Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06

’’بات کیا ہے ٗ کچھ بتائو تو سہی۔‘‘
’’مجھے گھر جانا ہے ٗ پلیز ارحم بھیا! میں آپ سے ریکوئیسٹ کرتی ہوں ٗ آپ مجھے یہاں سے لے جائیں۔‘‘
’’اوکے ٗ چلو۔‘‘ اس نے ساجدہ سے گھر جانے کا کہا تھا ٗ وہ اس کے رونے سے پریشان ہو گئی تھیں ٗ مگر ایسے ولیمہ چھوڑ کر کیسے جا سکتی تھیں؟ اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی ٗ مگر وہ جانے پر بضد تھی اور ارحم کے پیچھے پڑ گئی تھی کہ وہ اسے گھر چھوڑ آئے۔ اس کو بری طرح روتے ہوئے دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا تھا ٗ اس سے وجہ پوچھی تھی ٗ مگر وہ صرف گھر جانا ہے کہے جا رہی تھی ٗ اسے کچھ انہونا سا احساس ہوا تھا۔ اسی لئے وہ راضی ہو گیا تھا۔
’’مامی! میں گاڑی میں مائدہ کا انتظار کر رہا ہوں ٗ آپ پلیز اسے جلدی سے بھیج دیں۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھامے ہال سے نکلتا پارکنگ ایریا میں گیا تھا اور اپنی گاڑی پارک کرکے لے آیا تھا۔
’’تم گاڑی میں بیٹھی رہو ٗ میں دیکھوں کہ یہ مائدہ کہاں رہ گئی ہے۔‘‘ وہ اس کے چپ کروانے پر بھی روئے جا رہی تھی ٗ تب وہ ڈرائیونگ ڈور کھولتا اترنے لگا تھا کہ وہ اس کا بازو دبوچ گئی تھی۔
’’پلیز ارحم بھیا! مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جائیں ٗ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ اس کے انداز و لہجے کے ساتھ اس کے متورم چہرے پر بھی خوف کا جال بچھا تھا اور اس کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی۔
’’حنین! کیا ہوا ہے گڑیا! اپنے ارحم بھیا کو نہیں بتائو گی؟‘‘
’’میں… میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتی ٗ کچھ بھی نہیں… اور بتائوں کیا؟ کیسے… پلیز! مجھ سے کچھ مت پوچھیں اور مجھے یہاں سے لے جائیں ٗ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ اس کا کپکپاتا لہجہ ٗ ادھورے جملے ٗ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ٗ اپنے بازو سے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے اس کی نظر ہاف سلیوز شرٹ میں سے جھانکتے اس کے دودھیا بازو پر پڑی تھی اور اس نے بڑی تیزی سے اس کا بازو تھاما تھا اور جائزہ لیا تھا ٗ انگلیوں کے نشانات بڑے واضح تھے ٗ اس کا ڈرا سہما انداز ٗ مستقل رونے سے بگڑ جانے والا میک اپ ٗ ہونٹوں کے کنارے پھیلی لپ اسٹک ٗ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی بہت کچھ سمجھنے اور سوچنے لگا تھا۔
’’راحم! میں حنین کو لے کر ماموں جان کے گھر جا رہا ہوں ٗ تم مائدہ کو لے کر پہنچو۔‘‘
’’بھیا! حنین کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘
’’نہیں ٗ اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ٗ اسی لئے میں ارجنٹلی نکل گیا ہوں ٗ تم مائدہ کو لے آئو یا پھر شازمین کو ٗ نہیں پریشانی والی بات نہیں ہے ٗ تم کسی سے ذکر مت کرنا ٗ خاص کر مامی سے ٗ ورنہ وہ پریشان ہو جائیں گی۔‘‘ ارحم نے اس کا بازو چھوڑ کر تیزی سے گاڑی اسٹارٹ کی تھی اور راحم کو فون کرکے ہدایات دے کر سیل فون ڈیش بورڈ پر ڈال کر کچھ دور جا کر گاڑی روک دی تھی۔
’’حنین! مجھے بتائو ٗ تم اتنا رو کیوں رہی ہو؟ تم آخر کس سے اتنی خوفزدہ ہو؟ پلیز ٹیل می۔‘‘ اسے خاموش دیکھ کر وہ زور دے کر بولا تھا۔
’’کسی سے بھی نہیں ارحم بھیا!‘‘ وہ سسکتے ہوئے منمنائی تھی۔
’’تم جب تک رونے کی وجہ نہیں بتائو گی ٗ میں گاڑی اسٹارٹ نہیں کروں گا۔‘‘ اس نے اشتعال کو بمشکل قابو کیا ہوا تھا۔
’’میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتی۔‘‘ نظر چراتے ہوئے صاف انکاری ہوئی تھی۔
’’کیوں… آخر بات کیا ہے ایسی جو تم مجھ سے نہیں کر سکتیں؟‘‘ اس کی ایک ہی رٹ اسے غصہ دلا رہی تھی جبکہ اس کے رونے میں تیزی آتی جا رہی تھی۔
’’ٹھیک ہے ٗ میں تمہیں ابھی گھر لے چلتا ہوں اور جب سب گھر والے آئیں گے میں تب ہی تم سے بات کروں گا ٗ تم مامی یا مما… کسی کو تو بتائو گی۔‘‘
’’آپ پلیز ممی سے کچھ مت کہئے گا ٗ وہ مجھے ڈانٹیں گی اور پھپھو کو میں کچھ نہیں بتا سکتی۔‘‘ وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے سسک اٹھی تھی۔
’’حنین! تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو چندا! بھائی ہوں ناں میں تمہارا اور دوست بھی ٗ تو تم مجھ سے اپنا مسئلہ شیئر نہیں کرو گی؟‘‘ ارحم نے نہایت نرمی سے آنسوئوں کی وجہ سے چپک جانے والے بال اس کے چہرے سے ہٹائے تھے اور بہت ہی پیار و شفقت سے بولا تھا اور وہ اس کے کندھے سے لگی سسک اٹھی تھی۔
’’ارحم بھیا! وہ فیصل بھیا کے دوست… انہوں نے میرے ساتھ…‘‘ وہ جھجک گئی تھی اور اسے تشویش ہونے لگی تھی۔
’’رک کیوں گئیں حنین! بولو۔‘‘
’’وہ فیصل بھیا کے دوست نے ہال میں میرا بازو پکڑا اور مجھ سے عجیب عجیب باتیں کرنے لگے ٗ میں نے کچھ کہنا چاہا تو میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا ٗ انہوں نے میرے بال چھوئے ٗ مجھے کمر سے تھام کر انہوں نے میری گردن…!‘‘ یہ سب بتاتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ٗ آواز رندھنے لگی تھی اور وہ تو ساکت سا اسے سن رہا تھا ٗ غصے و اشتعال سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں اور وہ چپ نہ کر جائے ادھوری بات چھوڑ کر صرف اس لئے وہ لب بھینچے اسے سن رہا تھا ٗ مگر اس کی آخری بات پر وہ کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔
’’میری گردن پر کس کیا ٗ وہ اور نہ جانے کس حدتک بڑھتے کہ سحرش کے آجانے پر انہوں نے میرے بازو اور کمر پر سے ہاتھ ہٹا لیا۔‘‘
’’تم کہاں تھیں اس وقت جو اس ذلیل انسان نے یہ سب کیا؟ اور تم نے کسی کو بلایا کیوں نہیں؟‘‘ غصے سے وہ بری طرح کھول رہا تھا۔
’’میں اور سحرش ہال کے پرسکون ایریا میں نزہت کو فون کرنے گئے تھے ٗ وہاں لوگ بھی نہ تھے اور لائٹنگ بھی نہ ہونے کے برابر تھی ٗ نزہت سے سحرش فون پر بات کر رہی تھی اور میں پانی پینے جا رہی تھی، ویٹر کو وہاں سے گزر کر اندر کی جانب جاتے دیکھ کر میں نے اس سے کولڈ ڈرنک لے لی تھی اور جب اس نے میرا بازو پکڑ کر مجھے کھینچا تو کولڈ ڈرنگ میرے کپڑوں پر گر گئی تھی، سحرش آئی تو میں اس کو بتانا چاہتی تھی ٗ مگر فیصل بھیا کے دوست نے مجھے موقع ہی نہیں دیا۔ میں رو رہی تھی اور سحرش سمجھی کہ میں کپڑے خراب ہو جانے کی وجہ سے رو رہی ہوں ٗ وہ مجھے ڈریسنگ روم میں لے کر جا رہی تھی کہ اسے مہوش آنٹی نے بلا لیا اور وہ پلٹ گئی اور میں نے جیسے ہی واش روم میں قدم رکھا وہاں اسی شخص کو دیکھ کر میں چیخنا چاہتی تھی ٗ لیکن اس نے بہت سختی سے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور میں چیخ بھی نہیں سکی۔‘‘ اس نے تمام تفصیل روتے ہوئے اٹک اٹک کر سنائی تھی اور وہ تو دم بخود بیٹھا تھا ٗ ان سب کی وہاں موجودگی کے باوجود اتنا سب کچھ ہو گیا اور ان کو ذرا سی بھی بھنک تک نہیں پڑی تھی۔
’’تم نے اس وقت مجھے کیوں نہیں بتایا؟ میں اس کی جان لے لیتا۔‘‘ اس نے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
’’مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا ارحم بھیا! اسی لئے میں نے ممی سے گھر جانے کو کہا ٗ مجھے لگ رہا تھا کہ وہ پھر کہیں سے آ جائے گا اور…! لیکن ممی نے مجھے بہت ڈانٹا کہ میں وقت دیکھتی ہوں نہ موقع ضد کرنے بیٹھ جاتی ہوں ٗ اسی لئے میں نے آپ سے کہا۔‘‘ وہ چہرہ چھپائے نیر بہا رہی تھی۔
’’تم بس اب چپ کر جائو اور اس بات کا کسی سے بھی ذکر مت کرنا ٗ مامی اور مما سے بھی نہیں ٗ سمجھ رہی ہو ناں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟‘‘ آہستگی سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور اس کے آنسو پونچھے تھے۔
’’ارحم بھیا! وہ… وہ مجھے پھر کبھی تو تنگ نہیں کریں گے؟‘‘ اس کے انداز میں انجانا سا خوف تھا۔
’’حنین! میں ہوں ناں ٗ میں دیکھ لوں گا ٗ تمہیں اس سے خوفزدہ ہونے کی یا وہ سب سوچ کر پریشان ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اسے تسلی دی تھی اور موضوع بدلنے کی خاطر پوچھا تھا۔
’’کھانا کھا لیا تھا تم نے؟‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
’’اب گھر جا کر کھا لینا ٗ یہاں اس طرح گاڑی روکے باتیں کرتے کافی وقت گزر گیا ہے ٗ راحم ٗ مائدہ کو لے کر گھر پہنچ گیا تو پریشان ہو گا ٗ اس لئے ہمیں چلنا چاہئے۔‘‘ کہتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی تھی ٗ مگر 10 منٹ بعد ہی اسے گاڑی روکنا پڑی تھی ٗ کیونکہ سڑک کے کنارے ایک شخص کھڑا تھا اور وہ اس خیال سے گاڑی روک کر نیچے اترا تھا کہ رات کے ڈھائی بجے اگر وہ گاڑی خراب ہو جانے کی وجہ سے کھڑا ہے تو یقینا اسے ہیلپ کی ضرورت ہو گی ٗ مگر وہ ماہ کنعان کو دیکھ لب بھینچ گیا تھا جبکہ اس کے چہرے پر اطمینان جھلکنے لگا تھا۔
’’اوہ تھینک گاڈ کہ تم ہو ٗ میں کافی دیر سے یہاں کھڑا ہوں ٗ گاڑی میں نجانے ایسی کیا خرابی ہو گئی ہے کہ چل کے ہی نہیں دے رہی اور کوئی کنوینس بھی نہیں مل رہی ٗ تم مجھے ڈراپ کر سکتے ہو؟‘‘ اسے دیکھ کر اطمینان تو ہوا تھا ٗ مگر پوچھنا بھی ضروری سمجھا تھا ٗ مگر اس کے جواب پر وہ متحیر ہوا تھا ٗ کیونکہ اسے اس جواب کی کم از کم بالکل امید نہیں تھی۔
’’سوری ٗ مسٹر ماہ کنعان! میں آپ کو لفٹ نہیں دے سکتا ٗ کیونکہ میرے ساتھ میری سسٹر بھی ہیں۔‘‘
’’اوکے… میں آپ سے فورس…!‘‘
’’آپ یہ نہیں پوچھیں گے کہ میں نے ایسی بات کیوں کی؟ اس لئے ماہ کنعان کہ آپ بھروسے کے بالکل بھی لائق نہیں ہیں۔‘‘
’’واٹ ڈو یو مین؟‘‘
’’فیصل کو یقینا آپ پر بھروسہ ہوگا ٗ جبھی اس نے آپ کو اپنے فیملی فنکشن میں انوائٹ کیا ٗ لیکن آپ اتنے گرے ہوئے انسان ہوں گے ٗ یہ فیصل نے نہیں سوچا ہوگا۔‘‘
’’مسٹر ارحم! مجھ پر انگلی اٹھانے کا مطلب؟‘‘
’’دل و دماغ تو اس وقت یہی چاہ رہا ہے کہ آپ کی جان لے لوں ٗ آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی حنین کو وہ سب کہنے اور کرنے کی ٗ شرم آنی چاہئے تھی آپ کو کنعان! ہمارے ہی فیملی فنکشن میں مہمان بن کر آئے اور ہمارے ہی گھر کی بچی کے ساتھ زبردستی۔‘‘
’’مسٹر ارحم! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔‘‘
’’حنین جھوٹ نہیں بولتی اور اسے ضروت بھی کیا ہے ایسی باتیں کرنے کی؟ وہ آپ پر بے بنیاد الزام کیوں لگائے گی؟ یقینا آپ نے اپنی لمٹس کراس کرنے کی کوشش کی ہے ٗ مجھے آپ سے زیادہ فیصل پر غصہ ہے کہ آخر آپ جیسے تم جیسے گھٹیا انسان کو فیملی فنکشن میں کیا سوچ کر انوائٹ کیا؟‘‘
’’مسٹر ارحم! آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ وہ دونوں سڑک کے کنارے کھڑے بحث و مباحثہ کر رہے تھے۔
’’حد سے میں نہیں تم نے بڑھنے کی کوشش کی ہے ٗ مگر یاد رکھنا کہ آئندہ تم نے میری سسٹر کو تنگ کرنے کی بھول کر بھی کوشش کی تو انجام بہت برا ہوگا ٗ حوالات کی سیر نہ کروا دی تو میرا نام بھی ایس پی ارحم الحسن نہیں۔‘‘
’’ہا ہا ہا ہا! ایس پی ارحم الحسن! تم مجھے کیا سڑک چھاپ کوئی فقیر سمجھتے ہو جو یوں دھمکیاں دے رہے ہو؟ اس عہدے تک پہنچنے میں تمہیں کتنے ہی برس لگے ہوں گے اور میں چاہوں تو کھڑے کھڑے تمہاری وردی اتروا دوں ٗ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ میری پہنچ کہاں تک ہے ٗ اس لئے مجھ پر اپنے عہدے کا رعب نہ ہی ڈالو تو اچھا ہے۔‘‘ ماہ کنعان نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتے ہوئے نہایت طیش سے کہا تھا۔
’’مجھے اپنے عہدے کا رعب ڈالنے کا ذرا بھی اشتیاق نہیں ہے اور نہ ہی ایسا میں کر رہا ہوں ٗ مگر اب تم نے میری بہن…!‘‘
’’مسٹر ارحم الحسن! میں نے آپ کی سسٹر کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا ہے ٗ ہاں میں نے اس کا بازو پکڑا تھا‘ لیکن کسی غلط ارادے سے نہیں ٗ فیصل کی شادی والی نائٹ جو کچھ ہوا اس کی سوری کرنے کیلئے۔ بٹ وہ جو بولنا شروع ہوئیں تو مجھے انہیں چپ کروانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو اس لئے ان کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا نہ کہ اس لئے کہ وہ چیخ کر کسی کو مدد کیلئے نہ پکار سکیں ٗ کیونکہ نہ میری نیت خراب تھی نہ ہی میرے کردار میں جھول ہے۔ ہاں جو میں نے کیا وہ نہیں کرنا چاہئے تھا ٗ بٹ وہ سب خود بخود ہو گیا ٗ اس کیلئے میں آپ سے اور آپ کی سسٹر سے ایکسکیوز کرنے کو تیار ہوں ٗ سزا دینا چاہیں تو موسٹ ویلکم۔‘‘
’’ایکسکیوز کرنا بہت آسان ہے مسٹر! مگر وہ سب جو تم نے حنین کے ساتھ کیا اگر وہی سب کوئی تمہاری بہن کے ساتھ کرتا؟‘‘
’’جان لے لیتا اس کی۔‘‘ کنعان نے اس کا گریبان تھام لیا تھا۔
’’غلطی مجھ سے سرزد ہوئی ہے ٗ اس لئے آج تم زندہ بچ گئے ہو ٗ مگر یہ یاد رکھنا کہ آئندہ کبھی بھولے سے بھی میری بہن کے بارے میں اس طرح سے کہنے سے پہلے ذرا سوچ لینا۔‘‘ جھٹکے سے اس کا گریبان آزاد کیا تھا۔
’’واہ… مسٹر ماہ کنعان! آپ کی بہن کی عزت ٗ عزت ہے اور دوسروں کی بہن بیٹیوں کی عزت آپ کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتی؟‘‘
’’معنی رکھتی ہے ارحم! معنی رکھتی ہے۔ جبھی تم اتنا اکڑ کر مجھ سے بات کر رہے ہو ٗ مگر نادانی میں یا انجانے میں جو غلطی تمہاری بہن کر بیٹھی تھی ٗ میں اگر اتنا کیریکٹر لیس ہوتا تو تم سب اس کی سزا بھگتتے۔‘‘ وہ چیخ کر رہ گیا تھا ٗ دونوں ہی اشتعال کی آخری حدوں کو چھو رہے تھے۔
’’میں ہی تھا وہ جس نے حنین کو بڑی احتیاط سے جینٹس واش روم سے باہر نکالا تھا ٗ اگر میں ایسا نہ کرتا…!‘‘
’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’کیوں ٗ تمہیں تمہاری بہن نے اتنا سب کچھ بتا دیا ٗ مگر یہ نہیں بتایا کہ وہ جینٹس واش روم میں انٹر ہو گئی تھی؟‘‘ اس کے بولنے پر اسے خیال آیا تھا کہ حنین نے یہی کہا تھا کہ وہ جب واش روم میں انٹر ہوئی تو کنعان وہاں پہلے سے موجود تھا ٗ مگر وہ اس وقت یہ بات بالکل نہیں سمجھا تھا اور وہ غصے میں اسے ساری تفصیل بتانے لگا تھا جبکہ وہ اس کا انتظار کرتے کرتے ہی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند کر بیٹھی تھی کہ اس کی آنکھ لگ گئی تھی اور وہ دونوں اتنی رات کو بیچ سڑک پر سوالاً جواباً کھیل رہے تھے۔
٭٭٭
ماہ کنعان واش بیسن کے آگے کھڑا کوٹ پر پانی ڈالتے ہوئے کولڈ ڈرنک کا نشان دھونے کی کوشش کر رہا تھا کہ جھٹکے سے ڈور کھل کر بند ہونے کی آواز پر چونکا تھا اور نگاہ اٹھاتے ہی اسے دیکھا تھا تو متحیر رہ گیا تھا جبکہ حنین کی جیسے ہی اس پر نگاہ پڑی تھی وہ لمحہ بھر کو خوفزدہ ہو گئی تھی ٗ چیخنا چاہتی تھی کہ وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ گیا تھا ٗ جسے اس نے فوراً ہٹایا تھا اور ڈور کھولنے لگی تھی ٗ مگر ماہ کنعان اس کی کلائی تھام کر اسے اپنی جانب کھینچ گیا تھا ٗ وہ کچھ کہتی کہ اس کے منہ پر ہاتھ سختی سے جما دیا تھا اور وہ اس کی گرفت میں مچلنے لگی تھی۔
’’پلیز… ڈرو نہیں ٗ میں نہ کچھ کہہ رہا ہوں اور نہ ہی کچھ بھی کروں گا ٗ میں تمہارے منہ سے ہاتھ ہٹا لوں گا ٗ مگر تم کچھ بھی نہیں کہو گی اور وہی کرو گی جو کرنے کو میں کہوں گا اور اگر میرے ہاتھ ہٹانے کے بعد کچھ کہنے کی یا پھر چیخنے کی کوشش کی تو میں ہاتھ دوبارہ رکھ لوں گا اور پھر ہٹائوں گا بھی نہیں۔‘‘ ماہ کنعان نے لرزتی ہوئی حنین کو بغور دیکھا تھا ٗ ایئر لائن فراک اور ٹرائوزر میں پھیلے ہوئے میک اپ اور متناسب سراپے کے ساتھ وہ اس کے بے حد نزدیک تھی۔ اتنی کہ وہ اس کی سانسوں اور دل کی دھڑکن سن سکتا تھا۔ اس کے لرزتے وجود کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا تھا ٗ مگر اس نے اس کے منہ پر سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے فاصلہ قائم کیا تھا مگر کلائی اب بھی تھامی ہوئی تھی۔
’’میں ڈور کھول کر باہر دیکھتا ہوں ٗ آس پاس کوئی نہیں ہوا تو تمہیں اشارہ کروں گا اور تم باہر نکل جانا ٗ کیونکہ اس طرح تمہیں یہاں سے کسی نے نکلتے دیکھ لیا تو بہت برا ہوگا۔ اسپیشلی تمہارے حق میں۔ اس لئے آنسو صاف کرو ٗ باہر کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہئے ٗ کیونکہ تم غلطی سے جینٹس واش روم میں آ گئی ہو ٗ یہاں میری موجودگی تم پر کئی سوال اٹھا سکتی ہے ٗ میں اپنی بات نہیں کروں گا کیونکہ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا ٗ اب آنسو پونچھو۔‘‘ اس کو لرزتے دیکھ کر ماہ کنعان نے خود ہی آنسو صاف کئے تھے اور دروازہ کھولا تھا ٗ باہر کا جائزہ لیا تھا اور بہت احتیاط کے ساتھ اسے وہاں سے نکال دیا تھا۔
’’مسٹر ارحم! میں اتنا ہی برا ہوتا تو ضرور برائی ثابت کرتا ٗ کیونکہ وہ اس وقت میرے رحم و کرم پر تھی ٗ بٹ میں نے ایسا نہیں کیا تو اس سے میری شرافت ثابت نہیں ہو جاتی ٗ میں نے جو کیا وہی مناسب لگا تھا اور آپ بے شک اپنی سسٹر سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے اپنی لمٹس کراس نہیں کی تھیں ٗ ہاں ہال کے مدھم اندھیرے میں جو ہوا میں خود بھی اس کیلئے شرمندہ ہوں ٗ میں نے دنیا کے تقریباً سب ہی ممالک میں دو ٗ دو ٗ چار چار دن اسٹے کیا ہے ٗ بہت سی عورتیں میری لائف میں آئی ہیں مگر ایسا کچھ کبھی نہیں ہوا ٗ آج کیسے ہوا ٗ میں خود سمجھ نہیں پار رہا اور شرمندگی…!‘‘
’’ماہ کنعان! آپ شرمندہ ہیں یہی بہت ہے اور میں آپ سے اپنے برے رویے کیلئے ایکسکیوز نہیں کروں گا کیونکہ میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہوں ٗ میری جگہ آپ بھی ہوتے تو یقینا اسی طرح مجھ سے پیش آتے ٗ بٹ اینی ویز ٗ گزری باتیں جانے دیتے ہیں ٗ آیئے! میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں ٗ اٹس اوکے ٗ میں چلا جائوں گا ٗ آپ بھی جایئے۔‘‘ اس کے بہت بولنے پر بھی وہ راضی نہ ہوا تھا اور وہ ہاتھ ملاتا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔
٭٭٭
’’فیصل! یہ بندیا کس کی ہے اور آپ کے پاس کیا کر رہی ہے؟‘‘
’’تمہاری ہی ہو گی ٗ میں کون سا جیولری یوز کرتا ہوں۔‘‘ وہ مصروف سے انداز میں بولا تھا۔
’’میری نہیں ہے یہ فیصل!‘‘ وہ رو دینے کو تھی۔
’’مجھے کیا پتہ کہ کس کی ہے ٗ تم مجھے پلیز اس وقت ڈسٹرب نہ کرو ٗ مجھے یہ فائل اسٹڈی کرنی ہے۔‘‘ وہ ضروری فائل اسٹڈی کر رہا تھا ٗ ڈسٹرب ہونے لگا تو جھنجھلا گیا تھا۔
’’پہلے آپ یہ بتائیں کہ یہ کس کی ہے؟ یہ آپ کے کپڑوں میں سے ہی گری ہے ٗ اس لئے آپ جھوٹ بھی نہیں بول سکتے۔‘‘ آج ان لوگوں کی چوتھی کی رسم تھی اور وہ سب ’’کاشانہ عالم‘‘ میں انوائیٹڈ تھے ٗ کیونکہ یہ رسم نوید عالم اور راشدہ نے زرمین کی تو کرنی ہی تھی ٗ اس لئے انہوں نے سمیرا کی بھی اپنے گھر ہی میں کرنے کا سوچا اور ان کی محبت دیکھتے ہوئے سمیرا کے فادر بھی اس کیلئے راضی ہو گئے۔ سحرش ٗ فیصل کے دھلے ہوئے کپڑے دے کر گئی تھی ٗ وہ وہی رکھ رہی تھی کہ اس کے قدموں میں کوئی چیز آ گری اور اٹھا کر دیکھنے پر وہ از حد متحیر رہ گئی ٗ فیصل آفس کے کام میں مصروف تھا ٗ اس لئے اس کے لہجے میں موجود شک اور تشویش محسوس ہی نہ کر سکا اور وہ اس کے سر پر آ کھڑی ہوئی۔
’’میں جھوٹ کیوں بولوں گا سمیرا! تم کیسی فضول باتیں کر رہی ہو۔‘‘ وہ قدرے جھلا کر رہ گیا تھا۔
’’میں فضول باتیں کر رہی ہوں ٗ ہاں ٗ میری باتیں تو اب آپ کو فضول ہی لگیں گی ٗ کوئی نئی جو مل گئی ہے ٗ مگر میں نے یہ خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ آپ مجھ سے بے وفائی کریں گے۔‘‘ وہ بری طرح شک کی لپیٹ میں تھی۔
’’سمیرا! کیا ہو گیا ہے یار! کیسی باتیں کر رہی ہو اور رونے کیوں بیٹھ گئیں؟‘‘ وہ فائل میز پر ڈالتا اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔
’’آپ نے مجھ سے بے وفائی کی ہے ٗ میرا حق کسی اور کو دے دیا ہے اور میں روئوں بھی نہیں‘ میں اس کیلئے آپ کو معاف نہیں کروں گی ٗ مجھے سچ سچ بتائیں کہ وہ لڑکی کون ہے جس کی بندیا آپ کے کپڑوں سے ملی ہے ٗ ورنہ میں ابھی پھپھو سے جا کر کہتی ہوں۔‘‘
’’مما کو درمیان میں کیوں لا رہی ہو ٗ اتنی سی بات کا بتنگڑ بنانے کا مقصد؟‘‘
’’اتنی سی بات… یہ اتنی سے بات ہے آپ کے نزدیک؟ وہ لڑکی نجانے آپ کے کتنے نزدیک آئی ہو گی کہ اس کی بندیا آپ کے پاس رہ گئی ٗ کبھی میری چیزیں تو سنبھال کر نہیں رکھیں اور اس کی بندیا کو اتنا سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔‘‘
’’شٹ اپ سمیرا! نجانے کیا بکواس کئے جا رہی ہو۔‘‘ اس کا تیز لہجہ اسے سہما کر چپ کروا گیا تھا مگر وہ جیسے ہی وہ بہت غصے میں کمرے سے نکلنے لگی تھی وہ اس کا ہاتھ تھام کر ڈور لاک کر گیا تھا۔
’’کہاں جا رہی تھیں؟‘‘ ابروچڑھاتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’میں اب آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی ٗ میں ڈیڈی کے پاس جا رہی ہوں۔‘‘
’’پلیز سمیرا! چپ کر جائو ٗ کیوں فضول میں بات بڑھا رہی ہو ٗ یار یہ حنین کی بندیا ہے جو مجھے ہماری مہندی والی رات ملی تھی ٗ دینا یاد نہیں رہا اور تم نجانے کیا کچھ سمجھ رہی ہو۔‘‘ اس نے کنعان کو ملی تھی کہنا غیر مناسب سمجھتے ہوئے اپنا نام لیا تھا۔
’’حنین کی بندیا کو آپ نے اتنا سنبھال کر رکھا ہوا ہے ٗ کیوں؟‘‘
’’کہا نا دینا بھول گیا تھا۔‘‘ اس کا غصہ عود کر آنے لگا۔
’’جھوٹ بول رہے ہیں آپ ٗ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے اس نے بندیا لگائی ہی نہیں تھی ٗ سچ سچ بتائیں کہ یہ کس کی…!‘‘
’’اینف از اینف سمیرا! یقین کرنا ہے تو کر لو ٗ نہیں تو تمہاری مرضی۔‘‘ وہ اس کی تکرار سے چٹخ کر رہ گیا تھا اور وہ روتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی تھی۔
’’سمیرا! اس کمرے کی بات اس کمرے سے نکلی تو اچھا نہیں ہوگا۔‘‘
’’کیا کریں گے ٗ اس بندیا والی کو گھر لے آئیں گے؟ ایسا بھی ہے ناں تو میں جا رہی ہوں ٗ پھر چاہے جس کو لائیں ٗ میری بلا سے۔‘‘ وہ اس کے روکنے پربھی دروازہ کھول کر باہر نکل گئی ٗ تبھی وہ بھی اس کے پیچھے ہی لپکا۔
’’بات سمجھ کیوں نہیں رہی ہو ٗ میں کیوں تم سے جھوٹ بولوں گا؟‘‘
’’مجھے کیا پتہ ٗ کوئی تو بات ہے جس کو آپ چھپانا…!‘‘ زرمین کو دیکھ کر اس نے سمیرا کا بازو چھوڑ دیا تھا اور وہ بھی چپ کر گئی تھی۔
’’کمرے میں چلو ٗ وہیں بات کریں گے۔‘‘ اس نے بہت دھیمے لہجے میں کہا تھا۔
’’میں نہیں جائوں گی ٗ جب تک آپ مجھے بتا نہیں دیں گے کہ وہ بندیا کس کی ہے؟‘‘
’’سمیرا! کوئی بات ہو گئی ہے تو اس طرح یہاں کھڑے ہو کر اس کو ختم کرنے کا مقصد؟ تم اپنے کمرے میں جا کر بات کر لو۔‘‘
اس کے تیز لہجے میں کہنے پر اس نے مداخلت کی تھی۔
’’آپ نہیں جانتیں بھابی! کہ فیصل نے میرے ساتھ کیا کیا ہے ٗ ان کے کپڑوں میں سے کسی کی بندیا ملی ہے ٗ اگر آپ کو فضیل بھیا کے کپڑوں میں سے ایسی کوئی چیز ملتی تو آپ کیا کرتیں؟ ان کی جھوٹی باتوں پر یقین کرکے بیٹھ جاتیں؟‘‘ سمیرا روتے ہوئے بولی تھی اور فیصل کا ازلی غصہ عود کر آیا تھا۔
’’تم اب میرے کمرے میں بھول کر بھی قدم مت رکھنا ٗ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
’’فیصل! آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں ٗ سمیرا کو سمجھانے کے بجائے۔‘‘
’’بھابی! میں سمیرا سے کہہ چکا ہوں کہ بندیا مجھے مہندی کی شب ملی تھی تو اسے میری بات کا یقین کرنا چاہئے ٗ اگر یقین نہیں آ رہا تو کمرے میں رہ کر ہی مجھ سے یقین مانگتی ٗ یوں میری ذات کی تشہیر کرنے کو نہ نکل پڑتی۔‘‘ وہ غصے سے اسے گھورتا کمرے میں چلا گیا تھا اور زرمین کے پوچھنے پر وہ اسے ساری بات بتانے لگی تھی۔
’’حنین نے بندیا لگائی تھی جو کہیں گر گئی تھی ٗ اس لئے فیصل جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہی ہوگا ٗ ممکن ہے وہ بندیا حنین کی ہی ہو ٗ بالفرض وہ حنین کی نہیں ہے تب بھی تمہیں فیصل کی بات پر یقین کرنا چاہئے تھا ٗ وہ تمہارا شوہر ہے ٗ اس کی عزت کرنا تمہارا فرض ہے ٗ جو بات کمرے میں ہی ختم ہو سکتی تھی ٗ وہ بات تم نے گھر کی چار دیواری تک پھیلا دی۔‘‘
’’میں کیا کرتی بھابی! وہ بندیا دیکھ کر مجھے عجیب سے خیالات آنے لگے اور فیصل نے بھی تو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا ٗ مجھے لگا کہ وہ مجھ سے کچھ چھپانا چاہتے ہیں۔‘‘
’’سمیرا! ہر وقت ایمویشنل نہیں ہونا چاہئے ٗ انسان کو دماغ کا بھی استعمال کرنا چاہئے ٗ تمہیں بالفرض کوئی چیز مل بھی گئی تھی تو تم فیصل سے سکون سے بیٹھ کر پوچھ لیتیں ٗ ہائپر ہونے کی ضرورت نہیں تھی اور تمہاری زیادہ غلطی یہ ہے کہ تم نے فیصل کی بات پر یقین نہیں کیا ٗ وہ تمہارا شوہر ہے ٗ اس پر اعتبار کرنا تمہارے رشتے کی اولین ضرورت ہے ٗ تمہیں کمرے سے نہیں نکلنا چاہئے تھا ٗ اب سوچو ٗ میری جگہ مما یا ڈیڈی میں سے کوئی تم دونوں کی باتیں سن لیتا تو فیصل کا امیج خراب ہوتا یا نہیں؟‘‘ وہ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
’’مجھ سے غلطی ہو گئی بھابی! مگر اس خیال نے ہی میری جان لے لی تھی کہ فیصل کسی لڑکی میں انوالو ہیں۔‘‘ آنسو رگڑتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی تھی۔
’’اچھا اب تو جو ہوا ہو گیا ٗ مگر آئندہ خیال رکھنا ٗ میاں بیوی کی آپسی چپقلش اور معمولی جھگڑوں کی کسی کو بھی بھنک نہیں پڑنی چاہئے ٗ اس کیلئے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
’’مجھے نہیں سمجھ آتیں یہ باتیں ٗ شادی کیا ہوئی ہے ہر وقت انسٹرکشنز ہی ملتی رہتی ہیں ٗ شوہر کو یہ نہ کہو ٗ وہ نہ کہو ٗ اس کی خوشی کا خیال رکھو ٗ تو کیا میری خوشی معنی نہیں رکھتی؟ پھپھو کہتی ہیں کہ میں فیصل کی مرضی اور خوشی کا خیال رکھا کروں ٗ میں رکھتی تو ہوں ٗ مگر وہ پھر بھی کسی نہ کسی بات پر غصے میں آ جاتے ہیں ٗ مجھ سے زیادہ توجہ تو آفس کی فائلز کو ہی دے لیتے ہیں ٗ کبھی جلدی سو جاتے ہیں اور نیند نہیں آ رہی ہوتی تو چاہتے ہیں کہ میں بھی جاگتی رہوں ٗ مجھے نیند آ رہی ہوتی ہے تو غصہ کرتے ہیں کہ مجھے ان کا خیال نہیں ہے ٗ ہماری شادی کو ابھی ہفتہ ہی ہوا ہے اور سب چاہتے ہیں کہ میں ایک دم سے ہی فیصل کی پسند کے سانچے میں ڈھل جائوں ٗ میں کوشش کر رہی ہوں ٗ مگر میری برائیاں اور اچھائیاں ایک دم سے تو ختم نہیں ہو جائیں گی اور مجھے یہ سب باتیں سمجھ بھی نہیں آتیں ٗ اچھی بھلی ڈیڈی کے ساتھ رہتی تھی ٗ لے کے فضول میں شادی کر دی ٗ ڈیڈی کی مجھے کتنی یاد آتی ہے۔‘‘ زرمین اسے خاموشی سے سن رہی تھی ٗ اس کے حسین چہرے پر غصہ و جھنجھلاہٹ سی تھی ٗ وہ اسے بالکل حنین کی طرح لگتی تھی ٗ بھولی بھالی ٗ سادہ سی ٗ شرارتیں کرنے والی ٗ وہ ابھی کم عمر تھی ٗ سارے رشتے اور اس کی نزاکتیں دھیرے دھیرے ہی اسے سمجھ آنی تھیں۔
’’ہم اس موضوع پر کبھی فرصت میں بات کریں گے ٗ ابھی ہمیں جانے کی تیاری بھی تو کرنی ہے۔ تم جا کر تیار ہو جائو ٗ شازمین کا فون آیا تھا کہ ہم لوگ جلدی آ جائیں ٗ تاکہ کچھ دیر مل بیٹھیں گے تو گپ شپ ہی ہو جائے گی۔‘‘
’’آپ نے کپڑے سلیکٹ کر لئے؟‘‘
’’ہاں ٗ آج کیلئے امی نے خود ہی ڈریس سلیکٹ کرکے دیا تھا ٗ تم کیا پہن رہی ہو؟‘‘
’’وہ سوری بھابی! میں آپ کو بتانا بھول گئی ٗ ایک گھنٹہ پہلے ڈیڈی کا فون آیا تھا ٗ وہ ہم دونوں کے شام میں پہننے کے کپڑے لے کر لنچ ٹائم تک آئیں گے۔‘‘
’’اچھا ٗ یہ بات ہے تو میں وہی کپڑے پہن لوں گی ٗ جو انکل لائیں گے ٗ فضیل کسی کام سے باہر جا رہے ہیں ٗ وہ مجھے امی کے ہاں چھوڑ دیں گے ٗ تم میرے کپڑے لے آنا اور پلیز! جلدی آ جانا۔‘‘ اس کا گال نرمی سے تھپتھپایا تھا۔
’’ٹھیک ہے ٗ میں فیصل سے کہتی ہوں ٗ وہ راضی ہو گئے تو میں بھی آپ کے ساتھ ہی چلی چلوں گی اور کپڑے ہم جاتے ہوئے ڈیڈی سے لے لیں گے ٗ میں فیصل سے پوچھ کر آتی ہوں۔‘‘ وہ جلدی سے آگے بڑھی تھی کہ رک گئی۔
’’بھابی! فیصل نے مجھے کمرے میں آنے سے منع کیا ہے ٗ وہ بہت غصہ…!‘‘
’’تم جائو ٗ وہ کچھ نہیں کہیں گے اور اگر غصہ کریں تو پیار سے منا لینا۔‘‘
’’اتنا آسان نہیں ہے ان کو منانا ٗ میں تو بچپن سے ہی ان کے غصے سے ڈرتی ہوں اور اتنے دن سے میں نے پوری کوشش کی کہ وہ غصے میں نہ آئیں اور حیرت انگیز طور پر ان کا موڈ رہا بھی بہت اچھا ٗ مگر اب نجانے میرے ساتھ کیسا سلوک کریں گے؟‘‘ وہ ڈر اور وسوسوں کا شکار تھی۔
’’پہلے کی بات اور تھی سمیرا! مگر اب تم ان کی بیوی ہو ٗ وہ تمہیں ڈانٹ کر کمرے سے نہیں نکالیں گے۔‘‘ وہ اس کا گال تھپتھپا کر وہاں سے ہٹ گئی اور وہ ڈرتے ڈرتے کمرے تک چلی آئی ٗ دروازہ ناک کیا ٗ جو تھوڑی ہی دیر میں کھل بھی گیا۔
’’فیصل…!‘‘ اسے واپس فائل میں مصروف ہوتے دیکھ کر پکارا۔
’’پلیز! ڈونٹ ڈسٹرب می ٗ جو بات کرنی ہو وہ میرے کام سے فارغ ہونے کے بعد کر لینا ٗ سو ایکسکیوز۔‘‘ صفحہ پلٹتے ہوئے مصروف انداز میں سنجیدگی سے کہا۔
’’فیصل! آئی ایم سو…!‘‘ نزدیک آتے ہوئے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چیئر سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا ٗ آنسو اس کی آنکھوں میں جمع ہونے لگے ٗ اس نے زرمین کو جانے کیلئے کہہ دیا ٗ یہ سوچ کر جب فیصل تھوڑی دیر بعد آئے گا تو وہ اس کے ساتھ چلی جائے گی ٗ مگر شام کے 6 بج گئے اور وہ نہیں آیا ٗ اس نے فضیل کے ہاتھ وہ سارے ڈبے زرمین کو بھیج دیئے جو اس کے ڈیڈی زرمین کیلئے لائے تھے ٗ وہ مہوش کے کہنے پر بے دلی سے تیار ہونے لگی ٗ کیونکہ وہ سیل فون ساتھ نہیں لے گیا تھا ٗ اس لئے وہ کانٹیکٹ بھی نہیں کر سکتی تھی اور اس نے زرمین کی بات مانتے ہوئے مہوش سے گزری باتوں کا بالکل بھی ذکر نہیں کیا تھا ٗ مگر وہ اس کیلئے بہت پریشان ہو رہی تھی۔
٭٭٭
’’زرمین آپی! کتنی خوبصورت ساڑھی ہے ٗ آپ پر تو اور بھی جچے گی۔‘‘ حنین نے جھلمل کرتی ساڑھی کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ستائش بھرے لہجے میں کہا۔
’’فضیل بھیا! یہ آپ نے خود پسند کی ہے؟‘‘ فضیل سے براہ راست پوچھا۔
’’یہ ماموں جان کی پسند ہے۔‘‘ اس نے مسکرا کر بتایا۔
’’ہے بہت زبردست ٗ ہر چیز بہت خوبصورت ہے ٗ جب یہ سب آپی پہن کر آپ کے سامنے آئیں گی تو آپ پلکیں تک جھپکنا بھول جائیں گے۔‘‘ وہ شرارت سے بولی اور وہ دھیمے سے مسکرا دیا ٗ کیونکہ شازمین اور مائدہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔
’’آپی! امی کہہ رہی ہیں آپ تیار ہو جائیں کیونکہ آپ کے سسرال والے آنے ہی والے ہوں گے۔‘‘ شازمین نے کچھ دیر بعد خیال آنے پر کہا ٗ کیونکہ وہ اس کے کمرے میں یہی پیغام لے کر ہی تو آئی تھی۔
’’مائدہ! تم کس کے ساتھ آئی ہو؟‘‘ زرمین نے اس سے پوچھا تھا۔
’’ارحم بھیا چھوڑ گئے ہیں۔‘‘ وہ کچھ دیر پہلے ہی آئی تھی جبکہ فریدہ صبح سے آئی ہوئی تھیں۔
’’ارحم بھیا اندر کیوں نہیں آئے؟‘‘ حنین کو فکر ہوئی۔
’’بھیا کو پولیس اسٹیشن جانا تھا ٗ وہ رات تک آ جائیں گے۔‘‘ اس نے حنین کو تسلی دی تھی۔
’’میں چلتا ہوں ٗ مجھے کچھ کام ہے۔‘‘ فضیل جانے کیلئے اٹھ گیا تھا۔
’’آپ کہاں جا رہے ہیں ٗ کوئی کام وام نہیں ہے ٗ زیادہ بہانے مت کریں ٗ صبح بھی آپی کو چھوڑ گئے تھے اور پھر جا رہے ہیں ٗ کیا ہم اتنے ہی برے ہیں؟ آپ ہمارے ساتھ کچھ وقت نہیں گزار سکتے؟‘‘ حنین کے انداز میں خفگی تھی۔
’’ایسی بات نہیں ہے ٗ میں واقعی کسی کام سے جا رہا تھا ٗ مگر تم نہیں چاہتیں تو ٹھیک ہے ٗ نہیں جا رہا۔ اپنی چھوٹی بہن کو ناراض تو نہیں کرکے جا سکتا ٗ آپ تو ویسے بھی ہماری بیوی کی لاڈلی بہن ہیں ٗ آپ کو ناراض کرکے اپنی شامت تھوڑی بلوانی ہے۔‘‘ شرارت و شوخی سے کہا گیا تھا ٗ زرمین نے ایک نگاہ اس پر ڈالی تھی ٗ وہ اتنا ہی اچھا اور کیئرنگ تھا ٗ دوسروں کو خوش رکھنے کیلئے اپنی خوشی تیاگ دینے والوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔
’’زرمین آپی! کیا فضیل بھیا کو نظر لگانے کا ارادہ ہے؟‘‘ حنین کے جملے پر وہ بری طرح گڑبڑا کر نگاہ ہٹا گئی تو اس کے چہرے پر دوڑتی خفت فضیل کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔
’’ارے زرمین! تم اب تک یوں ہی بیٹھی ہو ٗ تیار ہو بیٹا! ساڑھے 6 ہو رہے ہیں ٗ مہوش لوگ کبھی بھی آ جائیں گے۔‘‘ فریدہ نے مخصوص اسٹائل میں انٹری تھی۔
’’اور تم تینوں کو تیار نہیں ہونا جو یہاں بیٹھی باتیں بنا رہی ہو؟‘‘
’’میرا تو ابھی ارادہ نہیں ہے پھپھو! میں نے زبردستی فضیل بھیا کو جانے سے روکا ہے ٗ اب میں انہیں کمپنی نہیں دوں گی تو یہ ناراض ہوں گے۔‘‘
’’اچھا جیسے تمہاری مرضی ٗ مگر بعد میں یہ مت کہنا کہ میں تیار نہیں ہوئی اور سب آ بھی گئے۔‘‘ فریدہ کے کہنے پر بھی اس کا اٹھنے کا ارادہ نہیں ہوا تھا۔
’’تمہیں تیار ہونے کیلئے کسی کی ہیلپ چاہئے یا یہ دونوں چلی جائیں؟‘‘
’’میک اپ تو ہلکا پھلکا میں خود ہی کر لوں گی ٗ اصل مسئلہ تو ساڑھی کا ہے ٗ میں اس کو کیسے سنبھالوں گی؟‘‘ زرمین کے چہرے پر پریشانی سمٹنے لگی۔
’’زرمین! چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہ ہوا کرو بیٹا! میں ساڑھی باندھنے میں تمہاری ہیلپ کر دوں گی اور تم اسے سنبھال لو گی ٗ اتنا بھی مشکل نہیں ہے ٗ تم ایسا کرو ٗ بلائوز پہن کر آ جائو تو میک اپ میں تمہاری مائدہ ہیلپ کر دے گی اور پھر میں ساڑھی سیٹ کر دوں گی۔‘‘
’’نہیں ٗ میں خود کر لوں گی ٗ تم جا کر تیار ہو جائو اور پھپھو ساڑھی سیٹ کرنا ہو گی تب میں آپ کو بلا لوں گی۔‘‘ وہ تینوں باہر نکل گئی تھیں ٗ فضیل اور حنین ایک دوسرے کو اسٹوڈنٹ لائف کے قصے سنا رہے تھے ٗ زرمین منہ دھونے چلی گئی اور واپس آکر میک اپ کرنے لگی ٗ اتنے دنوں میں یہ فرسٹ ٹائم ہی تھا کہ وہ اس کی موجودگی میں تیار ہو رہی تھی ٗ وگرنہ وہ تو کمرے سے ہی چلا جایا کرتا تھا تاکہ وہ نروس نہ ہو اور وہ اس وقت کچھ سکون سے ہی تھی کیونکہ فضیل کی طرف سے اسے اب تک پریشانی نہ ہوئی تھی اور اس وقت تو حنین بھی موجود تھی ٗ آدھے گھنٹے میں اس نے چہرے کے ساتھ بال بھی بنا لئے تھے ٗ لانبے بالوں کی چوٹی بنائی تھی اور میک اپ بھی کافی لائٹ سا کیا تھا۔
٭٭٭
’’اچھی لگ رہی ہیں آپی!‘‘ شازمین تیار ہو کر اس کے روم میں آ گئی تھی۔
’’تھینکس… تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ وہ بہن کو دیکھ کر مسکرائی تھی۔
’’کیا وہ سب لوگ آ گئے ہیں؟‘‘ حنین نے پوچھا۔
’’نہیں ابھی نہیں آئے ٗ شاید وہ لوگ کچھ لیٹ ہو جائیں ٗ کیونکہ فیصل بھیا ٗ کسی کام سے کہیں گئے ہوئے ہیں ٗ سحرش نے ابھی فون کرکے اطلاع دی ہے ٗ بٹ تم جا کر تیار ہو جائو اور ویسے بھی تمہیں چچی بلا رہی ہیں۔‘‘ شازمین کے کہنے پر وہ جلدی سے روم سے نکل گئی کہ کہیں اسے ساجدہ سے ڈانٹ ہی نہ پڑ جائے۔
’’آپ چینج کر لیں ٗ میں جا کر دیکھتی ہوں کہ مائدہ اپیا ٗ تیار ہوئیں یا نہیں ٗ فضیل بھیا! آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے؟‘‘ خیال آنے پر مسکرا کر پوچھا تھا۔
’’ایک کپ چائے مل جائے تو کیا بات ہے ٗ سر میں تکلیف سی محسوس ہو رہی ہے۔‘‘
’’حنین نے آپ کا دماغ خالی کر دیا ہے ٗ بہت بولتی ہے۔‘‘
’’ارے ٗ نہیں ایسی بات نہیں ہے ٗ صبح سے ہی آج مجھے کچھ تھکن سی فیل ہو رہی ہے ٗ اسی لئے گھر جا رہا تھا کہ کچھ دیر آرام کر لوں گا تو فریش ہو جائوں گا۔‘‘
’’ایسی بات ہے تو آپ آرام تو یہاں بھی کر سکتے ہیں ٗ یہ گھر بھی تو آپ ہی کا ہے ٗ میں آپ کیلئے اسٹرانگ سی چائے لاتی ہوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی تھی۔
’’آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ زرمین شیشے کے سامنے سے ہٹ کر اس کے نزدیک چلی آئی۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں زرمین! بس سر میں کچھ درد ہو رہا ہے۔‘‘
’’بیڈ پر آکر لیٹ جایئے میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں۔‘‘ وہ اسے دیکھنے لگا۔
’’اتنا تو میں کر ہی سکتی ہوں فضیل! یا آپ اس کیلئے بھی مجھے کچھ وقت دینا چاہتے ہیں کہ جب میں بنا کہے سمجھ جایا کروں گی کہ آپ کسی تکلیف میں ہیں اور خود سے آپ کا سر دبایا کروں گی۔‘‘ اس کے انداز میں خفگی محسوس کرتے ہوئے وہ محض مسکرا دیا اور کچھ کہے بغیر اس کے کہنے کے مطابق لیٹ گیا اور وہ اس کے سرہانے بیٹھ کر نرمی سے اس کا سر دبانے لگی۔ نرم ہاتھوں کا لمس بہت ہی بھلا لگ رہا تھا اور سکون سا محسوس کرکے اس نے آنکھیں موند لی تھیں۔ 10سے15 منٹ بعد دروازہ ناک ہوا اور وہ آہستگی سے اس کے پہلو سے اٹھ گئی کہ کہیں اس کی آنکھ نہ کھل جائے ٗ آنے والی فریدہ تھیں جو چائے لے کر آئی تھیں اور اسے سوتا دیکھ کر وہ اس کی ساڑھی باندھنے لگی تھیں اور مکمل تیار ہونے کے بعد وہ اس پر کمبل درست کرتی لائٹ آف کرکے روم سے نکل گئی تھی۔
٭٭٭
’’فیصل! کچھ تو بتا کر گیا ہوگا کہ کہاں جا رہا ہے ٗ کب تک آئے گا؟‘‘ وہ سب جانے کیلئے بالکل ریڈی تھے مگر فیصل کا کہیں اتا پتہ نہیں تھا ٗ فریدہ کتنے ہی فون کر چکی تھیں ٗ 8 بجنے والے تھے اس لئے مہوش کو بھی تشویش ہونے لگی تھی۔
’’وہ اتنا غیر ذمے دار تو نہیں ہے ٗ بتا کر نہیں گیا تھا تو کم از کم اب تو اسے آ جانا چاہئے تھا اور سیل فون کیوں نہیں لے گیا ٗ سمیرا بیٹا! کیا تم دونوں میں کوئی جھگڑا ہوا ہے؟‘‘
’’نہیں پھپھو! وہ آفس کا کوئی کام کر رہے تھے کہ چھٹیاں ختم ہو گئی ہیں ٗ کل آفس جائیں گے تو فائل اسٹڈی کر لیں ٗ کام کرتے کرتے ہی کہیں چلے گئے۔‘‘ اتنا سب کہنے میں آنسو اس کی آنکھوں میں جمع ہونے لگے تھے مگر وہ خود کو رونے نہیں دینا چاہتی تھی ٗ کیونکہ اسے یہ ڈر تھا کہ بات زرمین کو پتہ چلی تھی تو اس نے ایسا ری ایکٹ کیا تھا سب کو پتہ چل جاتی تو وہ نہ جانے کیا کرتا؟
’’ادھر دیکھو میری طرف اور صاف صاف بتائو کوئی بات ہوئی ہے؟‘‘ مہوش نے اس کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اپنی طرف کیا اور وہ کچھ کہتی کہ لائونج میں قدموں کی آواز ابھری اور وہ دونوں دروازے کی طرف دیکھنے لگیں۔
’’فیصل! کہاں چلے گئے تھے بیٹا! ہم سب کتنا پریشان ہو رہے تھے۔‘‘
’’سوری ماما! بس ایک مشکل میں پھنس گیا تھا۔‘‘ وہ دھیمے سے کہتا ہوا ان دونوں کی طرف دیکھنے لگا۔ ماہ کنعان نے آگے بڑھ کر مہوش کو سلام کیا اور سمیرا کو سلام کرکے خیریت پوچھتا صوفے پر بیٹھ گیا ٗ مہوش نے اس کے سلام کا جواب دے کر ماہ لاج سے مصافحہ کیا ور اس کا سمیرا سے تعارف کروانے لگیں۔
’’سمیرا بیٹا! یہ ماہ لاج ہے ٗ فیصل کے دوست کنعان کی سسٹر۔‘‘ وہ چاہ کر بھی خوش دلی نہ دکھا سکی تھی ٗ اس کی نظر تو فیصل کے بینڈیج ہوئے ہاتھ پر ٹھہر گئی تھی ٗ مگر وہ خوف کی وجہ سے کچھ بھی پوچھ نہیں پا رہی تھی ٗ وہ خود ہی صوفے پر بیٹھے ہوئے تفصیل بتانے لگا کہ وہ جس وقت گھر سے نکلا اس کا ارادہ تھا کہ وہ کنعان کی طرف چلا جائے گا مگر راستے میں حادثے کو دیکھ کر رک گیا تھا ٗ سڑک پر بے یارو مددگار زخمی پڑے بچے کو اٹھا کر اس نے ہاسپٹل پہنچایا تھا ٗ 2 سے 3 گھنٹے اسے وہیں لگ گئے پھر وہ کنعان کے آفس چلا گیا ٗ وہاں باتوں میں وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا ٗ اس نے آج کنعان کو بھی انوائٹ کیا ہوا تھا مگر وہ آنا نہیں چاہ رہا تھا ٗ اس لئے اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ تم نہیں آنا چاہتے تو نہ آئو ٗ ماہ لاج کو وہ خود پک کر لے گا اور واپس بھی چھوڑ دے گا ٗ فیصل کی ضد کے آگے اسے مانتے ہی بنی تھی اور اس نے بہن کو تیار ہونے کیلئے کہہ دیا تھا اور وہ آفس سے گھر جانے کیلئے ساتھ ہی نکلے تھے ٗ فیصل کی گاڑی کا ٹائر پنکچر تھا ٗ اس لئے دونوں نے ڈیسائیڈ کیا کہ فیصل اس کے ساتھ گھر جائے گا اور وہ تیار ہو کر اس کے ساتھ ہی چلیں گے۔ کنعان کے روم میں بیٹھے ہوئے اسے یہ خیال آیا تھا کہ وہ گھر فون کرکے بتا دے ٗ مگر اس نے غصے میں ایسا نہیں کیا تھا اور جس وقت وہ ان دونوں کے ساتھ گھر پہنچا تھا 8 بج رہے تھے۔
’’بیٹا! تم فون کرکے بتا تو دیتے۔‘‘ تفصیل جان کر بیٹے کو خفگی سے دیکھا۔
’’ماما! بس خیال ہی نہیں آیا۔‘‘ آنسو چھپانے کی چاہ میں سرجھکائے بیٹھی سمیرا سے نگاہ ہٹا کر کہا۔
’’اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہوا ہے؟‘‘
’’وہ… بس ماما! یہ کنعان صاحب کی مہربانی ہے۔‘‘ وہ دوست کو دیکھتے ہوئے مسکرایا اور تفصیل بتانے لگا ٗ وہ چائے کے سپ لیتے ہوئے کھڑکی میں جا کھڑا ہوا تھا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ کھڑکیوں کے نئے شیشے لگ رہے ہیں اور کام ابھی ادھورا ہے اس نے بے خیالی میں کھڑکی کا پٹ پکڑ کر کھولا تھا اور شیشہ اندر تک اس کی ہتھیلی کاٹتا چلا گیا کیونکہ فٹنگ کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔
’’اچھا ٗ تم جا کر چینج کر لو ٗ ہم لوگ آل ریڈی لیٹ ہو چکے ہیں ٗ فریدہ کے کتنے ہی فون آ چکے ہیں ٗ جب تک میں سحرش سے کہہ کر ریفریشمنٹ کا انتظام کرواتی ہوں۔‘‘
’’تکلف کی بالکل ضرورت نہیں ہے آنٹی!‘‘ ماہ کنعان نے روکنا چاہا تھا۔
’’ارے کیسے نہیں ہے ٗ تم تو چلو آتے رہتے ہو۔ ٗ لاج بیٹی تو سالوں ٗ مہینوں میں ہی آتی ہے ٗ پوری شادی گزر گئی نہ لاج آئی اور نہ ہی تمہارے پیرنٹس۔‘‘
’’مام اینڈ ڈیڈ ٗ یو کے گئے ہوئے ہیں اور طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں نہیں آ سکی ٗ ورنہ تو خود میرا بہت دل تھا کہ میں فیصل لالہ کی شادی میں شرکت کروں۔‘‘ ماہ لاج نے نہ آنے کا عذر اداسی سے بتایا۔
’’ماما! ایسا کریں کہ آپ لوگ نکل جائیں ٗ میں تیار ہو کر کنعان کے ساتھ آ جائوں گا۔‘‘ سمیرا کے ساتھ آتی ہوئی سحرش کو دیکھ کر کہا اور سحرش ٗ ماہ لاج سے ملتی ٗ ڈیڈی کو بلانے چلی گئی تھی ٗ سمیرا اس کے نظر انداز کرنے پر بری طرح ہرٹ ہوئی تھی ٗ مگر اس نے کہا کچھ نہیں۔
’’ہم لوگ جا رہے ہیں سمیرا! تم فیصل کی تیاری میں مدد کروا دینا اور اس کے ساتھ ہی آ جانا۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں ہے ماما! میں خود ہی تیار ہو کر آ جائوں گا ٗ تم بھی ساتھ ہی چلی جائو ٗ مجھے کچھ وقت لگے گا۔‘‘ اس نے اچٹتی ہوئی نظر سمیرا پر ڈالی ٗ ساڑھی میں اس کا متناسب سراپا خوب جچ رہا تھا ٗ مگر وہ اسے نظر انداز کرتا کمرے کی طرف بڑھ گیا اور اس کے ساتھ ہی ماہ کنعان بھی اٹھ گیا ٗ سمیرا بے دلی سے ان سب کے ساتھ ہی چل دی تھی ٗ اس کو بہت رونا آ رہا تھا وہ بمشکل خود پر کنٹرول رکھے ہوئے تھی ٗ ان سب کا استقبال بہت اچھے طریقے سے ہوا۔ ماہ لاج کا تعارف سن کر حنین نے ہاتھ ملانے کیلئے ماہ لاج کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کر دیا اور ایکسکیوزمی کہہ کر اس کے سامنے سے ہٹتی صوفے پر جا کر بیٹھ گئی ٗ اس کی اس حرکت کو ماہ لاج سمجھ نہیں پائی اور سحرش شرمندہ ہو گئی ٗ حنین کی حرکت پر۔
’’آئی ایم سو ٗ سوری لاج! یہ حنین۔‘‘
’’اٹس اوکے سحرش!‘‘ وہ محض اسے شرمندگی سے نکالنے کیلئے بولی تھی وگرنہ تو وہ بھی بہت ہرٹ ہوئی تھی۔
’’حنین! تم نے لاج سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا تھا ٗ وہ ہماری مہمان ہے اور تمہارا فرض ہے کہ ہمارے مہمانوں کے ساتھ اچھے سے پیش آئو۔‘‘ سحرش موقع ملتے ہی بولی تھی۔
’’میرا دل نہیں چاہ رہا تھا تو نہیں ملایا اس سے ہاتھ اور وہ کون سی کہیں کی منسٹر ہے کہ جن کی عزت کرنا مجھ پر فرض ہے۔‘‘ نہایت جلے ہوئے کڑوے لہجے میں کہا تھا۔
’’حنین! مجھے یقین نہیں آ رہا ٗ تم اتنی بدتمیز بھی ہو سکتی ہو۔‘‘ سحرش ہونق رہ گئی تھی۔
’’میں اتنی ہی بدتمیز ہوں سمجھیں تم اور جو لوگ مجھ سے تمیز سے پیش نہیں آتے میں بھی ان لوگوں سے خوش دلی سے نہیں ملتی۔‘‘ اس کا لہجہ نہایت سخت تھا اور سحرش اسے عجیب نگاہوں سے تکنے لگی تھی۔
’’ماہ لاج نے تم سے کون سی بدتمیزی کی ہے ٗ وہ تو تم سے ملی ہی فرسٹ ٹائم ہے۔‘‘ حنین کی بے تکی باتیں اسے غصہ دلانے لگی تھیں۔
’’اس نے نہیں تو اس کے بھائی نے تو کی ہے نا اور یہ تم بھی جانتی ہو۔‘‘ وہ دونوں لان میں کین کی کرسیوں پر بیٹھی ہوئی تھیں ٗ فیصل اسے دیکھنے لگا تاکہ یہ جان سکے کہ حنین کون سی بدتمیزی کی بات کر رہی ہے ٗ مگر کنعان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی حنین نے خود ہی جواب دے دیا۔
’’وہ مجھے جتنی دفعہ ملے مجھے انہوں نے تکلیف پہنچائی اور جس وقت ہم نزہت کو فون کرنے گئے تھے انہوں نے جو میرے ساتھ کیا تھا میں اگر تمہیں وہ سب بتا دوں تو تم بھی میری طرح ان کو ناپسند کرو گی۔‘‘ آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے تھے۔
’’ایسی کیا بات ہوئی تھی؟‘‘ حیرت سے پوچھنا چاہا تھا۔
’’میں نہیں بتا سکتی۔‘‘ سختی سے بولی تھی۔
’’لیکن کیوں؟ ایسی کیا بات ہے کہ تم مجھ سے شیئر نہیں کر سکتیں؟‘‘
’’ہاں ہے ایسی بات اور مجھے ارحم بھیا نے بھی کسی کو بھی بتانے سے منع کیا ہے اسی لئے تو میں نے زرمین آپی تک سے ذکر نہیں کیا ٗ ورنہ تم جانتی ہو ٗ میں چھوٹی سے چھوٹی بات ہو یا میری کوئی غلطی ٗ وہ سب میں صرف زرمین آپی سے شیئر کرتی ہوں ٗ تمہارا اور پھپھو کا نمبر تو بعد میں آتا ہے۔ پھپھو سے بعض باتیں میں نہیں کر پاتی مگر زرمین آپی سے کہے بغیر مجھے چین نہیں ملتا ٗ ارحم بھیا کے منع کرنے پر میں نے وہ سب آپی کو بھی نہیں بتایا جبکہ ان کی شادی کے بعد اس پورے ہفتے ہی میں بیمار رہی ہوں اور وہ مجھ سے پوچھ پوچھ کر تھک گئیں۔‘‘
’’ایسی کیا بات ہے کہ تم نے بھابی سے بھی شیئر نہیں کی ٗ تو پھر تم نے ارحم بھیا سے وہ سب کیسے کہہ دیا؟‘‘ وہ ازحد متحیر سی سوال کر رہی تھی۔
’’وہ بضد ہو گئے تھے اور اس وقت مجھے سہارے کی ضرورت تھی اور تم جانتی ہو کہ ارحم بھیا مجھے ٗ کتنے عزیز ہیں اور وہ بھی میرا کتنا خیال رکھتے ہیں ٗ بس اسی لئے ڈرتے جھجکتے میں نے انہیں سب بتا دیا ٗ مگر تم سے نہیں کہہ سکتی ٗ اتنا بھی نہ کہتی کہ اگر تم مجھ کو اس بات کیلئے مجبور نہ کرتیں کہ میں اس شخص کی سسٹر کے ساتھ اچھے سے پیش آئوں۔‘‘ وہ ناگواری سے بول رہی تھی۔
’’مجھے تمہاری باتیں سمجھ نہیں آ رہیں حنین! مگر اس سب میں لاج کا تو کوئی قصور نہیں ہے ٗ ہرٹ تمہیں کنعان بھیا نے کیا ہے اور تم نے جو لاج کے ساتھ کیا وہ ہرٹ ہوئی ہے ٗ تمہیں زیادہ نہیں تو کم از کم اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے تھا ٗ وہ تمہارے بارے میں کیا سوچ رہی ہو گی؟‘‘
’’کچھ بھی سوچے ٗ میری بلا سے۔‘‘ وہ اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہ تھی کہ دفعتاً ان دونوں پر اس کی نظر پڑی تھی اور کنعان کو دیکھ کر وہ بڑ?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *