Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid NovelR50745 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09
No Download Link
184.6K
24
Rate this Novel
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode01 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode02 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode03 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode04 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode05 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode06 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode07 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode08 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09 (Watching)Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode10 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode11 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode12 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode13 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode14 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode15 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode16 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode17 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode18 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode19 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode20 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode21 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode22 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode23 Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Last Episode
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09
Band Qaba Khulne Lagi Jana by Sadia Abid Episode09
’’اسجد آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ جو ہوا میں نے ایسا نہیں سوچا تھا۔‘‘ ان دونوں کے درمیان کافی دیر سے خاموشی بول رہی تھی جسے گھبرا کر یسریٰ نے توڑا تھا۔
’’سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا یسریٰ! مگر اس کے سوا چارہ بھی نہیں تھا کیونکہ ابو ہماری شادی پر راضی نہیں ہو رہے تھے اور تمہاری شادی ایک بے جوڑ شخص سے ہو رہی تھی اور میں نہیں چاہتا تھا کہ تم جذبات میں آکر کچھ بھی غلط کرو۔‘‘
’’تو آپ نے یہ شادی صرف مجھے کچھ غلط کرنے سے روکنے کی غرض سے کی ہے ٗ مجھے تو لگا تھا کہ میری طرح آپ بھی مجھے کھونا نہیں چاہتے۔‘‘ اس کے لہجے میں افسردگی سی در آئی۔
’’یسریٰ تم ہمیشہ نیگٹیو کیوں سوچتی ہو؟‘‘
’’میں پوزیٹیو نہیں سوچ سکتی ٗ مجھے زندگی میں مثبت ملا ہی کیا ہے جو مجھے کچھ پوزیٹیو لگے گا ٗ زندگی بھر رشتوں کو ان کی محبتوں کو ترسی ٗ ایک واحد آپ ہیں جس نے میرے لبوں پر مسکراہٹ کھلائی اور میں اپنی زندگی کی واحد خوشی و محبت کھونا نہیں چاہتی تھی ٗ آپ کو کھو کر جینے سے بہتر میرے لئے موت تھی ٗ مگر موت بھی مہربان نہیں ہوئی۔‘‘ وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بری طرح رونے لگی اور اسجد سامنے صوفے سے اٹھ کر اس کے برابر آ بیٹھا اور وہ اس کے کاندھے سے لگ کر سسکنے لگی۔
’’آئی ایم سوری اسجد! میں آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی ٗ میں یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ آپ مجھے اپنے پیرنٹس کے خلاف جا کر اپنائیں ٗ مگر میں کیا کرتی ٗ مجھے کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔‘‘ وہ اس کے کاندھے سے لگی رو رہی تھی اسجد کا ہاتھ اس کے سر پر آ ٹھہرا۔
’’پلیز ٗ چپ کر جائو ٗ جو ہوا یہ سب اسی طرح ہونا تھا ٗ اب خود کو ہلکان مت کرو۔‘‘ اسجد نے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے آنسو صاف کئے۔
’’مجھے تو لگتا ہے کہ میری پوری زندگی تمہیں روتے دیکھ کر اور تمہارے آنسو صاف کرتے ہی گزر جائے گی۔‘‘اسے چپ ہوتے نہ دیکھ کر وہ شرارت سے بولا۔
’’آپ زندگی بھر میرا ساتھ تو دیں گے ناں؟‘‘ وہ نم پلکوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’ہاں بھئی! محبت کرتا ہوں تم سے اور اب تم بیوی ہو میری ٗ ہمارا ساتھ آخری سانس تک کا ہے۔‘‘ اس کے ہاتھ تھام لئے۔
’’آپ کے پیرنٹس… جب ان کو ہماری شادی کا پتہ چلے گا…!‘‘
’’ابو کو راضی کرنے کی کوشش تو کر چکا ہوں ٗ اب امی سے بات کروں گا۔‘‘
’’اگر وہ بھی راضی نہ ہوئیں تو؟‘‘ اسے نئی فکر لاحق ہوئی۔
’’یہ باتیں ہم پھر کبھی کر لیں گے۔‘‘ اسے ٹالنا چاہا۔
’’آپ مجھے یہاں کیوں لائے ٗ اپنے گھر کیوں نہیں لے گئے؟‘‘
’’میں تمہیں اچانک نہیں لے جا سکتا تھا یسریٰ۔‘‘
’’آپ مجھے اپنے گھر لے چلیں اسجد! میں آپ کے پیرنٹس کے قدموں میں گر کر…!‘‘
’’یہ پوسیبل نہیں ہے یسریٰ! کیونکہ گھر میں میری شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں ٗ اس طرح تمہیں لے جائوں گا تو بنتی ہوئی بات ہمیشہ کیلئے بگڑ جائے گی ٗ اس لئے مجھے امی سے بات کرنا ہو گی اس کے بعد ہی میں تمہیں وہاں لے جا سکتا ہوں۔‘‘ اس نے گویا کوئی دھماکہ کیا تھا ٗ یسریٰ تو ساکت رہ گئی تھی۔
’’تم پریشان نہ ہو ٗ میں اپنے پیرنٹس سے بات کر لوں گا۔‘‘ اسے ساکت دیکھ کر ہاتھ پکڑ کر دلاسہ دینا چاہا۔
’’اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو آپ… آپ شادی کر لیں گے؟‘‘ وہ اسے دیکھ رہی تھی ٗ اسجد نے اس کا چہرہ دیکھا ٗ خوبصورت چہرے پر سائے سے لہرا رہے تھے۔
’’میں تمہیں دکھی نہ دیکھ سکتا ہوں نہ ہی دکھی کرنا چاہتا ہوں ٗ اسی لئے میں نے تم سے کہا تھا کہ میری منگنی ہو گئی ہے اور تم بھی وہیں شادی کر لو جہاں تمہاری خالہ کر رہی ہیں ٗ مگر میرے اور تمہارے کچھ کہنے سے کب کچھ ہوتا ہے ٗ ہماری شادی ہونا طے تھی سو وہ ہو گئی ٗ اب میں اپنے پیرنٹس کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔‘‘ ایک ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھا اور دوسرا ہاتھ اس کے کاندھے پر آ رکا۔
’’اور اب تم پلیز چپ کر جائو ٗ میں اس موضوع پر تم سے بعد میں بات کروں گا۔‘‘ اس نے بات ختم کرنے کو کہا تھا مگر وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ ڈور بیل کی آواز پر رک گئی تھی۔
’’یقینا یہ توقیر ہوگا ٗ میں تمہیں اندر کمرے میں چھوڑ دیتا ہوں ٗ تم ہاتھ منہ دھو کر فریش ہو جائو۔‘‘ کہتے ہوئے اسے اٹھایا تھا ٗ مگر اس کے انکار کرنے پر وہ اسے بیڈ پر چھوڑ کر جلدی سے ڈور کھولنے کو بڑھا تھا دروازے پر توقیر اور ایک خاتون تھیں اور توقیر نے بتایا تھا کہ یہ خاتون ان کی بہت پرانی ملازمہ کی بہن ہیں جو ان سے ملنے گائوں سے آئی تھیں اور اب انہیں یسریٰ کے ساتھ اس فلیٹ میں رہنا ہے ٗ اسجد کو اطمینان سا ہو چلا اور وہ توقیر کے ہمراہ یسریٰ کو تسلی دے کر فلیٹ سے نکل گیا۔
٭٭٭
’’اسجد بھائی! اچھا ہوا کہ آج آپ آفس سے جلدی آ گئے۔‘‘ خلاف معمول اسے ساڑھے پانچ بجے گھر میں دیکھ کر حنین خوشی سے بولی۔
’’کیوں ٗ کوئی خاص بات ہے کیا؟‘‘ وہ ماں اور چاچی کو سلام کرتا ڈھیلے ڈھالے انداز میں صوفے پر دراز ہوتے ہوئے اس کے خوشی سے جگمگاتے چہرے کو دیکھ کر اپنائیت سے کہتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
’’خاص بات ہی تو ہے بھائی! ہم لوگ مائدہ اپیا کیلئے ویڈنگ ڈریس لینے جا رہے ہیں ٗ اب آپ آ گئے ہیں تو اچھا ہے آپ بھی ساتھ چلے جائیں گے۔‘‘ اس کی مسکراہٹ یکدم ہی سمٹ گئی۔
’’میں ساتھ نہیں جا سکوں گا ٗ کچھ تھکا ہوا ہوں۔‘‘ آہستگی سے کہتا کھڑا ہو گیا اور شازمین سے چائے کا کہتا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا ٗ اس نے کسی کو کچھ بھی کہنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔
’’شازمین چائے چڑھا کر زرمین سے فون کرکے پوچھ لینا کہ وہ کب تک آئے گی؟‘‘
’’ضرورت نہیں ہے مائی سوئیٹ مدر!‘‘ زرمین کی آواز سن کر وہ سب اسے دیکھنے لگے اور وہ مسکراتی ہوئی اندر چلی آئی ٗ سلام کرکے ان دونوں کے سامنے جھک کر سر پر ہاتھ رکھوایا اور دعائیں لیتی سیدھی ہو گئی۔
’’آپ آئیں کس کے ساتھ ہیں؟‘‘
’’فضیل آفس میں تھے ٗ فیصل چھوڑ گئے ہیں۔‘‘
’’ارے بیٹا! تو فیصل کو گھر میں کیوں نہیں لائیں؟ باہر کے باہر ہی کیوں جانے دے دیا؟‘‘
’’امی! میں نے کہا تھا مگر فیصل کو ضروری کام سے جانا تھا۔‘‘
’’فضیل بھیا! ساتھ نہیں آئے تو ہم کس کے ساتھ جائیں گے؟‘‘ حنین کو فکر ہوئی تھی کیونکہ ان لوگوں نے یہی سوچا تھا کہ فضیل جب زرمین کو چھوڑنے آئے گا تو وہ اس کے ساتھ نکل جائیں گی ٗ وہ لوگ مائدہ کیلئے ویڈنگ ڈریس لینے جا رہی ہیں اسی لئے زرمین کو بلایا تھا۔
’’ڈونٹ وری ٗ ہم ٹیکسی سے چلے جائیں گے اور ہاں! میں نے اسجد بھائی کی گاڑی دیکھی ہے جب وہ گھر میں ہیں تو ہم ا نکے ساتھ بھی تو جا سکتے ہیں۔‘‘
’’انہوں نے منع کر دیا ہے۔‘‘ حنین نے منہ بنایا اور جب ہی شازمین چائے لے کر آ گئی۔
’’شازمین! تم رہنے دو بھائی کی چائے میں لے جاتی ہوں ٗ ان سے مل بھی لوں گی اور چلنے کا بھی پوچھ لوں گی۔‘‘ وہ ٹرے میں 2 کپ لے کر اسجد کے روم میں آ گئی۔
’’میں ٹھیک ہوں بھائی! فضیل آفس میں تھے۔ واپسی میں مجھے گھر لے جائیں گے؟‘‘
’’تم خوش تو ہو زرمین!‘‘ اس نے بڑے بھائیوں والی فکر سے پوچھا۔
’’جی بھائی! سب گھر والے بہت اچھے ہیں ٗ میرا خیال رکھتے ہیں۔‘‘
’’اور فضیل ٗ وہ کیسا ہے؟‘‘
’’وہ بھی اچھے ہیں بھائی!‘‘ وہ دھیمے سے بولی اور اس کے چہرے سے جھلکتے اطمینان کو دیکھ کر وہ مطمئن ہو گیا۔
’’اللہ تم دونوں کو ہمیشہ بہت زیادہ خوش رکھے۔‘‘ اسجد کا ہاتھ اس کے سر پر آ ٹھہرا تھا۔
’’میں آپ کے پاس جس کام سے آئی تھی ٗ وہ تو بھول ہی گئی۔‘‘ یکدم خیال آیا تو کہہ اٹھی۔
’’اوہ… تم میرے پاس کام سے آئی تھیں اور میں سمجھا میری بہن مجھ سے ملنے آئی ہے۔‘‘ اسجد کا شرارتی انداز اسے گڑبڑا گیا۔
’’نہیں میں تو آپ سے ملنے کیلئے ہی آئی تھی تو سوچا کام…!‘‘
’’اب بہانے مت بنائو اور اصلی بات کہو۔‘‘
’’میں بہانے تو نہیں کر رہی بھائی! میں واقعی آپ سے…!‘‘
’’مذاق کر رہا ہوں۔‘‘ اس کے ہنس کر کہنے پر اس نے اسے بات بتائی تھی اور وہ انکاری ہو گیا تھا مگر پھر اس کے کہنے پر اس نے ہامی بھر لی تھی۔
’’میں صرف تم لوگوں کو ڈراپ کر دوں گا اور جب فارغ ہو جائو تو کال کرکے بلا لینا ٗ میں آ جائوں گا۔‘‘ اسجد کے راضی ہو جانے پر حنین ٗ زرمین اور ساجدہ اس کے ساتھ شاپنگ سینٹر آ گئی تھیں انہیں وہاں چھوڑ کر وہ واپس گھر آ گیا تھا تاکہ ماں سے بات کر سکے کیونکہ راشدہ کبھی شاپنگ پر ان کے ساتھ نہیں جا رہی تھیں اور اس وقت موقع بھی اچھا تھا وہ ماں سے اطمینان سے بات کر سکتا تھا۔
٭٭٭
’’زرمین آپی! مجھے تو یہ ریڈ والا لہنگا اچھا لگ رہا ہے۔‘‘
’’نہیں ریڈ نہیں لینا ٗ مائدہ کو یہ کلر پسند نہیں ہے۔‘‘ اس نے حنین سے کہتے ہوئے شاپ کیپر سے اچھے کلر دکھانے کو کہا تھا اور ان لوگوں نے برات کیلئے آتشی اور رسٹ کنٹراسٹ کا لہنگا لے لیا تھا اور ولیمے کیلئے ساجدہ کے کہنے پر انہوں نے فیروزی شرارہ خریدا تھا اور جیولری اور سینڈلز بھی لے لی تھیں اور اس سب خریداری میں انہیں صرف 3 گھنٹے لگے تھے ٗ اسی لئے حنین کے کہنے پر اب وہ اس کیلئے کپڑے دیکھ رہی تھیں ٗ مگر جوان لوگوں کو پسند آتا اسے وہ ریجیکٹ کر دیتی اور خود اسے تو کچھ پسند ہی نہیں آ رہا تھا ٗ ساجدہ کو کچھ غصہ آنے لگا تھا کہ اسے تقریباً 1 گھنٹے کی کوشش کے بعد بلیک اور وائٹ کنٹراس کی کلیوں والی فراک پسند آ گئی۔
’’زرمین آپی! یہ کیسی لگ رہی ہے؟‘‘
’’بہت اچھی ہے۔‘‘ ان دونوں نے اس کی پسند کو اوکے کر دیا۔
’’آئی ایم سوری میم! یہ ڈریس سیل ہو چکا ہے۔‘’‘
’’واٹ…؟ بٹ مجھے یہی ڈریس لینی ہے۔‘‘ حنین چیخی تھی۔
’’اسٹاپ اٹ حنین!‘‘ زرمین نے اس کے چیخنے پر اسے ڈپٹا۔
’’آپی! یہ فراک مجھے کتنی مشکل سے پسند آئی ہے ٗ مجھے بس یہی لینی ہے۔‘‘ اس کے انداز میں بے چارگی اور لہجے میں ضد تھی ٗ فیصل اس کو دیکھنے لگا۔
’’آر یو سیریس؟‘‘ وہ دونوں شاپ کی لیفٹ سائیڈ پر کھڑے تھے۔
’’ہنڈ ریڈ پرسنٹ… تو جا Pay میں کر دوں گا۔‘‘ ماہ کنعان نے اس کے گلابی چہرے سے نگاہ ہٹا کر فیصل سے کہا تھا۔
’’سوری میم! یہ سیل ہو چکی ہے ٗ آپ کوئی دوسری ڈریس پسند کر لیں۔‘‘
’’نو… وے ٗ مجھے یہی لینی ہے۔ہم اگر ڈبل Pay کر دیں تو؟‘‘
’سوری میم! یہ پاسیبل نہیں ہے ٗ ہم اپنے کسمٹر کو کوئی ڈریس فروخت کرنے کے بعد اس سے نہیں لیتے‘ ہاں آپ چاہیں تو خود ان سے یہ ریکوئیسٹ کر سکتی ہیں۔‘‘ شاپ کیپر شائستگی سے کہہ رہا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ وہ تینوں چونکی تھیں اور فیصل کو دیکھنے لگی تھیں۔
’’فیصل… آپ؟‘‘
’’جی بھابی! بس وہ سمیرا کیلئے شاپنگ کرنے آیا تھا ٗ اس نے جھوٹ کا سہارا لیا تھا ٗ کیونکہ وہ تو کنعان کے کہنے پر یہاں آ گیا تھا کیونکہ ماہ لاج نے انٹر میں تیسری پوزیشن لی تھی اس لئے کنعان کو بہن کیلئے گفٹ لینا تھا۔ لاج کا رزلٹ آئوٹ ہوئے تو تقریباً ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا تھا مگر وہ پیرنٹس کے ساتھ آئوٹ آف کنٹری تھی اور کل اس کی واپسی متوقع تھی اس لئے وہ بہن کو سرپرائز گفٹ دینے کا سوچنے لگا تھا مگر اسے کیا گفٹ کرے یہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا اور اسی لئے کنعان نے کال کرکے اسے بلا لیا اور فیصل کے کہنے پر ہی وہ لاج کو ڈریس دینے کا سوچ کر اس شاپ میں آیا تھا جہاں اس نے بلیک اور وائٹ کنٹراس کی کلیوں والی فراک جس کی فرنٹ و بیک پر کڑھائی تھی لاج کیلئے پسند کر لی تھی اور پیمنٹ بھی کر چکا تھا تبھی فیصل سمیرا کیلئے کوئی ڈریس دیکھنے لگا تھا‘ جبھی وہ تینوں شاپ میں آئی تھیں ٗ فیصل ان تک پہنچتا کہ حنین نے پہلی ہی نظر میں اس ڈریس کو اوکے کر دیا تھا وہ ان کی باتیں سن چکے تھے ٗ اس لئے کنعان کے کہنے پر وہ ان تک آیا تھا۔
’’سمیرا کہاں ہے ٗ دکھائی نہیں دی؟‘‘
’’وہ میرے ساتھ نہیں آئی ٗ میں اکیلا ہی آیا ہوں ٗ آپ لوگوں کو کچھ پسند آیا کہ ابھی تلاش جاری ہے؟‘‘ اس کے کہنے پر حنین نے ڈریس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’ایک گھنٹے میں یہ ایک ڈریس پسند آیا ٗ مگر یہ سیل ہو چکا ہے۔‘‘ وہ قدرے فاصلے پر کھڑا حنین کو دیکھ رہا تھا جس کے منہ کے زاویے بری طرح بگڑے ہوئے تھے۔
’’یہ ڈریس تمہیں اچھی لگ رہی ہے تو لے لو۔‘‘
’’آپ نے شاید سنا نہیں کہ یہ سیل ہو چکی ہے۔‘‘ اس کے آرام سے کہنے پر وہ خفگی سے بولی۔
’’حنین! بس اب چپ کر جائو ٗ کوئی اور ڈریس خریدنا ہے تو ٹھیک ورنہ گھر چلو۔‘‘ ساجدہ کی برداشت جواب دے گئی۔
’’ایکسکیوزمی مسٹر! یہ ڈریس پیک کرکے میم کو دے دیجئے۔‘‘ سیلز مین اوکے کہتا ڈمی کی جانب بڑھ گیا تھا اور وہ تینوں متحیر رہ گئی تھیں۔
’’فیصلٖ! یہ آپ…!‘‘
’’بھابی! یہ ڈریس میں نے خریدی ہے ٗ بٹ حنین کو پسند ہے تو کوئی بات نہیں ٗ میں سمیرا کیلئے کوئی دوسری ڈریس لے لوں گا۔‘‘
’’لیکن بیٹا…!‘‘
’’پلیز آنٹی! مجھے اچھا لگے گا کہ میری بہن اپنی پسند کا ڈریس لے کر خوش ہو۔‘‘ اس نے ان دونوں کو کچھ کہنے سے روکا تھا اور اس کے تو دل کی کلی کھل گئی تھی۔
’’تھینک یو سو مچ فیصل بھیا!‘‘ خوشی اس کے چہرے پر بکھر سی گئی تھی اور کنعان اسے خوش دیکھ کر دل میں سکون سا اترتا محسوس کر رہا تھا اور وہ اپنی پسند کا ڈریس لئے خوشی خوشی پونی جھلاتی ٗ آنچل لہراتی شاپ سے نکل گئی تھی اور اسے لگا تھا کہ اس کے دل میں یکدم ہی اندھیرے در آئے ہیں۔
٭٭٭
’’امی! مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘ وہ لائونج میں بیٹھیں شازمین کے ساتھ مل کر دوپٹوں میں لیس لگا رہی تھیں وہ کچھ دیر ٹی وی کے چینل سرچ کرنے کے بعد ان سے بولا تھا۔
’’ہاں کہو بیٹا! کیا بات کرنی ہے؟‘‘
’’امی! مجھے اکیلے میں آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’میں باقی دوپٹے اپنے کمرے میں مکمل کر لیتی ہوں۔‘‘ شازمین فوراً ہی پھیلا ہوا سامان اٹھا کر وہاں سے چلی گئی۔
’’ایسی کیا بات ہے بیٹا! جو تم بہن کے سامنے مجھ سے نہیں کر سکتے تھے؟‘‘ راشدہ غور سے بیٹے کے سنجیدہ انداز کو دیکھتے ہوئے بولی تھیں اور اس نے لمحوں میں جیسے کوئی دھماکہ کر دیا تھا۔
’’جانتے بھی ہو کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’امی! میں مائدہ سے شادی نہیں کر سکتا۔‘‘
’’یہ خیال تمہیں اب آ رہا ہے جب شادی میں محض 8 دن رہ گئے ہیں؟‘‘ اس کے زور دے کر کہنے پر وہ غصے سے بولی تھیں کیونکہ انہیں کب امید تھی کہ وہ ان سے ایسی کوئی بات کرے گا۔
’’ابو سے میں نے اس وقت یہ بات کی تھی جب میری منگنی کی بات چلی تھی ٗ مگر انہوں نے میری کسی بات پر توجہ نہیں دی ٗ مجھے منگنی کرنے پر مجبور کر دیا۔‘‘
’’تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔‘‘
’’امی! میں مائدہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا ٗ کیونکہ میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں ٗ یہ بات میں نے منگنی ہونے سے قبل ابو سے کہہ دی تھی ٗ لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پھپھا جان اور پھپھو کو زبان دے چکے ہیں اور میں نے منگنی نہیں کی تو وہ مجھ سے ہر ایک رشتہ ختم کر لیں گے ٗ میں نے مجبور ہو کر منگنی کر لی اور جب میری منگنی کا اسے پتہ چلا تو اس نے سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ٗ اس لئے ابو سے میں نے پھر بات کی لیکن ابو کی یہی ایک رٹ ہے کہ میری شادی مائدہ سے ہو گی ٗ میں ابو کی خاطر یہ شادی کر لیتا ٗ مگر یسریٰ کو میری ضرورت ہے اور میں اسے ایسے وقت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘ وہ ماں کو تفصیل سے آگاہ کر رہا تھا کہ باپ کی آواز پر رک کر انہیں دیکھے لگا۔
’’ماں باپ کو تو چھوڑ سکتے ہو؟‘‘ وہ اندر چلے آئے۔
’’میں کیوں آپ لوگوں کو چھوڑنا چاہوں گا؟‘‘
’’تمہیں یا تو اس لڑکی کا خیال دل سے نکالنا ہوگا یا پھر ہمیں چھوڑنا ہوگا ٗ مائدہ سے شادی سے انکار کرو گے تو میں تم سے ہر ایک رشتہ ختم کرکے تمہیں اپنی زندگی سے بے دخل کرتے ہوئے اپنی جائیداد سے عاق کر دوں گا۔‘‘ ان کا لہجہ و تیور بے لچک تھے۔
’’نوید! یہ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’آپ کو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’نوید! جب اسجد شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تو آپ کو اس کے ساتھ زبردستی…!‘‘
’’اچھا تو پھر کیا کروں ٗ اکلوتی بہن کو چھوڑ دوں ٗ اس ناہنجار اولاد کی خاطر؟‘‘ وہ بہت تیز لہجے میں بولے تھے۔
’’ابو! بات اتنی بڑی نہیں تھی ٗ جب میں نے اس رشتے سے انکار کیا تب بات گھر کے لوگوں کے درمیان تھی ٗ بات ختم کی جا سکتی تھی ٗ مگر آپ نے اسے شادی تک پہنچا دیا ٗ لیکن میں یہ شادی ہرگز نہیں کروں گا۔‘‘ اس کا لہجہ بھی سخت ہو چلا تھا۔
’’اسجد! تمیز سے بات کرو ٗ باپ ہیں یہ تمہارے۔‘‘
’’میں نے ایسی کوئی بدتمیزی نہیں کی ہے امی! ابو کو صرف حکم چلانے کا شوق ہے ٗ دیکھنے میں انتہائی نرم خو ٗ مگر فیصلے ایک دم اٹل کرتے ہیں۔‘‘
’’مجھے اپنی زبان کا پاس ہے اور میں کبھی اسے جھوٹا پڑنے نہیں دوں گا ٗ مائدہ بیٹی سے شادی نہیں کی تو…!‘‘
’’آپ مجھے عاق کر دیں گے ٗ تو ٹھیک ہے جب آپ کو بیٹے کی خوشیوں کی پرواہ نہیں ہے صرف اپنی بات خراب ہونے کا خیال ہے تو میں صرف اپنی خوشی کا خیال کروں گا ٗ مجھے کل بھی مائدہ سے شادی سے انکار تھا اور آج بھی ہے ٗ گھر چھوڑ کر جانے کو کہیں گے تو میں چلا جائوں گا۔‘‘
’’اسجد…!‘‘
’’امی! آپ بیچ میں مت بولیں ٗ اول و آخر فیصلہ تو ابو نے ہی لینا ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں بھرپور طنز کی آمیزش صاف جھلک رہی تھی۔
’’ٹھیک ہے تم میرے گھر سے جا سکتے ہو ٗ میں تمہیں اپنی زندگی سے بے دخل کرتا ہوں۔‘‘
’’نوید! پلیز اس طرح نہ کریں۔‘‘
’’جب ٹھوکریں لگیں گی زمانے کی تو والدین کی قدر آئے گی ٗ جانے سے پہلے لیکن یہ یاد رکھنا کہ برات کی شام سے قبل تک لوٹ آئے تو اس گھر کے دروازے تمہیں کھلے ملیں گے ٗ مگر میرے اور میری بہن کے سروں پر خاک ڈالنے کے بعد اگر تم آئو گے تو صرف باپ کا مرا منہ دیکھو گے۔‘‘ وہ اپنی بات کا اثر دیکھے بنا ہی وہاں سے واک آئوٹ کر گئے تھے اور وہ فیصلہ جو اس نے بہت سوچ بچار کے بعد کوئی راہ نہ پاکر تھک ہار کر کیا تھا وہ باپ کے فیصلے کے آگے کھڑا منہ چڑا رہا تھا کیونکہ وہ اپنے باپ کی فطرت سے بہ خوبی واقف تھا ضد ان کی فطرت میں نہیں تھی مگر جس بات پر آکر اٹک جاتے تھے اس سے کوئی انہیں ہٹانے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔
٭٭٭
’’اسجد بیٹا! آپ اس وقت؟‘‘ وہ 6 سے 7 دنوں میں پہلی دفعہ رات کے ڈیڑھ بجے اسے یہاں دیکھ کر قدرے حیران اور پریشان سی پوچھ رہی تھیں۔
’’گھر ہے میرا کبھی بھی کسی بھی وقت آ سکتا ہوں۔‘‘ اسجد نے کہاں کا غصہ کہاں نکالا تھا جبکہ وہ شرمندہ ہو گئی تھیں۔
’’آپ اس وقت نہیں آتے بس اس لئے۔‘‘
’’فضول کی تفتیش کرنے سے کہیں بہتر یہ ہوگا کہ آپ میرے لئے چائے بنا دیں اور یسریٰ کہاں ہے؟‘‘ صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔
’’یسریٰ بٹیا تو سو ہو گئی ہیں ٗ آپ کہو تو میں انہیں اٹھا دوں؟‘‘
’’نہیں ٗ اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ منع کرتے ہوئے اس نے ٹی وی کھول لیا تھا مگر اس کا ذہن اس قدر منتشر تھا کہ وہ بس چینل سوئچ کرتا رہا تھا اور چائے بھی رکھے رکھے ٹھنڈی ہو گئی تھی ٗ اس نے ماں باپ سے مایوس ہو کر کل دوپہر میں مائدہ کو فون کیا تھا مائدہ جو منگنی کے بعد پہلی دفعہ اس کا فون سن کر ہی گھبرا گئی تھی اس کی بات اسے یکدم ہی عرش سے فرش پر بڑی بے دردی سے پٹخ گئی تھی۔
’’مائدہ! میں تم سے شادی نہیں کر سکتا۔‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ اس کی آواز حلق میں پھنس سی گئی تھی۔
’’وہی جو تم نے سنا کہ میں تم سے شادی نہیں کر سکتا۔‘‘ اس کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا تھا جبکہ اس کا وجود زلزلوں کی زد پر تھا اور وہ تو کچھ بول بھی نہیں سکی تھی اور وہ مزید کہہ رہا تھا۔
’’میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں مائدہ! اس لئے تم سے شادی نہیں کر سکتا۔‘‘
’’ہمارا رشتہ جڑے 8 سے 10 ماہ ہو گئے ہیں ٗ یہ خیال آپ کو اب آ رہا ہے کہ آپ کسی اور سے شادی کرنا چاہتے ہیں ٗ وہ بھی اس وقت کہ اس کے اگلے دن رسم حنا ہے۔‘‘ اس کی آنکھیں ضبط کی کوشش کے باوجود برس رہی تھیں اور اس نے یہ سب کیسے کہا تھا یہ بس وہی جانتی تھی۔
’’مائدہ! میں نے ابو اور امی کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور ان سے مایوس ہو کر میں نے یہ سب تم سے کہا ہے کیونکہ یہ شادی ہو بھی گئی تو میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکوں گا۔‘‘
’’آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’تم اس شادی سے انکار کر دو۔‘‘
’’میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں؟‘‘
’’تمہیں ایسا کرنا ہوگا مائدہ!‘‘
’’میں ایسا کبھی نہیں کروں گی ٗ آپ پر کوئی الزام نہ آئے اس لئے مجھے مشق ستم بنا رہے ہیں ٗ مگر میں ایسا نہیں کر سکتی۔‘‘ اپنے ہی پیروں پر کھڑے رہنا اسے دشوار لگ رہا تھا۔
’’پھر آگے کی ذمے دار تم خود ہو گی ٗ مجھ سے اچھے کی امید مت رکھنا ٗ تم ہمارے گھر کا حصہ میرے حوالے سے ضرور بنو گی مگر میں تمہیں بیوی کا حق اور درجہ کبھی نہیں دوں گا۔‘‘ وہ ریسیور کان سے لگائے ساکت کھڑی تھی۔
’’تم صرف بہو بن کر ہمارے گھر میں رہو گی۔‘‘
’’میں اپنی خوشی اور ذات کا مان اہم سمجھتی ہوں ٗ مگر اپنے والدین کی عزت پر میں خود کو بھی قربان کر سکتی ہوں۔‘‘ اس نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا تھا ور آج ان کی مایوں مہندی کی رسم ایک ہی ہال میں ایک ساتھ ہی کی گئی تھی جہاں مائدہ نے اپنے دکھ کو باہر نہیں آنے دیا تھا ٗ وہیں اسجد کا سنجیدہ اور قدرے بیزار انداز سب ہی نے محسوس کیا تھا مگر اس سے کہا کسی نے کچھ نہیں تھا اور وہ رسموں سے فارغ ہو کر گھر جانے کے بجائے توقیر کے فلیٹ پر آ گیا تھا ٗ جہاں یسریٰ رہ رہی تھی ٗ اسجد نے یہ فلیٹ اس سے خرید کر یسریٰ کے نام کر دیا تھا اور اکیلے پن کی وجہ سے بوا جی چوبیس گھنٹے ساتھ ہی رہتی تھیں ٗ وکیلہ بی بی کی ایک بہن جو توقیر کے گھر ملازمہ تھی کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ٗ شوہر کو مرے 15 برس ہو گئے تھے اور اکلوتا بیٹا 16 برس کی عمر میں ٹائیفائیڈ کا شکار ہو کر 6 ماہ قبل چل بسا تھا اور بیٹے کی موت کے بعد ہی وہ اپنا آبائی گائوں چھوڑ کر بہن کے پاس آ گئی تھیں جو بے اولاد تھی اور شوہر بھی نہیں تھا ٗ اس لئے توقیر کے گھر برسوں سے نوکری کر رہی تھی ٗ وکیلہ بی بی کو اور کیا چاہئے تھا نوکری تو ملی ہی تھی سر چھپانے کو چھت بھی مل گئی تھی۔
’’اسجد بیٹا! چائے نہیں پی ٗ رکھے رکھے ٹھنڈی ہو گئی ہے۔‘‘ وہ اس وقت تک سو جاتی تھیں ٗ مگر اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے اس خیال سے جاگ رہی تھیں ٗ فلیٹ میں دو بیڈ روم تھے جس میں سے ایک ان کے تصرف میں تھا۔
’’جی ٗ خیال نہیں رہا ٗ مگر آپ سوئی نہیں؟‘‘ وہ کسی خیال سے چونک اٹھا تھا۔
’’میں نے سوچا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہو گی۔‘‘
’’نہیں آپ جا کر سو جایئے ٗ کسی چیز کی ضرورت ہو گی تو میں خود لے لوں گا۔‘‘ وہ دکھتے سر کو انگلیوں سے دبا رہا تھا ٗ وہ اثبات میں سر ہلاتی مڑی ہی تھیں کہ یسریٰ انہیں آواز دے رہی تھی وہ اس کے روم میں چلی گئی تھیں اور ان کے بتانے پر کہ اسجد آیا ہے وہ گھڑی پر نظر ڈالتی متحیر سی بولی تھی۔
’’اسجد! اور اس وقت… سب خیریت تو ہے؟‘‘ وہ بال سمیٹتی اٹھ بیٹھی تھی اور جبھی اسجد دروازے پر ہلکے سے دستک دیتا اندر چلا آیا تھا اور بوا جی کمرے سے نکل گئی تھیں۔
’’اسجد! سب خیریت تو ہے آپ…!‘‘
’’میں اس وقت فضول بات نہیں سننا چاہتا ٗ سر میں شدید درد ہو رہا ہے ٗ کچھ کر سکتی ہو تو میرا سر دبا دو ٗ ورنہ خاموشی سے سو جائو۔‘‘ وہ نہایت سنجیدگی سے کہتا شرٹ کے کف فولڈ کرنے لگا تھا ٗ موبائل اور گاڑی کی چابی سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی اور بیڈ کی بائیں جانب لیٹ گیا تھا۔ کیونکہ دائیں طرف یسریٰ بیٹھی تھی ٗ اس نے پیروں پر پھیلایا کمبل اس پر ڈالا تھا اور سرک کر اس کے سرہانے آ بیٹھی تھی اور دھیرے دھیرے اس کاسر دبانے لگی تھی۔
’’اسجد! آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ٗ مجھے اپنی پریشانی کی وجہ نہیں بتائیں گے؟‘‘ اس کے لہجے میں بلا کی نرمی تھی تو اس نے آنکھیں کھول کر یسریٰ کے چہرے کو دیکھا تھا گلابی چہرہ تیکھے نقوش وہ اس کا ہاتھ تھام گیا تھا۔
’’کوئی پریشانی نہیں ہے۔‘‘ ہلکے سے کہتے ہوئے اس کے گلابی ہاتھ کا جائزہ لینے لگا تھا ٗ اس کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنا چاہا تھا جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔
’’تمہارے ہاتھ بہت خوبصورت ہیں یسریٰ!‘‘ کہتے ہوئے اس کے ہاتھ کی پشت پر لب رکھ گیا تھا جسے وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں کھینچ گئی تھی۔
’’اسجد! آپ کو اس وقت یہاں نہیں آنا چاہئے تھا۔‘‘ گھبراہٹ اور شرم و حیا اس کے چہرے کو مزید دلکش بنا رہے تھے اور وہ بیڈ کے سرے پر جا بیٹھی تھی۔
’’کیا مطلب نہیں آنا چاہئے تھا ٗ کون ہے جو مجھے میرے ہی گھر میں میری بیوی کے پاس آنے سے روک سکے؟‘‘ وہ اس کی گھبراہٹ سے محظوظ ہوا تھا اور اسے یاد آیا تھا ان کی تیسری یا چوتھی ملاقات تھی وہ پی سی میں لنچ کرنے گئے تھے یسریٰ کافی کنفیوژ ہو رہی تھی ٗ اسے ریلیکس رہنے کا کہتے ہوئے وہ یسریٰ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ گیا تھا اور وہ تو جیسے کرنٹ کھا کر سیٹ سے ہی اٹھ گئی تھی ٗ چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں اور اس دن کے بعد اس نے کبھی ایسی کوئی کوشش نہیں کی تھی ٗ وہ بڑے محتاط انداز میں اس سے فاصلے پر ہو کر ہی بیٹھا کرتی تھی اور اس کی یہ احتیاط اسجد کو بڑی بھلی لگتی تھی ٗ اس کا شرارت بھرا لہجہ اس کی نگاہیں جھکا گیا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے کھینچا تھا اور وہ اس کے کاندھے سے آ لگی تھی اس نے ٹھوڑی سے پکڑ کر چہرہ اونچا کیا تھا ٗ گلابی چہرے پر سیاہ پلکیں لرزتے ہوئے سایہ فگن تھیں ٗ اس نے پہلی دفعہ اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے بھرپور استحقاق سے جسارت کی تھی۔
’’پلیز اسجد! آپ نے کہا تھا۔‘‘ اس کے لب لرزے تھے۔
’’میں نے تو بہت کچھ کہا تھا ٗ مگر یہ وقت ان باتوں کو دہرانے کا نہیں ہے۔‘‘ وہ مکمل اس کے حسن کے سحر میں جکڑا جذبات کی رو میں بہنے کو بے قرار تھا اور وہ کہاں اس کی جسارتوں پر بند باندھ سکتی تھی۔
٭٭٭
شازمین! پلیز روئو نہیں ٗ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
’’زرمین آپی! مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ زرد کپڑوں میں پھولوں کا زیور پہنے وہ بے حد پژمردہ لگ رہی تھی۔
’’تم خواہ مخواہ میں ڈر رہی ہو ٗ میں اسجد بھائی کو اچھے سے جانتی ہوں ٗ وہ کہیں نہیں جائیں گے ٗ وہ گھر آ جائیں گے۔‘‘
’’آپ نہیں جانتیں آپی! اسجد بھائی گھر چھوڑنے کا کہہ رہے تھے۔‘‘ جب وہ سب ہال سے گھر آئے تھے اسجد کو نہ پاکر تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے ٗ مگر نوید عالم بیوی سے یہ کہہ کر چلے گئے تھے۔
’’وہ گھر پر نہیں ہے تو نا سہی ٗ اسے کال کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ٗ شادی پر وہ نہیں پہنچا تب اسے بتائوں گا کہ وہ میرا باپ نہیں، میں اس کا باپ ہوں۔‘‘ نوید عالم کے صاف منع کرنے پر بھی راشدہ نے اس کا نمبر ملایا تھا جو بند آ رہا تھا اور شازمین نے زرمین کو کل سن لینے والی باتیں بتا دی تھیں۔
’’وہ گھر چھوڑ کر نہیں جائیں گے ٗ تم کیوں پریشان ہو رہی ہو؟‘‘ زرمین نے اس کا سرد ہاتھ تھام لیا تھا۔
’’آپی! اگر اسجد بھائی نہیں آئے اور پھپھو کی فیملی کو پتہ چلے گا تو کیا ہوگا؟‘‘
’’کیوں فضول کی سوچیں پال رہی ہو؟‘‘
’’مجھے خوف آ رہا ہے آپی! اگر بھائی کی عین شادی والے دن شادی ٹوٹے گی تو ساتھ میں میری بھی شادی ٹوٹ جائے گی۔‘‘
’’پاگل مت بنو ٗ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔‘’‘ اس کے آنسو صاف کئے تھے۔
’’ایسا ہی ہوگا آپی! جب بھائی، مائدہ اپیا سے شادی نہیں کریں گے تو راحم بھی مجھ سے شادی نہیں کریں گے اور میں ان کے بغیر مر جائوں گی ٗ بہت محبت کرتی ہوں میں راحم سے۔‘‘ شازمین اس کے کاندھے سے لگی سسک رہی تھی ٗ خوفزدہ تو وہ خود بھی تھی اس لئے بلکتی ہوئی بہن کو تسلی و دلاسے بھی ڈھنگ سے نہیں دے پا رہی تھی ٗ بمشکل اسے پانی پلا کر چپ کروایا۔
’’مجھے لگتا ہے جب اسجد بھائی ٗ مائدہ سے شادی کرنا ہی نہیں چاہتے تو ابو کو ان کے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہئے۔‘‘ وہ کچھ دیر بعد کچھ سوچ کر بولی تھی۔
’’مائدہ اپیا کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ٗ اس بات سے مجھے انکار نہیں ہے اور میں بھائی کے جانے سے اس لئے خوفزدہ نہیں ہوں کہ مجھے یہ ڈر ہے کہ ان کی شادی ٹوٹی تو میری بھی ٹوٹ جائے گی ٗ اگر شادی ٹوٹ جانے میں اپیا کی بھلائی ہے تو میں بھی چاہوں گی کہ یہ شادی ٹوٹ جائے ٗ مگر آپ خود بتایئے ٗ عین شادی والے دن اسجد بھائی کا شادی سے انکار اپیا کی زندگی برباد نہیں کر دے گا؟ جبکہ شادی ہو گئی تو بھائی ابھی نہیں مگر کچھ سالوں میں انہیں محبت کرنے لگیں گے جبکہ پہلی صورت میں کتنی ہی انگلیاں ان پر اٹھیں گی ٗ اسجد بھائی کو اس شادی پر اعتراض تھا تو پہلے کہتے یوں مہندی کی شب تو فرار حاصل نہ کرتے۔‘‘ شازمین کو بھائی پر بے انتہا غصہ آ رہا تھا۔
’’ہاں ٗ اسی خیال سے تو میں بھی خوفزدہ ہوں اور اگر پھپھا اور پھپھو کو اس سب کا پتہ چلے گا تو وہ کتنے دکھی ہوں گے ٗ عمر بھر کیلئے رشتوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی جنہیں قیامت تک بھرا نہیں جا سکے گا۔‘‘ زرمین کو بھی بھائی کے فیصلے نے رنج پہنچایا تھا ٗ مائدہ کی وہ واحد دوست جو اس کے تمام جذبوں سے واقف تھی ٗ اسی لئے بھی چاہتی تھی کہ شادی ہو جائے کیونکہ اسے یقین تھا کہ مائدہ کی محبت اسجد کا دل جیت لے گی مگر وہ یہ کہاں جانتی تھی کہ اسجد کے دل پر جس کا بسیرا تھا وہ اس کے تن من کا ساتھی بن کر اسے اپنی زندگی میں بہت اہم جگہ دے چکا تھا ایسے میں مائدہ کی جگہ کہیں نکلتی ہی نہیں تھی ٗ یہ شادی مائدہ کی عزت نفس کے قتل کے مترادف تھی ٗ جہاں اسے روز جینا اور روز مرنا تھا ٗ اس کے اپنے اس کیلئے اچھا بہت اچھا سوچ رہے تھے مگر اپنوں کے اچھا کرنے اور سوچ لینے سے قسمت کے اندھیرے کبھی نہیں مٹتے اور مائدہ کے مقدر میں فی الحال تو اندھیرا ہی رقم تھا۔
٭٭٭
’’اسجد بھائی! خدا کیلئے گھر آ جائیں ٗ اگر آج آپ نہ آئے تو کتنے ہی دل اجڑ جائیں گے ٗ رشتے بکھر جائیں گے ٗ اپنوں کی خاطر بہن کی خوشی کیلئے ہی یہ شادی کر لیں ٗ ورنہ سب ختم ہو جائے گا ٗ ہیلو… بھائی! آپ سن رہے ہیں ناں؟‘‘ زرمین نے جواب نہ پاکر ہیلو ہیلو کرنا شروع کیا تھا کہ یسریٰ نے جلدی سے لائن کاٹ دی تھی۔
’’اسجد کی آج شادی ہے اس لئے یہ رات سے یہاں ہیں۔‘‘
’’کہاں گم ہیں مسز اسجد!‘‘ وہ شاور لے کر نکلا تھا اسے گم صم دیکھ کر اس کے برابر بیٹھتے ہوئے آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا تھا اور وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی تھی یہ وہ شخص تھا جسے وہ خود سے زیادہ چاہتی تھی ٗ جس کی خاطر جان دینے چلی تھی ٗ جو کل تک اس کے دل کا مکین تھا ٗ آج وہ اس کی روح اس کے جسم و جان کا مکین بنا بیٹھا تھا ٗ جس کا نام اس کے نام کے ساتھ جب سے لگا تھا اسے اپنا نام معتبر لگنے لگا تھا۔
’’مسز! رات کے سحر سے باہر نکل آیئے۔‘‘ شرارت سے اس کے رخسار پر چٹکی لی تھی۔
’’اسجد! آپ رات میرے پاس کیسے آئے تھے؟‘‘
’’کیسے آیا تھا ٗ ابھی بتا دیتا ہوں۔‘‘ وہ شرارت سے اس پر جھکا تھا مگر وہ اس کو پرے دھکیلتی بیڈ کے کونے پر سرک گئی تھی۔
’’اسجد! آپ نے کہا تھا کہ آپ کا یہاں اس گھر میں میرے پاس رات گئے آنا مشکل ہوگا ٗ تو آپ رات کیسے آ گئے؟‘‘ اس کی غیر معمولی سنجیدگی اسے چونکا گئی۔
’’تم کیا پوچھناچاہ رہی ہو؟‘‘
’’آپ نے کہا تھا کہ جب تک آپ کے پیرنٹس کو آپ راضی نہیں کر لیں گے جب تک آپ دوریاں مٹانے کی کوشش نہیں کریں گے ٗ یہ بات میں نے رات کو بھی آپ کو یاد دلانا چاہی تھی ٗ مگر آپ کے منہ زور جذبوں نے جسے ناکام بنا دیا ٗ مگر مجھے اب اس سوال کا جواب چاہئے کہ آپ کیا کہہ کر رات سے اب تک یہاں ہیں؟‘‘ اس کی نگاہیں اسجد کے پرکشش چہرے پر جمی تھیں۔
’’تمہیں میرا اپنے نزدیک آنا اچھا نہیں لگا؟‘‘
’’ایسی بات ہوتی ناں تو میں رات کو ہی کہتی ٗ ایک بیوی کیلئے اس کے شوہر کی محبت اور اس کا قرب ہی زندگی ہوتا ہے۔‘‘
’’تو پھر فضول کی باتوں کا مطلب کیا ہے؟‘‘
’’آپ مجھے صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ آپ ٗ اپنے پیرنٹس کو چھوڑ آئے ہیں؟‘‘ وہ اسے دیکھ رہی تھی اور وہ بری طرح چونکا۔
’’تم سے کس نے کہا؟‘‘
’’اس بات کو رہنے دیں اور میری بات کا جواب دیں۔‘‘
’’میں اپنے باپ کا گھر چھوڑ آیا ہوں ٗ مل گیا جواب ہو گئی تسلی؟‘‘ وہ کھڑا ہوتے ہوئے آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا اور برش کرنے لگا۔
’’لیکن کیوں اسجد؟‘‘ اسے دکھ ہوا تھا۔
’’کیونکہ آج میری مائدہ سے شادی ہے ٗ اگر وہاں رہتا تو مجھے شادی کرنا پڑتی اس لئے میں وہاں سے چلا آیا۔‘‘
’’یہ کہیں کہ بھاگ آئے ہیں۔‘‘
’’اب جو بھی کہہ لو۔‘‘ وہ تپ کر کہتا دوبارہ اس کے برابر آ بیٹھا۔
’’آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اسجد!‘‘
’’تو پھر کیا کرتا ٗ ہر ممکن کوشش کی ابو کو راضی کرنے کی ٗ امی کو منانا چاہا مگر سب بے سود ٗ مہندی کا فنکشن میرے جذبات پر ہتھوڑے برسا رہا تھا ٗ اس لئے میں نے گھر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا ٗ میں مائدہ سے شادی نہیں کر سکتا اور کیا تم یہ برداشت کر لو گی؟‘‘ اس نے الٹا اسی سے پوچھ لیا تھا اور اس نے جو جواب دیا تھا کم از کم اس کی اسے امید نہیں تھی۔
’’جانتی ہو کیا کہہ رہی ہو؟‘‘
’’ہاں اسجد! آپ کو مائدہ سے شادی کر لینی چاہئے ٗ اس طرح کتنی ہی زندگیاں تباہ ہونے سے بچ جائیں گی۔‘‘
’’دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا ٗ اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کا کہہ رہی ہو۔‘‘
’’ہاں میں اپنی خوشی اور مرضی سے آپ کو دوسری شادی کی اجازت دے رہی ہوں۔‘‘ وہ اس کو بغور دیکھ رہا تھا ٗ یہ سب بظاہر وہ مضبوط لب و لہجے میں کہہ رہی تھی مگر دل کے اندر کیسی طغیانی تھی وہ محسوس کر سکتا تھا ٗ اس نے ہی تو اس پاگل لڑکی کی شدتیں آنکھوں سے دیکھیں اور دل سے محسوس کی تھیں۔
’’اوہ… اجازت دے تو رہی ہو ٗ مگر میرے بغیر جی سکو گی ٗ مجھے کسی اور کے ساتھ بانٹ لینے کا حوصلہ رکھتی ہو اپنے دل میں؟‘‘
’’نہیں اسجد! نہیں… آپ بن تو میں مر جائوں گی ٗ یہ اجازت میں جس دل سے دے رہی ہوں بس میں ہی جانتی ہوں۔‘‘ وہ رو رہی تھی۔
’’تو تم سے کون کہہ رہا ہے کہ تم ایسا کچھ کرو؟‘‘ اپنی پوروں پر اس کے آنسو چنتے ہوئے برہمی سے بولا۔
’’آپ کے رشتے اسجد! انہیں آپ کی ضرورت ہے ٗ ایک بیٹے کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے باپ کے فیصلے کی لاج رکھے ٗ ماں کے ارمان پورے کرے ٗ بہنوں کو خوش رکھے ٗ یہ بھائی کا فرض ہوتا ہے ٗ آپ نے مائدہ سے شادی نہیں کی تو آپ کی بہن کی شادی ٹوٹ جائے گی اور میں نہیں چاہتی کہ میرے اسجد ٗ رشتوں کے مقروض ہو جائیں۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔
’’میں نے آپ سے محبت کی ہے مگر میری محبت خود غرض نہیں ہے ٗ میرے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ آپ کا نام میرے نام کے ساتھ جڑا ہے ٗ آپ کے وجود کی مہک میرے وجود میں اور میرا وجود آپ کے وجود کو مہکا رہا ہے اور اس مہک کو بانٹا میرے لئے بہت مشکل ہے مگر میں ساری زندگی رشتوں کو ترسی ہوں ان کی اہمیت جانتی ہوں اور نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کے رشتے آپ سے بچھڑ جائیں ٗ آپ کے رشتے اب میرے بھی ہیں ٗ آج آپ اپنے پیرنٹس کا مان رکھیں گے تو ہو سکتا ہے وہ ایک دن میرے وجود کو تسلیم کر لیں ٗ مگر آج آپ نے میری خاطر انہیں چھوڑ دیا تو میں ساری زندگی خود سے نظر نہ ملا سکوں گی ٗ رشتے ملنے کی جو آس بندھی ہے وہ بھی ساتھ چھوڑ جائے گی اور میں ایسا نہیں چاہتی اس لئے آپ سے ریکویسٹ کرتی ہوں کہ آپ گھر چلے جائیں اور جا کر شادی کر لیں۔‘‘
’’پاگل ہو گئی ہو ٗ یہ سب جتنی آسانی سے کہہ رہی ہو ٗ برداشت نہیں کر سکو گی اور ابھی میں نے گھر میں ہماری شادی کا نہیں بتایا ٗ مائدہ سے شادی کے بعد تو بالکل نہیں بتا سکوں گا ٗ تو پھر میرے والدین تمہیں کیسے ایکسیپٹ کریں گے؟‘‘
’’ابھی نہیں بتایا ٗ آئندہ بھی کبھی مت بتایئے گا ٗ کم از کم اس طرح آپ کے گھر والے تو خوش رہیں گے۔‘‘
’’میں کچھ چھپانا نہیں چاہتا۔‘‘
’’مگر مجبوری ہے ٗ آپ کو میری قسم اسجد! انکار مت کریں۔‘‘ اسے منہ کھولتے دیکھ کر وہ لجاجت سے بولی تھی۔
’’اسلام میں تو چار شادیوں کی اجازت ہے اور عورتیں بھی تو برداشت کرتی ہیں میں بھی کر لوں گی ٗ آپ سے کبھی شکایت نہیں کروں گی ٗ بس میری آپ سے اتنی ہی ریکوئیسٹ ہے کہ مجھ سے جب تک میں زندہ ہوں اپنا نام اور محبت مت چھینئے گا ٗ ورنہ میں مر جائوں گا۔‘‘ وہ اس کے سینے سے لگ کر بلک اٹھی تھی۔
’’مائدہ! اگر تم اس شادی سے انکار کر دیتیں تو آج سچوایشن الگ ہوتی ٗ تم سے اپنی یسریٰ کے ایک ایک آنسو کا حساب لوں گا۔‘‘ اس نے یسریٰ کے آنسو پونچھتے ہوئے نفرت سے سوچا تھا۔
٭٭٭
شازمین رخصت ہو کر راحم کے ساتھ چلی گئی تھی اور مائدہ رخصت ہو کر اسجد کے سنگ چلی آئی تھی ٗ شازمین سسرال والوں کی بھی من چاہی تھی اور راحم کے دل پر بھی اس کا بسیرا تھا جبکہ مائدہ جس کے سبب آئی تھی وہی اس سے انجان تھا ٗ رسمیں ادھوری چھوڑ کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا ٗ وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر رہ گئی تھیں اور ساجدہ کے کہنے پر زرمین اسے اسجد کے کمرے میں لے آئی تھی۔
’’تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتا دو؟‘‘
’’زرمین! ایک گلاس پانی دے دو۔‘‘ مائدہ کے کہنے پر اس نے روم فریج سے نکال کر پانی پلایا تھا ٗ دو دن سے تو اس کی بھوک ہی اڑی ہوئی تھی وہ برائے نام کھا رہی تھی اور آج دوپہر سے تو اس نے ایک لقمہ گلے سے نیچے نہیں اتارا تھا۔ زرمین کے بہت کہنے پر بھی وہ کچھ کھانے کو تیار نہیں ہوئی تھی اور وہ اسے وہاں چھوڑ کر نکل گئی تھی اس کے جاتے ہی وہ بیڈ سے اتری تھی۔ واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی اس لئے وہ الماری سے سادہ کاٹن کا سوٹ نکال کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی تھی ٗ سارے زیورات اور کپڑے وغیرہ اتار کر اس نے وہیں رکھ دیئے تھے اور تقریباً 20 منٹ میں اس سب سے فارغ ہو کر وہ دروازہ کھول کر نکلی اور ادھر ادھر دیکھے بنا واش روم میں چلی گئی ٗ ٹشو پیپرز سے میک اپ صاف تو کر چکی تھی ٗ مگر اس نے فیس واش سے اچھی طرح منہ دھویا اور ٹاول سے منہ خشک کرتی کمرے میں آئی تو اس کی نگاہ بیڈ کی بائیں جانب بیٹھے اسجد پر پڑی اور اسی وقت اس نے بھی مائدہ کو دیکھا ٗ مگر اس کا دیکھنا وہ نظر انداز کرتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا رکی اور قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگی۔ وہ جس طرح زرمین کی شادی میں اسے دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہوتی رہی تھی ٗ اس کے بعد مائدہ کا اتنا پر اعتماد انداز اسجد کو اندر ہی اندر حیران کر گیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ جب واش روم سے نکلے گا تو وہ بیڈ پر بیٹھی اس کی منتظر ہو گی ٗ مگر وہ تو سرے سے غائب تھی اور لوٹی بھی تو اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئی تھی ٗ بلکہ اسے بری طرح اگنور کر دیا تھا ٗ وہ اس کے پہلے جھٹکے سے نہیں سنبھلا تھا کہ وہ اپنے کام سے فارغ ہوتی بیڈ کی دائیں طرف تکیہ درست کرتی بیڈ پر دراز ہو گئی تھی اور وہ کچھ پل تو ساکت سا بیٹھا رہا تھا پھر یکدم غصے سے تنتناتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔
٭٭٭
