Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01
’’تایا ابو مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’بیٹا! تو اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے؟ بلا جھجھک بات کریں۔‘‘
’’تایا ابو! میں جاب کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ حنین کی بات پر سب ہی اُسے بڑی حیرانگی سے دیکھنے لگے تھے کیونکہ کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ یہ سب کہے گی۔
’’حنین بیٹا! آپ جانتی بھی ہیں کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘
’’تایا ابو! میں جاب کرنا چاہتی ہوں اور یہ بات آپ سے میں نے بہت سوچ سمجھ کر کی ہے۔‘‘ حنین کی سنجیدگی پر ذرا برابر فرق نہیں پڑا تھا جبکہ وہ عموماً کافی غیر سنجیدہ ہی رہتی تھی اور اس کی سنجیدگی کی وجہ سے ہی نوید عالم کچھ متفکر ہوئے تھے۔
’’آپ کو جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پہلے آپ اپنی ایجوکیشن تو کمپلیٹ کر لیں۔‘‘
’’تایا ابو! میں ایک بزنس وومن بننا چاہتی ہوں۔‘‘
’’بیٹا! پہلے وومن تو بن جایئے ٗ بزنس وومن بننے کی بات تو بعد میں آتی ہے ٗ ابھی آپ کا انٹر تک کمپلیٹ نہیں ہوا اور آپ ہیں کہ بزنس وومن بننا چاہتی ہیں۔‘‘ نوید عالم کے لبوں پر بڑی شریر مسکراہٹ نے بڑی تیزی سے جگہ بنائی تھی۔
’’حنین! فضول باتیں بہت ہو گئیں ٗ اب اٹھو اور جا کر سوئو۔‘‘
’’ممی! میں فضول باتیں نہیں کر رہی ٗ آئی ایم سیریس۔‘‘ اسے ماں کا اس طرح بولنا پسند نہیں آیا تھا ٗ اوپر سے تایا کی مسکراہٹ بھی اس کا دل جلا رہی تھی۔
’’ساجدہ! آپ پلیز کچھ مت کہیں ٗ میں حنین سے بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’بھائی صاحب! اس کا تو دماغ خراب ہے ٗ نئے نئے خیالات اس کے دماغ میں آتے رہتے ہیں ٗ ڈھنگ سے گھر کا تو یہ کوئی کام کر نہیں سکتی ٗ چلی ہے جاب کرنے۔‘‘ نوید عالم کے اشارے پر وہ چپ کر گئیں تھیں۔
’’ممی! مجھے گھر کے کاموں سے ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے ٗ میں بزنس وومن بننا چاہتی ہوں اور پلیز تایا ابو! آپ مجھے آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دیں۔‘‘ حنین نے ماں اور تایا سے باری باری کہا تھا۔
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے کہ آپ آفس جوائن کریں ٗ لیکن ابھی یہ سب قبل از وقت ہوگا ٗ آپ پہلے اپنی ایجوکیشن کمپلیٹ کریں اس کے بعد میں آپ کو آفس جوائن کرنے سے نہیں روکوں گا۔‘‘
’’تایا ابو! بعد میں تو میں کروں گی ٗ لیکن آج کل میں فارغ ہوں تو میں آفس جوائن کرنا چاہتی ہوں ٗ تاکہ مجھے کچھ ایکسپیرئنس ہو جائے۔‘‘
’’حنین! جب بھائی صاحب نے کہا ہے کہ وہ تمہیں اجازت دے دیں گے تو پھر تم کیوں بحث کر رہی ہو؟‘‘ انہوں نے بیٹی کو گھورا تھا۔
’’ممی! میں بحث نہیں کر رہی۔‘‘
’’تو پھر بحث کرنا کس کو کہتے ہیں؟‘‘ اب کے انہوں نے اس کو ڈپٹا تھا۔
’’ساجدہ! ڈانٹ کیوں رہی ہو حنین کو؟ اگر بچی اپنے دل کی بات گھر والوں سے نہیں کرے گی تو پھر کس سے کرے گی؟‘‘ راشدہ نے مداخلت کی تھی۔
’’آپا بیگم! ہر وقت کی ضد اور بحث اچھی نہیں ہوتی اور جب حنین سے بھائی صاحب نے کہدیا ہے کہ جب وقت آئے گا تو اسے جاب کرنے کی اجازت مل جائے گی تو یہ کیوں خاموش نہیں ہو جاتی؟‘‘
’’جب حنین مجھ سے بات کر رہی ہیں تو آپ لوگوں کو بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اسے روتے دیکھ کر وہ سنجیدگی سے بولے تھے۔
’’آئی ایم سوری بھائی صاحب!‘‘ ساجدہ نے قدرے شرمندگی سے اپنے جیٹھ کو دیکھا تھا اور معذرت طلب کی تھی۔
’’حنین! رونے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا!‘‘
’’تایا ابو! مجھے معاف کر دیں ٗ میں آپ سے بحث نہیں کر رہی ٗ میں تو بس یہی چاہتی ہوں کہ آپ مجھے آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دیں۔‘‘
’’بیٹا! ابھی آپ کو بزنس کی نو ہائو نہیں ہے تو میں کیسے آپ کو آفس جوائن کرنے کی اجازت دے سکتا ہوں؟‘‘
’’تایا ابو! جب میں آفس جوائن کروں گی تب ہی تو مجھے بزنس کی نوہائو ہو گی۔‘‘
’’حنین بیٹا! آپ میری بات سمجھ نہیں رہی ہو ٗ آفس جوائن کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔‘‘ وہ اسے سمجھا نہیں پا رہے تھے۔
’’اگر مشکل ہے تو بھی مینج کر لوں گی تایا ابو!‘‘
’’حنین! میں آپ کو ابھی اجازت نہیں دے سکتا۔‘‘ انہوں نے گویا بات ہی ختم کر دی تھی۔
’’لیکن کیوں تایا ابو؟ آپ مجھ پر بھروسا کرکے تو دیکھیں۔‘‘
’’میں نے یہ کب کہا کہ میں آپ پر بھروسا نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو اجازت نہیں دے رہا ہوں ٗ میں تو فی الحال اس لئے منع کر رہا ہوں کہ جاب کرنا ٗ آفس سنبھالنا ایک ٹف ٹائم ڈیوٹی ہے اور جس کو آپ مینج نہیں کر سکتیں ٗ اس لئے پہلے تعلیم مکمل کریں تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ آفس کیسے سنبھالتے ہیں؟‘‘
’’وہی تو میں سیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’کچھ بھی ایسے نہیں سیکھا جاتا حنین! ہر چیز وقت پر ہی اچھی لگتی ہے اور اگر میں آپ کو آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دوں تو آپ کیا کریں گی؟ آفس کے کام کے بارے میں آپ جانتی ہی کیا ہیں؟‘‘
’’تایا ابو! میں کسی بہت بڑی پوسٹ پر کام کرنے کیلئے نہیں کہہ رہی ٗ میری ایجوکیشن کے مطابق جو آپ کو ٹھیک لگے۔‘‘
’’آپکی ایجوکیشن ہی کتنی ہے؟ محض انٹر ٗ اس کا بھی ابھی رزلٹ نہیں آیا۔‘‘
’’تو کیا انٹر کرکے کوئی جاب نہیں کرتا ٗ کتنی ہی لڑکیاں اور لڑکے انٹر کے بعد بھی جاب کرتے ہیں ٗ جب ان کو جاب مل جاتی ہے تو کیا مجھے اپنے گھر کے بزنس میں بھی ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا؟‘‘
’’حنین! بس چُپ کر جائو ٗ سارے لحاظ بھولتی جا رہی ہو تم ٗ تایا سے دو بدو بحث کرتے تمہیں ذرا سی شرم نہیں آ رہی۔‘‘
’’ممی!‘‘
’’شپ اپ حنین! اُٹھو اپنے کمرے میں جائو ٗ اب کچھ کہا تو بہت پٹوگی مجھ سے۔‘‘ اُسے منہ کھولتے دیکھ وہ درشتگی سے بولی تھیں اور وہ صوفے سے اُٹھی تھی اور کسی کو بھی دیکھے بغیر لائونج سے نکل گئی تھی۔
’’بھائی صاحب! حنین کی طرف سے میں آپ سے معافی…‘‘
’’ساجدہ! حنین میرے لئے غیر نہیں ہے ٗ میری اپنی بیٹی ہے۔‘‘
’’یہ آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے بھائی صاحب! کیا میں نہیں جانتی کہ حنین آپ کو کتنی عزیز ہے ٗ جاوید کی موت کے بعد آپ نے ہی تو سارے لاڈ اٹھائے ہیں ٗ اپنے بچوں سے بڑھ کر حنین کا خیال رکھا ٗ اس کی ہر خواہش پوری کی اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب جو سوچ لیتی ہے اسے پورا کروا کے ہی چھوڑتی ہے ٗ اتنی ضد اور من مانی اچھی نہیں ہوتی ٗ کل کو اگلے گھر جائے گی تو کون برداشت کرے گا یہ سب؟ مجھے تو سوچ سوچ کر ہی ہول اُٹھتے ہیں۔‘‘
’’پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساجدہ! حنین میری ذمہ داری ہے ٗ جسے میں آخری سانس تک خوش دلی سے اُٹھائوں گا اور بچے والدین سے بھی ضد یا فرمائش نہیں کریں گے تو پھر کس سے کریں گے؟ آپ ہر وقت حنین کے پیچھے نہ پڑ جایا کریں ٗ اگر ضد کر بھی رہی ہے تو اسے پیار سے سمجھایا جا سکتا ہے ٗ بڑی ہوتی ہوئی اولاد پر ہر وقت تنقید کی جائے یا روک ٹوک ٗ اس کا بُرا اثر پڑتا ہے ٗ اس لئے پیار و محبت سے پیش آیا کریں ٗ آپ کی روک ٹوک حنین پر بھی بُرا اثر ڈالے گی اور جب بات پیار و محبت سے سلجھائی جا سکتی ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ سختی سے پیش آئیں؟‘‘ نوید عالم سنجیدگی سے کہتے چلے گئے تھے۔
’’نوید ٹھیک کہہ رہے ہیں ساجدہ! تم ہر وقت ہی حنین کے پیچھے پڑی رہتی ہو کہ اتنی دیر کیوں سوئیں ٗ رات دیر تک کیوں جاگتی رہیں ٗ کھانا بنانا سیکھو ٗ سلائی سیکھو۔ وہ وقت کے ساتھ سب سیکھ لے گی ٗ تم کیوں اتنی فکر مند ہوتی ہو؟‘‘ راشدہ نے شوہر کی حمایت میں بات آگے بڑھائی تھی۔
’’آپا بیگم! میں بھی کیا کروں اور بچیاں بھی تو ہیں ٗ زرمین نے پورا کچن سنبھالا ہوا ہے اور شازمین سلائی کڑھائی میں ماہر ہے اور حنین ہے کہ نہ چائے بنانا آتی ہے نہ ہی سوئی میں دھاگہ ڈال سکتی ہے ٗ دونوں بچیوں کی طرح گھر داری میں انٹرسٹ لے تب اسے کچھ آئے گا ٗ اُسے تو بزنس وومن بننے کا خبط ہو چلا ہے۔‘‘ وہ بیٹی کی حرکتوں سے سخت نالاں تھیں۔
’’وقت کے ساتھ سیکھ لے گی ٗ تم پریشان نہ ہوا کرو۔‘‘ راشدہ نے اپنا ہاتھ تسلی بھرے انداز میں ساجدہ کے ہاتھ پر رکھا تھا ٗ راشدہ اور ساجدہ دو بہنیں جو شادی کے بعد جٹھانی دیورانی بن گئیں ٗ نوید اور جاوید دو بھائی اور ایک بہن فریدہ۔ نوید سب سے بڑے تھے اور ان کی دو بیٹیاں زرمین اور شازمین اور اکلو اکلوتا بیٹا اسجد جو بہنوں سے بڑا تھا۔ اسجد نے بی بی اے کرنے کے بعد باپ کا بزنس سنبھال لیا تھا ٗ زرمین نے گریجویشن کے بعد اپنی مرضی سے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا ٗ شازمین بی ایس سی کے آخری سال میں تھی۔ جاوید عالم کا انتقال بہت ہی کم عمری میں ہو گیا تھا ان کو کینسر تھا اور علاج کروانے کے باوجود مالک حقیقی کی مرضی کے تحت روبہ صحت نہ ہو سکے اور دنیا سے منہ موڑ گئے ٗ اُس وقت جاوید کی اکلوتی بیٹی حنین محض 4 برس کی تھی ٗ نوید عالم اور راشدہ نے بہت کوشش کی کہ ساجدہ دوسری شادی کر لیں مگر وہ کسی طور پر راضی نہ ہوئیں ٗ جس طرح جاوید کی زندگی میں وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے ویسے ہی رہ رہی تھیں ٗحنین نے انٹر سائنس کے ایگزامز دیئے تھے ٗ حنین کو باپ کی کمی محسوس نہ ہو اس لئے نوید عالم نے اسے اپنے تینوں بچوں سے زیادہ محبت و چاہت اور توجہ دی تھی اور گھر والوں کی توجہ نے ہی اسے کافی ضدی اور موڈی بنا دیا تھا ٗ فریدہ کے دو بیٹے ارحم الحسن اور راحم الحسن تھے۔ ارحم نے سی ایس ایس کیا تھا اور حال ہی میں پولیس میں بھرتی ہوا تھا۔ زرمین کی ہم عمر مائدہ نے بھی گریجویشن کیا تھا اور مائدہ کی اسجد سے اور شازمین کی راحم سے 3 ماہ قبل ہی بڑی دھوم دھام سے منگنی ہوئی تھی ٗ فریدہ کے شوہر یوسف ایئر فورس سے وابستہ تھے ٗ حال ہی میں انہوں نے ریٹائر منٹ لی تھی جبکہ راحم کو اس شعبے سے دلچسپی نہ تھی اس لئے اس نے انجینئرنگ کی ڈگری لی اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ ہو گیا تھا۔ دونوں گھرانوں میں بے حد محبت اور انسیت تھی ٗ ان لوگوں میں رشتوں کی اصل مٹھاس شدت سے محسوس کی جا سکتی تھی جبکہ آج کل کا دور کہ جس میں جوائنٹ فیملی سسٹم تقریباً ختم ہو رہا ہے اور قریبی رشتے وار بھی ایک دوسرے کی کاٹ میں لگے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کی آپسی محبت اور یگانگت قابل ذکر ہی تھی کیونکہ اپنوں کو سمجھنا اور ان کی قدر کرنا آج کل کے دور میں بہت کم نظر آتا ہے۔
٭٭٭
’’پھپھو! اس دفعہ آپ نے کافی دنوں بعد چکر لگایا ہے ٗ سچ میں آپ کو بہت مس کر رہی تھی۔‘‘ شازمین لاڈ سے بولی تھی۔
’’پھپھو کو مس کر رہی تھیں یا پھپھو کے بیٹے کو مس کیا جا رہا تھا؟‘‘ چلغوزوں کی پلیٹ سے انصاف کرتی حنین کے شرارت سے کہنے پر شازمین بُری طرح جھینپ گئی تھی اور جھینپ مٹانے کو اُس کے بازو میں چٹکی کاٹی تھی۔
’’ہر وقت فضول بولا کرو۔‘‘
’’لو بھئی نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے۔‘‘ وہ بازو کو سہلاتے ہوئے بولی تھی اور فریدہ ہنسنے لگی تھیں اور ہنستے ہوئے اُسے چھیڑنے کو بولی تھیں۔
’’شازمین بیٹا! کیا حنین سچ کہہ رہی ہے؟ یاد مجھے نہیں بلکہ…!‘‘ جان کر انہوں نے بات ادھوری چھوڑ کر شرارت بھری نگاہوں سے اُسے دیکھا تھا۔
’’آپ بھی نا پھپھو! اس کو تو بکواس کرنے کی عادت ہے ٗ میں آپ کیلئے چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ اس کا خوبصورت چہرہ اناری ہو چلا تھا اور اُس نے وہاں سے بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی تھی۔
