Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02

’’اتنی صبح کہاں جانے کی تیاری ہے؟‘‘ اسجد نے نک سک سے تیار حنین کو دیکھ کر استفسار کیا تھا۔ وہ اپنی معمول کی تیاری سے بہت ڈیفرنٹ تیار ہوئی تھی کیونکہ وہ عموماً ڈارک کلرز پہنتی تھی جبکہ اس وقت اس نے لائٹ آسمانی کلر کا کاٹن کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس پر فیروزی کلر سے ہاتھ کی کڑھائی کی گئی تھی اور لائٹ نیچرل میک اپ میں اس کے خوبصورت نین نقش ابھر کر اس کو مزید خوبصورت بنا رہے تھے۔
’’اسجد بھائی! آج آفس میں میرا فرسٹ ڈے ہے ٗ میں آج سے آفس جوائن کر رہی ہوں۔‘‘ اس نے سلائس کترتے ہوئے بتایا تھا۔
’’تم آفس نہیں آئو گی۔‘‘ وہ قطعیت سے بولا تھا۔
’’آپ کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے، میں تایا ابو سے اجازت لے چکی ہوں۔‘‘
’’میں ابو سے بات کر لوں گا مگر تم سن لو کہ تم گھر میں رہو گی ٗ آفس جوائن نہیں کرو گی۔‘‘ وہ ناشتہ کئے بغیر کرسی کھسکا کر اسے گھورتا ہوا اٹھ گیا تھا اور اسی وقت ساجدہ کچن سے نکل کر آئی تھیں۔
’’اسجد بیٹا! تم ناشتہ کر لو ٗ اس لڑکی کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔‘‘
’’قطعی نہیں چچی! ابو نے اس کو اجازت دے کیسے دی؟‘‘
’’آپ جا کر خود ان سے پوچھ لیں اور میں آفس ضرور آئوں گی ٗ آپ مجھے روک نہیں سکتے۔‘‘ وہ آرام سے ناشتہ ختم کر رہی تھی۔
’’میں بھی دیکھتا ہوں ٗ تم کیسے آفس آتی ہو۔‘‘ وہ غصے سے کھولتا پلٹا تھا کہ باپ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا۔
’’اسجد! ناشتہ کر لیا؟‘‘ راشدہ نے پوچھا تھا مگر اس نے جواب دینے کے بجائے باپ سے پوچھا تھا۔
’’ابو! آپ نے اسے آفس جوائن کرنے کی اجازت کیوں دی؟‘‘
’’تمہیں کوئی اعتراض ہے؟‘‘ وہ بیٹے کے غصے کو کسی خاطر میں نہیں لائے تھے۔
’’ابو مجھے اعتراض ہے ٗ حنین آفس نہیں آئے گی۔‘‘
’’میں حنین کو اجازت دے چکا ہوں۔‘‘
’’آپ نے شازمین کو تو اجازت نہیں دی تھی ٗ پھر حنین کو کیوں دی؟‘‘
’’تمہیں صرف اس لئے اعتراض ہے کہ میں نے شازمین کو اجازت نہیں دی تھی؟‘‘
’’یہ بات نہیں ہے ابو! کیونکہ میرے لئے جیسی شازمین ہے ویسی ہی حنین بھی ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میری بہن نوکری کرے۔‘‘
’’میں کہیں اور جاب نہیں کر رہی ٗ اپنے خاندانی بزنس…!‘
’’جاب ٗ جاب ہوتی ہے حنین! اور یہ میں نہیں چاہتا کہ تم آفس آئو۔‘‘
’’مگر میں آئوں گی ٗ کیونکہ اگر بزنس پر آپ کا حق ہے تو میں بھی اس بزنس پر پورا حق رکھتی ہوں ٗ ابو کی تمام پراپرٹی کی میں اکیلی وارث ہوں۔‘‘ وہ بے سوچے سمجھے کہتی سب کو حیرانگی کے اتھاہ سمندر میں اتار گئی تھی۔
’’حنین! تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ایسی گری ہوئی بات کرنے کی؟‘‘ ساجدہ نے غصے سے اسے تھپڑ کھینچ مارا تھا سب جو اس کی بات کے اثر سے ہی نہیں سنبھلے تھے کہ ساجدہ کا اقدام انہیں مزید حیران کر گیا تھا۔
’’خبر دار! جو ایسا کچھ منہ سے نکالا۔ بھائی صاحب کے ہم پر احسانات کم نہیں ہیں اور تم احسان فراموش…!‘‘ انہوں نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا تھا کہ راشدہ بیچ میں آ گئی تھیں۔
’’ساجدہ! پاگل ہو گئی ہو؟‘‘
’’اس لڑکی نے مجھے پاگل ہی تو کر دیا ہے ٗ اتنی محبتوں کے صلے میں یہ آپ لوگوں کو کیا دے رہی ہے؟‘‘ وہ افسوس اور تاسف بھری نگاہوں سے بیٹی کو دیکھ رہی تھیں۔
’’اور میرا فیصلہ بھی نہیں بدلے گا ٗ تم آفس میں قدم بھی نہیں رکھو گی۔‘‘ وہ اسے تیز نظروں سے دیکھتا اپنا بریف کیس اٹھائے باہر نکل گیا تھا۔
’’دیکھ لیا تم نے ٗ زندگی میں پہلی دفعہ اسجد صرف تمہاری وجہ سے بھوکے پیٹ غصے میں نکلا ہے ٗ میں تمہیں…‘‘
’’ساجدہ! بات کو بڑھانے سے فائدہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے ساجدہ کو قابو کیا تھا جو بیٹی کو مارنے کیلئے لپکی تھیں۔
’’تایا ابو! جب آپ نے خود مجھے اجازت دی ہے تو اسجد بھائی مجھے کیسے منع کر سکتے ہیں؟‘‘
’’حنین! آپ اس وقت اپنے کمرے میں جائو ٗ میں اسجد کو سمجھائوں گا۔‘‘
’’لیکن تایا ابو! آج مجھے آفس جوائن کرنا تھا ٗ آپ نے خود ہی تو کہا تھا۔‘‘
’’حنین! تم سے نوید نے کچھ کہا ہے ٗ تمہیں سنائی نہیں دیتا؟‘‘ راشدہ کے ڈپٹنے پر وہ بات روک گئی تھی۔
’’آج نہیں تو کل ٗ لیکن مجھے ہر حال میں آفس جوائن کرنا ہے ٗ اسجد بھائی نہیں چاہتے کہ میں آفس جائوں تو میں کہیں اور جاب ڈھونڈ لوں گی ٗ مگر یہ تو طے ہے کہ مجھے جاب کرنی ہے۔‘‘ وہ بات مکمل کرکے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی جبکہ اس کی اتنی بدتمیزی پر سب ہی حیران رہ گئے تھے۔
’’آپ سب لوگوں سے میں بے حد شرمندہ ہوں ٗ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ابھی اتنی بدتمیزی جو کرکے گئی ہے وہ میری ہی بیٹی ہے ٗ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ میری بیٹی بڑی ہو کر اس قدر بدلحاظ و بدتمیز ہو جائے گی۔‘‘ وہ کسی کو بھی دیکھے بغیر کہہ کر روتی ہوئیں وہاں سے ہٹ گئی تھیں ٗ آج صحیح معنوں میں انہیں شوہر کی کمی محسوس ہوئی تھی ٗ کمرے میں آکر بھی وہ کتنی ہی دیر روتی رہی تھیں۔
٭٭٭
’’آپ میری کال ریسیو کیوں نہیں کر رہے؟‘‘ اسجد کا آج دماغ گھوما ہوا تھا وہ ورکرز کے ساتھ اونچی آواز اور سختی کا قائل ہی نہیں تھا مگر آج جو کچھ ناشتے کی ٹیبل پر ہوا اس کا غصہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا ٗ وہ اپنے اسسٹنٹ اور پرسنل سیکرٹری کو بھی ڈانٹ چکا تھا ٗ وہ پہلے ہی غصے میں تھا اور مستقل آتی کال اس کے غصے میں اضافے کا باعث بن رہی تھی ٗ اس نے طیش کے عالم میں موبائل دیوار پر مارنا چاہا تھا کہ میسج ٹون بجی تھی اور نجانے کیا سوچ کر اس نے میسج اوپن کیا تھا۔
’’آپ نے میری کال ریسیو نہیں کی تو میں آپ سے اتنی دور چلی جائوں گی کہ آپ میری آواز سننے اور شکل دیکھنے کو بھی ترس جائیں گے۔‘‘ میسج پڑھنے کے بعد خود بخود اس کی انگلیاں کال ملانے لگی تھیں۔
’’ہیلو!‘‘ بڑی بے قراری سے کہا گیا تھا۔
’’فارغ نہیں بیٹھا تھا کہ تمہاری کال فوراً ریسیو کر لیتا ٗ ہزاروں کام ہوتے ہیں۔‘‘
’’آپ مجھ سے اس طرح بات کیوں کر رہے ہیں؟‘‘
’’دماغ خراب ہو گیا ہے میرا ٗ اور بس…! تم کہو ایسی کیا ایمرجنسی تھی کہ اسی وقت بات کرنا تھی اور میسج میں کیا بکواس لکھی تھی؟‘‘
’’وہ بکواس نہیں تھی ٗ خالہ جان میری شادی کر رہی ہیں اور میں صرف آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں اسجد! آپ اپنے پیرنٹس کو میرا رشتہ لے کر بھیجیں۔‘‘
’’جہاں تمہارے گھر والے تمہاری شادی کر رہے ہیں وہیں خاموشی سے شادی کر لو۔‘‘ یہ بات اس نے جس طرح کہی تھی یہ وہی جانتا تھا اور فون کی دوسری جانب موجود یسریٰ کانپ ہی تو گئی تھی۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’سنائی نہیں دیا تھا تو ایک بار پھر کہہ دیتا ہوں ٗ میرا خیال دل سے نکال کر جس سے خالہ تمہاری شادی کریں کر لو ٗ میرے پیرنٹس تمہارے گھر نہیں آئیں گے۔‘‘
’’لیکن کیوں اسجد؟ آپ نے تو کہا تھا آپ اپنے پیرنٹس…!‘‘
’’وہ سب جھوٹ ٗ بکواس تھی۔‘‘
’’آپ مجھ سے فلرٹ کر رہے تھے؟‘‘ اس کی آواز حلق میں پھنسنے لگی تھی۔
’’یہی سمجھ لو اور آئندہ اس نمبر پر کال…‘‘
’’آپ بھلے مجھ سے فلرٹ کر رہے ہوں ٗ مگر میں نے آپ سے سچی محبت کی ہے۔‘‘
’’قصے کہانیوں کی روداد مجھے مت سنائو۔‘‘
’’آپ کو میری محبت جھوٹی داستان لگتی ہے ٗ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ ایسا کریں گے۔‘‘
’’اب پتہ چل گیا ہے ناں ٗ تو میرا پیچھا چھوڑ دو۔‘‘
’’مجھ سے پیچھا چھڑانے کی بہت جلدی ہے ناں آپ کو ٗ تو میری بھی سن لیں ٗ میں نے صرف آپ سے محبت کی ہے اور میں جان تو دے سکتی ہوں مگر کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی ٗ بہت جلد آپ کو میری شادی کی نہیں موت کی خبر سننے کو ملے گی۔‘‘
’’یسریٰ!‘‘ آفس کی چھت اسے اپنے سر پر گرتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
’’فلرٹ آپ کر رہے تھے۔ میں نہیں اور میں محبت پر جان قربان کر دوں گی۔‘‘ وہ رونا نہیں چاہتی تھی ٗ مگر آنسو اس کے چہرے کو تر کر رہے تھے۔
’’پاگل ہو گئی ہو‘ یسریٰ!‘‘
’’ہاں ٗ ہاں! میں پاگل ہو گئی ہوں ٗ آپ کی محبت و چاہت میں۔‘‘
’’فضول باتیں مت کرو۔‘‘
’’آپ کو میری محبت فضول لگتی ہے اور میں ثابت کروں گی کہ میری محبت آپ کی محبت کی طرح جھوٹ ٗ فریب نہیں ہے۔‘‘ اس نے لائن کاٹ کر کے موبائل بیڈ کی سائیڈ پر ڈال دیا تھا ور تکیے میں منہ چھپائے اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش کر رہی تھی ٗ اسجد تو اس کی اتنی شدت پر حیران رہ گیا تھا اور بڑی بے قراری سے اس کا نمبر ڈائل کر رہا تھا ٗ بیل تو جا رہی تھی مگر وہ ریسیو نہیں کر رہی تھی۔
’’ڈیم اٹ! کال تو ریسیو کرو پاگل لڑکی!‘‘ آٹھویں کال پر اس نے یس کیا تھا۔
’’یسریٰ!‘‘
’’مر گئی یسریٰ ٗ آپ نے مار دیا اسے ٗ اب یہاں کال کیوں کر رہے ہیں؟ فلرٹ کر رہے تھے ناں مجھ سے؟ تو اب کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ میں جیوں یا مروں آپ کو اس سے مطلب؟‘‘
’’مطلب ہے۔‘‘ اس کی بھرائی ہوئی آواز اسے پریشان کر رہی تھی۔
’’میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مگر میں آپ سے ملنا نہیں چاہتی ٗ بہت بنا لیا آپ نے مجھے بے وقوف ٗ مگر اب میں آپکے ہاتھوں بے وقوف ہرگز نہیں بنوں گی۔‘‘
’’میری بات تو سنو یسریٰ!‘‘
’’نہیں سننی مجھے آپ کی کوئی بات ٗ آپ بہت امیر ہیں نا؟ آپ کو تو کوئی بھی مالدار لڑکی مل سکتی ہے ٗ میرے جیسی غریب لڑکیوں سے تو آپ جیسے امیر زادے محض فلرٹ کرتے ہیں ٗ ہمارے جذبات سے کھیلتے ہیں ٗ ہماری بے بسی کا مذاق اڑاتے ہیں۔‘‘
’’بکواس نہیں کرو۔‘‘
’’اب میری ہر بات بکواس ہی لگے گی نا ٗ مگر میں بکواس نہیں کر رہی اسجد ! آپ نے میرے جذبات کو بری طرح ٹھیس پہنچائی ہے ٗ مجھے زندگی کبھی اچھی نہیں لگی ٗ سسکتی ہوئی زندگی ٗ آپ سے ملنے کے بعد جانا زندگی کتنی حسین ہے ٗ جینے کی تمنا کرنے لگی تھی میں اور آج آپ نے ساری تمنائوں کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا ٗ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی ٗ میری موت کے بعد تو آپ بھی سکون سے نہیں جی سکیں گے۔‘‘
’’شٹ اپ ٗ اب ایک لفظ اور کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ٗ اسٹاپ پر آئو ٗ میں تمہیں پک کر لوں گا۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے غصے سے کہہ رہا تھا۔
’’مگر میں…!‘‘
’’کہاناں… کچھ مت بولو۔‘‘ گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے اسے ڈپٹا تھا۔
’’میں نہیں آئوں گی۔‘‘ وہ چیخی تھی۔
’’میں پہنچ کر تمہیں میسج کر دوں گا اور تم 5 منٹ میں نہیں آئیں تو میں تمہارے گھر آ جائوں گا۔‘‘ پارکنگ کی طرف جاتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا تھا۔
’’آپ اب مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ دھیمی پڑ گئی تھی۔
’’آئو تو بتائوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر فون بند کر دیا تھا ٗ اس کے آفس سے یسریٰ کے گھر کا راستہ تقریباً 45 منٹ کا تھا مگر وہ محض 25 منٹ میں ریش ڈرائیونگ کرتا وہاں پہنچا تھا ٗ میسج کرنے کے 10 منٹ بعد وہ ایک تنگ ٗ پتلی سی گلی سے آتی دکھائی دی تھی اور اس نے فرنٹ ڈور کھول دیا تھا۔
’’آپ کو جو بات کرنی ہے یہیں…‘‘
’’خاموشی سے بیٹھتی ہو یا چاہتی ہو کہ میں تمہارے ساتھ زبردستی کروں؟‘‘ اسجد نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا ٗ ملگجے کاٹن کے پرنٹڈ سوٹ میں بڑی سی سیاہ چادر میں وہ خود کو لپیٹے اور اسی کا حصار چہرے پر کئے بھیگی آنکھوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی اور اس نے فوراً ہی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی وہاں سے بڑی تیزی سے نکالی تھی۔
٭٭٭
’’بھابی بیگم! آپ بات کر لیں بھائی صاحب سے ٗ پھر وہ جیسا کہیں گے میں مہوش سے کہہ دوں گی۔‘‘
’’وہ سب تو ٹھیک ہے فریدہ! مگر مجھے نہیں لگتا کہ نوید راضی ہوں گے ٗ 20,15 دن میں شادی کرنا آسان نہیں ہے۔‘‘ وہ گومگوسی کیفیت میں بولی تھیں۔
’’بھابی بیگم! تیاریاں تو 20 دن میں بھی ہو سکتی ہیں اور فضیل دیکھا بھالا لڑکا ہے ٗ فیملی کو ہم اچھے سے جانتے ہیں اور مہوش کو جہیز وغیرہ نہیں چاہئے۔‘‘
’’لیکن فریدہ! ہم بیٹی کو خالی ہاتھ رخصت تو نہیں کر سکتے۔‘‘
’’لیکن جہیز لینے سے مہوش اور فیاض بھائی دونوں نے ہی سختی سے منع کر دیا ہے ٗ وہ کہہ رہے تھے شادی 20 دن میں ہو یا 20 ماہ بعد ٗ وہ جہیز نہیں لیں گے ٗ خدا کا دیا ان کے پاس سب کچھ ہے وہ صرف زرمین کو رخصت کرکے لے جانا چاہتے ہیں۔‘‘
’’یہ باتیں فون پر کرنے کی نہیں ہیں ٗ گھر آئو گی تو بات کریں گے ٗ ہم اپنی لڑکی کو خالی ہاتھ تو کبھی رخصت نہیں کریں گے ٗ یہ بات مہوش کے کان میں ڈال دینا۔‘‘
’’مہوش سے میری تفصیل سے بات ہو چکی ہے ٗ وہ جہیز لینے سے منع کر رہی ہے مگر اس نے کہا ہے کہ آپ زرمین کو جو دینا چاہیں دے سکتی ہیں۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی بھلا؟‘‘
’’ارے بھابی بیگم! صاف بات تو ہے ٗ گھر کے سازو سامان یعنی فریج ٗ ٹی وی ٗ فرنیچر وغیرہ جیسی چیزوں سے ہٹ کر آپ زرمین کو زیور ٗ کپڑے جو چاہیں دیں ٗ وہ لوگ زرمین کو کچھ دینے سے منع نہیں کر رہے اور جب ان کے گھر میں یہ سارا سامان پہلے سے موجود ہے تو وہ نہیں لینا چاہ رہے اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے ٗ آپ یہ سب بھائی صاحب کو بتا کر کوئی فیصلہ کر لیں ٗ میں رات کو یا پھر کل فون کروں گی۔‘‘ ارحم کو وہاں آتے دیکھ انہوں نے بات کو سمیٹا تھا اور فون رکھ کر اس تک چلی آئی تھیں۔
’’السلام و علیکم! مما!‘‘ اُس نے ماں پر سلامتی بھیجی تھی
٭٭٭
’’وعلیکم السلام بیٹا! جیتے رہو ٗ آج اٹھنے میں بہت دیر کر دی؟‘‘ بیٹے کے ذرا سا جھکنے پر انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’بس مما! آج مجھے کچھ لیٹ جانا ہے اس لیے سکون سے سوتا رہا ٗ آپ بتائیے ناشتے میں کیا ہے؟ سخت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ وہ سیدھا ہوتا ہوا مسکرایا تھا ٗ وہ صبح جلدی اٹھنے کا عادی تھا ٗ مگر پچھلے 2 ماہ سے اس کی روٹین اتنی ٹف ہو گئی تھی کہ حد نہیں ٗ رات دیر تک سونا اور صبح جلدی اٹھنا ٗ آج موقع ملا تھا تو وہ دن چڑھے تک سوتا رہا تھا ٗ اسے ایک کیس کے سلسلے میں 2 بجے تک پولیس اسٹیشن پہنچنا تھا ٗ اس لئے اس نے ساڑھے 12 کا الارم لگایا تھا تاکہ ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر آرام سے وہاں پہنچ جائے۔
’’مائدہ بیٹا! پہلے بھائی کیلئے ناشتہ بنا دو ٗ دوپہر کے کھانے کی تیاری بعد میں کر لینا۔‘‘ انہوں نے مائدہ کو بلا کر کہا تھا اور وہ دونوں ڈائننگ ہال میں ہی بیٹھ گئے تھے ٗ مائدہ نے پہلے اس کیلئے چائے بنائی تھی اور اسے دے کر وہ پراٹھا بنانے لگی تھی ٗ کیونکہ ارحم سلائس اور پاپے وغیرہ نہیں کھاتا تھا۔
’’ارحم! تمہیں جیسے فراغت ملے اپنے ماموں کے گھر کا چکر ضرور لگا لینا۔‘‘
’’آج تو ممکن نہیں ہے ٗ کل کوشش کروں گا ٗ ویسے کیا کوئی خاص بات ہے؟‘‘
’’ہاں خاص بات تو ہے ٗ پچھلے کچھ ہفتوں سے تم اتنے مصروف رہے کہ میں تمہیں کچھ بتا ہی نہیں سکی اور جو کچھ بھی ہوا بہت جلدی میں ہو گیا۔‘‘ وہ سمجھ گیا تھا کہ فریدہ اس کو اب کیا بتانے لگی ہیں ٗ مگر اس نے ظاہر نہیں کیا تھا کیونکہ وہ ماں کو ٹوکنا نہیں چاہتا تھا۔
’’فضیل کا زرمین کیلئے مہوش نے رشتہ ڈالا تھا ٗ فضیل گھر کا ہی دیکھا بھالا بچہ ہے ٗ بھائی صاحب نے فضول کے جھنجھٹوں میں پڑنے سے بہتر مثبت جواب دے دیا۔‘‘
’’یہ تو اچھی بات ہے مما! اور ویسے بھی فضیل ٗ زرمین کو پسند کرتا ہے ٗ اچھا ہی ہے دونوں کی شادی ہو جائے۔‘‘
’’تم نے مجھے پہلے کبھی نہیں بتایا کہ فضیل ٗ زرمین کو پسند کرتا ہے ٗ تو تم نے اسی لئے زرمین سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا؟‘‘
’’مما! مجھے لگتا تو تھا کہ فضیل انٹرسٹڈ ہے زرمین میں اور میں نے کبھی زرمین کے بارے میں اس طرح نہیں سوچا تھا ٗ اس لئے منع کیا تھا ٗ فضیل کا ذکر میں نے اس لئے نہیں کیا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ فضیل اپنے دل میں زرمین کیلئے سوفٹ کارنر رکھتا ہے تو خود ظاہر کرے ٗ خیر! ان باتوں کو رہنے ہی دیجئے اور یہ بتایئے کہ شادی کا کب تک ارادہ ہے؟‘‘
’’مہوش کے بھائی کی طبیعت خراب ہے ٗ انہیں بلڈ کینسر ہے ٗ اس لئے وہ لوگ اسی ماہ شادی کرنا چاہ رہے ہیں۔‘‘
’’رات کو ہی تو میری فضیل سے بات ہوئی ہے ٗ وہ تو 3 ماہ بعد شادی کا کہہ رہا تھا۔‘‘ اتنی جلدی کا سن کر وہ بے حد حیران ہوا تھا۔
’’مہوش چاہ رہی ہے کہ دونوں بیٹوں کی شادی ساتھ ہی کر دے ٗ کیونکہ فیاض بھائی کی طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں رہتی اور جب فیصل کی ہو ہی رہی ہے تو فضیل کی بھی ساتھ ہی ہو جائے گی اور ویسے بھی شاکر بھائی سادگی کو پسند کرتے ہیں ٗ شادی ابھی ہو گی یا سال بعد ٗ ہو گی تو سادگی سے ہی ٗ کیونکہ شاکر بھائی مہندی وغیرہ جیسی رسموں کے سخت خلاف ہیں ٗ اس لئے میں نے بھابی بیگم سے بات تو کی ہے ٗ دیکھو بھائی صاحب کا کیا فیصلہ ہوتا ہے۔‘‘
’’اور آپ نے مائدہ کی اور راحم کی شادی کب تک کرنے کا سوچا ہے؟‘‘ مائدہ ابھی اس کا ناشتہ رکھنے آئی تھی تو اسے خیال آیا تھا اور اس کے جاتے ہی اس نے پوچھا تھا۔
’’منگنی کے وقت تو یہی طے ہوا تھا کہ سال ٗ چھ مہینے میں مائدہ اور اسجد کی شادی ہو گی اور راحم و شازمین کی زرمین کے ساتھ ہو گی ٗ زرمین کی ابھی شادی ہو جاتی ہے تو 7,6 ماہ بعد ان بچوں کی بھی شادی کر دیں گے ٗ تم اپنی بتائو ٗ تمہارا اپنا کب تک شادی کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘ وہ بیٹے کیلئے گلاس میں جوس نکالتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھیں ٗ وہ جو ناشتہ کرتے ہوئے غور سے انہیں سن رہا تھا ٗ محض مسکرا دیا تھا۔
’’مما صرف 4 سال دے دیں ٗ 4 سال بعد جس سے کہیں گی ٗ شادی کر لوں گا۔‘‘
’’ارحم 4 سال بہت ہوتے ہیں ٗ 7,6 ماہ میں راحم کی شادی کر دی تو اس کے بچے جب تک کتنے بڑے ہو جائیں گے۔‘‘
’’اچھا ہے نا مما! راحم کی شادی کرکے بہو لانے کا خواب پورا کریں اور اس کے بچوں کو کھلا کر دادی بننے کا۔‘‘
’’اور تمہیں یونہی تمہارے حال پر چھوڑ دوں؟‘‘ وہ خفا ہوئی تھیں۔
’’مما! مجبوری ہے ناں ٗ سمجھا کریں۔‘‘
’’کیا سمجھوں؟ 4 سال بعد پتہ ہے کتنے برس کے ہو جائو گے؟ پورے 32 کے اور بڈھے کو لڑکی کون دے گا؟‘‘ ان کی ناراضی بڑھتی جا رہی تھی۔
’’مما! 32 سال کی عمر میں کوئی بڈھا نہیں ہو جاتا اور میں یہ کب کہہ رہا ہوں کہ 4 سال بعد ہی شادی کروں گا ٗ میں تو بس آپ سے کچھ وقت مانگ رہا ہوں ٗ سیٹ ہو جائوں گا تو شادی کر لوں گا ٗ ابھی آپ خود بتائیں ٗ کتنے کتنے دن میں آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ نہیں پاتا ٗ میرے کھانے کی ٗ آنے جانے کی بھی کوئی ٹائمنگ نہیں ہے ٗ میری بیوی لے آئیں گی تو میری اس ٹف لائف سے وہ بے چاری کیسے کمپرومائز کرے گی؟مجھے بھی سیٹ ہو جانے دیجئے ٗ پھر کر لوں گا شادی۔‘‘ اس نے نرمی سے کہتے ہوئے آہستگی سے ماں کے کاندھے پر دبائو ڈالا تھا۔
’’یہی بات ہے یا کسی لڑکی کا چکر ہے؟‘‘
’’خدا کو مانیں مما! ایسی کوئی بات نہیں ہے ٗ باخدا کوئی لڑکی دل و نگاہ کو اچھی لگی توضرور بتائوں گا ٗ ورنہ آپ کی پسند کی لڑکی سے شادی کر لوں گا ٗ ابھی آپ مائدہ اور راحم کی شادی کی تیاریاں کریں اور مجھے اجازت دیں ٗ مجھے 2 بجے ڈیوٹی پر لازمی پہنچنا ہے اور ابھی مجھے تیار بھی ہونا ہے ٗ ویسے یہ پاپا کہاں ہیں؟ دکھائی نہیں دیئے۔‘‘ نکلتے ہوئے خیال آیا تو پوچھا تھا۔
’’اپنے کسی دوست کی طرف گئے ہوئے ہیں ٗ تم جانے کی تیاری کرو جاکر اور پلیز یاد سے ماموں کے ہاں چکر لگا لینا ٗ بھائی صاحب تمہیں یاد کر رہے ہیں۔‘‘ بیٹے کو ہدایت کی تھی۔
’’اوکے مما! ٹائم نہیں نکال سکا تو فون پر ان سے بات کر لوں گا۔‘‘ وہ کہتا ہوا سیڑھیاں چڑھ گیا تھا۔
’’مائدہ بیٹا! یہ برتن اٹھا لو ٗ میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں ٗ نماز پڑھ کر کچھ دیر آرام کروں گی۔‘‘
’’مما! کھانا نہیں کھائیں گی؟‘‘
’’ڈھائی بجے تک راحم نے آنے کا کہا تھا ٗ ساتھ ہی کھالوں گی ٗ تم کھانا کھا کر کچھ دیر آرام کر لینا ٗ صحت کا خیال رکھا کرو بیٹا!‘‘ وہ اس کا گال تھپتھپا کر بہت پیار سے کہتیں اپنے روم میں چلی گئی تھیں۔
٭٭٭
’’آپ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں؟‘‘ وہ عموماً ایک ہی ریسٹورنٹ میں جاتے تھے ٗ اس لئے وہ راستہ دیکھ کر بولی۔
’’اغواء کرکے لے جا رہا ہوں۔‘‘ وہ بڑے اطمینان سے بولا تھا اور اس کی سٹی گم ہو گئی تھی۔
’’آپ… آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘
’’ہوں… تم میری محبت میں جان دے سکتی ہو ٗ تو کیا تمہاری محبت میں ٗ میں اتنا سا بھی نہیں کر سکتا؟‘‘ مہارت سے ڈرائیو کرتے ہوئے اس کے حواس باختہ آنسوئوں سے تر چہرے پر نظر ڈالی تھی ٗ مستقل رونے سے اس کی آنکھیں سرخی مائل ہو کر سوج گئی تھیں اور ناک سرخ ہو گئی تھی جبکہ آنکھوں کا کاجل بھ پھیل گیا تھا۔
’’آپ مجھ سے محبت ہی کب کرتے ہیں؟‘‘
’’محبت نہیں کرتا ٗ سی لئے تو اغواء کرکے لے جا رہا ہوں۔‘‘ اس کے ہوائیاں اڑاتے چہرے کو دیکھ کر اسے مذاق سوجھا تھا جبکہ وہ اس کے مذاق کو سچ سمجھ بیٹھی تھی۔
’’میں محبت میں جان تو قربان کر سکتی ہوں اسجد! مگر عزت نہیں۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے سسک اٹھی تھی اور وہ تو پریشان ہو گیا تھا۔ اس نے فرسٹریشن میں ایسی بات کر دی تھی کہ وہ اسے اغواء کرکے لے جا رہا ہے مگر وہ تو سیریس ہو گئی تھی۔
’’یسریٰ! پلیز چپ کر جائو ٗ تمہارے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں ٗ میں تمہارے بارے میں ایسا ویسا سوچ بھی نہیں سکتا ٗ اگر تمہیں لگتا ہے کہ میری نیت میں فتور ہے ٗ تو میں تمہیں ایک لمحہ ضائع کئے بنا تمہارے گھر چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ اسے چپ ہوتے نہ دیکھ کر اس نے گاڑی بیک کرنا چاہی تھی کہ وہ اسٹیئرنگ پر رکھے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ گئی تھی۔
’’میں نے کبھی آپ کو یا آپ کی محبت کو شک کی نظر سے نہیں دیکھا ٗ پہلے آپ نے کہا کہ مجھ سے محبت نہیں فلرٹ کر رہے تھے‘ بعد میں کہا کہ اغواء کرکے لے جا رہے ہیں ٗ میں آپ کو کیا سمجھوں؟ آپ کا کون سا روپ سچا سمجھوں اسجد! وہ روپ جب آپ نے محبت کا اقرار کرکے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں ٗ مجھے اپنا بنا لینے کے وعدے کئے تھے یا اس روپ کو حقیقت سمجھوں جو مجھ سے میری محبت چھین لینا چاہتا ہے۔‘‘ وہ ہچکیوں کے درمیان لرزتے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’تم پلیز! چپ کر جائو ٗ میں تمہیں سب بتا دیتا ہوں ٗ تم رونا بند کرو۔‘‘ اس کا رونا اسجد کو ایری ٹیٹ کر رہا تھا۔
’’آپ مجھ سے محبت تو کرتے ہیں نا اسجد!‘‘ وہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے بڑی آس سے پوچھ رہی تھی ٗ اس کے اس طرح پوچھنے میں کتنی بے چینی اور کرب چھپا تھا ٗ اس نے شدت سے محسوس کیا تھا۔
’’فون پر آپ نے جو کچھ کہا…‘‘
’’وہ سب جھوٹ ٗ بکواس تھی یسریٰ! میں تم سے فلرٹ نہیں کر رہا ٗ ڈیم اٹ! تم سے پیار کرتا ہوں ٗ خود سے زیادہ تمہیں چاہتا ہوں۔‘‘
’’پھر ان سب باتوں کا کیا مطلب تھا ٗ آپ نے مجھ سے وہ سب کیوں کہا؟ اب یہ مت کہئے گا کہ میں مذاق کر رہا تھا ٗ تمہیں آزما رہا تھا۔‘‘ یسریٰ نے ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑتے ہوئے اسے جھوٹ نہ بولنے کی تنبیہہ کی تھی۔
’’میں نے وہ سب مذاق میں نہیں حقیقت میں کہا تھا ٗ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم اس شخص سے شادی کر لو جس سے تمہارے گھر والے کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اسجد نے اس کے متورم چہرے سے نگاہ ہٹا لی تھی ٗ اس لڑکی کو وہ بہت چاہتا تھا ٗ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھنا نہیں چاہتا تھا ٗ مگر آج خود ہی اسے رلا رہا تھا۔
’’آپ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ٗ میں ایسا کبھی نہیں کروں گی ٗ محبت کسی سے اور شادی کسی اور سے… جس سے محبت کی ہے اسی سے شادی کروں گی۔‘‘ وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بول رہی تھی کہ اس نے ٹوک دیا تھا۔
’’مگر میں تم سے شادی نہیں کر سکتا‘‘
’’3 سال بعد آپ کو خیال آ رہا ہے کہ آپ مجھ سے شادی نہیں کر سکتے؟‘‘
’’میں بہت مجبور ہوں۔ یسریٰ! تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
’’مگر اپنانے کا حوصلہ نہیں ہے ٗ بزدلوں کے منہ سے محبت کے قصے اچھے نہیں لگتے اسجد! اور ایسی کیا مجبوری ہے آپ کی کہ آپ محبت کا دعویٰ تو کر رہے ہیں مگر اسی محبت کو اپنا نہیں سکتے؟‘‘
’’میں تم سے محبت کا محض دعویٰ نہیں کرتا ٗ محبت کرتا ہوں تم سے ٗ مگر کیا کروں یسریٰ! میری منگنی ہو گئی ہے اور میں کچھ نہیں کر سکا کیونکہ…‘‘ وہ شگستگی سے اپنی کمزوری کا اعتراف کر رہا تھا کہ وہ جو اس کے انکشاف پر لمحہ بھر کو ساکت ہوئی تھی ٗ چیخ اٹھی تھی۔
’’یہ ہے آپکی محبت اسجد! کہ آپ نے کسی اور سے منگنی کر لی؟‘‘ وہ شکستہ نگاہوں سے بے بسی کی تصویر بنے اسجد کو دیکھ رہی تھی۔
’’آپ کہتے ہیں آپ کچھ نہیں کر سکے ٗ منگنی کر لی ٗ شادی کر لیتے تب کہتے کہ آپ نے کچھ کیا ہے۔‘‘ وہ تو اس کے انکشاف پر دہل کر رہ گئی تھی۔
’’مجھے منگنی سے محض 3 دن پہلے ہی پتہ چلا تھا یسریٰ! کہ میری منگنی ہو رہی ہے۔‘‘ اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیسے سمجھائے۔
’’منگنی ہو رہی نہیں تھی ہو گئی ٗ مجھے 3 سال تک لٹکا کر رکھا ٗ میں نے اپنے لئے آنے والے ہر رشتے کو ٹھکرایا صرف آپ کی خاطر ٗ خالہ جان کے طعنے سنے کہ مجھے ان کے ٹکڑوں پر پلنے کی عادت ہو گئی ہے ٗ خالہ کے بیٹے کو مایوس کیا آپ کی خاطر اور آپ نے منگنی کر لی… جب میں اتنی کٹھنائیاں آپ کی محبت میں برداشت کر سکتی ہوں تو آپ اپنی منگنی ہونے سے نہیں روک سکتے تھے؟ روکنا چاہتے تو روکتے ٗ مجھے اور میری محبت کو وقت گزاری ہی تو سمجھا تھا آپ نے ٗ تو پھر کیا ضرورت پڑی تھی جو آپ میری خاطر اسٹینڈ لیتے۔‘‘
’’یسریٰ! میری منگنی پھپھو کی بیٹی سے ہوئی ہے ٗ میں نے ابو سے بات کرنا چاہی تھی ٗ مگر انہوں نے صاف کہہ دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا ٗ وہ بہن کو زبان دے چکے ہیں اور میں نے یہ منگنی نہیں کی تو وہ مجھ سے ہر تعلق ختم کر لیں گے ٗ بات اتنی سی بھی ہوتی تو میں منگنی نہیں کرتا ٗ مگر ابو نے اپنی جان لے لینے کی دھمکی دی تو میں مجبور ہو گیا۔ یقین کرو میرا یسریٰ! میں تمہیں بہت چاہتا ہوں ٗ میں نے جو کچھ کیا مجبوری میں کیا۔‘‘
’’اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’میں تمہارا مجرم ہوں یسریٰ! جو چاہے سزا دے دو ٗ مگر اتنا یاد رکھنا کہ میں نے تم سے محبت کی ہے ٗ مگر شاید ہماری محبت کے نصیب میں وصل نہیں ٗ ہجر لکھا گیا ہے ٗ میں تو بس یہی چاہتا ہوں کہ تم جہاں رہو خوش رہو ٗ میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی ٗ مجھے معاف بھلے مت کرنا ٗ مگر زندگی کے سفر میں کسی کی ہمرائی میں آگے بڑھ جانا ٗ خواہش تو بہت تھی کہ تمہارا ہمسفر بنوں ٗ مگر یہ خواہش… خواہش ہی رہ گئی۔‘‘
’’آپ کسی کا بھی ہاتھ تھام کر زندگی گزار سکتے ہیں ٗ مگر میں اتنی باہمت نہیں ہوں ٗ مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا ٗ میری جان مانگیں گے تو ہنستے ہنستے آپ کے قدموں میں جان دے دوں گی ٗ مگر جو آپ مجھ سے مانگ رہے ہیں ٗ وہ میری زندگی سے بڑھ کر ہے ٗ ہجر زدہ زندگی گزارنے سے تو بہتر ہے میں اپنی جان دے دوں‘‘ وہ ایک دم ہی بکھر گئی تھی ٗ اس کی شرٹ کا کالر سختی سے مٹھی میں دبوچے آنسو بھری آنکھوں سے اس کا مضمحل چہرہ تک رہی تھی۔
’’یسریٰ! ایسی باتیں مت کرو۔‘‘
’’مجھے موت کا سندیسہ دے کر آپ کہتے ہیں میں زندگی کے گیت گائوں ٗ تو یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔‘‘ وہ تڑپ رہی تھی اور تڑپ تو وہ بھی رہا تھا ٗ مگر حوصلہ کئے بیٹھا تھا کہ اگر اس نے بھی ہمت ہار دی تو وہ مزید بکھر جائے گی اور وہ اسے بکھرنے نہیں دینا چاہتا تھا۔
’’زندگی میں انسان کو سب ہی کچھ نہیں مل جاتا اور تمہارے جینے کیلئے یہ احساس کافی نہیں ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں؟‘‘ اس کا آنسوئوں سے بھیگا چہرہ اونچا کیا تھا۔
’’نہیں ٗ اسجد! میں کسی کے ساتھ دھوکا نہیں کر سکتی ٗ محبت آپ سے اور شادی کسی اور سے… مجھے کیوں اذیت دے رہے ہیں؟ ایک دفعہ اپنے گھر والوں سے بات تو کرکے دیکھیں ٗ بابا نہیں مان رہے تو مما سے بات کریں ٗ میں آپ کے بغیر نہیں جی سکتی۔‘‘ وہ اس کے کاندھے پر سر رکھ گئی تھی اور اس کا شانہ اس کے آنسوئوں سے بھیگنے لگا تھا۔
’’تم سمجھ نہیں رہیں یسریٰ! میری کوئی بھی کوشش محبت سے بندھے رشتوں میں بے رخی کی گانٹھ باندھ دے گی ٗ مائدہ میری پھپھو کی بیٹی ہے اور مائدہ سے جڑا رشتہ توڑا تو کتنے ہی رشتے بکھر جائیں گے ٗ بہن بھائی جدا ہو جائیں گے اور میری بہن… اس کا رشتہ ٹوٹ جائے گا وہ راحم سے بہت محبت کرتی ہے اور میری وجہ سے وہ کیوں جدائی کا درد سہے؟ میں اپنوں کو دکھ نہیں دے سکتا۔‘‘ اس نے بے بسی سے اسے خود سے دور کیا تھا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تھا۔
’’آپ کو سب کی پرواہ ہے ٗ پرواہ نہیں ہے تو صرف میری ٗ کسی کو دکھ نہیں دینا چاہتے اور میری پوری حیات دکھوں کے حوالے کر رہے ہیں ٗ سب کو جدا ہونے سے بچا رہے ہیں اور مجھے جدائی کا پروانہ دے رہے ہیں ٗ یہی ہے آپ کی محبت۔‘‘ وہ اس سے برگشتہ ہو رہی تھی۔
’’اتنے لوگوں کی زندگی برباد ہونے سے بہتر ہے کہ ہم دونوں کے دل اجڑ جائیں ٗ زندہ رہنے کیلئے سانسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم بھی جی لیں گے ٗ ابھی تم جذباتی ہو کر سوچ رہی ہو ٗ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچوگی تو میرا فیصلہ اتنا برا نہیں لگے گا۔‘‘ اسے دیکھے بغیر اس نے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی اور ہلکی رفتار سے اس نے گاڑی بیک کی تھی اور نارمل رفتار سے گاڑی یسریٰ کے گھر کی جانب بڑھنے لگی تھی۔
’’میں جذباتی ہو کر سوچ رہی ہوں ٗ تو ایسا ہی ہے اور میری جذباتیت ابھی آپ نے دیکھی نہیں ہے اسجد! اب بتائوں گی کہ میری جذباتیت اور شدت پسندی کی حد کیا ہے ٗ آپ کسی سے بھی شادی کریں ٗ مگر میں ایسا نہیں کروں گی۔‘‘
’’پاگل مت بنو یسریٰ! تمہیں میری قسم ہے ٗ خدارا! خود کو نقصان مت پہنچانا۔‘‘
’’آپ اپنی راہیں الگ کر چکے ہیں ٗ اپنے لئے جیون ساتھی بھی منتخب کر چکے ہیں تو میری فکر اب کم از کم آپ کو نہیں کرنی چاہئے ٗ میں جیوں یا مروں آپ کی بلا سے۔‘‘ وہ روتے ہوئے اس کی گاڑی سے اتر گئی تھی اور وہ اسے روک بھی نہیں سکا تھا ٗ یسریٰ نے بہت تیز آواز کے ساتھ دروازہ بند کیا تھا ٗ وہ اس کے گلی میں جانے کا منتظر تھا ٗ مگر وہ کچھ دور جا کر اسٹاپ پر کھڑی ہو گئی تھی اور وہ پریشانی سے اس تک آیا تھا۔
’’یسریٰ! گھر جائو ٗ یہ جگہ کافی سنسان ہے۔‘‘ دوپہر کا وقت تھا ٗ اسٹاپ پر بھی کوئی نہیں تھا ٗ گاڑیاں بھی بڑی تیزی سے اکا دکا ہی گزر رہی تھیں۔
’’آپ جایئے۔‘‘ اس کی آواز مستقل رونے سے کافی بھاری ہو گئی تھی۔
’’میں چلا جائوں گا ٗ لیکن پہلے تم جائو ٗ میں یہ اطمینان کئے بغیر نہیں جائوں گا کہ تم خیریت سے اپنے گھر پہنچ گئی ہو۔‘‘ وہ قطعیت سے بولا تھا۔
’’میں پہلے کیوں جائوں؟ آپ جائو ٗ میں آپ کو نہیں چھوڑ رہی ٗ چھوڑ آپ رہے ہیں ٗ اس لئے میں آپ کو جاتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ جذباتی لہجے میں بولی تھی۔
’’بے وقوفی کی باتیں مت کرو۔‘‘ وہ قدرے چڑ سا گیا تھا۔
’’پلیز اسجد! مجھے جانے کو مت کہیں ٗ پرامس… آپ کی گاڑی نگاہوں سے جیسے ہی اوجھل ہو گی میں یہاں سے چلی جائوں گی۔‘‘ وہ لجاجت سے بولی تھی۔
’’لیکن…‘‘
’’لیکن ٗ ویکن کچھ نہیں ٗ آپ چلے جائیں ٗ میں یہ اطمینان کر لینا چاہتی ہوں کہ آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں ٗ آپ سے پہلے میں گئی تو میری آنکھوں میں انتظار بس جائے گا ٗ دل خوش فہمی پال لے گا کہ شاید آپ لوٹ کر آ جائو اور آپ نے تو کہا ہے ہم زندگی میں آگے بڑھ جائیں اور اب خود ہی مجھے انتظار سونپنا چاہتے ہیں ٗ کیوں آپ میری زندگی کو مذاق بنا دینا چاہتے ہیں؟ ایک طرف تو کہتے ہیں میں آپ کو بھلا دوں اور دوسری طرف مجھے الوداع کہنے نہیں دیتے ٗ جایئے اسجد! چلے جایئے ٗ ہمیشہ کیلئے مجھے چھوڑ کر بہت دور چلے جائیں۔‘‘ اس نے اس کے بازو پر دائیں ہتھیلی رکھ کر دھکا سا دیا تھا اور وہ اسے دیکھتا گاڑی میں آ بیٹھا تھا ٗ اسٹیئرنگ پر سر رکھ کر اس نے اب تک روکے ہوئے آنسو بہائے تھے اور جیسے ہی یہ خیال آیا تھا کہ وہ اس کے جانے کی منتظر ہے اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی اسٹارٹ کی تھی اور آنکھوں پر آنسوئوں کی دھند سی تھی اور اس نے آگے پیچھے بھی نہیں دیکھا تھا ٗ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ یسریٰ سائیڈ سے نکل کر سڑک کے بیچ آ کھڑی ہوئی ہے اور جیسے ہی اس نے اندھا دھند گاڑی آگے بڑھائی تھی وہ یسریٰ کو دور اچھالتی کافی آگے بڑھ گئی تھی‘ جیسے ہی اس کے حواس بیدار ہوئے تھے ٗ اس نے گاڑی کو بریک لگائے تھے ٗ تیزی سے ڈرائیونگ ڈور کھولتا ہوا وہ باہر نکلا تھا اور بھاگتا ہوا اس تک پہنچا تھا۔
’’یسریٰ! یہ کیا کیا تم نے ٗ پاگل لڑکی!‘‘ اس کے سر سے خون نکل رہا تھا اور وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتے ہوئے اس کا سر اپنے زانوں پر رکھے بے تابی سے بولا تھا۔
’’آئی لو یو اسجد!‘‘ آنکھیں بند ہونے سے پہلے وہ اتنا ہی بولی تھی اور وہ اسے اٹھائے تقریباً بھاگتے ہوئے گاڑی تک پہنچا تھا۔ اسے بیک سیٹ پر احتیاط سے لٹایا تھا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی اور وہ بڑی ریش ڈرائیونگ کرتا اسے ہسپتال لے آیا تھا ٗ مگر ڈاکٹرز نے پولیس کیس کہہ کر علاج کرنے سے انکار کر دیا تھا ٗ اسے فوراً ہی ارحم کا خیال آیا تھا تو وہ ارحم کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
’’ارحم! میں اسجد بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’اسجد! سب خیریت تو ہے ٗ تم بہت پریشان لگ رہے ہو؟‘‘
’’ارحم! مجھے تمہاری ہیلپ کی ضرورت ہے۔‘‘
’’بات کیا ہے؟‘‘
’’ایک لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔‘‘
’’تم پریشان نہ ہو ٗ میں آ رہا ہوں۔‘‘
’’اوکے ٗ ارحم! بٹ تم ڈاکٹر سے بات کر لو ٗ تاکہ وہ کم از کم لڑکی کا علاج تو شروع کریں ٗ اگر اس کی جان چلی گئی تو…‘‘ یہ تصور ہی اسے ہولا گیا تھا۔
’’یو ڈونٹ وری اسجد! کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ ارحم نے ڈاکٹر سے بات کرکے لائن کٹ کر دی تھی اور اسجد I.C.U کے باہر کھڑا اس کی زندگی کی دعا کر رہا تھا جو اس کی محبت میں جان قربان کرنے چلی تھی۔
’’صرف ایک دفعہ ہوش میں آ جائو یسریٰ! تمہاری خاطر میں ساری دنیا سے لڑ جائوں گا ٗ تمہیں کچھ ہو گیا تو شاید میں بھی مر جائوں۔‘‘ وہ I.C.U کے باہر کھڑا اندر مشینوں میں جکڑے وجود پر نگاہ جمائے خود سے بولا تھا اور جبھی کسی نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا ٗ اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ ارحم تھا۔
’’ارحم پلیز! اس وقت کوئی سوال مت کرو ٗ میں کچھ نہیں بتا پائوں گا۔‘‘ اس نے ایکسیڈنٹ کی تفصیل جاننی چاہی تھی تب وہ بولا تھا۔
’’ریلیکس اسجد! پریشان نہ ہو ٗ اس لڑکی کی حالت کیسی ہے؟ کیا وہ بہت زیادہ انجرڈ ہے؟‘‘ اس کی پریشان صورت دیکھ کر پوچھا تھا۔
’’اس کا سر اور بیک بہت بری طرح متاثر ہوئے ہیں ٗ اس کی ریڑھ کی ہڈی ڈیمج ہو گئی ہے ٗ شاید ہو سکتا ہے… اللہ نہ کرے۔‘‘ وہ اسے کچھ بتا نہیں سکا تھا جبکہ وہ ازحد متحیر ہو گیا تھا ٗ اسجد کا بری طرح کانپتا ہوا لہجہ ٗ آنکھوں میں مچلتے آنسو ٗ چہرے پر لکھے دکھ ارحم کے ذہن میں کئی سوال پیدا کر گئے تھے۔
’’کیا اسجد! اس لڑکی کو جانتا ہے؟ اور اسی لئے وہ اس کیلئے اتنا متفکر ہے۔‘‘ اسے خیال آیا تھا جسے وہ زبان پر بھی لے آیا تھا۔
’’اسجد! کیا تم اس لڑکی کو جانتے ہو؟‘‘
’’ارحم! اس کی حالت کا ذمہ دار صرف میں ہوں ٗ میری وجہ سے وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اب وہ شاید کبھی چل نہ سکے اور تم…‘‘ وہ خود کو چاہ کر بھی سنبھال نہیں پا رہا تھا۔
’’حوصلہ رکھو اسجد! اس لڑکی کو انشاء اللہ کچھ نہیں ہوگا اور یہ بتائو تم نے اس لڑکی کے گھر والوں سے رابطہ کیا؟‘‘
’’نہیں ٗ کیونکہ ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے اس کے گھر والوں کا پتہ چلتا۔‘‘ اسی وقت I.C.U کا دروازہ کھلا تھا اور وہ دونوں ڈاکٹر تک چلے آئے تھے۔
’’ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے ٗ مریض کو انڈر آبرزویشن رکھا گیا ہے ٗ 24 گھنٹوں میں ہوش آ گیا تو ٹھیک ورنہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ٗ بس آپ دعا کریں۔‘‘
’’اسجد! تم گھر چلے جائو ٗ مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک…‘‘
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘
’’یہ حادثہ ہوا کس جگہ پر تھا ٗ تاکہ لڑکی کے گھر والوں کو کم از کم انفارم کر دیں ٗ وہ ضرور پریشان ہو رہے ہوں گے۔‘‘ اس نے جگہ بتا دی تھی کیونکہ گھر کا ایڈریس تو خود اسے بھی معلوم نہیں تھا ٗ ارحم نے کچھ سوچتے ہوئے کسی کو فون ملایا تھا اور اس کے آنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔
٭٭٭
’’نوید! میرا خیال ہے ہمیں مہوش کو ہاں کہہ دینی چاہئے۔‘‘
’’لیکن راشدہ! اتنے کم وقت میں ساری تیاریاں کیسے ہوں گی؟‘‘
’’آپا بیگم! مجھے لگتا ہے زرمین بیٹی کی بھی رائے پوچھ لینی چاہئے ٗ آناً فاناً رشتہ طے ہو گیا اور اب شادی۔‘‘
’’ہمیں زرمین پر پورا اعتماد ہے ٗ ہماری بیٹی کبھی ہماری بات نہیں ٹالے گی اور ہم اس کیلئے کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں کریں گے۔‘‘ کسی کام سے وہاں آتی زرمین آواز پر ٹھٹھک کر وہیں رک گئی تھی۔
’’اور ہم نے فضیل کا رشتہ بہت سوچ سمجھ کر منظور کیا ہے ٗ ہماری بیٹی کیلئے وہ ایک آئیڈیل شخص ہے اور زرمین اس کے ساتھ بہت خوش رہیں گی۔‘‘ زرمین جو اس قصے کو لے کر پریشان تھی ٗ جس وقت اسے راشدہ نے بتایا تھا کہ مہوش اس کا ہاتھ فضیل کیلئے مانگنے آ رہی ہیں اور ان کو مثبت جواب ہی دیا جائے گا تو اس کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے تھے ٗ وہ ماں سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہیں سکی اور اس کی سونی کلائیاں بھاری کنگنوں سے سج گئیں اور آج باپ کا مان بھرا لہجہ ٗ وہ اپنے آنسو صاف کرتی وہاں سے ہٹ گئی تھی۔
’’آپ دیکھ لیں راشدہ! اگر آپ اتنی جلدی سب کچھ مینج کر سکتی ہیں تو مہوش کو جو وہ کہیں تاریخ دے دیں ٗ لیکن کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہئے ٗ ہم اپنی بیٹی کو وہ سب دیں گے جو اس کا حق ہے۔‘‘
’’لیکن ان لوگوں نے جہیز لینے سے سختی سے انکار کر دیا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے ٗ سوچ کر آپ مجھے بتا دیجئے گا ٗ فریدہ کو بھی بلا لیں اور آپ خواتین مل کر فیصلہ کر لیں ٗ پھر اسی کے تحت مجھے جو کرنا ہوگا وہ کر لوں گا اور آپ پہلے زرمین سے ضرور پوچھ لیں ٗ اگر وہ وقت چاہیں تو ان کی خواہش کا احترام کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے فیصلہ کی ڈور ان خواتین کے ہاتھ میں تھما دی تھی۔
’’حنین کہاں ہیں ٗ انہوں نے کھانا کھایا کہ نہیں؟‘‘
’’نہیں ٗ کمرہ بند کئے پڑی ہے اور اسی وقت باہر نکلے گی جب اسے آفس جانے کی اجازت ملے گی ٗ نہ جانے کہاں سے خناس سما گیا ہے اس کے دماغ میں۔‘‘ ساجدہ تو اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں ٗ مگر وہ اپنے فیصلے سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہ تھی اور وہ اسے سخت سست سناتیں اس کے کمرے سے نکل آئی تھیں اور وہ جب سے ہی لاک لگائے بیٹھی تھی۔
’’اسجد کہاں ہے ٗ دوپہر میں گھر آیا تھا؟‘‘
’’نہیں ٗ وہ صبح سے نکلا تو ابھی تک نہیں آیا ٗ کیا آفس نہیں گیا؟‘‘
’’آفس آیا تو تھا مگر 1, 12 بجے کے قریب وہاں سے نکل گیا تھا جبکہ 2 بجے اس کی ایک اہم میٹنگ بھی تھی ٗ میں نے اس سے رابطہ یہ سوچ کر نہیں کیا کہ وہ اتنا غیر ذمہ دار نہیں ہے کچھ سوچ کر ہی میٹنگ کینسل کی ہو گی اور اب تو 8 بجنے والے ہیں ٗ اب تک تو اسے آ جانا چاہئے تھا۔‘‘ وہ اسجد کا نمبر ملانے لگے تھے ٗ لائن کاٹ دی گئی تھی اور تقریباً 10 منٹ بعد وہ گھر میں داخل ہوا تھا اور سلامتی بھیجتا تھکے تھکے انداز میں وہ صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
’’اسجد! سب خیریت تو ہے بیٹا؟‘‘
’’جی امی! بس کچھ تھک گیا ہوں ٗ یہ زرمین کہاں ہے؟ اس سے کہہ کر ایک کپ چائے بنوا دیں ٗ سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔‘‘ ارحم نے اس سے کہا تھا کہ وہ خود سب کچھ ہینڈل کر لے گا ٗ اس لئے وہ گھر میں کچھ نہ بتائے ٗ ایک گھنٹہ قبل ہی اسے ہوش آ گیا تھا ٗ مگر ڈاکٹرز ابھی بھی پر امید نہیں تھے ٗ ارحم نے اپنے اثر و رسوخ استعمال کرکے یسریٰ کے گھر والوں کا پتہ چلا لیا تھا ٗ کیونکہ ایکچوئیل جگہ تو اسجد اسے بتا ہی چکا تھا اس لئے زیادہ پریشانی نہیں ہوئی تھی ٗ یسریٰ کی خالہ اور ان کا بیٹا وہاں آ تو گئے تھے مگر ان کے چہروں سے پریشانی نہیں ٹپک رہی تھی ٗ ان کے چہروں سے بلا ٹلنے کی امید ٹپک رہی تھی اور خالہ نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ وہ بہت غریب ہیں ٗ کسی سرکاری ہسپتال میں علاج نہیں کروا سکتیں کجا شہر کے مہنگے ترین پرائیویٹ ہسپتال میں ٗ اسجد نے علاج کروانے کی ذمہ داری اٹھا لی تھی اور ان کے ہاتھ پر 10 ہزار رکھ کر وہ ارحم کے کہنے پر ہسپتال سے نکل آیا تھا۔ اسجد کی اتنی مہربانیوں کو ارحم سمجھ نہیں پا رہا تھا ٗ ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ یہ سب خوف کے پیش نظر کر رہا ہے ٗ اس کا پژمردہ چہرہ ارحم کو بہت کچھ سمجھا رہا تھا ٗ مگر اس وقت اس نے اسجد سے کچھ بھی پوچھنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے بیٹا؟‘‘
’’چچی! ٹھیک ہوں میں ٗ بس کچھ تھکن…‘‘
’’بات کیا ہے اسجد! تم نے میٹنگ بھی کینسل کر دی اور اس وقت آ کہاں سے رہے ہو؟‘‘
’’ابو! ایک دوست کی طرف نکل گیا تھا ٗ اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اور صبح جو کچھ ہوا گھر میں اس کے بعد میٹنگ اٹینڈ کرنا نہیں چاہ رہا تھا ٗ کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا اتنے ماہ کی محنت پل بھر میں ضائع ہو جائے۔‘‘ وہ کچھ تلخ ہوا تھا۔
’’تم صبح ناشتہ کئے بغیر ہی چلے گئے ٗ اس کا مجھے بہت افسوس ہے بیٹا!‘‘ ساجدہ ایک بار پھر شرمندگی کے حصار میں لپٹ سی گئی تھیں۔
’’پلیز چچی! میں نے آفس میں کھا لیا تھا۔‘‘ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا اور کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن کہتے کہتے رک کر اس نے جھوٹ کا سہارا لیا تھا ٗ وگرنہ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
’’اسجد! صبح جو کچھ ہوا میں نہیں چاہتا کہ وہ پھر دوبارہ دہرایا جائے ٗ حنین کو میں نے اجازت دی ہے اور اس معاملے میں تمہیں بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’وہی تو میں حیران ہوں کہ آپ نے اسے اجازت دے کیسے دی؟‘‘
’’اب تم مجھے بتائو گے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں؟‘‘ اس کا تلخ لہجہ انہیں کچھ غصہ دلا گیا تھا۔
’’میں نے یہ نہیں کہا ابو! لیکن یہ بات مجھے پسند نہیں ہے ٗ اس لئے میں نہیں چاہتا کہ حنین آفس جوائن کرے ٗ اگر وہ ایسا کرے گی تو میں آفس نہیں آئوں گا اور یہ میرا اٹل فیصلہ ہے۔‘‘ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا اور حنین جو باہر کھڑی اندر ہونے والی تکرار سن رہی تھی اسے بے تحاشہ غصہ آ گیا تھا اور وہ اندر جانے کی بجائے اس کے روم میں چلی آئی تھی ٗ اسجد اپنے سیل فون سے ارحم کا نمبر ڈائل کر رہا تھا مگر اسے دیکھ کر رک گیا تھا۔
’’تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟‘‘
’’مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ٗ میرے کمرے سے اسی وقت چلی جائو۔‘‘
’’لیکن میں آپ کے روم سے بات کئے بغیر نہیں جائوں گی۔‘‘ اس کے غصے کو وہ کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے آگے بڑھ آئی تھی۔
’’میں کم از کم اس وقت تم سے کوئی بھی بات کرنا نہیں چاہتا حنین! میں پہلے ہی ڈسٹرب ہوں ٗ تم مجھے مزید پریشان نہ کرو ٗ جو بات کرنی ہو صبح کر لینا۔‘‘
’’مجھے بات ابھی اس لئے کرنی ہے تاکہ آپ کو بتا دوں کہ صبح میں آفس جوائن کر رہی ہوں ٗ صبح کوئی بدمزگی نہ ہو اس لئے ابھی سے بتا دیا ہے۔‘‘
’’تمہاری سمجھ میں ایک دفعہ کی بات نہیں آتی ٗ کہہ چکا ہوں کہ تم آفس نہیں آئو گی تو بار بار اس ذکر کو نکالنے کا مقصد؟‘‘
اسجد کو یکدم اشتعال نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ٗ اس نے غصہ میں آکر اس کا بازو سختی سے دبوچا تھا مگر دوسرے ہی لمحے اپنی بات کے اختتام پر ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑ بھی دیا تھا۔
’’جب مجھے تایا ابو خود اجازت دے چکے ہیں تو آپ کیوں اس معاملے میں فضول میں بولے جا رہے ہیں؟‘‘ وہ اس کے غصے سے خائف تو ہوئی تھی مگر بولے بنا بھی نہیں رہی تھی۔
’’کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تم آفس آئو۔‘‘ وہ دھاڑا تھا۔
’’آپ مجھے روک نہیں سکتے ٗ میں اپنی مرضی کی آپ مختار ہوں ٗ آپ مجھ پر اپنے فیصلے زبردستی ٹھونس نہیں سکتے۔‘‘ وہ دو بدو بول رہی تھی ٗ یسریٰ کو لے کر اس کا ذہن پہلے ہی منتشر تھا ٗ حنین کا نڈر انداز اس کے ذہن پر ہتھوڑے سے برسا رہا تھا۔
’’اور تم میرے فیصلے کو بدل نہیں سکتیں ٗ اب میرے کمرے سے دفع ہو جائو ٗ مجھے تم سے کوئی بحث نہیں کرنی۔‘‘
’’آپ منع کرتے رہیں ٗ میں کل آپ کو آفس آکر دکھائوں گی۔‘‘ اتنی بے عزتی پر تو وہ چراغ پا ہو گئی تھی ٗ اس لئے بہت تیز لہجے میں بولی تھی۔
’’تم آکر تو دکھائو ٗ ٹانگیں توڑ دوں گا میں تمہاری۔‘‘
’’آپ… آپ ہوتے کون ہیں میری ٹانگیں توڑنے والے؟ باپ مر گیا ہے لیکن میری ماں ابھی زندہ ہے ٗ لاوارث نہیں ہوں میں۔‘‘ وہ اب رو رہی تھی۔
’’تم پلیز! اس وقت یہاں سے چلی جائو ٗ میں ابو اور چچی سے بات کر لوں گا۔‘‘
’’جو بات کرنی ہے مجھ سے کریں ٗ زندگی میری ہے فیصلہ بھی میرا ہی ہوگا او?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *