Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15

Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15

ماہ کنعان کی نگاہ اٹھی تھی اور ٹھہر گئی تھی ٗ وہ دشمن جاں سیاہ انار کلی فراک اور چوڑی دار پاجامے میں سلور ستاروں سے بھرا سیاہ آنچل سر پر ڈالے ٗ نہایت نفیس سینڈل اور ماہر ہاتھوں سے ہوئے میک اپ اور جیولری پہنے اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ ہر نگاہ اس پر ٹھہر ٹھہر جا رہی تھی اور وہ تو وہ تھا جو پہلی ہی نظر میں گھائل ہو گیا تھا ٗ اس کی خواہش کے مطابق آج ان کا نکاح بڑی سادگی سے چند رشتے داروں کی موجودگی میں ہو گیا تھا اور وہ روایتی دلہنوں کی طرح صرف اس کی خواہش کے سبب تیار نہ ہوئی تھی کہ سیاہ رنگ کے لباس پر سب معترض تھے مگر اس نے کسی کے بھی اعتراض کو اہمیت نہ دی تھی اس کے تن پر سجی ایک ایک چیز اس کی پسند کی تھی اور اسے اپنی پسند پر رشک آنے لگا تھا ٗ زرمین نے اسے اس کے پہلو میں بٹھایا تھا ٗ اس نے ایک دفعہ بھی اس کی طرف دیکھنے کی کوشش نہ کی تھی اور اس کے برابر بیٹھی باقاعدہ لرز رہی تھی اور اس کے عنابی لبوں پر مسکان سج گئی تھی اور جیسے ہی اس کی نگاہ اس کے مومی حنائی پیروں پر پڑی تھی اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی اور وہ کھڑا ہو گیا تھا اس کے یکدم کھڑے ہو جانے پر سب ہی سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے تھے کہ وہ اسٹیج پر اس کے قدموں کے پاس ہی ایک پیر اور دوسرے گھٹنے کے بل بیٹھا تھا اس کی اس حرکت پر کتنی ہی نگاہیں ساکت ہوئی تھیں ٗ حیرت و استعجاب سے پھیل گئی تھیں اور وہ بھی بالآخر اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی تھی اور اس نے ایک دلفریب مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی اور وائٹ گولڈ کی نہایت بیش قیمت پازیب اس کے پیروں میں سجا دی اس کے احساسات بہت عجیب سے ہو گئے تو وہ لب کچلتی نگاہ چرا گئی تھی۔
خود اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ کبھی یوں کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر اسے کوئی تحفہ اتنے خوبصورت رومینٹک انداز میں دے گا ٗ مگر اس کا سچا ٗ محبت لٹاتا انداز ساجدہ کے بے چین دل کو کچھ سکون دے گیا تھا کہ جو ہوا تھا اس سب میں ان کی مجبوری کا ہاتھ تھا اس لئے بے کلی و بے اطمینانی کنڈلی مارے بیٹھی تھی ٗ وہ اس کو مسکرا کر دیکھتا کھڑا ہوا تھا اور اس کے پہلو میں ٹک گیا تھا۔
’’میری طرف سے تمہارے لئے یہ پہلا تحفہ ہے اور جب تم ہجر زدہ سالوں کے بعد رخصت ہو کر میری سونی زندگی کو اپنے وجود سے مہکانے آئو گی تب میں تمہیں اپنا آپ گفٹ کر دوں گا۔‘‘ وہ سرگوشی کے سے انداز میں گھمبیر لہجے میں بولا تھا اس کی پلکیں لرزنے لگی تھیں اور وہ اس کی حالت سے محظوظ ہوتا کچھ اور ہی سوچنے لگا تھا۔
٭٭٭
’’کیوں آئے ہیں اب یہاں ٗ جایئے یہاں سے، نہیں کرنی مجھے آپ سے کوئی بات۔‘‘ تیسری دستک پر بھی کوئی آواز تک نہ آئی تو وہ دروازہ دھکیلتا بنا اجازت کے ہی کمرے میں داخل ہو گیا ٗ وہ دشمن جاں بستر پر تکیے میں منہ دیئے لیٹی تھی ٗ وہ کچھ کہتا ٗ اپنی آمد ظاہر کرتا کہ وہ اسی پوزیشن میں لیٹے لیٹے ہی بولی تو وہ حد درجے چونک گیا تھا۔
’’آج جو کچھ ہوا اس کیلئے میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی ٗ آپ نے مجھے خود سے محبت کرنے کی بہت کڑی سزا دی ہے ارحم!‘‘ اس نے دستک کو ان سنا کر دیا تھا ٗ مگر کمرے میں پھیلتی مخصوص کلون کی مہک وہ تکیے سے منہ نکالے بغیر کہنے لگی تھی ٗ کہتے کہتے جیسے ہی تکیہ منہ سے ہٹایا باقی لفظ منہ میں ہی رہ گئے تھے اور وہ جو ارحم الحسن کو سمجھ کر بولنا شروع ہوئی تھی ٗ ماہ کنعان کو دیکھا تو اس کی بولتی ہی بند ہو گئی اور وہ بڑی سرعت سے اٹھ بیٹھی۔
’’آپ میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں؟‘‘ ناگواری سے بولی تھی اور دوپٹہ اٹھانے کو صوفے کی طرف بڑھی تھی کہ وہ اس کا بازو دبوچ گیا۔
’’کچھ دیر قبل جو کچھ کہا اس میں کتنی سچائی ہے؟‘‘ وہ کڑے تیوروں سے استفسار کر رہا تھا جبکہ اس کے تو خاک بھی پلے نہ پڑا البتہ اس کے تیور اسے سہما ضرور گئے۔
’’جواب دو حنین عابدی! کہ کچھ دیر قبل تم کیا بکواس کر رہی تھیں؟‘‘ اس نے اس کی حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے حوالے پر زور ڈال کر مزید سختی سے پوچھا تھا کہ اس کے الفاظ ہی برے نہیں لگے تھے کمرے میں بکھریں اس کی محبت سے لیں چیزیں اپنی ناقدری پر روتیں اسے غصہ دلا گئی تھیں۔
’’ہاتھ چھوڑیں میرا ٗ میں نے بار بار آپ سے اپنا ہاتھ نہیں تڑوانا ہے۔‘‘ وہ سہم کر سسکی تھی اور وہ اس کے بہتے آنسوئوں کے سبب دھیما پڑ گیا تھا اور اسے دیکھنے لگا ٗ حسین جگمگاتی سیاہ فراک میں اس کا چاندنی سا سراپا اس کی آنکھوں سے دل میں اترتا قربت کی جوت جگا گیا تھا ٗ وہ اپنے اشتعال کو خیر باد کہے اس پر مہربان ہو رہا تھا ٗ مگر اس کی مہربانیاں اسے کہاں ہضم ہو سکتی تھیں ٗ اس کا لمس اسے بے چین کرنے لگا اور کوئی راہ فرار نہ پاکر ہر مزاحمت کو اکارت جاتے دیکھ کر وہ دھواں دھار رونا شروع ہو گئی تو جیسے وہ بھی عالم مدہوشی سے نکل آیا۔
’’صرف ایک بات کا جواب دے دو کہ نکاح میں تمہاری مرضی شامل ہے یا نہیں؟‘‘ اپنے وجود پر اس کی گرفت ڈھیلی پاکر اس نے اس سے بچنے کو واش روم کی طرف دوڑ لگانا چاہی تھی کہ وہ اس کی مرمریں کلائی تھام کر سنجیدگی کے لبادے میں لپٹا پوچھ گیا۔
’’نہیں ٗ کیوں کہ آپ کو میں سخت ناپسند کرتی ہوں ٗ نکاح صرف ارحم بھیا کی بات کا مان رکھنے کیلئے کیا ہے۔‘‘ وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی جبکہ وہ ساکت رہ گیا تھا ٗ وہ دوڑ کر واش روم میں بند ہو گئی تو اس کے وہاں ٹھہرنے کا ہر جواز ہی ختم ہو گیا۔
٭٭٭
’’فیصل! میں یہ بات برداشت نہیں کر پا رہا کہ میری کوئی اہمیت نہیں ہے اس کی نگاہ میں اور وہ ارحم… اس کیلئے اتنا اہم ہے کہ اس کی خاطر اس نے مجھ سے نکاح کر لیا ہے۔‘‘ وہ کل رات سے ان دیکھی آگ میں جل رہا تھا اور اپنی جلن اس سے نہ کہتا تو پھر کس سے کہتا؟
’’جب تو میری خاطر اپنی محبت سے دستبرداری قبول کرنے کو تیار ہو سکتا ہے ٗ کسی کے سامنے جھک کر معافی مانگنے کیلئے رضا مند ہو سکتا ہے تو حنین کیوں اپنے دوست کا اپنی دوستی کا مان نہیں رکھے گی؟‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں ارحم کیلئے ناپسندیدگی محسوس کر چکا تھا اور اس وقت جو اس کی آنکھوں میں تھا اسے ختم کرنے کو ضروری تھا کہ وہ اس کیلئے کوئی راہ نہ چھوڑتا۔
’’’’مطلب کیا ہے تیری بات کا؟‘‘ الجھ کر ہر غصہ بھلا کر اسے دیکھا تھا۔
’’مطلب صاف ہے مگر تو سچائی نہیں دیکھ سکتا کیونکہ تیری نگاہ پر تو شک کی پٹی بندھنے لگی ہے۔‘‘ نہایت خفگی سے بولا تھا۔
’’میں جانتا ہوں اسی شک کے کیڑے کے سبب تو نے اس دن شاپنگ مال میں سین کری ایٹ کیا تھا‘ مگر تم یہ مت بھولو کنعان! کہ ارحم بھائی اور حنین کے درمیان رشتہ داری ہے لیکن ان کی دوستی ہر رشتے سے بڑھ کر ہے تم فضول میں رشتوں کو داغدار نہ کرو کہ اپنے شک کے چلتے تم ان کی محبت کو محض غلط معنی ہی پہنا سکتے ہو اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ ماہ کنعان کی باتیں‘ اس کا عمل، فیصل جیسے کول مائنڈڈ بندے کو لمحے لمحے میں ہائپر کر دیتا تھا۔
’’شک نہیں کر رہا ٗ مگر میں اس کیلئے بہت پوزیسیو ہوں ٗ اس کو ہوا بھی چھو لے تو مجھے برا لگتا ہے تو ارحم تو پھر جیتا جاگتا وجود ہے۔‘‘ وہ بے بسی سے کہہ اٹھا تھا۔
’’اتنی شدت پسندی اچھی نہیں ہے کنعان! اپنے اندر کچھ توازن لائو اور میری ایک بات یاد رکھنا کہ جو تم سوچنے لگے ہو وہ غلط ہے ٗ رشتوں میں ٗ جذبات میں دراڑ آئے ٗ اس سے قبل ہی تم کچھ عقل سے کام لو کیونکہ عقل سے کام لو گے تب ہی سمجھ آئے گا کہ ویسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو کہ جیسے ماہ کنعان اور فیصل ایک دوستی کا نام ہیں اسی طرح حنین اور ارحم بھی دوستی کی سیپ میں بند سچے دوست ہیں اور دوستوں پر شک کیا ٗ بعد میں شک غلط ثابت ہو گیا تو بہت پچھتائو گے ٗ اس لئے ابھی ہی آنکھیں کھول لو۔‘‘ وہ لفظ لفظ پر زور دیتا ٗ نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہتا اس کیلئے سوچوں کے کئی در کھولتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔
٭٭٭
’’فیصل! آپ سو جائیں ٗ میں نے ابھی اسائمنٹ بنانا ہے۔‘‘ وہ مصروف سے انداز میں کہتی اسے غصہ ہی تو دلا گئی تھی۔
’’دن بھر کیا کرتی رہتی ہو ٗ پڑھنے کا ٗ اسائمنٹ بنانے کا خیال تمہیں رات گئے ہی کیوں آتا ہے؟‘‘ وہ کڑے تیوروں سے پوچھتا اسے گڑبڑانے پر مجبور کر گیا تھا۔
’’زرمین بھابی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ٗ اس لئے میں میں کچن میں پھپھو کے ساتھ مصروف تھی۔‘‘ صفائی دی تھی۔
’’یہ تو آج کی بات ہے ناں ٗ لیکن تمہارا تو روز کا ہی یہ مسئلہ ہے ٗ یہ مت بھولو کہ تمہاری شرطیں مان رہا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم میری نرمی سے فائدہ اٹھانا شروع کر دو۔‘‘ وہ تیکھے انداز میں بولا تھا کہ وہ زیادہ تر تو میکے میں رہتی تھی اور گھر پر ہوتی تو صرف وہ ہوتی تھی اور اس کی کتابیں کہ اس سے بدلہ لینے اسے تنگ کرنے کیلئے وہ جان کر اس کے آفس سے آنے کے بعد اور خاص کر رات گئے پڑھائی کرتی تھی۔ مگر وہ یہ سب کافی عرصے برداشت کرنے کے بعد آج پھٹ پڑا تھا تو اسے اندازہ ہوا تھا کہ وہ اتنا بے وقوف نہیں تھا جتنا اس نے سمجھ لیا تھا۔
’’آئندہ یونیورسٹی کا کام آپ کی غیر موجودگی میں کر لیا کروں گی ٗ فی الحال اسائمنٹ بنانا ضروری ہے ٗ اس لئے آپ…!‘‘ وہ اس کے غصے سے خائف ہوتی منمنا کر بولنے لگی تھی کہ وہ ٹوک گیا۔
’’اس مہربانی کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ ناراضی سے کہتا سونے کیا لیٹا اس کو مضطرب کر گیا تھا۔
’’آئی ایم سوری ٗ میں اپنی تمام شرطیں واپس لیتی ہوں اور پکا پرامس ٗ پڑھوں گی بھی دل سے ٗ محنت کرکے۔‘‘ اسائمنٹ بنانا لازمی تھا کہ اس نے اب تک اپنی ازلی سستی کے سبب نہیں بنایا تھا آج کل ٗ آج کل کرتے لاسٹ ڈیٹ سر پر آ گئی تھی مگر اس کے ناراض ہونے کے بعد اس سے کہاں ایک لفظ بھی لکھا گیا وہ کچھ ہی دیر میں اس کے برابر دراز ہو گئی تھی اور جیسے ہی اس نے ناراضی کے اظہار کیلئے اس کی طرف سے منہ پھیر کر کروٹ لی اس کے آنسوئوں کو بہنے کا راستہ مل گیا اور وہ اس کے بہت قریب جاتی ٗ شانے پر سر ٹکاتی نم لہجے میں بول گئی تھی ٗ مگر اسے منانا بھی کون سا آسان تھا کہ وہ روٹھتا ہی نہ تھا اور روٹھ جاتا تو اسے مناتے اسے دانتوں پسینہ آ جاتا تھا۔
’’میری جان چھوڑ کر اپنا اسائنمنٹ بنائو کہ جانتا ہوں کل سبمیشن کی لاسٹ ڈیٹ ہے۔‘‘ اسے دور کرتا سنجیدگی سے کہہ گیا تھا۔
’’مجھے نہیں بنانا ٗ کتابوں کے ساتھ مجھے سر کھپاتے برداشت نہیں کر سکتے ہیں تو اس مصیبت میں پھنسایا ہی کیوں؟‘‘ وہ سوں سوں کرنے لگی تھی۔
’’اب آئی نا بلی تھیلے سے باہر ٗ بچہ نہیں ہوں جو تمہارے رویے اور فضول شرطوں کو نہ سمجھتا مگر ڈھیل دیتا رہا ٗ آج تو ڈرامہ اس لئے کیا تاکہ تم یہ اعتراف خود اپنے منہ سے کرو۔‘‘ وہ یکدم ہی شرمندہ ہو گئی تھی۔
’’تم دن میں پڑھو یا رات میں ٗ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ٗ مگر مجھے ستانے کو تم فضول میں اپنی نیند برباد کرتی رہتی ہو اور یہی نہیں چاہتا میں کہ تم کتابیں سامنے کھول کر اونگتی رہو ٗ اس لئے کل سے میں خود تمہیں پڑھایا کروں گا۔‘‘ آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا وہ ایسی حالت میں پھنسی تھی کہ رونا تک بھول گئی تھی۔
’’آپ انتہائی برے ہیں فیصل! میں آپ کی شکایت ڈیڈی سے کروں گی۔‘‘ روہانسی ہو کر دھمکیوں پر اتری تھی۔
’’میں کتنا برا ہوں ٗ اچھے سے جانتا ہوں ٗ اس وقت تو مجھے نیند آ رہی ہے ٗ خود بھی سوئو اور مجھے بھی سونے دو اور رہ گیا تمہارا اسائمنٹ ٗ تو وہ میں نے بنا دیا ہے ٗ کل سبمٹ کروا دینا۔‘‘ وہ سنجیدگی سے کہتا اسے خوشگوار حیرت میں مبتلا کر گیا تھا۔
’’تھینک یو سو مچ فیصل! آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘ وہ خوش ہو کر سرشاری سے بولی تھی۔
’’کبھی اپنی زبان پر قائم نہ رہنا۔‘‘ اسے قریب کرتے ہوئے چھیڑا تھا وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
’’پکا والا وعدہ اب پورے دل اور لگن سے پڑھائی کروں گی۔‘‘ وہ اتنے عرصے میں حقیقتاً آج دل سے کہہ رہی تھی۔
’’سوچ لو اب کہ وعدہ توڑا یا کوئی بچکانہ حرکت کی تو میرے ہاتھوں ضائع ہو جائو گی۔‘‘ وہ مصنوعی رعب سے بولا تھا ٗ مگر اب کے اس نے دل سے پوری ایمانداری سے اس سے وعدہ کر لیا تھا۔
٭٭٭
’’اپنے سسرال میں آکر تمہیں کیسا لگ رہا ہے؟‘‘ وہ نکاح کے بعد پہلی دفعہ ’’ماہ ولاز‘‘ آئی تھی کہ ان لوگوں کے ایگزامز ہونے والے تھے ٗ ان چاروں نے کمبائن اسٹڈی کا پلان بنایا اور اس پر عملدرآمد ہوتا رہا اور آج ماہ لاج کے گھر اسٹڈی کرنا تھی ٗ اس نے کنی کترانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ماہ لاج نے بھی منوا کر ہی دم لیا تھا۔ اس کے انکار پر اس نے ساجدہ سے بات کی تھی ٗ ان لوگوں کو یہ بات مناسب نہیں لگ رہی تھی ٗ مگر اجازت دے دی تھی کہ اس میں کوئی حرج بھی نہیں تھا اور وہ تو پہلے ہی نروس تھی ٗ اندر ہی اندر اس کے سامنے کا سوچ کر ہی خوفزدہ تھی ٗ ماہ لاج کی شرارت پر سرخ پڑگئی تو وہ تینوں اس کی نروسنس سے محظوظ ہوتیں اوہ… اوہ… کرکے اسے مزید کنفیوژ کرنے لگیں اور رہی سہی کسر کچھ دیر میں ملازمہ جب ماہ لاج کے کہنے پر نکاح کی تصاویر لے کر آئی تب پوری ہو گئی کہ وہ لوگ ایک ایک تصویر پر تبصرہ کرتیں اسے چھیڑ رہی تھیں کہ وہ گلابی کاٹن کے سوٹ میں حیا سے سرخ پڑتی اتنی دلکش لگ رہی تھی کہ انہیں اسے ستانے میں مزہ آ رہا تھا ٗ وہ خاموشی سے بس انگلیاں مروڑ رہی تھی یا لب کچل رہی تھی اور نان اسٹاپ بولنے والی حنین کی خاموشی سے وہ تینوں حظ اٹھا رہی تھیں۔
’’قسم سے سب سے حسین یہ تصویر ہے۔‘‘ اس نے البم سے تصویر نکال کر اس کے سامنے کی تھی ٗ بلاشبہ وہ ایک حسین تصویر تھی جس میں وہ بے یقینی سے ماہ کنعان کی طرف دیکھ رہی تھی اور وہ اس کے سامنے دو زانوں بیٹھا اسے پازیب پہنا رہا تھا۔
’’تم بڑی چالاک ہو ٗ میری آنکھوں کے سامنے میرے ہینڈسم لالہ جان کو اپنا بنا لیا اور مجھے پتہ تک نہیں چلا۔‘‘ ماہ لاج کی آواز پر اس کی محویت ٹوٹی اور وہ نظر جھکا گئی۔
’’لیکن مجھے تو اسی دن شک ہو گیا تھا ٗ کنعان بھائی اس کیلئے کس قدر متفکر ہو گئے تھے اور کیسے کسی کا بھی خیال کئے بغیر اسے بانہوں میں اٹھا کر اپنے کمرے میں لے گئے تھے۔‘‘ سمیرا بڑے مزے سے معنی خیز لہجے میں بولی تھی اور اس نے بہت چونک کر حیرانگی سے سمیرا کو دیکھا تھا اس کے لبوں پر گہری ہوتی معنی خیز مسکراہٹ وہ بے چینی سی محسوس کرتی نظر چرا گئی تھی۔
’’بے چاری بے ہوش تھی ناں ٗ اس لئے ان حسین لمحوں کو محسوس نہیں کر سکی تھی۔‘‘ ماہ لاج ہنستے ہوئے بولی تھی۔
’’شٹ اپ… اب تم لوگوں نے کوئی بکواس کی تو میں اپنے گھر واپس چلی جائوں گی۔‘‘ وہ نئے انکشاف پر نہ صرف حیران تھی بلکہ شرم سے کٹ کر رہ گئی تھی ٗ ان تینوں کی نظریں اور باتیں وہ روہانسی ہو گئی اور بے چینی سی محسوس کرکے ماہ لاج کو ٹوکا ہی تھا کہ اسی وقت نک سک سے تیار بلیک پینٹ کوٹ ٗ وائٹ شرٹ اور بلیک ٹائی لگائے خوشبو بکھیرتا وہ چلا آیا۔ اس نے ناک تک پہنچنے والی خوشبو کے سبب چونک کر سر اٹھایا وہ اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت میں گھرا جی جان سے اس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ وہ دو چار قسم کے امپورٹڈ پرفیوم استعمال کرتا تھا ان میں سے ایک وہی تھا جو ارحم مستقل مزاجی سے یوز کرتا تھا اور اسی لئے وہ نکاح کی شام بھی غلط فہمی کا شکار ہوئی تھی اور آج بھی چونک اٹھی تھی ٗ ان سب کی باتوں کے بعد اس کے سامنے نے اسے بے حد و بے حساب پر حیاء سا حجاب عطا کر دیا تھا ٗ وہ گھبرا کر کھڑی ہو گئی اور اس کا ایک دم کھڑا ہونا وہ تینوں ہی دبی دبی ہنسی ہنس دی تھیں۔
’’مجازی خدا کی اتنی عزت۔‘‘ ماہ لاج اس کے قریب ہی صوفے پر بیٹھی شرارت سے بولی تھی اس کا چہرہ مزید سرخ ہوتا جھک گیا جبکہ بہن کی شرارت پر اس کے عنابی لبوں کو تبسم چھو گیا مگر سمیرا پر نظر پڑتے ہی وہ سنبھلا اور احترام بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا سنجیدگی سے اس سے حال احوال پوچھنے لگا۔
’’ہمارے سامنے بات نہیں کرنا چاہ رہیں تو ہم چلے جاتے ہیں۔‘‘ اس کے سلام تک نہ کرنے پر لاج نے چوٹ کرتے ہوئے شرارتاً کہا تھا اور اس کی ہمت جواب دے گئی ٗ آنسو پلکوں سے ٹوٹتے شربتی رخساروں پر لڑھکتے چلے گئے اور وہ اس کی طرف ایک بار پھر متوجہ ہونے پر مجبور ہو گیا۔ گلابی کاٹن کے سوٹ میں وہ متناسب سراپے کے ساتھ لانبے بالوں کی پونی ٹیل بنائے حیا سے سرخ پڑتی بے تحاشہ حسین لگ رہی تھی کئی بار دل کی سرزمین پر جاگنے والی خواہش نے پھر انگڑائی لی تھی مگر وہ اس کے آنسو چننے کی خواہش کو تھپکی دیتا ایکسکیوز کرکے چلا گیا کہ وہ بہنوں اور بھابی کی موجودگی میں نظر و دل کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتا تھا جبکہ نکاح کی شام بدمزگی سے ہونے والے سامنے کے بعد آج کافی دن بعد وہ نظر آئی تھی ٗ اس کا دل تو کر رہا تھا کہ وہ یوں ہی کھڑا اس کو دیکھتا رہے ٗ لیکن وہ آفس کیلئے نکل گیا اور ان لوگوں نے اس کا موڈ آف ہوتے دیکھ کر موضوع بدلا اور توجہ سے پڑھائی کرنے لگیں۔ ماہ لاج کے پیرنٹس آئوٹ آف کنٹری تھے ٗ ان چاروں نے صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک دلجمعی سے پڑھائی کی اور کھانا کھا کر آرام کرنے لگیں ٗ وہ تینوں تو دوپہر میں سونے کی عادی تھیں اس لئے سو گئی تھیں ٗ مگر وہ عادت ہونے کے باوجود نئی جگہ پر ان کمفرٹ فیل کرنے کی وجہ سے نہیں سو سکی تھی ٗ وہ بور ہو رہی تھی کہ اس کا سیل وائبریٹ کرنے لگا ور وہ ارحم کا نمبر دیکھ کر مسرور ہوئی ٗ ان تینوں کی نیند خراب نہ ہو اس لئے روم سے باہر آ گئی ٗ مگر کال یس کرنے سے قبل اسے کچھ یاد آیا تو اس نے لائن ہی کاٹ دی ٗ ارحم کا دوسرے شہر میں تبادلہ ہو گیا تھا مگر وہ اس سے ناراض تھی اس لئے جب وہ جا رہا تھا ملنے آیا تب بھی بات نہیں کی تھی کہ اس کی اور ارحم کی لاسٹ ٹائم اسی دن بات ہوئی تھی جب اس نے نکاح کیلئے رضا مندی ظاہر کی تھی اور اس بات کو اب ڈھائی ماہ ہونے والے تھے سیل فون مستقل وائبریٹ کر رہا تھا اور اسکرین پر بلنک ہوتا ’’ارحم بھیا‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے تھے ٗ مگر اس نے بہت چاہنے کے باوجود کال ریسیو نہیں کی ٗ اس نے لائونج میں بے چینی سے ٹہلتی اور بار بار جھلملاتی آنکھوں سے سیل فون کی اسکرین کو دیکھتی حنین کو حیرت سے دیکھا تھا اور اس کی بے چینی اسے بھی بے چین کر گئی ٗ نظروں کا ارتکاز سا محسوس کرکے اس نے ٹھہر کر نگاہ اٹھائی اور اسے دیکھ کر تو اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ٗ ہاتھ سے سیل فون چھوٹا اور یکدم مارے بے یقینی و دکھ کے اس کی آنکھیں پھیل گئیں ٗ اس نے بڑی بے قراری سے جھک کر سیل فون اٹھا لیا ٗ اسکرین پر پڑ جانے والا اسکریچ‘ ٹوٹ جانے والا کور ٗ وہ بے اختیار رونے لگی تھی۔
’’حنین! اتنے سے موبائل کے ٹونے پر اس طرح تو مت روئو۔‘‘ اس سے چند قدموں کی دوری پر رکتا نہایت نرمی سے بولا تھا۔
’’یہ آپ کے نزدیک اتنا سا موبائل ہو گا ٗ مگر میرے لئے کتنا اہم تھا ٗ آپ کو کیا معلوم۔‘‘ وہ روتے ہوئے اس کو ناپسندیدگی سے دیکھتے ہوئے بولی تھی اور وہ حیرت زدہ رہ گیا تھا۔
’’یہ میری لائف کا فرسٹ موبائل تھا جو ارحم بھیا نے مجھے دیا تھا اور جو صرف آج آپ کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے۔‘‘ وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے بول رہی تھی ٗ اس نے لب بھینچ لئے۔
’’آپ جب جب میرے سامنے آتے ہیں ٗ میرا کوئی بڑا نقصان کر دیتے ہیں ٗ کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا ٗ جو آپ یوں مجھے تکلیف دینے میں راحت محسوس کرتے ہیں؟‘‘ وہ اس کوناگواری و بدگمانی سے دیکھ رہی تھی۔
’’میں کس بات ٗ کس چیز میں راحت محسوس کرتا ہوں ٗ کاش کہ تم یہ سمجھ پاتیں۔‘‘ وہ سرخ آنکھوں سے اس کو بلکتے دیکھ کر دل میں اٹھتے درد سے گھبرا کر بولا تھا۔
’’میں سمجھنا بھی نہیں چاہتی ٗ آپ کیلئے بہتر ہوگا کہ آپ مجھ سے دور رہیں ٗ مجھے ڈسٹرب نہ کریں۔‘‘ اس کے لہجے میں واضح اس کیلئے ناپسندیدگی تھی۔
’’یہ تمہاری خام خیالی ہے کہ میں تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گا۔‘‘ وہ اس کے چہرے پر نظریں گاڑے قدرے برہمی سے بولا تھا ٗ حنین نے اس کے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھا جو ضبط سے سرخ ہونے لگا تھا اور پھر نگاہ چرا لی۔
’’اور تم مجھ سے کتنا ہی فرار حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہ کر لو ٗ تمہارے سارے راستے پھر بھی آکر مجھ پر ہی رکیں گے۔‘‘ وہ اس کے بہت نزدیک آن کھڑا ہوا تھا ٗ وہ بے اختیار پیچھے ہونے لگی تھی کہ اس نے اسے شانوں سے تھام لیا تھا اس نے بے حد ہراساں ہو کر اس کی جانب دیکھا تھا کہ وہ پہلی ملاقات تو کیا نکاح کی شام کی اس کی بے باکیاں اور جسارتیں بھی بھولی نہ تھی اور اسی لحاظ سے بے چین ہوئی تھی۔
’’میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں حنین! اور پلیز تم اپنی ہر ناراضی بھلا دو ٗ ہر بدگمانی دور کر لو کیونکہ تمہاری آنکھوں میں ٗ میں اپنا عکس محبت سے لہراتے دیکھنا چاہتا ہوں ٗ تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے ناپسندیدگی ٗ ناگواری اور اپنی طرف سے خوف نہیں دیکھ سکتا کہ ہمارے درمیان اب تک جو ہوا وہ غلط تھا ٗ میں اپنی ہر غلطی ایکسپٹ کرتا ہوں ٗ تمہیں ہرٹ کرنے کی معذرت چاہتا ہوں ٗ سوری فار ایوری تھنگ!‘‘ وہ نہایت نرمی اور جذبوں سے چور لہجے میں اسے شانوں سے تھامے کہہ رہا تھا اس نے اس کے الفاظ سنے ضرور مگر خوف کے سب محسوس نہیں کیے تھے اور اسے پیچھے دھکیلتی فاصلے پر ہو گئی تھی۔
’’آپ کے معذرت کرنے سے میری تکلیفیں دور نہیں ہو سکتیں ٗ آپ نے مجھے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ٗ آپ کی بے باکیوں نے مجھے عجیب سے ہراس میں مبتلا کر دیا ہے ٗ آپ کی وجہ سے میں اپنی آپی کی شادی انجوائے نہیں کر سکی ٗ صرف آپ کی وجہ سے میری بندیا گھومی تھی ٗ آپ کی وجہ سے میرا پیر زخمی ہوا تھا اور آپ ہی تھے جس نے میرا ہاتھ توڑ دیا تھا ٗ آپ ہی تھے جس سے ڈر کر میں خود کو زخمی کر گئی تھی اور آج تک درد برداشت کر رہی ہوں اور آپ ہی ہیں وہ جس نے مجھے میرے ارحم بھیا سے دور کر دیا ہے۔‘‘ وہ اس کو منہ کھولے بے یقینی سے سسکتے ہوئے کہتے سن رہا تھا۔
’’ڈھائی ماہ سے میں نے اپنے ارحم بھیا سے بات نہیں کی ٗ مگر آپ کو میری تکلیف کا احساس نہیں ہوگا کہ آپ کبھی اپنے فادر سے دور نہیں ہوئے ٗ کبھی آپ کی بہن آپ سے ناراض نہیں ہوئی کبھی آپ کے دوست، فیصل بھیا نے آپ سے بات کرنا نہیں چھوڑی ٗ مگر میں صرف آپ کی حمایت کرنے کے سبب ٗ آپ کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے اپنے ارحم بھیا ٗ اپنے بیسٹ فرینڈ سے ناراض ہو گئی ہوں اور جب آپ کے سوری کرنے سے نہ گزرا وقت لوٹ کر آ سکتا ہے نہ میری تکلیفیں دور ہو سکتی ہیں نہ ارحم بھیا اور میرے درمیان دَر آنے فاصلے دور ہو سکتے ہیں تو میں کیوں آپ کی سوری ایکسپٹ کروں؟ نہیں کرنا مجھے آپ کو معاف کیونکہ آپ مجھے بہت برے لگتے ہیں۔‘‘ اس کے رونے میں بدستور اضافہ ہوا تھا جبکہ وہ مسکرا دیا تھا کہ اس کی غلط فہمی جو اس نے دور کر دی تھی اور وہ اپنے اندر سکون اترتا محسوس کرنے لگا تھا ٗ اس کا رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ وہ اگر ابھی اس کو معاف کرنے کو تیار نہیں ٗ اس کی سننے کو نہیں تیار مگر وہ وقت آنا ضرور تھا جب ویسا ہونا تھا ٗ جیسا وہ چاہتا تھا جبکہ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر وہ اس سے مزید بدگمان ہو گئی تھی ٗ وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ وہ تینوں آگے پیچھے لائونج میں داخل ہوئی تھیں اور وہ وضاحت نہیں کر سکا تھا ان کی آمد پر لب بھینچ گیا تھا اور جبکہ ان تینوں کو ہی اس کو روتے دیکھ کر تشویش ہونے لگی تھی وہ کچھ کہتی کہ اس نے اس کے رونے کے جواز کے طور پر موبائل ٹوٹنے کی کہانی سنا ڈالی تھی ٗ ماہ لاج متحیر ہوئی تھی لیکن ان دونوں کو حیرت نہ ہوئی تھی بلکہ سحرش اسے آگے بڑھ کر تسلی دینے لگی تھی کہ وہ جانتی تھی کہ ارحم اور اس سے وابستہ ہر چیز اس کیلئے کس قدر اہم تھی جبکہ وہ آج پھر اس کی بدگمانی دور کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کرتا بوجھل دل میں ملال لئے وہاں سے نکل گیا تھا مگر ارحم کو لے کر جس شک کا شکار تھا آج وہ اس نے خود ہی زائل کرکے اسے مطمئن کر دیا تھا۔
٭٭٭
میں اور آپا بیگم مارکیٹ تک جا رہے ہیں ٗ تمہیں کچھ منگوانا ہے تو بتا دو۔‘‘ وہ اکیلے ہی لان میں گھاس پر بیٹھی کسی قدر اداس اپنی ہی سوچوں میں مگن تھی کہ ماں کی آواز پر چونکی تھی ٗ اس کا متورم چہرہ اور اداسی دیکھ کران کا دل کٹ کر رہ گیا کیونکہ کافی عرصے سے وہ اس کی خاموشی تو محسوس کر رہی تھیں ٗ انہیں وہ ڈسٹرب لگتی تھی مگر ان کے لاکھ پوچھنے پر بھی کچھ بتاتی نہیں تھی ٗ مگر اب نکاح کے بعد تو اس کی خاموشی اور اداسی بڑھ گئی تھی اور اپنی چہکتی مینا کی خاموشی و آزردگی ان کو کیسے بے چین کر رہی تھی یہ تو بس وہی جانتی تھیں۔
’’تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘ وہ اندر جانے لگی تھی کہ وہ بیٹی سے بے حد پریشانی سے پوچھنے لگی تھیں اور ہاتھ بھی تھاما تھا تب انہیں احساس ہوا تھا کہ اسے بخار ہے۔
’’تمہیں تو بخار ہے ٗ بتایا کیوں نہیں مجھے؟‘‘ وہ بے چینی سے اس کے سرخ چہرے کو دیکھ رہی تھیں۔
’’میں ٹھیک ہوں ممی!‘‘ وہ ہاتھ چھڑا کر اندر چلی گئی تھی۔
’’مامی! آپ یہاں ایسے کیوں کھڑی ہیں؟‘‘ مائدہ ان تک آئی تھی اور انہوں نے نم لہجے میں اس کے عجیب و غریب رویے کا بتایا تھا۔
’’نکاح کے بعد سے تو بالکل ہی بجھ کر رہ گئی ہے ٗ کھانے پینے کی طرف بھی توجہ نہیں دیتی ٗ ابھی بھی اسے بخار ہے ٗ ہم سے کوئی بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے ٗ ہم نے حنین کی زندگی کا غلط فیصلہ کر دیا ہے۔‘‘ وہ مائدہ سے دل کی بات کہنے لگی تھیں۔
’’ایسا نہیں ہے مامی! بے شک ہم نے کنعان بھائی کے دبائو میں آکر یہ فیصلہ لیا ہے ٗ مگر کنعان بھائی اچھے انسان ہیں ٗ حنین سے محبت کرتے ہیں ٗ ارحم بھیا اور فیصل بھائی نے ان کی گارنٹی دی ہے ٗ وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ حنین کو تو جانتی ہیں مزاج اور پسند کے تو خلاف تو کبھی ایک تنکا نہیں لیا اور ایسا شخص جو اسے ناپسند ہے اسی کا شریک سفر بن جانا ٗ وہ ایکسپٹ نہیں کر پا رہی ٗ مگر وقت کے ساتھ کر لے گی کیونکہ کنعان بھائی اپنی محبت سے اس کا دل جیت لیں گے۔‘‘ وہ نرمی سے بول رہی تھی کہ اس نے اس شخص کی آنکھوں میں حنین کیلئے بہت سچے جذبات محسوس کئے تھے ٗ راشدہ کے آ جانے پر وہ بوجھل دل کے ساتھ بیٹی کی خوشیوں کیلئے دعا کرتیں بہن کے ساتھ چل پڑی تھیں اور وہ اندر بڑھتی کہ چوکیدار نے اسے ایک گفٹ پیک لا کر دیا جو کوریئر کے ذریعے حنین کیلئے بھیجا گیا تھا اور بھیجنے والا کوئی اور نہیں خود سے بھی خفا اور اس شخص سے بھی خفا لڑکی کا شریک سفر ماہ کنعان عابدی تھا۔ اس کے لبوں نے مسکراہٹ کو چھو لیا اور وہ اپنے مزاج اور عادت کے برخلاف پورے جوش سے حنین کو پکارنے لگی تو وہ اپنے کمرے سے نکل کر وہاں چلی آئی۔
’’یہ کیا ہے مائدہ اپیا؟‘‘ وہ گفٹ لئے بغیر سوال کر رہی تھی۔
’’کھول کر دیکھو گی تو پتہ چلے گا کہ تمہارے کنعان صاحب نے گفٹ دینے کی ابتدا ہی خوبصورت انداز میں کی تھی ٗ اب تو محض اس کو آگے بڑھانے کا سب سے آسان طریقہ اپنا کر گفٹ کوریئر کر دیا ہے۔‘‘ وہ شرارت سے بولی تھی اور وہ سنجیدہ سی مائدہ کو حیرت سے دیکھنے لگی تھی۔
’’یار! مجھے ہی دیکھتی رہو گی ٗ پکڑو اپنا گفٹ اور کھولو ٗ میں بھی تو دیکھوں انہوں نے اتنے پیار سے تمہیں کیا بھیجا ہے؟‘‘ اس نے مسکرا کر زبردستی وہ گفٹ پیک اسے تھمایا تھا۔
’’مجھے نہیں کھولنا ٗ مجھے ان سے کوئی گفٹ نہیں لینا ہے ٗ آپ اسے اٹھا کر پھینک دیں۔‘‘ وہ ضبط کے کڑے مرحلوں سے گزرتی بولی تھی۔ مائدہ نے ایک نظر اس کے سرخ چہرے پر ڈالی اور اس کے ہاتھ سے نہ صرف گفٹ پیک لیا بلکہ ایک ہاتھ میں اسے سنبھالتی دوسرے سے اس کی کلائی تھامتی صوفے تک اسے لے گئی تو وہ بھی خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’کسی بھی انسان سے محبت اور نفرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی یہ دونوں احساس ذہن و دل میں کیوں سما جاتے ہیں یہ آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا۔‘‘ وہ نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی تو وہ اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی۔
کنعان بھائی کو ناپسند کرنے کا ہو سکتا ہے تمہارے پاس کوئی سبب ہو یا پھر وہی بے سبب احساس کہ انسان سے محبت ہو جائے تو اس میں کوئی برائی نہیں ٗ نفرت ہو جائے تو اس میں کوئی اچھائی ہی نہیں ہے۔‘‘ اس نے یکدم نظر چرا لی کہ اس کی تمہید اسے اب سمجھ آئی تھی۔
’’لیکن حنین کوئی بھی احساس حرف آخر کی طرح نہیں ہوتا ٗ محبت میں اتار چڑھائو آتے ہیں ٗ محبت میں شدت نہ آئے تو وہ محبت اور شدت آ جائے تو عشق اور نفرت ٹھہری رہی تو ایک احساس ٗ بڑھے تو انتقام اور میں جانتی ہوں تم کسی سے نفرت نہیں کر سکتیں ٗ ماہ کنعان عابدی صرف تمہیں ناپسند ہے اور وقت کے ساتھ ناپسندیدگی ٗ پسند میں بھی بدل سکتی ہے کیونکہ پسند ایک نارمل سا احساس ہوتا ہے جس میں شدت اتنی نہیں ہوتی کہ تبدیلی کی گنجائش نہ ہو۔‘‘ وہ کچھ دیر کیلئے رکی تھی۔
’’اور کچھ رشتوں میں بہت گنجائش ہوتی ہے ٗ تمہارے دل میں زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر دیر سویر سے ناپسندیدگی کے جذبات نکل جائیں گے مگر یاد رکھنا حنین! کہ وقت گزر جائے تو سب بے کار ہوتا ہے کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس (قبا) کہا گیا ہے ٗ دونوں میں کوئی امتیاز نہیں ہوتا مگر ایک دفعہ گرہ لگ جائے تو وہ کھلتی نہیں ہے ٗ کنعان بھائی تم سے محبت کرتے ہیں اور محبت کے مقابلے میں نفرت ایک خراب منفی احساس ہے اور جب تمہیں اب زندگی کنعان بھائی کے ساتھ ان کے حوالے کے ساتھ گزارنی ہے تو تم اپنے احساسات کو فراموش کر دو کہ تمہارے احساسات ان کے احساسات کے مقابلے میں منفی ہیں اور منفی چیز کے اثرات بھی منفی ہوتے ہیں ٗ کچھ وقت گزرے گا تم پر ان کی اچھائیاں کھلیں گی تم قبول کر لو گی مگر اتنے عرصے میں اگر ان کا دل خراب ہو گیا ٗ مثبت جذبے ٗ منفی روپ دھار گئے تب کیا کرو گی؟ اس لئے زندگی سے سمجھوتہ کرنا سیکھو ٗ کیونکہ میرا ماننا ہے کہ عورت کو قربانی دینی پڑتی ہے ٗ اپنی میں اور انا کی قربانی۔ اپنے احساس ٗ اپنے جذبات کی قربانی ٗ ہاں بس میرا اپنا ماننا ہے کہ اپنے پندار اپنی عزت نفس کی قربانی نہیں دینی چاہئے جبکہ عورت کو یہ سب بھی قربان کرنا پڑتا ہے ٗ زندگی میں ٗ میں نے بہت سی جگہوں پر سیکری فائز کیا ٗ آگے بھی کروں گی کہ عورت میں سے سیکری فائز نکالا ہی نہیں جا سکتا ٗ میں بھی اپنے اندر سے نہیں نکال سکتی لیکن میں اپنی عزت نفس کو کسی موڑ پر قربان نہیں ہونے دوں گی یہ میں نے اپنی زندگی کیلئے سوچا ہے اسی طرح تم بھی اپنی زندگی کیلئے سوچ لو ٗ سمجھ کر فیصلہ کر لو کیونکہ اس طرح زندگی نہیں گزرتی۔‘‘ اس نے بہت دھیمے ناصحانہ انداز میں اسے بہت کچھ سمجھایا تھا۔
’’اپیا! میں ان کے بارے میں اچھا نہیں سوچ پاتی ٗ میں بہت ڈسٹرب ہوں ٗ وہ مجھے اچھے نہیں لگتے اور سب جس طرح ان کے حوالے سے میرے پیچھے پڑ رہے ہیں ٗ بار بار میرے سامنے ذکر کر رہے ہیں تو میرے اندر چڑچڑاہٹ سی جنم لے رہی ہے ٗ پلیز آپ سب مجھے کچھ وقت دیں کہ میں نے نکاح صرف ارحم بھیا کے کہنے پر کیا ہے ٗ اب مجھے ان رشتوں کو خود سے سمجھنے دیں ٗ کچھ موقع دیں کہ میں ابھی اپنے احساسات نہیں سمجھ پا رہی تو ان کے احساسات کیسے سمجھوں؟‘‘ وہ اپنی بے بسی پر رو پڑی تھی۔
’’تم اپنی جگہ درست کہہ رہی ہو ٗ مگر سمجھنے کی ابتدا تو کرنی ہی ہو گی ٗ جو آج ہی کر لو۔‘‘ وہ دھیمے سے مسکرائی اور اس نے اسے گفٹ کھولنے کو دے دیا۔
’’یہ محض گفٹ نہیں ان کے کچھ جذبات ہیں ٗ انہیں محسوس کرنے کی کوشش کرو۔‘‘ وہ گویا اسے اکسا رہی تھی اور وہ راہ فرار نہ پاکر جھنجھلا اٹھی تھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی گفٹ کھولنے لگی تھی۔ اس درمیانے سائز کے ڈبے میں سے تین مختلف سائز کے گفٹ پیک نکلے تھے ٗ اس نے پہلا گفٹ کھولا تھا نہایت حسین نازک ڈائمنڈ کی بندیا تھی ٗ اس نے دوسرے پیک کا ریپر ہٹایا کانچ کی گلابی چوڑیاں دیکھ کر اب اس نے تیسرا پیک کھولا اس کی ہی نہیں مائدہ کی بھی آنکھیں حیرت سے کھل گئی تھیں اور جیسے ہی اس کی حیرت ختم ہوئی وہ غصے سے جھنجھلانے لگی تھی اور مائدہ حیرت سے نکلتی بے ساختہ ہنستی چلی گئی تھی ٗ اسجد جہاں تھا وہیں تھم گیا تھا کہ اس نے پوری زندگی میں پہلی دفعہ اسے ہنستے ہوئے بلکہ بے تحاشہ ہنستے ہوئے دیکھا تھا اور اس کی ہنسی اتنی مترنم تھی کہ اسجد کو وقت کی دھڑکن رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
’’اوہ مائی گاڈ! یہ پین کلر ٗ بینڈیج اور خون کی بوتل ٗ کنعان بھائی نے تمہیں گفٹ کی ہے ٗ مگر کیوں؟‘‘ وہ بے تحاشہ ہنستے ہوئے کہتی آخر میں سوال بھی کر گئی تھی اور اسے ایک لمحہ لگا تھا سب سمجھنے میں کہ اس نے اپنے جتنے نقصانات گنوائے تھے اس میں سے اس نے ان ہی نقصانات کو پورا کرنے کی حامی بھری تھی جبکہ بندیا اور چوڑیوں تک تو ٹھیک تھا ٗ پین کلر ٗ بینڈیج اور خون کی بوتل تک اس نے بھیج دی تھی اس نے تپے تپے انداز میں اپنے مخصوص انداز میں اسے کل کی بات بتا دی تھی۔ اسجد کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی تھی جبکہ وہ بے تحاشہ ہنسنے کے سبب اب اپنے آنسو دوپٹے میں جذب کر رہی تھی۔ اس نے غصے سے تمام چیزیں سائیڈ میں کیں اور جانے کو کھڑی ہو گئی تب ہی لینڈ لائن نمبر پر کسی کی کال آنے لگی ٗ مائدہ نے لب بھینچ کر اسجد کی طرف دیکھا جو فون پر بات کر رہا تھا۔
’’حنین! تمہارا فون ہے۔‘‘ اسجد سے ڈانٹ ہی نہ پڑ جائے اس خیال سے وہ بڑی فرمانبرداری سے فون سیٹ کی طرف بڑھی تھی ٗ اسجد نے ایک نظر اس پر ڈالی جس کا گلابی چہرہ اناری ہو رہا تھا ٗ آنکھوں کی سطح گیلی تھی ٗ وہ دھانی رنگ کے شلوار سوٹ میں ہر آرائش سے پاک اپنے اندر کی سچائی اور پاکیزگی کے سبب انتہائی حسین اور پر نور لگی تھی اس کی نگاہ وہ خود پر محسوس کرتی عجیب سے احساس میں گھرتی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی کہ وہ اس کی زندگی کا کوئی چور لمحہ نہیں بننا چاہتی تھی اپنا ہر حق ٗ عزت و مان کے ساتھ پانا چاہتی تھی ٗ اسجد نے اپنے اندر غصے کی لہر سی دوڑتی محسوس کی تھی اور وہ الٹے قدم گھر سے واپس نکل گیا تھا۔
’’ہیلو!‘‘ اس نے ریسیور اٹھاتے ہی کہا تھا۔
’’حنین! تمہیں گفٹ پسند آئے؟‘‘ وہ اس کے آتشی مزاج سے واقف تھا اور اسے ڈر تھا کہ وہ اس کی آواز سن کر ہی فون بند نہ کر دے اس لئے ڈائریکٹ وہی پوچھا جس کیلئے فون کیا تھا۔
’’فضول گفٹس کس کو پسند آ سکتے ہیں؟‘‘ وہ غصے اور ناگواری سے کہہ اٹھی تھی جبکہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
’’اوہو… کچھ بھی پسند نہیں آیا جبکہ میں نے ایک ایک چیز بہت دل سے لی تھی اور سوچا تھا کہ تمہارے کچھ نقصانات اور تکلیفیں تو دور کر دوں گا۔‘‘ وہ نہایت معصومیت سے بولا جبکہ وہ اپنی شرارت پر متبسم تھا۔
’’شٹ اپ! آپ ان فضول باتوں اور حرکتوں سے آخر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ غصے سے باقاعدہ کانپ رہی تھی۔
’’صرف یہ کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں ٗ تمہیں تکلیف انجانے میں دی ٗ تمہاری ہر تکلیف دور کرکے تمہارے ہر نقصان کی تلافی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اب کے سنجیدگی سے بولا تھا۔
’’آپ اپنی فضول حرکتوں سے باز آ جائیں ٗ آپ نے میرا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔‘‘ اس نے غصے سے فون پٹخ دیا تھا اس نے لب بھینچ لئے تھے۔ اس کے ستارے ہی گردش میں تھے کہ وہ کچھ اچھا بھی کرتا تو وہ خفا ہی ہوتی تھی۔
٭٭٭
’’ایک بات پوچھوں تم سے؟‘‘ سمیرا اور سحرش دونوں نے آج چھٹی کی تھی ٗ وہ دونوں لائبریری میں بیٹھی تھیں تب وہ ماہ لاج کی بات پر چونک کر کتاب سے نظر ہٹا کر اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’کیا تم اپنے ارحم بھائی سے ناراض ہو؟‘‘ وہ اس کی اجازت ملتے ہی پوچھ بیٹھی تھی۔
’’اوہوں… تھی مگر اب نہیں ہوں کیونکہ کل رات صرف میری وجہ سے ارحم بھیا پنڈی سے آئے تھے۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی تھی کہ ارحم نے اسے منا ہی لیا تھا۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اس بار ارحم نے اسے خود سے نہیں منایا تھا، اچانک کراچی آ کر اسے منانے کے پیچھے کنعان کا ہاتھ تھا کہ اسی نے ارحم کو خودکال کر کے اس سے ریکویسٹ کی تھی اور خودبھی اسے منانا چاہتا تھا اس لیے فوراً آ کر کنعان کا مان رکھ لیا تھا۔
’’لیکن تم ناراض تھیں کیوں؟‘‘ وہ گڑبڑا گئی تھی۔
’’یہ میں نہیں بتا سکتی ٗ مگر تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘ اب گڑبڑانے کی باری لاج کی تھی۔
’’ویسے ہی پوچھ لیا تھا۔‘‘ نگاہ چرا کر بولی تھی۔
’’تم ارحم بھیا کو لائک کرتی ہو؟‘‘ اس کا سوال ماہ لاج کی جان نکال لے گیا تھا۔
’’تم مجھ سے ان کے بارے میں ضرور پوچھتی ہو ناں اس لئے اندازہ لگایا ہو سکتا ہے غلط ہو؟‘‘ وہ اس کی خاموشی سے گھبرا کر وضاحت دینے لگی تھی۔
’’تمہارا اندازہ غلط نہیں ہے۔‘‘ وہ کہہ کر رکی نہیں تھی اور اسے نہ جانے کیوں یہ سن کر بہت اچھا لگا تھا۔
٭٭٭
’’اسجد! میں اس گھر میں بالکل ہی قید ہو کر رہ گئی ہوں۔‘‘ وہ نکھری نکھری سی اداس اس کے سامنے بیٹھی تھی۔
’’کچھ ماہ کی اور پریشانی ہے یار! ڈاکٹرز پرامید ہیں تم انشاء اللہ بہت جلد اپنے پیروں پر چلنے لگو گی۔‘‘ وہ نرمی سے بولا تھا ٗ وہ پچھلے دنوں کافی مصروف رہا تھا اس لئے پورے ایک ہفتے بعد آیا تھا۔
’’اوہوں… لیکن یہاں میرا دم گھٹتا ہے اسجد! میں بالکل تنہا رہ گئی ہوں ٗ کوئی ہمدرد نہیں ہے میرا۔‘‘ وہ رقیق القلب ہوتی رو پڑی تھی کہ بچپن سے جو محرومیاں دیکھی تھیں ٗ جو اکیلا پن جھیلا تھا وہ ہنوز تھا۔
’’میں ہوں ناں تمہارا ہمدرد ٗ تمہارا ساتھی ٗ تمہارا سب سے قریبی رشتہ ٗ تمہارا ہمسفر۔‘‘ وہ اس کی خوبصورت آنکھوں سے گرتے موتیوں پر پریشان ہو اٹھا تھا۔
’’آپ بھی مجھے کب میسر ہوتے ہیں ٗ آپ کو لگتا ہے پاکر بھی نہیں پا سکی ٗ آپ ہفتوں میں چوری چھپے آتے ہیں ٗ اپنا آپ تنکے سے زیادہ ہلکا لگنے لگا ہے ٗ میری کوئی پہچان نہیں رہ گئی ہے ٗ آپ کی بیوی ہوں مگر کس کو پتہ ہے یہ؟ اپنے محرم کے ساتھ بھی چھپ کر ایک گناہ کی طرح رہ رہی ہوں نہ پاکر جتنی تکلیف سہنی پڑتی اس سے زیادہ تو پاکر سہہ رہی ہوں۔‘‘ وہ زار و قطار رو رہی تھی۔
’’یسریٰ! پلیز نہ کرو ایسی باتیں ٗ تمہاری تکلیف کا احساس ہے مجھے ٗ میں خود اذیت میں ہوں لیکن میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ٗ ابو نے میری 75 فیصد جائیداد مائدہ کے نام کر دی ہے ٗ انہیں شادی کا پتہ چلا تو وہ مجھے عاق کر دیں گے اور ایسا ہوا تو میں کیسے خود سروائیو کر پائوں گا؟ کیسے تمہیں سپورٹ کر پائوں گا ٗ میں بہت مجبور ہوں۔‘‘ وہ اس کے آنسو پونچھتا آزردگی سے کہہ رہا تھا ٗ وہ دونوں ہی منجدھار میں پھنسے تھے کہ اپنوں کے خلاف جا کر شادی کرنا نہایت آسان تھا لیکن اپنوں کے سہارے کے بغیر اسے نبھانا بہت مشکل کہ انسان کی آدھی سے زائد پریشانی تو کسی اپنے کے دلاسے سے ہی ختم ہو جاتی ہے اور وہ دونوں اپنوں کے ہوتے ہوئے اکیلے ہو گئے تھے کہ انہوں نے اپنوں کے خلاف جا کر ایک دوسرے کو شریک سفر منتخب کیا تھا اور وہ خوش تھے مگر اپنوں سے دوری کا احساس اس خوشی کو بدمزہ کرتا رہتا تھا۔ وہ بہت کچھ پاکر بھی نہ پانے کی کسک جھیل رہے تھے۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *