Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17

’’آپ غصہ نہ کریں ٗ مامی! میں اسے سمجھا کر لے آئوں گی۔‘‘
ماہ کنعان سڈنی جا رہا تھا اس لئے نوید عالم نے اسے معہ فیملی کے اپنے گھر دعوت پر مدعو کیا تھا اس کے والدین نے صاف اس کے منہ پر جانے سے انکار کر دیا تھا اس لئے وہ فیصل اور اس کی بیوی اور ماہ کے ساتھ کاشانہ عالم چلا آیا تھا اور وہ جو ارحم کی منگنی کی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی ایک ہفتہ سے الحسن ہائوس میں ہی تھی اور آج اسے ماہ کنعان کی دعوت کی وجہ سے واپس بلا لیا گیا تھا ٗ اسی لئے اس کا موڈ آف تھا ٗ سمجھا بجھا کر اسے اور مائدہ کو ارحم چھوڑ گیا تھا اور وہ آ تو گئی تھی مگر کمرے میں بند ہو گئی تھی اور نرم خو ساجدہ کو غصہ آ گیا تھا کہ مہمان نیچے آئے بیٹھے تھے اور وہ روٹھ کر بیٹھی کمرے سے ہی نکلنے کو تیار نہ تھی۔
’’مائدہ! اس کی حمایت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لاڈ اٹھا اٹھا کر ہم سب نے ہی اسے سر پر چڑھا لیا ہے۔‘‘ وہ بیٹی کو غصہ سے دیکھ رہی تھی۔
’’اور تم اٹھو ٗ تیار ہو کر ڈرائنگ روم میں پہنچو کہ اگر تم نے کوئی بے وقوفی یا غصہ دکھایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ انہوں نے اس کیلئے نکاح میں آئے سوٹوں میں سے ایک سوٹ نکالا تھا اور اس کی میچنگ کی اشیاء نکالتے ہوئے بولی تھیں اور اسے اٹھتے نہ دیکھ زبردستی بازو سے پکڑ کر واش روم میں دھکیلا تھا۔
’’مائدہ ٗ اسے لیکر نیچے آ جانا کہ آج اس نے کوئی الٹی حرکت کی تو میں اسے جان سے مار دوں گی۔‘‘ وہ اسے تنبیہی نگاہوں سے گھورتیں مائدہ کی طرف پلٹی تھیں اپنی بات کہہ کر اس کے روم سے نکل گئی تھیں۔
’’چندا! ہر بات میں ضد نہیں کرتے کہ کنعان بھائی کو تو ویسے بھی ماموں جان نے انوائٹ کیا ہے اور اچھا میزبان وہ ہوتا ہے ٗ جو اپنے مہمان کی عزت کرے ٗ اس کا خیال رکھے۔‘‘ اس نے بمشکل اسے چپ کروا کر اس کا میک اپ کرنا شروع کرتے ہوئے سمجھایا تھا۔
’’انہیں میں نے تو نہیں بلایا ہے ٗ اس لئے مجھے نہیں رکھنا ان کا خیال کہ وہ مجھے بالکل اچھے نہیں لگتے۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی تھی اور مائدہ کی سرزنش بھری ’’اوہوں‘‘ کے باوجود مزید بول رہی تھی۔
’’اپیا! وہ بہت عجیب باتیں کرتے ہیں اور تو اور بہانے بہانے سے چھونے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے ان کے سامنے کے خیال سے ہی وحشت ہونے لگتی ہے۔‘‘ وہ منمناتے لہجے میں بولی تھی جبکہ اس کے بالوں میں فرنچ ناٹ بناتے مائدہ کے ہاتھ تھم گئے تھے۔
’’بکواس مت کیا کرو حنین! تم ان کی منکوحہ ہو ٗ اگر وہ تم سے کچھ کہہ دیتے ہیں یا ہاتھ وغیرہ پکڑ لیں تو یہ قطعاً غلط نہیں ہے کہ تم اب بچی نہیں رہی ہو کہ ہر کہنے اور نہ کہنے والی بات کا پرچار ہی کر ڈالو۔ رشتے اور ان کی نزاکتوں کو سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘ اس کی بے وقوفی اسے بری طرح کھلی تھی اور وہ اس بے وقوفی کا مظاہرہ کسی اور کے بھی سامنے کرے اس لئے مائدہ نے اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا جبکہ وہ تو نرم خود مائدہ کے ڈانٹنے پر روہانسی ہو گئی تھی۔
’’اور یاد رکھنا ٗ رشتہ چاہے کیسے ہی حالات میں جڑا ہو ٗ کنعان بھائی تمہیں ناپسند ہوں مگر رشتہ اب قائم ہو چکا ہے اس لئے اپنے رشتے کو عزت و اہمیت دینا سیکھو۔‘‘ وہ اسے فوراً نیچے آنے کی ہدایت کرتی ڈانٹتی ٗ بہت کچھ سمجھاتی اس کے روم سے نکل گئی تھی۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ان تینوں کی پریشانی بڑھ رہی تھی ٗ وہ نہیں آئی تو کیا ہوگا؟ آ گئی تو کیسا بی ہیو کرے گی؟ وہ تینوں ہی وسوسوں کا شکار تھیں کہ وہ چلی آئی تھی۔ فیصل سے بات کرتے ماہ کنعان نے اس کی آواز پر سر اٹھایا تھا ٗ اس نے سب پر سلامتی بھیجی تھی اور اس کی نگاہ اس کے آتشی روپ پر ٹکی تھی ٗ نیوی بلو لانگ شرٹ اور چوڑی دار پاجامے میں سلیقے سے کئے میک اپ اور جیولری میں وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی۔
’’ایڈیٹ! سب کی موجودگی میں تو اپنی نگاہ کو قابو میں رکھ۔‘‘ اس کی بے خودی سی محسوس کرکے اس کے ساتھ بیٹھے فیصل نے اس کے بازو پر چٹکی لی تھی اور اس کے متوجہ ہوتے ہی تنبیہہ کی تھی وہ خفیف سا ہو کر نظر چرا گیا تھا۔ وہ اب ماہ لاج اور سمیرا سے مل رہی تھی۔
’’ہم کب سے آئے ہوئے ہیں ٗ صرف لالہ جان ہوتے تو ان کو انتظار بھی کرواتیں ٗ ہم سب کو کس خوشی میں انتظار کروایا ہے۔‘‘ ماہ لاج نے اسے شرارت سے چھیڑا تھا ٗ اس نے گڑبڑا کر ماہ لاج کو دیکھا تھا اور اس کے ساتھ والے صوفے پر براجمان اسی کی جانب متوجہ کنعان کو دیکھ نگاہ جھکاتی لب چبانے لگی تھی۔
’’اس کی طبیعت تو ٹھیک ہے ٗ کافی اداس لگ رہی ہے اور آنکھیں الگ رونے کی چغلی کھا رہی ہیں ٗ سب خیریت تو ہے؟‘‘ اسے اس کی فکر ہونے لگی تھی ٗ اس کے کہنے پر فیصل نے اس کی جانب توجہ دی تھی ٗ وہ سمیرا کی بات پر مسکرائی تھی ٗ مگر انداز ایسا تھا کہ جبراً مسکرائی ہو۔
’’ہو سکتا ہے کوئی بات ہوئی ہو کہ تمام تر ناز کی بھی تو آپ کی مسز پر ختم ہے۔‘‘ اسے پریشان ہوتے دیکھ شرارت کا سہارا لیا تھا کہ اس کا چہرہ ٹھٹکا تو فیصل کو بھی گیا تھا۔
’’اوہوں ٗ لیکن! قسم سے صرف تیری بات رکھنے کو آج تک ہمارے درمیاں فاصلے ہیں ٗ ورنہ حق سے پوچھ لیتا کہ آنکھیں سرخ میری یاد میں کرلی ہیں تو میں ہوں میری جان! تمہاری جاں کا قرار بنے تمہارے سامنے ٗ مگر ہائے ری قسمت! دل کا مکین بے خبر و بے نیاز ٗ یار بنا سنگدل تو بس آہیں ہی بھرے جائو۔ ماہ کنعان عابدی!‘‘ وہ ایک بھرپور نظر اس کے اداس روپ پر ڈالتا ٗ ساتھ بیٹھے فیصلے سے سرگوشیوں میں دل کی بات کر رہا تھا۔
’’تو ٗ نہیں سدھر سکتا ٗ الٹی سیدھی بکواس ہی کرتے رہنا۔‘‘ اسے گھورا تھا اور وہ مسکرا دیا تھا تب ہی مائدہ لوازمات سے بھری ٹرالی لئے چلی آئی تھی اور ماں کے ایک اشارے پر وہ ان پر ایک خفا نظر ڈالتی جیسے نہ چاہتے ہوئے بھی آئی تھی اسی طرح نہ چاہتے ہوئے بھی سرونگ کے فرائض انجام دینے کو آگے بڑھی تھی۔
’’ہم سب خود لے لیں گے ٗ خدمتیں کرنی ہیں تو کنعان بھائی کی کرو۔‘‘ سمیرا کے کہنے پر اس کا حسین چہرہ پر حجاب سی سرخی سے سج کر اور حسین ہو گیا تھا اور وہ ناچار ایک پلیٹ سجاتی اس کی طرف بڑھا گئی تھی۔ اس نے نظر اٹھا کر اس کے کانپتے ہاتھوں اور لرزتی پلکوں کو دیکھا اور پلیٹ بڑی خاموشی سے تھام گیا کہ اسے اندازہ تھا کہ وہ خواتین چاہے اپنی باتوں میں لگ گئی تھیں مگر توجہ اسی جانب تھی۔
’’آپ! چائے میں کتنی چینی لیں گے؟‘‘ وہ ٹرالی ان کے صوفے کے قریب گھسیٹ چکی تھی فیصل نے شکریہ کے ساتھ ریفریشمنٹ آئٹم سے بھری پلیٹ پکڑی تھی اور وہ وہیں ٹرالی کے نزدیک کارپٹ پر گھٹنوں کے بل بیٹھتی چائے بنانے لگی تھی۔ فیصل کو کپ پکڑا کر ناچار اس کو مخاطب کیا تھا جبکہ اس کی بات اس نے سن کر بھی نہیں سنی تھی کہ اس کے ارتکاز کے تمام دھاگے اس کے صبیح چہرے سے الجھے تھے اور اس نے اپنی بات کا جواب نہ پاکر اس کی جانب دیکھا تھا ٗ سفید رنگت اور تیکھے نین نقش والا ماہ کنعان جی جان سے اس کی جانب متوجہ تھا۔ اس کے دیکھنے پر اس کی سیاہ نشیلی آنکھیں مسکرائی تھیں اور وہ گڑبڑا کر نگاہ جھکا گئی تھی۔
’’ایک چمچ چینی ڈال دو کہ کنعان کو میٹھا زیادہ پسند نہیں ہے۔‘‘ وہ بھاگنے کو پر تولتی حنین کو دیکھ نہایت شاہستگی و نرمی سے بولا تھا۔
’’چینی کی ضرورت نہیں ہے ٗ چائے میں تمہارا انگلی گھما دینا ہی کافی ہو گا۔‘‘ مسکرا کر شرارت سے پر انداز میں کہتا اسے کنفیوژ کر گیا تھا اور وہ حیرانگی سے ان دونوں کو ہی دیکھنے لگی تھی۔ فیصل نے اسے کہنی مار کر دھیمے سے اپنی بات دہرائی تھی جبکہ وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے لب کچلتے ہوئے فیصل کے کہے کے مطابق ایک چمچ چینی ڈالی تھی پھر نہ جانے کیا اس کے من میں سمائی تھی کہ وہ بھر بھر کر کتنے ہی چمچ چینی کپ میں ڈالتی ٗ چائے اس کی طرف بڑھا گئی تھی اس کے دہکتے چہرے کو دیکھ وہ کپ تھام گیا تھا جبکہ وہ اٹھی تھی اور کسی کو بھی دیکھے بغیر وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔ اس کی حرکت پر متحیر کنعان نے اسپر نظر کی تھی جس کے چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ رقصاں تھی۔
وہ اسے گھور بھی نہیں پایا تھا کہ ساجدہ نے اسے مخاطب کیا تھا کہ وہ کچھ لے نہیں رہا؟ ناچار اس نے کباب اٹھا لیا تھا اور اسی وقت اسجد اور نوید عالم چلے آئے تھے اور سلام دعا کے بعد جیسے ہی اسجد کی نگاہ اس کے بھرے کپ پر پڑی تھی وہ ناچار چائے کا گھونٹ لے گیا تھا اور ایک ہی سپ اس کا دل متلا گیا تھا کہ وہ چائے کیا تھی چائے کم شربت تھا اور وہ تو میٹھا ہی کم پسند کرتا تھا۔
’’اب بھگت بیٹا ٗ کہ وقت دیکھتا ہے نہ موقع ٗ بکواس شروع کر دیتا ہے۔‘‘ وہ متبسم سا اس کی حالت سے حظ اٹھا رہا تھا۔
’’آئندہ انگلی گھوموانے کا سوچنا بھی مت۔‘‘ اس کے ہاتھ سے کپ لیکر شرارت سے بولا تھا اور اسے مشکل سے نکالنے کو چائے کم شربت کا مگ خالی کر دیا تھا اور وہ اس کی فکر اور ایثار پر مسکرا دیا تھا۔
’’تیری جگہ وہ تیری سنگدل بھابی ہوتی تو پیار بھرے انعام کی مستحق ٹھہرتی۔‘‘ سرگوشی کی تھی فیصل اسے گھور کر نوید عالم کی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔
’’تمہارے والد صاحب تو سیاست کا باقاعدہ حصہ ہیں ٗ خود تمہارے کیا ارادے ہیں؟‘‘
اس سے اب اکثر ملنا ملانا ہو جاتا تھا اور اس کی فطرت کی اچھائیاں ان پر کھلنے لگی تھیں اس لئے وہ جبراً لئے فیصلے پر بھی مطمئن ہونے لگے تھے مگر آخری پھانس جو تھی اس کو نکالنا باقی تھا اس لئے موضوع چھیڑ گئے تھے۔
’’ڈیڈ کی تو یہی مرضی ہے کہ میں سیاست میں اپنا کیریئر بنائوں مگر مجھے اس سب میں چنداں دلچسپی نہیں ہے ٗ اسی لئے فی الحال تو ڈیڈ کے کہنے پر سڈنی جا رہا ہوں ٗ واپسی پر سوچوں گا کہ کیا کروں گا کہ ابھی تک تو سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں ہے۔‘‘ اس کا جواب انہیں مطمئن نہیں کر سکا تھا تب ہی مائدہ کھانا لگ جانے کا سندیسہ لیے چلی آئی تھی ٗ کھانا بہت خوشگوار موڈ میں کھایا گیا تھا ٗ حنین کی خاموشی و سنجیدگی اس کیلئے پریشان کن تھی اور وہ سڈنی سے واپسی پر اس سب کا کوئی حل نکالنے کا سوچتا ایک لمبے سفر پر چلا گیا تھا۔
٭٭٭
’’تمہیں اپنا ڈریس کیسا لگا؟‘‘ ہلکی پھلکی سی تیار ہوئی اسٹائلش سوٹ میں ماہ لاج بہت حسین لگ رہی تھی ٗ اس کے چہرے پر شرمگیں مسکراہٹ ٹھہری تھی ٗ اندر آتیں ماہ لقا نے بیٹی کا گلنار چہرہ دیکھا تھا اور نجانے کیوں تمام وہم اڑن چھو ہو گئے تھے۔
’’السلام علیکم آنٹی!‘‘ اس نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے سلام کیا تھا ٗ نکاح کے بعد ان کا پہلا سامنا تھا کہ نکاح سے پہلے بھی وہ ان سے محض تین بار ہی مشکل سے ملی ہو گی ٗ انہوں نے ایک نظر گلابی چہرے والی نازک سی لڑکی کو دیکھا اور نخوت سے جواب دے کر صوفے پر بیٹھ گئیں ٗ اس کا بڑھا ہوا ہاتھ بڑھا ہی رہ گیا تھا‘ جسے اس نے سبکی کے احساس کے ساتھ نامحسوس طریقے سے نیچے کر لیا تھا ٗ فریدہ کی نگاہ ان ہی پر تھی ٗ اس لئے انہیں ان کی حرکت عجیب ہی لگی تھی اور اب وہ بھتیجی کو لب چباتے ہوئے پلکیں جھپکتے دیکھ رہی تھیں ٗ ماہ لقا کے مخاطب کرنے پر ان کی جانب متوجہ ہو گئی تھیں۔
’’ارحم! آپ لوگوں کے ساتھ نہیں آیا؟‘‘ وہ ماں کو دیکھنے لگی تھی ٗ جو اپنے مخصوص انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھی تھیں۔
’’کچھ مصروف تھا لیکن انشاء اللہ اب تو آنا جانا لگا ہی رہے گا۔‘‘ انہوں نے بات بنائی تھی جبکہ ان کی روایات کے مطابق اس وقت لڑکے کے آنے کی ضرورت ہی نہ تھی ٗ مگر یہ انہوں نے کہا نہیں تھا۔
’’لاج! ذرا نوراں سے کہہ کر ناشتے کا انتظام کروا لینا ٗ میری ایک میٹنگ ہے ٗ اس لئے مجھے جانا ہوگا۔‘‘ ماں کی بات پر وہ لب کچلنے لگی تھی جبکہ اندر آتا ماہ کنعان بھی چونک اٹھا تھا۔
’’واٹ آ پلیز نٹ سرپرائز…!‘‘ بیٹے کو دیکھ کر انہوں نے جوش دکھایا تھا ٗ وہ مگر مسکرا بھی نہ سکا تھا ٗ ماں کا یہ مصنوعی پن اسے ہمیشہ ہی کھلتا تھا ٗ اس نے شائستگی سے فریدہ کو دیکھتے ہوئے مشترکہ سلام کیا تھا جبکہ نگاہ لمحے بھر کو ان کے ساتھ گردن جھکائے بیٹھی دشمن جاں پر بھی ٹھہری تھی ٗ جو غیر معمولی سنجیدہ لگ رہی تھی اسے تقریباً ایک ماہ بعد دیکھ کر اس کے ذہن و دل ترو تازہ ہو گئے تھے ٗ مگر وہ ماں کے وہاں سے جانے کے سبب اس پر توجہ برقرار نہ رکھتے ہوئے ماں کے پیچھے ہی بڑھا تھا اور وہ آنکھوں میں آئی نمی پیچھے دھکیلتی فریدہ سے ماں کے رویے کی معذرت کرنے لگی تھی ٗ انہیں وہ چھوٹی سی، پیاری سی لڑکی یکدم ہی بہت اپنی اپنی سی لگی تھی۔
’’کوئی بات نہیں بیٹا! ہر انسان کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں اور ویسے بھی ہم یہاں تمہاری وجہ سے آئے ہیں اور جب ہماری بیٹی ہمارے ساتھ ہے ٗ تو کسی کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ٗ ہمارے لئے سب سے زیادہ اہم تو تم ہو۔‘‘ وہ فریدہ کے پر شفقت و محبت سے لبریز لہجے پر انہیں حیرت سے دیکھنے لگی تھی اور ان کے مسکرانے پر خود بھی بھیگی پلکوں سے مسکرا دی تھی ٗ جب وہ ماں سے الجھتا ان کو ان کے برے رویے کا احساس دلانے میں ناکام ہو کر لوٹا تھا ٗ تو ڈرائنگ روم کی فضا کافی تسلی بخش تھی اور وہ سفر کی تھکان کے باوجود ماں کے رویے کے ازالے کے احساس سے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا تھا ٗ فریدہ اس سے بزنس ٹرپ کا احوال پوچھنے لگی تھیں اور ان سے بات کرتے ہوئے وہ اس کو بھی نوٹ کرتا رہا تھا ٗ جو بہت سنجیدہ بیٹھی تھی کیوں؟ یہ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ٗ اس کے دل کا سوال مائدہ پوچھ بیٹھی تھی۔
’’حنین! کیا ہوا چندا… اتنی خاموشی کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ اس نے آواز پر سر اٹھایا تھا اس کی آنکھیں نم اور سرخ ہو رہی تھیں۔
’’ہم گھر کب جائیں گے؟ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔‘‘ کب کے رکے آنسو اس کے ایک عام سے سوال پر گرنے لگے تھے ٗ فریدہ نے اسے دیکھا تھا جو یکدم ہی مضطرب نظر آنے لگا تھا۔
’’تھوڑی دیر بعد چلیں گے۔‘‘ ٹرالی گھسیٹ کر لاتی ماہ لاج کو دیکھ نرمی سے اسے تسلی دی تھی ٗ ماہ لاج نے اسے پلیٹ میں ریفریشمنٹ آئٹمز ڈال کر دیئے تھے ٗ مگر اس نے کچھ بھی لینے سے منع کر دیا تھا اور فریدہ کے کہنے پر محض چائے کے گھونٹ بھرنے لگی تھی ٗ جو اسے اپنے حلق میں اٹکتے محسوس ہو رہے تھے ٗ وہ تو اب تک ماہ لقا کے رویے میں الجھی تھی ٗ ماہ لاج نے اسے مخاطب کیا تھا ٗ وہ اپنے ہی خیالوں میں الجھی بیٹھی بری طرح چونکی تو ہاتھ میں پکڑا چائے کا مگ چھلک گیا ٗ وہ ’’سی‘‘ کرتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
’’ڈونٹ وری… آئو میرے ساتھ۔‘‘ وہ اسے لئے باہر نکلی تھی ٗ اسے شرارت سوجھی تھی اور وہ اسے ماہ کنعان کے کمرے کے دروازے پر چھوڑ کر باہر سے ہی پلٹ گئی تھی ٗ اس نے ماہ کنعان کو بھی تو بھیجنا تھا ٗ وہ اپنی شرارت پر متبسم سی ان سب کے درمیان آئی تھی۔
’’لالہ جان! آپ سفر سے آئے ہیں ٗ فریش ہو جاتے تو اچھا تھا۔‘‘ شازمین سے بات کرتے کرتے یکدم انجان بن کر چونکنے والے انداز میں بولی تھی اور فریدہ نے بھی فوراً ہی اس کے مشورے کو سراہا تھا اور وہ بھی اٹھنا تو چاہتا تھا ٗ مروتاً بیٹھا تھا ایکسکیوز کرتا اپنے کمرے میں آ گیا تھا ٗ مگر بیڈ پر بیٹھی روتی ہوئی حنین کو دیکھ کر اسے نہ صرف حیرت ہوئی تھی ٗ بلکہ پریشانی نے بھی آ گھیرا تھا۔
’’حنین…!‘‘ اس کے سامنے رک کر پکارا تھا ٗ اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ٗ ان دونوں کے درمیان محض چند قدموں کا فاصلہ تھا ٗ اس نے اپنے آنسو رگڑے اور جانے کیلئے آگے بڑھی تھی کہ وہ اس کی کلائی تھام گیا۔
’’کیوں رو رہی ہو؟‘‘ نرمی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا۔
’’آپ سے مطلب؟‘‘ ہاتھ چھڑاتے ہوئے وہ بھڑکی تھی ٗ مگر اس نے ہاتھ چھوڑنے کے بجائے یوں جھٹکا دیا تھا کہ وہ اس کے سینے سے آ لگی تھی ٗ اس کی تو جان ہی ہوا ہونے لگی تھی ٗ اس کی نگاہ نے بہت نرمی سے اس کے چہرے کے بھیگے بھیگے نقوش چھوئے تھے ٗ وہ بدک کر دور ہوئی تھی ٗ نگاہ جھکائے ٗ لب کچلتی ٗبھاگنے کو پر تولتی وہ پیاری سی لڑکی اسے بہت خاص لگی تھی۔
’’یار! اتنا ڈرتی کیوں ہو؟ اچھا خاصا ہینڈسم ہوں ٗ ایک جہان کی لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر اور تم ہو کہ مجھے دیکھ کر یوں بھاگنے لگتی ہو ٗ جیسے میں کوئی دیو ہیکل جن ہوں۔‘‘ وہ اس کی کلائی ہنوز تھامے ہوئے تھا ٗ جسے وہ چھڑانے کی کوشش میں تھی ٗ مگر اس کی مضبوط گرفت سے ہاتھ نکالنا اتنا بھی آسان نہ تھا۔
’’آپ پلیز مجھے جانے دیں۔‘‘ وہ منمنائی تھی۔
’’ارے… جانے دوں ٗ آج تو جانے نہیں دے سکتا ٗ اب تک تو میں تمہارے پیچھے تھا اور آج تو تم خود چل کر میرے کمرے تک آئی ہو۔‘‘ وہ شریر ہوا تھا ٗ ہاتھ چھوڑ کر ماتھے پر جھولتی سیاہ لٹ کو ہاتھ بڑھا کر ماتھے سے پرے کیا تھا ٗ وہ بدک کر دور ہوئی تھی اور پیچھے دو قدم کے فاصلے پر موجود بیڈ پر گری تھی ٗ وہ اس کی گھبراہٹ انجوائے کرتا بیڈ کے پاس ہی نیچے کارپٹ پر اس کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا تھا۔
’’بلیومی… میں خود نہیں آئی ٗ وہ لاج مجھے چھوڑ گئی تھی اور سچی مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ آپ کا روم ہے ٗ ورنہ میں نہیں آتی ٗ پلیز مجھے جانے دیں۔‘‘ وہ نیر بہاتے ہوئے منمنائی تھی کہ ایک دفعہ پہلے بھی اس کمرے میں آئی تھی مگر رونے کی وجہ سے اس نے کمرے پر توجہ ہی کب دی تھی۔ وہ اس کا ہاتھ ہٹاتی اٹھنے لگی تھی ٗ وہ اس کے دونوں ہاتھ تھام گیا تھا اور پیار سے اس کا چہرہ تکنے لگا تھا۔
’’ہاں تم سے یہی امید تھی ظالم لڑکی ٗ وہاں باہر ایک دفعہ جو مجھے دیکھا ہو ٗ جانتی ہو میں نے تمہیں کتنا مس کیا ٗ مگر کہاں اندازہ تھا کہ تم آج ہی دل کا سکون بن کر ٹکرا جائو گی ٗ اپنی تمام تر سادگیوں کے باوجود بہت پیاری لگ رہی ہو ٗ مگر یار! رو کیوں رہی تھیں؟ اداس کیوں ہو ٗ کیا تم بھی مجھے مس کر رہی تھیں؟‘‘ وہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہ بولے گی ٗ اس لئے ایک ہی سانس میں کتنے ہی سوال کر ڈالے تھے۔
’’میں نے آپ کو بالکل مس نہیں کیا تھا ٗ اب مجھے جانے دیں۔‘‘ وہ بے بسی سے گویا ہوئی تھی ٗ وہ اس کے سامنے یوں بیٹھا تھا کہ وہ جانا تو دور کھڑی بھی نہیں ہو سکتی تھی۔
’’قسم سے تمہاری یہ صاف گوئی اور بے اعتنائی میری جان لے لے گی ٗ جھوٹے منہ ہی کہہ دیتیں کہ مس کیا تھا۔‘‘ وہ خائف و ناراض ہوئے بنا ہنوز شوخی سے بولا تھا۔
’’میں جھوٹ نہیں بولتی ٗ اب جانے دیں ناں پلیز…!!‘‘ وہ خفگی سے کہہ کر ملتجی ہوئی تھی۔
’’اداسی کا سبب بتا کر چلی جائو کہ کچھ دیر تم اور میرے سامنے رہیں تو قسم سے میرا خود پر اختیار نہیں رہے گا ٗ تم تو میرے سارے ایمان ڈانواں ڈول کر دیتی ہو۔‘‘ نرمی سے اس کا رخسار چھو کر پیشانی پر لب رکھتا اس کی جان نکالتا کھڑا ہو گیا تھا جبکہ وہ تو بیٹھی ہی رہ گئی تھی ٗ اس نے اسے دیکھا تھا جس کا مہتابی رنگت والا کتابی چہرہ دہک رہا تھا اور وہ لب کچلتی داہنے ہاتھ کی پشت سے پیشانی مل رہی تھی۔
’’تمہارا بھی جانے کا دل نہیں کر رہا ناں؟‘‘ اس کی حالت سے حظ اٹھاتے ہوئے شوخی سے کہا تھا ٗ اس نے بھیگی پلکیں اٹھائیں ٗ خفگی و ناراضی سے اسے دیکھتی اس کی بولتی شوخ آنکھوں کی تاب نہ لاتے ہوئے نگاہ جھکاتی اٹھی تھی۔
’’بتا دو یار! اداس کیوں ہو؟ ورنہ میں پریشان ہوتا رہوں گا۔‘‘ اٹھتے قدم اس کی بھاری گھمبیر آواز پر تھمے تھے۔
’’آپ کی مما مجھے پسند نہیں کرتیں ٗ ان کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک نہیں ہے۔ وہ مجھے ناپسند کرتی تھیں تو آپ کو مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہئے تھی۔‘‘ وہ دروازے کے پاس ٹھہری بنا پلٹے نم لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’پسند تو مجھے تم بھی نہیں کرتیں تو تم نے اپنی ناپسندیدگی کے باوجود مجھ سے نکاح کیوں کیا؟‘ وہ اس کے سامنے سوال بن کر آن ٹھہرا تھا۔
’’ارحم بھیا کی وجہ سے کہ میں انکار کرکے ان کا مان نہیں توڑ سکتی تھی ٗ سب کو یقین تھا کہ مجھے ارحم بھیا منالیں گے ٗ اس لئے میں سب کا یقین نہیں توڑ سکتی تھی۔‘‘ وہ گہری سنجیدگی سے بولی تھی ٗ جو اس کی شخصیت کا خاصہ نہ تھی۔
’’تم میری محبت ہو اور میں کسی کی بھی ناپسندیدگی کے خیال سے اپنی محبت سے دست بردار نہیں ہو سکتا تھا ٗ چاہے وہ کسی میرے پیرنٹس ہی کیوں نہ تھے ٗ تم یہ بات یاد رکھنا کہ تمہیں کوئی بھی ناپسند کرتا ہو ٗ کتنے ہی لوگ اس رشتے کے خلاف ہوں ٗ مگرمیں دل سے اس رشتے کے حق میں تھا ٗ بہت محبت سے اپنایا ہے تمہیں اور میری محبت میں اتنی طاقت ہے کہ اپنا آپ منوا لے ٗ تم بے فکر رہنا ٗ تمہیں مجھ سے اگر 100 پرسنٹ چاہت ملے گی ٗ تو میں خود سے وابستہ رشتوں کو بھی تم سے محبت کرنے پر مجبور کر دوں گا۔‘‘ وہ بہت پیار و یقین سے کہہ رہا تھا۔
’’محبت وہ واحد شے ہے دنیا میں جسے زبردستی حاصل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی کسی کو محبت کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ اس کو ساکت چھوڑ کر نکل گئی تھی ٗ وہ بے چین ہو اٹھا تھا ٗ اسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ اسے جوتا مار گئی ہے ٗ وہ اسے اپنے نام تو کر چکا تھا ٗ مگر اس کی محبت اپنے نام نہیں کروا سکتا تھا ٗ محبت زور زبردستی سے حاصل نہیں کی جا سکتی ٗ اس لئے وہ کسی غلط فہمی یا خوش فہمی میں نہ رہے ٗ وہ جتنا سوچ رہا تھا اتنا الجھ رہا تھا اور جتنا الجھ رہا تھا اتنا ہی مضطرب ہو رہا تھا اور اضطراب کی لہریں دباتے دباتے وہ غصے کو ہوا دے بیٹھا تھا اور اس نے سوچ لیا تھا زبردستی تو زبردستی ہی سہی کہ اسے بس کیسے بھی اس کو پانا تھا ٗ اس کے دل تک رسائی حاصل کرنا تھی ٗ یہ مشکل ضرور تھا ناممکن نہیں اور اس نے کسی بھی کام کو کبھی مشکل نہیں سمجھا تھا اور ناممکن جیسے لفظ کا تو اس کے آس پاس گزر بھی نہ تھا۔
٭٭٭
’’فارگاڈسیک حنین! ہر وقت تم بحث لے کر کیوں بیٹھ جاتی ہو؟‘‘ ساجدہ حد درجے جھنجھلا کر بولی تھیں۔
’’ممی! آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں ٗ میں ان کے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں؟‘‘ وہ ماں سے زیادہ جھنجھلائی ہوئی تھی۔
’’کیسے جا سکتی ہو کیا مطلب؟ وہ شوہر ہے تمہارا ٗ اسی لئے اجازت دے رہے ہیں۔‘‘ وہ اب کے ناراضی ظاہر کر گئی تھیں۔
’’آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں مجھے ان کی بیوی بننے کا کوئی شوق نہیں ہے ٗ میں منگنی میں ارحم بھیا کی طرف سے شرکت کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ الٹا ناراضی ظاہر کرنے لگی تھی ٗ انہوں نے بیٹی کو خشمکین نگاہوں سے دیکھا تھا۔
’’شٹ اپ حنین! رشتے تمہارے نزدیک شوق کا نام ہیں۔‘‘ وہ اسے ڈپٹ رہی تھیں۔
‘‘آئی ایم سوری ٗ بٹ آپ انہیں منع کر دیں ٗ میں منگنی میں ارحم بھیا کی طرف سے شریک ہونا چاہتی ہوں ٗ پلیز ممی! ٹرائی ٹو انڈر اسٹینڈ مائی فیلنگز۔‘‘ وہ ماں کے ہاتھ تھامے ملتجی ہوئی تھی۔
’’حنین! تمہیں ہر بات سے انکار کرکے مسئلہ بنانے کی کچھ عادت ہی ہو گئی ہے ٗ وہ اس گھر کا داماد ہے ٗ اب اسے کیسے منہ اٹھا کر منع کر دیں؟ شریک تو پارٹی میں ہونا ہے اس سے کیا فرق پڑے گا کہ کس کی طرف سے شرکت کرو گی۔‘‘ وہ گزشتہ شب سے اسے سمجھا رہی تھیں ٗ آخر غصے میں آ ہی گئی تھیں ٗ ہاتھ جھٹک کر اس پر برسی تھیں۔
’’آپ کو اپنے سڑے ہوئے داماد کی بہت فکر ہے جو مجھے ہرٹ کرنے ٗ زچ کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے ٗ میں ارحم بھیا کی منگنی کو لے کر کتنی پرجوش تھی ٗ کتنی تیاریاں کی تھیں ٗ پھپھو نے کتنی خوبصورت فراک دلائی تھی مجھے اور انہوں نے گھٹیا سی ساڑھی بھیج کر حکم نامہ جاری کر دیا کہ وہ مجھے لینے آ جائیں گے ٗ نہ میں ان کی طرف سے انگیجمنٹ میں شریک ہوں گی ٗ مجھے نہ وہ ساڑھی پہننی ہے اور نہ ہی ان کے ساتھ کہیں جانا ہے اور آپ نے مجھے اب فورس کیا ناں ممی! تو میں پارٹی میں ہی نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ بھی غصے سے پھٹ پڑی تھی اور اس کو روتے دیکھ کر انہوں نے لب بھینچ لئے تھے ٗ انہیں وہ خود سے بڑھ کر عزیز تھی ٗ کچھ عرصے سے انہیں لگنے لگا تھا کہ دھیرے دھیرے ان کی بیٹی ان سے دور ہوتی جا رہی ہے ٗ آنسو ان کی آنکھوں سے گرنے لگے تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی لامحالہ ماہ کنعان کے ساتھ جانے کو راضی ہو گئی تھی۔
٭٭٭
’’یہ آپ مجھے ماہ ولاز کیوں لے آئے ہیں؟‘‘ وہ اسے کاشانہ عالم لینے پہنچا تھا جب تو اس کا موڈ خوشگوار تھا ٗ مگر جس دم گاڑی میں بیٹھی تھی ٗ اس کی سنجیدگی و غصے کو محسوس کر گئی تھی اور جب وہ ریش ڈرائیونگ کرتا ماہ ولاز پہنچا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے تھے کہ جانتی تھی کہ پارٹی شیر ٹن میں ہے۔ ماہ کنعان نے ایک سخت نگاہ اس کے دو آتشہ روپ پر ڈالی تھی کہ انار کلی فیروزی رنگ کی فراک میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی ٗ مگر وہ اس وقت شدید اشتعال میں تھا کہ آج کیلئے اس نے اس کیلئے نیوی بلیو ساڑھی لی تھی اور کیا کچھ نہیں سوچ لیا تھا اس لئے اسے فراک میں دیکھ کر وہ پارٹی میں جانے کے بجائے گھر آ گیا تھا۔ اسے اترنے کو کہا اس نے ان سنا کر دیا ٗ اس نے غصے سے فرنٹ ڈور اوپن کیا اور بازو سے تھام کر اسے باہر کھینچ لیا ٗ اس کے بعد وہ ہزار واویلوں کے ساتھ اس کے ساتھ کھنچتی چلی گئی تھی ٗ ماہ کنعان نے اسے اپنے کمرے میں لا کر اس کا بازو آزاد کیا اور بائیں ہاتھ میں موجود شاپر بیڈ پر اچھال دیا جو وہ کاشانہ عالم سے ساتھ لایا تھا کیونکہ جب وہ اسے لینے کاشانہ عالم پہنچا تھا اس کو یہی امید تھی کہ وہ اسے اس کے پسندیدہ لباس میں سجی سنوری ملے گی اور وہ اسے سجی سنوری تو ملی تھی مگر لباس خود اس کی پسند کا تھا اس لئے اس کے تمام نرم گرم جذبات سرد پڑتے چلے گئے تھے اسی لئے اس نے گفٹ کی واپسی کا مطالبہ کر دیا تھا اس کی منتقمانہ سوچ سے ناواقف حنین حیرانگی کے باوجود ساڑھی اور اس کی میچنگ کی اشیاء بے دردی سے شاپر میں ٹھونس کر لے آئی تھی اور وہ اسے اپنی پسند کا لباس پہنانے کی خواہش کی تکمیل کے لیے جو اب ضد و غصہ میں ڈھل گئی تھی ٗ ماہ ولاز لے آیا تھا اور اسے اس کے ساتھ انگیجمنٹ میں جانے کی رضا مندی پر افسوس کرتی اسے ناپسندیدگی سے دیکھنے لگی تھی جس نے اپنی مرضی و پسند پوری کروانے کو حکم نامہ جاری کر دیا تھا۔
’’جلدی سے چینج کر کے آ جائو۔‘‘ وہ اتنے عام سے لہجے میں بولا تھا ٗ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو جبکہ وہ بری طرح رو رہی تھی۔
’’وقت ضائع نہ کرو حنین عابدی! کہ ہم نے پارٹی میں بھی پہنچنا ہے۔‘‘ اس کا فیروزی آنچل نہ جانے کہاں گر گیا تھا ٗ اس نے دل کو تھپکی دے کر نظر چرائی تھی کہ اس وقت سجی سنوری اس کے دل ہی نہیں خواہشات پر بھی گہرا وار کر گئی تھی۔
’’چینج تو میں ہرگز نہیں کروں گی ٗ چاہے پارٹی ختم ہو جائے۔‘‘ وہ رونے کے درمیان ہٹ دھرمی سے چیخی تھی ٗ یکدم ہی اس کے لب مسکرا اٹھے تھے ٗ اس نے چند قدموں کا فاصلہ طے کیا اور عین اس کے سامنے آن ٹھہرا۔
’’اس سے اچھی کیا بات ہو گی کہ تم اتنا وقت میرے ساتھ گزارو گی۔‘‘ اس کو دیکھتے ہوئے اس کی ساحرانہ آنکھوں میں خمار اترنے لگا تھا اور وہ رونا بھول کر اسے دیکھنے لگی تھی ٗ اس کی آنکھوں سے چھلکتے جذبوں پر وہ نا محسوس طریقے سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔
’’میں نے ایسا کچھ نہیں کہا آپ سے ٗ آپ پلیز مجھے پارٹی میں چھوڑ دیں۔‘‘ نگاہ جھکاتی لمحہ بہ لمحہ پیچھے ہوتے ہوئے منمنائی تھی اور اس کی نگاہ اس کے احمریں لبوں پر ٹھہر ٹھہر گئی تھی۔
’’تم چینج کر لو تو میں لے جائوں گا۔‘‘ وہ اس کی حالت سے حظ اٹھاتا اس کی طرف بڑھ رہا تھا ٗ جو پیچھے ہوتے ہوئے دیوار سے جا لگی تھی اور اس نے دیوار پر دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر سارے راستے اس کیلئے مسدود کر دیئے تھے۔
’’ورنہ مجھے اکیلے ہی وہاں جانا پڑے گا کہ میں اپنی بہن کی منگنی اپنی نافرمان منکوحہ کیلئے مس تو نہیں کر سکتا۔‘‘ وہ اس کے لرزتے وجود پر نگاہ جمائے شوخ ہو رہا تھا۔
’’آپ مجھے یہاں اکیلے کیسے چھوڑ کر جا سکتے ہیں ٗ اکیلے میں مارے ڈر کے میرا دم نکل گیا تو؟‘‘ اس کے کچھ دیر پہلے کے احساسات کچھ اور تھے جو اب بدل گئے تھے ٗ اس کی خوبصورت آنکھوں میں خوف کی وجہ بدل گئی تھی اور اسے اب ہنسی آنے لگی تھی کہ بنتی افلاطون تھی ٗ مگر دم خم غبارے جیسا تھا ٗ ہوا اب نکلی کہ تب۔
’’تمہیں ڈر ہے کہ اکیلے تمہارا دم نکل جائے گا ٗ تو میں بھی نہیں جاتا۔‘‘ اس کے لب ہی نہیں آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں اور دیوار پر ٹھہرا دایاں ہاتھ اس کے چہرے پر آ ٹھہرا ٗ تو اس نے یکدم ہی آنکھیں میچ لی تھیں۔
’’لیکن میں اگر تمہارے ساتھ رہا تو تمہارا دم یوں بھی نکل جائے گا۔‘‘ وہ اس کی لرزتی پلکوں اور کانپتے ہونٹوں کو نگاہ سے چھوتا لہجے میں جذبوں کی اگن لگائے بولا تھا کہ وہ اس کیلئے امتحان بن گئی تھی کہ نہ فاصلے مٹا سکتا تھا ٗ نہ ہی فاصلے پر رہ سکتا تھا کہ وہ اس سے پہلے ہی بدگمان تھی اور آج کا اس کا عمل اسے مزید بدگمان کر سکتا تھا ٗ اس لئے دیوانگی کی حد تک جا کر وہ ضبط سے گزرتا اس کے رخسار سے اپنا ہاتھ کھینچتا پلٹ گیا تھا ٗ اس کے بعد اسے کچھ کہنا نہیں پڑا تھا ٗ اس نے کانپتے ہاتھوں سے شاپر میں سے ساڑھی نکالی تھی اور واش روم میں گھس گئی تھی۔ اس نے ہچکیوں سے روتے ہوئے بہت مشکل سے اس کام کو انجام دیا تھا کہ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ٗ بس ایک دفعہ اس نے شوق شوق میں شازمین سے ساڑھی باندھنا سیکھی تھی ٗ وہی اس کے کام آ گیا تھا اور اسے دیکھ کر تو اس پر بے اختیاری سی اتر آئی تھی کہ اس کا چاندنی میں نہایا تراشیدہ بدن نیوی بلیو ساڑھی میں حشر برپا کر رہا تھا ٗ مگر اس کی خائف ٗ بدگمان ٗ ناراض نظر اس کے جذبوں پر بند باندھ گئی تھی۔
’’آئی ایم سوری ٗ بٹ اگر تم پہلے ہی میرا گفٹ ایکسپٹ کر لیتیں تو مجھے اتنا تردد نہ کرنا پڑتا۔‘‘ وہ اپنے کئے پر نادم نہ تھا۔ مگر اس کی بے بسی محسوس کرتے ہوئے دل کی حالت بھی عجیب ہی تھی۔
’’آپ اس طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ مجھے مزید ناپسندیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں ٹوٹے کانچ کی سی کھنک تھی کہ اس کی ’’میں‘‘ بری طرح متاثر ہوئی تھی۔
’’تمہاری محبت میں مجھے یہ بھی گوارا ہے۔‘‘ وہ اس کے سامنے رکتا مسکرایا تھا اور اس کے کلائی کھینچنے کے باوجود سختی سے پکڑ لی تھی۔
’’تم یہ زبردستی کرنے پر مجبور کرتی ہو۔‘‘ ناگواری سے اس کے چہرے کے بگڑتے زاویے دیکھے تھے۔
’’آپ کے کہنے پر پہن لی ہے ناں یہ ساڑھی تو اب کیا مسئلہ ہے ٗ چلیں یہاں سے۔‘‘ وہ اس پر بگڑی تھی ٗ اسے یہاں سے جانے کی جلدی تھی کہ اسے اس سے اس کی آنکھوں سے خوف آ رہا تھا ٗ تب ہی تو اتنی آسانی سے مان گئی تھی۔
’’میرے کہنے پر پہنتیں تو مجھے تمہیں یہاں نہ لانا پڑتا۔‘‘ وہ معنی خیزی سے بولا تھا ٗ اس نے نگاہ چرا لی تھی۔
’’آج کا تم سے یوں ملنا میرے جذبات کو میٹھی میٹھی چبھن دے گیا ہے اور اب مجھے رخصتی کی بات کرنا ہو گی کہ جاناں! اب تم سے دور نہ رہ پائوں گا۔‘‘ وہ اس کی مزاحمت کے باوجود فیروزی چوڑیاں اتار کر نیوی بلیو کانچ کی چوڑیاں اس کی گلابی بانہوں میں سجا گیا تھا اور اس کی آنکھیں تو مستقل بہہ رہی تھیں ٗ مگر دل کی حالت بھی عجب تھی وہ کترائی کترائی سی اس کے سامنے تھی۔
’’بس کر دو جاناں! اور کتنا روئو گی ٗ سب مجھے پارٹی میں مشکوک نظروں سے دیکھیں گے۔‘‘ وہ اسے چھیڑتا اس کے آنسو پونچھ گیا تھا۔
’’وہ وقت کتنا حسین ہو گا ٗ جب صرف میں اور تم ہو گی ٗ میرے لبوں پر تمہارے قصیدے ہوں گے ٗ تمہاری آنکھوں میں میرا عکس بکھرا ہو گا اور میں تمہیں سیمٹتا ٗ تمہاری بانہوں میں بکھر جائوں گا۔‘‘ وہ اس کی نظروں و جذبوں کی تاب نہ لاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی تھی کہ وہ راہ میں آتا اسے شانوں سے تھامتا کہتا چلا گیا تھا ٗ اس کی نگاہ اس کے چہرے کے نقوش چھو رہی تھی اور اس نے گھبرا کر مارے خوف کے ہمیشہ کی طرح آنکھیں بند کر لی تھیں۔
’’ناراضی و غصے کی قبا بھانبھڑ کرتی جل جائے گی اور پھر میں تمہیں اپنی چاہت کی قبا اوڑھا کر تمہیں اپنے نام کر لوں گا اور تم جو میرے قریب آنے سے گریزاں رہتی ہو ٗ میرے دور جانے سے خائف رہا کرو گی۔‘‘ اس کا چہرہ حجاب کی سرخی سے دہک رہا تھا اور اس کے من میں آگ لگا کر اس کے جذبات کی آنچ کو کچھ بھڑکا کر لبوں سے آنسو چنتے ہوئے فاصلے قائم کر دیا تھااور اسے پارٹی میں لے گیا تھا ٗ جہاں وہ اس کے سائے سے بھی گریزاں بھاگتی رہی تھی۔
٭٭٭
ٹی پنک شرارے میں ماہ لاج بہت حسین لگ رہی تھی ٗ سچی خوشی کا احساس اس کی آنکھوں میں الوہی سی چمک بھر گیا تھا اور اس کے پہلو میں بیٹھا ہینڈسم اور نہایت سنجیدہ سا ارحم الحسن بلیک ڈنر سوٹ میں ڈیشنگ لگ رہا تھا ٗ اس نے لاج کی مخروطی انگلی میں نہایت قیمتی انگوٹھی پہنائی تھی اور اس کو انگوٹھی پہناتے ہوئے لاج کا ہاتھ باقاعدہ کانپ رہا تھا ٗ مگر وہ یہ معرکہ سب کی تالیوں میں سر کر ہی گئی تھی ٗ فوٹوز بن رہی تھیں اور وہ نامحسوس طریقے سے اسٹیج سے اتر گئی تھی کہ رہ رہ کر اپنی بے بسی کا احساس اسے اداس کر رہا تھا جبکہ وہ بہت خوش تھا اپنے کارنامے پر اور سرشاری سے اپنا کارنامہ فیصل کو بتانے لگا تھا۔
’’تجھے شرم آنی چاہئے کنعان!‘‘ اس نے ناپسندیدگی ظاہر کی تھی۔
’’تو سب کو چھوڑ اور رخصتی کی بات چلا کہ قسم سے یار! اب مجھ سے انتظار نہیں ہوتا۔‘‘ اس کی آنکھیں اپنی حرکت پر مسرور تھیں اور وہ دلکشی سے کہہ رہا تھا۔
’’میں کب چاہتا ہوں کہ تو انتظار جھیلتا رہے کہ دیر تو نوید انکل کی طرف سے ہے کہ حنین ہی راضی نہیں ہے۔‘‘ وہ گہرے تاسف میں مبتلا ہو کر بولا تھا۔
’’اوئے یار! اسے منانا کونسا مشکل ہے۔‘‘ وہ کچھ دیر پہلے کی اس کی جھنجھلاہٹ کو سوچتا متبسم سا بولا تھا۔
’’تو سوچ کر فیصلہ کر لے کہ اسے منانا واقعی مشکل نہ ہوگا ٗ مگر اس طرح اس کی خوشی سے زیادہ اس سب میں اس کی مجبوری کا ہاتھ ہوگا کہ وہ ابھی نکاح کو ہی قبول نہیں کر سکی ٗ کیا شادی کو کر لے گی؟ اور تو نے فورس کیا تو نوید انکل لوگ اسے فورس کریں گے اور اس طرح تو وہ ساری زندگی ایک خلش سی محسوس کرتی رہے گی اور خلش کے ساتھ ملنے والی خوشی ادھوری ہی رہا کرتی ہے۔‘‘ وہ گہری سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
’’اس طرح سوچتا رہا ناں تو ساری زندگی انتظار کرتا رہ جائوں گا کہ جیسے چند ماہ گزرے ہیں ڈھائی سال اور گزر جائیں گے ٗ مگر اس کی پلاننگ میں ماسٹرز اینف نہیں ہے ٗ ایم بی اے ٗ بی بی اے ٗ بزنس جوائن کرنا اس نے جانے کیا کچھ سوچا ہوا ہے ٗ بات تعلیم تک رہے گی تو رخصتی سے پہلے اور بعد میں بھی نہیں روکوں گا ٗ مگر اس کی وہ خواہش ٗ وہ خوشی جو آفس جوائن کرنے سے جڑی ہے ٗ میں وہ کبھی نہیں دے سکوں گا اور جب دو سال بعد رخصتی ہونا ہی ہے تو چند دنوں میں کیوں نہیں؟‘‘ وہ اپنا موقف بتا کر سوال کر رہا تھا۔
’’اب انتظار مجھے فضول ہی لگ رہا ہے کہ اب اپنی ہی مثال لے لے تو نے بھی تو بھابی کو پڑھنے کی اجازت دی ہے ٗ میں بھی دے دوں گا تو بھی جانتا ہے میں نیرو مائنڈڈ نہیں ہوں۔‘‘ وہ اسے قائل کرنا چاہتا تھا کہ بات آگے اسی نے چلانی تھی۔
’’یہ سب کہنے کی حد تک ہی رہ جاتا ہے کہ شادی کے بعد اپنے ہی جھمیلے کم نہیں ہوتے۔‘‘ اس نے نہایت تپے تپے سے لہجے میں کہا تھا اور وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا تھا اور اس نے نہایت سنجیدگی سے جو خبر دی تھی وہ تو خوشی سے ہی جھوم اٹھا تھا۔
’’پاگل انسان ٗ اتنی بڑی خوشی کی خبر تو یوں روتے روتے سنجیدگی سے سنا رہا ہے۔‘‘ وہ پُرجوش انداز میں غیر معمولی سنجیدہ فیصل کو مبارکباد دیتا بغل گیر ہو گیا تھا۔
’’میری فیوچر پلاننگ میں یہ سب نہیں تھا۔‘‘ وہ ہنوز اسی کیفیت میں بولا تھا۔
’’عجیب گھامڑ شخص ہے تو بھی ٗ پلاننگ تو فضول لوگ کرتے ہیں میرے یار! کہ جو جس وقت ہے بس وہی اچھا ہے ٗ اس خوبصورت وقت کا ایک ایک پل خوشی کے احساس تلے بھرپور انداز سے جی لے کہ باپ بننے کی خوشی معمولی نہیں ہے ٗ لوگ تو اولاد کیلئے ترستے پھرتے ہیں تجھے بن مانگے اتنی بڑی خوشی مل رہی ہے ٗ تو تو ناشکری کر رہا ہے ٗ فضول پلاننگز میں گھر کر اتنی بڑی خوشی کو اگنور کر رہا ہے جبکہ تجھے تو چاہئے کہ تو اس وقت کو بھابی کے ساتھ بھرپور طریقے سے گزار ٗ لمحہ لمحہ ان کے ساتھ مل کر اپنے آنے والے بچے کیلئے خواب سجا ٗ اس کے آنے کی تیاری کر ٗ اس کیلئے کچھ اتنا خاص کر جتنا کسی والدین نے نہ کیا ہو۔‘‘ وہ جذباتیت سے کہتا اس کے کچھ سوئے کچھ جاگے سے احساس اور جذبے مکمل بیدار کر گیا تھا۔
’’میں اتنی بڑی خوشی کی خبر پاکر بہت مسرور ہوں ٗ اتنا خوش کہ اپنی پوری زندگی میں اتنا مکمل خوشی کا احساس نہیں ہوا۔‘‘ وہ دھیمے سے بولا تھا ٗ سنجیدگی کا خول چٹخا تھا ٗ آنکھیں مسکرا اٹھی تھیں۔
’’میں تجھے جانتا ہوں ٗ تیرے بن کہے بھی تیری مسرت محسوس کر سکتا ہوں ٗ تیری الجھن کا پیمانہ بھی ناپ سکتا ہوںٗ مگر میری جان! بھابی تجھے سمجھنے کے مراحل میں ہیں ٗ اس لئے ان سے اپنی الجھن خود کہنی ہو گی ٗ خوشی کا اظہار کرنا ہوگا کہ تجھے جانتا ہوں کہ جہاں تیری مرضی یا سوچ سے ہٹ کر ہوا تو ڈسٹرب ہو جاتا ہے اور تیری یہ ڈسٹربنس بھابی پر کس بری طرح اثر انداز ہوئی ہے صاف دکھائی دے رہی ہے۔‘‘ اس نے ناصحانہ انداز میں کہتے ہوئے کافی فاصلے پر خالی ٹیبل پر اکیلے خاموش و اداس سی بیٹھی سمیرا پراحترام بھری نگاہ ڈالتے ہوئے اسے بھی سمیرا کی جانب متوجہ کیا تھا اور اس کا یوں خاموشی سے الگ تھلگ بیٹھنا اسے شرمندہ ہی نہیں دکھی بھی کر گیا تھا۔
’’اوہوں ٗ اکثر میں سمیرا کو نہ چاہتے ہوئے بھی ہرٹ کر جاتا ہوں ٗ مگر ڈونٹ یو وری ٗ تیری بھابی کو منالوں گا۔‘‘ دھیمے سے بولا تھا۔
’’منا کیا لے گا ٗ ابھی جا کر منا لے۔‘‘ ترنت بولا تھا۔
’’اوہوں! ابھی نہیں کہ یہ جگہ اور وقت انتہائی نامناسب ہے۔‘‘ وہ اپنی ازلی برد باری سے بولتا اسے تپا گیا تھا۔
’’ایک تو تو ساری زندگی مناسب وقت اور جگہ ہی ڈھونڈتا رہا کر۔‘‘ ناگواری سے اسے دیکھتا ہوا بولا تھا۔
’’ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں ماہ! ہمیں وہاں کی حدود و قیود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ سنجیدگی سے اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا تھا۔
’’تو اپنی سوچ نہیں بدل سکتا ٗ اتنا اچھا ہونا بھی غیر سود مند ثابت ہوتا ہے۔‘‘ اسے نرمی سے ڈپٹا تھا اور وہ مسکرا دیا تھا۔
’’چل کوئی بات نہیں کہ تیری بھابی کو میرا اتنا اچھا ہونا ہی تو اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں نرم سی شرارت تھی۔
’’اتنا سیدھا نہیں ہے تو ٗ جتنا بنتا ہے!‘‘ کاندھے پر دھپ ماری تھی اور اس نے بے ساختہ قہقہہ لگایا تھا اور اس کے قہقہہ میں کنعان کا قہقہہ بھی شامل ہو گیا تھا ٗ سمیرا نے چونک کر اس طرف دیکھا تھا اور فیصل کے مسکرا کر اسے دیکھنے پر اسے لگا تھا کہ اس کی خود ساختہ ناراضی ختم ہوئی وہ بھی جواباً مسکرا دی تھی!!!
٭٭٭
’’میرا ان کے ساتھ یہاں آنا اتنا بھی ضروری نہ تھا ٗ میری مرضی کے خیال سے ہی ممی منع کر دیتیں لیکن نہیں ٗ اوپر سے وہ مجھے ماہ ولاز لے گئے ٗ صرف اپنی ضد پوری کرنے کیلئے ٗ آپ خود بتایئے اس فراک میں کیا برائی تھی ٗ جو انہوں نے مجھے یوں پارٹی میں نہ لانے کی دھمکی دے کر یہ ساڑھی پہننے پر مجبور کر دیا۔‘‘ وہ سوں سوں کر رہی تھی کہ اس سے کبھی کسی نے کچھ بائے فورس نہیں کروایا تھا ٗ اس کا ذہن و دل اس وقت بری طرح ہرٹ ہوئے تھے کہ اول تو وہ نکاح کیلئے ہی بمشکل راضی ہوئی تھی اور نکاح کے بعد جس طرح اس کو بائونڈ کیا جا رہا تھا ٗ ہر جگہ جس طرح اس کی چل رہی تھی ٗ اس کی ناپسندیدگی بڑھ رہی تھی کہ اپنوں کی چاہت اور توجہ نے اسے خود پسند بنا دیا تھا اور آج اس کی انا بری طرح متاثر ہوئی تھی کہ وہ تو ان لوگوں میں سے تھی کہ نرمی و پیار سے جان بھی مانگ لو تو دے دیں اور غصہ و زبردستی سے ایک تنکا بھی دیتے ہوئے اپنے اندر خالی پن محسوس کرنے لگیں اور وہ بھی اپنے اندر خالی پن اترتا بہت کچھ ٹوٹتا محسوس کر رہی تھی کہ اس کی زندگی میں وہ واحد تھا ٗ جس کے سامنے اس کو جھکنا پڑ رہا تھا ٗ جس کے سامنے اس کے اپنے اسے جھکا رہے تھے ٗ اس کی مان کر اسے ڈی گریڈ کر رہے تھے اور یہ ساری سوچیں اس کی حد درجے خود پسندی و حساسیت کا سبب تھیں۔
’’میں ارحم بھیا کو اس سب کیلئے کبھی معاف نہیں کروں گی ٗ مجھے لگتا ہے آپی! جیسے ارحم بھیا نے اپنی قسم دے کر مجھے قربان کر دیا ہے ٗ سب لڑکیوں کی شادی ان کی پسند و رضا سے ہوتی ہے اور میری شادی میں میری کوئی مرضی شامل ہی نہیں ہے اور وہ شخص جب ابھی اپنی بات کو مقدم رکھتا ہے تو کیا آگے میری بات کی اہمیت ہو گی؟ میری ذات کی نفی ہو رہی ہے ٗ میری شخصیت آپ سب نے ایک زبردستی کا رشتہ جوڑ کر مسخ کر دی ہے۔‘‘ وہ بے تحاشہ رو رہی تھی ٗ اس شخص سے ہی نہیں اس کی جہ سے باقی اپنوں سے بھی بہت ناراض تھی ٗ بدگمان ہو رہی تھی اور سب سے زیادہ ناراض وہ ارحم الحسن سے تھی ٗ جیسے ہی اس پر نگاہ پڑی وہاں سے نکلنے کو تھی کہ وہ اس کا ہاتھ تھام گیا تھا کہ وہ جانتا تھا کہ وہ اسے دیکھ کر ٹھہرے گی نہیں اسی لئے زرمین کو چپ رہنے کا اشارہ کر دیا تھا اس نے اس سے آج بات تک نہیں کی تھی ٗ مگر جب اس نے اسے Wish کیا تھا ٗ اپنی تمام تر ناراضی کے باوجود تو وہ اس کے صاف دل اور اچھی فطرت کا قائل ہوتا نرمی سے مسکرا دیا تھا وہ اتنی ہی سچی ٗ دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھنے والی تھی کہ اس نے جان کر کبھی کسی کو زک نہیں پہنچائی تھی۔
’’جہاں تک میں دیکھ رہا ہوں جو میں محسوس کر رہا ہوں ٗ وہ تم اپنی ناراضی کے چلتے نہ دیکھ سکتی ہو نہ ہی محسوس کر سکتی ہو۔‘‘ نہایت نرمی سے کہہ کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔
’’کنعان کو تمہارے لئے پرفیکٹ پاکر ہی تمہارا اس سے رشتہ جوڑا ہے اور میں اپنے لئے فیصلے سے تمہاری ناراضی کے باوجود مطمئن ہوں کہ میں تمہیں خوش و مطمئن دیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ تم کنعان کے ساتھ خوش رہو گی ٗ وہ شخص تمہیں بہت چاہت سے رکھے گا۔‘‘ وہ نہایت نرمی و سنجیدگی سے پر شفقت لہجے میں کہہ رہا تھا۔
’’میری ذات ٗ میری مرضی ٗ میری انا کو متاثر کرکے خوش رکھیں گے تو کیا فائدہ؟ جب سے ان سے رشتہ قائم ہوا ہے ٗ میری ذات پس پشت جا رہی ہے ٗ مجھے بہت بڑی خوشی نہیں چاہئے ارحم بھیا! میرے لئے میری مرضی سے میری خواہش کے مطابق حاصل ہونے والی معمولی خوشی انمول خزانے سے بڑھ کر ہے کہ میں نے تو ہمیشہ صرف گزرتے پل کو اہم جانا ہے ٗ آپ نے میری بڑی خوشی کے خیال سے چھوٹی چھوٹی سی خوشیاں مجھ سے چھین لی ہیں ٗ سب سے بڑی بات آپ سب نے مجھ سے میری پسند ٗ میری مرضی کا حق چھین لیا ہے ٗ جس لڑکی کو کبھی آئس کریم ناپسندیدہ فلیور کی کھانے کیلئے مجبور نہیں کیا گیا ٗ اس کا جیون ساتھی ایک ناپسندیدہ شخص کو بنا دیا گیا ہے ٗ جس لڑکی کی مرضی کے خلاف کبھی اسے کچھ نہیں دلایا گیا ٗ کہیں نہیں لے جایا گیا ٗ اسے زبردستی کبھی ڈنر کیلئے بھیجا جاتا ہے تو کبھی پارٹی میں ٗ اس لباس میں ٗ میں چاہے کتنی ہی اچھی لگ رہی ہوں ٗ مگر مجھے اپنا آپ پرایا لگ رہا ہے کہ یہ میری چوائس نہیں ہے ٗ یہ ریشمی قبا مجھے زبردستی پہنائی گئی ہے ٗ میں کہیں نہیں ہوں ارحم بھیا! اور ایسے میں مر جائوں گی ٗ اپنی ذات کی نفی کرکے جینے والے جی لیتے ہوں گے ٗ میں نہیں جی سکتی ٗ میرا چند ماہ میں دم گھٹنے لگا ہے اور یوں ہی چلتا رہا تو میرا دم نکل جائے گا۔‘‘ وہ بری طرح رو رہی تھی ٗ وہ دونوں ہی کیا ماہ کنعان عابدی بھی ساکت رہ گیا تھا کہ اسے وہ خود پسند و شدت پسند لگی ضرور تھی ٗ مگر اس حد تک تو اس کے تصور میں بھی نہ تھا ٗ اس کا لفظ لفظ اس کے دل میں پیوست ہو گیا ٗ اس کے آنسوئوں نے اس کے دل کی سرزمین جل تھل کر ڈالی تھی ٗ جس میں اسے اپنی ذات بہتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *