہو ٗ تم ان سے بلا جھجک بات کر سکتی ہو۔‘‘ اس کی خاموشی محسوس کرکے وہ ملتجی ہوئی تھی۔
’’مم ٗ میں نہیں کر سکتی۔‘‘ وہ اس کے سامنے کے خیال سے ہی پسینہ پسینہ ہو گئی تھی۔
’’پلیز ٗ حنین! میری خاطر ڈائریکٹلی نہ صحیح فون پر ہی بات کرکے میری فیلنگز ان تک پہنچا دو کہ میں خود سے تو ان سے کہہ نہیں پائوں گی مگر انہیں اچھے سے جانتی ہوں ٗ کہ انہیں میری فیلنگز پتہ چلیں گی تو وہ سب کچھ خود ہی سنبھال لیں گے۔ مام اور ڈیڈ کو بھی راضی کر لیں گے۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ تھامے ریکوئسٹ کر رہی تھی مگر وہ مسلسل انکار کئے جا رہی تھی۔
’’میں جانتی ہوں تم لالہ جان کو ناپسند کرتی ہو ٗ مگر اب تو تمہارا ان سے ایک شرعی رشتہ ہے تم…‘‘ اسے دکھ ہوا تھا۔ ’’میں ان سے بات نہیں کر سکتی۔‘‘ وہ اپنا بیگ اور کتابیں سمیٹتی کلاس کی جانب بڑھ گئی تھی اور لاج کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں ٗ کچھ قدم آگے جا کر اسے خیال آیا تھا کہ وہ موبائل وہیں بھول گئی ہے اسے اٹھانے کو پلٹی تھی کہ اسے روتے دیکھ شرمندہ ہو گئی تھی۔
’’آئی ایم سوری لاج! وہ میں…‘‘ اس کے سامنے ٹھہر کرکہنے لگی تھی کہ وہ ’’اٹس اوکے‘‘ کہہ کر وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
’’تمہیں لگتا ہے کہ میرے بات کرنے سے تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا ٗ تو تم اداس نہ ہو ٗ میں بات کرنے کی کوشش کروں گی۔‘‘ لیکچر ہال میں اس کی خاموشی اور سرخ آنکھیں اسے ڈسٹرب کر گئی تھیں اس لئے اس نے فیصلہ کیا تھا اور وہ اس کو حیرانگی سے دیکھنے لگی تھی۔
’’تم میری دوست ہو لاج اور میں تمہیں اداس نہیں دیکھ سکتی۔‘‘ وہ اندر ہی اندر اس سے بات کرنے کے خیال سے ہی خوفزدہ ہو رہی تھی جبکہ وہ خوشی سے اسے گلے لگا گئی تھی جبکہ وہ مسکرا بھی نہیں سکی تھی کہ اسے اب یہ خیال ستانے لگا تھا کہ لاج کیلئے فیصلہ لے تو لیا تھا مگر اس سے بات کرے گی کیسے؟
٭٭٭
’’ہیلو! ماہ کنعان اسپیکنگ۔‘‘ وہ بے خبر سو رہا تھا جب رنگ ٹون کی آواز پر اس کی نیند ٹوٹتی چلی گئی تھی اس نے موبائل کی اسکرین پر بلنک ہوتا نمبر دیکھا اور لاپرواہی سے موبائل سائیڈ پر ڈال کر تکیہ منہ پر رکھ کر اپنے مخصوص انداز میں اوندھا لیٹ گیا مگر کال کرنے والا بھی کافی مستقل مزاج تھا اور اس کی مستقل مزاجی کے سبب ہی اس نے کال ریسیو کر لی تھی ورنہ عموماً وہ نیا نمبر اٹینڈ نہیں کرتا تھا۔ اس کی نیند میں ڈوبی آواز پر اس کی نم ہتھیلیاں مزید نم ہونے لگی تھیں ٗ ماتھے پر الگ شبنمی قطرے چمکنے لگے تھے۔
’’مم ٗ میں حنین بول رہی ہوں۔‘‘ وہ کافی دیر کچھ نہ بولی تو وہ غصہ ہونے لگا تھا تب ہی وہ گھبرا کر منمنائی تھی اور اس کی آواز کا سحر یوں اس پر طاری ہوا تھا کہ اس کی نیند کا خمار اڑن چھو ہو گیا تھا۔
’’اوہو ٗ زہے نصیب! کہئے مسز حنین عابدی ٗ کیسے یاد کیا؟‘‘ حیرت سے نکل کر شوخی سے جملہ کسا تھا اور اس کی ہمت ٹوٹنے لگی تھی۔
’’مم ٗ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘ وہ شوخی سے اپنے مخصوص انداز میں شروع ہوا ہی تھا کہ وہ منمنائی تھی۔
’’جی فرمایئے مسز! بندہ تو آپ کا غلام ہے اور اپنے غلام سے آپ کو کیا خدمت درکار ہے؟‘‘ اس کے انداز میں برجستگی تھی اور وہ پچھتانے لگی تھی کہ کیوں اس کو کال کر بیٹھی تھی۔‘‘
کہو ٗ ناں! جان کنعان! کیا کہنا ہے۔‘‘ اس کی خاموشی محسوس کرکے متبسم سے بولا تھا کہ وہ سامنے نہیں تھی مگر وہ تصور کر سکتا تھا کہ اس کی حالت کیا ہو رہی ہو گی!