’’زرمین آپی! سے کہہ دیجیے گا چائے بنانے کیلئے ٗ جوشاندہ پینے کا بالکل بھی موڈ نہیں ہے۔‘‘ حنین نے پیچھے سے آواز لگائی تھی۔
’’تم سے تو اچھی چائے بناتی ہوں ٗ تمہیں تو یہ بھی شاید پتہ نہ ہو کہ چائے بناتے وقت ڈالتے کیا کچھ ہیں؟‘‘ اس نے مڑ کر کہتے ہوئے حساب بے باک کیا تھا اور سب ہی جانتے تھے کہ شازمین نے بالکل سچ کہا ہے اس لئے فریدہ اور راشدہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی جبکہ ساجدہ کو فکر نے آ گھیرا تھا۔
’’ساجدہ بھابی! آپ کیوں خاموش بیٹھی ہیں؟‘‘
’’ہاں… نہیں… میں بچیوں کی نوک جھونک سُن رہی تھی ٗ تم آتے ہوئے مائدہ کو بھی لے آتیں۔‘‘
’’نہیں بھابی! اچھا نہیں لگتا ٗ یہ مائدہ کی ہونے والی سسرال ہے ٗ سسرال میں شادی سے پہلے آنا کچھ معیوب سی ہی بات ہے۔‘‘
’’تم بھی کن زمانوں کی بات کرتی ہو فریدہ! زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے اور مائدہ کا یہ سسرال بعد میں ٗ ماموں کا گھر پہلے ہے ٗ اس لئے اُس کے آنے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔‘‘ راشدہ نے کھلے دل و سچائی سے کہا تھا۔
’’بھابی بیگم! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ٗ مگر احتیاط کرنا اچھی بات ہے۔‘‘
’’فریدہ تمہاری بات اپنی جگہ درست ہے مگر منگنی نہ جانے ابھی کتنے ماہ یا سال رہے ٗ تو بچے کیا ماموں اور پھپھو کے گھر ہی نہیں آئیں جائیں گے؟‘‘ ساجدہ دھیمے لہجے میں بولی تھی۔
’’ممی! تو بچوں کی جلدی شادی کر دیں ٗ ویسے ہی انتظار اب نہیں ہوتا۔‘‘ چائے کی ٹرالی لاتی شازمین کو دیکھ کر وہ شرارت سے بولی تھی۔
’’ساجدہ بھی حنین نے مشورہ تو کافی درست دیا ہے ٗ اس بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔‘‘ فریدہ کی بات پر حنین نے فخر سے فرضی کالر کھڑے کئے تھے اور وہ محض بیٹی کو گھور کر رہ گئی تھیں۔
’’فریدہ! یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ شازمین چھوٹی ہے ٗ اسی لیے میں تو منگنی کے بھی خلاف تھی ٗ مگر تمہاری ضد کے آگے چُپ ہو گئی ٗ مگر زرمین کی شادی سے پہلے میں شازمین کی شادی نہیں کروں گی۔‘‘ راشدہ قطعیت سے بولی تھیں کیونکہ وہ شازمین کا رشتہ کرنا ہی نہیں چاہ رہی تھیں مگر فریدہ بھی کیا کرتیں ٗ بڑا بیٹا شادی کے نام سے چڑتا تھا اور دوسرے بیٹے نے خود شازمین کا نام لیا تھا ورنہ تو ان کا ارادہ ارحم کیلئے زرمین کو مانگنے کا تھا مگر اس نے صاف انکار کر دیا تھا تو انہوں نے چھوٹے بیٹے کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے شازمین کو مانگ لیا تھا۔
’’بھابی بیگم! میں تو خود یہی چاہتی ہوں کہ پہلے کہیں ہماری زرمین کا رشتہ ہو جائے اور آج میں اسی سلسلے میں حاضر ہوئی ہوں۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں فریدہ!‘‘
’’بھائی صاحب! آ جائیں پھر بات کروں گی ٗ ابھی بچیاں بھی بیٹھی ہوئی ہیں۔‘‘
’’پھپھو! ایسی کیا بات ہے جو ہم سے چھپانا چاہتی ہیں؟‘‘ حنین کے کان کھڑے ہو گئے تھے۔
’’پھپھو کی دادی! آپ ہر معاملے میں ٹانگ مت اڑایا کریں ٗ ہم جب ضروری سمجھیں گے تمہیں بتا دیں گے ٗ آج کل فارغ ہو اتنا نہیں ہوا کہ پھپھو کے گھر آ جائو ٗ مگر نہیں جناب ٗ پھپھو سے تو منہ دیکھے کی محبت نبھائی جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے مذاق سے کہتے ہوئے اُس کا کان پکڑا تھا ٗ جسے چھڑاتے ہوئے اس نے فریدہ کے کاندھے پر اپنا دایاں ہاتھ پھیلاتے ہوئے لاڈ سے کہنا شروع کیا تھا۔
’’سچی پھپھو! میں آپ سے منہ دیکھے کی محبت نہیں کرتی ٗ یہ کام تو شازمین بجو کا ہے ٗ آپ آتی ہیں تو ان کو یاد آتا ہے کہ یہ آپ کو یاد کر رہی تھیں ٗ ورنہ تو آپ کا نام بھی نہیں لیتیں۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے شازمین کو ٹارگٹ بنا رہی تھی۔
’’میں تمہاری طرح بدتمیز نہیں ہوں کہ بڑوں کا نام لوں۔‘‘ وہ چڑ کر بولی تھی۔
’’یعنی آپ شادی کے بعد راحم بھائی کا نام نہیں لیں گی ٗ وہ بھی تو آپ سے بڑے ہیں ٗ ویسے بجو! آپ ان کا نام نہیں لیں گی تو پھر انہیں کیا کہیں گی؟ جانو ٗ ڈارلنگ یا سوئٹ ہارٹ!‘‘
’’شٹ اپ! چہرہ سرخی مائل ہو گیا تھا اور وہ شرم و حیا سے لال پڑتی وہاں سے تقریباً بھاگتے ہوئے نکلی تھی۔
’’بتا کر تو جایئے کہ آخر راحم بھائی کو آپ کیا کہیں گی؟‘‘ اسے روکنا چاہا تھا۔
’’تم سے مطلب ٗ تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھیں؟‘‘ وہ پلٹ کر کہتی بھاگ گئی تھی۔
’’بری بات حنین! بہن کو تنگ نہیں کرتے۔‘‘
’’سچ پھپھو! تنگ کرنے میں جو مزہ ہے وہ کسی بھی چیز میں نہیں ہے اور شازمین بجو کو تو ستانے میں بڑا ہی مزہ آتا ہے ٗ راحم بھائی کے نام پر جو شرماتے ہوئے بھاگتی ہیں ٗ ان کا یہ اندازہ سچ میں لطف دے جاتا ہے۔‘‘ وہ چائے کے سپ لیتے ہوئے بولی تھی۔
’’جب تمہاری باری آئے گی تو پوچھوں گی کتنا لطف آتا ہے؟‘‘ زرمین کباب کھاتے ہوئے مسکرا کر بولی تھی مگر اس کو کیا پتہ تھا کہ اب نشانہ وہ خود ہی بن جائے گی۔
’’میرا نمبر تو بہت بعد میں آئے گا ٗ پہلے تو آپ اپنی خیر منائیں ٗ پھپھو آج اسی مقصد سے آئی ہیں۔‘‘
’’اس لڑکی کے سامنے کوئی ڈھنگ کی بات نہیں کر سکتا۔‘‘
’’ممی! آپ کو تو میرے خلاف بولنے کی عادت ہو گئی ہے ٗ میں نے کچھ اپنی طرف سے کب کہا؟ یہ سب تو پھپھو ہی بھول رہی تھیں۔‘‘ اُس نے تیسرا کباب اُٹھاتے ہوئے خفگی دکھائی تھی اور اُسی وقت اسجد اور نویدعالم آفس سے لوٹتے سیدھے لائونج میں ہی آئے تھے اور وہ نوید عالم کو دیکھ کر آدھا کھایا ہوا کباب واپس پلیٹ میں رکھتے ہوئے جانے کیلئے کھڑی ہو گئی تھی کیونکہ وہ آج کل ان سے ناراض تھی اور یہ ناراضی ظاہر کرنے کا اس کا اپنا انداز تھا۔ محسوس تو فریدہ کے علاوہ سب ہی نے کیا تھا مگر کہا کسی نے کچھ نہیں تھا اور وہ لائونج سے نکل کر اپنے روم میں چلی گئی تھی۔
یوسف ساتھ نہیں آئے؟ انہیں بھی لے آتیں۔‘‘
’’بھائی صاحب! ان کی طبیعت کچھ خراب تھی اس لئے نہیں آئے اور جبکہ میرا آنا بھی ضروری تھا ٗ مہوش نے فون کر کرکے میرا دماغ خراب کیا ہوا ہے ٗ میں نے سوچا فون پر آپ لوگوں سے کیا بات کروں گی ٗ اسی بہانے ملنے آ گئی۔‘‘ فریدہ نے اپنی اکلوتی بچپن کی سہیلی کا نام لیا تھا اور اس نام سے سب ہی واقف تھے۔
’’کیوں بھئی… مہوش نے آپ کا کیوں دماغ خراب کیا ہوا ہے؟‘‘
’’زرمین! جا کر اپنے ابو کیلئے چائے لے آئو۔‘‘ فریدہ کی باتوں سے اندازہ لگاتے ہوئے ساجدہ نے زرمین کو وہاں سے ہٹانا چاہا تھا اور وہ چائے کے خالی کپ ٹرالی میں رکھتی اور برتن سمیٹ کر ٹرالی گھسیٹ کر وہاں سے نکل گئی تھی۔
’’بھائی صاحب! میری دوست مہوش اپنے بیٹے کیلئے زرمین کا ہاتھ مانگنے کیلئے یہاں آنا چاہتی ہے۔‘‘ زرمین کے جانے کے بعد وہ بولی تھیں۔
’’اب آپ جو بھی کہیں گے ٗ ہاں ٗ ناں وہ میں اُسے بتا دوں گی۔‘‘
’’مہوش کو تو ہم کافی عرصے سے جانتے ہیں ٗ وہ بہت چھوٹی عمر سے ہمارے گھر آتی رہی ہیں ٗ ان کی ایسی کوئی خواہش ہے تو آپ اُن کو بلا لیں ٗ آگے ہماری زرمین بیٹی کا نصیب۔‘‘ انہوں نے لمحہ میں مثبت جواب دے دیا تھا کیونکہ مہوش کی فیملی سے اُن کے فیملی ٹرمز تھے ٗ شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی ٗ وہ ان کی گھریلو تقریبات کا ہمیشہ سے حصہ رہی تھیں۔ مہوش فیاض کے دو بیٹے فضیل اور فیصل جبکہ ایک ہی بیٹی سحرش تھی۔ فیصل کی اپنے ماموں کی بیٹی سے بات طے تھی جبکہ فضیل کیلئے ہی مہوش ٗ زرمین کا ہاتھ مانگنا چاہتی تھیں ٗ فیصل آرکیٹکٹ تھا اور سحرش نے حال ہی میں انٹر سانس کے پیپرز دیئے تھے۔ فضیل فیاض تینوں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور ملٹی نیشنل کمپنی میں ایک چھے عہدے پر فائز تھا۔
٭٭٭
’’حنین کہاں ہیں ٗ وہ کھانا نہیں کھا رہیں؟‘‘ نوید عالم نے چیئر سنبھالتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’ابو! میں اُسے بلانے گئی تھی مگر اُس نے آنے سے منع کر دیا کہ اُسے بھوک نہیں ہے۔‘‘ شازمین نے بتایا تھا۔
’’اُس نے دوپہر میں بھی یہی کہا تھا ٗ زرمین! جائو ذرا بُلا کر لائو اُسے۔‘‘ راشدہ نے کہا تھا۔
’’رہنے دیں آپا بیگم! جب کھانا ہوگا کھالے گی ٗ زرمین! آ جائو بیٹا! تم کھانا کھالو۔‘‘
’’کوئی بات ہوئی ہے؟‘‘ نوید عالم نے بیوی سے پوچھا تھا تب ساجدہ بولی تھیں۔
’’بات کیا ہونی ہے بھائی صاحب! دماغ خراب ہو گیا ہے اس لڑکی کا۔‘‘
’’آخر پتہ بھی تو چلے کہ حنین کہہ کیا رہی ہیں؟‘‘
’’بھائی صاحب! اُس کی ایک ہی رٹ ہے کہ آفس جوائن کرنا ہے ٗ نرمی سے سمجھایا تو مانی نہیں ٗ سختی سے کہا تو دوپہر سے کمرہ بند کئے بیٹھی ہے ٗ نہ کسی سے بات کر رہی ہے اور نہ ہی کچھ کھا رہی ہے ٗ مجھے تو تنگ کرکے رکھ دیا ہے۔‘‘ ساجدہ کی آنکھوں سے آنسو پھسل پھسل کر گالوں پر گرنے لگے تھے۔
’’میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا ساجدہ کہ حنین کے ساتھ سختی نہ کرو۔‘‘
’’میں بھی کیا کروں آپا بیگم! حنین کو میں نے ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ کم از کم گریجوایشن تو کرے ٗ اس کے بعد آفس جوائن کر لے مگر اس کی ایک ہی ضد ہے کہ وہ ابھی آفس جوائن کرے گی ٗ ناک پر مکھی تو بیٹھنے دیتی نہیں ہے جاب کیسے کرے گی؟‘‘ وہ بیٹی کی حرکتوں سے نالاں نظر آ رہی تھیں۔
’’شازمین بیٹا! آپ جا کر بہن کو بلا کر لائو۔‘‘ شازمین خاموشی سے اُٹھ گئی تھی۔
’’کہا ناں میں نے ٗ مجھے کھانا نہیں کھانا ہے تو کیوں مجھے پریشان کر رہی ہیں؟‘‘ شازمین کے دروازہ بجانے پر وہ اندر سے چیخی تھی ٗ دروازہ ہنوز بند تھا۔
’’تمہیں ابو بُلا رہے ہیں ٗ کم از اُن کی بات تو سن لو۔‘‘
’’مجھے کسی کی بھی بات نہیں سننی ٗ جب کسی کو میری پرواہ نہیں ہے تو میں کیوں سب کی پرواہ کرتی پھروں‘ آپ چلی جائیں بجو! مجھے نہیں آنا ہے۔‘‘
’’شازمین! کیا ہوا ہے ٗ یہ حنین دروازہ کیوں نہیں کھول رہی؟‘‘ اسجد اپنے کمرے سے نکلا تھا اور شازمین کے سامنے آ رُکا تھا۔
’’بھائی! حنین ناراض ہے اور غصہ میں اس نے کھانا پینا چھوڑا ہوا ہے۔‘‘
’’تم ہٹو ٗ میں دیکھتا ہوں۔‘‘ شازمین کے سائیڈ میں ہوتے ہی اُس نے دروازہ پر زور دار دستک دی تھی۔
’’شازمین بجو! مجھے تنگ مت کریں۔‘‘
’’حنین! دروازہ کھولو۔‘‘ شازمین کے بجائے اسجد برہمی سے بولا تھا۔
’’آپ چلے جائیں اسجد بھائی! بار بار مجھے آپ لوگ تنگ کریں گے تو میں اپنے ساتھ کچھ غلط کر بیٹھوں گی۔‘‘ اس کی روتی ہوئی آواز ان کے کانوں تک آئی تھی اور اسجد کی برداشت ختم ہو گئی تھی ٗ وہ کچھ دنوں سے اس کی حرکتیں دیکھ اور محسوس تو کر رہا تھا مگر کچھ کہا نہیں تھا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والا سنجیدہ مزاج کا حامل شخص تھا جب تک اس کی لاتعلقی ممکن ہوتی وہ لاتعلق رہتا تھا مگر جب انٹر فیئر کرنے کی ضرورت ہوتی تو ضرور کرتا تھا۔
’’حنین! ایک منٹ میں تم نے دروازہ نہیں کھولا تو میں دروازہ توڑ دوں گا۔‘‘ وہ اسجد کے غصے سے ڈرتی تھی ٗ اس وقت بھی اُس کے غصے کو محسوس کرتے ہوئے اس نے دروازہ کھول دیا تھا۔
’’یہ کیا ڈرامہ ہے حنین! وہاں نیچے سب تمہارا ڈائننگ ہال میں انتظار کر رہے ہیں اور تمہارے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے ہیں۔‘‘
’’آپ کچھ نہیں جانتے اس لئے بیچ میں مت بولیں۔‘‘ وہ اُس کے تیز لہجے سے خائف سی ہو کر بولی تھی۔
’’کیا نہیں جانتا؟ کچھ کہتا نہیں ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم جو چاہو کرتی رہو ٗ جب ابو اور چچی نے تمہیں جاب کرنے سے منع کر دیا ہے تو کیوں ضد پر اڑی ہوئی ہو؟‘‘ تیکھے چتونوں سے اُس کے سلگتے ہوئے چہرے کو دیکھا تھا۔
’’ضد پر میں نہیں تایا ابو اڑے ہوئے ہیں ٗ دنیا کی کتنی ہی لڑکیاں جاب کرتی ہیں ٗ ایک میں بھی کر لوں گی تو کون سی قیامت آ جائے گی؟‘‘
’’شٹ اپ حنین! مجھ سے زیادتی بدزبانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ٗ شازمین! اسے لے کر نیچے آئو۔‘‘ وہ انگلی اٹھا کر کہتا شازمین کو آنے کا اشارہ کرکے کمرے سے نکلنے لگا تھا۔
’’میں نہیں آئوں گی ٗ آپ اپنا فیصلہ مجھ پر نہیں تھوپ سکتے۔‘‘
’’تم دو منٹ میں نیچے نہیں آئیں تو بتائوں گا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔‘‘ وہ غصے سے پیچ و تاب کھاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
’’حنین! ضد نہیں کرتے ٗ ابھی نیچے چل کر کھانا کھا لو ٗ تم جو چاہتی ہو وہ قبل از وقت ہے ٗ جب وقت آئے گا…!‘‘
’’مجھے کچھ نہیں سننا ہے ٗ جس کو دیکھو مجھے وعظ سنانے بیٹھ جاتا ہے ٗ لیکن میں بھی وہی کروں گی جو میں کرنا چاہتی ہوں کسی سے ڈرتی نہیں ہوں ٗ کہہ دیجئے گا اسجد بھائی سے کہ وہ آپ پر اور زرمین آپی پر دھونس جمایا کریں‘ میں اُن کی دھمکی میں آنے والی نہیں ہوں اور زیادہ ہی شوق ہو تو مائدہ اپیا پر دھونس جمائیں ٗ مجھ پر ہرگز نہیں۔‘‘ وہ روتے ہوئے غصے میں کہتی واش روم میں چلی گئی تھی اور شازمین حیران سی ڈائننگ ہال میں آ گئی تھی اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی آ کر کسی کو بھی دیکھے بغیر اپنی مخصوص چیئر گھسیٹ کر اُس پر بیٹھ گئی تھی ٗ کسی نے بھی اُس سے کچھ نہیں کہا تھا اور سب خاموشی سے کھانا کھانے لگے تھے۔
’’بیٹا حنین! مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘ اُسے اُٹھتے دیکھ کر نوید عالم بولے تھے۔
’’لیکن میں آپ سے کوئی بات…!‘‘
’’حنین!‘‘ اسجد نے اُس کی بدتمیزی پر بند باندھنا چاہا تھا۔
’’کہیے! میں سن رہی ہوں۔‘‘
’’آپ میرے کمرے میں آئو ٗ میں وہیں آپ سے بات کروں گا۔‘‘ وہ کرسی کھسکا کر اُٹھ گئے تھے۔
’’میرے اللہ! یہ لڑکی آخر چاہتی کیا ہے؟‘‘ ان دونوں کے وہاں سے ہٹتے ہی وہ سر تھام کر رہ گئی تھیں۔
’’چچی! آپ بالکل پریشان نہ ہوں ٗ ابو اس سے بات کر رہے ہیں نا۔‘‘
’’یہی تو مجھے ڈر لگ رہا ہے ٗ دوپہر میں اس نے مجھ سے کتنی بدتمیزی کی اور میں نہیں چاہتی کہ وہی سب وہ بھائی صاحب کے ساتھ بھی کرے۔‘‘
’’آپ ایسے نہ سوچیں چچی! حنین کبھی بھی ابو سے بدتمیزی نہیں کرے گی۔‘‘ زرمین اُن کو پانی پلاتے ہوئے بولی تھی۔
٭٭٭
’’حنین! میں نے کبھی آپ کی کوئی بات نہیں ٹالی ٗ جو چاہا ٗ جو مانگا سب آپ کو دیا اور آفس جوائن کرنے سے بھی میں آپ کو منع نہیں کر رہا ٗ مگر ہر چیز اپنے وقت پر ہی اچھی لگتی ہے اور آپ کے پاس وقت ہی کتنا ہے؟ صرف 3 ماہ! اس کے بعد آپ کا رزلٹ آ جائے گا اور بی کام میں ایڈمیشن ٗ ایڈمیشن کے بعد آپ آفس نہیں جا پائو گی ٗ اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ گریجویشن کے بعد آپ آفس جوائن کرو۔‘‘
’’پھر تو میں گریجوایشن کے بعد بھی آفس جوائن نہیں کر سکتی ٗ پھر مجھے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا ہوگا اور آپ کہیں گے کہ ماسٹرز کے بعد میں آفس آ سکتی ہوں ٗ آپ چاہتے ہی نہیں ہیں کہ میں آفس جوائن کروں اور یہی بات آپ مجھے صاف کہیں ٗ مجھے آسرے میں کیوں رکھ رہے ہیں؟ جھوٹی تسلیاں ٗ جھوٹے آسرے نہیں چاہئیں مجھے۔‘‘ وہ بہت تلخی سے کہہ رہی تھی اور وہ ششدر سے بیٹھے اُسے سن رہے تھے ٗ اس نے لاڈ پیار سے اُن سے کتنی ہی فرمائشیں اور بے جا ضدیں پوری کروائی تھیں مگر آج تو اس کا انداز ہی نیا تھا۔
’’میں جھوٹے آسرے نہیں دے رہا ٗ مجھے منع کرنا ہوتا تو صاف کرتا ٗ یہ میری ڈھیل ہی ہے حنین! جو آپ اس طرح بحث کر رہی ہیں۔‘‘
’’بحث کیلئے بھی آپ نے ہی مجھے مجبور کیا ہے ٗ آپ میرے تایا ہیں ناں اس لئے مجھے سمجھنا ہی نہیں چاہتے ٗ آپ کی جگہ میرے ابو ہوتے تو وہ ضرور سمجھتے کہ میں کیا چاہتی ہوں ٗ مگر آپ لوگ چاہتے ہی نہیں ہیں۔ اسجد بھائی نے میری کتنی انسلٹ کی ٗ اتنے بُرے لہجے میں مجھ سے بات کی ٗ مجھے بُری طرح ڈانٹا اور میں کسی کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتی ٗ یتیم ہوں ناں ٗ یتیموں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے ٗ جیسا میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔‘‘ اس کی باتیں اور اس کا ہچکیوں سے رونا ٗ نوید عالم ششدر سے بیٹھے رہ گئے تھے۔
’’حنین! ایسا کیوں سوچتی ہیں آپ بیٹا! کیا میں آپ کا ابو نہیں ہوں؟‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام کر دل گرفتگی سے بولے تھے ٗ جو بھائی انہیں بہت عزیز تھا یہ اسی کا خون تھی ٗ اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آئیں اس لئے انہوں نے اسے اپنے بچوں سے زیادہ چاہت و توجہ دی مگر اس کی باتوں سے ڈر لگا تھا کہ ان کی شفقت و محبت ہی بے معنی سی تھی۔
’’نہیں ٗ آپ صرف میرے تایا ابو ہیں ٗ میرے ابو مر گئے ہیں ٗ ممی کہتی ہیں میں آپ سے فرمائشیں نہیں کیا کروں ٗ مجھے آپ سے لاڈ بھی نہیں کرنے چاہئیں ٗ اس لئے میں جاب کرنا چاہتی ہوں ٗ میں کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔‘‘
’’ہم نے کب کہا کہ آپ ہم پر بوجھ ہیں؟‘‘ وہ حیران ہی تو رہ گئے تھے۔
’’ممی کہتی ہیں ٗ یہی آپ کا احسان ہے کہ آپ نے ہمیں گھر میں جگہ دی ٗ مجھے پڑھایا لکھایا اور میں اب آپ کے احسان اُرتارنا چاہتی ہوں ٗ میں اپنے پیروں پر کھڑی ہونا چاہتی ہوں ٗ میں چاہتی ہوں کہ مجھے آفس ورک آ جائے تاکہ مجھے کہیں بہت اچھی جاب مل جائے ٗ آپ مجھے اپنے آفس میں جاب نہیں دے سکتے تو مجھے کہیں اور جاب کرنے کی اجازت دے دیں ٗ میں جاب کرنا چاہتی ہوں ٗ مگر آپ کو ہرٹ کرنا نہیں چاہتی اسی لئے آپ کے آفس میں کام کرنے کا سوچا ورنہ میں جانتی ہوں کہ میری ایجوکیشن ان کمپلیٹ ہے اور مجھے جاب نہیں مل سکتی ٗ آپ نے ابو کی موت کے بعد مجھ پر اتنے احسان کئے ٗ ایک احسان اور کر دیں ٗ مجھے جاب کرنے کی اجازت دے دیں۔‘‘ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی انہوں نے کبھی بھی تو اُسے غیر نہیں سمجھا تھا ٗ اُس سے محبت کی تھی ٗ احسان سمجھ کر اس کی پرورش نہیں کی تھی بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کی تھی جسے وہ اتنی آسانی سے احسان کا نام دے گئی تھی۔
’’آپ جیسا سوچتی ہو یا ساجدہ جیسا سوچتی ہیں ایسا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ٗ اس لئے فضول باتوں کو ذہن سے نکال دیں حنین! مجھے آپ زرمین اور شازمین کی ہی طرح عزیز ہو اور آپ جاب کرنا چاہتی ہو تو مجھے اعتراض نہیں ہے ٗ آپ کل سے آفس جوائن کر لو۔‘‘ انہوں نے اُس کے سر پر دست شفقت رکھا تھا اور وہ اُن کے سینے سے لگ کر بلک اُٹھی تھی ٗ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اب اُن میں حوصلہ نہیں تھا اُس کا دل دکھانے والی باتیں سننے کا ٗ اس لئے وہ شازمین کو آواز دینے لگے تھے اور کچھ ہی دیر میں وہ وہاں چلی آئی تھی۔
’’شازمین! بہن کو کمرے میں لے کر جائیں اور کھانا بھی یاد سے کھلا دیں ٗ ڈائننگ ٹیبل پر حنین نے کھانا نہیں کھایا تھا۔‘‘ لہجے میں سنجیدگی سی تھی۔
’’تایا ابو!‘‘
’’اوہوں ٗ کچھ مت کہیں بیٹا! آپ جو کہنا چاہتی تھیں وہ سمجھ گیا ہوں ٗ یو ڈونٹ وری۔ کل سے یا جب چاہیں آفس آ سکتی ہیں۔‘‘
’’آپ ناراض تو نہیں ہیں؟‘‘ خیال آنے پر پوچھا تھا۔
’’نہیں ٗ میں اپنی بیٹی سے ناراض نہیں ہوں اور یہی چاہتا ہوں کہ میری بیٹی ہمیشہ خوش رہے۔‘‘ وہ بدقت تمام مسکرائے تھے ٗ شازمین کو کچھ غیر معمولی سا لگا تھا مگر باپ سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں ہو سکی تھی اس لئے دل میں الجھن لئے وہ حنین کا ہاتھ تھامے اُن کے روم سے نکل گئی تھی۔ اس نے حنین کو اُسکے کمرے میں چھوڑا تھا اور کچن میں آ گئی تھی ٗ کھانا گرم کرکے حنین کو کھلایا تھا اور برتن دھو کر وہ کچن سے نکل رہی تھی کہ اسجد کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئی تھی۔
’’اسجد بھائی! کچھ چاہئے تھا آپ کو؟‘‘
’’مجھے کچھ پوچھنا ہے شازمین!‘‘ اُس نے بہن کو بیٹھنے کیلئے اشارہ کرتے ہوئے کہا اور وہ سوالیہ نگاہوں سے اسجد کو دیکھنے لگی تھی۔
’’میں ابو سے کوئی فائل ڈسکس کرنے گیا تھا ٗ کل پریزٹینشن ہے اور ذرا سی کوتاہی سے لاکھوں کا کونٹریکٹ ہمارے ہاتھوں سے نکل سکتا ہے ٗ اس کے باوجود ابو نے مجھے اچھا رسپانس نہیں دیا ٗ وہ مجھے بہت پریشان اور دکھی لگ رہے تھے ٗ کیا تم جانتی ہو ابو اور حنین کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟ ہو نہ ہو حنین ہی ابو کی پریشانی کی وجہ ہے۔‘‘
’’مجھے کچھ اندازہ نہیں ہے بھائی! کہ حنین سے اُن کی کیا بات ہوئی؟ جب ابو نے مجھے بلایا تھا حنین اُن کے کندھے سے لگی بری طرح رو رہی تھی ٗ ابو نے کہا کہ میں حنین کو کمرے میں لے جائوں ٗ حنین کچھ کہنا چاہتی تھی جس کا ابو نے اُسے موقع نہیں دیا اور اس سے کہا کہ وہ جب چاہے آفس جوائن کر سکتی ہے۔‘‘
’’واٹ…! ابو نے حنین کو آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دی ٗ مگر کیوں؟‘‘
’’میں خود نہیں جانتی ٗ ایک دفعہ میں نے بھی ابو سے اس سلسلے میں بات کی تھی مگر ابو نے سختی سے منع کر دیا تو میں نے یہ چیپڑ ہی کلوز کر دیا ٗ مگر اب حنین کو ابو نے اجازت دی ہے تو میں وجہ نہیں سمجھ پا رہی اور ابو مجھے بھی کافی اپ سیٹ لگ رہے تھے ٗ بھائی! کہیں چچی کا خدشہ صحیح تو نہیں تھا؟‘‘ وہ کچھ خیال آنے پر اُسے دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
’’میں تمہاری بات کا مطلب نہیں سمجھا؟‘‘
’’بھائی! چچی کہہ رہی تھیں ناں کہ حنین نے اُن سے بدتمیزی کی تھی ٗ تو کہیں اُس نے ابو سے بھی بدتمیزی تو نہیں کی؟ اور اسی لئے ابو نے اُسے اجازت دے دی ٗ ورنہ تو میں نے خود امی اور ابو کی باتیں سنی تھیں ٗ ابو کہہ رہے تھے کہ وہ حنین کو کبھی اجازت نہیں دیں گے ٗ جیسے مجھے نہیں دی تھی ٗ کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹیاں ورکنگ وومن بنیں ٗ امی نے کہا تھا کہ پھر آپ نے صاف منع کیوں نہیں کیا؟ تو ابو بولے کہ گریجویشن کے بعد وہ حنین کی شادی کر دیں گے اور اس کی طبیعت میں ضد ہے اس لئے انہوں نے وقتی طور پر حامی بھر لی ہے ٗ تاکہ وہ یکسوئی سے اپنی تعلیم مکمل کر لے۔‘‘ شازمین نے اچانک سن لینے والی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی بات مکمل کی تھی۔
’’حنین کافی منہ پھٹ اور بدتمیز ہے ٗ یقینا اس نے ابو سے بدتمیزی کی ہے اور اگر واقعی ایسا ہوا تو حنین کے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔‘‘ اُس کا غصہ عود کر آیا تھا۔
’’بھائی! آپ غصہ نہیں کریں ٗ حنین اس طرح آپ سے خائف…!‘‘
’’مجھے کسی کی بھی ناراضی کی فکر نہیں ہے ٗ وہ اس گھر کی بیٹی ہے اور اُسے باقی بیٹیوں کی طرح ہی زندگی گزارنا ہو گی ٗ اسے ہم من مانیوں کی اجازت نہیں دے سکتے ٗ کسی بھی وجہ سے ابو نے اُسے آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دی ہو مگر میں خود ابو سے بات کروں گا ٗ وہ آفس نہیں جائے گی۔ تم اٹھو جا کر سوئو ٗ ہر وقت گھن چکر بنی رہتی ہو ٗ کچھ ذمہ داریاں اُسے بھی دو ٗ گھر سنبھلتا نہیں ہے ٗ محترمہ آفس سنبھالنے چلی ہیں۔‘‘ وہ غصے سے تن فن کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا اور شازمین پریشانی سے وہیں بیٹھی رہ گئی تھی۔
٭٭٭
’’آج کل کہاں غائب ہو ٗ دکھائی نہیں دیتے؟‘‘
’’مصروفیت ہی ایسی رہی ٗ پاپا کو انجائنا کا اٹیک ہوا تھا۔‘‘
’’کیا… کب؟ اور کسی نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔‘‘ ارحم اُسے تیز نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
’’میں نے تمہیں جان کر ڈسٹرب نہیں کیا، کیونکہ تم نے حال ہی میں اپنی پوسٹ سنبھالی ہے ٗ میں نے سوچا تم مصروف ہو گے ٗ کچھ دنوں سے تم نے کوئی کال یا میسج بھی تو نہیں کیا تھا اسی لئے میں نے تمہیں پریشان نہیں کیا ٗ مگر تم فکر مند نہ ہو ٗ پاپا اب بالکل ٹھیک ہیں ٗ یاد کر رہے تھے تمہیں ٗ فرصت ہو تو آ جا۔‘‘
’’تُف ہے تجھ پر فضیل! اب مجھ سے اتنا فارمل ہو کر بات کرے گا ٗ تیرا دماغ تو ٹھکانے پر ہے؟‘‘ ارحم نے غصے سے کہتے ہوتے آدھا بھرا ہوا گلاس اُس کے سر پر ڈال دیا تھا۔
’’ٹھنڈ لگنے سے کھلا کچھ دماغ ٗ کہ میں تیرا بچپن کا دوست ارحم الحسن ہوں۔‘‘ وہ بہت ٹھنڈے لہجے میں بولا تھا اور فضیل اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگا تھا۔
’’میرا نہیں ٗ دماغ تیرا خراب لگ رہا ہے ٗ جناب انسپکٹر ہوتے ہیں اور حرکتیں بالکل بچوں والیں۔‘‘
’’اوئے گھامڑ! یہ تشدد کا سب سے آسان طریقہ ہے ٗ پانی ڈالنے سے سمجھ نہیں آیا تو بال کھینچ کر بتائوں؟‘‘ اب کے وہ مسکرا کر بولا تھا۔
’’اپنے تشدد کے طریقے اپنے پاس رکھ اور شرافت سے کچھ آرڈر کر ٗ سخت بھوک لگ رہی ہے۔ تیرا جب فون آیا میں گھر کیلئے ہی نکل رہا تھا اس لئے یہاں آ گیا اور تو ہے کہ مجھ پر ہی اپنی انسپکٹری کے جوہر دکھانے لگا۔‘‘
’’بتائو کیا آرڈر کرنا ہے ٗ بچپن سے تو ندیدہ واقع ہوا ہے ٗ کھانے کا شوق ہے مگر بل بھرنے کا موصوف کو ذرا سا بھی خیال نہیں آتا۔‘‘ ویٹر کو اشارہ کیا تھا جبکہ فضیل ڈھٹائی سے ہنس دیا تھا کیونکہ ارحم نے کہا بالکل ٹھیک تھا کہ بل ہمیشہ ارحم ہی پے کرتا تھا وہ تو نت نئی ڈشز آرڈر کرتا رہتا تھا کیونکہ وہ کھانے پینے کا بے حد شوقین تھا۔
’’پچھلے دنوں میں ایک کیس کے سلسلے میں دیر تک مصروف رہا ٗ رات گئے گھر آیا تھا ورنہ ماما ٗ ضرور انکل کی طبیعت کا بتاتیں۔‘‘
’’آنٹی راحم کے ساتھ تھیں پایا کو دیکھنے ٗ تب انہوں نے تمہاری مصروفیت کا بتایا تھا اسی لئے میں نے تم سے کوئی ذکر نہیں کیا۔‘ وہ برگر سے انصاف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’فضیل! میری سمجھ میں نہیں آتا ٗ تو کھا اور بول ایک ساتھ کیسے لیتا ہے؟ مجھ سے کبھی نہیں ہوتا۔‘‘ وہ اس کی اسپیڈ سے پریشان ہوا تھا۔
’’پولیس لائن میں آ گیا ہے نا تو اب ہو جایا کرے گا۔‘‘ اس نے چھیڑا تھا۔
’’تو کون سے جنم میں حوالدار تھا جو ایسے کہہ رہا ہے؟‘‘ وہ تپ گیا تھا۔
’’یار! میرے تو پورے خاندان میں کوئی حوالدار نہیں گزرا ٗ ہاں مما بتاتی ہیں ان کی بیسٹ فرینڈ کا بیٹا ضرور حال میں ہی حوالدار مقرر ہوا ہے۔‘‘ وہ جو بڑے غور سے اُس کی بات سن رہا تھا آخر میں اُس کی بات کا مطلب سمجھ کر اُسے گھورنے لگا تھا اور اُس نے زبردست قہقہہ لگایا تھا ٗ جس کی وجہ سے کتنے ہی لوگ ان کی ٹیبل کی جانب متوجہ ہو گئے تھے۔
’’گدھوں کی طرح ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تیرا بیڈ روم نہیں پبلک پلیس ہے۔‘‘
’’ہاں یار! تو نے ٹھیک کہا ٗ مگر آج کل مجھے میرا بیڈ روم بھی کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔‘‘ ارحم نے اُسے احساس دلانا چاہا تھا تب اس نے معصومیت طاری کی تھی جبکہ اس کے تو خاک بھی پلے نہیں پڑا تھا۔
’’میں تیری اس بکواس کا مطلب نہیں سمجھا۔‘‘
’’یار! صاف بات ہے ٗ اس کمرے میں اکیلے رہتے ہوئے تو زندگی گزر گئی ٗ اب تو بس یہی خواہش ہے کہ میرے کمرے کے ساتھ میرے وجود کو آباد کرنے والی جلدی سے آ جائے۔‘‘ اس نے ایک ادا سے کہتے ہوئے کولڈ ڈرنک کے سپ لینا شروع کر دیئے تھے۔
’’مجھے تو اُس بے چاری کے حال پر ابھی سے ترس آنے لگا ہے جو تیری بیوی بنے گی ٗ روز ہی رویا کرے گی بے چاری۔‘‘
’’اللہ نہ کرے ٗ روئیں اُس کے دشمن ٗ یار! یہ دعا تو مت دے۔‘‘
’’سوری فضیل! میں تو بس مذاق کر رہا تھا ٗ میں بددعا نہیں دے رہا تھا ٗ کیا میں تجھے بددعا دے سکتا ہوں؟‘‘
’’او میرے یار! ایک دم سٹریس مت ہو جایا کر ٗ میں بھی مذاق کر رہا تھا اور ذرا ویٹر کو بلا کر پزا تو آرڈر کر دے۔‘‘ اُس کی فرمائش پر اس نے ویٹر کو ایک بار پھر اشارہ کیا تھا۔
’’فضیل! تو نے کبھی بتایا نہیں وہ لڑکی آخر ہے کون جس سے تو محبت کرتا ہے؟‘‘ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اُس نے استفسار کیا تھا۔
’’ہے ایک پیاری سی ٗ نازک سی لڑکی ٗ جو تیرے یار کے دل میں دھڑکن بن کر دھڑکتی ہے۔‘‘ اس کے لبوں پر بڑی ہی خوبصورت مسکراہٹ ٹھہر گئی تھی۔
’’وہی پوچھ رہا ہوں ٗ وہ کون ہے؟‘‘
’’زرمین عالم۔‘‘ نام سنتے ہی ارحم کو ایک عجیب سا احساس ہوا تھا اور وہ بڑی ہی حیرانگی اور ناگواری سے فضیل کو دیکھنے لگا تھا۔
’’تیری آنکھوں میں لکھی ناگواری کی تحریر سے بچنے کیلئے ہی میں نے کبھی تجھے نام نہیں بتایا ٗ جب کہ میں نے محبت کی ہر شدت تجھ سے شیئر کی ہے ٗ میں جانتا ہوں ارحم! کہ زرمین تیری کزن ہے اور عزت و غیرت دار بھائیوں کیلئے کسی غیر مرد کے منہ سے اپنی بہن کا نام سننا ممکن ہی نہیں ہوتا اور باخدا میں آج بھی تجھ سے کچھ نہ کہتا مگر اب میرا زرمین سے شرعی رشتہ جڑنے والا ہے اس لئے مجھے کچھ بتانا معیوب نہیں لگا۔‘‘
’’تو کیا کہہ رہا ہے یا کہنا چاہتا ہے؟ میں بالکل نہیں سمجھا۔‘‘
’’کیا مطلب… کیا تجھے نہیں پتہ کہ زرمین کی مجھ سے شادی ہونے والی ہے؟‘‘ اُس کے نفی میں سر ہلا دینے پر اُس کی حیرانگی بڑھ گئی تھی۔
’’مجھے واقعی ایسی کسی بات کا علم نہیں ہے۔‘‘ وہ زور دے کر بولا تھا۔
’’کل ہی تو تمہارے ماموں جان نے ہمیں مثبت جواب دیا ہے اور انہوں نے کہا کہ منگنی وغیرہ سے بہتر 3 ماہ بعد شادی۔‘‘
’’ادھوری نہیں… پوری بات تفصیل سے بتائو۔‘‘ ارحم نے اُسے ٹوکا تھا اور وہ اُسے تفصیل بتانے لگا تھا۔
’’تم تو جانتے ہو ارحم! کہ فیصل کی بات ماموں کی بیٹی سمیرا سے طے ہے اور ممانی کی ڈیتھ کو کافی عرصہ ہو گیا ہے اور آج کل ماموں جان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی بس اسی لئے وہ شادی پر زور ڈال رہے تھے کہ ان کی اکلوتی بیٹی کی شادی ان کی زندگی میں ہی ہو جائے بس اسی لئے مما میرے سر پر سوار ہو گئیں کہ میں شادی کیلئے حامی بھر لوں کیونکہ وہ ہم دونوں بھائیوں کی شادی ساتھ کرنا چاہتی ہیں ٗ ویسے بھی فیصل مجھ سے چھوٹا ہے اور مجھ سے پہلے اس کی شادی وہ کرنا نہیں چاہتیں ٗ اسی لئے مما نے کہا مجھے کوئی پسند ہے تو میں بتا دوں ورنہ وہ خود میرے لئے لڑکی پسند کر لیں گی اور میں نے زرمین کا نام لے دیا اور مما وہ تو فوراً ہی راضی ہو گئیں ٗ اُسی وقت تمہاری مما کو فون کیا کہ وہ تمہارے ماموں سے میرے رشتے کی بات کریں ٗ 3 دن بعد ہی آنٹی کا فون آ گیا کہ مما باقاعدہ میرا رشتہ لے کر تمہارے ماموں کے گھر چلی جائیں اور آج سے 2 دن پہلے ہی مما زرمین کا رشتہ لے کر گئیں جو اُسی وقت منظور ہو گیا ٗ تمہارے ماموں جان کی مرضی تھی کہ ابھی منگنی ہو جائے سال بھر بعد شادی ٗ مگر ماموں کی طبیعت کے پیش نظر تمہارے ماموں راضی ہو گئے ٗ کل ہی تو تمہاری مما نے فون کرکے کہا ہے کہ 3 ماہ بعد کی ڈیٹ فکسڈ کر لیتے ہیں۔‘‘ فضیل نے تمام تر تفصیل بتائی تھی۔
’’اتنا کچھ ہو گیا اور مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں۔‘‘
’’تیری مصروفیت…!‘‘
’’کہیں کا وزیراعظم نہیں لگ گیا ہوں جو مجھے ذرا سی بھی فرصت نہیں ہے ٗ مجھے ہر بات سے ایسے بے خبر رکھا گیا جیسے میرا کسی سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔‘‘ ارحم کو حقیقتاً دکھ پہنچا تھا۔
’’تو فضول میں بدگمان ہو رہا ہے ارحم! ورنہ جو کچھ ہوا وہ محض 3 دنوں میں ہی ہوا اور میں نے تجھ سے کبھی کچھ نہیں چھپایا تو اپنی زندگی کی اتنی بڑی خوشی تجھ سے کیوں چھپاتا؟ مگر تو ہرٹ ہوا ہے تو آئی ایم سوری ارحم! مجھے تیری ناراضی کی فکر نہ ہوتی تو میں تجھے ضرور بتاتا کہ زرمین کیلئے میں کس طرح سے سوچتا ہوں ٗ رئیلی ویری سوری!‘‘ فضیل نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا اور وہ ہلکے سے مسکرا دیا تھا۔
’’اٹس او کے ٗ لیکن تجھے کیا لگتا ہے کہ میں نہیں جانتا تھا کہ تو زرمین کو پسند کرتا ہے ٗ اتنا بے وقوف نہیں ہوں ٗ سب خبر تھی مجھ کو کہ تیرے کیا ارادے ہیں۔‘‘ وہ فضیل کو تیکھی نگاہوں سے دیکھ کر بولا تھا۔
’’تو نے کبھی ظاہر نہیں کیا۔‘‘ وہ متحیر ہوا تھا۔
’’جب تو نے مجھے نہیں بتایا تھا تو میں کیوں ظاہر کرتا کہ میں تیرے بتائے بغیر بھی تیرے دل کی بات جان گیا ہوں اور احسان مان میرا کہ میں نے تیرے عشق کی نیا کو ڈوبنے سے بچا لیا۔‘‘ فضیل اُسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا تھا۔
’’مما ٗ زرمین کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں۔‘‘
’’واٹ…؟‘‘ اس کے انکشاف پر وہ بری طرح چلایا تھا۔
’’زیادہ مت چلا ٗ ایسا نہ ہو بیرے تجھے اٹھا کر ریسٹورنٹ سے باہر پھینک دیں۔‘‘ اس کی کیفیت سے وہ حظ اٹھا رہا تھا۔
’’اس سے پہلے کہ میں تیرا گلا دبائوں ٗ صاف صاف بول آخر بات کیا ہے؟‘‘
’’بات کچھ نہیں ہے ٗ مما چاہتی تھیں کہ میری شادی زرمین سے ہو جائے مگر میں نے زرمین کے بارے میں ایسا کبھی نہیں سوچا۔‘‘
’’سوچنا بھی مت ٗ ورنہ جان لے لوں گا۔‘‘
’’ہاں ٗ مارلے جتنے ڈائیلاگ مارنا ہے مار لے ٗ ابھی تو بڑی بڑی باتیں کر رہا ہے ورنہ منہ کو سیے بیٹھا تھا ٗ وہ تو میری چھٹی حس نے مجھے سمجھا دیا تھا ورنہ ٗ مجھے تو کوئی لڑکی پسند نہیں تھی میں نے مما کی پسند کی لڑکی پر سر جھکا دینا تھا اور تو نے ناکام عاشق بن جانا تھا ٗ منہ سے پھر بھی کچھ نہ کہتا مجھے رقیب سمجھ کر رات دن کوستا رہتا۔ پھر کہاں کا دوست اور کہاں کی یاری؟‘‘ اس نے زبردست طریقے سے فضیل کو لتاڑا تھا۔
’’دوست ہو تو تیرے جیسا ٗ جیو میرے یار! ویسے یہ بتا کہ میری پسند ہے نا لاجواب؟‘‘ وہ کہاں زیادہ دیر سنجیدہ رہ سکتا تھا۔
’’ہاں ٗ تمہاری پسند واقعی لاجواب ہے ٗ زرمین لاکھوں میں ایک لڑکی ہے اور کان کھول کر سن لے تو نے میری بہن پر ظلم کرنے کی کوشش کی تو حوالات میں بند کر دوں گا۔‘‘ اس نے اپنی وردی کا رعب جھاڑا تھا۔
’’آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر سالے صاحب! میری یہ مجال کہ میں ایک انسپکٹر کی بہن پر ظلم و ستم کروں ٗ معافی دیدو سرکار!‘‘ اس نے ہنستے ہوئے مسخرے پن سے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے اور اس نے بھی جواباً ہنستے ہوئے ہاتھ کا مکا سا بنا کر اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں پر مارا تھا۔
’’یار! میں بہت خوش ہوں ٗ مگر یہ نہیں جانتا کہ زرمین میرے بارے میں کیا سوچتی ہے وہ اس رشتے سے خوش ہے بھی یا نہیں؟‘‘ نئی فکر لاحق ہوئی تھی۔
’’تو زیادہ کیوں سوچتا ہے ٗ جب اتنے برس انتظار کیا ہے تو 3 ماہ اور سہی ٗ بتا دینا اسے اپنی محبت کی داستان اور اس کی شدت اور ویسے بھی لڑکیاں تو ہوتی ہی بہت معصوم ہیں ٗ جہاں ان کے پیرنٹس شادی کر دیتے ہیں کر لیتی ہیں اور جس سے شادی ہوئی ہو وہ ناپسند بھی ہو تب بھی خود کو اس کی پسند کے سانچے میں ڈھال کر تن ومن سے صرف اسی کی ہو جاتی ہیں۔‘‘
’’تجھے بڑا ایکسپیرئنس ہے ٗ کسی کو کہیں تو دل تو نہیں دے بیٹھا ٗ بتا کون ہے؟‘‘
’’میری زندگی میں ابھی تک کوئی لڑکی نہیں ہے ٗ جب کبھی دل سے کسی کا گزر ہوا تو سب سے پہلے تجھے ہی بتائوں گا۔‘‘ سچائی سے کہا تھا۔
’’میرا خیال ہے تجھے بھی اب سیریس ہو جانا چاہئے کیونکہ میرا نہیں خیال کہ آنٹی تیری شادی سے پہلے راحم کی شادی کریں گی۔‘‘
’’یار! میں شادی سے انکار نہیں کرتا ٗ مگر ابھی بالکل نہیں کر سکتا ٗ ابھی تو میرا کیریئر شروع ہوا ہے ٗ مجھے ابھی اپنی پہچان بنانی ہے ٗ کم از کم 4 سال تک تو میں شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور اس سلسلے میں میری مما سے بات ہو چکی ہے ٗ اس لئے وہ راحم کی شادی کر دیں گی اور جہاں تک میری بات ہے اگر کوئی پسند آ گئی تو مما کو بتا دوں گا اور نہیں آئی تو مما کی پسند کی لڑکی سے شادی کر لوں گا۔‘‘ اس نے بات ہی ختم کر دی تھی اور وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے جانے کیلئے اٹھ گئے تھے۔ انہوں نے ایک بھرپور شام ایک ساتھ گزاری تھی اور یہ بہت دنوں بعد ہوا تھا وگرنہ روز ہی اس طرح گھنٹوں کیلئے ملا کرتے تھے۔
٭٭٭