’’آپ مجھے کچھ کہنے ہی نہیں دے رہے جبکہ مجھے آپ سے بے حد ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ وہ رو دینے کو تھی وہ اس کے لہجے میں نمی محسوس کرکے سنجیدہ ہو گیا تھا کہ بات تو اسے بھی جاننی تھی کہ ایسی کونسی اہم بات تھی جس کو کرنے کیلئے اس نے تمام ناراضگیاں بھلا ڈالی تھیں؟‘‘
پھپھو! لاج کیلئے ارحم بھیا کا پرپوزل لیکر آپ کے گھر آنا چاہتی ہیں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے اسے بات کرنے کا کہا تھا تب وہ نرمی سے بولتی اسے متحیر کر گئی تھی۔
’’آپ لوگ انکار تو نہیں کریں گے ناں؟‘‘ اس کے لہجے میں معصومیت تھی۔
’’ضروری نہیں ہے کہ ہم اقرار ہی کریں۔‘‘ وہ دھیمے سے کہہ گیا تھا کہ اس کی بات اسے بے یقینی کے سمندر میں ہی نہیں کئی گنا ناگواری بھی عطا کر گئی تھی کہ ارحم کو اس نے ہمیشہ دوسری نگاہ سے دیکھا تھا جو وہ چاہ رہی تھی وہ اسے فی الحال بے یقین کر گیا تھا کہ اس نے تو ایسا سوچا تک نہ تھا۔
’’پلیز! آپ انکار تو نہ کریں ٗ میری خاطر مان جائیں۔‘‘ وہ اس کی بات پر گھبرا کر بولی تھی۔ اس کا انداز دلفریب تھا ٗ کنعان کے دل کی دنیا زیر و زبر ہو کر رہ گئی تھی کہ ایسے وہ جان بھی مانگتی تو وہ لمحہ کو نہ سوچتا مگر یہاں معاملہ کچھ اور تھا وہ ٹھٹک کر رہ گیا تھا۔
’’تم مجھ سے بات ارحم کے کہنے پر کر رہی ہو؟‘‘ وہ فوری طور پر ارحم سے بدگمان ہوا تھا۔
’’نہیں! کہ ارحم بھیا کو تو اس بارے میں ابھی کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ ’’وہ ترنت بولی تھی اور اب اس کا خیال لاج کی طرف چلا گیا تھا جس کی تصدیق اس کے اگلے جملے نے کر دی تھی۔
’’آپ لوگ اس پرپوزل کیلئے لاج کی خوشی کی خاطر مان جائیں کہ میرے ارحم بھیا تو ہیں بھی لاکھوں میں ایک!‘‘ وہ ارحم الحسن کی تعریفوں میں اسکی ناگواری جانے بناء رطب اللسان تھی۔
’’مجھ سے بات تم لاج کے کہنے پر کر رہی ہو؟‘‘ ناگواری سے اس کی بات کاٹی تھی۔
’’جی ٗ کیونکہ لاج ٗ ارحم بھیا کو لائیک کرتی ہے۔‘‘ وہ سادگی سے کہہ گئی تھی۔
’’اور تمہارے ارحم بھیا! وہ کسے لائیک کرتے ہیں؟‘‘ وہ چبا چبا کر لفظوں کو پوچھ رہا تھا۔
’’کسی کو بھی نہیں…‘‘
’’اب تمہارے ارحم بھیا اتنے بھی سیدھے نہیں ہیں۔‘‘ نہ جانے کیوں اسے غصہ آنے لگا تھا۔
’’آپ ایسے مت کہیں ٗ میرے ارحم بھیا! بہت اچھے ہیں۔‘‘ منہ بنا کر بولی تھی۔
’’تم تو اسے ہی فیور کرو گی اس کے اتنا کلوز جو ہو ٗ وہ تمہارا بیسٹ فرینڈ ہے۔‘‘ اس کا موڈ آف ہو چکا تھا کہ پہلی دفعہ اس کی فون پر آواز سن کر وہ خوش فہم ہی تو ہو گیا تھا۔
’’ارحم بھیا کی میں اس لئے تعریف نہیں کرتی کہ وہ میرے بھیا ٗ میرے سب سے اچھے دوست ہیں ٗ میں تو ان کی تعریف اس لئے کرتی ہوں کیونکہ وہ ہیں ہی تعریف کے لائق!‘‘ وہ اس کی ناراضگی محسوس کر ہی نہیں سکتی تھی اپنی ہی ہانکے جا رہی تھی۔
’’کوئی اور بات کرنی ہے تو ٹھیک ٗ ورنہ میں فون بند کر رہا ہوں ٗ اپنا ارحم بھیا نامہ کسی اور کو سنانا۔‘‘ نہایت تپ کر کہہ گیا تھا۔
’’میں بھی آپ کو کال نہیں کرنا چاہ رہی تھی ٗ مگر لاج کو پورا یقین تھا کہ میں آپ سے بات کروں گی تو پھر سب کچھ آپ سنبھال لیں گے۔ مگر آپ کو تو جیسے اس کی پرواہ ہی نہیں ہے ٗ لیکر فضول میں میرے ارحم بھیا کو برا کہے جا رہے ہیں۔‘‘ وہ بھی تپ اٹھی تھی اور غصہ سے بولتی اسے لب بھینچنے پر مجبور کر گئی تھی۔‘‘
اور ایک ارحم بھیا ہیں مجھ سے صرف آپ کی اچھائیاں ہی بیان کرتے رہتے ہیں جبکہ میں بھی جانتی ہوں کہ آپ کتنے اچھے ہیں۔‘‘ اس کی آخری بات اسے ٹھٹکا گئی تھی مگر اس نے اگلی کوئی بات کرنے کا موقع دیئے بغیر ہی لائن کاٹ دی تھی اور اسے اب ملال ہونے لگا تھا کہ اس نے پہلی دفعہ خود سے رابطہ کیا تھا اور اس نے ناراض کر دیا تھا۔
٭٭٭
’’ماموں جان! آفس جاتے ہوئے مجھے الحسن ہائوس چھوڑ دیجئے گا۔‘‘ سب سے زیادہ چونک کر اسے اسجد نے دیکھا تھا۔
’’چھوڑنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن تمہیں جانا ہے تو اسجد سے کہو چھوڑ آئے گا۔‘‘ انہوں نے نرمی سے شائستگی سے پرشرارتی لہجہ اپنایا تھا۔
’’جی میں نے کہا تھا مگر انہیں فرصت نہیں ہے آپ چھوڑ دیجئے گا مجھے پاپا ٗ مما یاد آ رہے ہیں۔‘‘ وہ فطری طور پر باپ کو زیادہ چاہتی تھی اور یہاں وہ انہیں ہی سب سے زیادہ مس کر رہی تھی ٗ جب جب وہ اسے ہرٹ کرتا تھا ٗ اسے اپنی ماں کی آغوش باپ کے دست شفقت ٗ بھائی کے مہربان سائے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی ٗ مگر وہ شخص تو جیسے اسے ہر ایک رشتے اس کی لطافت سے دور کر دینا چاہتا تھا ٗ جب ہی تو وہ شادی کے بعد محض تین سے چار دفعہ ہی میکے گئی تھی ٗ اس کے صاف کہہ دینے پر وہ سب پریشان و حیران ہوئے تھے اور اسجد بھی متحیر رہ گیا تھا اور اسے دیکھنے لگا تھا جو پیلے رنگ کے سوٹ میں کافی اداس اور غیر معمولی سنجیدہ نظر آ رہی تھی۔
’’کیوں بھئی! ایسی بھی کیا مصروفیت کہ تم بیوی کو بالکل ہی نظر انداز کر دیتے ہو؟‘‘ راشدہ نے اسے ڈپٹا تھا اور وہ اس پر ٹھہر جانے والی نگاہ چراتا ماں کو دیکھنے لگا تھا۔
’’ساری مصروفیات کو ترک کرکے بیوی کا خیال رکھا کرو ٗ چاہے آفس سے چھٹی کرنی پڑے تم مائدہ کو میکے لے جائو۔‘‘ وہ بیٹے کو ہلکی سی خفگی کے ساتھ ہدایت دے رہی تھیں۔
’’جی امی! لے جائوں گا کہ انکار تو میں نے پہلے بھی نہیں کیا تھا ٗ بس اتنا ہی کہا تھا کہ شام میں لے جائوں گا۔‘‘ فوراً ہی حامی بھر کر اپنا بھرم قائم رکھنے کو جھوٹ کا سہارا لیا تھا اور وہ تلخی سے مسکرا اٹھی تھی۔
’’آپ کو زحمت کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ٗ ماموں جان نہیں چھوڑیں گے تو میں راحم بھائی کو بلا لوں گی کہ واپس بھی تو ان کے ساتھ ہی آنا ہوگا ٗ تو ان کے ساتھ ہی چلی بھی جائوں گی۔‘‘ وہ کہہ کر اٹھی تھی اور نکلتی چلی گئی تھی ٗ اس نے یہ دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی تھی کہ اس کی نرم سی تلخی کا کیا اثر ہوا ٗ اسجد عالم کو کتنی صفائی دینی پڑی ٗ کتنے جھوٹ بولنے پڑے اور جب وہ ماں اور باپ کو مطمئن کرکے روم میں آیا تو وہ اپنا بیگ تیار کر رہی تھی۔
’’امی اور ابو کے سامنے اس بکواس کا مطلب؟‘‘ جارحانہ انداز میں اس کا بازو جکڑا تھا۔
’’مطلب صاف ہے اسجد عالم! ہاں آپ سمجھنا نہ چاہیں تو الگ بات ہے۔‘‘ اپنا بازو آزاد کروا کر دور ہوتی نہایت تلخ لہجے میں بولی تھی کہ وہ نرم مزاج ٗ نرم خو لڑکی غصے میں بھی نرمی کا ساتھ نہیں چھوڑ پاتی تھی کہ وہ اپنی فطرت نہیں بدل سکتی تھی ٗ ویسے ہی وہ بھی اپنی فطرت کب بدل سکتا تھا ٗ ماں باپ کے سامنے جو سبکی ہوئی تھی ٗ جو وضاحتیں تحمل سے دینی پڑی تھیں ٗ سارا تحمل غصے کی نظر ہو گیا تھا۔
’’بکواس بند کرو اپنی اور آئندہ ایسا کوئی تماشا لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ چیخا تھا۔
’’چیخئے مت کہ میں اس لہجے و رویے کی عادت نہیں رکھتی۔‘‘ وہ بے بسی سے رو پڑی تھی۔
’’وہ صرف آپ کو یہ باور کروانے کیلئے تھا کہ بھرم رکھنا ٗ عزت بنائے رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور میں اگر اپنا بھرم رکھتی پھرتی ہوں ٗ اپنی اور خاندان کی عزت کیلئے تو کچھ فرض تو آپ کا بھی بنتا ہے کہ میں اگر خاموش ہوں تو اپنوں کو دکھ سے بچانے کیلئے ٗ اپنی عزت نفس کیلئے اور آپ کس طرح مجھے ڈی گریڈ کر رہے ہیں ٗ میری عزت نفس پامال کر رہے ہیں ٗ یہ آپ جانتے ہیں اور یوں ہی رہا تو میری خاموشی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔‘‘ اس کے آنسو روانی سے رخساروں کو تر کرتے جا رہے تھے اس کا لہجہ مگر ہموار و شفاف اور غیر معمولی سنجیدگی لئے ہوئے تھا۔
’’تم مجھے دھمکی دے رہی ہو؟‘‘ اسے تیکھے چتونوں سے گھورا تھا۔
’’نہیں! صرف اتنا بتانا چاہ رہی ہوں کہ آپ کے نہ ماننے کے باوجود رشتہ بہرحال قائم ہے اور اس کے کچھ تقاضے ہیں ٗ مجھے سب کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے اور جب میں اپنا اور آپ کا بھرم رکھنے کو جھوٹ بول کر سب اچھا ہے کی عملی تفسیر پیش کر سکتی ہوں تو آپ کو تو صرف میرا ساتھ دینا ہے کہ اس میں آپ کا ہی فائدہ ہے میں اب آپ کے بھرم نہیں رکھوں گی کہ جو شخص میری عزت کرنے کو تیار نہیں میں اس کی عزت کیوں رکھتی پھروں؟ ہاں آپ عزت دیں گے تو میں بھی آپ کی عزت رکھ لوں گی کہ آپ یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے گا ہر لذت ٗ ہر خوشی ٗ ہر چاہت ٗ ہر ضرورت میں عزت سے کم ترسمجھی ہوں ٗ آپ سے کچھ طلب نہیں کر رہی کہ مجھے میری عزت نفس عزیز ہے ٗ مجھے اپنا بھرم بہت پیارا ہے اور میری عزت نفس ٗ میرا بھرم دوسروں کے سامنے قائم ہونے سے قبل میرے سامنے قائم رہنا ضروری ہے نفرت سہہ سکتی ہوں ٗ ذلت نہیں ٗ محبت کے بغیر رہ سکتی ہوں ٗ عزت کے بغیر نہیں اور آپ مجھے کتنی عزت دے رہے ہیں یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ٗ لیکن اب آگے مزید آپ سے ذلت نہیں وصولنی میں نے۔‘‘ وہ اس کو بہت کچھ باور کراتی اس کے سامنے سے ہٹ گئی تھی اور وہ غصے سے کھولتا گھر سے ہی نکل گیا تھا ٗ مگر جب غصہ اترا تھا ٗ ٹھنڈے دماغ سے سوچا تھا اس کی ہر بات سچی لگی تھی ٗ آج والدین کو صفائی دیتے اسے دانتوں پسینہ آ گیا تھا اور آج سے قبل ایسی نوبت نہ آئی تھی ٗ تو سب مائدہ کی خاموشی اس کی اچھائی ہی تھی ٗ اگر وہ سب کو بتا دیتی کہ وہ اس کے ساتھ کس طرح کا سلوک رکھے ہوئے ہے تو اس کی ذات سوالوں کی زد میں آ جاتی ٗ مگر اس نے صرف اپنا ہی نہیں اس کا بھی بھرم رکھا تھا ٗ نہ رکھتی تو جو آج ہوا وہ شادی کے اول دنوں میں ہی ہوتا ٗ اسے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تھا ٗ وہ جانے انجانے میں مائدہ کے ساتھ ظلم کر رہا تھا ٗ احساس تھا اسے مگر دوسری کوئی چوائس نہ تھی کہ وہ جھکنے کو تیار نہ تھی تو وہ کیسے جھک جاتا؟ اگر اس نے اسے دھتکارا تھا تو وہ بھی اب یہی کر رہی تھی ٗ وہ اگر دو قدم پیچھے ہوا تھا تو وہ چار قدم دور چلی جاتی تھی ٗ وہ دونوں ہی انا کے خول میں قید ہوتے جا رہے تھے اور زندگی صرف بھرم رکھنے کا نام تو نہیں ہے ٗ اس طرح کب تک چلنا تھا؟ کب تک انہوں نے دریا کے دو کنارے بنے رہنا تھا؟ پہل کسی نے تو کرنی تھی؟ انا کسی نے تو مارنی تھی ٗ انا کی جنگ میں تو صرف ہار ہوتی ہے ٗ جذبات کی اور رشتوں کی اور جذبات کی نفی کرکے کیا جیا جا سکتا ہے؟ کیا مائدہ جی رہی ہے یا زندگی کو محض گزار رہی ہے اور اسجد دنیا کا پہلا مرد تو نہیں تھا ناں ٗ جس نے دو شادیاں کی تھیں ٗ تو کیا وہ یسریٰ کے ساتھ ساتھ مائدہ کو بھی عزت و چاہت اور بیوی کا درجہ نہیں دے سکتا؟ کتنے ہی سوال جو سر اٹھا رہے تھے اور ان کے جواب وقت چلتے ہی مل سکتے تھے ٗ کچھ جواب خود ہی مل جانے تھے اور کچھ خود ڈھونڈنے تھے اور وہ دونوں ہی جس کیلئے نہ راضی تھے ٗ تو زندگی جو جواب خود سے دیتی وہ ہی انہیں قبول کرنے تھے۔
٭٭٭
’’پلیز فضیل! اتنی بھی سزا نہ دیں اب! اور لوٹ آئیں۔‘‘ عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر وہ ٹیرس پر آ گئی تھی کہ جب سے وہ باہر گیا تھا اس کی نیند ہی نہیں خوراک بھی کم ہو گئی تھی اور احساس ندامت تھا کہ سوا ہوا جا رہا تھا کہ فضیل کے اچانک باہر جانے کے فیصلے نے ان سب کو ہی پریشان اور دکھی کر دیا تھا۔ مہوش کی خاموشی اسے بے چین کرتی تھی مگر وہ کیا کرتی کہ وہ تو اپنے اچھے ہونے کی سزا جھیل رہی تھی کہ بچپن کا کوئی خیال ہے وہ محبت سمجھتی تھی اسی لئے خود کو فضیل کا مجرم سمجھ کر اس سے گریزاں تھی ٗ نادان یہ سمجھ ہی نہیں سکی تھی کہ اس سے محبت ہوتی تو اتنی پرسکون رہتی! اور فضیل سے محبت کرنے لگی تھی جبھی تو بے سکون تھی ٗ کبھی اس نے ارحم الحسن کو اپنے لئے دل کی گہرائی سے نہیں مانگا تھا لیکن اس کے لوٹ آنے کی دعا وہ شدتوں سے کر رہی تھی اور وہ جو کسی انجان انسان کو بھی تکلیف پہنچا کر مہینوں پریشان رہتی تھی اس کی تکلیف کا خیال تو اسے سونے ہی نہیں دیتا تھا۔
’’فضیل! واپس آ جایئے کہ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی! کہ اگر مزید آپ بن کچھ عرصہ رہی تو شاید مر ہی جائوں ٗ آکر اپنی زرمین کو مرنے سے بچا لیں۔‘‘ وہ آسمان پر نگاہ جمائے سک اٹھی تھی!!!
٭٭٭
’’ارحم بھیا! بتائیں ناں ٗ میرا ڈریس کیسا ہے؟‘‘ اس نے فیروزی رنگ کی خوبصورت فراک اس کے سامنے کرتے ہوئے اشتیاق سے پوچھا تھا۔
’’میری نینی! کچھ غلط پسند کر ہی نہیں سکتی۔ تمہاری طرح خوبصورت ہے۔‘‘ وہ نیوز چینل کی جانب سے توجہ ہٹا کر نرمی و شرارت کے امتزاج کے ساتھ بولتا اسے خوش کر گیا تھا۔
’’یہ ڈریس آپ کی منگنی میں پہنوں گی میں! یہ مجھے پھپھو نے دلایا ہے جبکہ اصولی طور پر دلانا تو آپ کو چاہئے تھا۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی تھی۔
’’جو چاہو لے لینا کہ تمہیں میں نے کبھی کسی چیز کیلئے منع کیا ہے۔‘‘ اس کی شرارت کو بھی اس نے اپنی جیب سے والٹ نکال کر اس کی گلابی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے مان بخشا تھا اس کی جھیل سی آنکھیں جگر جگر کرنے لگی تھیں۔
’’آپ بہت اچھے ہیں ارحم بھیا!‘‘ وہ اپنی ہتھیلی پر رکھے نوٹوں سے بھرے قیمتی والٹ کو دیکھ مسکرا رہی تھی۔’’ ناٹ فیئر ارحم بھیا! آپ اس حنین کی بچی کے تو بہت لاڈ اٹھاتے ہیں ٗ میں تو جیسے سوتیلی ہوں ناں!‘‘ مائدہ منہ بنا کر بچوں کی طرح بولی تھی۔
’’ایسے کیوں بول رہی ہیں ٗ مائدہ اپیا! مجھے کچھ دیا ارحم بھیا نے تو اس کا مطلب ہے ہم دونوں کو ہی دیا ناں ٗ کہ ہم دو ہی تو ارحم بھیا کی پیاری پیاری سی بہنیں ہیں۔‘‘ ارحم کے بولنے سے پہلے وہ جلدی سے بولی تھی اور والٹ بھی اسے تھما دیا تھا وہ ہی نہیں فریدہ بھی مسکرانے لگی تھیں کہ وہ اتنی ہی صاف دل و انصاف پسند تھی کہ ارحم کبھی کاشانہ عالم میں بھی اسے کوئی چیز لاکر دے دیتا تھا وہ آدھی مائدہ کیلئے رکھ لیتی تھی اس لئے ارحم اکثر مائدہ کیلئے کچھ لاتا تو اسے بھی دیتا تھا اور اس کی ضد پر بھی کبھی کوئی چیز دلاتا تھا تو مائدہ کیلئے بھی لیتا تھا۔‘‘
’’سن رہی ہیں مما! ہ بندریا خود کو پیارا کہہ رہی ہے۔ ارحم مسکرا کر کہہ رہا تھا۔
’’میں خود کو نہیں مائدہ اپیا ٗ کو بھی کہہ رہی ہوں کہ ہم ہیں ہی پیارے ٗ اب آپ کی نظر کمزور ہو گئی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں کیوں اپیا؟‘‘ وہ بُرا منائے بغیر ترنت بولی تھی اور اسی وقت شازمین چائے لیکر آ گئی تھی اور وہ اپنا کپ لئے رنگ ٹون کی جانب متوجہ ہوا تھا اور معذرت کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔ وہ لوگ لاج کیلئے منگنی کا جو سوٹ لائے تھے وہ پیک کرنے لگے تھے شازمین مسلسل اسے چھیڑ رہی تھی۔
٭٭٭
’’تمہیں اپنے پیروں پر چلتے دیکھ کر جو خوشی ہو رہی ہے ٗ وہ میں لفظوں میں بتا نہیں سکتا۔‘‘ اسجد اسے اپنے مقابل کھڑا کئے شدت جذبات سے مغمور لہجے میں بولا تھا ٗ وہ نم پلکوں سے مسکرا دی تھی کہ اسجد نے اس کا پراپر علاج کروایا تھا اور انتہائی توجہ اور نگہداشت کے ساتھ ساتھ ایکسرسائز کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ اپنے پیروں پر ایک بار پھر چلنے لگی تھی ٗ اس نے نرمی سے اس کے آنسو پونچھ کر اسے خود سے بھینچ سا لیا تھا۔
’’تم میرے لئے بہت اہم ہو ٗ میں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تمہاری زندگی میں کمی صرف میری محبت میں آئی تھی اور آج تمہیں مکمل صحت یاب دیکھ کر سکون محسوس کر رہا ہوں۔‘‘ وہ اسے خود سے لگائے جذبات سے چور مدھم لہجے میں بول رہا تھا ٗ وہ یکدم اس کی اتنی محبت پا کر بلک اٹھی تھی ٗ اس کی محبت اسے معتبر کر دیا کرتی تھی ٗ اس کی ذرا سی توجہ اسے اپنی زندگی کی ہر محرومی بھلا دیتی تھی۔
’’پاگل لڑکی! خوشی کے موقع پر اتنا رونے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ وہ ہلکی سی خفگی سے اسے ڈپٹ کر اس کی دلجوئی کر رہا تھا۔
’’آپ سے آج کچھ مانگوں گی تو کیا آپ دے دیں گے؟‘‘ وہ سوں سوں کرتی اسے آس سے دیکھ رہی تھی۔
’’جان بھی حاضر ہے ٗ جان اسجد!‘‘ نہایت دلفریب لہجے میں کہہ کر اس کی پیشانی چوم لی تھی اور جو فرمائش اس نے کی تھی اس کا فریش موڈ یکدم ہی خراب ہو گیا تھا۔
’’اسجد! میں جانتی ہوں وہ لوگ آپ کو نہیں پسند ٗ مگر وہ جیسے بھی ہیں میرے اپنے ہیں اور میں اس گھر میں تنہا زندگی گزارتے ہوئے اپنوں کی اہمیت سے واقف ہو گئی ہوں ٗ اپنا مارتا بھی ہے تو ڈالتا چھائوں میں ہی ہے اور خالہ میرے لئے اگر کڑی دھوپ ثابت ہوئیں بھی تو سایہ دار شجر بھی وہی رہیں ٗ اس لئے بار بار نہ سہی ایک بار مجھے ان کے پاس لے جائیں کہ آپ نے مجھ سے وعدہ بھی کیا تھا ٗ پلیز اسجد! آپ کو میری قسم!‘‘ وہ رو رہی تھی‘ التجا کر رہی تھی اور اس نے اسے تنبیہہ کرتی نگاہوں سے دیکھا ٗ رونے سے باز رہنے کو کہتے ہوئے لے جانے کیلئے حامی بھر لی ٗ وہ دلکشی سے مسکرائی تو وہ اس کے کھل جانے والے چہرے کو دیکھ اسے نرمی سے اپنے قریب کر گیا تھا۔
٭٭٭
’’ارحم بھیا! آپ شادی کے بعد بدل تو نہیں جائیں گے ناں؟‘‘ وہ شدتوں سے روتی یقین مانگ رہی تھی۔
’’تم سے کس نے کہا؟ ایسا کچھ نہیں ہوگا سمجھیں؟‘‘ جھنجھلا کر کہہ کر نرمی سے اس کے آنسو صاف کئے تھے۔
’’نہیں آپ بدل جائو گے ٗ آپ جب سے پنڈی گئے ہیں تو میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں ٗ آپ بدل گئے تو میں تو مر ہی جائوں گی ٗ بس آپ لاج سے شادی نہ کریں۔‘‘ وہ اس کی شرٹ بازو سے جکڑے مستقل رو رہی تھی ٗ ماحول ایک دم ہی مکدر ہو گیا تھا ٗ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی؟
’’نہیں بیٹا! روئو نہیں کہ شازمین تو مذاق کر رہی تھی۔‘‘ فریدہ نے اس تک آکر اسے خود سے لپٹا لیا تھا جس کے رونے میں اضافہ ہو گیا تھا۔
’’آپ سچ کہہ رہی ہیں ناں پھپھو! ارحم بھیا ہمیشہ مجھ سے محبت کرتے رہیں گے ناں؟‘‘ وہ یقین چاہ رہی تھی۔
’’ہاں کیوں کہ میری نینی کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ٗ محبت و رشتے کبھی نہیں بدلتے اور بیوی کے آجانے سے بھی تمہاری اہمیت کم نہیں ہو گی ٗ میری چھوٹی سی دوست ٗ پیاری سی بہن ہمیشہ اہم رہے گی۔‘‘ وہ اس کو بازو سے تھام کر اس کا رخ اپنی طرف موڑ گیا تھا اور وہ اس سے لپٹ کر مزید رو پڑی تھی۔
’’آئی لو یو ارحم بھیا! آپ نہیں جانتے آپ میرے لئے کتنے اہم ہو ٗ مجھے آپ بالکل اپنے پاپا کی طرح لگتے ہو ٗ جب جب میں ان کی تصویر دیکھتی ہوں تو اس میں آپ کی شبیہہ اترنے لگتی ہے اور جب آپ پنڈی گئے تو مجھے لگا کہ میں اب آپ کو پاپا کی طرح کھو دوں گی ٗ آپ سے بات نہیں ہو رہی تھی تو مجھے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہو رہی تھیں ٗ آپ کبھی مجھے خود سے دور نہ کرنا ٗ پاپا کی طرح مجھے کبھی چھوڑ کر نہ جانا کہ آپ صرف میرے دوست ٗ میرے ارحم بھیا نہیں ہو ٗ آپ میرے پاپا کی طرح ہو۔‘‘ وہ اس کے سینے سے لگی بلکتے ہوئے کہہ رہی تھی اس نے اسے بہت مشکل سے چپ کروایا اور شرمندہ سی کھڑی شازمین کو گھورنے لگا ٗ جو اس کی تپتی نگاہیں خود پر محسوس کرتی منمنائی تھی۔
’’آئی ایم سوری ٗ میں تو صرف مذاق کر رہی تھی ٗ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حنین سیریس ہو جائے گی۔‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔
’’کیا اس کی جذباتیت سے واقف نہیں ہو ٗ جو اس سے مذاق کرنے چلی تھیں؟ اور ایسے بے ہودہ مذاق کی ضرورت ہی کیا تھی ٗ اس کے کچے ذہن میں رشتوں کا منفی تاثر ڈالنے کی تم نے حماقت کیسے کر لی؟ جبکہ جانتی ہو کہ جو بات اس کے ذہن میں بیٹھ جائے نکلتی نہیں ہے اسے رشتوں کی پوزیٹیوٹی سکھانی ٗ سمجھانی ہے نہ کہ تم اس سے فضول بکواس کرتیں۔‘‘ نرم خو ارحم الحسن اس پر الٹ پڑا تھا ٗ فریدہ ہی نہیں اندر آتے راحم نے بھی اس کے غصے کو اچھبنے سے دیکھا تھا۔
’’ارحم بیٹا! غصہ کیوں کر رہے ہو؟ شازمین تو بس مذاق کر رہی تھی۔‘‘ شازمین کو روتے دیکھ کر انہوں نے بیٹے کو سرزنش کی تھی۔
’’آئندہ اتنا سنگین مذاق کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ٗ میں ہر رشتے کو اس کی مناسب اہمیت دینا جانتا ہوں ٗ میں نے ہر رشتے میں توازن رکھا ہے ٗ ہاں حنین بچپن سے مجھ سے اٹیچ زیادہ رہی ٗ لیکن اس کے باوجود حنین اور مائدہ میں ٗ میں نے کبھی فرق روا نہیں رکھا ٗ حنین کی فرمائش پر اگر اس کیلئے کچھ لایا تو بھی مائدہ کو یاد رکھا ٗ میرے لئے دونوں بہنیں برابر ہیں ٗ کبھی پلڑا بھاری ہوا تو صرف اس لئے کہ میں نے حنین کو ہمیشہ اپنی دوست کہا اور سمجھا اور میں اب اتنا کم ظرف نہیں ہوں کہ بیوی کے آتے ہی ماں بہنوں اور دوست کو یکسر فراموش کر ڈالوں گا ٗ اس لئے بہتر ہوگا کہ فضول کی پیشن گوئیوں سے پرہیز کیا جائے۔‘‘ وہ ہرگز بھی دھیما نہیں پڑا تھا اور تن فن کرتا نکلتا چلا گیا تھا۔ شازمین شدتوں سے رونے لگی تھی ٗ فریدہ کو ڈر لگا تھا کہیں راحم کو بڑے بھائی کا غصہ کرنا برا ہی نہ لگا ہو؟ اس لئے انہوں نے ڈرتے ڈرتے بیٹے کو دیکھا تھا ٗ مگر وہ نارمل ہی لگا تھا اس نے آگے سے کچھ پوچھنے کی کوشش بھی نہ کی تھی ٗ لیکن انہوں نے خود ہی اسے بات بتائی تھی اور شازمین کو چپ کروانے لگی تھیں۔
’’ارحم بھیا کا غصہ جائز تھا مما! سب ہی حنین کی جذباتیت سے واقف ہیں ٗ اس لئے شازمین کو مذاق میں بھی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔‘‘اس نے دھیمے سے کہا تھا۔
’’پھپھو! سچی میں تو صرف مذاق کر رہی تھی۔‘‘ وہ سوں سوں کرتی بولی تھی اور انہوں نے اسے پچکار کر ارحم کی طرف سے بھی معذرت کی تھی۔
’’نہیں پھپھو! مجھے ارحم بھیا کا ڈانٹنا بالکل برا نہیں لگا ٗ ابو اور اسجد بھائی کی طرح وہ بھی مجھے ڈانٹنے کا حق رکھتے ہیں۔‘‘ وہ یکدم ہی مطمئن ہو گئی تھیں۔
’’تم جا کر فریش ہو کر آئو ٗ میں جب تک چائے گرم کر لیتی ہوں۔‘‘ نرمی سے اس کا گال تھپتھپایا تھا۔
٭٭٭
’’آئی ایم سوری مما! بٹ میں خود پر کنٹرول نہیں کر سکا تھا۔‘‘ ماں کے سرزنش کرنے پر وہ شرمندگی سے بولا تھا۔
’’لیکن آئندہ خیال رکھنا شازمین تمہاری بھابی ہے اور اس کی کوئی اتنی خاص غلطی بھی نہیں تھی کہ بہنیں آپس میں ہنسی مذاق کر ہی لیتی ہیں ٗ حنین تو ہے ہی جذباتی ٗ تمہیں جذباتیت دکھانے کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘ انہوں نے جو غلط محسوس کیا تھا اس کا احساس دلانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
’’دراصل مما! اس کو روتا دیکھ پانا میرے اختیار میں ہی نہیں ہے اور آپ نے سنی تھیں ناں اس کی باتیں ٗ وہ میرے لئے کس انداز سے سوچتی ہے ٗ اس کیلئے میرے جذبات بھی بہت سچے اور انمول ہیں ٗ مگر جو پچھلے دنوں ہوا اس کا خیال اور وہ حنین کو پتہ نہ لگ جائے کبھی اس کا خوف کتنی ہی باتیں ایک ساتھ ملیں میں ہائپر ہو گیا کہ بھابی نہ بھی سمجھوں تو بہن سے بھی مجھے اس طرح بات نہیں کرنی چاہئے تھی ٗ بہرحال شازمین ہر لحاظ سے‘ ہر رشتے سے میرے لئے اہم اور قابل احترام ہے اور آپ فکر نہ کریں جو زیادتی اس کے ساتھ کی ہے اس سے معافی مانگ کر ازالہ کر لوں گا۔‘‘ وہ سچائی سے کہہ رہا تھا ٗ انہیں یکدم اطمینان ہو گیا تھا ٗ وہ اختلافات نہیں چاہتی تھیں اور گھر کا سکون آپسی پیار اور مطابقت پر انحصار کرتا ہے ٗ اس لئے انہوں نے پہلے ہی موڑ پر غلطی کی نشاندہی کر دی تھی ٗ کچھ رشتے بہت نازک ہوتے ہیں ٗ وہ چاہے پہلے شازمین کو بہن کا درجہ دیتا اور بعد میں بھابی کا ٗ اسے احترام بہرحال کرنا تھا۔
’’مگر تم حنین کے معاملے میں اکثر توازن نہیں رکھ پاتے اور جو اب تک ہوا ٹھیک تھا ٗ مگر آگے کیلئے سوچنا پڑے گا کہ اس کا نکاح ہو گیا ہے ٗ کچھ سالوں میں رخصتی بھی ہو جائے گی ٗ کنعان اس سب کو کس نہج پر لے جا کر سوچے گا ٗ ہم نہیں جانتے ٗ بیٹا! انسان دیکھتا پہلے پرکھتا بعد میں ہے ٗ تمہارے دل و نگاہ میں کتنی محبت و احترام ہے یہ کوئی نہیں دیکھے گا ٗ …..
